Ayahs 8:1–10بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سورة الانفال
یہ سورة مدنی ہے سورة اعراف میں کفر وشرک اور برائی پر انجام بد اور ایمان اور نیکی پر انعامات کا جو در س چل رہا تھا ،
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
آپ سے مال غنیمت کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو فرمادیجیے کہ یہ مال اللہ کریم کا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے اس کے رسول کا ہے یعنی اس کے متعلق کسی کی رائے یامشورہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، چونکہ یہ خالص اللہ کریم کا مال ہے پہلی امتوں کو لینے کی اجازت ہی نہ تھی اور اب اجازت ملی تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فیصلہ نافذہوگا چناچہ چارمعروف طریقے زمانہ اقدس سے اس بارہ میں جاری ہوئے ۔ ایک یہ کہ اعلان کردیاجاتا کہ جو مخالف کو قتل کرے گا وہ اس کا مال بھی لے گا ایسا مال غنیمت میں جمع ہی نہ ہوتا تھا دوسرے کسی جماعت کو مہم پر روانہ کرکے اجازت دے جاتی کہ اس مہم سے جو مال حاصل ہو وہ انہی افراد کا ہوگا تو اس میں سے بیت المال کو پانچواں حصہ ملے گا باقی انہیں افرادکا ہوگا سارے لشکر پہ تقسیم نہ ہوگا ۔ یہ کہ پانچواں حصہ جو بیت المال کا ہوتا ہے اس میں سے کسی کو خاص کارکردگی پر انعام دیا جاتا اور چوتھے یہ کہ جو لوگ مجاہدین کی خدمت پر مامور ہوتے ان کے لیے سارے مال سے حصہ الگ کرلیاجاتا ورنہ تو عام قانون ارشاد فرمادیا کیا کہ پانچواں حصہ بیت المال کا اور باقی مال مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا یاد رہے یہ فیصلہ بدر میں ہوگیا تھا لہذا احد میں مال زیادہ وہ لوٹنے کے لیے مجاہدین نے جگہ نہ چھوڑی تھی اور ایساسوچنا قطعادرست نہیں اس کے بارے کہا جاچکا ہے بہرحال فرمایا غنائم میں تو آپ باذن الٰہی فیصلہ فرمائیں گے۔
حقیقی دولت
ہی تم لوگ حصول تقویٰ میں اپنی توجہ رکھو اور زیادہ سے زیادہ کیفیات قلبی حاصل کرلو جو حقیقی دولت ہے یہ مال وزرتو اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور آپس میں بہتر ین تعلقات رکھو جو ہمیشہ تقویٰ کا ثمرہوتا ہے ورنہ دنیا کا مال تو آپس میں لڑانے کا سبب بنتا ہے لہٰذایہ مومنین کا مقصد نہیں نہ اس کو حاصل کرنے کے لیے جہاد کیا بلکہ یہ زیاید اور انعام ہے اور اصل دولت اللہ کی اطاعت ہے جو اطاعت رسول سے عبارت ہے کہ واحد دلیل ذات رسول ہے جو اللہ کریم کی پسندوناپسندپہ قائم کی جاسکتی ہے لہٰذارسول اللہ ﷺ کی اطاعت پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے کرو کہ یہی اطاعت الٰہی ہے اسی تقویٰ یعنی قلبی کیفیات نصیب ہوں گی کہ تقویٰ اور اطاعت دونوں ایک دوسرے کا سبب بھی ہیں اور پھل بھی یہی ایمان کا تقاضاتو اطاعت ہے فرمایا مومن تو وہ ہوتا ہے ۔
مومن کی تعریف
کہ جب اس کے سامنے اللہ کریم کا نام آئے تو اس کا دل جلالت الٰہی سے لرزاٹھے وجلت سے مراد وہ خوف نہیں جو کسی کے نقصان پہنچانے کے اندیشے سے ہوتا ہے بلکہ یہاں وہ رعب مراد ہے جو کسی عظیم ہستی کی عظمت شان کے باعث دل پہ وار دہوتا ہے یعنی جیسے اللہ کریم کی یاد آتی ہے یا اس کا نام سننا نصیب ہوتا ہے تو اس کی عظمت کا اتحضار نصیب ہوجاتا ہے جو قلبی کیفیات میں ایک اعلیٰ کیفیت ہے اور جب ان کے سامنے کتاب اللہ کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے اگر چہ تلاوت کرتے رہنے سے شرح صدرنصیب ہوتا ہے۔
ایمان میں ترقی اور تلاوت
اور اعمال صالح کی توفیق اور آخرت پہ یقین نصیب ہوتا ہے لیکن اگر معانی اور مفہوم بھی آتا ہو تو یہ نعمت جلدی اور احسن صورت میں نصیب ہوتی ہے اور نافرمانی سے طبعانفرت پیدا ہوجاتی ہے ۔
توکل
اور تیسرے یہ کہ وہ اسباب کو چھوڑ نہیں دیتے بلکہ بھر وسہ اللہ پر کرتے ہیں تو کل سے ہاتھ پاؤں تو ڑ بیٹھ رہنا مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ طلب معاش ہو یا کوئی اہم کام ملکی اور سیاسی سطح کا پوری محنت سے اسباب وذرائع اختیار کئے جائیں مگر بھر وسہ اللہ ہو ورنہ اسباب پر بھر وسہ کرتے ہیں ۔ اور چوتھی صفت اقامت صلوۃ کہ وہ لوگ نماز کو قائم کرتے ہیں یعنی خود بھی اس کے آداب کا پورا لحاظ رکھ کر ادا کرتے ہیں اور دوسروں کو نماز کی تلقین بھی بہتر تنوین فیصلے کرتے ہیں اور پانچویں ادایہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو رزق نصیب ہوتا ہے اسے پھر اللہ ہی کے حکم کے مطابق خرچ کرتے ہیں اس سے مراد مال و دولت بھی ہے اور علم وحال بھی طاقت وقوت جسی ہے اور دقارواقتدار بھی کہ یہ سب نعمتیں اللہ کی طرف سے نصیب ہوتی ہیں اور مومن کی شان یہ ہے کہ کم ازکم اس کی عطاکردہ نعمتوں کو اس کی نافرمانی پہ خرچ نہ کرے ان اوصاف کے حاملین حقیقی مومن ہیں کتاب اللہ کے پہلے مخاطب بھی صحابہ کرا ؓ م ہیں اور مثالی مومن بھی لہٰذا بعد والوں کے لیے قیامت تک یہ اوصاف ایک آئیسنہ ہیں کہ اپنے ایمان کی حیثیت کا تعین کرتے رہیں محض کلمہ اداکرکے مومن کہ لانا تو مشکل نہیں جبکہ اعمال خود اس دعوی کو رد کر رہے ہوں بلکہ ایمان کی ایک حقیقت بھی ہے جو ان آیات میں ارشاد ہوئی ہے جیسا کہ حضرت حسن بصری سے پوچھا گیا کہ کیا آپ مومن ہیں تو فرمایا اگر تمہاری مراد اگر اللہ تعالیٰ فرشتوں کتابوں اس کے رسورلوں اور آخرت پر یقین رکھنے سے ہے تو یقینا میں مومن ہوں اور اگر مراد سورة انفال کی آیات سے ہے تو اللہ ہی بہترجاننے والے ہیں قیامت کو فیصلہ کا پتہ چل سکے گا چناچہ ان اوصاف کے بعد ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کے لیے جو ان اوصاف کے حامل ہوں اللہ کے پاس اعلیٰ درجات ہیں اور بخشش ہے اور بہترین رزق ہے ۔
