Explained with ayahs 1–6
ناپ تول میں کمی کے تنائج
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کرلیا ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ مکہ مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ) 83۔ المطففین :1) ہے۔ پس تطفیف سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْمُطَفِّفِيْن 2
قرآن مجید میں جگہ جگہ ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت مذمت اور صحیح ناپنے اور تولنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ سورة انعام میں فرمایا " انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو، ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کا مکلف نہیں ٹھیراتے " (آیت 152)۔ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا " جب ناپو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو " (آیت 35)۔ سورة رحمان میں تاکید کی گئی ہے " تولنے میں زیادتی نہ کرو، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور ترازو میں گھاٹا نہ دو "۔ (آیات 8۔ 9)۔ قوم شعیب پر جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا وہ یہی تھا کہ اس کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کا مرض عام طور پر پھیلا ہوا تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی کہ جب لوگوں سے (اپنا حق) ناپ کرلیں تو پورے لے لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں (گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اسکے ذکر کرنے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی ذرا رعایت نہ کی جاوے تو اور زیادہ مذموم ہے، بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے اور چونکہ اصل مقصود ومذمت ہے کم دینے کی اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
یہ ان کمی کرنے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مجرد ناپنے اور تولنے میں کمی کرنا زیربحث نہیں ہے بلکہ ایک خاص کردار زیربحث ہے۔ وہ یہ کہ آدمی دوسروں سے اپنے لیے نپواںے اور تولوانے میں تو بڑا چوکس اور حساس ہو، ہرگز نہ چاہے کہ جو چیز اس کے لیے ناپی یا تولی جائے اس میں رتی برابر بھی کمی ہو لیکن وہی شخص جب دوسروں کے لیے ناپے اور تولے تو اس میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کرے۔ یہ کردار اس امر پر شاہد ہے کہ انسان عدل کے تصور اور اس کے واجب ہونے کے شعور سے عاری نہیں ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ الگ الگ نہیں ہونے چاہییں بلکہ ان کا ایک ہونا ضروری ہے۔ نیز وہ یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3۔ 1 یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
1: ان آیتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو دوسروں سے اپنا حق وصول کرنے میں تو بڑی سرگرمی دکھاتے ہیں، لیکن جب دوسروں کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ وعید صرف ناپ تول ہی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کے حقوق کو شامل ہے، اور اس طرح ڈنڈی مارنے کو عربی میں ”تطفیف“ کہتے ہیں، اسی لیے اس سورت کا نام تطفیف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اگلی دو آیات میں مطففین کی تعریف کی گئی ہے کہ مطفف ، ڈنڈی مارنے والا کون ہوتا ہے۔
الذین اذا ........................ یخسرون (3-2:83) ” یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھاٹا دیتے ہیں “۔ جب وہ مشتری ہوں تو بہت ہشیاری سے پورا پورا لیتے ہیں اور اگر بیچنے والے ہوں تو کم دیتے ہیں۔
اس مکی سورت میں اس اہمیت کے ساتھ ناپ تول میں کمی کے مسئلہ پر بحث تعجب خیز ہے اور ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مکی سورتوں میں بالعموم کلی اور اصولی عقائد اور نظریات سے بحث کی گئی ہے۔ مثلاً توحید کا ثبوت ، اللہ کی بےقید مشیت ، عام مخلوق اور پوری کائنات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
