Ayah 8:1آیت نمبر : 1
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں دشمن کا مقابلہ کیا، جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست سے دو چار کردیا ( اور وہ بھاگ نکلے) تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے انہیں قتل کرنے کے لیے ان کا تعاقب کیا اور ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے آپ کے اردگرد رہا اور ایک گروہ جمع شدہ مال اور چھینے ہوئے مال غنیمت پر قابض رہا، پس جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو بھگا دیا اور جو ان کے تعاقب میں گئے تھے وہ واپس لوٹ آئے تو انہوں نے کہا : مال غنیمت ہمارا ہے، ہم وہ ہیں جنہوں نے دشمن کا پیچھا کیا اور ہمارے سبب ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں مار بھگایا اور انہیں شکست اور ناکامی سے دو چار کیا۔ اور وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے اردگرد جمع رہے انہوں نے کہا : تم مال غنیمت کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو، بلکہ وہ ہمارا ہے، ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد جمع رہے تاکہ دشمن آپ کو کوئی دھوکہ نہ پہنچا سکے۔ اور وہ لوگ جو جمع شدہ اور چھینے ہوئے مال پر قابض رہے انہوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو، وہ تو ہمارے لیے ہے، ہم نے ہی اسے جمع کیا ہے اور ہم نے اس پر قبضہ کہا ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : یسئلوکل عن الانفال قل الانفال للہ والرسول فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم واطیعوا اللہ ورسولہ ان کنتم مومنین پس رسول اللہ ﷺ نے اسے تیزی کے ساتھ ان کے درمیان تقسیم کردیا۔ ابو عمر نے کہا : اہل علم نے لسان العرب میں کہا ہے : استلووا ( یعنی) وہ قریب ہوئے اور احاطہ کرلیا۔ کہا جاتا ہے : الموت مستلوعلی العباد ( موت بندوں کے قریب ہے اور احاطہ کیے ہوئے ہے) اور آپ کا قول : فقسمہ عن فواق یعنی تیزی کے ساتھ آپ نے اسے تقسیم کردیا۔ وہ کہتے ہیں : والفواق ما بین حلبتی الناقۃ ( یعنی فواق سے مراد اونٹنی کو دوبارہ دوہنے کے درمیان والا وقفہ ہے)
کہا جاتا ہے : انتظرہ فوق ناقہ یعنی اتنی مقدار تو اس کا انتظار کر۔ اور وہ اسے ضمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ بولتے ہیں یعنی فواق اور فواق۔ اور یہ حکم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا : آیت : واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ الآیہ (الانفال : 41) ( اور جان لو کہ جو کوئی چیز تم غنیمت میں حاصل کرو تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اس کا پانچواں حصہ) گویا علماء کے نزدیک معنی یہ ہے یعنی اس بارے میں حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے سپرد ہے اور اس بارے میں عمل اس کے مطابق ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے : ہمارے اصحاب میں سے عبد الرحمن بن حارث وغیرہ نے سلیمان بن موسیٰ اشدق سے انہوں نے مکحول سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایب بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مال غنیمت کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ہم میں اصحاب بدر کی جماعت تھی جو (غزوہ بدر میں) شریک تھے جس وقت ہمراے درمیان مال غنیمت کے بارے اختلاف ہوا اور اس میں ہمارے اخلاق درست نہ تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمایا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے برابر برابر تقسیم فرمادیا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کے خوف، اس کے رسول مکرم ﷺ کی اطاعت اور اپنے معاملات میں اصلاح کے لیے تھا۔
اور صحیح میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے بہت زیادہ مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا، اس میں ایک تلوار تھی، میں نے اسے اٹھا لیا اور اسے لے کر میں حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی : یہ تلوار مجھے عطا فرما دیجئے، بلاشبہ میں وہ ہوں جس کی حالت سے آپ واقف و آگاہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اسے وہیں لوٹا دو جہاں سے تو نے اسے اٹھایا ہے “۔ پس میں چلا گیا یہاں تک کہ میں نے اسے مقبوض مال میں پھینکنے کا ارادہ کیا تو میرے نفس نے مجھے ملامت کی اور میں پھر آپ ﷺ کی طرف لوٹ کر آیا اور عرض کی : آپ یہ ( تلوار) مجھے عطا فرما دیجئے۔ آپ بیان کرتے ہیں : پس آپ ﷺ نے میرے لیے اپنی آواز سخت کی اور فرمایا : ” اسے وہیں لوٹا دو جہاں سے اسے اٹھیا ہے “۔ پس میں چلا گیا، یہاں تک کہ میں نے اسے مال مقبوض میں ڈال دینے کا ارادہ کیا تو میرے نفس نے مجھے ملامت کی اور میں پھر آپ ﷺ کی طرف لوٹ آیا اور عرض کی : آپ یہ تلوار مجھے عطا فرما دیجئے۔ آپ فرماتے ہیں : پس آپ ﷺ نے میرے لیے اپنا لہجہ سخت کیا اور فرمایا :” تو اسے وہیں لوٹا دے جہاں سے تو نے اسے اٹھایا ہے “۔ تب اللہ تعالیٰ نے آیت : یسئلونک عن الانفال نازل فرمائی۔ یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔ اور اس بارے میں روایات کثیر ہیں۔ اور اس بارے میں جو ہم نے ذکر کردیا ہے وہ کافی ہے۔ واللہ الموفق للہدایہ۔
