Explained with ayahs 1–6
ناپ تول میں کمی کے تنائج
نسائی اور ابن ماجہ میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس وقت اہل مدینہ ناپ تول کے اعتبار سے بہت برے تھے۔ جب یہ آیت اتری پھر انہوں نے ناپ تول بہت درست کرلیا ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ہلال بن طلق نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ مکہ مدینے والے بہت ہی عمدہ ناپ تول رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ رکھتے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ ۙ) 83۔ المطففین :1) ہے۔ پس تطفیف سے مراد ناپ تول کی کمی ہے خواہ اس صورت میں کہ اوروں سے لیتے وقت زیادہ لے لیا اور دیتے وقت کم دیا۔ اسی لیے انہیں دھمکایا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْمُطَفِّفِيْن 2
قرآن مجید میں جگہ جگہ ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت مذمت اور صحیح ناپنے اور تولنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ سورة انعام میں فرمایا " انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو، ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کا مکلف نہیں ٹھیراتے " (آیت 152)۔ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا " جب ناپو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو " (آیت 35)۔ سورة رحمان میں تاکید کی گئی ہے " تولنے میں زیادتی نہ کرو، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور ترازو میں گھاٹا نہ دو "۔ (آیات 8۔ 9)۔ قوم شعیب پر جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا وہ یہی تھا کہ اس کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کا مرض عام طور پر پھیلا ہوا تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی کہ جب لوگوں سے (اپنا حق) ناپ کرلیں تو پورے لے لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا دیں (گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اسکے ذکر کرنے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی ذرا رعایت نہ کی جاوے تو اور زیادہ مذموم ہے، بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے اور چونکہ اصل مقصود ومذمت ہے کم دینے کی اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ان لوگوں کو ملامت جو اپنی فطرت کی شہادت سے کان بند کیے ہوئے ہیں: یہ اس طرح کے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کو سرزنش بھی کہ کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک ایسا عظیم دن آنے والا ہے جس میں لوگ اپنے رب کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھائے جائیں گے؟ یعنی ایک ایسے دن کے ظہور کا اندیشہ ہر شخص کے دل کے اندر ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کی شہادت ہر شخص کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ اگر کسی کا دل اس اندیشہ سے خالی ہے تو وہ خود اپنی فطرت کی آواز سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ دن کوئی معمولی دن نہیں ہو گا بلکہ ایک نہایت ہی عظیم دن ہو گا۔ اس دن لوگ اس لیے اٹھیں گے کہ خداوند کائنات کے سامنے پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
7۔ 1 سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن (قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
1: ان آیتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو دوسروں سے اپنا حق وصول کرنے میں تو بڑی سرگرمی دکھاتے ہیں، لیکن جب دوسروں کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ وعید صرف ناپ تول ہی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کے حقوق کو شامل ہے، اور اس طرح ڈنڈی مارنے کو عربی میں ”تطفیف“ کہتے ہیں، اسی لیے اس سورت کا نام تطفیف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
الا یظن ............................ العلمین (4:83 تا 6) ” کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ ان لوگوں کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ صرف یہ یقین کہ ہم نے ایک دن رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کے سوا اور کوئی مختار نہ ہوگا ، اس کے سوا کوئی آقا نہ ہوگا۔ اور اس دن صرف اللہ کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔ اور اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا۔ غرض صرف یہ ایک عقیدہ ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ وہ ڈنڈی مارنے کی اس گھناﺅنی حرکت سے باز آجاتے اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے نہ کھاتے اور اپنے اقتدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1 یعنی اگر انہیں خیال ہوتا کہ مرنے کے بعد ایک دن پھر اٹھنا اور اللہ کے سامنے تمام حقوق و فرائض کا حساب دینا ہے، تو ہرگز ایسی حرکت نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“
وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 یعنی دوسروں کو ان کا حق کم دینے یا خود اپنے حق سے زیادہ وصول کرنے کے جرم میں مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا نہ روز آخرت پر ایمان ہوتا ہے اور نہ اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی پر۔ اگر ان کا اس محاسبہ پر ایمان ہوتا تو کبھی ایسی بدنیتی اور مفاد پرستی کے کام نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2۔ (اور اس دن انہیں اپنی ان بےایمانیوں کا بھی جواب دینا ہوگا) تجارتی دیانت وامانت اور کاروبار میں حسن معاملت کے سیاق میں حشر اور اس کی باز پرس کی یاد دہانی انہیں اور مؤکد بنانے کے لیے ہے۔ انفرادی اور اجتماعی دونوں تجربے گواہ ہیں کہ فرد وقوم دونوں کو دیانتدار بنانے میں جرمانہ کی سزاؤں اور جیل کی دھمکیوں سے کہیں زیادہ مؤثر وکار گراندر کا تقوی اور خوب آخرت ہی ہوتا ہے، اور قرآن حکیم ایسے موقعوں پر اسی حربہ سے کام لیتا ہے۔ (آیت) ” یوم ....... العلمین۔ ل۔ سے مراد ہے کہ رب العلمین کے حکم سے اور اس کی نافذ کی ہوئی سزا وجزاء بھگتنے کے لیے۔ اے لامرہ ولجزاۂ ولحسابہ (معالم) یا یہ مراد ہو کہ رب العالمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بڑی خرابی ہے (ویل) کلمہ عذاب ہے یا جہنم میں ایک وادی ہے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو کم دیتے ہیں یعنی ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، کیا انہیں یہ استفہام تو بیخ کے لئے ہے یقین نہیں کہ انہیں ایک عظیم (سخت) دن میں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ قیامت کا دن ہے، جس دن لوگ اپنی قبروں سے رب العالمین یعنی مخلوق کے پروردگار کے حضور میں اس کے حکم سے اپنے حساب اور جزاء کے لئے کھڑے ہوں گے، یوم، لیوم کے محل سے بدل ہے اور اس کا ناصب مبعوثون ہے، ہرگز…
Read the full tafseer →الا یظن اولئک انھم مبعوثون . کیا ان کو گمان بھی نہیں کہ قیامت کے دن حساب کے لیے ان کو اٹھایئے جائیگا۔
یقین کی جگہ ظن کو ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس کو یوم آخرت میں حساب فہمی کا گمان بھی ہوگا وہ بھی ایسی حرکتیں نہیں کرے گا ‘ جو مصائب قیامت کا موجب ہوں ‘ یقین رکھنے و الا تو بدرجۂ اولیٰ ایسی حرکتوں سے باز رہے گا۔ استفہام انکاری ہے اہل تطفیف کے حال کو تعجب آفریں بتانا اور ان کو زجر کرنا بھی مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) اور جب دوسروں کو دیتے ہیں تو ماپ تول میں کمی کردیتے ہیں یا یہ کہ نماز، زکوٰۃ، روزہ دیگر عبادتوں میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے کیا ان کمی کرنے والوں کو اس چیز کا یقین نہیں کہ وہ قیامت کے دن زندہ کیے جائیں گے۔
شان نزول : وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ (الخ)
امام نسائی اور ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ماپ تول میں کمی کیا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، چناچہ اس کے بعد وہ پورا ماپ تول کر کے دینے لگے۔
Read the full tafseer →(الا یظن اولئک…یعنی اگر وہ سمجھتے کہ ہمیں ایک دن پیش ہو کر حساب دینا ہے تو کبھی ماپ تول میں کمی نہ کرتے۔
Read the full tafseer →الایظن او لئک۔۔۔ تا۔۔ العالمین۔
الایظن او لئک انھم مبعوثون۔ وہ ناپ تول میں کمی کرنے پر جس جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں ان پر تعجب اور انکار کا ذکر ہے گویا وہ سوچتے تک نہیں اور نہ ہی گمان کرتے ہیں کہ کچھ وہ کررہے ہیں اس کے بارے میں ان سے پوچھاجائے گا یہاں ظن یقینی معنی کے میں ہے یعنی کیا انہیں یقین نہیں اگر انہیں دوبارہ اٹھنے کا یقین ہوتا تو وہ کیل اور وزن میں کمی نہ کرتے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ظن تردد کے معنی میں ہے یعنی اگر وہ یقین نہیں رکھتے تو انہوں نے گمان کیوں نہ کیا یہاں تک کہ وہ تدبر کرتے اور زیادہ محتاط چیز کو اپناتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے مدینہ میں ویل للمطففین نازل ہوئی۔
ناپ تول میں کمی سخت گناہ ہے
2۔ النسائی وابن ماجہ وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ناپ تول کے لحاظ سے سب سے خبیث ترین لوگ تھے پھر اللہ تعالیٰ آیت ویل للمطففین نازل فرمائی تو اس کے بعد انہوں نے اپنے پیمانوں کو درست کرلیا۔
3۔ ابن سعد والبزار اور بیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سباع بن عرفطہ کو مدینہ پر عامل مقرر فرمایا جب آپ خیبر کی تشریف لے…