11 گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں مگر یہاں اس کے لانے سے مقصود خود اس بات پر مذمت کرنا نہیں بلکہ کم دینے کی مذمت کو مؤکد کرنا ہے۔ یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر لیتے وقت دوسروں کی بالکل رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے۔ بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے فتلک بتلک۔ لہذا پہلے شخص کا عیب زیادہ شدید ہوا اور چونکہ اصل مقصود مذمت ہے کم دینے کی، اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا جائے تاکہ خوب تصریح ہوجائے کہ ناپنے میں بھی کم ناپتے ہیں اور تولنے میں بھی کم تولتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی مذموم نہیں اس لئے وہاں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“
وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 یعنی دوسروں کو ان کا حق کم دینے یا خود اپنے حق سے زیادہ وصول کرنے کے جرم میں مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا نہ روز آخرت پر ایمان ہوتا ہے اور نہ اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی پر۔ اگر ان کا اس محاسبہ پر ایمان ہوتا تو کبھی ایسی بدنیتی اور مفاد پرستی کے کام نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ قرآن مجید، جیسا کہ بار بار گزر چکا ہے، کوئی کتاب محض الہیات یا عقائد کی نہیں، بلکہ اخلاق ودیانات کے بھی سارے شعبوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ یہاں تعلیم تجارتی اخلاق کی مل رہی ہے۔ اور قریش ایک زبردست تجارت پیشہ قوم تھے۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کمی وبیشی عرف عام یا کسی شرط معلوم و متعارف کی صورت میں جائز ہے۔ (آیت) ” علی الناس “۔ علی یہاں من کے مرادف ہے۔ آیت نے ایسے لوگوں کی بددیانتی کے ساتھ ساتھ ان کی خود غرضی کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ خریداری کے وقت تو خوب ہوشیار اور بڑے چوکس رہتے ہیں۔ ایک ایک چیز خوب ناپ جو کھ کر کے اور خوب پرکھ کر کرکے لیتے ہیں، اور بیچتے وقت اس کے برعکس ہوجاتے ہیں۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی ہے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں یعنی ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، کیا انہیں یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے یقین نہیں کہ انہیں ایک عظیم (سخت) دن میں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ قیامت کا دن ہے، جس دن لوگ اپنی قبروں سے رب العالمین یعنی مخلوق کے پروردگار کے حضور میں اس کے حکم سے اپنے حساب اور جزاء کے لئے کھڑے ہوں گے، یوم، لیوم کے محل سے بدل ہے اور اس کا ناصب مبعوثون ہے، ہرگز…
Read the full tafseer →واذا کالوھم اوزنوھم یخسرون . اور جب ان کو ناپ تول کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ کالوھم
اور وزنوھم میں حرف جار محذوف ہے۔ اصل میں کالُوْالَھُمْ اور وَزَنُوْالَھُمْ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل کلام کالُوْا مَکِیْلَھُمْ تھا۔ مکیل (ناپی ہوئی چیز) کو حذف کر کے ھُم کو اس کے قائم مقام کردیا۔
یُخْسِرُوْنَ : ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ خسر المیزان واخسرَہٗ : وزن کم ہوگیا اور وزن کو کم کردیا۔ ایسا کرنے کو تطفیف کہا جاتا ہے کیونکہ ناپ تول میں کمی حقیر سی ہی ہوتی ہے۔ آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ حقیر چیز کی کمی بھی ویل و عذاب کی موجب ہے ‘ زیادہ چیز کی کمی تو بطریق اولیٰ موجب عذاب ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) اور جب دوسروں کو دیتے ہیں تو ماپ تول میں کمی کردیتے ہیں یا یہ کہ نماز، زکوٰۃ، روزہ دیگر عبادتوں میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے کیا ان کمی کرنے والوں کو اس چیز کا یقین نہیں کہ وہ قیامت کے دن زندہ کیے جائیں گے۔
شان نزول : وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ (الخ)
