وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۟ۙوَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe to those who give less [than due],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz
Defrauding · Meccan · 36 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۟ۙوَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe to those who give less [than due],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin
تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔
کم تولنے والوں کی خرابی ہے،
بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے،
بڑی ہلاکت ہے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔
ڈنڈی مارنے والوں کے لیے ہلاکت ہے
برا ہو، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کا !
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے
بڑی خرابی ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کی
ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
Woe to the stinters;
Woe to the curtailers
Woe to the curtailers
Woe to Al-Mutaffifin.
Woe unto the defrauders:
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Woe to those who give less [than due],
Woe to those who are fraudulent in (weighing and measuring),
Woe to the defrauders,
Woe Unto the scrimpers:
Woe to those that deal in fraud,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–6
ناپ تول میں کمی کے تنائج نسائی اور ابن ماجہ میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کرلیا ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ مکہ مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ) 83۔ المطففین :1) ہے۔ پس تطفیف سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الْمُطَفِّفِيْن 1 اصل لفظ مطففین استعمال کیا گیا ہے جو تطفیف سے مشتق ہے۔ عربی زبان میں طفیف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں اور تطفیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا اڑاتا رہتا ہے اور خریدار بیچارے کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ تاجر اسے کیا اور کتنا گھاٹا دے گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی کہ جب لوگوں سے (اپنا حق) ناپ کرلیں تو پورے لے لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں (گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اسکے ذکر کرنے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی ذرا رعایت نہ کی جاوے تو اور زیادہ مذموم ہے، بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے اور چونکہ اصل مقصود ومذمت ہے کم دینے کی اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجاوے…
Read the full tafseer →ان لوگوں پر لعنت جن کے لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ اور ہیں: یہ جملہ صرف خبریہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر لعنت اور پھٹکار کا مضمون بھی مضمر ہے۔ ’تطفیف‘ کے معنی ناپ تول میں کمی کرنے کے ہیں یعنی جو لوگ ناپ اور تول میں کمی کرنے والے ہیں ان کے لیے تباہی اور ان پر خدا کی مار اور پھٹکار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3۔ 1 یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →سورت کا آغاز ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں پر تنقیدی حملے سے ہوتا ہے کہ ان ڈنڈی مارنے والوں (مطففین) کے لئے تباہی اور ہلاکت ہے۔ یہاں بطور فیصلہ یہ بات بتائی جارہی ہے کہ ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہو یا یہ ان کے حق میں بددعا ہو ، مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ اللہ کی جانب سے بددعا بھی ایک فیصلہ ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
