Al-Mutaffifin 83:6

Al-Mutaffifin · from ayah 6

83:6

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟ؕيَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ‏

جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Day when mankind will stand before the Lord of the worlds?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:6

اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن سب لوگ تمام جہانوں کے رب کے حضور کھڑے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب سب لوگ اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن لوگ اٹھیں گے خداوندعالم کے حضور پیشی کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن کہ کھڑے ہوں گے لوگ رب العالمین (جل جلالہ) کے حضور

— مولانا اسحاق مدنی

جس دن کہ (تمام) لوگ پروردگار کے روبرو کھڑے ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن تمام لوگ رب العٰلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

a Day when mankind will stand before the Lord of the Universe?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the Day when all the people will stand before the Lord of the worlds?

— Muhammad Taqi Usmani

the Day when all the people will stand before the Lord of the worlds?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Day when (all) mankind will stand before the Lord of all that exists

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The day when (all) mankind stand before the Lord of the Worlds?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Day when mankind will stand before the Lord of the worlds?

— Saheeh International

when mankind will stand before the Lord of the Universe?

— Muhammad Sarwar

The day on which men shall stand before the Lord of the worlds?

— Muhammad Habib Shakir

A Day whereon mankind shall stand before the Lord of the worlds?

— Abdul Majid Daryabadi

A Day when (all) mankind will stand before the Lord of the Worlds?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

ناپ تول میں کمی کے تنائج نسائی اور ابن ماجہ میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کرلیا ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ مکہ مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ) 83۔ المطففین :1) ہے۔ پس تطفیف سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة الْمُطَفِّفِيْن 3 روز قیامت کو بڑا دن اس بنا پر کہا گیا ہے کہ اس میں تمام انسانوں اور جنوں کا حساب خدا کی عدالت میں بیک وقت لیا جائے گا اور عذاب وثواب کے اہم ترین فیصلے کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

خلاصہ تفسیر بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی کہ جب لوگوں سے (اپنا حق) ناپ کرلیں تو پورے لے لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں (گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اسکے ذکر کرنے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی ذرا رعایت نہ کی جاوے تو اور زیادہ مذموم ہے، بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے اور چونکہ اصل مقصود ومذمت ہے کم دینے کی اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجاوے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–6

ان لوگوں کو ملامت جو اپنی فطرت کی شہادت سے کان بند کیے ہوئے ہیں: یہ اس طرح کے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کو سرزنش بھی کہ کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک ایسا عظیم دن آنے والا ہے جس میں لوگ اپنے رب کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھائے جائیں گے؟ یعنی ایک ایسے دن کے ظہور کا اندیشہ ہر شخص کے دل کے اندر ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کی شہادت ہر شخص کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ اگر کسی کا دل اس اندیشہ سے خالی ہے تو وہ خود اپنی فطرت کی آواز سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ دن کوئی معمولی دن نہیں ہو گا بلکہ ایک نہایت ہی عظیم دن ہو گا۔ اس دن لوگ اس لیے اٹھیں گے کہ خداوند کائنات کے سامنے پیش…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–7

7۔ 1 سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن (قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–6

1: ان آیتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو دوسروں سے اپنا حق وصول کرنے میں تو بڑی سرگرمی دکھاتے ہیں، لیکن جب دوسروں کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ وعید صرف ناپ تول ہی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کے حقوق کو شامل ہے، اور اس طرح ڈنڈی مارنے کو عربی میں ”تطفیف“ کہتے ہیں، اسی لیے اس سورت کا نام تطفیف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–6

الا یظن ............................ العلمین (4:83 تا 6) ” کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ ان لوگوں کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ صرف یہ یقین کہ ہم نے ایک دن رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کے سوا اور کوئی مختار نہ ہوگا ، اس کے سوا کوئی آقا نہ ہوگا۔ اور اس دن صرف اللہ کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔ اور اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا۔ غرض صرف یہ ایک عقیدہ ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ وہ ڈنڈی مارنے کی اس گھناﺅنی حرکت سے باز آجاتے اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے نہ کھاتے اور اپنے اقتدار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ یَّوْمَ یَـقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } ”جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔“ ناپ تول میں کمی کرتے ہوئے ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دینا بظاہر تو ایک معمولی سا عمل ہے لیکن ”تل کی اوٹ میں پہاڑ“ کے مصداق ایسا کرنے والے کی اس حرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ یا تو اس کا بعث بعد الموت پر یقین نہیں یا پھر اسے اس کی پروا نہیں کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