امام نسائی اور ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ماپ تول میں کمی کیا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، چناچہ اس کے بعد وہ پورا ماپ تول کر کے دینے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ویل للمطففین :) (”التطفیف“ ماپ یا تول میں کمی کرنا۔ ماپ تول کے علاوہ لین دین کے جتنے بھی دیگر پیمانے ہیں ان میں کمی بھی ”التطفیف“ ہے۔”الطفیف“ بالکل تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔ ”صاع“ بھرا ہوا ہو، مگر پورا بھرنے سے کم ہو تو اس کی کمی کو ”طف الصاع“ کہتے ہیں۔ چونکہ ماپ تول میں کمی کرنے والا کوئی بڑا مال نہیں چراتا بلکہ تھوڑی سی چیز چراتا ہے، اس لئے اسے ”المطفف“ کہتے ہیں۔ یہ فعل کمینگی کی انتہا ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اتنی تھوڑی تھوڑی چیز کی چوری کرنے والا شخص بڑا مال اڑانے سے بھی پرہیز کرنے والا نہیں، صرف اپنی کم ہمتی یا پکڑے جانے کے خوف سے اتنی چوری پر صبر کئے بیٹھا ہے، ورنہ اس کی طبیعت کے…
Read the full tafseer →واذاکالوھم او وزنوھم یخسرون۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
کیل اور وزن سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ یعنی جب دوسروں کے لیے کیل اور وزن کرتے ہیں تویہاں سے لام حذف کردیا گیا ہے فعل براہ راست مفعول کی متعدی ہے اور اس نے اسے نصب دی ہے اس کی مثل نصحتک اور نصحت لک ہے، امرتک بہ اور امرت کہ، یہ اخفش اور فراء نے بات کہی، فراء نے کہا میں نے ایک بدوی عورت کو یہ کہتے ہوئے سنا جب لوگ واپس لوٹ جائیں گے تو ہم تاجر کے پاس آئیں گے جو آنے والے موسم حج تک ایک مد، دو مد کیل کرکے دے دے گا۔ یہ اہل حجاز اور ان کے محاور بنوقیس کی لغت ہے۔ زجاج نے کہا : کالو اور وزنوا پر وقف کرنا جائز نہیں، یہاں تک کہ اس کے ساتھ ھم ضمیر ملی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے مدینہ میں ویل للمطففین نازل ہوئی۔
ناپ تول میں کمی سخت گناہ ہے
2۔ النسائی وابن ماجہ وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ناپ تول کے لحاظ سے سب سے خبیث ترین لوگ تھے پھر اللہ تعالیٰ آیت ویل للمطففین نازل فرمائی تو اس کے بعد انہوں نے اپنے پیمانوں کو درست کرلیا۔
3۔ ابن سعد والبزار اور بیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سباع بن عرفطہ کو مدینہ پر عامل مقرر فرمایا جب آپ خیبر کی تشریف لے…
Read the full tafseer →[وَاِذَا كَالُوْهُمْ : اور جب کبھی ناپ کردیتے ہیں ان کو ][ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ : یا تول کردیتے ہیں ان کو ][ يُخْسِرُوْن؛تو کمی کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہاں سے سوہٴ تطفیف شروع ہو رہی ہے، یہ لفظ طفف سے باب تفعیل کا مصدر ہے اور مطففین اسی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ تطفیف کا معنی ہے گھٹانا اور کم کرنا۔ لفظ کالوا کیل سے لیا گیا ہے ماضی معروف جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ عربی میں برتن کے بنائے ہوئے پیمانہ سے بھر کردینے کو کیل کہتے ہیں اور اکتالوا لفظ کیل سے باب افتعال سے ماضی کا صیغہ ہے۔
اس آیت شریفہ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے جو لوگ دوسروں کے ہاتھ مال بیچتے ہیں تو کم ناپتے ہیں یا کم تولتے ہیں۔ تولتے وقت ڈنڈی مار دیتے ہیں اور ایک طرف کسی ترکیب سے پلڑا جھکا دیتے ہیں اور لوگوں سے مال لیتے ہیں تو پورا تلواتے ہیں اور پورا نپواتے (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔
حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” ویل للمطففین “ یہ زجر ہے۔ ” علی الناس “ کا متعلق محذوف ہے جو ” اکتالوا “ کے فاعل سے حال ہے ای مضرین علی الناس۔ یا یہ ” اکتالوا “ سے متعلق ہے۔ قال الفراء من وعلی یعتقیان فی ھذا الموضع لانہ حق علیہ فاذا قال اکتلت علیک فکانہ قال اخذت ما علیک (مدارک) ۔ ان کم تولنے والوں کے لیے ہلاکت اور ویل ہے جو لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا وصول کرلیتے ہیں، بلکہ اپنے حق سے زیادہ لے لیتے ہیں، اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو ان کے حق سے ان کو کم دیتے ہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے انہیں چاہئے کہ وہ خدا سے ڈریں جو ظلم و زیادتی کی ان کو سخت سزا دے گا۔
Read the full tafseer →وَاِذَا كَالُوْہُمْ اَوْ وَّزَنُوْہُمْ يُخْسِرُوْنَ 3 ۭ
كَيْلُ :
كيل الطعام . يقال : كِلْتُ له الطعام :إذا تولّيت ذلک له، وكِلْتُهُ الطّعام : إذا أعطیته كَيْلًا، واكْتَلْتُ عليه : أخذت منه كيلا . قال اللہ تعالی: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذا کالُوهُمْ [ المطففین/ 1- 3]
