Al-Anfaal 8:75

Al-Anfaal · from ayah 75

8:75

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ مِنْكُمْ ؕ— وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۟۠وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَهَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا مَعَكُمۡ فَاُولٰۤئِكَ مِنۡكُمۡ‌ؕ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who believed after [the initial emigration] and emigrated and fought with you - they are of you. But those of [blood] relationship are more entitled [to inheritance] in the decree of Allah. Indeed, Allah is Knowing of all things.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 10 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:75

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے آ گئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ اس کے بعد ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیاده نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جنہوں نے بعد میں ایمان قبول کیا، اور ہجرت کی، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا تو وہ بھی تم میں شامل ہیں۔ اور (ان میں سے) جو لوگ (پرانے مہاجرین کے) رشتہ دار ہیں، وہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے (کی میراث کے دوسروں سے) زیادہ حق دار ہیں۔ یقینا اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو بعد کو ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں اور رشتہ والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے راہِ حق میں (قربانی دیتے ہوئے) گھر بار چھوڑ دیئے اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو وہ لوگ (بھی) تم ہی میں سے ہیں، اور رشتہ دار اللہ کی کتاب میں (صلہ رحمی اور وراثت کے لحاظ سے) ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو وہ تم ہی سے ہیں، اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ (ہجرت نبوی کے) بعد ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ بھی تم میں شامل ہیں۔ مگر اللہ کے نوشتہ میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ یقینا ہر چیز کو خوب جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو ایمان لائیں اس کے بعد اور ہجرت کریں اور تمہارے ساتھ جہاد میں شریک ہوں، یہ بھی تمہی میں سے ہیں اور رحمی رشتے والے کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں بیشک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اس کے بعد، اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا، تمہارے ساتھ شامل ہو کر تو ایسے لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں، اور رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں اللہ کے حکم کے مطابق، بیشک اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ایمان لائے بعد میں اور ہجرت (بھی) کی اور جہاد بھی تم لوگوں کے ساتھ مل کر کیا سو یہ لوگ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ اور (ان میں کے) قرابت دار ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حقدار ہیں۔ کتاب اللہ کی نوشتہ میں بیشک اللہ ہر شے کا علم رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو (اے مسلمانو !) وہ تم میں سے ہی ہیں اور رحمی رشتے دار اللہ کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں یقیناً اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں اور رشتہ دار اللہ کے حکم کی رو سے وراثت میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And those who believed afterwards and migrated and strove along with you: they belong to you. But those related by blood are nearer to one another according to the Book of Allah. Allah has knowledge of everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who believed later on and emigrated and carried out Jihad alongwith you, then, they are joined with you. As for the womb-relatives, they are closer to one another according to the Book of Allah. Surely, Allah is aware of every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who believed later on and emigrated and carried out Jihad alongwith you, then, they are joined with you. As for the womb-relatives, they are closer to one another according to the Book of Allah. Surely, Allah is aware of every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who believed afterwards, and emigrated and strove hard along with you, they are of you. But kindred by blood are nearer to one another (regarding inheritance) in the decree ordained by Allah. Verily, Allah is the All-Knower of everything.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who afterwards believed and left their homes and strove along with you, they are of you; and those who are akin are nearer one to another in the ordinance of Allah. Lo! Allah is Knower of all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who believed after [the initial emigration] and emigrated and fought with you - they are of you. But those of [blood] relationship are more entitled [to inheritance] in the decree of Allah. Indeed, Allah is Knowing of all things.

— Saheeh International

Those who accepted the faith later, left their homes and strove with you for the cause of God are also your people. They relatives are nearer to each other according to the Book of God. God has knowledge of all things.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who believed afterwards and fled and struggled hard along with you, they are of you; and the possessors of relationships are nearer to each other in the ordinance of Allah; surely Allah knows all things.

— Muhammad Habib Shakir

And those who believed after wards and emigrated and strave hard along with you: these also are of you; and the kindred by blood are nearer unto one anot her in Allah's decree; verily Allah is of everything the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who accept Faith subsequently, and adopt exile, and fight for the Faith in your company,- they are of you. But kindred by blood have prior rights against each other in the Book of Allah. Verily Allah is well-acquainted with all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–75

مہاجر اور انصار میں وحدت مومنوں کا دنیوی حکم ذکر فرما کر اب آخرت کا حال بیان فرما رہا ہے ان کے ایمان کی سچائی ظاہر کر رہا ہے جیسے کہ سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے انہیں بخشش ملے گی ان کے گناہ معاف ہوں گے انہیں عزت کی پاک روزی ملے گی جو برکت والی ہمیشگی والی طیب و طاہر ہوگی قسم قسم کی لذیذ عمدہ اور نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ ان کی اتباع کرنے والے ایمان و عمل صالح میں ان کا ساتھ دینے والے آخرت میں بھی درجوں میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 73–75