4 وہ بڑا دن اس لحاظ سے ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جن و انس کا اس دن حساب لیا جائے گا۔ اور علی رؤس الشہادات ان کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–6

2۔ (اور اس دن انہیں اپنی ان بےایمانیوں کا بھی جواب دینا ہوگا) تجارتی دیانت وامانت اور کاروبار میں حسن معاملت کے سیاق میں حشر اور اس کی باز پرس کی یاد دہانی انہیں اور مؤکد بنانے کے لیے ہے۔ انفرادی اور اجتماعی دونوں تجربے گواہ ہیں کہ فرد وقوم دونوں کو دیانتدار بنانے میں جرمانہ کی سزاؤں اور جیل کی دھمکیوں سے کہیں زیادہ مؤثر وکار گراندر کا تقوی اور خوب آخرت ہی ہوتا ہے، اور قرآن حکیم ایسے موقعوں پر اسی حربہ سے کام لیتا ہے۔ (آیت) ” یوم ....... العلمین۔ ل۔ سے مراد ہے کہ رب العلمین کے حکم سے اور اس کی نافذ کی ہوئی سزا وجزاء بھگتنے کے لیے۔ اے لامرہ ولجزاۂ ولحسابہ (معالم) یا یہ مراد ہو کہ رب العالمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی ہے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں یعنی ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، کیا انہیں یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے یقین نہیں کہ انہیں ایک عظیم (سخت) دن میں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ قیامت کا دن ہے، جس دن لوگ اپنی قبروں سے رب العالمین یعنی مخلوق کے پروردگار کے حضور میں اس کے حکم سے اپنے حساب اور جزاء کے لئے کھڑے ہوں گے، یوم، لیوم کے محل سے بدل ہے اور اس کا ناصب مبعوثون ہے، ہرگز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم یقوم الناس . اس کا تعلق مبعوثون سے ہے یعنی اس روز ان کو اٹھایا جائیگا جس روز لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔ یا یوم عظیم سے بدل ہے اور غیر متمکن کی جانب اضافت کی وجہ سے مفتوح ہے یعنی وہ دن جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ لرب العالمین . یعنی رب العٰلمین کی طرف سے حساب اور سزا و جزا کیلئے لوگ کھڑے ہوں گے۔ حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت ہے کہ رب العالمین کے سامنے لوگ اس روز کھڑے ہوں گے جبکہ بعض لوگ اپنے پسینے میں نصف کانوں تک ڈوبے ہوں گے۔ حاکم نے حضرت ابوسعید خدری کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) جس دن تمام آدمی قبروں سے نکل کر رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–6

(لیوم عظیم…:(”ایک بڑے دن کے لئے“ بڑا دن اس لئے کہ اس کی مقدار ہی پچسا ہزار سال ہے۔ (دیکھیے معارج : 4) اور اس لئے بھی بڑا ہے کہ پیشیع ام عدالت میں بھی گھبراہٹ کا باعث ہوتی ہے، اس دن تو رب العالمین کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا :(تدنی الشمس یوم القیامۃ من الخلق حتی تکون منہ ک مقدار میل فیکون الناس علی قدر اعمالھم فی العرق، فینھم من یکون الی کعبیہ ومنھم من یکون الی رکبتیہ ومنھم من یکون الی حقوبہ ومنھم من یلجمہ العرق الجاما قال و اشار رسول اللہ ﷺ بیدہ الی فیہ) (مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فی صفۃ یوم القیامۃ…2863)”قیامت کے دن سورج…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یوم یقوم الناس لرب العالمین۔ اس کے بارے میں چار مسائل ہیں۔ یوم کی اعرابی حیثیت۔ مسئلہ نمبر 1۔ یوم میں عامل فعل مضمر ہے جس پر مبعوثون فعل دلالت کرتا ہے معنی ہے انہیں اٹھایاجائے گا جس روز لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے یہ بھی جائز ہے کہ یوم، لیوم عظیم سے بدل ہو یہ مبنی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ محل جر میں ہے کیونکہ اسے غیر منصرف کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ظرف کی حیثیت سے منصوب ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے، اقم الی یوم یخرج فلاں ی، یہ یوم کو نصب دے گا اگر اسم کی طرف مضاف کریں تو اسی وقت اسے جردیتے ہیں وہ کہتے ہیں، اقسم الی یوم خروج فلان۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کلام میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

