Ayahs 8:1–4(آیت 1)
(الانفال) سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے امت کو عطا کی ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا، تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چناچہ انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
(یسئلونک عن الانفال) ” وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں “ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انہیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجیے ! (الانفال للہ و الرسول) ” غنیمتیں اللہ اور رسول کے لئے ہیں “ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں، بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کردیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ (فاتقوا اللہ) ” پس اللہ سے ڈور “ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ (واصلحوا ذات بینکم) ” اور صلح کرو آپس میں “ یعنی تم آپس کے بغض، قطعی تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہوجاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے (واطیعوا اللہ ورسولہ ان کنتم مؤمنین) ” اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو “ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں :
(1) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔
(2) نقاص ایمان
تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (انما المومنون) ” مومن تو صرف وہ ہیں “ الف لام استغراق کے لئے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے (الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم) ” کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا، تو ڈر جائیں دل ان کے “ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے، کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
(واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایماناً ) ” اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ کردیتی ہیں ان کو ایمان میں “ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے، نیز ان کے لئے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاد دہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کرچکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈرپیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان پڑھتا ہے۔
(وعلی ربھم) ” اور اپنے رب پر ‘ یعنی اپنے رب وحدہ لاشریک پر (یتوکلون) ” وہ بھروسہ کرتے ہیں “ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے تو کل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پاسکتے ہیں۔
(الذین یقیمون الصلوۃ) ” جو نماز پڑھتے ہیں۔ “ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً حضور قلب جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں (ومما رزقنھم ینفقون) ” اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں “ یعنی وہ نفقات واجبہ مثلاً زکوۃ، کفارہ، بیویوں، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ مثلاً بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں۔ (اولئک) یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں (ھم المؤمنون حقاً ) ” وہی حقیقی مومن ہیں “ کیونکہ انہوں نے اسلام اور ایمان، اعمال اور باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قولب کو مقدم کر کھا ہے، کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان پڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے، نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشو و نما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولین حاصل ہوتا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لھم درجت عندربھم) ” اور ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں۔ “ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ (ومغفرۃ) اور ان کے گناہوں کی بخشش (ورزق کریم) ” اور عزت کی روزی “ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لئے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہوجائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انہیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
Ayahs 8:5–8آیت 5
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انہیں اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہوجاتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لئے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لئے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔
جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے جھگڑنا شروع کردیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورتحال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے، لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہوجائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات، مگر اکثر الہ ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انہوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انہوں نے جہاد کے لئے سرتسلیم خم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑاقافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہ ﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لئے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چناچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انہوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لئے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں، یعنی قافلہ یا فوج میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا، نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لئے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفر یاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لئے آئے تھے۔
(ویرید اللہ ان یحق الحق بکلمتہ) ” اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے “ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے (ویقطع دابر الکفرین) ” اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی “ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا (لیحق الحق) ” تاکہ حق کو ثابت کر دے۔ “ حق کی صحت اور صدقات کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے (ویبطل الباطل) ” اور باطل کو باطل کر دے۔ “ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے (ولو کرہ المجرمون) ” خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو “ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں۔
Ayahs 8:9–15آیت 9
یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ کو یقینی اور قریب کردیا، تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لئے پکار اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ (فاستجاب لکم) ” پس اس نے تمہاری پکار کا جواب دیا “ اور متعدد امور کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا (بالف من المئکۃ مردفین) ” ہزار فرشتے لگاتار آنے والے “ یعنی وہ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔ (وما جعلہ اللہ) ” اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے “ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو (الا بشری) ” مگر خوش خبری “ تاکہ اس سے تمہارے دل خوشی حاصل کریں۔ (ولتطمئن بہ قلوبکم) ” اور تمہارے دل مطمئن ہوں “ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور ساز و سامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ (ان اللہ عزیز) ” بیشک اللہ غلاب ہے۔ “ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کرسکتے) (حکیم) ” حکمت والا ہے۔ “ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لئے مناسب ہے۔