سورة الْاَنْفَال 52 اس فقرے کا تعلق اگر قریب ترین فقرے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح کفار ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم اہل ایمان اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا۔ اور اگر اس کا تعلق ان تمام ہدایات سے مانا جائے جو آیت 72 سے یہاں تک دی گئی ہیں تو اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے ولی نہ بنیں، اور اگر ہجرت کر کے دارالاسلام میں نہ آنے والے اور دارالکفر میں مقیم رہنے والے مسلمانوں کو اہل دارالاسلام اپنی سیاسی ولایت سے خارج نہ سمجھیں، اور اگر باہر کے مظلوم مسلمانوں کے مدد مانگنے پر ان کی مدد نہ کی جائے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں مہاجرین کے مختلف طبقات کا حکم بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ ان میں بعض لوگ مہاجرین اولین ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ سے پہلے ہجرت کی اور بعض دوسرے درجہ کے مہاجر ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی اور اس کی وجہ سے ان کے اخروی درجات میں فرق ہوگا مگر احکام دنیا میں ان کا حکم بھی وہی ہے جو مہاجرین اولین کا ہے وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ اسی لئے مہاجرین کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا (آیت) فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ۔ یعنی یہ دوسرے درجہ کے مہاجرین بھی تمہارے ہی زمرہ میں شامل ہیں اس لئے وراثت کے احکام میں بھی ان کا حکم عام مہاجرین کی طرح ہے۔ یہ سورة انفال کی بالکل آخری آیت ہے اس کے آخر میں قانون میراث…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ دارالکفر کے مسلمانوں کو ترغیب، دار الاسلام کے مسلمانوں کے تنبیہ : یہ دارالکفر کے مسلمانوں کو ہجرت کی ترغیب و تشویق بھی ہے کہ تمہارے لیے بھی اسلامی معزارہ کا یہ دروازہ کھلا ہوا ہے اس کی طرف سبقت کرو اور اس میں اپنا مقام حاصل کرو اور دار الاسلام کے مسلمانوں کو تاکید بھی کہ بعد میں ایمان لانے والوں اور ہجرت کرنے والوں کے لیے بھی اپنے دلوں کے دروازے کھلے رکھو وہ بھی تمہارے ہی بھائی بند اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

75۔ 1 یہ ایک چوتھے گروہ کا ذکر ہے جو فضیلت میں پہلے دو گر و ہوں کے بعد اور تیسرے گروہ سے (جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی) پہلے ہے۔ 75۔ 2 اخوت یا حلف کی بنیاد پر وراثت میں جو حصہ دار بنتے تھے، اس آیت سے اس کو منسوخ کردیا گیا اب وارث صرف وہی ہونگے جو نسبی اور سسرالی رشتوں میں منسلک ہونگے۔ اللہ کے حکم کی مراد یہ ہے کہ لوح محفوظ میں اصل حکم یہی تھا۔ لیکن اخوت کی بنیاد پر عارضی طور پر ایک دوسرے کا وارث بنادیا گیا تھا، جو اب ضرورت ختم ہونے پر غیر ضروری ہوگیا اور اصل حکم نافذ کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