11 گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں مگر یہاں اس کے لانے سے مقصود خود اس بات پر مذمت کرنا نہیں بلکہ کم دینے کی مذمت کو مؤکد کرنا ہے۔ یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر لیتے وقت دوسروں کی بالکل رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے۔ بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے فتلک بتلک۔ لہذا پہلے شخص کا عیب زیادہ شدید ہوا اور چونکہ اصل مقصود مذمت ہے کم دینے کی، اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا جائے تاکہ خوب تصریح ہوجائے کہ ناپنے میں بھی کم ناپتے ہیں اور تولنے میں بھی کم تولتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی مذموم نہیں اس لئے وہاں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم…
Read the full tafseer →1 تطفیف کا لغوی مفہوم :۔ مُطَفِّفِیْنَ ۔ طفیف بمعنی معمولی اور حقیر چیز اور طفّف بمعنی ناپ کا پیمانہ بھرتے وقت تھوڑا سا کم بھرنا یا پیمانہ ہی تھوڑا سا چھوٹا رکھنا تاکہ غلہ لینے والے کو یہ معلوم نہ ہوسکے کہ اسے اس کا حق تھوڑا سا کم دیا جارہا ہے۔ عرب میں زیادہ تر اشیاء کو ناپ کردینے کا رواج تھا۔ تول کردینے کا کم تھا۔ تاہم تھا ضرور۔ ہمارے ہاں زیادہ تر تول کردینے کا رواج ہے۔ تول کر کم دینے کے لیے ہمارے ہاں ڈنڈی مارنے کا محاورہ عام ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ ڈنڈی مارنے سے کیا گیا ہے پھر ڈنڈی مارنا اس لحاظ سے زیادہ ابلغ ہے کہ دیتے وقت ڈنڈی مار کر چیز کم دی جاسکتی ہے اور لیتے وقت ڈنڈی مار کر چیز تھوڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ قرآن مجید، جیسا کہ بار بار گزر چکا ہے، کوئی کتاب محض الہیات یا عقائد کی نہیں، بلکہ اخلاق ودیانات کے بھی سارے شعبوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ یہاں تعلیم تجارتی اخلاق کی مل رہی ہے۔ اور قریش ایک زبردست تجارت پیشہ قوم تھے۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کمی وبیشی عرف عام یا کسی شرط معلوم و متعارف کی صورت میں جائز ہے۔ (آیت) ” علی الناس “۔ علی یہاں من کے مرادف ہے۔ آیت نے ایسے لوگوں کی بددیانتی کے ساتھ ساتھ ان کی خود غرضی کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ خریداری کے وقت تو خوب ہوشیار اور بڑے چوکس رہتے ہیں۔ ایک ایک چیز خوب ناپ جو کھ کر کے اور خوب پرکھ کر کرکے لیتے ہیں، اور بیچتے وقت اس کے برعکس ہوجاتے ہیں۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی ہے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں یعنی ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، کیا انہیں یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے یقین نہیں کہ انہیں ایک عظیم (سخت) دن میں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ قیامت کا دن ہے، جس دن لوگ اپنی قبروں سے رب العالمین یعنی مخلوق کے پروردگار کے حضور میں اس کے حکم سے اپنے حساب اور جزاء کے لئے کھڑے ہوں گے، یوم، لیوم کے محل سے بدل ہے اور اس کا ناصب مبعوثون ہے، ہرگز…
Read the full tafseer →ویل للمطففین الذین ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والوں کیلئے ویل ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) رسول اکرم کی تشریف آوری سے پہلے مدینہ والے ماپ تول میں کمی کیا کرتے تھے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے تب راستہ میں یہ سورت نازل ہوئی کہ ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے، جب لوگوں سے کوئی چیز خریدتے ہیں یا اپنا حق تول کرلیتے ہیں تو خوب پورا وزن کر کے لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ویل للمطففین :) (”التطفیف“ ماپ یا تول میں کمی کرنا۔ ماپ تول کے علاوہ لین دین کے جتنے بھی دیگر پیمانے ہیں ان میں کمی بھی ”التطفیف“ ہے۔”الطفیف“ بالکل تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔ ”صاع“ بھرا ہوا ہو، مگر پورا بھرنے سے کم ہو تو اس کی کمی کو ”طف الصاع“ کہتے ہیں۔ چونکہ ماپ تول میں کمی کرنے والا کوئی بڑا مال نہیں چراتا بلکہ تھوڑی سی چیز چراتا ہے، اس لئے اسے ”المطفف“ کہتے ہیں۔ یہ فعل کمینگی کی انتہا ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اتنی تھوڑی تھوڑی چیز کی چوری کرنے والا شخص بڑا مال اڑانے سے بھی پرہیز کرنے والا نہیں، صرف اپنی کم ہمتی یا پکڑے جانے کے خوف سے اتنی چوری پر صبر کئے بیٹھا ہے، ورنہ اس کی طبیعت کے…