اس کی فتح و نصرت اور تمہاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگم نازل کردی (اذ یغشیکم) ” جو تمہیں ڈھانپ رہی تھی۔ “ یعنی تمہارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ (امنۃ) تمہارے لئے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی، تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمہیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمہاری تطہیر کرے۔ (ولیربط علی قلوبکم) ” اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے۔ “ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ (ویثبت بہ الاقدام) ” اور جما دے اس کے ذریعے سے تمہاری قدم “ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ (انی معکم ) ” کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ “ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمہارے ساتھ ہے۔ (فثبتوا الذین امنوا) ” پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے “ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کردو اور انہیں جہاد کی ترغیب دو (سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب) ” میں ڈال دوں گا کافروں کے دلوں میں دہشت “ جو کافروں کے مقابلے میں تمہارا سب سیب ڑا لشکر ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ (فاضربوا فوق الاعناق) ’ دپس تم ان کی گردنیں م اور “ (واضربوا منھم کل بنان) ” اور کاٹو ان کی پور پور “ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ۔۔۔۔۔۔ یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوہ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے۔۔۔ یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں۔
(ذلک بانھم شآقوا اللہ و رسولہ) ” یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ “ یعنی یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور انکے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ (آیت) ” اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا، تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے “ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔ (ذلکم) یہ عذاب مذکور (فذوقوہ) ” پس چکھو تم اس کو “ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو ! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو (وان للکفرین عذاب النار) ” اور کافروں کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ “
اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، وہ حق ہے۔
(1) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کردیا۔
(2) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : کے اوقات میں، خاص طور پر دن کے دونوں کناروں میں، نہایت اخلاص، خشوع و خضوع، عاجزی، تذلل کے ساتھ، پرسکون حالت میں، قلب و لسان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، نہایت ادب ووقار سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور بہت توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کی جائے۔ غفلت کو دور کر کے حضور قلب کے ساتھ اللہ تاعلیٰ سے دعا کی جائے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل اور مشغول دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔۔۔ اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔۔۔ تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے نہ تمہاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری عبادت کے ذریعے سے تمہیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کرسکو۔ بنا بریں فرمایا : (ان الذین عند ربک) ” وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے (لایستکبرون عن عبادتہ) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے “ بلکہ اس کی عبادت کے لئے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں (ویسبحونہ) ” اور اس کی تسبیح بیان کترے ہیں۔ “ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ (ولہ) ” اور اس کے لئے “ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لئے (یسجدون) ” سجدے کرت ہیں۔ “ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ علم والے بادشاہ حقیقی کی ” سجدے کرتے ہیں۔ “ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ، علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہیے۔
” تمہارے لئے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انہیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے۔ “
(3) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطاین وسوسے دور ہوں۔
(4) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لئے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کردیتا ہے۔
Ayah 8:16آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ (آیت) ” اے ایمان والو ! جب بھڑوتم کافروں سے میدان جنگ میں “ یعنی جب لڑائی کے لئے صف بندی ہوچکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں، (فلا تولوھم الادبار) ” تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو “ بلکہ ان سے لڑنے کے لئے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔
(آیت) اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن، مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں، تو پھر اوہ “ یعنی وہ لوٹا (بغضب من اللہ وماوبہ) ” اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا “ (جھنم وبئس المصیر) ” جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے “ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وار دہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لئے سخت وعید سنائی ہے۔
اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لئے ایسا کیا ہے، یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے، یا دشمن کو ھو کہ دینے کے لئے یہ چال چلی ہے، یا دیگر جنگی مقاصد کے لئے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔
اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے، مثلاً مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا، تو اس بارے میں صحابہ کرام سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لئے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمع رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہوجائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو، کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھئے آیت نمبر 66) کی تفسیر
Ayahs 8:17–19آیت 17
جب غزوہ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا، تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فلم تقتلوھم) ” تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔ “ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا (ولکن اللہ قتلھم) ” لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا “ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ (وما رمیت اذا رمیت ولکن اللہ رمی) ” اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی، لیکن اللہ نے پھینکی۔ “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہ ﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لئے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپ ﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ’ جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی، بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی۔ “
(ولیبلی المؤمنین منہ بلآء حسناً ) ” اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا ‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انہیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انہیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ (ان اللہ سمیع علیم) ” بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ “ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر پر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔ (ذلکم) یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (وان اللہ موھن کید الکفرین) ” اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔ “ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انہی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔ (ان تستفتحوا) ” اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ “ اے مشرکو ! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعددی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ (فقد جآء کم الفتح) ” تو تحقیق آچکا تمہارے پاس فیصلہ “ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمہارے لئے سزا اور متقین کے لئے عبرت ہے (وان تنتھوا) ” اور اگر تم باز آجاؤ۔ “ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ (فتھ خیرلکم) ” تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے “ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمہیں ملہت دیتا ہے اور تمہیں فوراً سزا نہیں دیتا۔