مسئلہ نمبر 2 :
الانفال کا واھد نفل فا متحرکہ کے اتھ ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
ان تقوی ربنا خیر نفل وباذن اللہ ریثی والعجل
اس میں خیر نفل بمعنی خیر غنیمۃ ( اچھی غنیمت) ہے اور نفل کا معنی یمین ( قسم) ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے فتبرئکم یھود بنفل خمسین منھم ( یہود پچاس قسموں کے ساتھ تمہیں ان سے بری کردیں گے) اور النفل کا معنی الانتفاء ( نفی کرنا، انکار کرنا) بھی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے فانتفل من ولدھا ( پس اس نے اس کے بچے کا انکار کردیا) اور نفل ایک معروف بوٹی بھی ہے۔ اور نفل کا معنی واجب پر زیادتی کرنا بھی ہے اور وہ نفلی عبادت ہے۔ اور بچے کا بچہ بھی نافلہ کہلاتا ہے، کیونکہ وہ بچے پر زائد ہی ہوتا ہے۔ اور مال غنیمت بھی نافلہ کہلاتا ہے، کیونکہ یہ وہ اجافہ اور زیادتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے حلال قرار دیا ہے اور یہ ان میں سے ہے جو دیگر امتوں پر حرام تھی۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے ( دیگر) انبیاء (علیہم السلام) پر چھ چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی ہے۔ اور ان میں ایک یہ ہے کہ میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا ہے (مشکوۃ المصابیح باب فضائل سید المرسلین) ۔ اور الانفال سے مراد بذات کود غنائم ہی ہیں۔ عنترہ نے کہا ہے :
انا اذا احمر الوغی نروی القنا ونعف عند مقاسم الانفال
اس میں الانفال سے مراد غنائم ہیں۔
مسئلہ نمبر 2 :
انفال کے محل میں علماء کا اختلاف ہے اس بارے میں چار اقول ہیں :
(1) اس کا محل اس مال میں ہے جو کافروں سے کٹ کر مسلمانوں کی طرف آجائے یا بغیر جنگ کے لے لیا جائے
(2) اس کا محل خمس ( پانچواں حصہ) ہے
(3) اس کا محل خمس کا خمس ( پانچواں کا پانچواں حصہ) ہے
(4) اصل مال غنیمت، جیسا بھی امام وقتا سے پاتا ہے۔
امام مالک (رح) کا مذہب یہ ہے کہ انفال سے مراد وہ عطیات اور انعامات ہیں جو امام وقت خمس سے عطا کرتا ہے، جس طرح اس کے بارے وہ اپنی رائے رکھتا ہو۔ بقیہ چار حصوں میں کوئی نفل نہیں ہوتا، بلاشبہ وہ کل مال غنیمت سے نفل نہیں پاتا کیونکہ اس کے مستحق معین ہوتے ہیں اور وہ اسے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ حاصل کرتے ہیں اور خمس کی تقسیم امام کے اجتہاد اور رائے کو سونپ دی گئی ہے۔ اور اس کے مستحق معین نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰنے جو مال غنیمت تمہیں عطا فرمایا ہے میرے لیے سوائے خمس کے اور کچھ نہیں اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا “ (سنن ابی داود، باب فداء الاسیر بالمال، حدیث نمبر 2319، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، سنن ابی داود، باب فی الامام یستاثر بشیء لنفسہ، حدیث نمبر 2374، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ پس اس کے بعد یہ ممکن نہیں کہ نفل کسی ایک کا حق ہو اور بلاشبہ جو رسول اللہ ﷺ کا حق ہے وہ خمس ہے۔ آپ کے مذہب میں سے یہی معروف ہے۔ اور تحقیق آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ خمس کا خمس ہے۔ اور یہی قول حضرت ابن مسیب، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم کا ہے۔ اور سبب اختلاف حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے، اسے امام مالک (رح) نے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نینجد کی جانب ایک سریہ بھیجا تو انہیں بہت سے اونٹ مال غنیمت میں ہاتھ آئے، ان کے حصے میں بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آئے اور پھر انہیں ایک ایک اونٹ بطور نفل بھی دیا گیا۔ اسی طرح اسے امام مالک (رح) نے روایب کیا ہے۔ اور یہ شک آپ سے یحییٰ کی روایب میں موجود ہے اور اسی پر موطا کے راویوں کی ایک جماعت نے ان کی اتباع کی ہے سوائے علید بن مسلم کے کیونکہ انہوں نے مالک عن نافع عن ابن عمر ؓ کی سند سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں کہا ہے : ان کے حصص بارہ بارہ اونٹ تھے اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور تنفیل دیا گیا۔ اور انہوں نے شک کا اظہار نہیں کیا۔ ولید بن مسلم اور حکم بن نافع نے شعیب بن ابی حمزہ سے انہوں نے حضرت نافع کے واسطہ سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایب بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں نجد کی جانب بھیجا۔ اور ولید کی روایب میں ہے اس کی تعداد چار ہزار تھی۔ اور لشکر سے ایک سریہ نکلا۔ اور ولید کی روایب میں ہے : پس میں بھی ان میں تھا جو اس میں نکلے تھے۔ پس لشکر کے حصص بارہ بارہ اونٹ تھے۔ اور اہل سریہ کے حصہ بطور تنفیل ایک ایک اونٹ تھا، پس ان کے حصص تیرہ تیرہ اونٹ ہوگئے۔ اسے ابو داؤد نے ذکر کیا ہے۔ اسی سے انہوں نے استدلال کیا ہے جو یہ کہتے ہیں : بیشک نفل مجموعی خمس سے ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ سریہ ( چھوٹا سا دستہ) اگر کسی مقام پر اترا مثلا اس میں دس افراد شامل تھے انہوں نے اپنے مال غنیمت میں ڈیڑھ سو (اونٹ) حاصل کیے، تو ان سے ان کا خمس تیس اونٹ پہلے نکال لیے جائیں گے اور ان کے لیے ایک سو بیس رہ جائیں گے، جو دس افراد پر تقسیم کیے جائیں گے اور وہ ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئیں گے، پھر اس قوم کو خمس میں سے ایک ایاک اونٹ دے دیا جائے گا، کیونکہ اس میں تیس کا خمس دس اونٹ نہیں ہوسکتے۔ پس جب تو نے دس کے لیے حصہ پہچان لیا تو پھر سو، ہزار اور زائد کے لیے جو ہوگا اسے بھی معلوم کرلے گا۔