درجات علیاکیفیات قلبی کا ثمرہوتے ہیں
بحرمخیط میں ہے کہ اوصاف بھی بھی تین طرح کے ہیں اول قلبی وایمان خوف خدا اور توکل وغیرہ دوسرے بدنی نماز روزہ حج وغیرہ اور تیسرے مالی جیسے اللہ کی راہ میں خرچ اور انعام بھی تین طرح کے بیان ہوئے ہیں اوصاف قلبی کے مقابل درجات عالی بدنی اعمال کے مقابلہ میں مغفرت اور خرچ کے مقابل رزق کریم انہوں نے جو خرچ کیا ہے اس بہت بہترنصیب ہوگا ۔ پھر اطاعت الٰہی میں جب فناحاصل ہوجائے یعنی ذاتی رائے ختم ہو کر صرف تعمیل ارشاد باقی رہ جائے تو ثمرات کس طرح مرتب ہوتے ہیں اس کا ظہور غزوہ بدر میں ہوچکا اسی پر آخرت کے انعامات کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
تعمیل ارشاد اور ثمرات
کما اخرجک ربک یعنی جس طرح رب کریم نے آپ کو گھر سے نکالا اور یہی حق تھا یعنی جو حکم اللہ کریم کی طرف سے آگیا وہ حق ہے اور اس کی تعمیل ضروری ورنہ بظاہریہ ایک خود کشی تھی کہ مکہ والوں سے مقابلہ کے لیے نکلاجائے کہ نہ افرادی قوت ہو نہ اسلحہ نہ راشن اور رمضان المبارک کا مہینہ بھی تو اصل میں جب آپ ﷺ کو اطلاع ہوئی کہ اہل مکہ کا تجارتی قافلہ شام سے لوٹنے والا ہے اور یہ قافلہ دراصل اجتماعی سرمایہ کاری کی کوشش تھی جس میں سب نے مل کر سرمایہ لایا تھا اور یہی منافع ان کا اصل سرمایہ تھا جس سے مسلمانوں کا اور اسلام کا مقابلہ کر رہے تھے اس کے ساتھ بھی کے سترمسلح سوار تھے جن میں چالیس قریش کے سرداروں میں سے تھے اور یہ کروڑوں روپے کا تجارتی سفر مسلمانوں کے خلاف طاقت جمع کرنے کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش تھی جسے ناکام کے لیے اور قریش کی کمرتوڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو گھر سے نکالایا مقابلہ کا حکم دیا ۔
چنانچہ آپ نے روانگی کا اعلان فرمایا تو کچھ لوگوں کے پاس سواریاں نہ تھیں یا دوسرے موافع درپیش تھے تھی مگر جب اللہ کا حکم تھا تو نکل کھڑے ہوئے جب بدر کے قریب پہنچے تو قافلے کی خبرگیری کے لیے مخبربھیجے گئے پتہ چلاصورت حال بدل چکی قافلے والے بھی فکر مند تھے چناچہ انہیں مسلمانوں کے آنے کی اطلاع ہوگئی اور وہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ نکل گئے نیز انہوں مکہ مکرمہ اطلاع کردی کہ ہمیں خطرہ ہے تو مکہ سے چنے ہوئے جنگجوشہسواروں کا ایک ہزارکا لشکر ان کی مدد کو لپکاجو برابر آگے بڑھتارہا اسی لیے جب مشورہ ہواتو بعض حضرات نے عرض کیا کہ قافلہ بھی جاچکا اور اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ ہمارے بس میں نہیں لہٰذا یہ جنگ اب ضروری نہیں اس سے بچنا ضروری ہے یعنی انہوں نے جنگ کو ناپسند کیا لکرھون سے یہی مراد ہے اور وہ اپنی اس رائے پر مصر تھے یعنی آپ ﷺ کھڑے ہوئے تھے خود ذات عالی ﷺ کو خطرہ تھا اور کی تصدیق بھی حضور اکرم ﷺ نے فرمادی کہ جب عریش بدر میں دعا کی تو فرمایا یا اللہ میں سارے کا ساراسلام تیرے راستے میں لے آیا ہوں اگر یہ لوگ یہاں کھیت رہے تو کبھی کوئی تیرانام لیوانہ ہوگا نیز حضرت عائشہ الصد ؓ یقہ کے دوپٹہ کا جھنڈابنایا کہ یہ حرمت نبوی ﷺ ہے اللہ کریم اسے کفار کے پاؤں میں پامال نہ ہونے دے گا بعض جہلانے یہاں صحابہ کرام ؓ پر اعتراض کئے ہیں جو صرف ان کی جہالت کا مظہر ہیں ان کا کوئی محبوب ہوتا اور وہ یوں دشمن کے نرغے میں آچلاہوتا تو یہ کیا مشورہ دیتے ذراسوچ کر انداذہ کریں چناچہ آپ ﷺ نے سب سے فرمایا بیٹھ جاؤاور پھر فرمایا مجھے اللہ کا حکم ہوا کہ مقابلہ کروں اب تمہاری کیا رائے ہے تو صدیق اکبر ؓ فارو اعظم ؓ نے باری باری جہاد کا اعلان فرمایا حضرت مقداد ؓ نے عرض کیا ہم وہ جواب نہ دیں گے جو نبی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب لڑیں ہم تو یہاں بیٹھیں گے آپ اگر برق الغمادتک چلیں تو ہم رکاب ہیں یہ حبشہ کا ایک مقام تھا یعنی سمندر پار تک اور الضار کی طرف سے حضرت سعدابن معاذ ؓ نے کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ آپ دریا میں گھس پڑے تو ہم بھی گھس پڑیں گے اور ایسی قربانی دیں گے کہ آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی تب آپ ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا یا اللہ نے مجھے دونوں یعنی تجارتی قافلہ یا مکہ سے آنے والے لشکر میں سے ایک پر فتح کی بشارت دی ہے اور فرمایا اللہ کی قسم میں اپنی آنکھوں سے مشرکین قتل ہونے کی جگہوں کو دیکھ رہا ہوں تو اب مشورہ کی بات ختم ہوگئی کہ جب حکم ہے تو انشاء اللہ تعمیل ہوگی چناچہ قرآن مجید میں بھی اس کو بیان کردیا گیا کہ اللہ کریم نے دو میں سے ایک جماعت پر آپ کو فتح کی بشارت دی بلکہ وعدہ فرمایا تو مسلمانوں نے یہ خیال کیا کہ قافلہ تھا مگر اس قلیل تعداد اور اسلحہ وغیرہ کے بغیر ایک تربیت یافتہ فوج اور کیل کا نٹے سے لیس لشکر کا مقابلہ بظاہر تو ممکن نہ تھا مگر اللہ کو کو کچھ اور ہی منظور تھا اللہ کریم حق کو غالب کرکے اس کی سچا یہ ثابت کرنا چاہتے تھے اور دوسرے کفارکو سزادینا بھی مقصود تھا ایسی سز کہ ان کی جڑکٹ جائے اور برسرمیدان حق و باطل کا فیصلہ اور دونوں امور کے انجام کا اظہارہوجائے خواہ کفار اس بات کو کتنا ہی ناپسند کریں اور یہی عظیم اور تاریخ عالم میں پہلا دن تھا جب ظالموں کے سامنے مظلومون کو ان کے حقوق دلانے کے لیے صف آراء کردیا گیا اور یہ عظیم ترین کام اللہ کے عظیم ترین رسول ﷺ ہی کو زیبا تھا چناچہ سرمقتل یہ فیصلہ ہوگیا کہ عظمت صرف اللہ کی حکومت اور اسی کا حکم جاری ہونا چاہیئے خواہ یہ بات ان ظالموں کو جو مدت سے مظلوموں کے خون سے ہولی کھیلنا اپنا حق سمجھے بیٹھے ہیں کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو کاش مسلمانوں کو شکاگو کے آٹھ مزوروں کسانوں غریبوں خواتین اور سب کا دن منایاجائے چناچہ جب دونوں لشکر صف آراء ہوئے تو ایک طرف اسباب ظاہر کی شوکت تھی اور دوسری طرف محض اللہ کی رضا اور مدد کا آسرا اگرچہ اللہ کریم خود وعدہ فرماچکے تھے مگر پھر بھی رسول اللہ ﷺ