لوگوں کا پسینوں میں ڈوبنا 8۔ مالک وہناد وعبد بن حمید والبخاری مسلم والترمذی وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عمرر ضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت یوم یقوم الناس لرب العلمین جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کئی ایک اپنے کانوں کے آدھے حصے تک اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ 9۔ الطبرانی وابو الشیخ والحاکم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت یوم یقوم الناس لرب العلمین تلاوت فرمائی پھر فرمایا تمہارے ساتھ کیسے ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ تم کو اس طرح جمع فرمائے گا جیسے تیروں کو ترکش میں جمع کیا جاتا ہے پچاس ہزار…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَّوْمَ يَقُوْمُ النَاسُ : جس دن کھڑے ہوں گے لوگ ][ لِرَبِ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب کے سامنے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت ابن عمر ؓ نے ﴿ يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ006﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ یہ (رب العالمین کے حضور کھڑے ہونا) اس دن میں ہوگا جس میں یہ لوگ اتنے زیادہ پسینہ میں کھڑے ہوں گے جو (نیچے سے لے کر) آدھے کانوں تک ہوگا۔ (جیسے کوئی شخص نہر میں کھڑا ہو) ۔ ہر مومن پر لازم ہے کہ ہر معاملہ میں اور ہر عمل میں اس بات کو سامنے رکھے کہ مجھے مرنا ہے قیامت کے دن حاضری دینا ہے، حساب دینا ہے، اعمال کی جزا و سزا ملنا ہے اگر اس بات کا مراقبہ کرتا رہے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ نہ حقوق اللہ ضائع ہوں گے نہ حقوق العباد، جو گناہ سرزد ہوتے ہیں ان میں سب سے بڑا دخل اسی کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–6

ٖف 3:۔ ” الا یظن “ یہ لوگ دوسروں کی حق تلفی میں اس طرح منہمک ہیں گویا اس پر انہیں کوئی مواخذہ نہیں ہوگا وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن میں جو نہایت شدید اور ہولناک ہوگا انہیں نہیں اٹھایا جائیگا اور ان سے اس ظلم و زیادی کا حساب کتاب نہیں لیا جائے گا حالانکہ اس دن تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور سب رب العالمین اور احکم الحاکمین کے سامنے پیش ہوں گے جو پورا پورا حساب کرے گا اور مظلوموں کو ظالموں سے ان کا حق دلوائے گا اور پھر ظالموں کو ظلم وعدوان کی سخت سزا بھی دے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–6

نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة تطفیف یا مطففین ہے اس کی پہلی آیت میں مطففین ہے اس کی پہلی آیت میں مطففین کا لفظ ہے اور اسی سے اس کا نام ماخوذ ہے۔ تطفیف کا معنی ناپ تول میں کمی کرنا ہے۔ زمانہ نزول میں اختلاف پایاجاتا ہے۔ بعض (ب 1 روح المعانی ص 67 ج 30 و تفسیر عزیزی فارسی ص 110 پ 30) آیات ہیں۔ یہ سورة مبارکہ ایک سو انہتر 169 الفاظ اور سات سوتیس 730 حروف پر مشتمل ہے۔ (پہلی سورة ربط) اس سورة کا پچھلی سورتوں کے ساتھ خصو صی ربط ہے۔ زمانہ نزول کے لحاظ سے گذشتہ سورتوں کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے۔ اور موضوع کے لحاظ سے جس طرح سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اس میں بھی قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 6 ۭ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ ویل مبتداء وجازا الابتداء بہ لکونہ دعاء قال مکی ویل و شبہہ اذا کان غیر مضاف فالمختار الرفع یجوز النصب واذا کان مضافا او معرفا فالمختار فیہ النصب والویل کلمۃ تذکر عند وقوع البلاء یقال ویل لک وویل علیک۔ وقیل واوفی جہنم للمطففین خبرہ المطفف ماخوذ من الطفف وھو الجانب اوالشیء الیسیر یقال طف الوادی والاناء اذا قارب الامتلاء ولم یمتلی بعد۔ قالؔ الزجاج انما قیل للذی ینقص المکیال والمیزان مطفف لانہ یسرق الشیء الیسیر۔ والتطفیف البخس فی الکیل والوزن الذین الخ صفت کاشفتہ للمطففین اذا اکتالوا الا کتیال الاخذ بالکیل علی الناس قال الفراء علی ومن فی ھذا الموضع یعتقبان یقال اکتلت منک ای استوفیت منک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–6