55: یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ مسلمان بھی بالآخر ہجرت کر آئے تھے جنہوں نے شروع میں ہجرت نہیں کی تھی، اس آیت نے ان کے بارے میں دو حکم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ اب انہوں نے چونکہ وہ کسر پوری کردی ہے جس کی وجہ سے ان کا درجہ مہاجرین اور انصار سے کم تھا، اس لئے اب وہ بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں، اور دوسرا حکم یہ کہ اب تک وہ اپنے ان رشتہ داروں کے وراث نہیں ہوتے تھے جو ہجرت کرچکے تھے اب چونکہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے ہیں، اس لئے اب ان کے وارث ہونے کی اصل رکاوٹ دور ہوگئی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ انصاری صحابہ کو ان مہاجرین کا جو وارث بنایا گیا تھا اب وہ حکم منسوخ ہوگیا، کیونکہ وہ ایک عارضی حکم تھا جو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کا درجہ بلند ہے ، لیکن بعد میں آنے والے لوگ بھی انہی کے ساتھ اور ان کے حکم میں شامل ہیں اور یہ بعد میں آنے والے بھی ولایت اور اسلامی تحریکی معاشرے کی ممبری کے مستحق ہیں۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ ہجرت کا یہ نظام اس وقت تک قائم رہا جب تک مکہ فتح نہ ہوچکا۔ فتح مکہ کے بعد عرب کی سرزمین اسلامی قیادت کے زیر نگیں آگئی۔ اور لوگ سب کے سب اسلامی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی مہاجرین میں جتنے بعد کو شامل ہوتے جائیں وہ سب باعتبار احکام " مہاجرین اولین " کی برادری میں منسلک ہیں ہجرت کے تقدم و تاخر کی وجہ سے صلح و جنگ یا توریث وغیرہ کے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہاں اگر قدیم مہاجرین کا کوئی رشتہ دار پیچھے مسلمان ہو یا بعد میں ہجرت کر کے آیا تو وہ اس قدیم مہاجر کی میراث کا زیادہ حق دار ہے اگرچہ رفاقت قدیم اوروں سے ہے۔ 5 وہی جانتا ہے کہ کس کا کس قدر حق ہونا چاہیے لہذا اس کے احکام سراسر علم و حکمت پر مبنی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْم بَعْدُ وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓءِکَ مِنْکُمْ ط۔ وہ تمہاری جماعت ‘ اسی امت اور حزب اللہ کا حصہ ہیں۔ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ ط یعنی شریعت کے قوانین میں خون کے رشتے مقدم رکھے گئے ہیں۔ مثلاً وراثت کا قانون خون کے رشتوں کو بنیاد بنا کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اسی طرح شریعت کے تمام قواعد و ضوابط میں رحمی رشتوں کی اپنی ایک ترجیحی حیثیت ہے۔ خونی رشتوں کی ان قانونی ترجیحات کو بھائی چارے اور ولایت کے تعلقات کے ساتھ گڈ مڈ نہ کیا جائے۔ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 یعنی ان بعد والوں میں اسلام لانے، ہجرت کرنے اور جہاد میں شامل ہونے والوں کے قانونی حقوق بالکل وہی ہوں گے جو (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ 100۔ ) 9 ۔ التوبہ :100) کے ہیں۔ کیونکہ اب یہ سب ایک برادری میں منسلک ہوچکے ہیں۔ تقدیم و تاخیر کی وجہ سے ان کے فرائض و حقوق میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ معاہدات میں وہ برابر کے شریک ہوں گے۔ صلح و جنگ اور وراثت وغیرہ کے احکام میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ 78 مواخات کی بنا پر احکام وراثت کا منسوخ ہونا :۔ اس جملہ کی رو سے نیز سورة نساء کی آیت نمبر 33 کی رو سے وراثت کے اصل حقدار قریبی رشتہ دار ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

115 ۔ (بہ اعتبار احکام شرعی کے) مہاجرین سابقین اور مہاجرین مابعد میں بہ اعتبار فضل و مرتبہ جو کچھ بھی فرق کہو، بہ اعتبار احکام شرعی سب برابر ہیں۔ 116 ۔ یعنی مہاجرین مابعد میں جو لوگ آپس میں یا ان مہاجرین سابق کے قرابت دار ہوں وہی حقدار میراث کے ہیں نہ کہ غیر قرابت دار خواہ فضل و مرتبہ میں یہ غیر قربت دار ہی بڑھے ہوئے ہوں۔ (آیت) ” واولوا الارحام “۔ اس قرابت کا تعلق آپس سے ہے یا مہاجرین سابق سے ہے۔ (آیت) ” فی کتب اللہ “۔ یعنی حکم شرعی میں۔ اے فی حکمہ وقسمتہ (کشاف) اے فی حکمہ اوفی اللوح المحفوظ (روح) یہ حکم فتح مکہ کے بعد سے باقی نہیں رہا۔ اب میت کا وارث مسلمان عزیز ہی ہوگا خواہ وہ کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

چوتھی آیت والذین .... ھاجروا الخ مہاجرین کے مختلف طبقات کا حکم بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ ان میں بعض لوگ مہاجرین اولین ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی وجہ سے ان کے اخروی درجات میں فرق ہوگا مگر احکام دنیا میں ان کا حکم بھی وہی ہے جو مہاجرین اولین کا ہے وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ واولوا ...... ببعض یہ سورة انفال کی آخری آیت ہے اس میں قانون میراث کا ایک جامع ضابطہ بیان فرمایا گیا ہے جس کے ذریعہ اسی عارضی حکم کو منسوخ کردیا گیا جو اوائل ہجرت میں مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کے ذریعہ ایک دوسرے کا وارث بننے کے متعلق جاری ہوا تھا۔ ختم شد