دعا اور استغاثہ
نے انتہائی خشوع خضوع سے دعا فرمائی اور صحابہ آمین امین کہتے جاتے تھے لہٰذادعا اور استغاثہ کی اپنی افادیت و ضرورت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر دعا کا ادب یہ ہے کہ جو وسائل اختیار اور بس میں ہوں وہ اختیار کرکے دعا بھی کی جائے اور اللہ کی اطاعت کو اختیار کیا جائے تو دعا فورا قبول ہوتی ہے جیسے یہاں فورا قبولیت کا مثردہ سنایا گیا بلکہ فرمایا تمہاری مدد کے لیے اللہ کریم ایک ہزار فرشتہ بھیج دے گا جو ایسے ہی قطاراندر قطار یعنی فوجی زبان میں فارمثین میں چلے آئیں گے کہ اگر کفار کے لشکر میں ایک ہزارمسلح جنگجو ہیں تو اللہ کریم بھی ایک ہزار فرشتہ تمہاری طرف سے لڑنے کو ارسال کردے گا۔
حالانکہ بعض اقوام کو غرق کرنے کے لیے ایک ایک فرشتے نے زمین کا تختہ الٹ دیا یہاں محض رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خدام کی عظمت کا اظہار ہے جو ایسے اہتمام ہو رہے ہیں اور یہ قانون ارشاد ہورہا ہے
خلوص وللہیت
کہ جب کام اللہ کی اطاعت اور تعمیل ارشاد کے لیے کیا جائے اور اس میں خلوص ہو تو کوئی مشکل نہیں رہتی بلکہ اللہ کریم فرشتوں سے وہ کام کروادیتے ہیں اور انسان اجرپانے والا ہوتا ہے یہاں اگر چہ ایک ہزار کی تعداد کا تذکرہ ہے ، مگر سورة اٰل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزارکاذکر بھی ہے کہ جب یہ شورہوا کہ مشرکین کے لیے کمک آرہی ہے ، تو اللہ نے فرمایا جو بغیر فرشتوں کے محض اپنے امر سے بھی سب کچھ کرسکتا ہے کہ ہم بھی کمک روانہ کردیں گے تین ہزار اور مزید ضرورت ہو تو پانچ ہزار مقصد یہ کہ اب مقابلہ فرشتوں اور مشرکین میں ہے مسلمانوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ۔
اطمینان قلبی
اور فرشتوں کا نزول آپ لوگوں کے لیے کی بشارت کے ساتھ ساتھ اطمینان کا سبب بنانا بھی مقصود تھا کہ اطمینان قلبی کا انحصارملائ کہ سے انس اور صفات ملکی پیدا ہونے سے نصیب ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ذکر کو اطمینان قلب کا باعث قراردیا گیا کہ دوام ذکر بھی صفات ملکوتی میں سے ہے ورنہ پھر دل سے شیطان کا رابطہ ہوجاتا ہے جو سراسر بےاطمینانی اور تشویش کا باعث ہوتا ہے اور مددتو اللہ ہی کی ہے فرشتوں سے کرے قادر ہے ان کے بغیر کرے قادر ہے اس لیے کہ وہ غالب ہے اور بہت بڑی حکمت والا ہے اسے خبر ہے کہ کہاں اور کتنی مدد کی جائے ۔ اور یہ بات واضح ہوگئی کہ صحابہ کرام ؓ کو کس درجہ کا فنافی الرسول حاصل تھا کہ وہ جس کام کو بڑھے اللہ نے فرشتوں سے اس کی تکمیل کرادی معترضین کو یہاں اپنی حیثیت دیکھ کرنا چاہیئے تھی ۔ حتی کہ صحابہ کرام ؓ نے سعید عماموں میں اور گھوڑوں پہ سوار فرشتوں کو عملی طور پر لڑائی کرتے ہوئے دیکھا اس کے متعلق روایات ملتی ہیں ۔ اور نتیجہ سترچوٹی کے سردارقتل ہوئے اور سترمشرک قید کرلیے گئے اور مکہ والے ذلت و خواری اور شکست سے دوچارہوکرلوٹے تقریبا مکہ جملہ قیادت تباہ ہوگئی کچھ موت کے منہ میں چلے گئے اور باقی جو بچے قید ہوگئے ۔
Ayahs 8:11–19آیات 11 تا 19
اسرار و معارف
مزید انعامات یہ کہ مقام بدر میں مشرکین نے ایسی جگہ قبضہ کرلیا جو اونچائی پر تھی اور نسبتا مضبوط زمین تھی اور مسلمانوں کو ایسی جگہ ٹھہرناپڑاجونشیبی تھی حضرت حباب بن منذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ اگر یہ جگہ پر قبضہ کرلیا جائے چناچہ آپ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور پھر حضرت سعدبن معا ؓ ذ کے مشورہ سے ایک طرف ذرابلند ی پر آپ ﷺ کے لیے ایک چھونپڑی سی بنادی گئی جس میں صرف صدیق اکبر ؓ کو شرف حضوری حاصل تھا اور حضرت معاذ ؓ دروازہ پر بہرہ دے رہے تھے۔
یہ بدر کی پہلی شب تھی دونوں لشکروں کا دن اس طرح بسرہوارات کفاراونچی اور مضبوط زمین پر تھے اور مسلمان نشیبی زمین پر جس پر ریت بھری تھی اور پاؤں دھنس جاتے تھے کچھ لوگوں کو رات غسل کی ضرورت پیش آگئی تو اب اس قدروافرپانی بھی نہ تھا تو رب جلیل نے اپنی قدرکاملہ سے سب اہتمام فرمائے اول کہ ایک ایسی اونگھ سب پر بھیج دی جس سے اطمینان و سکون نصیب ہوا اور اس سے مراد وہ حالت ہے جو مقامات بالا سے ربط قائم ہونے پروار دہوتی ہے یہ بظاہرنیند ہوتی ہے لیکن نیند ہوتی ہے لیکن نیند نہیں ہوتی کہ آدمی کے ۔
اونگھ سے مرادحواس بیدارہوتے ہیں اور سب کچھ سمجھ رہا ہوتا ہے اسے جذب بھی کہہ دیا جاتا ہے ایسی حالت ہے جوا للہ کریم کی طرف مکمل توجہ سے نصیب ہوتی ہے ورنہ عام نیندتو کمزوری کا باعث ہے کسی فضیلت کا سبب نہین دوسری صورت یہ پیدافرمائی کہ رات بارش برسی جس سے کفار کے لشکر میں دلدل اور کیچڑبن گیا کہ وہاں مٹی ایسی تھی اور جہاں مسلمان تھے وہاں پانی کے سبب ریت ہموار ہو کر جم گئی تھی ان کا کام بھی آسان ہوگیا اور شیطانی نجاست یعنی احتلام سے پاک ہونے کا موقع نصیب ہوا۔ تیسراکرم ربطہ قلبی تھا جو سب کو نصیب ہوا۔ یہ لفظ سورة کہف میں بھی گذرا ہے اصطلاع صوفیہ میں رابطہ سے مرادوہ حالت ہے کہ دل میں ذکر الٰہی سے جو نورپیدا ہو وہ عرش عظیم تک رسائی حاصل کرلے اور جب کسی قلب کو توجہ نصیب ہوتی ہے اور اسے ذکر دوام کانورنصیب ہوتا ہے تو وہ نوراوپر ہی اوپر اٹھتا چلاتا ہے یہاں تک کہ قلب اللہ کہے تو روشنی عرش عظیم تک پہنچتی ہے یہ حال رابطہ کا کام دیتی ہے جو مضبوط ترین صورت ہے اور یہی اعلیٰ ترین صورت اصحاب بدر ؓ کو نصیب ہوئی اور یہ ایسی دولت تھی کہ اب اس کے بعد قدم اکھڑنے کا سوال ہی پیدانہ ہوتا تھا لہٰذا ارشاد فرمایا کہ یہ نعمت رابطہ تمہیں ثابت قدمی عطا کرنے کے لیے نازل فرمائی۔
