Sunan Abu Dawood 1927

مناسک حج کا بیان

1927Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: بِإِقَامَةٍ إِقَامَةِ جَمْعٍ بَيْنَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ وَكِيعٌ: صَلَّى كُلَّ صَلَاةٍ بِإِقَامَةٍ.

اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا۔ احمد کہتے ہیں: وکیع نے کہا: ہر نماز الگ الگ اقامت سے پڑھی۔

The aforesaid tradition has been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. This version adds “Each prayer with an iqamah”. Ahmad reported on the authority of Waki “he offered each prayer with a single iqamah. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ٩٦ (١٦٧٣)، سنن النسائی/ الأذان ٢٠ (٦٦١)، الحج ٢٠٧ (٣٠٣١)، ( تحفة الأشراف: ٦٩٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٦، ١٥٧)، دی/ المناسک ٥٢ (١٩٢٦) (صحیح) (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت والی روایت ہی صحیح ہے، جیسا کہ جابر کی طویل حدیث میں گزرا )