اَلاَ یَظُنُّ اُوْلٰٓئِکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ یَّوْمَ یَـقُوُم النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (المطففین : 4 تا 6) (کیا یہ گمان نہیں رکھتے کہ یہ لوگ اٹھائے جانے والے ہیں۔ ایک عظیم دن کی حاضری کے لیے۔ اس دن لوگ اٹھیں گے رب العالمین کے سامنے حاضری کے لیے۔ ) اس خصلت بد کا سبب لوگوں کی اس خصلت بد کا سبب یہ ہے کہ وہ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اٹھائے بھی جائیں گے۔ کیونکہ وہ اسی دنیا کو اصل زندگی سمجھتے ہیں اور موت کو اس زندگی کا مکمل خاتمہ جانتے ہیں، جس کے بعد کسی نئی زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ مرنے کے بعد ہر شخص مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے تو نئی زندگی کا کیا سوال…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورة الانفطار اس بات پر ختم ہوئی کہ قیامت کے دن نیکوں اور بروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اس دن پورے کا پورا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا۔ قیامت کو جھٹلانے والا شخص نہ صرف اپنے رب سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ بےمروتی بھی اختیار کرتا ہے اور اسی بےمروتی کی وجہ سے لوگوں کے حقوق مارتا ہے۔ اس لیے ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کے آغاز میں ماپ تول کے ذریعے لوگوں کے حقوق مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ ” تطفیف “ کا معنٰی ہے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجائے اور اس کی حرص حد سے بڑھ جائے تو وہ کمینگی پر اتر آتا ہے۔ کسی انسان کی کمینگی اور حرص کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (جس دن تمام آدمی رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونگے) نحو : مبعوثون کی وجہ سے یوم یقوم منصوب ہے۔ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ رب العالمین کے حکم اور اس کے حساب و بدلے کیلئے۔ قول ابن عمر ؓ : آپ نے جب یہ آیت تلاوت کی جب یہاں تک پہنچے تو زورزور سے رونے لگے اور بعد والا حصہ نہ پڑھ سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” یوم یقوم الناس “ اپنی قبروں سے۔ ” لرب العالمین “ یعنی اس کے امر اور جزاء اور حساب کے لئے ۔ عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگ رب العالمین کے لئے کھڑے ہوں گے حتیٰ کہ ان میں سے ایک اپنے پسینہ میں کانوں کے نصف تک چھپ جائے گا۔ مقدادرسول اللہ ﷺ کے صحابی ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جب قیامت کا دن ہوگا، سورج بندوں کے قریب کردیا جائے گا حتیٰ کہ ایک میل یا دو میل کے بقدر ہوگا۔ سلیم کہتے ہیں (راوی حدیث) میں نہیں جانتا، زمین کی مسافت کا میل یا وہ میل (سرمچو) جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالا جاتا ہے۔ فرمایا پھر سورج ان کو خوب گرم کردے گا۔ پس وہ پسینہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