( ک ی ل ) الکیل
( ض ) کے معنی غلہ نا پنے کے ہیں اور کلت لہ الطعا م ( صلہ لام ) کے معنی ہیں ۔ میں نے اس کے لئے غلہ ناپنے کی ذمہ داری سنبھالی اور کلت الطعام ( بدوں لام ) کے معنی ہیں میں نے اسے غلہ ناپ کردیا اور اکتلت علیہ کے معنی ہیں ۔ میں نے اس سے ناپ کرلیا قرآن میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ ویل مبتداء وجازا الابتداء بہ لکونہ دعاء قال مکی ویل و شبہہ اذا کان غیر مضاف فالمختار الرفع یجوز النصب واذا کان مضافا او معرفا فالمختار فیہ النصب والویل کلمۃ تذکر عند وقوع البلاء یقال ویل لک وویل علیک۔ وقیل واوفی جہنم للمطففین خبرہ المطفف ماخوذ من الطفف وھو الجانب اوالشیء الیسیر یقال طف الوادی والاناء اذا قارب الامتلاء ولم یمتلی بعد۔ قالؔ الزجاج انما قیل للذی ینقص المکیال والمیزان مطفف لانہ یسرق الشیء الیسیر۔ والتطفیف البخس فی الکیل والوزن الذین الخ صفت کاشفتہ للمطففین اذا اکتالوا الا کتیال الاخذ بالکیل علی الناس قال الفراء علی ومن فی ھذا الموضع یعتقبان یقال اکتلت منک ای استوفیت منک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ۔ وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْوَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ ۔ (المطففین : 2، 3)
(یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو اس میں کمی کرتے ہیں۔ )
ان لوگوں پر لعنت جن کے لینے کے باٹ اور، اور دینے کے باٹ اور ہیں
ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی دناءت اور خست کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب یہ دوسرے لوگوں سے کوئی چیز ناپ یا تول کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں، اس میں کوئی کمی نہیں ہونے دیتے۔ لیکن جب دوسروں کو دیتے ہیں تو ہاتھ کی صفائی دکھا جاتے ہیں اور کم کرکے دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن
ربط سورت : سورة الانفطار اس بات پر ختم ہوئی کہ قیامت کے دن نیکوں اور بروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اس دن پورے کا پورا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا۔ قیامت کو جھٹلانے والا شخص نہ صرف اپنے رب سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ بےمروتی بھی اختیار کرتا ہے اور اسی بےمروتی کی وجہ سے لوگوں کے حقوق مارتا ہے۔ اس لیے ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کے آغاز میں ماپ تول کے ذریعے لوگوں کے حقوق مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
” تطفیف “ کا معنٰی ہے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجائے اور اس کی حرص حد سے بڑھ جائے تو وہ کمینگی پر اتر آتا ہے۔ کسی انسان کی کمینگی اور حرص کی…
Read the full tafseer →3 : وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْوَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ (اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں)
نحو : ضمیر منصوب الناس کی طرف راجع ہے تقدیرکلام یہ ہے کَالُوْا لَھُمْ اَوْوَّزَنُوْا لَھُمْ پس حرف جار کو حذف کر کے ضمیر فعل کے ساتھ ملادی۔
نکتہ نمبر 1 :
شروع میں اس طرح بھی نہیں کہا۔ او اتزنوا جیسا یہاں کہا گیا اَوْوَّزَنُوْھُمْ یہ بطور اکتفاء اکتالوا اور کالوا کے ساتھ ایک ہی مرتبہ لائے اور یہ کافی ہے نمبر 2۔ اور ایک احتمال اس کے علاوہ یہ ہے کہ تطفیف کرنے والے کیل اور وزن والی دونوں چیزوں کو کیل کر کے لیتے۔ کیونکہ کیل کے ذریعہ ان کو اپنامال پورا کرنے کی پوری قدرت تھی اور سرقہ کا پورا موقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3-4” واذا کالوھم او وزنوھم یخسرون “ یعنی ان لوگوں کے لئے ماپ کریں یا وزن کریں۔ کہا جاتا ہے ” وزنتک حقک وکلتک طعامک “ یعنی میں نے تیرے لئے وزن کیا اورت یرے لئے کیل کیا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” نصحتک ونصحت لک وشکرتک وشکر لک کتبتک وکتبت لک “ ابوعبیدہ کہتے ہیں عیسیٰ بن عمران دونوں کو دو حرف بناتے تھے وقف کرتے تھے۔ ” کالوا اور وزنوا “ پر اور ابتداء کرتے تھے ” ھم یخسرون “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں اور پسندیدہ پہلا قول ہے یعنی یہ تمام ایک کلمہ ہے اس لئے کہ انہوں نے ان دونوں کو بغیر الف کے لکھا ہے اور اگر دونوں جدا ہوتے تو لکھا جاتا ” کالوا او وزنوا “ الف کے ساتھ جیسا کہ تمام افعال ” جائو وقالوا “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ معتبر سند سے نسائی 1 ؎ اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کا شیوہ اختیار کیا ہے اس سورة کے نازل ہونے کے بعد اکثر لوگ تو پورا تولنے اور ناپنے لگے اور کچھ لوگ اسی حال پر رہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 483 ج 4۔ )