Read the full tafseer →[اَلَا يَظُنُّ اُولٰۗىِٕكَ : کیا گمان نہیں کرتے وہ لوگ ][ انهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ : کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہاں سے سوہٴ تطفیف شروع ہو رہی ہے، یہ لفظ طفف سے باب تفعیل کا مصدر ہے اور مطففین اسی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ تطفیف کا معنی ہے گھٹانا اور کم کرنا۔ لفظ کالوا کیل سے لیا گیا ہے ماضی معروف جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ عربی میں برتن کے بنائے ہوئے پیمانہ سے بھر کردینے کو کیل کہتے ہیں اور اکتالوا لفظ کیل سے باب افتعال سے ماضی کا صیغہ ہے۔
اس آیت شریفہ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے جو لوگ دوسروں کے ہاتھ مال بیچتے ہیں تو کم ناپتے ہیں یا کم تولتے ہیں۔ تولتے وقت ڈنڈی مار دیتے ہیں اور ایک طرف کسی ترکیب سے پلڑا جھکا دیتے ہیں اور لوگوں سے مال لیتے ہیں تو پورا تلواتے ہیں اور پورا نپواتے (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔
حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ٖف 3:۔ ” الا یظن “ یہ لوگ دوسروں کی حق تلفی میں اس طرح منہمک ہیں گویا اس پر انہیں کوئی مواخذہ نہیں ہوگا وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن میں جو نہایت شدید اور ہولناک ہوگا انہیں نہیں اٹھایا جائیگا اور ان سے اس ظلم و زیادی کا حساب کتاب نہیں لیا جائے گا حالانکہ اس دن تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور سب رب العالمین اور احکم الحاکمین کے سامنے پیش ہوں گے جو پورا پورا حساب کرے گا اور مظلوموں کو ظالموں سے ان کا حق دلوائے گا اور پھر ظالموں کو ظلم وعدوان کی سخت سزا بھی دے گا۔
Read the full tafseer →اَلَا يَظُنُّ اُولٰۗىِٕكَ اَنَّہُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ 4 ۙ
«أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء
«أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال
الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ ویل مبتداء وجازا الابتداء بہ لکونہ دعاء قال مکی ویل و شبہہ اذا کان غیر مضاف فالمختار الرفع یجوز النصب واذا کان مضافا او معرفا فالمختار فیہ النصب والویل کلمۃ تذکر عند وقوع البلاء یقال ویل لک وویل علیک۔ وقیل واوفی جہنم للمطففین خبرہ المطفف ماخوذ من الطفف وھو الجانب اوالشیء الیسیر یقال طف الوادی والاناء اذا قارب الامتلاء ولم یمتلی بعد۔ قالؔ الزجاج انما قیل للذی ینقص المکیال والمیزان مطفف لانہ یسرق الشیء الیسیر۔ والتطفیف البخس فی الکیل والوزن الذین الخ صفت کاشفتہ للمطففین اذا اکتالوا الا کتیال الاخذ بالکیل علی الناس قال الفراء علی ومن فی ھذا الموضع یعتقبان یقال اکتلت منک ای استوفیت منک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اَلاَ یَظُنُّ اُوْلٰٓئِکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ یَّوْمَ یَـقُوُم النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (المطففین : 4 تا 6)
(کیا یہ گمان نہیں رکھتے کہ یہ لوگ اٹھائے جانے والے ہیں۔ ایک عظیم دن کی حاضری کے لیے۔ اس دن لوگ اٹھیں گے رب العالمین کے سامنے حاضری کے لیے۔ )
اس خصلت بد کا سبب
لوگوں کی اس خصلت بد کا سبب یہ ہے کہ وہ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اٹھائے بھی جائیں گے۔ کیونکہ وہ اسی دنیا کو اصل زندگی سمجھتے ہیں اور موت کو اس زندگی کا مکمل خاتمہ جانتے ہیں، جس کے بعد کسی نئی زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ مرنے کے بعد ہر شخص مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے تو نئی زندگی کا کیا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن
ربط سورت : سورة الانفطار اس بات پر ختم ہوئی کہ قیامت کے دن نیکوں اور بروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اس دن پورے کا پورا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا۔ قیامت کو جھٹلانے والا شخص نہ صرف اپنے رب سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ بےمروتی بھی اختیار کرتا ہے اور اسی بےمروتی کی وجہ سے لوگوں کے حقوق مارتا ہے۔ اس لیے ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کے آغاز میں ماپ تول کے ذریعے لوگوں کے حقوق مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
” تطفیف “ کا معنٰی ہے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجائے اور اس کی حرص حد سے بڑھ جائے تو وہ کمینگی پر اتر آتا ہے۔ کسی انسان کی کمینگی اور حرص کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ہر ہر ذرہ کا حساب :