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین امنوا من بعد وھاجوا وجاھدوا معکم فاولئک منکمط اور جو لوگ (صلح حدیبیہ کے) بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو وہ لوگ تم میں سے ہی ہیں۔ یہ مہاجرین اوّلین اور انصار کو خطاب ہے کہ دوسری ہجرت کرنے والے مجاہدین بھی تم ہی میں سے ہیں ‘ ان کا شمار بھی تم میں سے ہے ‘ وہ بھی تمہاری جنس میں سے ہیں۔ تم آپس میں دوست ہو اور ایک دوسرے کی میراث کا وارث ہے۔ واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ ان اللہ بکل شیء علیم۔ اور (مسلمانوں میں) جو لوگ قرابتدار ہیں (وہ میراث اور صلۃ الرحم کے استحقاق میں قرابت نسب نہ رکھنے والوں کے مقابلہ میں) باہم زیادہ قرب رکھتے ہیں ‘ اللہ کے فیصلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(75) اور جو لوگ مہاجرین اولین کے بعد ایمان لائے اور ہجرت بھی کی اور تمہارے ساتھ دشمن سے جہاد بھی کرتے رہے تو یہ لوگ ظاہر و باطن کے اعتبار سے ستم میں سے ہی شمار ہوں گے۔ اور جو لوگ ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں تو وہ حسب ترتیب ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حق دار ہیں، اس آیت سے پہلی آیت منسوخ ہوگئی اور اللہ تعالیٰ میراثوں کی تقسیم اور تمہاری درستگی وغیرہ کی باتوں اور مشرکین کی عہد شکنی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واولوا الارحام بعضھم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ آدمی کسی کے ساتھ یہ معاہدہ کرلیتا تھا کہ میرا وارث ہوگا اور میں تیرا وارث ہوں گا اس پر یہ آیت نازل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ : اس آیت میں مسلمانوں کے چوتھے گروہ کا ذکر ہے جنھوں نے صلح حدیبیہ کے بعد یا بدر کے بعد، جب اسلام ایک طاقت بن گیا، ایمان لا کر ہجرت کی، یہ لوگ بھی مہاجرین اولین اور انصار کے ساتھی شمار ہوں گے، اگرچہ سبقت کی وجہ سے پہلوں کا درجہ ان سے مقدم ہے، فرمایا : (وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ) [ الواقعۃ : 10 ] ”اور جو پہل کرنے والے ہیں، وہی آگے بڑھنے والے ہیں۔“ مگر بخاری (6168) اور مسلم (2640) کی حدیث (اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ) (قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت اور دوستی رہی ہے) کی رو سے ان کا شمار انھی میں ہوگا۔ [ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ] وَاُولُوا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 72–75

مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ ان الذین امنوسورت کا اختتام موالاۃ کے ذکر ساتھ کیا تاکہ ہر فریق اپنے اس دوست اور ولی کو جان لے جس وہ مدد طلب کرسکتا ہے۔ ہجرت اور جہاد کا لغوی اور اصطلاحی معنی و مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ والذین او واونصروایہ اس پر معطوف ہے۔ اور مراد وہ انصار ہیں جو ان سے پہلے ایمان کے ساتھ اپنے گھروں میں اقامت گزیں تھے اور حضور نبی کریم ﷺ اور مہاجرین ان سے آملے۔ اولئک یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے۔ بعضھم یہ دوسرا مبتدا ہے۔ اولیاء بعض یہ اس کی خبر ہے اور پھر سب مل کر ان کی خبر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اولیاء بعض، فی المیراث (یعنی وہ میراث میں ایک دو سے کے ولی ہیں) پس وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات کے دن لوگوں کو چار مراتب اور کنیات پر چھوڑا مومن مہاجر انصار امام ابن ابی حاتم نے ضحاک سے اسی طرح روایت کیا (دیہاتی مومن جس نے ہجرت نہیں کی اگر نبی کریم ﷺ نے اس سے مدد طلب کی تو اس نے آپ کی مدد کی اور اگر آپ نے ان کو چھوڑ دی تو وہ آپ کے لئے اجازت ہے اور اگر نبی کریم ﷺ نے مدد طلب فرمائی تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ کی مدد کریں اور اس کو فرمایا (آیت) ” وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر “ اور جو عمامہ درجہ احسان کے ساتھ اتباع کرنے والوں کا ہے۔ انصار و مہاجر میں مواخات : 2:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مِنْۢ بَعْدُ [ اس کے بعد ] وَهَاجَرُوْا [ اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جہاد کیا ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ (ملکر) ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] مِنْكُمْ ۭ [ تم میں سے ہیں ] وَاُولُوا الْاَرْحَامِ [ اور رشتوں والے ] [ بَعْضُهُمْ : ان کے بعض ] اَوْلٰى [ زیادہ قریب ہیں ] بِبَعْضٍ [ بعض سے ] فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی کتاب میں ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہرچیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 75 میں وضاحت ہے کہ اسلامی بھائی چارے کی بنا پر میراث قائم نہ ہوگی ۔ میراث کے معاملہ میں رشتہ داری کا تعلق ہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اولاً تو یہ فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْ بَعْدُ وَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓءِکَ مِنْکُمْ ) اور جو لوگ بعد کے زمانہ میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا سو یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں اور تم ہی میں شمار ہیں۔ یعنی تم کو اولیت کی فضیلت حاصل ہے اور ان کو گو یہ فضیلت حاصل نہیں لیکن جب ایمان کے تقاضے پورے کر دئیے تو تم ہی میں شمار ہیں۔ ایمان کی فضیلت سب کو حاصل ہے۔ البتہ مراتب میں تفاوت ہے اور احکام میراث میں تو سب برابر ہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق نسبی رشتوں سے ہے افضل اور غیر افضل ہونے سے نہیں ہے۔ ثانیاً یوں فرمایا : (وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–75