Read the full tafseer →ویل للمطففین۔۔۔ تا۔۔ یخسرون۔ اس میں چار مسائل ہیں۔ آیت کا شان نزول۔ مسئلہ نمبر 1۔ امام نسائی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے جب نبی کریم مدینہ طیبہ آئے تو وہ بہت ہی براکیل کرنے والے لوگ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا، تو انہوں نے اپنے کیل کو اچھا کرلیا۔ فراء نے کہا، وہ آج تک سب سے اچھا کیل کرنے والے تھے، حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے کہا وہ پہلی سورت ہے جو رسول اللہ ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ مدینہ طیبہ پہنچے۔ یہ انہیں کے بارے میں حکم ہے جب وہ خریدتے تو راجح کیل کے ساتھ لیتے جب وہ بیچتے توکیل اور وزن میں کمی کرتے جب یہ سورت نازل ہوئی تو وہ رک گئے، وہ آج تک تمام لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے مدینہ میں ویل للمطففین نازل ہوئی۔ ناپ تول میں کمی سخت گناہ ہے 2۔ النسائی وابن ماجہ وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ناپ تول کے لحاظ سے سب سے خبیث ترین لوگ تھے پھر اللہ تعالیٰ آیت ویل للمطففین نازل فرمائی تو اس کے بعد انہوں نے اپنے پیمانوں کو درست کرلیا۔ 3۔ ابن سعد والبزار اور بیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سباع بن عرفطہ کو مدینہ پر عامل مقرر فرمایا جب آپ خیبر کی تشریف لے…
Read the full tafseer →[وَيْلٌ لِـلْمُطَفِّفِيْنَ؛تباہی ہے کمی کرنے والوں کے لیے ] طف [طَفَّا : (ض) ہاتھ یا پائوں سے کسی چیز کو اٹھانا۔] (تفعیل) تَطْفِیفًا کسی چیز میں ذرا سی کمی کرنا۔ پیمانہ کو تھوڑا سا کم بھرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1 ۔] نوٹ۔ 1: اس سورت کے انداز بیان اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہو رہی تھیں۔ بعض مفسرین نے اس کو مدنی قرار دیا ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباس ؓ کی یہ روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور تولنے کا مرض پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہاں سے سوہٴ تطفیف شروع ہو رہی ہے، یہ لفظ طفف سے باب تفعیل کا مصدر ہے اور مطففین اسی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ تطفیف کا معنی ہے گھٹانا اور کم کرنا۔ لفظ کالوا کیل سے لیا گیا ہے ماضی معروف جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ عربی میں برتن کے بنائے ہوئے پیمانہ سے بھر کردینے کو کیل کہتے ہیں اور اکتالوا لفظ کیل سے باب افتعال سے ماضی کا صیغہ ہے۔ اس آیت شریفہ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے جو لوگ دوسروں کے ہاتھ مال بیچتے ہیں تو کم ناپتے ہیں یا کم تولتے ہیں۔ تولتے وقت ڈنڈی مار دیتے ہیں اور ایک طرف کسی ترکیب سے پلڑا جھکا دیتے ہیں اور لوگوں سے مال لیتے ہیں تو پورا تلواتے ہیں اور پورا نپواتے (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” ویل للمطففین “ یہ زجر ہے۔ ” علی الناس “ کا متعلق محذوف ہے جو ” اکتالوا “ کے فاعل سے حال ہے ای مضرین علی الناس۔ یا یہ ” اکتالوا “ سے متعلق ہے۔ قال الفراء من وعلی یعتقیان فی ھذا الموضع لانہ حق علیہ فاذا قال اکتلت علیک فکانہ قال اخذت ما علیک (مدارک) ۔ ان کم تولنے والوں کے لیے ہلاکت اور ویل ہے جو لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا وصول کرلیتے ہیں، بلکہ اپنے حق سے زیادہ لے لیتے ہیں، اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو ان کے حق سے ان کو کم دیتے ہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے انہیں چاہئے کہ وہ خدا سے ڈریں جو ظلم و زیادتی کی ان کو سخت سزا دے گا۔
Read the full tafseer →وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ 1 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ ویل مبتداء وجازا الابتداء بہ لکونہ دعاء قال مکی ویل و شبہہ اذا کان غیر مضاف فالمختار الرفع یجوز النصب واذا کان مضافا او معرفا فالمختار فیہ النصب والویل کلمۃ تذکر عند وقوع البلاء یقال ویل لک وویل علیک۔ وقیل واوفی جہنم للمطففین خبرہ المطفف ماخوذ من الطفف وھو الجانب اوالشیء الیسیر یقال طف الوادی والاناء اذا قارب الامتلاء ولم یمتلی بعد۔ قالؔ الزجاج انما قیل للذی ینقص المکیال والمیزان مطفف لانہ یسرق الشیء الیسیر۔ والتطفیف البخس فی الکیل والوزن الذین الخ صفت کاشفتہ للمطففین اذا اکتالوا الا کتیال الاخذ بالکیل علی الناس قال الفراء علی ومن فی ھذا الموضع یعتقبان یقال اکتلت منک ای استوفیت منک…