4، 5 : اَ لَا یَظُنُّ اُولٰٓپکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ (کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں کہ وہ ایک بڑے دن میں زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے) لِیَومٍ عَظِیْمٍ سے مراد قیامت کا دن ہے۔ الاؔ یہ حرف تنبیہ نہیں بلکہ ہمزہ استفہام کو لانا فیہ پر داخل کیا گیا ہے یہ استفہام انکار و تعجب کیلئے ہے کہ ان کی حالت بہت عجیب ہے کہ تطفیف پر جرأت مند ہیں۔ گویا ان کے دل میں کچھ بھی خطرہ نہیں۔ اور وہ ذرا اندازہ نہیں لگاتے کہ ان کو اٹھایا جائے گا اور ہر ہر ذرہ کا ان سے حساب لیا جائے گا اور اگر وہ بعث بعد الموت پر یقین رکھتے تو کیل و وزن میں ہرگز کمی نہ کرتے۔
حکایت :
ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3-4” واذا کالوھم او وزنوھم یخسرون “ یعنی ان لوگوں کے لئے ماپ کریں یا وزن کریں۔ کہا جاتا ہے ” وزنتک حقک وکلتک طعامک “ یعنی میں نے تیرے لئے وزن کیا اورت یرے لئے کیل کیا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” نصحتک ونصحت لک وشکرتک وشکر لک کتبتک وکتبت لک “ ابوعبیدہ کہتے ہیں عیسیٰ بن عمران دونوں کو دو حرف بناتے تھے وقف کرتے تھے۔ ” کالوا اور وزنوا “ پر اور ابتداء کرتے تھے ” ھم یخسرون “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں اور پسندیدہ پہلا قول ہے یعنی یہ تمام ایک کلمہ ہے اس لئے کہ انہوں نے ان دونوں کو بغیر الف کے لکھا ہے اور اگر دونوں جدا ہوتے تو لکھا جاتا ” کالوا او وزنوا “ الف کے ساتھ جیسا کہ تمام افعال ” جائو وقالوا “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ معتبر سند سے نسائی 1 ؎ اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کا شیوہ اختیار کیا ہے اس سورة کے نازل ہونے کے بعد اکثر لوگ تو پورا تولنے اور ناپنے لگے اور کچھ لوگ اسی حال پر رہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 483 ج 4۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی ور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا (اَلَا يَظُنُّ اُولٰۗىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۙلِيَوْمٍ عَظِيْمٍ ۙ يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۭ ) کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اٹھنے کا خیال نہیں جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرات پیدا کی ہے وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انہیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(2) بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو دوہرے معیار رکھنے والے ایسے لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لیے ان کو بعث بعد الموت کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر استفہام تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اس بات کا گمان نہیں کرتے کہ ان کو دوبارہ اٹھنا ہے۔ ایک بڑے ہی ہولناک دن میں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینے اور اس کا بدلہ پانے کے لیے، تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پائے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور اپنی کامل اور آخری منزل میں پورے ہوسکیں۔ سو اس ارشاد میں ایسے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کی سرزنش بھی، یعنی یہ کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 2 اور اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے۔ “ جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : طبرنی حاکم اور بیہقی میں حضرت ابن عمر ہی سے رویا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا :” لوگو ! اس روز تمہارا کیا حال ہوگا جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح جمع کرے گا جیسے ترکش میں تیر جمع کئے جاتے ہیں۔ پھر پچاس ہزار برس تک وہ تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں ؟ “ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(83:4) الا یظن اولئک انھم مبعوثون۔ جملہ مستانفہ ہے ۔ ہمزہ استفہامیہ اور لا نافیہ ہے ۔ اور یظن کے ساتھ مل کر اسے مضارع منفی بناتا ہے۔ لا یظن مضارع منفی واحد مذکر (بمعنی جمع ذکر) غائب۔ ظن (باب نصر) مصدر سے بمعنی یقین کرنا۔ گمان کرنا۔
اولئک اسم اشارہ جمع مذکر لا یظن کا فاعل ۔ اس کا مشار الیہ المطففین ہے۔ انھم میں ان حرف مشبہ بالفعل ہم اسم ان۔ مبعوثون اس کی خبر ۔ مبعوثون بعث (باب ضرب) مصدر سے اسم مفعول جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ دوبارہ، زندہ کرکے اٹھائے جانے والے۔ انھم مبعوثون مفعول ہے یظن کا۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا وہ (ڈنڈی مار۔ ناپ تول میں کمی کرنے والے) خیال (بھی) نہیں کرتے کہ وہ دوبارہ زندہ کرکے (قبروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