(ولن تغنی عنکم فئتکم شیاً ولوکثرت) ” اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہاری کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ “ یعنی وہ انصار و اعوان تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھرو سے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں۔ (وان اللہ مع المومنین) ” اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے “ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمال ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کو تاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
Ayahs 8:20–21آیت 20
چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ فرمایا : (یا یھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ) ” اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی “ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نوازہی سے اجتناب کر کے (ولا تولوا عنہ) ” اور اس سے روگردانی نہ کرو۔ “ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ (وانتم تسمعون) ” اور تم سنتے ہو۔ “ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمہارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔
(ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا وھم لایسمعون) ” اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں “ یعنی مجرد خای خولی دعوؤں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں۔
Ayahs 8:22–24آیت 22
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان شر الداوآب عند اللہ) ” سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں “ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو (الصم) حق سننے سے بہرے ہیں۔ (البکم) حق بولنے سے گونگے ہیں (الذین لایعقولن) وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انہیں نقصان دیتی ہے۔
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعملا کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کردیا اور انہوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔
وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معافی کی سماعت۔۔۔ رہی سماعت حجت تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کردیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائین ہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔
(ولو اسمعھم) ” اور اگر اب وہ انا کو سنا دے “ یعنی اگر یہ فرض کرلیا جائے (لتولوا) ” تو وہ ضرور پھرجائیں “ یعنی اللہ کی اطاعت سے (وھم معرضون) ” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔ “ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔
Ayah 8:25آیت 25
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اسکی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لئے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انہوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ (اذا دعا کم لما یحییکم) ” جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری زندگی ہے “ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے، کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دار و مدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا : (واعلموآ ان اللہ یحول بین المرء و قلبہ) ” اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان “ اس لئے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمہارے پاس آئے، تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمہارے درمیان حائل ہ جائے گا اور تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔ (آیت) فرمایا : (وانہ الیہ تحشرون) ” اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔ “ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کئے جاؤں گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔
(واتقوا فتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خآصۃ) ” اور اس فتن سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا “ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں، سب کے لئے عام ہوتی ہے۔ اس لئے برئایوں سے منع کر کے، اہل شرکا قلع قمع کر کے وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کرسکیں، اس فتنہ سے بچا جائے (واعلموآ ان اللہ شدید العقاب) ” اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ “ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کردیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔
Ayahs 8:26–27آیت 26
(1) المسند، 112/3 ۔۔۔ (2) صحیح مسلم، القدر، ح : 265
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چناچہ فرمایا : (واذکروآ اذ انتم قلیل مستضعفون فی الارض) ” اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں “ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے (تخافون ان یتخطفکم الناس) ” تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لیں “ (فآولکم و ایدکم بنصرہ ورزقکم من الطیبت) ” تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک شہر عطا کیا جہاں تم نے پناہ لی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں تمہارے دشمنوں کو شکست دی، تم نے ان سے مال غنیمت حاصل کیا جس کے ذریعے سے تم مال دار ہوگئے۔ (لعلکم تشکرون) ” تاکہ تم شکر کرو۔ “ یعنی شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور کامل احسان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اور اس کے ساتھ شرک سے اجتناب کر کے اس کا شکر ادا کرو۔
Ayah 8:28آیت 28
اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامرونواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لای، کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔
پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بےپایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہوجاتا ہے۔
چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لئے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں۔ (وان اللہ عندہ اجر عظیم) ” اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ “ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہوجانے والی لذت پر ترجیح نہ دو ۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔
Ayah 8:29آیت 29
بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کا دار وم دار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا ومافیہا سے کہیں بہتر ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’ دفرقان ‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدیات ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔
(2، 3) برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے میں داخل ہیں۔ (السینات) برائیوں کے مٹانے کی تفسیر گناہ صغیرہ ہے اور (الذنوب) گناہوں و بخش دینے کی تفسیر کبیرہ گناہوں کو مٹا دینے سے کی جاتی ہے۔
(4) وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنی خواہش نفس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، سا کے لئے بہت بڑا اجر اور بےپایاں ثواب ہے۔ (واللہ ذوالفضل العظیم) ” اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ “
Ayahs 8:30–33آیت 30
یعنی اے رسول ﷺ ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، (واذیمکر بک الذین کفروا) ” جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں “ جب مشرکین مکہ نے ” دارلندوہ “ میں مشورہ کیا کہ رسول ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟
(1) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کردیا جائے۔