مراتب اہل اسلام و فضائل مہاجرین عظام و انصار کرام وبیان احکام باعتبار ہجرت واسلام قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا وھاجروا۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بکل شیئ علیم (ربط) گزشتہ رکوعات میں جہاد اور صلح کے احکام بیان کیے اور گزشتہ آیات میں قیدیوں کو تسلی دی اب ان آیات میں مہاجرین اور انصار کے فضائل اور مسلمانوں کے باعتبار ہجرت وعدم ہجرت مراتب اور احکام بیان کرتے ہیں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کافروں سے مقابلہ اور مقاتلہ کی قدرت ہو تو جہاد فرض ہے اور اور اگر عاجز ہو تو ہجرت فرض ہے۔ گزشتہ رکوعات میں جہاد کے احکام مذکور تھے اب جہاد کے بعد ان آیات میں ہجرت کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہجرت اور جہاد دونوں توام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

75: اور جو لوگ ہجرت اولیٰ کے بعد مسلمان ہوئے اور پھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں مہاجرین اولین اور انصار سے جا ملے وہ بھی صلح وجنگ کے احکام میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔ ان کے تاخر سے ان احکام میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اگرچہ شرف و فضیلت میں مہاجرین اولین اور انصار سابقین ان سے ممتاز ہیں۔ “ والمراد ان المراد بھم الذین ھاجروا بعد الھجرة الاولی ”(روح ج 10 ص 39) ۔ 76: جو مسلمان دار الحرب میں رہ گئے اور پہلے ہجرت نہ کرسکے، ان کے اور ان کے رشتہ دار مہاجرین کے درمیان اختلاف دارین کی وجہ سے وراثت کا سلسلہ منقطع تھا لیکن جب وہ ہجرت کر کے ان سے جا ملے تو وہ صلح و جنگ کے احکام کے علاوہ وراثت میں بھی ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 74–75

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ِ ایمان مہاجرین اور مجاہدین کی تعریف کی اور احکام بھی نازل فرمائے کہ جو لوگ ایمان سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے سوائے اس کے کہ اگر کسی کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا ہو تو اس قوم کے خلاف مسلمانوں کی مدد نہیں کی جائے گی۔ اگر اہل ایمان اپنے مسلمان بھائیوں کی جائز مدد نہیں کریں گے تو زمین میں فتنہ و فساد ہی برپا ہوگا۔ کافر لوگ بھی آپس میں دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اہل اسلام کو بھی چاہیے کہ وہ آپس میں دوستانہ قائم رکھیں اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اب اس سورة کی آخری آیتوں میں اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ۝ 0 ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۝ 75 ۧ رحم ( المراۃ) الرَّحِمُ : رَحِمُ المرأة، وامرأة رَحُومٌ تشتکي رحمها . ومنه استعیر الرَّحِمُ للقرابة، لکونهم خارجین من رحم واحدة ( ر ح م ) الرحم ۔ عورت کا رحم ۔ اور رحوم اس عورت کو کہتے ہیں جسے خرابی رحم کی بیماری ہو اور استعارہ کے طور پر رحم کا لفظ قرابت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ تمام اقرباء ایک ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اس میں رحم و رحم دولغت ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–75