1۔ 6۔ معتبر سند سے نسائی 1 ؎ اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کا شیوہ اختیار کیا ہے اس سورة کے نازل ہونے کے بعد اکثر لوگ تو پورا تولنے اور ناپنے لگے اور کچھ لوگ اسی حال پر رہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 483 ج 4۔ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی ور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا (اَلَا يَظُنُّ اُولٰۗىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۝ۙلِيَوْمٍ عَظِيْمٍ ۝ۙ يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۝ۭ ) کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اٹھنے کا خیال نہیں جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرات پیدا کی ہے وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انہیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) رب العالمین کے حضور قیام کی عظمت شان کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس میں یہ کھڑے ہوں گے رب العالمین کے حضور " تاکہ وہ زندگی بھر کے اپنے کیے کرائے کا حساب دے سکیں اور اس کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کیں، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور اس کی شان ربوبیت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ یوم عظیم بپا ہو۔ اور ہر کسی کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب کتاب ہو، اور ہر کوئی اپنی زندگی بھر کی کمائی کا پھل پائے، سو کلمہ " رب العالمین " کے اندر اس یوم کی عظمت و اہمیت اس کی حاجت و ضرورت، اور اس کے فیصلوں کی قطعیت وغیرہ تمام اہم اور بنیادی امور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–6

ف 2 اور اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے۔ “ جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : طبرنی حاکم اور بیہقی میں حضرت ابن عمر ہی سے رویا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا :” لوگو ! اس روز تمہارا کیا حال ہوگا جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح جمع کرے گا جیسے ترکش میں تیر جمع کئے جاتے ہیں۔ پھر پچاس ہزار برس تک وہ تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں ؟ “ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:6) یوم یقوم الناس لرب العلمین۔ یہ یوم عظیم سے بدل ہے اور غیر متمکن کی طرف اضافت کی وجہ سے مفتوح ہے یعنی وہ دن جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ (مظہری) یعنی اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اس کے حضور کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

کم تولنا اور دھوکہ فریب کرنا۔ (ف 1) معتبر سند سے نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب نبی ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کاشیوہ اختیار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–16

ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) جس دن تمام لوگ جملہ عالموں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے - یعنی یہ جو لوگوں کا حق مارتے ہیں اور کم تولتے ہیں اور ماپ میں کمی کرکے خریدار کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ان لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا اس دن میں جو گوناگوں مشکلات کے باعث بڑا سخت ہوگا یقین نہیں ہے اگر یقین ہوتا اور یہ جانتے کہ ایک دن حساب کتاب ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کی جناب میں تمام لوگ جواب دہی کے لئے کھڑے ہوں گے تو یہ لوگ ایسا نہ کرتے۔ بہرحال ! مدعا یہ ہے کہ اس دن کا یقین کرو وہ دن ضرور آنا ہے اور کم تولنے اور کم ماپنے سے توبہ کرو اورر اس گناہ کا آئندہ ارتکاب نہ کرو۔ آگے منکروں پر تہدید ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 2۔ گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اس کے لانے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا گو فی نفسہ ذموم ہے، لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی اصلا رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے۔ اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے، اور چونکہ اصل مقصود کم دینے کی مذمت ہے اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجائے کہ ناپنے میں بھی کم دیتے ہیں، تولنے میں بھی کم دیتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی نفسہ مدار ذم نہیں ہے اس لئے وہاں ناپ اور تول دونوں کا ذکر نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے 6 ؎ اس دن کو یوم عظیم اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ اس روز دنیا کے یوم اول سے لے کر یوم آخر تک کے سارے لوگ جمع ہوں گے اور اپنے پروردگار عالمین کے سامنے ان کی حاضر ہوگی ۔ ہاں ! یہ حاضری قانون الٰہی میں طے ہے اور قانون خداوندی میں جو بات طے ہے اس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس بات کا بار بار اعلان کر کے اور بار بار ذکر کر کے لوگوں کے کانوں تک بات پہنچا دی ہے کہ آنے والے کل میں کوئی کسی طرح کا عذر پیش نہ کرسکے کہ میرے کانوں تک یہ بات نہیں پہنچی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

Commentary According to Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ ، Surah Tatfif was revealed in Makkah. Therefore, most of the copies of the Qur'an refer to it as the Makki Surah. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Qatadah, Muqatil and Dahhak رحمۃ اللہ علیہم ، it is a Madani Surah, but only about eight verses are Makki. Imam Nasa'i (رح) transmits a narrative from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ arrived in Madinah, the people of Madinah whose most transactions were based on measurements used to cheat and short measure. For this reason, Allah revealed the Surah. It is reported…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

3 "A Great Day": the Day of Resurrection when all men and jinn will be called to account together in the Divine Court and decisions of vital importance will be made pertaining to rewards and punishments.

Read the full tafseer →