اور جنہوں نے کہا ہے کہ نفل خمس کے خمس میں سے ہوگا انہوں نے اس طرح کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ( مال غنیمت میں) کپڑے بھی ہوں جو بیچے جاسکتے ہوں اور اونٹوں کے علاوہ بھی سازو سامان ہو، تو وہ آدمی جسے اونٹ نہ ملے اسے اس سامان میں سے اونٹ کی قیمت ادا کردی جائے۔ اور اسے اس حدیث سے تقویت پہنچتی ہے جسے مسلم نے اس حدیث کے بعض طرق میں بیان کیا ہے : ” پس ہم نے اونٹ اور بکریاں حاصل کیں “ ، الحدیث۔
محمد بن اسحاق نے اس حدیث میں ذکر کیا ہے کہ امیر ( لشکر) نے تقسیم سے پہلے ان کے لیے تنفیل کی اور یہ اسے ثابت کرتا ہے کہ نفل کل مال غنیم میں سے ہو۔ اور یہ امام مالک (رح) کے قول کے خلاف ہے۔ اور جنہوں نے ان کے خلاف روایب کی ہے ان کا قول اولیٰ ہے کیونکہ وہ حفاظ ہیں، یہ ابو عمر (رح) تعالیٰ نے کہا ہے اور مکحول اور اوزاعی رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : ثلث سے زیادہ کے ساتھ نفیل نہیں کی جائے گی، جمہور علماء کا یہی قول ہے۔ امام اوزاعی (رح) نے کہا ہے : اگر وہ ان کے لیے زیادہ عطا کرنے کا قول کرے تو اسے ان کے لیے پورا کرنا چاہیے اور وہ اسے خمس میں سے ادا کرے گا۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : نفل میں کوئی ایسی حد نہیں ہے جس سے امام تجاوز نہ کرسکتا ہو۔
مسئلہ نمبر 4
حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث اس پر دلیل ہے جو ولید اور حکم نے شعیب سے اور انہوں نے نافع سے ذکر کیا ہے کہ جب سریہ لشکر میں سے نکلے اور وہ مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر بھی ان کے ساتھ شریک ہوگا اور یہ ایک مسئلہ اور حکم ہے جسے حدیث میں شعیب کے سوا نافع سے کسی نے ذکر نہیں کیا اور اس کے بارے میں علماء میں اختلاف نہیں۔ والحمد للہ
مسئلہ نمبر 5
علماء کا امام وقت کے اس قول کے بارے اختلاف ہے جو قتال سے پہلے یہ کہتا ہے : جس نے اس قلعہ میں سے اتنا گرا دیا تو اس کے لیے اتنا ( مال) ہوگا اور جو کوئی فلاں جگہ تک پہنچ گیا تو اس کے لیے اتنا مال ہوگا اور جو کسی کا سر لے کر آیا تو اس کے لی اتنا ہوگا اور جو کوئی کسی کو قیدی بنا کر لایا تو اس کے لیے اتنا ہوگا۔ گویا امام وقت یہ کہہ کر انہیں انگیخت دلا رہا ہے اور ان کے جذبات کو ابھار رہا ہے۔ پس امام مالک (رح) سے مروی ہے کہ یہ مکروہ ہے۔ اور انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قتال تو پھر حصول دنیا کے لیے ہوگا اور یہ جائز نہیں ہوگا۔ اور اما ثوری (رح) نے کہا ہے : یہ جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : یہ مفہوم حضرت ابن عباس ؓ کی مرفوع حدیث میں موجود ہے، جب بدر کا دن تھا تو حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس کسی نے کسی کو قتل کیا تو اس کے لیے اتنا ہوگا اور جس نے کسی کو قیدی بنایا تو اس کے لیے اتنا ہوگا “ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2360، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ ایک طویل حدیث ہے۔
اور آپ ؓ سے ہی حضرت عکرمہ (رح) کی روایت میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے اس اس طرح کیا اور فلاں فلاں جگہ پر آیا تو اس کے لیے اتنا ہوگا “۔ پس جو ان تیزی سے دوڑ پڑے اور بوڑھے جھنڈوں کے پاس ہی ثابت قدر رہے۔ پس جب انہیں فتح حاصل ہوگئی تو جوان آئے اور اسی کا مطالبہ کرنے لگے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا تھا تو بوڑھوں نے انہیں کہا : تم ہمارے بغیر ادھر نہیں جاسکتے تھے، تحقیق ہم تمہارے لیے مددگار اور معاون تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : واصلحوا ذاب بینکم ( اور تم اپنے باہمی معاملات کی اصلاح کرو) اسے اسماعیل بن اسحاق نے بھی ذکر کیا ہے۔
اور حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کو کہا جب وہ اپنی قوم میں آپ کے پاس آئے اور وہ شام کا ارادہ رکھتے تھے : کیا تیرے لیے ممکن ہے کہ تو کوفہ آئے اور تیرے لیے تمام زمین اور قیدیوں کے بدلے خمس کے بعد ثلث ( تیسرا حصہ ہو ؟ ) اور یہ فقہائے شام کی جماعت نے کہا ہے : ان میں امام اوزاعی، مکحول اور انب حیوہ رحمۃ اللہ علیہم وغیرہم شامل ہیں۔ اور ان کی رائے میں خمس کل مال غنیمت میں سے ہے اور نفل خمس کی بعد ہے پھر اصل لشکر کے درمیان مال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اور اسحاق، امام احمد اور ابو عبید رحمۃ اللہ علیہم نے یہی کیا ہے۔ ابو عبید (رح) نے کہا ہے : آج لوگوں کا موقف یہ ہے کہ مال غنیمت میں سے نفل نہیں ہوگا یہاں تک کہ خمس نکال لیا جائے گا۔ اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے کہ امام وقت سر یہ کو کہے : جو مال تم نے حاصل کیا اس کا ثلث تمہارے لیے ہے۔ سحنون نے کہا ہے : وہ اس سے ابتداء مراد لیتے ہیں۔ پس اگر یہ واقع ہوگیا تو وہ نافذ ہوجائے گا اور باقی مال میں ان کے حصص ہوں گے۔ اور سحنون نے کہا ہے : جب امام نے سریہ کو کہا : جو مال تم نے حاصل کیا تو تم پر اس میں خمس نہیں ہوگا۔ تو یہ قول جائز نہیں ہے۔ پس اگر یہ واقع ہوگیا تو بھی میں اسے رد کرتا ہوں، کیونکہ یہ حکم شاذ ہے یہ جائز نہیں ہے اور نہ نافذ العمل ہوگا۔