ترکیب : الذین مع صلہ اسم ان والذین اس پر معطوف اولئک مبتداء بعضہم خبر جملہ خبر ان والذین مبتداء مالکم الخ خبر۔ ان استنصروکم شرط فعلیکم جواب الا ای ان لا تفعلوہ الضمیر یعود الی النصر وقیل الی الولاء شرط تکن جواب فتنۃ و فساد کبیر اسم ہیں کان کے والذین مبتداء اولئک الخ جملہ خبر حقا کی ترکیب بیان ہوچکی۔ والذین مبتداء متضمن بمعنی شرط فاولئک جواب یا خبر۔ تفسیر : جبکہ بدر کے قیدیوں کو بشرط اطاعت عوض دینے کا وعدہ کیا اور ان کو دلاسہ دیا تو ان آیات میں انصار و مہاجرین کو اجر آخرت کا دلاسہ دیتا ہے یا یوں کہو کہ جب ان قیدیوں کو عہد لے کر چھوڑا اور ان میں سے بہت نے بدر کے موقع پر آسمانی مدد اور اسلام کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْم بَعْدُ وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓئِکَ مِنْکُمْط وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ ع ( الانفال : 75 ) (اور جو ایمان لائیں اس کے بعد اور ہجرت کریں اور تمہارے ساتھ جہاد میں شریک ہوں تو وہ بھی تم ہی میں سے ہیں اور رحمی رشتے والے اللہ کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، بیشک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ) دارالکفر کے مسلمانوں کو ترغیب اور دارالاسلام کے مسلمانوں کو تنبیہہ ایک نوزائیدہ امت جو امت مسلمہ کے نام سے وجود میں آئی ہے اور جس کی تعمیر ایسی بنیادوں پر اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں مہاجرین اور انصار کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا گیا تھا اب اس حکم کو منسوخ کرکے صرف رشتہ دار ایمانداروں کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ اس فرمان میں دو حکم دئیے گئے ہیں۔ یہاں ان مسلمانوں کو بھی ملت اسلامیہ کا حصہ قرار دیا گیا ہے جو پہلی مرتبہ مدینہ کی طرف ہجرت نہ کرسکے لیکن بعدازاں وہ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ ان کے بارے میں حکم دیا ہے کہ وہ جہاد اور ہجرت کرنے کی بناء پر تمہارے ساتھی اور ملت اسلامیہ کے رکن ہیں۔ تم ان کے ساتھ قلبی دوستی، اور مواخات قائم رکھو مگر تم ہجرت اور مواخات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اب وہی مسلمان وراثت میں حق دار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سابقین کے بعد والوں کا حکم : آیت 75: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْم بَعْدُ (اور جو لوگ بعد کے زمانہ میں ایمان لائے) سابقین بالہجرۃ کے ساتھ لاحق ہونے والے مراد ہیں۔ وَ ھَاجَرُوْا وَجَاھَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓپکَ مِنْکُمْ (اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا پس یہ لوگ تمہارے ہی شمار میں ہیں) ان کو انہیں سے بطور فضل اور برائے ترغیب قرار دیا۔ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ (اور جو لوگ رشتہ دار ہیں ایک دوسرے کے) قرابت والے وراثت میں زیادہ حقدار ہیں۔ یہ آیت توارث بالہجرت والنصرۃ کی ناسخ ہے۔ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی کتاب میں وہ زیادہ حقدار ہیں) نمبر 1۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 75” والذین امنوا من بعد وھاجروا وجھدوا معکم فاولئک منکم “ یعنی تمہارے ساتھ ہیں۔ مراد یہ ہے تم ان میں سے ہو اور وہ تم میں سے ہیں۔” و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض “ یہ ہجرت کی وجہ سے وراثت کو منسوخ کرنا اور میراث ذوی الارحام کو دینا ” فی کتب اللہ “ یعنی اللہ کے حکم میں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں کتاب اللہ سے قرآن مجید مراد ہے۔ یعنی وہ تقسیم جو سورة نساء میں بیان ہوئی وہ مراد ہے۔” ان اللہ بکل شیء علیم “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–75

74۔ 75۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار اور ہجرت نہ کرنے والے مسلمان ان سب کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ ہجرت کر کے اور اپنا اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ میں چل آئے اور جو لوگ ان مہاجرین کے ہر طرح مددگار بنے بیشک وشبہ وہ کامل مومن ہیں ان کا عقبے کا انجام بیان کیا کہ ان کے واسطے آخرت میں بخشش ہے کیونکہ ان لوگوں نے اپنی جان اور مال سے کسی طرح دریغ نہ کیا ہر غنیمت ان کے واسطے حلال ہے اور آخرت میں جو نعمتیں ان کو ملیں گی وہ بےمشقت ہوں گی پھر اللہ پاک نے ان لوگوں کو بھی جو بعد میں ہجرت کر کے آئے انہیں مہاجرین اور انصار کے حکم میں داخل کیا کہ یہ لوگ پہلے اگرچہ مہاجرین کے ساتھ نہیں آئے مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–75

آیات (74) گزشتہ آیات میں مہاجرین و انصار کے رشتۂ موالات کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کی مدح اور ثواب کا ذکر ہے۔ چناچہ فرمایا : (والدین امنو اوھاجروا فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی “ یعنی مہاجرین و انصار (اولیک ھمہ المومنون حقا) یعنی وہی بچے مومن ہیں کیونکہ انہوں نے ہجرت، نصرت دین ‘ ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق ہے۔ (لھمہ مغفرۃ) ” ان کے لئے مغفرت۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

خونی رشتے اور وراثت قول باری ہے (و اولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ، مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں) اس آیت کے ذریعے ہجرت، حلف اور موالات کی بنا پر توارث کے ایجاب کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اس میں عصبات اور غیر غصبات کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ اس میں ایسے ذوی الارحام کی میراث کے اثبات کی حجت اور دلیل موجود ہے جن کے لئے آیت میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ عصبات کے ذیل میں آت ہیں۔ ہم نے سورة نساء میں اس کا ذکر کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا مسلک یہ ہے کہ ذوی الارحام مولیٰ عتاقہ سے بڑھ کر میراث کے حقدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ظاہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

156 بعد میں ایمان لانے والوں کے لیے بھی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اس کے بعد۔ یعنی صلح حدیبیہ کے بعد یا پہلی ہجرت کے بعد۔ یا اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد یا معرکہ بدر کے بعد۔ مختلف احتمال و اَقوال ہیں۔ اور یہ سب ہی صحیح اور درست ہیں اور من بعد کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ (محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے ان کا بھی بڑا مرتبہ ومقام ہے جیسا کہ اس کے بعد بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ سو جب وہ ایمان لے آئے اگرچہ وہ ایمان بعد ہی میں لائے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ ایمان کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 72–75