اور اس کے ساتھ مزید انعام فرمایا کہ فرشتوں کو حکم دیا کہ میری تائید تمہیں نصیب ہے میں تمہارے ساتھ ہوں تم بھی مسلمانوں کے قلوب پر ایساتصرف کرو ایسے انورات القاکرو کہ وہ ثابت قدم رہیں اور میں اپنی پدرت کاملہ سے کفار کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ تم ان کی گردنیں اڑادو اور ایسی ضرب لگاؤکہ ان کے پورپور سے درد اٹھے۔ عذاب الٰہی کی یہی خصوصیت ہے کہ جسم کے کسی حصے کو چھوجائے سارابدن متاثرہوتا ہے جیسے جہنم کی آگ کہ جسم کو چھوئے گی تو دل تک اس کا اثرپہنچے گا اور یہ عذاب اور شدت ان پر بلاوجہ نہیں انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت اختیار کی ۔
رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اللہ کی مخالفت ہے اور اس کی سزابہت سخت ہے
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کا راستہ اختیار کرتا ہے اسے یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ اللہ کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اللہ کی بات انسان تک صرف رسول ہی کے وسیلہ سے پہنچتی ہے اور رسول وہ ہستی ہے جو اپنی پسند سے دین کے بارے کچھ نہیں فرماتا ہے وہ وحی ہوتی ہے لہٰذا اگر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اختیار کی تو یہ واضح طور پر اللہ ہی کی مخالفت ہے اور اللہ تعالیٰ کی محالفت عذاب الہٰی کو دعوت دینا ہے اس میں دو درجے ہیں شدید ترین درجہ انکار اور کفر ہے اور کم تریہ کہ رسومات کو سنت کے مقابل رواج دیا جائے جسے بدعت کا نام دیا گیا ہے جو جس درجے کا ارتکاب کرے گا ویسے ہی عذاب کا اس کو سامنا ہوگا اور یہ مزہ تو دنیا میں چکھ لو یعنی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت نقدسزا بھی دلواتی ہے اور پھر دائمی عذاب بھی گلے پڑیگا کہ یہ تو نقدتوقتل ذلت شکست رسوائی اور بربادی ہی اور مرنے کے بعد تمہاراکفر تمہیں آگ کے عذاب میں داخل کرنے کا باعث ہوگا۔
یہاں سے خطاب اطاعت شعاروں کو فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والوکفار سے سرمیدان مقابلہ کرنا پڑے تو کبھی پیٹھ نہ دکھاؤکہ مومن کو شکست ہوتی نہیں شہید نہیں ہوگیا تو بھی مراد پا گیا اور یا پھر فاتح ہوگا اور مراد پالے گا ہاں جنگی داؤپیچ لگانے کے لیے ادھر ادھر بھاگناجی سے دشمن کے سامنے سے بھاگنا شروع کرکے اسے کسی گھات میں لے آئے یامزید کمک حاصل کرنے کے لیے واپس پلٹنا کہ دنیا عالم اسباب ہے اور ترک سبب درست نہیں مثلا کفار کا لشکر زیادہ تعداد میں ہے اور مسلمان واپس پلٹنا کہ دنیا عالم اسباب ہے اور ترک سبب درست نہیں مثلا کفار کا لشکر زیادہ تعداد میں ہے اور مسلمان واپس جاکرمزید کمک حاصل کرسکتے ہیں تو ایسے میں حرج نہیں ورنہ اگر محض جان بچانے کو بھاگا تو اس نے غضب الٰہی کو دعوت دی اور ایسے لوگوں کاٹھکانہ تو جہنم ہے جو بہت تکلیف وہ جگہ ہے یعنی اس کا یہ عمل دعوی ایمان کی نفی کرتا ہے اور وہ اسی عذاب کا مستحق ہے جو کفار کے لیے ہے اسی لیے میدان جہاد سے بھاگنا حرام ہے۔
فنائے تام
چونکہ کمال ایمان تو حضوری اور فنائے تام کا نام ہے جس کا اعلی ترین درجہ حضور اکرم ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ کو حاصل تھا کہ میدان جہاد میں تم لوگوں نے کفار کو تھوٹاہی قتل کیا ہے وہ تو اللہ نے انہیں قتل کیا یعنی فعل باری تھا صادرتمہارے ہاتھوں سے ہوا اور یہی فنائے تام ہے کہ نہ صرف قلب بلکہ اعضاء وجوارح مرضیات باری پہ فدا ہوجائیں جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد ہے کہ میں بندے کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے پکڑتا ہوں ۔ پاؤں بن جاتا ہوں جن سے چلتا ہے وغیرہ ۔ اور یہی کمال بدرجہ اتم آپ کو حاصل تھا کہ جب آپ نے ریت پھینکی تو آپ نے نہیں پھینکی وہ تو اللہ جل شانہ نے پھینکی سبحان اللہ ذراملاخطہ ہو جب آپ نے ریت پھینکی تو آپ نے ریت نہیں پھینکی وہ تو اللہ کریم نے پھینکی یعنی یہاں بھی فعل اسی ذات کا تھا صادروست نبوت سے ہوا آپ نے پہلے خبر کردی تھی کہ اللہ نے فتح کی بشارت دی ہے بلکہ آپ نے مختلف کفار کے قتل ہونے کی جگہ کی نشاندھی فرمادی تھی اور پھر وہ لوگ انہی جگہوں پر قتل ہوئے ، اور جب کفار کا لشکر طبل جنگ بجاتا ہوا متکبر انہ انداز میں آگے بڑھا تو آپ نے تین بارمٹھی مٹھی بھر ریت پھینکی ایک قلب لشکر پر اور ایک ایک میمنہ اور میسرہ پر تو کوئی ایسا لشکر ی نہ تھا جسکے منہ پر کنکریاں نہ لگی ہوں اور آنکھوں میں ریت نہ پہنچی ہو۔ گویا تقاضائے ایمان فنائے تام ہے یہ کمال ہے اور کم تردرجہ یہ ہے کہ اللہ کے ارشادات سن کر ان پر اعتمادتو ہو اگر یہ بھی نصیب نہیں اور اعمال میں سب کچھ اپنی ہی رائے سے کرتا ہے جیسے میدان جنگ سے فرار کہ محض اپنے حیلے کو موت سے بچنے کا سبب سمجھاتویہ ایمان کے نہ ہونے کی دلیل ہے یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم آج بھی اپنا حلیہ دیکھ سکتے ہیں بہرحال فرمایا یہ احسان کہ قلب کو رابطہ سے نوازا آسمانوں سے پانی برسایا مددکوفرشتے نازل فرمائے اور پھر فنائے تام کے مرتبہ پہ فائز کیا اس لیے کہ مومنین کو حسن و خوبی سے اور انعامات سے بھی آزمایاجائے مکی زندگی کا امتحان شدائدکا تھا یہاں سے انعامات کا سلسلہ شروع ہوگیا اور یہ مخلوق پر اتمام حجت اور اظہار کے لیے ہوتا ہے ورنہ اللہ کریم تو سننے والے بھی ہیں اور بغیرآزمائے بھی سب ہوگیا اور یہ مخلوق پر اتمام حجت اور اظہارکا مقصد کفار کا غرور توڑنا اور ان کی تجاویز کو ناکام بنانا بھی تھا اب ان سے فرمادیجیے کہ اگر یہی مقابلہ معیارحق تھا تو فیصلہ ہوچکا کہ ان بدبختوں نے مکہ مکرمہ سے روانہ ہوتے وقت بیت اللہ شریف کے یردوں کو تھا م کر دعا کی تھی کہ اللہ اعلیٰ و افضل کو اور جو حق پر ہے اس کو فتح دے ان کے گمان میں یہ ان کے اوصاف تھے حالانکہ یہ اوصاف تو مومنین کو حاصل تھے تو فرمایا اب بدر کی شکست سے تم پر حق اور بھی واضح ہوگیا اب ان سے کہیے کہ اگر اب بھی کفروعناد سے بازآجائیں تو بہت بہتر ہے لیکن اگر انہوں نے وہی رویہ اپنایا تو اللہ کی طرف سے بھی اسی طرح ذلیل کیے جاتے رہیں گے اور یہ گمان چھوڑدیں کہ پھر زیادہ فوج جمع کرلیں گے ایسی کثرت بھی کوئی فائدہ نہ دے گی اس لیے کہ مومنین کو معیت باری حاصل ہے یعنی مسلمانوں کے ساتھ تو اللہ ہے تمہاری افرادی قوت یا اسباب کی کثرت خود اللہ کے مقابلے میں تو کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔
Ayahs 8:20–28آیات 20 تا 28
اسرار و معارف
معیت باری
بات جب معیت باری کی ہوئی تو یہ مشروط طور پر ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے چناچہ مومنین کو حقیقت ایمان سے آگاہ فرمایا جارہا ہے تاکہ انہیں اللہ کی معیت حاصل رہے ورنہ ایمان میں کمزوری برکات معیت میں کمی کا باعث بن جائے گی جیسا کہ فی زمانہ مشاہدہ ہے کہ مسلمان سے عمل چھوٹا تو اس کے نتیجے میں ایمان کمزور ہوا اور ایمان کی کمزوری نے برکات معیت میں کمی کردی چناچہ جہاں کہیں مسلمان ہیں وہاں طوفانوں کی زد پر ہیں اور کہیں سے خیریت کی خبر نہیں مل رہی اللہ ہمیں معاف فرمائیں تو اسی مرض کا علاج شافی ارشاد ہورہا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت اختیار کرو اور وہ یوں کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور روگروانی یہ گزنہ کرو جبکہ ارشادات نبوی سن رہے وہ اللہ کے احکام تم تک پہنچ ہے ہیں تو محض سن کر یہ کہہ دینا کہ بہت اچھی باتیں ہیں مگر ان پر عمل نہ کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے سناہی نہ ہو کہ سننا تو عمل کے لیے ہے اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونے پاؤکہ جو سننے کا دعویٰ تو رکھتے ہیں مگر نہ اعتقاد ہے ورنہ عمل تو حقیقتاوہ نہ سننے کے برابر ہے ۔
سننے کے درجے
اول یہ ہے کہ سناتو سہی مگر سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی یا نہ سمجھا دوم یہ ہے کہ سنا اور سمجھا بھی مگر مانا نہیں یعنی بطور عقیدہ اختیار نہیں کیا تیسرے یہ کہ سنا بھی سمجھا بھی مان ابھی مگر عمل نہ کرسکے اور چوتھا درجہ کامل سننے کا یہ ہے کہ سناسمجھا اعتقاد کیا اور عمل کیا یہ حقیقی سننا ہے جو کامل مومنین کا سننا ہے تیسرا درجہ خطاکار مسلمانوں کا ہے اور دوسر اور درجہ منا فقین کا کہ سن ابھی سمجھا بھی مگر یقین وایمان سے محروم رہے اور پہلا درجہ کفار کا ہے کہ محض سناتو یہ پہلے دونوں طبقے ایسے ہی ہیں جیسا کہ انہوں نے کچھ سناہی نہ ہو اب مسلمان کو تو زیب نہیں دیتا کہ وہ کفار ومنافقین کی مشابہت اختیار کرلے اگر کرے گا تو معیت حق کا جو اعزاز حاصل ہے وہ نہ رہے گا اس لیے کہ بدترین خلائق اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ عقل کو کام میں لاتے ہیں ۔ سننے کی کوشش نہ کی بہرے بنے رہے نہ حق پہ کسی سے بات کی گویا گونگے ہوں نہ کبھی فکر کیا جیسے عقل ہی نہ ہو تو ایسے لوگ عام جانوروں کی سطح پر بھی نہیں بلکہ چوپایوں میں بھی بدترین مخلوق ہیں کہ چوپایہ بھی اپنا مقصد تخلیق تو پورا کررہا ہوتا ہے صاحب روح البیان نے عجیب بات لکھی ہے کہ انسان تخلیقی طور پر تمام جانوروں سے افضل اور فرشتہ سے کم درجہ رکھتا ہے مگر اپنے عمل سے فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے لیکن اگر روگردانی کرے تو پھر بدترین جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔
رویت اشکال
یہ اثراتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اگر چہ جسمانی شکل نہیں بگڑتی اور یہ نبی کریم ﷺ بعض بدبخت اس کا شکار ہوتے رہتے ہیں مگر اجتماعی طور پر وارد نہیں ہوتا مگر روح کی شکل مسخ ہوجاتی ہے اور اگر کسی کو دل کی بصیرت نصیب ہو تو صوفیہ میں رویت اشکال کامراقبہ کرایا جاتا ہے جس میں انسانوں کے اندر کی شکلیں نظرآتی ہیں یعنی جو روح کی شکل بن چکی ہوتی ہے تو شہردرندوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان میں اگر ذرہ برابر بھی بھلائی نظر آتی یعنی حق کی طلب ہوتی تو اللہ کریم انہیں ضرورسننے کی توفیق بھی عطا فرماتے انہیں سنوا بھی دیتے ایسا سننا جو عمل کے ساتھ مزین ہوتا لیکن لذات دنیا میں کھو کر طلب حق کی ہے استعداد ضائع کرنے والوں کو اگر سننا نصیب بھی ہوگا تو ردگردانی ہی کریں گے اور اعتراضات ہی کرینگے اس لیے نہیں کہ دین کی بات میں کمی ہے بلکہ ان کی روگردانی اور اعتراضات کا سبب ان میں طلب حق کی کمی یا اس کا نہ ہونا ہے لہٰذاجہاں کوئی طالب ہوا ہے کسی کمال کی خبرپہنچے تو وہ حصول کیلئے کوشش کرتا ہے اور ذرائع اور وسائل تلاش کرنے نکلتا ہے ۔
جہاں طلب نہ ہو وہاں صراف اعتراض کرنے کی سکت ہوتی ہے
لیکن جہاں حق کی طلب ہی نہ رہے تو وہاں صرف اعتراضات کی سکت رہ جاتی ہے تو فیق عمل نہیں ہوئی اور یہ حال ہر طرح کی بھلائی سے خالی ہونے پر دلالت کرتا ہے ان آیات میں طلب حق کو ہی خیر اور بھلائی قراردیا ہے جو اس سے خالی ہے معاذ اللہ بھلائی سے محروم ہے ۔