مسئلہ نمبر 6 :
امام مالک (رح) نے اسے مستحب قرار دیا ہے کہ امام تنفیل نہ کرے مگر اس مال میں جو ظاہر ہو مثلا عمامہ ( مراد خود ہوں گے یا دستاریں) گھوڑے اور تلواریں۔ اور بعض علماء نے اس سے منع کیا ہے کہ امام وقت سونے، چاندی یا موتیوں وغیرہ میں تنفیل کرے۔ اور بعض نے کہا ہے : ہر شے میں تنفیل جائز ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 498) ۔ اور حضرت عمر ؓ کے قول اور آیت کے مقتضی کے مطابق یہی قول صحیح ہے۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر : 7
قولہ تعالیٰ : آیت : فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم یہ تقوی اور اصلاح احوال کے بارے میں حکم ہے یعنی تم دعا میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر جمع ہو جاؤ: اللھم اصلح ذات البین یعنی اے اللہ ایسی حالت پیدا فرما دے جس کے سبب باہمی اتفاق اور اجتماعیت پیدا ہوجائے۔ پس یہ اس تصریح پر دلیل ہے کہ اس ان کے درمیان اختلاف پھوٹ پڑا یا نفوس باہم جھگڑنے کے طرف مائل ہوگئے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ اور تقوی کا معنی پہلے گزر چکا ہے، یعنی تم اپنے اقوال وافعال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اپنے باہمی معاملات کی اصلاح کرو۔ آیت : واطیعوا اللہ ورسولہ اور غنائم اور دیگر معاملات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ آیت : ان کنتم مومنین یعنی مومن کا طریقہ یہ ہے کہ جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ اس کی پیروی کرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان بمعنی اذ ہے۔
Ayahs 8:2–4آیت نمبر : 2۔ 3۔ 4
قولہ تعالیٰ : آیت : انما المومنون۔۔ آیت کے آخر تک۔ یتوکلون۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
علماء نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ نے اس مال غنیمت کو تقسیم کرنے کا جو حکم ارشاد فرمایا ہے یہ آیت اس بارے میں آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم پکڑنے پر برانگیختہ کرتی ہے۔ الوجل کا معنی خوف ہے۔ اس کے مضارع میں چار لغتیں ہیں : وجل، یوجل ویاجل وییجل وییجل، اسے سیبویہ نے بیان کیا ہے۔ اور مصدر وجل وجلا و موجلا بالفتح ہے۔ اور یہ جیم کے کسرہ کے ساتھ موجل ہو تو پھر اسم ظرف بنتا ہے۔ پس جنہوں نے کہا ہے : یا جل انہوں نے مضارع میں واو ما قبل مفتوح کو الف سے بدل دیا ہے اور قرآن کریم کی لغت واو کے ساتھ ہے۔ آیت : قالوا لا تو جل (الحجر : 53) اور جنہوں نے یا کے کسرہ کے ساتھ ییجل کہا ہے تو یہ بنی اسد کی لغت کے مطابق ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں : اناایجل، ونحن نیجل، وانت تیجل یہ تمام کلمات کسرہ کے ساتھ ہیں۔ اور جنہوں نے کہا ہے : ییجل تو ان کی بنا بھی اسی لغت پر ہے لیکن انہوں نے یا کو فتحہ دیا جیسے انہوں نے یعلم میں یا کو فتحہ دیا ہے اور یعلم میں یا کو کسرہ اس لیے نہیں دیا، کیونکہ انہوں نے یا پر کسرہ کو ثقیل سمجھا ہے، اور ییجل میں کسرہ دیا گیا ہے اس لیے کہ دو یاؤوں میں سے ایک نے دوسری کے سبب قوت پکڑ لی ہے۔ او اس سے امر کا صیغہ ایجل ہے ( یہ اصل میں اوجل تھا) اس میں واو ماقبل مسکور یا سے بدل گئی ہے۔ اور آپ کہتے ہیں : انی منہ لاوجل ( میں اس کے نسبت زیادہ خوفزدہ ہوں اس میں اوجل اسم تفضیل کا صیغہ ہے) اور مونث میں وجل نہیں کہا جائے گا، بلکہ مونث وجلۃ ہے۔ سفیان نے سدی سے قول باری تعالیٰ : آیت : الذین اذاذکر اللہ وجلت قلوبھم کے بارے میں روایب کیا ہے کہ انہوں نے کہا : جب اس نے ظلم ڈھانے کا ارادہ کیا تو اس کہا گیا : اللہ تعالیٰ سے ڈر، تو وہ رک گیا اور اس کا دل خوفزدہ ہوگیا۔
مسئلہ نمبر 2 :
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنین کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ اس کے ذکر کے وقت خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور ان کے دل کا نپ جاتے ہیں۔ اور ایسا ان کی قوت ایمانی اور اپنے رب کی طرف توجہ اور رعایت کے اعتبار سے ہوتا ہے، گویا کہ وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہیں۔ اور اس آیت کی مثل یہ آیت بھی ہے : آیت : وبشر المخبتین الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم (الحج) اور ( اے محبوب ! مژدہ سنائیے تواضع کرنے والوں کو۔ وہ لوگ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں) اور فرمایا : آیت : وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ (الرعد : 28) ( اور مطمئن ہوتے ہیں جن کے دل ذکر الٰہی سے) پس یہ کمال معرفت اور وثوق قلب کی طرف راجع ہوتا ہے۔ اور وجل کا معنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خوفزدہ ہوتا اور گھبرا جاتا ہے اس کے معنی میں کوئی تناقص نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں معنوں کو اپنے اس ارشاد میں جمع کردیا ہے : آیت : اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ ( الزمر : 23) ( اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے نہایت عمدہ کلام یعنی وہ کتاب جس کی آیتیں ایک جیسی ہیں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور کا نپنے لگتے ہیں اس کے ( پڑھنے) سے بدن ان کے جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے، پھر نرم ہوجاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف )
یعنی ان کے نفوس اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے کی حیثیت سے پر سکون ہوتے ہیں اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہ ان کی حالت ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں اور اس کے رعب و جلال اور اس کی سزا سے خوفزدہ رہتے ہیں، نہ کہ اس طرح جیسا کہ جاہل عوام اور حقیر بدعتی لوگ کرتے ہیں مثلا چیخ و پکار کرنا، شور مچانا اور ایسی آوازیں نکالنا جو گدھوں کے رینگنے کے مشابہ ہوتی ہیں۔ پس یہ صورت حال لاحق ہو اور وہ یہ گمان کرے کہ یہ وجد اور خشوع ہے تو اسے کہا جائے گا : تو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کا خوف اور اس کی عظمت و جلال کی تعظیم کرنے میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی حالت اور کیفیت تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے باوجود وعظ و نصیحت کے وقت ان کی حالت اللہ تعالیٰ کے بارے فہم اور اس کے خوف سے رونے کی ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے سماع اور اپنی کتاب کی تلاوت کے وقت اہل معرفت کے احوال بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : آیت : واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین ( المائدہ) ( اور جب سنتے ہیں ( قرآن) جو اتارا گیا رسول کی طرف تو تو دیکھتے گا ان کی آنکھوں کو کہ چھلک رہی ہوتی ہیں آنسوؤں سے اس لیے کہ پہچان لیا انہوں نے حق کو، کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے پس تو لکھ لے ہمیں ( اسلام کی صداقت کی) گواہی دینے والوں میں)
پس یہ ان کی حالت کا بیان اور ان کے قول کی حکایت ہے۔ اور جو اس طرح نہیں تو وہ نہ ان کی ہدایت پر ہے اور نہ ان کے طریقہ پر۔ پس جو ان کا طریقہ اپنائے ہوئے ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس پر چلتا رہے اور جو کوئی مجنونوں کے احوال اختیار کرے اور جنون تو ان کی اخس ترین حالت ہے۔ اور جنون ایک فن ہے۔ مسلم نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ لوگوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے سوالات کیے یہاں تک کہ انہوں نے آپ سے پوچھنے میں اصرار کیا، پس آپ ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا : سلونی لا تسالونی عن شی الا بینتہ لکم ما دمت فی مقامی ھذا (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 263) ( تم مجھ سے پوچھو تم کسی شے کے بارے مجھ سے سوال نہیں کرو گے مگر میں اسے تمہارے لیے بیان کروں گا جب تک میں اپنے اس مقام میں ہوں)
پس جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ خاموش ہوگئے اور آپ ﷺ کے سامنے کوئی بات پیش کرنے سے خوفزدہ ہوگئے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں : پس میں نے دائیں بائیں مڑ کر دیکھا تو ہر انسان اپنا سر اپنے کپڑے میں لپیٹ کر رو رہا تھا۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ اور ترمذی نے حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے روایب بیان کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں انتہائی بلیغ وعظ ارشاد فرمایا، اس کے سبب آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، اور دل کا نپ گئے۔ الحدیث
وعظنا رسول اللہ ﷺ موعظۃ بلیغۃ ذرفت منھا العیون، ووجلت منھا القلوب آپ نے یہ نہیں فرمایا : زعقنا ولا رقصنا ولا زفنا ولا قمنا ( ہم شیخ و پکار کرنے لگے نہ یہ فرمایا کہ ہم رقص کرنے لگے، نہ یہ فرمایا کہ ہم اچھلنے کودنے لگے اور نہ یہ فرمایا کہ ہم اٹھ کھڑے ہوئے)
مسئلہ نمبر 3
قولہ تعالیٰ : آیت : واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایمانا یعنی ان کی تصدیق میں اضافہ کردیتی ہیں، کیونکہ اس ساعت اور وقت کا ایمان گزشتہ کل کے ایمان سے زیادہ ہوتا ہے، پس جس نے دوسری اور تیسری بار تصدیق کی تو یقینا اس کی تصدیق سابقہ تصدیق سے زیادہ ہوگئی۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آیات اور دلائل کی کثرت کے سبب انشراح صدر میں زیادتی ہے۔ اور یہ معنی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے : آیت : وعلی ربھم یتوکلون، توکل کا معنی بھی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے : آیت : الذین یقیمون الصلوۃ ومما رزقنھم ینفقون اس کا بیان سورة البقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے۔ آیت : اولئک ھم المومنون حق یعنی وہ جن کا ظاہر اور باطن ایمان میں برابر ہے۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ تحقیق آپ ﷺ نے حضرت حارثہ ؓ کو ارشاد فرمایا : ان لکل حق حقیقۃ فما حقیقۃ ایمانک ؟ الحدیث ( بیشک ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے تیرے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ ) کسی آدمی نے حضرت حسن (رح) سے سوال کیا : اے ابا سعید ! کیا آپ مومن ہیں ؟ تو آپ نے اسے فرمایا : ایمان دو قسم کے ہیں، پس اگر تو مجھ سے اللہ تعالیٰ ، ملائکہ، کتب، رسل علیہم السلام، جنت، دوبارہ زندی کیے جانے اور حساب پر ایمان کے بارے پوچھ رہا ہے تو میں یقینا مومن ہوں۔ اور اگر تو مجھ سے اس قول باری تعالیٰ : آیت : انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایمانا وعلی ربھم یتوکلون الذین یقیمون الصلوۃ ومما رزقنٰھم ینفقون اولئک ھم المومنون حقا کے بارے پوچھ رہا ہے تو قسم بخدا میں نہیں جانتا میں ان میں سے ہوں یا نہیں۔
ابوبکر واسطی (رح) نے کہا ہے : جو کوئی یہ کہے : انا مومن باللہ حقا ( میں یقینا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے والا ہوں) تو اسے کہا جائے گا : حقیقت تو ( کسی شی کی) آگاہی، اطلاع اور احاطہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، پس اس کے مفقود ہونے کی وجہ سے اس بارے میں اس کا دعویٰ باطل ہے۔ اور اس سے وہ اسی معنی کا ارادہ کر رہے ہیں جو اہل سنت نے بیان کیا ہے : بیشک مومن حقیقی وہ ہے جس کے لیے جنت کا فیصلہ کردیا گیا ہو، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخفی حکمت میں سے اسے نہیں جانتا تو اس کا یہ دعوی کرنا کہ وہ حقیقۃ مومن ( انہ مومن حقا) ہے صحیح نہیں ہے)
Ayah 8:5آیت نمبر : 5
قولہ تعالیٰ : آیت : کما اخرجک ربک من بیتک بالحق زجاج نے کہا ہے : کاف محل نصب میں ہے، یعنی الانفال ثابتۃ لک کما اخرجک ربک من بیتک بالحق ( مال غنیمت آپ کے لیے ثابت ہے جس طرح نکال لایا آپ کو آپ کا رب آپ کے گھر سے حق کے ساتھ) یعنی مثل اخراجک ربک من بیتک بالحق اور معنی یہ ہے : غنائم میں اپنا حکم جاری کردیجیے اور جسے چاہیں بطورر نفل دیجئے اگرچہ وہ ناپسند کریں، کیونکہ بعض صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت کہا جب آپ ﷺ نے ہر قیدی بنا کر لانے والے کے لیے کوئی شے مقرر فرمائی : بہت سے لوگ بغیر شے کے باقی رہ جائیں گے۔ ( یعنی بہت سے لوگوں کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آئے گا) پس کما میں کاف کا حل نصب ہوا جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے۔ اور فراء نے بھی یہی کہا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : یہ قسم ہے، یعنی والذی اخرجک ( قسم ہے اس کی جس نے آپ کو نکالا) پس کاف بمعنی واو ہوا اور ما بمعنی الذی ہوا۔ اور سعید بن مسعدہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اولئک ھم المومنون حقا کما اخرجک ربک من بیتک بالحق فرمایا : اور بعض علماء نے کہا ہے : آیت : کما اخرجک ربک من بیتک بالحق فاتقوا اللہ واصلحو ذات بینکم ( جس طرح آپ کو آپ کا رب آپ کے گھر سے حق کے ساتھ نکال لایا پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنے درمیان معاملات کی اصلاح کرو)
اور عکرمہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے واطیعوا اللہ ورسولہ، کما اخرجک ( تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو جس طرح اس نے تمہیں نکالا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت : کما اخرجک قول باری تعالیٰ آیت : لھم درجت کے متیلق ہے اس کا معنی ہے : ان کے لیے اپنے رب کے پاس درجات ہیں اور بخشش ہے اور باعزت روزی ہے، یعنی مومنین کے لیے آخرت میں یہ وعدہ حق ہے جس طرح آپ کے رب نے آپ کو آپ کے گھر سے اس حق کے ساتھ نکالا ہے جو اس کے لیے ثابت ہے۔ پس اس نے آپ کے ساتھ آپ کا وعدہ پورا کردیا اور آپکو آپ کے دشمن کے مقابلہ میں کامیاب فرمایا اور آپ کے لیے اسے پورا فرما دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا : آیت : واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم (الانفال : 7) ( اور یاد کرو جب وعدہ فرمایا تم سے اللہ نے ایک کا ان دو گروہوں سے کہ وہ تمہارے لیے ہے) پس جس طرح اس نے یہ وعدہ دنیا میں پورا کردیا ہے اسی طرح وہ تمہارے ساتھ اس وعدہ کو پورا فرما دے گا جو اس نے تمہارے ساتھ آخرت کے بارے کیا ہے۔ یہ قول حسن ہے، اسے نحاس نے ذکر یا ہے اور اسے پسند کیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کما میں کاف کاف تشبیہ ہے اور اس کا مخرج مجازات کے طریقہ پر ہے، جیسا کہ کوئی کہنے والا اپنے غلام کو کہے : جس طرح میں نے تجھے اپنے دشمنوں کی طرف متوجہ کیا اور انہوں نے تجھے کمزور سمجھا اور تو نے مدد طلب کی تو میں نے تیری امداد کی اور تجھے قوی اور طاقتور بنا دیا اور تیری علت اور کمزور دور کردی، پس اب تو انہیں پکڑ لے اور اس کے ساتھ ان کا پیچھا کر۔ اور جس طرح میں نے تجھ پر احسان کیا تو تو اس پر میرا شکر ادا کر۔ پس ارشاد فرمایا : جس طرح آپ کا رب آپ کو آپ کے گھر سے حق کے ساتھ نکال لایا اور اس نے تمہیں غنودگی کے ساتھ ڈھانپ دیا تاکہ یہ باعث تسکین ہو اس کی طرف سے، یعنی اس کے ساتھ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو راحت حاصل ہو۔ اور اس نے آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس سے تمہیں پاک کر دے اور اس نے تم پر آسمان سے فرشتے نازل فرمائے جو پے در پے آنے والے ہیں، سو تم مارو ( ان کی) گردنوں کے اوپر اور چوٹ لگاؤ ان کے ہر بند پر، گویا وہ یہ فرما رہا ہے : تحقیق میں نے تمہاری علل دور کردی ہیں اور ملائکہ کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی ہے پس تم ان کے ان مواجع پر مارو، درآنحالیکہ یہ مقتل ہے، تاکہ تم حق کو حق قرار دینے اور باطل کو باطل قرار دینے میں اللہ تعالیٰ کی مراد کو پہنچ سکو۔ واللہ اعلم۔
Ayah 8:6آیت نمبر : 6
قولہ تعالیٰ : آیت : یجادلونک فی الحق بعد ما تبین ان کا جھگڑا، ان کا یہ قول تھا کہ جب آپ ﷺ نے انہیں ( ابو سفیان کا تجارتی) قافلہ کے مقابلہ کی دعوت دی اور پھر وہ قافلہ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور پھر آپ نے انہیں جنگ لڑنے کا حکم دیا اور ان کے پاس کوئی زیادہ سازوسامان نہ تھا تو یہ حکم ان پر گراں گزر اور انہوں نے کہا : اگر آپ ہمیں جنگ لڑنے کی خبر دیتے تو ہم یقینا تیاری کے ساتھ آتے اور فی الحق سے مراد فی القتال ( جنگ کے بارے میں) ہے۔ آیت : بعد ما تبین یعنی ان کے لیے یہ واضح ہونے کے بعد کہ آپ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی شی کے بارے کوئی حکم نہیں دیتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کے لیے یہ بات واضح ہونے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے قافلے یا اہل مکہ کے مقابلے میں کامیابی کا وعدہ فرما رکھا ہے اور جب قافلہ چلا گیا تو پھر اہل مکہ سے مقابلہ ضروری ہے اور انہیں کے مقابلہہ میں کامیابی بھی ہے۔ پس کلام کا مفہوم ان کے مجادلہ اور جھگڑنے کا انکار کرنا ہے۔ آیت : کا نما یساقون الی الموت قوم کی ملاقات کو ناپسندیدگی کا اظہار ہے ( یعنی ان کے لیے جنگ میں واقع ہونا گویا موت کو دعوت دینا ہے)
آیت : وھم ینظرون یعنی وہ جانتے ہیں کہ موت ان پر واقع ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : یوم ینظر المرء ما قدمت یدٰہ (النبائ : 40) یعنی اس میں ینظر بمعنی یعلم ہے۔
Ayahs 8:7–8آیت نمبر : 7۔ 8
قولہ تعالیٰ : آیت : واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم اس میں احدی محل نصب میں مفعول ثانی ہے۔ آیت : انھا لکم یہ بھی اھدی سے بدل ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ وتودون یعنی اور تم پسند کرتے ہو۔ آیت : ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : آیت : غیر ذات الشوکۃ سے مراد وہ ہے جس کے پاس ہتھیار نہ ہوں۔ اور الشوکۃ کا معنی ہتھیار ہے۔ اور الشوک سے مراد وہ بوٹی ہے جس کے کانٹے ہوں۔ اور اسی سے رجل شائک السلاح ( یعنی تیز دھار ہتھیار رکھنے والا آدمی) ہے، پھر اس میں قلب کر کے کہا جاتا ہے : شاکی السلاح مراد یہ ہے کہ تم پسند کرتے ہو کہ تم اس گروہ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجاؤ جس کے پاس نہ کوئی ہتھیار ہیں اور نہ اس میں جنگ ہے۔ یہ زجاج سے منقول ہے۔
آیت : ویرید اللہ ان یحق الحق بکلمٰتہ یعنی ( اللہ چاہتا تھا) کہ وہ اسلام کو غالب کر دے اور حق ہمیشہ حق ہی ہوتا ہے، لیکن اس کا اظہار ( اور غلبہ) اس کو اس حیثیت سے ثابت کرتا ہے کہ اس کی باطل کے ساتھ کوئی مشابتہ ظاہر نہ ہو۔ بکلمٰتہ سے بوعدہ ہے یعنی اپنے وعدہ کے ساتھ، کیونکہ اس نے اس بارے میں اپنے نبی مکرم ﷺ سے سورة الدکان میں وعدہ فرمایا ہے۔ پس ارشاد فرمایا : آیت : یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (الدخان) ( جس روز ہم انہیں پوری شدت سے پکڑیں گے ( اس روز) ہم (ان سے) بدلہ لے لیں گے) یعنی ہم ابو جہل اور اس کے ساتھیوں سے انتقام لینے والے ہیں اور مزید فرمایا : آیت : لیظھرہ علی الدین کلہ (الفتح : 28) ( تاکہ غالب کر دے اسے تمام دینوں پر )
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بکلماتہ بمعنی بامرہ یعنی تمہیں اپنے اس حکم کے ساتھ کہ تم ان کے ساتھ جہاد کرو۔ آیت : ویقطع دابر الکفرین یعنی انہیں ہلاکت کے سبب نیست ونابود کر دے۔ آیت : لیحق الحق یعنی تاکہ وہ دین اسلام کو غلبہ عطا فرمائے اور اسے تقویت دے۔
آیت : ویبطل الباطل یعنی اور وہ کفر کو مٹا دے اور اسے باطل کرنے سے مراد اسے معدوم کرنا ہے جیسا کہ حق کو حق قرار دینے کا معنی اسے ظاہر کرنا اور غالب کرنا ہے آیت : لف نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ھو زاھق ( الانبیا : 18) ( بلکہ ہم تو چوٹ لگاتے ہیں حق سے باطل پر پس وہ اسے کچل دیتا ہے اور وہ یکایک ناپید ہوجاتا ہے۔ آیت : ولہ کرہ الجرمون ( اگرچہ عادی مجرم اسے ناپسند ہی کریں)
Ayahs 8:9–10آیت نمبر : 9۔ 10
قولہ تعالیٰ : آیت : اذتستغیثون ربکم الاستغاثۃ کا معنی مدد اور نصرت طلب کرنا ہے۔ غوث الرجل ( اس نے آدمی کی مدد کی) کہا : واغوثاہ ( اے مدد کرنے والے) اور اس سے اسم غوث، غواث اور غواث ہیں۔ اور استغاثنی فلان فاغشتہ ( فلاں نے مجھ سے مدد طلب کی تو میں نے اس کی مدد کی) اس کا اسم الغیاث ہے، یہ جوہری سے منقول ہے۔
امام مسلم (رح) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کی ہے آپ نے بیان فرمایا : جب غزوہ بدر کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا تو ہو ایک ہزار تھے اور آپ ﷺ کے اصحاب تین سو سترہ افراد تھے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ قبلہ شریف کی طرف متوجہ ہوئے، پھر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور اپنے کریم رب کی بارگاہ میں التجاء کرنے لگے : ” اے اللہ ! میرے لیے وہ وعدہ پورا فرما جو تو نے میرے ساتھ فرمایا ہے (صحیح مسلم، کتاب الجہاد، جلد 2، صفحہ 93) ، اے اللہ ! تو مجھے وہ عطا فرما جو تو نے میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے۔ اے اللہ ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی “۔ پس آپ ﷺ اپنے دست مبارک پھیلا کر اور قبلہ رو ہو کر مسلسل اپنے رب کریم کی بارگاہ میں التجا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے کندھوں سے آپ کی چادر گر گئی۔ پس حضرت ابوبکر صدیق ؓ آگے بڑھے، انہوں نے آپ کی چادر مبارک اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال دی، پھر پیچھے کی جانب سے آپ کو تھام لیا اور عرض کی : یا نبی اللہ ! ﷺ آپ کا اپنے رب کی بارگاہ میں مناجات کرنا اور التجا کرنا آپ کے لیے کافی ہے، یقینا وہ عنقریب آپ کو عطا فرمائے گا جس کے بارے اس نے آپ سے وعدہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین پس اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ آپ ﷺ کی امداد فرمائی۔ اور حضرت عمر ؓ نے آگے پوری حدیث ذکر کی (مسند امام احمد، حدیث نمبر 208) ۔
مردفین دال کے فتحہ کے ساتھ حضرت نافع (رح) کی قراءت ہے۔ اور باقیوں نے دال کے کسرہ کے ساتھ اسم فاعل کے صیغہ قرار دیا ہے بمعنی متتابعین ( یعنی لگاتار، پے در پے) ہے، یکے بعد دیگرے جماعت آتی رہی اور یہ دکھائی دینے میں زیادہ خوفناک ہے۔ اور دال کے فتحہ کے ساتھ مردفین مفعول مالم یسم فاعلہ کی بنا پر ہے، کیونکہ وہ لوگ جنہوں نے بدر کے دن جنگ لڑی ان کے لیے ایک ہزار فرشتے پرے در پے لائے گئے، یعنی کفار کے مقابلے میں ان کی مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے ان کی طرف نازل کیے گئے۔ پس مردفین دال کے فتحہ کے ساتھ الف ( ہزار) کی صفت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ممدکم میں ضمیر منصوب سے حال ہے ( تقدیر کلام اس طرح ہوگی) ممدکم فی حال اردافکم بالف من الملائکۃ ( میں تمہاری مدد کرنے والا ہوں اس حال میں کہ ایک ہزار فرشتے پے در پے تمہارے پاس آنے والے ہیں) اور یہ حضرت مجاہد (رح) کا مذہب ہے۔ اور ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے کہ ردفنی اور اردفنی دونوں کا معنی ایک ہے۔ اور ابو عبید نے اردف بمعنی ردف ہونے کا انکار کیا ہے۔
انہوں نے اللہ عزوجل کے اس ارشاد کی وجہ سے یہ کہا ہے : آیت : تتبعھا الرادفۃ (النازعات) یہاں المردفۃ نہیں کہا۔ نحاس اور مکی وغیرہما نے کہا ہے : دال کو مکسور پڑھنا اولیٰ ہے، کیونکہ اہل تاویل اسی قراءت پر تفسیر بیان کرتے ہیں، یعنی اردف بعضھم بعضا ( ان میں سے بعض بعض کے ردیف بنے، پیچھے آئے) اس لیے کہ اس میں فتحہ کا معنی موجود ہے جیسا کہ ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے۔ اور اس لیے کہ اکثرقراء اسی پر ہیں۔ سیبویہ نے کہا ہے : بعض نے اسے مردفین را کے فتحہ اور دال کے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور بعض نے مردفین را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض نے را کے ضمہ کے ساتھ مردفین پڑھا ہے۔ ان تینوں قراءتوں میں دال مکسور اور مشدد ہے۔ پس سیبویہ کے نزدیک یہ پہلی قراءت میں یہ اصل میں مرتدفین ہے، پھر تا کہو دال میں ادغام کردیا گیا ہے اور اسی کی حرکت را کو دے دی گئی ہے تاکہ دو ساکن جمع نہ ہوجائیں۔ اور دوسری قراءت میں التقائے ساکنین کی وجہ سے را کو کسرہ دیا گیا ہے اور تیسری میں میم کے ضمہ کی اتباع کرتے ہوئے را کو ضمہ دیا گیا ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : ردو ردو ردیا ھذا۔ جعفر بن محمد اور عاصم جحدری نے بآلف پڑھا ہے یہ الف کی جمع ہے، جیسا کہ فلس کی جمع افلس ہے۔ اور ان دونوں سے بالف بھی منقول ہے۔ اور ملائکہ کے نازل ہونے، ان کے نشان لگانے اور ان کے قتال کرنے کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : آیت : وما جعلہ اللہ الا بشری ( آل عمران : 126) کی بحث بھی اس میں پہلے بیان ہوچکی ہے۔ اور مراد امداد ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ مراد ارداف (ردیف بنانا، پے در پے بھیجنا ہو۔ آیت : وما النصر الا من عند اللہ ( آل عمران : 126) اس میں اس پر متنبہ کیا ہے کہ مدد اور نصرت اللہ تعالیٰ عزوجل کی طرف سے تھی نہ کہ ملائکہ کی طرف سے، یعنی اگر وہ آپ کی مدد نہ فرماتا تو فرشتوں کی کثیر تعدا کے ساتھ بھی نفع حاصل نہ ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مدد و نصرت تلوار کے ساتھ بھی ہوتی ہے اور کبھی حجت و دلیل کے ساتھ ہوتی ہے۔