Read the full tafseer →( وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ ) اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمے ہوتا ہے۔ ( يُخْسِرُوْنَ ) تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بےانصافی ہے جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں جو جبرا لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) دوہرے معیار کا معاشی جرم باعث لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے دوہرے معیار کے معاشی جرم کا ذکرو بیان فرمایا گیا ہے اور لینے اور دینے کے باٹ الگ الگ رکھنے والوں کے لیے لعنت و ملامت فرمائی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والے ان لوگوں کے لیے جو جب دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں "۔ " تطفیف " ماخوذ ہے " طفیف " سے جس کے معنی " شیء یسیر " یعنی معمولی چیز کے آتے ہیں۔ کیونکہ ناپ تول میں کمی کرنے والے اس طرح ڈنڈی مار کر جو کچھ کماتے ہیں وہ ہوتا بھی معمولی ہے اور ہوتا بھی گھٹیا اور بےبرکت ہے۔ پس اس طرح اس لفظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 1 دوسرے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے پورا تولنے اور پورا ناپنے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً سورة اسراء میں ارشاد ہے : واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم ذلک خیر و احسن تاویلا اور جب تم پیمانے سے دو تو پیمانہ بھر کو دو اور جب تولو تو ٹھیک ترازرو سے تولو۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہے۔ “ (آیت :35) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر جو تباہی آئی، اس کا ایک سبب یہی تھا کہ وہ ناپنے اور تولنے میں کمی کرتی تھی۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کسی قوم نے عہد شکنی نہیں کی مگر اس پر دشمط کو مسلط کردیا گیا اور کسی قوم نے ماپنے میں کمی نہیں کی مگر اسے پیداوار کی…
Read the full tafseer →(83:3) واذا کالوہم او وزنوہم یخسرون اذا ظرف زمان ہے۔ بمعنی جب۔
کالوھم او وزنوھم اصل میں کالوا لہم او وزنوا لہم تھا۔ دونوں میں حرف جار محذوف ہے۔
کانوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب کیل (باب ضرب) مصدر ناپنا۔ تولنا۔ لہم ان کے لئے۔ یعنی جب دوسروں کو تول کر یا ناپ کردیتے ہیں (ان کے لئے تولتے ہیں) او حرف عطف وزنوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ ازن (باب ضرب) مصدر سے۔ یا ان کو وزن کرکے دیتے ہیں۔
یخسرون : مضارع جمع مذکر غائب اخسار (افعال) مصدر (تو) کمی کردیتے ہیں۔ یعنی کم دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
کم تولنا اور دھوکہ فریب کرنا۔
(ف 1) معتبر سند سے نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب نبی ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کاشیوہ اختیار کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
[1] یعنی وہ آیتیں جن میں قیامت اور جزا و سزا کی خبر دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة التطفیف
2: اس سورة کا موضوع یہ ہے کہ کاروبار اور معاملات میں اعتماد وصداقت کی روح کو پیدا کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مذہب کا تعلق صرف عبادات سے نہیں اور عبادت کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ مجاہدہ و ریاضت سے نفس کو پاک کیا جائے ۔ بلکہ مذہب نام ہے عقائد سے لے کر معاملات تک اصلاح کا ۔ اور عبادت تعبیر ہے ۔ معاملہ کی پاکیزگی سے ۔ اور ریاضت وزہد کہتے ہیں قلب کو حرص وآز کے جذبات سے پاک کرنے کو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک مسلمان کا تخیل صرف یہی نہیں ہے کہ وہ توحید وسنت کا قائل ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے ۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لین دین ۔ بیع وشر اور معاملات باہمی میں بھی…
