Al-Mutaffifin 83:2

Al-Mutaffifin · from ayah 2

83:2

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ۟ؗۖالَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ يَسۡتَوۡفُوۡنَ

جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who, when they take a measure from people, take in full.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin

All translations of 83:2

جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے خود کوئی چیز ناپ کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ لوگ جب (دوسرے) لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو (ان سے) پورا لیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ کہ جب لوگوں سے ماپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسے لوگ جب خود ناپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو دوسروں سے پنوائیں تو پورا پنوائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن کا حال یہ ہے کہ ان کو جب لوگوں سے لینا ہوتا ہے تو پورا پورا لیتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیں پورا ہی لے لیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ کہ جب دوسروں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں

— محترمہ رفعت اعجاز

those who, when they take from others by measure, take their full share;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who, when they measure something to receive from people, take it in full,

— Muhammad Taqi Usmani

who, when they measure something to receive from people, take it in full,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who, when they have to receive by measure from men, demand full measure,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who when they take the measure from mankind demand it full,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who, when they take a measure from people, take in full.

— Saheeh International

those who demand a full measure from others

— Muhammad Sarwar

Who, when they take the measure (of their dues) from men take it fully,

— Muhammad Habib Shakir

Those who, when they take by measure from mankind, exact the full,

— Abdul Majid Daryabadi

Those who, when they have to receive by measure from men, exact full measure,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 83:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

ناپ تول میں کمی کے تنائج نسائی اور ابن ماجہ میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کرلیا ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ مکہ مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ) 83۔ المطففین :1) ہے۔ پس تطفیف سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الْمُطَفِّفِيْن 1 اصل لفظ مطففین استعمال کیا گیا ہے جو تطفیف سے مشتق ہے۔ عربی زبان میں طفیف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں اور تطفیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا اڑاتا رہتا ہے اور خریدار بیچارے کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ تاجر اسے کیا اور کتنا گھاٹا دے گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

خلاصہ تفسیر بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی کہ جب لوگوں سے (اپنا حق) ناپ کرلیں تو پورے لے لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں (گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اسکے ذکر کرنے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی ذرا رعایت نہ کی جاوے تو اور زیادہ مذموم ہے، بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے اور چونکہ اصل مقصود ومذمت ہے کم دینے کی اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجاوے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

یہ ان کمی کرنے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مجرد ناپنے اور تولنے میں کمی کرنا زیربحث نہیں ہے بلکہ ایک خاص کردار زیربحث ہے۔ وہ یہ کہ آدمی دوسروں سے اپنے لیے نپواںے اور تولوانے میں تو بڑا چوکس اور حساس ہو، ہرگز نہ چاہے کہ جو چیز اس کے لیے ناپی یا تولی جائے اس میں رتی برابر بھی کمی ہو لیکن وہی شخص جب دوسروں کے لیے ناپے اور تولے تو اس میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کرے۔ یہ کردار اس امر پر شاہد ہے کہ انسان عدل کے تصور اور اس کے واجب ہونے کے شعور سے عاری نہیں ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ الگ الگ نہیں ہونے چاہییں بلکہ ان کا ایک ہونا ضروری ہے۔ نیز وہ یہ بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

3۔ 1 یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کردیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–3

اگلی دو آیات میں مطففین کی تعریف کی گئی ہے کہ مطفف ، ڈنڈی مارنے والا کون ہوتا ہے۔ الذین اذا ........................ یخسرون (3-2:83) ” یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھاٹا دیتے ہیں “۔ جب وہ مشتری ہوں تو بہت ہشیاری سے پورا پورا لیتے ہیں اور اگر بیچنے والے ہوں تو کم دیتے ہیں۔ اس مکی سورت میں اس اہمیت کے ساتھ ناپ تول میں کمی کے مسئلہ پر بحث تعجب خیز ہے اور ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مکی سورتوں میں بالعموم کلی اور اصولی عقائد اور نظریات سے بحث کی گئی ہے۔ مثلاً توحید کا ثبوت ، اللہ کی بےقید مشیت ، عام مخلوق اور پوری کائنات پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