مہاجرین وانصار کے فضائل تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایات کا مجموعہ ہے یہ آیات اس لیے بےحد اہم اور غور کے قابل ہیں کیونکہ ان میں مسلمانوں کو ایک اہم دفعہ دستوری قانون کی بتائی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے تو انصار، یعنی مدینہ کے مقامی لوگ اور مہاجر، یعنی مکہ سے آنے والے یا کہیں سے بھی آنے والے مسلمان ان لوگوں کو بھائی بھائی بنانے کا حکم دیا گیا ان کی تعریف کی گئی اور ان کے ایمان کی گواہی دی گئی۔ کیونکہ جو لوگ اسلام کی خاطر اپنے عزیز و اقارب، مال و دولت اور گھربار چھوڑ کر وطن سے نکل آئے وہ بھی تعریف کے قابل ہیں اللہ کے ہاں مقبول ہیں اور وہ بھی قابل تعریف ہیں جنہوں نے خوش دلی سے ان کو اپنے پاس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 70–75

آیات 70 تا 75 اسرار و معارف رب جلیل نے ان قیدیوں کو فراموش نہیں کردیا ۔ بلکہ انہیں بھی تسلی دی اور فرمایا اے حبیب ان قیدیوں سے کہیئے دل برداشتہ نہ ہوں کہ شکست اور قید کی ذلت کے بعد اب مال دے کر جان چھڑائی بلکہ ان سے کہیے توبہ وا ہے اگر خلوص دل سے آج بھی ایمان لے آؤ تو اللہ کی تمہیں دنیا میں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی عطافرمائیں گے ۔ جو جنگ اور فدیہ میں تم کھو چکے ہو اور تمہاری ساری خطائیں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی حالت کی ہے ۔ اگر قلب میں خیربھلائی یعنی نور ایمان اور کی رحمت آجائے تو یہ سب کچھ آج بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ہاں اگر جھوٹ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی جنگ بدر کے بعد اس وقت جب اسلام ایک طاقت بن گیا یا صلح حدیبیہ کے ہجرت کی۔ بہر حال اس سے ہجرت اولی ٰکے بعد کے مہاجرین ؓ مراد ہیں جن کا ذکر والذین اتبعو ھم باحسان ( تو بہ : 100) میں مذکور ہے وھذاھوالا صح۔ ( روح) آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جو مومن تھے یہ ان کی چوتھی قسم ہے۔ اول مہاجرین ؓ اولین دوم انصار ؓ ، سوم وہ مسلمان جو دارالکفر میں رہے اور انہوں نے نے ہجرت نہیں کی چہارم جنہوں نے ہجرت اولی کے بعد ہجرت کرلی اور پھر جہاد میں مسلمانوں کے برابر شریک رہے، ( از کبیر)12 یعنی مہاجرین اور لین اور انصار کے ساتھی شمار ہوں گے، دنیا یا میں آخرت میں جیسا کہ متفق علیہ بلکہ متواتر حدیث میں ہے۔ المرمع من…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:75) اولو الارحام۔ اہل قرابت رشتہ دار۔ ارحام جمع رحم کی بے ۔ شکمی رشتہ دار وہ رشتے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے ساتھ متعلق ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 72–75

آیات : 72 تا 75 لغات القرآن۔ جاھدوا۔ انہوں نے جہاد کیا۔ اوو۔ ٹھکانا دیا۔ سہارا دیا۔ ولایۃ۔ ساتھ۔ رفاقت۔ استنصروا۔ وہ مدد مانگیں۔ علیکم۔ تم پر (لازم ) ہے۔ النصر۔ مدد کرنا۔ میثاق ۔ عہدہ و معاہدہ ۔ الا تفعلوہ۔ اگر تم نے ایسے نہ کیا۔ فساد۔ تباہی۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ اولو الارحام۔ رحم والے۔ رشتہ دار۔ اولیٰ ۔ زیادہ قریب۔ تشریح : مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام ؓ نے ایمان و اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں وہ ایسی ایثار و قربانی کی مثالیں ہے جن کی مثال تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ابتداء میں تمام تر قربانیوں کے باوجود اگر کسی نے ہجرت نہیں کی تو صاف صاف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–75