کم تولنا اور دھوکہ فریب کرنا۔
(ف 1) معتبر سند سے نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ میں جب نبی ﷺ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگوں کو کم تولنے اور کم ناپنے کی بہت عادت تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے جو انہوں نے کم تولنے اور کم ناپنے کاشیوہ اختیار کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
[1] یعنی وہ آیتیں جن میں قیامت اور جزا و سزا کی خبر دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة التطفیف
2: اس سورة کا موضوع یہ ہے کہ کاروبار اور معاملات میں اعتماد وصداقت کی روح کو پیدا کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مذہب کا تعلق صرف عبادات سے نہیں اور عبادت کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ مجاہدہ و ریاضت سے نفس کو پاک کیا جائے ۔ بلکہ مذہب نام ہے عقائد سے لے کر معاملات تک اصلاح کا ۔ اور عبادت تعبیر ہے ۔ معاملہ کی پاکیزگی سے ۔ اور ریاضت وزہد کہتے ہیں قلب کو حرص وآز کے جذبات سے پاک کرنے کو ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک مسلمان کا تخیل صرف یہی نہیں ہے کہ وہ توحید وسنت کا قائل ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے ۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لین دین ۔ بیع وشر اور معاملات باہمی میں بھی…
Read the full tafseer →(4) کیا ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے کہ وہ اس دن دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 2۔ گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں ہے مگر اس کے لانے سے مقصود خود اس پر مذمت کرنا نہیں ہے بلکہ کم دینے پر مذمت کی تاکید وتقویت ہے یعنی کم دینا گو فی نفسہ ذموم ہے، لیکن اس کے ساتھ اگر دوسروں کی اصلا رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے۔ اس لئے اول شخص کا عیب اشد ہے، اور چونکہ اصل مقصود کم دینے کی مذمت ہے اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا تاکہ خوب تصریح ہوجائے کہ ناپنے میں بھی کم دیتے ہیں، تولنے میں بھی کم دیتے ہیں اور چونکہ پورا لینا فی نفسہ مدار ذم نہیں ہے اس لئے وہاں ناپ اور تول دونوں کا ذکر نہیں کیا…
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ بھی ہونا ہے
4 ؎ ( الا) خبردار ہو جائو ۔ جان لو ۔ سن رکھو۔ قاضی بیضاوی ، زمحشری اور علمائے لغت کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ ہمزہ استفہام اور لا نافیہ سے مرکب ہے جو اپنے ما بعد کی تحقیق و ثبوت پر دلالت کرتا ہے ۔ دلیل یہ ہے کہ استفہام جب نفی پر داخل ہوتا ہے تو اس سے مزید ثبوت مقصود ہوتا ہے ۔ چناچہ آیت (الیس ذلک بقدر عل ان یحییٰ الموتی) ” یا ایسا خدا مردوں کو زندہ نہیں کرسکتا “ میں قدرت الٰہی کا ثبوت مزید مقصود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ضرر کرسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو جملہ اس کے بعد مذکور ہوگا وہ ایسے الفاظ سے شروع ہوگا جو قسم کے لے آتے ہیں ۔ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Commentary
According to Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ ، Surah Tatfif was revealed in Makkah. Therefore, most of the copies of the Qur'an refer to it as the Makki Surah. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Qatadah, Muqatil and Dahhak رحمۃ اللہ علیہم ، it is a Madani Surah, but only about eight verses are Makki. Imam Nasa'i (رح) transmits a narrative from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ arrived in Madinah, the people of Madinah whose most transactions were based on measurements used to cheat and short measure. For this reason, Allah revealed the Surah. It is reported…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2 At several places in the Qur'an giving of short measure and weight has been condemned and measuring fully and weighing rightly has been stressed. In Surah AI-An'am, it has been enjoined: "You should use a full measure and a just balance. We charge one only with that much responsibility that one can bear." (v. 152) . In Surah Bani Isra'il it has been said: "Give full measure when you measure and weigh with even scales." (v. 35) . In Surah Ar-Rehman it has been stressed: Do not upset the balance: weigh with equity and do not give short weight." (vv. 8-9) . The people of the Prophet Shu`aib…
Read the full tafseer →