Sunan Abu Dawood 1939

مناسک حج کا بیان

1939Sunan Abu Dawood

مزدلفہ سے جلدی لوٹنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ١ ؎۔

Ibn Abbas said I was among the weak members of his family whom the Messenger of Allah ﷺ sent ahead on the night of Al Muzdalifah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کردینا جائز ہے، تاکہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہوجائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٨ (١٦٧٨)، وجزاء الصید ٢٥ (١٨٥٦)، صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٣)، سنن النسائی/الحج ٢٠٨ (٣٠٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٨٦٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٨ (٢٩٢، ٨٩٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٥)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٤٥، ٢٧٢، ٣٣٤، ٣٤٦) (صحیح )