11 گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں مگر یہاں اس کے لانے سے مقصود خود اس بات پر مذمت کرنا نہیں بلکہ کم دینے کی مذمت کو مؤکد کرنا ہے۔ یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر لیتے وقت دوسروں کی بالکل رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے۔ بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے فتلک بتلک۔ لہذا پہلے شخص کا عیب زیادہ شدید ہوا اور چونکہ اصل مقصود مذمت ہے کم دینے کی، اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا جائے تاکہ خوب تصریح ہوجائے کہ ناپنے میں بھی کم ناپتے ہیں اور تولنے میں بھی کم تولتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی مذموم نہیں اس لئے وہاں صرف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 ڈنڈی مارنے کی مختلف صورتیں :۔ ناپ کر اپنا حق پورا لینا کوئی جرم کی بات نہیں۔ یہ جرم صرف اس وقت بنتا ہے جب اپنا حق تو پورا لیا جائے اور دوسروں کو کم دیا جائے۔ پھر اس جرم میں کمی بیشی کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اپنا حق بھی کم لے اور دوسروں کو بھی کم دے۔ بالفاظ دیگر اس کا پیمانہ یا باٹ ہی چھوٹاہو اسی سے وہ لاتا بھی ہو اور دیتا بھی ہو اور ڈنڈی بھی نہ مارتا ہو۔ اس صورت میں بھی یہ جرم ہے مگر جرم کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ دوسری یہ کہ آدمی لیتے وقت پورا یا زیادہ لے اور دیتے وقت کم دے۔ اس صورت میں جرم دگنا بلکہ تگنا ہوجاتا ہے۔ لین دین کی اصل بنیاد عدل ہے یعنی پورا پورا دو ۔ اور قرآن کریم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ قرآن مجید، جیسا کہ بار بار گزر چکا ہے، کوئی کتاب محض الہیات یا عقائد کی نہیں، بلکہ اخلاق ودیانات کے بھی سارے شعبوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ یہاں تعلیم تجارتی اخلاق کی مل رہی ہے۔ اور قریش ایک زبردست تجارت پیشہ قوم تھے۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کمی وبیشی عرف عام یا کسی شرط معلوم و متعارف کی صورت میں جائز ہے۔ (آیت) ” علی الناس “۔ علی یہاں من کے مرادف ہے۔ آیت نے ایسے لوگوں کی بددیانتی کے ساتھ ساتھ ان کی خود غرضی کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ خریداری کے وقت تو خوب ہوشیار اور بڑے چوکس رہتے ہیں۔ ایک ایک چیز خوب ناپ جو کھ کر کے اور خوب پرکھ کر کرکے لیتے ہیں، اور بیچتے وقت اس کے برعکس ہوجاتے ہیں۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی ہے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں یعنی ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، کیا انہیں یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے یقین نہیں کہ انہیں ایک عظیم (سخت) دن میں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ قیامت کا دن ہے، جس دن لوگ اپنی قبروں سے رب العالمین یعنی مخلوق کے پروردگار کے حضور میں اس کے حکم سے اپنے حساب اور جزاء کے لئے کھڑے ہوں گے، یوم، لیوم کے محل سے بدل ہے اور اس کا ناصب مبعوثون ہے، ہرگز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذا اکتالوا علی الناس یستوفون . جو اگر لوگوں سے اپنا حق ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا ناپتے ہیں۔ الطفّ حقیر المطففین سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو الذین سے بیان کیا ہے۔ اکتالوا : ناپ کرلیتے ہیں یا تول کر اس جگہ صرف ناپ کے ذکر پر اکتفا کیا کیونکہ آگے اوذنوھم آیا ہے۔ قرینہ موجود ہے کہ اس جگہ بھی ناپ اور تول دونوں مراد ہیں یا یوں کہا جائے کہ اس زمانہ میں پیمانوں سے ناپ کر لین دین زیادہ ہوتا تھا ‘ تول کر کم ہوتا تھا۔ بجائے من الناس (لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں) کے علی الناس (لوگوں پر) فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ علی الناس کہنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ لوگوں پر جو ان کا حق ہوتا ہے اس کو وہ پورا پورا لیتے ہیں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) رسول اکرم کی تشریف آوری سے پہلے مدینہ والے ماپ تول میں کمی کیا کرتے تھے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے تب راستہ میں یہ سورت نازل ہوئی کہ ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے، جب لوگوں سے کوئی چیز خریدتے ہیں یا اپنا حق تول کرلیتے ہیں تو خوب پورا وزن کر کے لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(ویل للمطففین :) (”التطفیف“ ماپ یا تول میں کمی کرنا۔ ماپ تول کے علاوہ لین دین کے جتنے بھی دیگر پیمانے ہیں ان میں کمی بھی ”التطفیف“ ہے۔”الطفیف“ بالکل تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔ ”صاع“ بھرا ہوا ہو، مگر پورا بھرنے سے کم ہو تو اس کی کمی کو ”طف الصاع“ کہتے ہیں۔ چونکہ ماپ تول میں کمی کرنے والا کوئی بڑا مال نہیں چراتا بلکہ تھوڑی سی چیز چراتا ہے، اس لئے اسے ”المطفف“ کہتے ہیں۔ یہ فعل کمینگی کی انتہا ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اتنی تھوڑی تھوڑی چیز کی چوری کرنے والا شخص بڑا مال اڑانے سے بھی پرہیز کرنے والا نہیں، صرف اپنی کم ہمتی یا پکڑے جانے کے خوف سے اتنی چوری پر صبر کئے بیٹھا ہے، ورنہ اس کی طبیعت کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الذین اذاکتالوا علی الناس یستوفون۔ فراء نے کہا، یہاں علی من کے معنی میں ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، اکتلت منک، یعنی میں نے تجھ سے پورا حق لے لیا یہ جملہ بولا جاتا ہے اکتلت ماعلیک، جو حق تجھ پر لازم تھا میں نے وہ پورا پورا لے لیا ہے، زجاج نے کہا، جب وہ لوگوں سے کیل کرتے ہیں تو ان کے خلاف کیل پورالیتے ہیں، معنی یہ ہوگا جب حق لیتے ہیں توزیادتی سے لیتے ہیں، جب دوسروں کو دیں یا ان کے لیے وزن کریں، تو اس میں کمی کرتے ہیں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہ لوگوں کے لیے پسند نہیں کرتے، طبری نے کہا، یہاں علی، عند کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1۔ ابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے مدینہ میں ویل للمطففین نازل ہوئی۔ ناپ تول میں کمی سخت گناہ ہے 2۔ النسائی وابن ماجہ وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ناپ تول کے لحاظ سے سب سے خبیث ترین لوگ تھے پھر اللہ تعالیٰ آیت ویل للمطففین نازل فرمائی تو اس کے بعد انہوں نے اپنے پیمانوں کو درست کرلیا۔ 3۔ ابن سعد والبزار اور بیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سباع بن عرفطہ کو مدینہ پر عامل مقرر فرمایا جب آپ خیبر کی تشریف لے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِينَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَاسِ : وہ لوگ جو جب کبھی ناپ کرلیتے ہیں لوگوں سے ][ يَسْتَوْفُوْنَ : تو پورا لینا چاہتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

یہاں سے سوہٴ تطفیف شروع ہو رہی ہے، یہ لفظ طفف سے باب تفعیل کا مصدر ہے اور مطففین اسی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ تطفیف کا معنی ہے گھٹانا اور کم کرنا۔ لفظ کالوا کیل سے لیا گیا ہے ماضی معروف جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ عربی میں برتن کے بنائے ہوئے پیمانہ سے بھر کردینے کو کیل کہتے ہیں اور اکتالوا لفظ کیل سے باب افتعال سے ماضی کا صیغہ ہے۔ اس آیت شریفہ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے جو لوگ دوسروں کے ہاتھ مال بیچتے ہیں تو کم ناپتے ہیں یا کم تولتے ہیں۔ تولتے وقت ڈنڈی مار دیتے ہیں اور ایک طرف کسی ترکیب سے پلڑا جھکا دیتے ہیں اور لوگوں سے مال لیتے ہیں تو پورا تلواتے ہیں اور پورا نپواتے (یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–17

وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” ویل للمطففین “ یہ زجر ہے۔ ” علی الناس “ کا متعلق محذوف ہے جو ” اکتالوا “ کے فاعل سے حال ہے ای مضرین علی الناس۔ یا یہ ” اکتالوا “ سے متعلق ہے۔ قال الفراء من وعلی یعتقیان فی ھذا الموضع لانہ حق علیہ فاذا قال اکتلت علیک فکانہ قال اخذت ما علیک (مدارک) ۔ ان کم تولنے والوں کے لیے ہلاکت اور ویل ہے جو لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا وصول کرلیتے ہیں، بلکہ اپنے حق سے زیادہ لے لیتے ہیں، اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو ان کے حق سے ان کو کم دیتے ہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے انہیں چاہئے کہ وہ خدا سے ڈریں جو ظلم و زیادتی کی ان کو سخت سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ۝ 2 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ ویل مبتداء وجازا الابتداء بہ لکونہ دعاء قال مکی ویل و شبہہ اذا کان غیر مضاف فالمختار الرفع یجوز النصب واذا کان مضافا او معرفا فالمختار فیہ النصب والویل کلمۃ تذکر عند وقوع البلاء یقال ویل لک وویل علیک۔ وقیل واوفی جہنم للمطففین خبرہ المطفف ماخوذ من الطفف وھو الجانب اوالشیء الیسیر یقال طف الوادی والاناء اذا قارب الامتلاء ولم یمتلی بعد۔ قالؔ الزجاج انما قیل للذی ینقص المکیال والمیزان مطفف لانہ یسرق الشیء الیسیر۔ والتطفیف البخس فی الکیل والوزن الذین الخ صفت کاشفتہ للمطففین اذا اکتالوا الا کتیال الاخذ بالکیل علی الناس قال الفراء علی ومن فی ھذا الموضع یعتقبان یقال اکتلت منک ای استوفیت منک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ۔ وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْوَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ ۔ (المطففین : 2، 3) (یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو اس میں کمی کرتے ہیں۔ ) ان لوگوں پر لعنت جن کے لینے کے باٹ اور، اور دینے کے باٹ اور ہیں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی دناءت اور خست کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب یہ دوسرے لوگوں سے کوئی چیز ناپ یا تول کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں، اس میں کوئی کمی نہیں ہونے دیتے۔ لیکن جب دوسروں کو دیتے ہیں تو ہاتھ کی صفائی دکھا جاتے ہیں اور کم کرکے دیتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورة الانفطار اس بات پر ختم ہوئی کہ قیامت کے دن نیکوں اور بروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اس دن پورے کا پورا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا۔ قیامت کو جھٹلانے والا شخص نہ صرف اپنے رب سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ بےمروتی بھی اختیار کرتا ہے اور اسی بےمروتی کی وجہ سے لوگوں کے حقوق مارتا ہے۔ اس لیے ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کے آغاز میں ماپ تول کے ذریعے لوگوں کے حقوق مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ ” تطفیف “ کا معنٰی ہے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجائے اور اس کی حرص حد سے بڑھ جائے تو وہ کمینگی پر اتر آتا ہے۔ کسی انسان کی کمینگی اور حرص کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاس یَسْتَوْفُوْنَ (کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں) جب وہ لوگوں سے ناپ تول میں اپنے حقوق لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ نکتہ : جبکہ ان لوگوں کا ماپ کم وصول کرنا لوگوں کیلئے نقصان کا باعث ہے اور وہ ٹھونس کر لوگوں سے وصول کرتے ہیں اسی لئے منؔ کی بجائے علیٰؔ لائے اور اس پر دلالت موجود ہے۔ ایک انداز : علیؔ یستوفون کے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور فعل پر مفعول کو افادئہ اختصاص کیلئے مقدم کیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگوں سے خاص طور پر پورا پورا لیتے ہیں۔ قولِ فراء : ایسے مواقع پر مِن اور علی ہر دو کا استعمال ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا حق ہے پس جب تم کہو اکتلت علیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔ پھر بیان کیا کہ ” مطففین “ کون لوگ ہیں ؟ تو فرمایا۔ ” الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون “ اور مراد یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے ماپ کر کوئی چیز لیتے ہیں۔ ” یعنی اخذوا منھم “ اور ” من “ اور ” علی “ ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے جب وہ لوگوں سے ماپ کرلیتے ہیں تو ان پر ماپ پورا پورا وصول کرتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ جب خود کے لئے کوئی چیز خریدتے ہیں تو ماپ وتول پورا وصول کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

1۔ 6۔ معتبر سند سے نسائی 1 ؎ اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کا شیوہ اختیار کیا ہے اس سورة کے نازل ہونے کے بعد اکثر لوگ تو پورا تولنے اور ناپنے لگے اور کچھ لوگ اسی حال پر رہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 483 ج 4۔ )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

(وَيْلٌ) ہلاکت ہے۔ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ( لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے اور اللہ تعالیٰ نے المطففین کی تفسیر بیان فرمائی۔ کہ (الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ ) یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورالیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

(1) دوہرے معیار کا معاشی جرم باعث لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے دوہرے معیار کے معاشی جرم کا ذکرو بیان فرمایا گیا ہے اور لینے اور دینے کے باٹ الگ الگ رکھنے والوں کے لیے لعنت و ملامت فرمائی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والے ان لوگوں کے لیے جو جب دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں "۔ " تطفیف " ماخوذ ہے " طفیف " سے جس کے معنی " شیء یسیر " یعنی معمولی چیز کے آتے ہیں۔ کیونکہ ناپ تول میں کمی کرنے والے اس طرح ڈنڈی مار کر جو کچھ کماتے ہیں وہ ہوتا بھی معمولی ہے اور ہوتا بھی گھٹیا اور بےبرکت ہے۔ پس اس طرح اس لفظ میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–36

ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–36

سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 1 دوسرے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے پورا تولنے اور پورا ناپنے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً سورة اسراء میں ارشاد ہے : واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم ذلک خیر و احسن تاویلا اور جب تم پیمانے سے دو تو پیمانہ بھر کو دو اور جب تولو تو ٹھیک ترازرو سے تولو۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہے۔ “ (آیت :35) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر جو تباہی آئی، اس کا ایک سبب یہی تھا کہ وہ ناپنے اور تولنے میں کمی کرتی تھی۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کسی قوم نے عہد شکنی نہیں کی مگر اس پر دشمط کو مسلط کردیا گیا اور کسی قوم نے ماپنے میں کمی نہیں کی مگر اسے پیداوار کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(83:2) الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون : یہ جملہ مطففین کی صفت ہے۔ یہ لوگ (مطففین) وہ ہیں کہ اگر لوگوں سے اپنا حق ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا ناپتے ہیں۔ اکتالوا ماضی جمع مذکر غائب اکتیال (افتعال) مصدر سے۔ جب وہ پیمانہ سے ناپ کرلیتے ہیں اکتال کے معنی ہیں پیمانہ سے تول کرلینا۔ الکیل (باب ضرب) غلہ ناپنا، تولنا، کیل بغیر (12:65) اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ۔ مکیال المطر بارش مانپنے کا آلہ۔ علی الناس (جو ان کا حق لوگوں کے ذمہ ہے) بجائے من الناس (لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں) کے بجائے علی الناس (لوگوں پر) فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ علی الناس کہنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا جو حق ہوتا ہے اس کو وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–36

لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

کم تولنا اور دھوکہ فریب کرنا۔ (ف 1) معتبر سند سے نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب نبی ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کاشیوہ اختیار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة التطفیف 2: اس سورة کا موضوع یہ ہے کہ کاروبار اور معاملات میں اعتماد وصداقت کی روح کو پیدا کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مذہب کا تعلق صرف عبادات سے نہیں اور عبادت کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ مجاہدہ و ریاضت سے نفس کو پاک کیا جائے ۔ بلکہ مذہب نام ہے عقائد سے لے کر معاملات تک اصلاح کا ۔ اور عبادت تعبیر ہے ۔ معاملہ کی پاکیزگی سے ۔ اور ریاضت وزہد کہتے ہیں قلب کو حرص وآز کے جذبات سے پاک کرنے کو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک مسلمان کا تخیل صرف یہی نہیں ہے کہ وہ توحید وسنت کا قائل ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے ۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لین دین ۔ بیع وشر اور معاملات باہمی میں بھی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب وہ لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا کرلیتے ہیں 2 ؎ ( یستوفون ) جمع مذکرغائب مضارع استیفاء مصدر ۔ پورا پورا لیتے ہیں ۔ ( اکتالوا) انہوں نے ناپا ۔ انہوں نے پیمانہ سے ناپ کرلیا ۔ اکتیال سے جس کے معنی پیمانہ سے ناپ کرلینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ جب (مطففین) کے لینے کے وقت ہوتا ہے تو پورا پورا ماپ کر یا تو تول کرلیتے ہیں اور اس بات کا بہت خیال رکھتے ہیں کہ دینے والاہم کو کم نہ دے جائے بلکہ اپنی طرف سے پورا پورا لینے کے بہانے بہت دفعہ زیادہ لے جاتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو تو کمی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس وقت ان کو مسئلے بھی بہت آتے ہیں اور اس طرح کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

Commentary According to Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ ، Surah Tatfif was revealed in Makkah. Therefore, most of the copies of the Qur'an refer to it as the Makki Surah. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Qatadah, Muqatil and Dahhak رحمۃ اللہ علیہم ، it is a Madani Surah, but only about eight verses are Makki. Imam Nasa'i (رح) transmits a narrative from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ arrived in Madinah, the people of Madinah whose most transactions were based on measurements used to cheat and short measure. For this reason, Allah revealed the Surah. It is reported…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 In the original the word mutaffifin has been used, which is derived from tatfif, a word used for an inferior and base thing in Arabic. Terminologically, tatfif is used for giving short weight and short measure fraudulently, for the person who acts thus while measuring or weighing, does not defraud another by any substantial amount, but skimps small amounts from what is due to every customer cleverly, and the poor customer dces not know of what and of how much he is being deprived by the seller.

Read the full tafseer →