Read the full tafseer →وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ (المطففین : 1) (تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے۔ ) مُطَفِّفِیْنَ کا مفہوم مُطَفِّفِیْنَ … یہ اسم فاعل ہے اور تطفیف اس سے مصدر ہے۔ طفیف عربی زبان میں چھوٹی اور حقیر چیز کو کہتے ہیں۔ تطفیف چھوٹی موٹی چیزوں میں ہیرا پھیری پر بولا جاتا ہے۔ لیکن اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ چوری چھپے کمی کوئی بڑی مقدار میں نہیں ہوتی بلکہ محض تولتے اور ناپتے ہوئے ہاتھ کی صفائی سے ہر خریدار کے حصے میں تھوڑی سے کمی کرنے پر بولا جاتا ہے۔ اردو زبان میں اسے ڈنڈی مارنا کہتے ہیں۔ یعنی تولنے والا محض ہاتھ کی صفائی سے تولی جانے والی چیز میں کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورة الانفطار اس بات پر ختم ہوئی کہ قیامت کے دن نیکوں اور بروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اس دن پورے کا پورا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا۔ قیامت کو جھٹلانے والا شخص نہ صرف اپنے رب سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ بےمروتی بھی اختیار کرتا ہے اور اسی بےمروتی کی وجہ سے لوگوں کے حقوق مارتا ہے۔ اس لیے ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کے آغاز میں ماپ تول کے ذریعے لوگوں کے حقوق مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ ” تطفیف “ کا معنٰی ہے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجائے اور اس کی حرص حد سے بڑھ جائے تو وہ کمینگی پر اتر آتا ہے۔ کسی انسان کی کمینگی اور حرص کی…
Read the full tafseer →1 : وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے) نحو : ویل مبتدأ اور للمطففین اس کی خبر ہے۔ المطففینؔ وہ لوگ جو کیل و وزن میں لوگوں کے حقوق تلف کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے متعلق وعید 1 ۔” ویل للمطففین “ یعنی وہ لوگ جو ماپ اور تول میں کمی کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کے حقوق کم دیتے ہیں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس شخص کو جو ماپ اور تول میں کمی کرے ” مطفف “ کہا گیا ہے اس لئے کہ وہ ماپ اور تول میں تھوڑی سی چیز چوری کرتا ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ لوگوں میں سب سے خبیث ترین ماپ والے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ ” ویل للمطففین “ تو ان لوگوں نے ماپ کو خوب اچھا کردیا اور سدی (رح) فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور اس میں ایک شخص تھا جس کو ابو جہینہ کہا جاتا تھا اس کے پاس دو صاح (ماپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ معتبر سند سے نسائی 1 ؎ اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کا شیوہ اختیار کیا ہے اس سورة کے نازل ہونے کے بعد اکثر لوگ تو پورا تولنے اور ناپنے لگے اور کچھ لوگ اسی حال پر رہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 483 ج 4۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(وَيْلٌ) ہلاکت ہے۔ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ( لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے اور اللہ تعالیٰ نے المطففین کی تفسیر بیان فرمائی۔ کہ (الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ ) یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورالیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) دوہرے معیار کا معاشی جرم باعث لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے دوہرے معیار کے معاشی جرم کا ذکرو بیان فرمایا گیا ہے اور لینے اور دینے کے باٹ الگ الگ رکھنے والوں کے لیے لعنت و ملامت فرمائی گئی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والے ان لوگوں کے لیے جو جب دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں "۔ " تطفیف " ماخوذ ہے " طفیف " سے جس کے معنی " شیء یسیر " یعنی معمولی چیز کے آتے ہیں۔ کیونکہ ناپ تول میں کمی کرنے والے اس طرح ڈنڈی مار کر جو کچھ کماتے ہیں وہ ہوتا بھی معمولی ہے اور ہوتا بھی گھٹیا اور بےبرکت ہے۔ پس اس طرح اس لفظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →ف 15 ۔ بیان ہوچکا ہے ویل دوزخ کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔
Read the full tafseer →(83:1) ویل للمطففین ۔ مطففین کے لئے ویل ہے۔ ویل بمعنی ہلاکت عذاب، دوزخ کی ایک وادی، عذاب کی شدت۔ ویل کے کئی معانی ہیں :۔ (1) شر اور بدی میں داخل ہونا۔ (2) درد مند کرنا۔ (3) مصیبت زدہ بانا۔ (ان معانی میں ویل مصدر ہے) افسوس، سختی، کلمہ و عید و زجر، کلمہ عذاب، عذاب ، جہنم کی ایک وادی کا نام، جہنم کے کنویں کا نام۔ جہنم کے ایک دروازہ کا نام، کلمہ حسرت و ندامت ، ویلۃ رسوائی، تباہی۔ ویل یا ویلۃ کی اضافت اگر ضمیر کی جانب ہو تو غیبت اور خطاب اور تکلم کی علامات بدلتی رہتی ہیں اور ویل پر ہمیشہ نصب رہتا ہے۔ ہاں یاء متکلم کی جانب اضافت ہو تو یاء کی وجہ سے مجبورا ویل کے لام کو کسرہ دیا جاتا ہے۔ نصب کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
کم تولنا اور دھوکہ فریب کرنا۔ (ف 1) معتبر سند سے نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب نبی ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کاشیوہ اختیار کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
[1] یعنی وہ آیتیں جن میں قیامت اور جزا و سزا کی خبر دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة التطفیف 2: اس سورة کا موضوع یہ ہے کہ کاروبار اور معاملات میں اعتماد وصداقت کی روح کو پیدا کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مذہب کا تعلق صرف عبادات سے نہیں اور عبادت کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ مجاہدہ و ریاضت سے نفس کو پاک کیا جائے ۔ بلکہ مذہب نام ہے عقائد سے لے کر معاملات تک اصلاح کا ۔ اور عبادت تعبیر ہے ۔ معاملہ کی پاکیزگی سے ۔ اور ریاضت وزہد کہتے ہیں قلب کو حرص وآز کے جذبات سے پاک کرنے کو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک مسلمان کا تخیل صرف یہی نہیں ہے کہ وہ توحید وسنت کا قائل ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے ۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لین دین ۔ بیع وشر اور معاملات باہمی میں بھی…
Read the full tafseer →(1) بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔
Read the full tafseer →ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے 1 ؎ (المطففین) کا اصل مادہ طفہے اسم فاعل مذکر مجرور تطفیف مصدر تفعیل ناپ تول میں کم دینے والے ۔ طفیف تھوڑی چیز ۔ طفافۃً قابل اعتناء چیز کے لیے بولا جاتا ہے اور یہ اس لیے کہ ایک شخص جو پیمانہ کو جھٹک کر یا ترازو میں ڈنڈی مار کر ماپتا تولتا ہے ظاہر ہے کہ وہ اس طرح منوں اور سیروں تو کم نہیں کردیتا یہی ہے کہ سو من تولے گا تو دس سیر کم کرے گا لیکن یہ تھوڑا تھوڑا کر کے زیادہ کرے گا ۔ وہ دور دور جاہلیت کہلاتا ہے جب صرف عقائد ہی نہیں بلکہ معاملات میں بھی گڑ بڑ ہوتی تھی اور اس طرح کا بگاڑ ہوچکا تھا کہ لوگ جن کا کام تولنا اور ماپنا ہوتا ہے ان کی خدمات محض اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Commentary According to Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ ، Surah Tatfif was revealed in Makkah. Therefore, most of the copies of the Qur'an refer to it as the Makki Surah. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Qatadah, Muqatil and Dahhak رحمۃ اللہ علیہم ، it is a Madani Surah, but only about eight verses are Makki. Imam Nasa'i (رح) transmits a narrative from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ arrived in Madinah, the people of Madinah whose most transactions were based on measurements used to cheat and short measure. For this reason, Allah revealed the Surah. It is reported…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 In the original the word mutaffifin has been used, which is derived from tatfif, a word used for an inferior and base thing in Arabic. Terminologically, tatfif is used for giving short weight and short measure fraudulently, for the person who acts thus while measuring or weighing, does not defraud another by any substantial amount, but skimps small amounts from what is due to every customer cleverly, and the poor customer dces not know of what and of how much he is being deprived by the seller.
Read the full tafseer →