Sunan Abu Dawood 1922

مناسک حج کا بیان

1922Sunan Abu Dawood

عرفات سے واپسی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ پھر (ارکان عرفات سے فراغت کے بعد) آپ ﷺ نے اسامہ ؓ کو پیچھے سوار کرلیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو ، اور آپ ﷺ عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet then took up Usamah behind him (on the camel), and drove the camel at a quick pace. The people were beating their camels right and left, but he did not pay attention to them; he was saying: O people, preserve a quiet demeanour. He proceeded (from Arafat) when the sun had set.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٥٥٤ (٨٨٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٢، ٧٥، ٧٦، ٨١) (حسن ) (مگر لا یلتفت کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ یلتفت ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے )