Al-Mutaffifin 83:7

Al-Mutaffifin · from ayah 7

83:7

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ۟ؕكَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ لَفِىۡ سِجِّيۡنٍؕ

سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! Indeed, the record of the wicked is in sijjeen.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:7

ہرگز نہیں، یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز ایسا نہیں چاہیے ! یقین جانو کہ بدکار لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک کافروں کی لکھت سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ حق ہے کہ بدکرداروں کا نامۂ اعمال سجین (یعنی دیوان خانۂ جہنم) میں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز نہیں، بیشک نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ یقینا دائمی سخت قید کے دفتر میں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہرگز نہیں۔ بدکردار لوگوں کے اعمال نامے قید خانے کے دفتر میں ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہرگز نہیں، فاجروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں یقینا بدکاروں کے اعمال نامے ایک نہایت ہی تنگ و تاریک قید خانے کے دفتر میں ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزا وسزا نہ ہو) بیشک بدکاروں کا نامہ عمل سجین میں رہے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سن لو کہ برے لوگوں کے اعمال سجین میں ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

No indeed! Verily the deeds of the wicked are in the Record locked up in the prison-house!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Never! (i.e. they should never act in such a way.) Indeed the record of deeds of the sinners is in Sijjin .

— Muhammad Taqi Usmani

Never! (i.e. they should never act in such a way.) Indeed the record of deeds of the sinners is in Sijjin .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! Truly, the Record of the wicked is in Sijjin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but the record of the vile is in Sijjin -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! Indeed, the record of the wicked is in sijjeen.

— Saheeh International

Woe to them! Let them know that the records of the sinner's deeds are in Sijin.

— Muhammad Sarwar

Nay! most surely the record of the wicked is in the Sijjin.

— Muhammad Habib Shakir

By no means! Verily the record of the ungodly is in Sijjin.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay! Surely the record of the wicked is (preserved) in Sijjin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–17

انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–12

سورة الْمُطَفِّفِيْن 4 یعنی ان لوگوں کا یہ گمان غلط ہے کہ دنیا میں ان جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد یہ یونہی چھوٹ جائیں گے اور کبھی ان کو اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر نہ ہونا پڑے گا۔ سورة الْمُطَفِّفِيْن 5 اصل میں لفظ سجین استعمال ہوا ہے جو سجن (جیل یا قید خانے) سے ماخوذ ہے اور آگے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رجسٹر ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کیے جا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

سبحین اور علیین كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ ، سجین، بکسر سین وتشدید جیم بروزن سکین و سجن سے مشتق ہے جس کے معنے تنگ جگہ میں قید کرنے کے ہیں۔ قاموس میں ہے کہ سجین کے معنے دائمی قید کے ہیں اور احادیث وآثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجین ایک مقام خاص کا نام ہے اور کفار فجار کی ارواح کا مقام یہی ہے اور اسی مقام میں انکے اعمال نامے رہتے ہیں، جسکا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اعمالنامے اس جگہ میں محفوظ کردیئے جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی ایسی کتاب جامع ہو جس میں تمام دنیا کے کفار و فجار کے اعمال لکھدیئے جاتے ہیں۔ یہ مقام کس جگہ ہے اس کے متعلق حضرت برا بن عازب کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مخاطبوں کے زعم کی تردید: ’کَلَّا‘ مخاطبوں کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے بطور زجر آیا ہے جس کا اشارہ اوپر والی آیت میں موجود ہے۔ یعنی وہ اس فکر سے بالکل نچنت ہیں کہ ان کے سامنے حساب کتاب اور جزا و سزا کا کوئی مرحلہ آنے والا ہے جس میں نیکوں اور بدوں کے درمیان اللہ تعالیٰ فرق کرے گا بلکہ وہ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اول تو کوئی دن آنا نہیں ہے اور آیا بھی تو وہ اپنی خاندانی وجاہت اور اپنے دیوتاؤں کی بدولت وہاں بھی اس سے زیادہ عیش لوٹیں گے جو عیش یہاں لوٹ رہے ہیں۔ ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہرگز نہیں، اس قسم کے طفلانہ خیالات میں اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔ اس دن ابرار اور فجار میں مشرق و مغرب کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–7

7۔ 1 سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن (قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–17

2: سجین کے لفظی معنی قید خانے کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے یوم عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی لئے قرآن کریم نہایت سرزنش اور زجروتوبیخ کے انداز میں اس سے روکتا ہے اور نہایت تاکید کے ساتھ بتاتا ہے کہ ایک کتاب میں ان کے تمام اعمال ثبت کئے جارہے ہیں۔ اور اس بات کو زیادہ تاکیدی بنانے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب کہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ان فساق وفجار کے سامنے ، اس عظیم دن میں ان کی کتاب پیش کی جائے گی تو ان پر بڑی بربادی واقع ہوگی۔ کلا ان .................................... للمکذبین (7:83 تا 10) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی ہرگز گمان نہ کیا جائے کہ ایسا دن نہیں آئے گا۔ وہ ضرور آنا ہے اور اس کے لئے سب نیکوں اور بدوں کے اعمالنامے اپنے اپنے دفتر میں مرتب کئے رکھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

آیت 7{ کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ۔ } ”ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔“ عام طور پر کتاب سے یہاں اعمال نامہ ہی مراد لیا گیا ہے کہ کافر و فاجر لوگوں کے اعمال نامے ”سِجِّین“ میں ‘ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ”عِلِّیّین“ بحوالہ آیت 18 میں ہوں گے۔ تاہم بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ”سجین“ ایک مقام ہے جہاں اہل دوزخ کی روحیں محبوس ہوں گی ‘ جبکہ اہل جنت کی ارواح ”علیین“ میں ہوں گی۔ چناچہ سجین اور علیین کا یہ فرق صرف اعمال ناموں کو رکھنے کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے میرے غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے خاکی جسم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–11

5 یعنی تمہارا یہ خیال باطل ہے کہ نہ قیامت آنی ہے اور نہ تمہارا محاسبہ ہونا ہے۔ بلکہ تمہارا محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا۔ 6 سجین۔ سجن بمعنی قید خانہ، جیل اور سجن بمعنی عدالت کا ثبوت جرم کے بعد بطور سزا کسی کو قید میں ڈال دینا۔ اور سجین سے مراد وہ مقام یا دفتر ہے جہاں بدکردار لوگوں کے اعمال نامے بھی محفوظ کرلیے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی ارواح بھی تاقیام قیامت اسی مقام پر قید رکھی جاتی ہیں۔ بعض اسلاف کے نزدیک یہ مقام سات زمینوں کے نیچے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–9

3۔ (جس میں کسی تغیروتبدل و ترمیم وتنسیخ کا احتمال ہی نہیں) مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص کے اعمال سارے کے سارے منضبط و محفوظ ہیں۔ (آیت) ” سجین “۔ سجن (قیدخانہ) ہی کے معنی میں ہے، اور حرف ہی کی زیادتی معنی میں زیادتی کے اظہار کے لیے ہے۔ زید لفظہ تنبیھا علی زیادۃ معناہ (راغب) تشریح میں مختلف قول نقل ہوئے ہیں، حاصل ولب لباب یہ ہے کہ وہ عالم غیب میں کوئی ایسا مقام ہے، جہاں مجرموں، منکروں کے اعمال نامے محفوظ رہتے ہیں۔ (آیت) ” ما سجین “۔ تقدیر کلام ماکتاب سجین ہے۔ اور حذف مضاف قرآن کے اسلوب بیان میں بہت عام ہے۔ (آیت) ” الفجار “۔ فجار سے مراد وہی لوگ ہیں جو غرق فجور رہے ہیں۔ اور ایمان وتصدیق تک کی نیکی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–13

سجین کے معنی جیل یا قید خانہ کے ہیں، کتاب مرقوم میں اس کی تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجین سے مراد وہ رجسٹر ہے جس میں سزا پانے والے لوگوں کے اعمال نامے درج کئے جا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . یہ بجائے خود پورا کلام ہے اور تطفیف مذکور سے بازداشت ہے۔ حسن بصری نے فرمایا : کَلاَّ اس جگہ ابتدائیہ ہے بعد والے کلام سے اس کا ربط ہے اور حَقًّا (یقینا) کا ہم معنی ہے۔ ان کتب الفجار لفی سجین . الفجار سے مراد ہیں کافر یعنی کافروں کے اعمالنامے جن کو کرام کاتبین لکھتے ہیں۔ سجّین میں ہیں۔ سِجین۔ سجن سے مشتق ہے۔ سجن کا معنی ہے حبس ‘ قید۔ قاموس میں ہے سجین بروزن سکین۔ دوامی سخت قید۔ اخفش نے کہا : سجین ‘ سجن سے بروزن فعیل ہے جیسے شِرِیْبٌ : بہت پینے والا۔ فسیقٌ: بڑا فاسق۔ ایسے ہی سجین : سخت قید۔ عکرمہ نے کہا آیت لفی سجین میں سجین سے مراد ہے ذلت اور گمراہی۔ حقیقت میں فجار کے مندرجہ کتب اعمال ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–10

(7۔ 10) کافروں کے نامہ اعمال سجین میں رہیں گے اور آپ کو معلوم بھی ہے کہ سجین میں رکھا ہوا نامہ اعمال کیا چیز ہے وہ ساتویں زمین کے نیچے سبز پتھر پر انسانوں کے نامہ اعمال کا دفتر ہے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 7–13

(کلا ان کتب الفجار لفی سجین…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ تم جس طرح چاہو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے ماپ تول میں کمی کرتے رہو اور وہ وقت ہی نہ آئے کہ تم سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہو۔ نہیں، بلکہ نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔”سجین“ ”سجن“ سے مبالغہ ہے، جس کا معنی قید خانہ ہے۔ ق اسوس میں ہے ”السجین الدائم الشدید“ یعنی دائمی قید۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے نام اور ان کے اعمال محفوظ ہیں (گویا یہ دائمی قید والوں کا رجسٹر ہے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ”سجین“ کی وضاحت کی ہے کہ وہ ”کتب مرقوم“ یعنی ایک واضح لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی کمی بیشی یا رد و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کلا ان کتب الفجار۔۔۔ تا۔۔ اساطیرالاولین۔ کلاان کتب الفجار لفی سجین۔ لغت عرب کے علماء کی ایک جماعت نے کہا، کلا جھڑکنا اور تنبیہ کے معنی میں ہے اس طرز عمل پر جو وہ کیل اور وزن میں جو وہ طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں اور آخرت کی تکذیب کرتے ہیں یہ کوئی قابل قدر بات نہیں انہیں یہ عمل چھوڑ دینا چاہیے کلا یہ ردع اور زجر کا کلمہ ہے پھر نئی کلام شروع کی فرمایا، ان کتب الفجار۔ حضرت حسن بصری نے کہا، کلا کا معنی ہے حق۔ کچھ لوگوں نے حضرت ابنع باس سے روایت نقل کی ہے کہ کلا کا معنی ہے کیا تم تصدیق نہیں کرتے اس صورت میں لرب العالمین پر وقف ہوگا، مقاتل کی تفسیر میں ہے ان اعمال الفجار۔ کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

گناہ گاروں کے اعمال نامے سجین میں 18۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید وابن المنذر نے شمر بن عطیہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کعب احبار ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت کلا ان کتب الفجار لفی سجین۔ ہرگز ایسا نہیں بیشک نافرمانوں کے اعمال نامے سجین میں ہیں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا بیشک گنہگار اور بدکار کی روح کو لے کر فرشتہ آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے لیکن آسمان اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے پھر اس کو زمین کی طرف نیچے اتارتا ہے تو زمین بھی اس کو قبول کرنے سے انکا کردیتی ہے پھر وہ اسے لے کر ساتوں زمینوں کے نیچے داخل ہوجاتا ہے یہاتک کہ سجین کی طرف پہنچ جاتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّآ ان كِتٰبَ الْفُجَّارِ : ہرگز نہیں ! بیشک نافرمانی کرنے والوں کی کتاب (نامہ اعمال)][ لَفِيْ سِجِّيْنٍ : یقینا سجین میں ہے ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 7 ۔ میں لفظ سِجِّیْنٍ آیا ہے جو سجن سے مشتق ہے جس کے معنی تنگ جگہ میں قید کرنے کے ہیں۔ اور احادیث و آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجین ایک خاص مقام کا نام ہے اور کفار وفجار کی ارواح کا مقام یہی ہے اور اسی مقام پر ان کے نامۂ اعمال رہتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اعمال نامہ اس جگہ محفوظ کر دئیے جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی ایسی جامع کتاب ہو جس میں تمام کفار وفجار کے اعمال لکھ دئیے جاتے ہوں۔ اس کے آگے کِتبٌ مَّرْقُوْمٌ کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل کفر جو قیامت کے منکر ہیں ان کے بارے میں فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (کہ ہرگز ایسا نہیں ہے) جیسا کہ تم خیال کرتے ہو بلکہ جزاء و سزا کا وقوع ضرور ہوگا اور کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرے اعمال تو ہوا میں اڑ گئے وہ کہاں محفوظ ہیں اور ان کی پیشی کا کیا راستہ ہے، کیونکہ بندوں کے سب اعمال محفوظ ہیں اور منضبط ہیں، کافروں کے اعمال نامے سجین میں ہیں، جو ساتویں زمین میں کافروں کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے یہ اعمال نامے محفوظ ہیں روز جزاء یعنی قیامت کے دن ہر ایک کا اپنا اپنا اعمال نامہ سامنے آجائے گا جو عمل کرنے والے پر حجت ہوگا اور انکار کی گنجائش نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–9

4:۔ ” کلا ان کتب الفجار “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے۔ ” سجین “ تحت الثری میں ایک مقام جس میں کافروں کی روحیں قیامت تک محبوس رہیں گی۔ وہیں ان کے اعمالنامے محفوط ہوتے ہیں وہاں ایک دفتر (رجسٹر) بھی ہے۔ جس میں تمام کافروں کے نام درج کیے جاتے ہیں۔ وسجین علم لکتاب جامع دون فیہ اعمال الشیاطین و اعمال الکفرۃ والفسقۃ من الثقلین (ابو السعود) ۔ قال عبداللہ بن عمر و قتادۃ و مجاھد والضحاک سجینھی الارض السابعۃ السفلی فیھا اروح الاکفار (مظہری ) ۔ اور ” مرقوم “ کے معنی مختوم (مہرزدہ) کے ہیں۔ المرقوم ھہنا المختوم (کبیر 9۔ وہ دفتر مہر زدہ ہوگا اس میں نہ کسی کا نام درج کیا جاسکے اور نہ کسی کافر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–17

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ۝ 7 ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–13