حقیقی حیات
فرمایا اے ایمان والو اللہ کریم کی بات قبول کرو اور رسول اللہ ﷺ کی بات تمہیں ذاتی فائدے کے لیے حکم نہیں دیتا بلکہ ان کے ارشاد ات کی تعمیل میں ہی دل کو نور اور روح کو تجلیات سے سیرابی نصیب ہوتی ہے جو کامرانی کی نوید اور حیات ہے ورنہ محرومی تو موت سے بدتر ہے کہ نامراد بھی جہنم میں مرینگے تو نہیں لیکن وہ زندگی موت سے بدتر ہوگی کہ موت کو بھی ترسیں گے اور رسول اللہ تمہیں جو حکم دیتے ہیں اس پر جان لڑادو کہ اسی کی تعمیل میں حیات مضمر ہے اور یہی مقام شیخ کا ہوتا ہے کہ جب تک کوئی حکم خلاف شریعت نہ ہو اس کی تعمیل میں ہرگز سستی نہ کرے ورنہ استفادہ نہ کرسکے گا اور حقیقی شیخ اغراض ذاتیہ سے بالا تر ہوتا ہے اور تعمیل ارشاد میں ہرگز سستی نہ کرے ورنہ یادرکھو اللہ بندے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ اور رکاوٹ بن جاتا ہے یعنی تاخیرنہ کرو ورنہ اسی گستاخی پہ خفاہوکر رب جلیل تو فیق عمل چھین لیتے ہیں اور پھر شاید تعمیل ارشاد کر ہی نہ سکویا پھر علماء نے دوسرامعنی بھی کیا ہے کہ اگر تعمیل ارشاد میں پوری طرح کوشاں رہوگے تو اللہ کریم گنا ہ اور برائی کے درمیان اور تمہارے درمیان آڑبن جائیں گے یعنی گناہ سے حفاظت نصیب ہوگی کہ انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام معصوم ہوتے ہیں اور اولیاء محفوظ اور یہ دونوں معنی درست بھی ہیں ۔ اور مبارک بھی اور یہ تو یقینی بات ہے کہ آخرسب کو اسی کی بارگاہ میں اکٹھا ہونا ہے۔
ظلم سے نہ روکنے والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں
اور ایسی مصیبت سے بچنے کی پوری کوشش کرتے رہوجو صرف ان لوگوں پر نہیں آتی جو گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ یعنی ظالم خود تو گرفتار بلاہوتا ہے اور دنیا وآخرت کے عذاب کانشانہ بنتا ہے ساتھ وہ معاشرہ اور وہ قوم جو ظالم خود تو گرفتار بلاہوتا ہی ہے اور دنیا وآخرت کے عذاب کانشانہ بنتا ہے ساتھ وہ معاشرہ اور وہ قوم جو ظالموں کی برداشت کرنے لگتے ہیں اور ظالموں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے وہ بھی اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں یعنی نہ صرف اطاعت رسول پر خود کمر بستہ رہوبل کہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق امربالمعروف اور نہیعن المنکرکافریضہ بحسن و خوبی انجام ایتے رہو اور حتی الا مکان آپ ﷺ کی نافرمانی سے سمجھوتہ نہ کرلو ورنہ تم بھی انہیں مصیبتوں میں بھنس جاؤ گے جو ناذمانوں پرواردہوں گی اور اس میں ذاتی عمل ، ترریس تبلغ جہاد اپنے اپنے موقع ومحل کے مطابق سب ہی مراد ہیں یعنی اطاعت رسول کا حق یہ ہے کہ دوسرے سے نافرمانی کا صدور بھی برداشت نہ کرو ورنہ مداہنت یعنی بدکاروں سے چشم پوشی کرنے والے نیک بھی اللہ کے ہاں پسند یدہ لوگ نہیں ہوا کرتے اور یادرکھو اللہ کے عذاب بڑے سخت ہیں۔
برکات رسالت ﷺ
اور برکات اطاعت تو تمہارے سامنے ہیں کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب تم بظاہر کرنے کی سکت تھی ۔ اور حال یہ تھا کہ مخالفین کہیں اچک ہی نہ لیں پھر اسی کمال اطاعت نبوی ﷺ کے طفیل رب جلیل نے مدینہ منورہ کو اسلامی ریاست کی بنیادبناکر تمہیں ایک ٹھکانہ عطا فرمایا اور تمہیں اپنی نصرت خاصہ سے سرفراز فرما کر ایک قوت اور مضبوط طاقت بنادیا اور بھوک اور افلاس کی جگہ خوشحالی کی نعمت عطافرمائی کہ تم اس کا شکر ادا کرتے رہو۔ اور یہ یادرکھو کہ اطاعت نبوی میں عمدا کمی کرنا حقوق نبوت میں خیانت ہے اور یہ تو رب جلیل کے ساتھ خیانت ہے کہ کلمہ طیبہ کا اقرار کرکے اطاعت میں ارادۃ سستی کی جائے جبکہ کسی بھی انسان سے خیانت کرنا نہایت ہی قابل مذمت ہوتا ہے اور پھر اطاعت نبوی میں خیانت تو اپنے نفع اور فائدہ میں خیانت ہے کہ جو درجہ ثواب کاملنا تھا اور جو نعمتیں امن و سکون یا عزت وآبرو دنیا کی تھی سب متاثرہوکر ان میں کمی ہوگی الٰہی میں یہ واضح بات ہے کہ تم بھی خوب جانتے ہو۔
اور یادرکھومال ومنال ہو یا اولادیہ سب کچھ ہی آزمائش کا سبب ہے کہیں حصول اقتدارکالالچ کہیں حصول زر کا طمع اور کسی جگہ اولاد کی محبت ہی ایسے اسباب پیدا کرتی ہے کہ آدمی سے کوتاہی ہونے لگتی ہے مگر بہت بڑا اجرتو اللہ ہی کے پاس ہے اور یہ سب عارضی رشتے ہیں مال وجاہ ہوں یا اولا دیہ تو دار دنیا کی باتیں ہیں اور یہاں بھی سب کام حسب خواہش نہیں ہوپاتے پھر آخرت اور ابدی زندگی میں تو اللہ کریم سے اجرپانے کی ضرورت ہے یہ چیزیں تو وہاں کام نہ آئیں گی ہاں یہ پکی بات ہے کہ جو بھی شخص ان رکاوٹوں کو عبور کرلے گا یعنی دنیا یا اولاد کی محبت میں اطاعت نبوی سے روگروانی نہ کرے گا اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔
Ayahs 8:29–37آیات 29 تا 37
اسرار و معارف
تقوی کے ثمرات