Read the full tafseer →(3) اور جب لوگوں کو پیمانے سے ماپ کردیں یا تول کردیں تو کم کردیں یا گھٹا کردیں - اگرچہ پوری طرح پیمانہ بھر لینا کوئی مذموم اور قابل اعتراف بات نہیں ہے مگر یہاں اس کا ذکر کرنا کم دینے کی مذمت کو موکد کرنا اور کم دینے کی برائی کی تاکید کرنا ہے۔ اگر لینے میں بھی بےپروائی اور رعایت کرتے تو شاید معاملہ برابر سرابر سمجھ لیا جاتا کہ نہ پورا دیتے ہیں نہ پورا لیتے ہیں لیکن اگر کوئی اپنا حق تو پورا لے اور دوسرے کو کم دے تو یہ امر بہت قابل مذمت ہے اور چونکہ اصل مقصد کم دینے کی مذمت کرتا ہے اس لئے کیل اور وزن دونوں کا ذکر کیا کہ ماپ میں بھی کمی کرتے ہیں اور تول میں بھی کم دیتے ہیں اور چونکہ پورا لینا عیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 2۔ گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اس کے لانے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا گو فی نفسہ ذموم ہے، لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی اصلا رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے۔ اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے، اور چونکہ اصل مقصود کم دینے کی مذمت ہے اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجائے کہ ناپنے میں بھی کم دیتے ہیں، تولنے میں بھی کم دیتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی نفسہ مدار ذم نہیں ہے اس لئے وہاں ناپ اور تول دونوں کا ذکر نہیں کیا…
Read the full tafseer →اور جب وہ لوگوں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو ان کو نقصان میں ڈالتے ہیں
3 ؎ ( کالوھم) جمع مذکر غائب ماضی معروف ھم ضمیر جمع غائب کیل مصدر متعدی ( ضرب) جب پیمانے سے ماپ کردیتے ہیں ۔ آیت میں مفعول محذوف ہے اور ھم ضمیر سے پہلے لام مقدر ہے کہ اصل لھم ہے یعنی جب کوئی چیز لوگوں کو کسی معروف پیمانے سے ماپ کردیتے ہیں اکتیال ( افتعال) ناپ کرلیتے لینا ۔ ( وزنوا) کی جمع مرکز غائب ، ماضی معروف وزن اور زنۃ مصدر ۔ انہوں نے تول کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ خود دوسرے لوگوں کو ماپ کر یا تول کردیتے ہیں تو ان سے لینے والے ہمیشہ خسارہ میں رہتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ ان کو خسارہ اور گھاٹا میں رکھتے ہیں گویا ماپ کر یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Commentary
According to Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ ، Surah Tatfif was revealed in Makkah. Therefore, most of the copies of the Qur'an refer to it as the Makki Surah. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Qatadah, Muqatil and Dahhak رحمۃ اللہ علیہم ، it is a Madani Surah, but only about eight verses are Makki. Imam Nasa'i (رح) transmits a narrative from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ arrived in Madinah, the people of Madinah whose most transactions were based on measurements used to cheat and short measure. For this reason, Allah revealed the Surah. It is reported…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2 At several places in the Qur'an giving of short measure and weight has been condemned and measuring fully and weighing rightly has been stressed. In Surah AI-An'am, it has been enjoined: "You should use a full measure and a just balance. We charge one only with that much responsibility that one can bear." (v. 152) . In Surah Bani Isra'il it has been said: "Give full measure when you measure and weigh with even scales." (v. 35) . In Surah Ar-Rehman it has been stressed: Do not upset the balance: weigh with equity and do not give short weight." (vv. 8-9) . The people of the Prophet Shu`aib…
Read the full tafseer →