ترکیب ¦ کلا الاکثرون علی انھا کلمۃ روع وتنبیہ ای لیس الامر ما زعمتم من انہ لاحساب ولا جزاء وقال ابو حاتم کلا ابتداء یتصل بما بعدہ علی معنی حقاوھو قول الحسن کتاب الفجار اسم ان لفی سجین خبرھا۔ وفی السجین قولان الاول وھو قول لجمہورانہ اسم علم علیٰ شیء معین فعلی ھذا فیہ اقوال عند الاکثر ھو الارض السابعۃ السفلی وھو قول ابن عباس وقیل جب 1 ؎ فی جہنم۔ والقول الثانی انہ مشتقف ہو فعیل من السجن بمعنی الجنس والتضیق کالفسیق من الفسق وھذا قول المبردد والزجاج وابی عبیدۃ وروہ الواحدی وقال صاحب الکشاف ان السجین فعیل من السجن ثم انہ ھھنا اسم علم منقول من وصف کحاتم وھو منصرف لانہ لیس فیہ الاسبب واحدوھو التعریف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کُلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ۔ (المطففین : 7) (ہرگز نہیں ! یقینا بدکاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ ) مخاطبوں کے زعم باطل کی تردید کُلَّآ کا معنی ہے ہرگز نہیں۔ یہ مخاطب کے زعم باطل کی تردید کے لیے آتا ہے۔ اور اس میں ایک طرح کی زجر اور ڈانٹ بھی ہے۔ یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے مخاطبین نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ اولاً تو قیامت کے آنے کا کوئی امکان نہیں، اور اگر آہی گئی تو ہمارے لیے فکرمندی کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح دنیا میں ہمیں دولت و ثروت سے نوازا ہے، اسی طرح ہمیں قیامت کے دن بھی نوازا جائے گا۔ اور اگر کوئی جواب طلبی ہوئی بھی تو ہم اپنے دیوتائوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–17

فہم القرآن ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔ دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ( ہرگز نہیں بدکار لوگوں کا نامہ عمل سجین میں رہے گا) کَلَّآ یہ ردع اور تنبیہ کیلئے ہے اللہ تعالیٰ نے جس تطفیف و غفلت میں وہ مبتلا تھے اس پر ان کو دہمکایا اور ان کو خبردار کیا کہ یہ ضروری ہے کہ آدمی اس سے توبہ کرے اور شرمندہ ہو پھر علی العموم فجار کو وعید سنائی فرمایا اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ (بدکار لوگوں کا نامہ عمل) کتاب سے اعمال نامے مراد ہیں۔ لَفِیْ سِجِّیْنٍ (سجین میں ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” کلا “ ان پر رد ہے۔ یعنی معاملہ ویسے نہیں ہے جس پر وہ تھے۔ پس چاہیے کہ وہ ہٹ جائیں اور کلام یہاں مکمل ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” کلا “ ابتداء ہے اپنے مابعد سے متصل ہے حقا کے معنی پر۔ ” ان کتاب الفجار “ جس میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں۔ ” لفی سجین “ عبداللہ بن عمرو، قتادہ، مجاہد اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” سجین “ وہ ساتویں زمین نیچے والی اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔ براء ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” سجین “ سات زمینوں میں سے سب سے نیچے والی ہے اور علیون ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ہے۔ سمرہ بن عطیہ کہتے ہیں ابن عباس ؓ کعب احبار کے پاس آئے تو کہا آپ مجھے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–17

7۔ 17۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند 1 ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–12

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ ) ہرگز نہیں بدکاروں کے اعمال۔ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ( لَفِيْ سِجِّيْنٍ ) ، سجین میں ہیں۔ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی (وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ ۝ۭ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ۝ۭ ) تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے لکھی ہوئی کتاب ہے یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں السجین سے مراد تنگ جگہ ہے اور سجین، علیین کی ضد ہے جو کہ ابرابر کی کتاب کا محل ومقام ہے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) منکرین و مکذبین کے لیے زجرو تنبیہ کا ذکرو بیان : سو منکرین و مکذبین کے مزاعم باطلہ کی تردید اور ان کے لیے زجر و تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں " یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ ان منکرین و مکذبین نے سمجھ رکھا ہے کہ کوئی حساب کتاب نہیں ہونے کا، بلکہ ہم یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے کا کوئی سوال نہیں، اور اگر بالفرض اٹھائے بھی گئے تو ہم وہاں بھی عیش کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسا کہنا اور سمجھنا عقل و نقل کے بھی خلاف ہے اور اس حکمت اور غرض وغایت کے بھی منافی و متصادم جس کی بنا پر اس کائنات کے خالق ومالک نے اس دنیا جو وجود بخشا۔ نیز ان لوگوں نے جو یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–9