اطاعت نبوی سے ایک دلی نسبت اور قلبی کیفیت نصیب ہوتی ہے جو تقوی کہلاتی ہے اور یہ کیفیت گناہ اور نافرمانی سے مانع بن جاتی ہے لہٰذا اگر تم اطاعت اور تقوی ہی کو شعاربنالوتو اس کی مزید برکات بھی سن لو کہ تمہیں فرقان یعنی ایسی طاقت جو حق و باطل میں حق کو غالب کرکے فیصلہ کردے سب پر عیاں ہوجائے نصیب ہوگی ظاہر ہے یہ نصرت الہیہ ہی ہوسکتی ہے اس کا اظہاریوم بدرہواتو اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے نیز اگر خلوص دل سے اطاعت الٰہی کو شعاربنالیاجائے تو ایسے لوگوں کی مجلس بھی نصیب ہوتی ہے جن کی محفل میں انعکاسی طور پر قلبی نور اور بصیرت نصیب ہوکر گناہ سے مانع اور حق پر استقامت کا باعث بنتی ہے اور یہ ہی بہت بڑی نصرت الہیہ ہے دوسراثمرہ تقوی اور نیکی پر مجاہدہ اختیار کرنے کا یہ ارشاد فرمایا کہ ہزار کوشش کے باوجود تبقاضائے بشریت انسان سے لغزش ہوجاتی ہے اللہ کریم ان لغزشوں معاف فرمائیں گے اور تیسراثمرہ اخروی نجات و بخشش ہے کہ اللہ کریم اپنے کرم میں ڈھانپ لیں گے اور میدان حشر کی پریشانی نہ اٹھاناپڑے گی صرف یہی کچھ جو پہلے بیان ہوایا اب ہوراہا ہے ۔ بلکہ اللہ کا کرم تو بہت وسیع ہے یہ تو ایک جھلک ہے وہ کیا کچھ دے گا یہ تو وہ خودہی جان سکتا تم حق غلامی ادا کرتے رہو پھر کرم کے تماشے دیکھنادار دنیا میں دیکھ لوکفار مکہ نے کس قدرتدبیریں کیس کہ ذات رسالت مآب ﷺ کو نقصان پہنچائیں شہربدر کردیں یا قید کرلیں یا قتل کردیں یہ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے جب صحابہ ؓ نے مدینہ کو ہجرت شروع کی اور اہل مدینہ کا مسلمان ہونا مشہور ہواتو کفار مکہ کو فکر لگی کہ یہ بات تو باہر پھیل رہی ہے اس کا مستقل تدارک کیا جانا ضروری ہے چناچہ وارالندوہ میں جمع ہوئے جن میں تقریبا سب ہی سردار تھے ابلیس لعین بھی بوڑھے آدمی کی صورت بناکر کھڑا ہواپوچھنے پر کہا نجد سے آیا ہوں سنا ہے تم کوئی اہم مشورہ کرنا چاہتے ہوتوچلا آیا کہ شائد میں بھی کچھ رائے دے سکوں انہوں نے اندربلالیا چناچہ ایک رائے یہ ہوئی کہ زنجیروں سے جکڑ کر مکان میں بند کردیا جائے تو ازخود ختم ہوجائیں گے مگر ابلیس نے روکا اور کہابات چھپ نہ سکے گی اور ان کے جانثار ٹوٹ پڑیں گے ممکن ہے آزاد کرالیں سب نے کہا شیخ نجدی ٹھیک کہتا ہے پھر ایک رائے دی کہ انہیں شہر سے نکال دیں اور باہر جو چاہیں کریں پھر یہاں داخل نہ ہونے دیں تو ابلیس ہی نے ردکردی کہ باہر طاقت حاصل کرلیں گے تو تم سے شہر بھی لے لیں گے آخری رائے ابو جہل کی تھی کہ تمام قبیلوں سے ایک ایک جوان لیں اور سب ملکر انہیں قتل کردیں تو یہ جھگڑا ختم ہوجائے گا اب رہا ان کے خاندان کا مسئلہ تو قصاص تو ہو نہ سکے گا کہ بہت سے لوگ ہوں گے کیا خبر کس کی ضرب سے موت واقع ہوئی لامحالہ دیت اور خون بہا ہوگا جو سب مل کر ادا کردیں گے اس پر شیخ نجدی نے بھی تا ئید کی اور طے ہوا کہ رات کو آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا جائے علی الصبح نکلیں تو یکبارگی حملہ کرکے قتل کردیا جائے ادھر یہ ہورہا تھا ادھر جبرائیل امین نے سب حالات عرض کریے اور اللہ کریم کی طرف سے ہجرت کی اجازت بھی اور پروگرام پہنچادیا چناچہ دن کو ہی ابوبکر صدیق ؓ کو ہمراہی کے لیے حکم مل گیا اور ہجرت کا وقت بھی اللہ کریم نے وہی رکھا جب لفارپہرے پہ ہوں حضرت علی ﷺ کو بستر پر سلانے کا حکم ہوا چناچہ آپ ﷺ رات کو نکلے مٹھی خاک سب پر پھینکی اور سورة یسن کی تلاوت فرماتے ہوئے نکلے اور چلے گئے کفار دیکھ ہی نہ سکے آپ بیت اللہ شریف آئے پھر ابوبکر صدیق ؓ کے گھر تشریف لائے اور انہیں ساتھ لے کر ہجرت کے سفر پر روانہ ہوگئے ۔ ادھر علی الصبح حضرت علی ؓ نکلے تو کفار حیران ہوگئے کہ آپ صحیح وسالم وہاں سے بچالیا کہ آپ کا دجودمبارک ہی تو سب برکات کی اصل ہے اور اللہ کی مدکاتماشہ بھی دیکھ کیسا قادر ہے کہ کفار نے بھی بڑی مکاری سے کام لیا اؤ آپ کے خلاف سازش کا جال بناابلیس لعین تک اسمیں شریک ہوا اور اللہ کریم نے بھی اس کا تو ڑ تدبیرہی سے کیا اور اللہ ہی کی تدبیر سب سے اعلی اور سب پر غالب ہے عالم اسباب میں اللہ کریم ہی اسباب اور ان کی تاثیرات کو پیدافرماتے ہیں لہٰذاکفار کی تدابیرنامرادرہتی ہیں ۔
نبی کی مخالفت کا اثر
اور اللہ کے نبی کی مخالفت سے جو اثران کے قلوب اور باطن پر مرتب ہوتا ہے وہ انتہائینامرادی کا مظہرہوتا ہے ایک تو تدبیرناکام ہوئی دوسردل تاریک ہو کر حق کو سمجھنے کی اہلیت و استعداد کھوبیٹھا اور جب آیات الٰہی سنیں تو کہہ اٹھتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں ہم پہلے بھی سنتے رہتے ہیں اور یہود ونصاری کی کتب میں بھی اس طرح کے قصے ہیں جن کا اب کوئی گواہ تو ہے نہیں اگر ہم بھی کوئی کہانی گھڑکربیان کرسکتے ہیں بھلایہ کونسا مشکل کام ہے حالا ن کہ قرآن حکیم نے کوئی بھی واقعہ محض تاریخی اعتبار سے یا واقعات نگاری کی غرض سے بیان نہیں کیا بلکہ ہر واقعہ اپنے منطقی نتائج کے اعتبار سے بیان ہوا ہے اسی لیے ایک ایک واقعہ کے متعددٹکڑے مختلف مقامات پر آئے ہیں یعنی جس حصے کے نتیجہ مختلف نہیں ہوگا اور کتاب اللہ کا یہ اعلان بھی موجود ہے کہ اگر اد طرح کی عبارت کہہ سکتے ہو تو ایک آیت کے مقابلہ میں ایک بات کہہ کردکھاؤ تو اگر یہ کہہ سکتے تو ضرور کتاب اللہ کو جھٹلا نے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے مگر نہ کرسکے محض قلب کے الٹ جانے کے باعث ان کی عقل نے یہ نتیجہ اخذ کیا ۔
بلکہ اس سے بھی عجیب بات کہ اللہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ اگر یہ حق ہے یعنی جو دعوی اور دعوت آپ کی ہے اگر یہ واقعی تیری طر سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کسی اور درد ناک عذاب میں مبتلا کردے حالانکہ تقاضائے عقلی تو یہ تھا کہ اگر دعامانگناتھی تو کہتے اے اللہ اکر یہ حق ہے تو ہمیں قبول کرنے کی تو فیق عطا کر اور اگر نہیں تو اس سے بچنے کی تو فیق دے مگر ان کی تو عقل ہی الٹ گئی کہ بیت اللہ سے لپٹ لپٹ کر اپنی ہلاکت کی دعا کرتے ہیں ۔ حالا ن کہ جب آپ وہاں موجو ہیں تو اللہ کریم ہرگز عذاب نازل نہ کریں گے ۔
برکات نبوت