مہاجرین وانصار کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہجرت کرکے اور اپنا اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ میں چلے آئے اور جو لوگ ان مہاجرین کے ہر طرح مددگار بنے بیشک وشبہ وہ کامل مومن ہیں۔ ان کا عقبیٰ کا انجام بیان کیا کہ کیا ان کے واسطے آخرت میں بخشش ہے اور دنیا میں بہبودی ہے۔ اور غنیمت ان کے واسطے حلال ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی جو بعد میں ہجرت کرکے آئے انہیں مہاجرین وانصار کے حکم میں داخل کیا، پھر فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ ہر شے کا جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[29] یعنی وراثت اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر نہیں بلکہ رشتہ داری کی بنیاد پر تقسیم ہوگی۔ یہ اس لئے فرمایا گیا کہ ہجرت کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو مواخاۃ کرائی تھی اس نے مسلمانوں میں ایسا ولولہ پیدا کردیا تھا کہ لوگ دینی بھائیوں کو خون کے رشتہ داروں سے زیادہ اپنا سمجھنے لگے تھے۔ اس لئے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہ دینی بھائی ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے۔ تشریح غزوہ بدر 17۔ رمضان المبارک کو بدر ( بدر مدینے سے تقریباً 80 میل دور مکہ کی طرف واقع ہے۔ ) کے مقام پر فریقین کا مقابلہ ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کی تعداد تین سو سے کسی قدر زیادہ تھی۔ یہ تعداد مختلف روایتوں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) (آیت) ” واولوالارحام بعضھم اولی ببعض “۔ سے مقصود یہ ہے کہ ہجرت اور اسلام کے تعلقات میں باہمی تناصر و تعاون ضروری ہے ، مگر میراث قرابت والوں کا حصہ ہے ، اس میں مہاجرین شریک نہیں ہو سکتے ۔ بات یہ تھی کہ انصار نے مہاجرین کو جب بھائی کہا تو اپنے مال سے ان کا حصہ بھی مقرر کیا اس سے قرابت والوں کی حق تلفی ہوئی اس لئے یہ آیت نازل ہوئی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں محض اسلام کی وجہ سے کس درجہ خلوص تھا کوئی قوم اور کوئی مذہب اس طرح کی عظیم الشان اخوت و برادری کی مثال نہیں پیش کرسکتا ۔ ان لوگوں کا مطمح نظر محض اللہ کے لئے جینا اور اللہ کے لئے مرنا تھا ، اس لئے وہ مال و دولت کو ایک بھائی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

75 اور جو لوگ ہجرت ادلیٰ کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور انہوں نے تمہارے ساتھ مل کر جہاد بھی کیا تو یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں اور کتاب اللہ کے حکم کی رو سے رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے کی وراثت کے زیادہ حق دار ہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ یعنی جو لوگ ہجرت نبویہ ﷺ اور ہجرتِ ادلیٰ کے بعد مسلمان ہوئے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد بھی کیا تو یہ لوگ اگرچہ مہاجرین اولین کے مرتبہ سے کم مرتبہ ہوں اور درجات میں تفاوت ہو لیکن وہ بھی تم ہی میں سے ہیں ان کی تاخیر سے تعلقات میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا وراثت ورفاقت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی کام تو سب کیے مگر بعد میں۔ 3۔ اس لیے ہر وقت کی مصلحت کے مناسب حکم مقرر فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دارالکفر کے مسلمانوں کو دارال ہجرت کی طرف آنے کی ترغیب : 99: اس آیت میں دارالکفر کے مسلمانوں کو ہجرت کا شوق دلایا گیا ہے کہ تمہارے لئے بھی اسلامی حکومت کے دروازے کھلے ہیں اس کی طرف سبقت کرو اور اسی میں اپنا مقام حاصل کرو اور اپنے بھائیوں سے مل بیٹھو اور دارالسلام کے مسلمانوں کو بھی ہدایت دی کہ دیکھو جن لوگوں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی اب اگر وہ ہجرت کر کے تم سے مل جائیں تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو آسائش و آرام آپ کو مل چکا ہے اگر آج بھی اس سے مستفید ہونا چاہیں تو ان کے لئے تمہارے دلوں میں ویسی محبت ہونا چاہئے جیسی محبت کے وہ مستحق ہیں۔ قرابت دار اللہ کے حکم میں ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Described in the fourth verse (75) is the injunction concerning different categories of Muhajirin (مُھَاجِرین ، emigrants). It says: Though, some of them are the very first among Muhajirin - those who migrated earlier than the Peace Treaty of Hudaibiyah. Then, there is a second category of Muhajirin - those who migrated after the Peace Treaty of Hudaibiyah and, because of this, there will be difference in the ranks they are to have in the Hereafter, but regarding injunctions of this mortal world, they too shall be covered by the injunction governing the first category of Muhajirin in that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

53. The purpose of the verse is to make it clear that the basis of inheritance is blood relationship and marriage rather than the mere bond of Islamic brotherhood. What occasioned this statement was the misunderstanding which had arisen after migration to Madina, when the Prophet (peace be on him) established fraternal relations between the Ansar and the Muhajirun and made pairs of them declaring that they were 'brothers' of each other. (See Ibn Hisham, vol. 1, pp. 504-6 - Ed.)

Read the full tafseer →