ف 3 یعنی ایک دفتر ہے جس میں تمام بدکاروں اور کافروں کے نام اور کام درج ہیں قادہ سعید بن جبیر مقاتل اور مجاہد غیرہ کہتے ہیں کہ سجین اس جگہ کا نام ہے جہاں کافروں اور بدکاروں کے نامہ اعمال رکھے جاتے ہیں اور وہ ساتویں زمین کے نیچے ایک چٹان ہے اس لئے شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی ان کے نام وہیں داخل ہوتے ہیں مر کر وہاں پہنچیں گے۔ “ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:7) کلا : کلمہ ردع و تنبیہ ہے ای لیس الا مر کما زعمتم انہ لاحساب ولاجزاء بات یہ نہیں جیسے تم خیال کرتے ہو کہ کوئی حساب و جزا نہ ہوگی ؟ تفسیر مظہری میں ہے :۔ کلا یہ بجائے خود پورا کلام ہے اور تطفیف مذکور سے بازداشت ہے۔ امام حسن بصری (رح) نے فرمایا :۔ کلا اس جگہ ابتدائیہ ہے بعد والے کلام سے اس کا ربط ہے اور حقا (یقینا) کا ہم معنی ۔ ان کتب الفجار لفی سجین : ان حرف مشبہ بالفعل ۔ کتب الفجار مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان لفی سجین اس کی خبر۔ تحقیق فجار کی کتاب سجین میں ہوگی۔ کتاب سے مراد نامہ اعمال ہے جو کراما کاتبین اس کام کے لئے ہر شخص پر متعین ہیں اور ہر وقت تیار کرتے رہتے ہیں۔ الفجار : فجور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–14

انسان کے نیک و بدعمل کرنے، منکرین اسلام اور محبوبان حق کا ذکر۔ (ف 1) جو لوگ قیامت کے دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ، ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن اللہ کے روبروکھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے یہ لوگ ہیں فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے۔ سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بدلوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں ، چناچہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے بدلوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–16

ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) ہرگز ایسا نہیں بلکہ بدکرداروں کے تمام اعمال منضبط اور محفوظ ہیں بلا شبہ بدکرداروں کا نامہ اعمال سجین میں رہے گا۔ یعنی ایک تنگ و تاریک مقام میں جو کفار کی ارواح کا مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–17

ف 3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانہ کے دفتر میں موجود ہے 7 ؎ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ عرض کی جاچکی ہے کہ ( کلا) کا استعمال جہاں بھی ہوا ہے وہاں کسی بات کی نفی کی گئی ہے خواہ اس مضمون کا ذکر موجودہ مضمون میں نہ کیا گیا ہو بلکہ اس سے پہلے کیا جاچکا ہو۔ گزشتہ عبارت سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ اتیم مدت مدید کی دنیا جس میں کروڑوں سال گزر چکے ہوں اور ان کے بعد نسلا ً بعد نسل لاکھوں پشتیں گزر چکی ہوں اس وقت کیسے یاد رہے گا کہ کس نے کیا کیا اور ان کے اعمالنا مے کہاں محفوظ رہ گئے ہوں گے ؟ ابھی تک وہ تحریرات لکھی ہی چلی آرہی ہوں گی۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

Sijjin and ` illiyin كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ‌ لَفِي سِجِّينٍ (Never! [ i.e. they should never forget that Day.] Indeed the Record of Deeds of the sinners is in sijjin. [ 83:71' The word sijjin is derived from sajana which means to 'imprison in a narrow place'. According to Qamus, the word sijjin means 'eternal imprisonment'. Traditions indicate that sijjin is a special place where the souls of the non-believers are kept, and in the same place, the Record of the evil deeds of every wicked person is kept separately. It is also possible that in this there is a consolidated book in which…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–12

4 That is, "These people are wrong in thinking that they will be let off without being called to account when they have committed such and such crimes in the world. " 5 The word sijjin in the original is derived from sijn (a prison) and the explanation of it that follows shows that it implies the general Register in which the actions and deeds of the people worthy of punishment are being recorded.

Read the full tafseer →