ایک تو سنت اللہ ہے کہ جہاں عذاب نازل فرمانا ہو وہاں سے انبیاء کو نکال لیا جاتا ہے دوسرے آپ ﷺ کے باجود کی برکات بھی کمال درجہ کی ہیں ۔ کہ جہاں آپ ﷺ تشریف رکھتے ہیں وہاں کفار بھی دنیا کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں اور اجتماعی ہلاکت سے محفوظ ہیں اگر چہ جزدی طور پر اپنی بدکرداری کے باعث متاثر ہوتے ہیں یہی وجہ مفسیرین نے نقل فرمائی ہے کہ جب آپ کی نبوت ہمہ گیرسب جہانوں اور زمانوں کے لیے ہے تو گویا آپ ہر آن تشریف رکھتے ہیں لہٰذ پوری انسانیت اجتماعی عذاب سے بچ گئی اور بعث سے قیام قیامت تک پہلی قوموں کی طرح کے اجتماعی عذاب سے انسانیت محفوظ ہوگئی اگر آپ ﷺ کے انوارات دل اور لطائف صدری میں ہوں تو گناہ سے حفاظت کا سبب بنتے ہیں کہ گناہ بھی تو غذاب کی ایک صورت ہے جو اپ ﷺ کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ نازل نہیں فرماتے ۔ دوسری وجہ ان لوگوں کا استغفار ہے جو افلاس اور کمزوری کے باعث شہر چھوڑ نہیں سکے اور مکہ مکرمہ میں ہی اللہ اللہ کر رہے ہیں ۔ نیز کفار بھی طواف کرتے تو غفرانک ، عفرانک کہتے تھے اور علماء نے لکھتا ہے کہ کافر کی نیکی بھی دنیا میں ضرورپھل دیتی ہے اگر چہ آخرت میں اس کی کوئی قیمت نہیں ۔ بہرحال آپ کا وجود مبارک جہاں ہو یا آپ کی برکات وانوارات تو یہ مانع غذاب ہیں اور آپ ﷺ کا ہونا یعنی روضہ اطہر میں زندہ ہونا اور آپ کی رسالت تو قیامت تک قائم ہیں یہ بحث کہ روضہ اطہر میں زندہ ہونے اعتبار سے دنیاوی اور جسمانی حیات ہے بلکہ دنیا کی نسب قوی تر ہے بہرحال استفادہ بھی تاقیامت کیا جاسکتا ہے اور عمومی فیض بھی ساری کائنات کو حاصل ہورہا ہے ۔
نبی ﷺ کی برکات سے کٹنے کا نتیجہ
ہاں اگر کوئی آپ ﷺ ہی کے مقابل صف آرأہوجائے اور آپ کی برکات سے کٹ جائے تو فرمایا ایسی صورت میں اللہ کیونکہ غذاب نازل نہ کرے گا کہ وہ مسجد حرام سے روکنے لگیں اور پھر کفارومشرکین کو طواف کی اجازت ہو اور رحمت عالم ﷺ کی منع کردیا جائے اور اور لوگ آپ کے مقابلہ میں صف آراء ہوں تو عذاب الٰہی سے کیسے بچ سکتے ہیں ۔ چناچہ کفار کی تباہی کا آغاز ہوا اور تباہ ہی ہوتے چلے گئے بیت اللہ سے روکنا ان کے لیے یوں بھی مناسب نہ تھا ۔ کہ وہ تھوڑے سے ہی اس کے مستحق تھے وہ اس کے متولی تو نہ تھے کہ متولی وہ لوگ ہیں جو متقی ہوں اور کیفیات قلبی آپ ﷺ حاصل کریں ۔
گدی نشین
کہ یہ ولایت محض خادندانی اور نسبی نہیں بلکہ اس کا انصار ضروری کمالات پر ہے اور یہی اصول متقدمین صوفیا میں تھا کہ محض بیاجانشین نہیں ہوسکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کمالات کا ہونا شرط تھا جو اس منصب کے لیے ضروری ہوں مگر آخریہ بات نہ رہی تو گدیاں بھی نااہلوں کے ہاتھوں میں چلی گئیں اور ہدایت کے یہ چشمے کدلاکر باعث نقصان ثابت ہوئے ۔
کفار مکہ تو جو کچھ بیت اللہ میں کرتے ہیں وہ بھی محض تماشہ اور رسومات ہیں اور سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹناان کی عبادتیں ہیں یہ تو خود اس عذاب کے مستحق ہیں کہ انہیں رسواکرکے یہاں سے بھگادیا جائے چناچہ مختلف غزوات میں اللہ کی طرف عذاب نازل ہوا اور بلآ خر مکہ مکرمہ سے ہمیشہ کے لیے کفار و مشرکین کو نکال دیا گیا اور بجا ارشاد فرمایا یہی عذاب الٰہی کی صورتیں ہیں ان کو بھگتو جبکہ آخرت کے عذاب تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں یہی حال نااہلو کی گدہی نشینی سے ہوتا ہے کہ ذکر اذکار اور احوال و کیفیات قلبی کی جگہ رسومات وبدعات اور خرافات اختیار کرکے خو بھی تباہ ہوتے ہیں اور متعلقین کو بھی گمراہ کرکے تباہی سے دوچار کرتے ہیں ۔
کفر ہمیشہ ناکام
کفر کا نتیجہ اور بوجہ کفر عقل کا اند ھاپن دیکھئے کہ اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے مال بھی خرچ کرتے ہیں بدرواحد میں لشکروں کی تیاری پھر تب سے لے کر آج تک کفار کی خلاف اسلام کوششوں پہ بیشمار اخراجات کتنی عجیب بات ہے کہ اللہ نے مال دی عقل دیا اعضاء دیئے یہ اسی یہ اسی کی اور اس کے دین کی مخالفت پہ خرچ کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کا مال ضرور خرچ ہوجائے گا ۔ کوشش اور محنت ضرور خرچ ہوگی مگر یہ سب کچھ ان پر حسرت ہی کا سبب بنے گا کہ ناکامی ان کا مقدربن چکی ہمیشہ شکست سے دوچار ہوں گے اور اپنے مال اور وقت نیز کوشش کے ضائع ہونے پر حسرت کریں گے اور اللہ کی شان اب تک کفر کی ساری کوششیں کے ضائع ہونے پر حسرت کریں گے اور اللہ کی شان اب تک کفر کی ساری کو ششیں مسلسل ناکام فنامرادہی ثابت ہوئیں اور اللہ کا دین قائم رہا قائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا دنیا کی ذلت اور نامرادی کے بعد آخرت کا حال اور بھی حسرتناک ہوگا کہ کافروں کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں جھونک دیاجائے گا اس لیے کہ بعد آخرت کا حال اور بھی حسرتناک ہوگا کہ کافروں کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں جھونک دیا جائے گا اس لیے کہ ہر شے اور ہر فعل کا ایک منقطی نتیجہ ہوتا ہے تو ظاہر ہے ناپاک تو نہ لگائیں گے بلکہ انصاف کریں گے اور ناپاک مال ناپاک اعمال اور ناپاک ارادوں کو پاک سے الگ کرکے یکجاکردیاجائے گا اور یہ سارا ڈھیر جہنم کا ایندھن بنے گا اور ایسے ہی لوگ بہت زیادہ نقصان میں رہیں گے لہٰذ آج بھی ذرائع آمدن مال ارادے اور اعمال کو پرکھتے رہناضروری ہے بدکردار کا انجام نیکوکاروں کے ساتھ نہ ہوگا اور رسومات کبھی کیفیات نہ پاسکیں گی نیز سب سے بڑاخسارہ یہی ہے کہ انسان ساری عمر کوشش اور محنت کرتا رہے مال بھی لگائے اور پھر اس سب کچھ سمیت اسے جہنم میں جانا پڑے اللہ کریم اس نقصان عظیم سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ امین ۔