(2) آپ کو قتل کردیا جائے تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔۔ ہمیشہ کے لئے آپ سے نجات حاصل کرلیں۔
(3) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کردیا جائے۔
ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لعنہ اللہ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی لے کر اسے تیز تلوار دی جائے اور تمام لوگ بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کردیں تاکہ تمام قبائل آپ کے قتل کے ذمہ دار ٹھہریں۔ اس صورت میں بنو ہاشم آپ کی دیت قبول کرنے پر راضی ہوجائیں گے اور قصا صلینے کے لئے قریش کے تمام قبائل کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ چناچہ وہ رات کے وقت گھات لگا کر بیٹھے گئے تاکہ جب آپ اپنے بستر سے بیددار ہوں تو آپ پر حملہ کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ آپ باہر تشریف لائے، آپ نے ان سب کے سروں میں خاک ڈالی اور وہاں سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کردیا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو کسی آنے والے نے کہا ” وائے تمہاری ناکامی ! محمد ﷺ تو نکل گیا اور تمہارے سروں میں خاک بھی ڈال گیا ہے۔ “ انہوں نے اپنے سروں سے مٹی جھاڑی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بچا لیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پس آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی اور یوں آپ کو غلبہ حاصل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ تمام قریش مکہ نے آپ کی اطاعت قبول کرلی اور آپ کے ماتحت آگئے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے چھپ کر جان کے خوف سے وہاں سے نکلے تھے۔ پس پاک ہے وہ ہستی جو اپنے بندوں کو لطف و کرم سے نوازتی ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔
Ayah 8:34آیت 34
رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا تتلی علیھم ایتنا) ” اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں “ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں (قالوا قد سمعنا لو نشآء لقلنا مثل ھذا ان ھذا الا اساطیر الاولین) ” تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں “ یہ انہوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتے ہیں بلا لیں۔ مگر وہ ایسا نہ کرسکے جس سے ان کی بےبسی ظاہر ہوگئی۔
قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے ‘ آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لئے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کرسکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
(واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک) ” اور جب انہوں نے ہا، اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے “ جس کی طرف محمد مصطفیٰ ﷺ دعوت دیتے ہیں۔ (فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئیتنا بعذاب الیم) ” تو پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔ “ انہوں نے اپنے باطل پر ڈٹتے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انہوں نے۔۔۔ جبکہ وہ اپنے باطل پر ملع سازی کر رہے تھے جو ان کے لئے یقین اور بصیرت کی موجب تھی۔۔۔ اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ” اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہنمائی کیجیے “ تو یہ چیز ان کے لئے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعددی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کرسکتی تھی۔ پس جب سے انہوں نے کہا (اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک) ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بےوقوف، بےعقل، جاہل اور ظالم ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا، کیونکہ ان کے اندر رسول ﷺ موجود ہیں اس لئے فرمایا : (وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم) ” اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا “ پس رسول اللہ ﷺ کا وجود مبارک ان کے لئے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔
اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لئے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون) ” اور اللہ ان کو عذبا نہیں دے گا جب کہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے۔ “ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہوچکے تھے۔ پھر فرمایا : (وما لھم الا یعذبھم اللہ) ” اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے “ یعنی کو نسی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کرسکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انہوں نے نبی مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنا بریں فرمایا : (وما کانوآ) ” اور نہیں تھے وہ “ یعنی مشرکین (اولیآء ہ) ” اس کا اختیار رکھنے والے “ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی (اولیاء اللہ) نیز یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔
(ان اولیآوہ الا المتقون ) ” اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں “ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا سمتحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا، (ولکن اکثرھم لایعلمون) ” لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ “ اسی لئے وہ اپنے لئے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں۔
Ayahs 8:35–36آیت 35
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لئے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خلاص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنہوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، (الا مکآء وتصدیۃ) ” سیٹیوں اور تایوں کے سوا کچھ بھی نہیں “ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطہ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات کا کیا حال ہوگا ؟
پس ان میں کوئی سی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے آپ کو ان مومنوں سے زیادہ بیت اللہ کا مستحق سمجھتے ہیں، جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں، جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ موجود ہیں جو ان کے رب نے بیان فرمائے ہیں۔
یقیناً اللہ تعالیٰ نے الہ ایمان کو اپنے محترم گھر کا وارث بنایا اور سارے ان کو قدرت عطا کی۔۔۔ اور پھر ان کو اس پر قدرے عطا کرنے کے بعد فرمایا : (آیت) ” اے مومنو ! مشرکین تو ناپک ہیں، اس لئے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔ “ اور یہاں فرمایا : (فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون) ” اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔ “
Ayahs 8:37–39آیت 37
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکرو فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لئے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انہی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ (ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبل اللہ) ” کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستی سے روکیں “ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمٰن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں۔ (فسینفقونھا) ” سوابھی اور خرچ کریں گے “ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انہیں بہت خفیف محسوس ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں، (ثم تکون علیھم حسرۃ) ” پھر آخر ہوگا وہ ان پر افسوس “ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، (ثم یغلبون) ” پھر وہ مغلوب ہوں گے “ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انہیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (والذین کفروآ الی جھنم یحشرون) ” تمام کافر کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا، تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث لوگوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص، سب کو جمع کر دے (فیرکمہ جمیعاً فیجعلہ، فی جھنہ اولئک ھم الخسرون) ” پھر ان کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے “ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا آگاہ رہنا ! یہی کھلا خسارہ ہے۔