Sunan Abu Dawood 1938

مناسک حج کا بیان

1938Sunan Abu Dawood

مزدلفہ میں نماز کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ١ ؎ پر نہ دیکھ لیتے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی (مزدلفہ سے) چل پڑے۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : The Arabs in the pre-Islamic period did not return from al-Muzdalifah till they saw sunlight at the mountain Thabir. The Prophet ﷺ opposed them and returned before the sunrise.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” ثبير “: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٠ (١٦٨٤)، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٨)، سنن الترمذی/الحج ٦٠ (٨٩٦)، سنن النسائی/الحج ٢١٣ (٣٠٥٠)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦١ (٣٠٢٢)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤، ٢٩، ٣٩، ٤٢، ٥٠، ٥٢)، سنن الدارمی/المناسک ٥٥ (١٩٣٢) (صحیح )