Ayah 9:1سورة براء ۃ
آیت نمبر 1
مسئلہ نمبر 1 ۔ پہلا مسئلہ اس کے اسماء کے بارے میں ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سورت برائت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ فاضحہ (برائیاں ظاہر کرنے والی ہے) (حکم) مسلسل نازل ہوتا رہا کچھ ان کے بارے اور کچھ ان کے بارے، یہاں تک کہ ہم ڈرنے لگے کہ یہ کسی ایک کو نہیں چھوڑے گی (1) ۔ ابو نصر عبدالرحیم قشیری نے کہا : یہ سورت غزہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بعد نازل ہوئی، اور اس کی ابتدا میں کفار کا ان کے ساتھ معاہدوں کو توڑنے کا ذکر ہے۔ اور اس سورت میں منافقین کے مخفی اور پوشیدہ رازوں کو کھولا گیا ہے۔ اور اس کا نام الفاضحہ اور البحوث رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ منافقین کے راز کے بارے بحث کرتی ہے۔ اور اس کا نام مبعثرہ اور بعثرہ بھی ہے اور اس کا معنی بھی الحث ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ علماء نے اس سورت کے اول سے بسم اللہ الرحمن الرحیم ساقط ہونے کے سبب میں اختلاف کیا ہے اس بارے میں پانچ اقوال ہیں۔ (1) یہ کہا گیا کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کے درمیان اور کسی دوسری قوم کے درمیان معاہدہ ہوتا تو جب وہ اسے توڑنے کا ارادہ کرتے تو ان کی طرف ایک تحریر لکھتے اور اس میں بسم اللہ نہ لکھتے تھے۔ پس جب اس معاہدہ کو توڑنے کے بارے میں سورت براءت نازل ہوئی جو حضور نبی مکرم ﷺ اور مشرکین کے درمیان تھا تو حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ابن طالب ؓ کو اس کے ساتھ بھیجا اور آُ نے حج کے دنوں میں یہ سورت ان پر جا کر پڑھی اور اس میں بسم اللہ نہ بڑھی گئی اس بناء پر کہ عہد توڑنے کی صورت میں بسم اللہ ترک کرنا ان عادت جاریہ تھی۔
اور دوسرا قول یہ ہے : امام نسانی (رح) نے بیان کیا ہے : کہ میں نے حضرت عثمان کو کہا : تمہیں کس شے نے اس طرف برانگخیختہ کیا کہ تم نے ” الانفال “ کا اور یہ مثانی میں سے ہے۔ اور براءت کا قصد کیا ہے اور یہ مئین میں سے ہے اور تم نے ان دونوں کو ملادیا ہے اور تم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی اور تم نے اسے سات طویل سورتوں میں رکھا ہے۔ پس تمہیں کس سے نے اس پر ابھارا ہے ؟ تو حضرت عثمان ؓ نے کہا : بیشک اللہ ﷺ جب کوئی شے (آیت) نازل ہوئی تو آپ اپنے پاس کا تبین وحی میں سے کسی کو بلاتے اور فرماتے : ” اسے فلاں سورت میں فلاں فلاں جگہ رکھو (یعنی لکھ دو ) “ اور آپ ﷺ پر آیات نازل ہوتی تو آپ فرماتے :” ان آیات کو اس سورت میں لکھ دو جس میں اس طرح کا ذکر کیا جاتا ہے “۔ (1) ۔
اور ” انفال “ پہلے پہلے نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور ” براءت “ آخر قرآن سے ہے اور اس کا قصہ اس کے قصہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اور رسول اللہ کا وصال ہوگیا اور ابھی آپ نے ہمارے لیے یہ وضاحت نہ کی تھی کہ یہ اس میں سے ہے تو میں نے یہ گمان کرلیا کہ یہ (براءت) اس ( الانفال) میں سے ہے۔ پس اسی وجہ سے ان دونوں کو ملا دیا گیا ہے اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی گئی۔ اسے ابو عیسیٰ ترمذی نے بیان کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن ہے۔
اور تیسرا اقوال یہ ہے : اور یہ بھی حضرت عثمان ؓ سے مروی ہے اور امام مالک (رح) نے اس کے بارے میں کہا ہے جسے ابن و ہب، ابن قاسم اور ابن عبدالحکم نے روایت کیا ہے کہ جب اس کا اول حصہ ساقط ہوا تو اس کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی ساقط ہوگئی۔ اور اسے ابن عجلان سے روایت کیا گیا ہے کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ سورة برائۃ، سورة بقرہ کے برابر تھی یا اس کے قریب۔ پس اس میں سے کچھ حصہ ختم ہوگیا، پس اسی وجہ سے ان دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم (2) نہیں لکھی گئی۔ اور حضرت سیعد بن جبیر نے کہا ہے : یہ سورة بقرہ کی مثل تھی۔
اور چوتھا قول ہے : یہ خارجہ اور ابو عصمہ وغیرہ ہما نے کہا ہے۔ انہوں نے کہا : جب انہوں نے حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں مصحف لکھا تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں اختلاف ہوا، ان میں سے بعض نے کہا : سورة براءت اور الاانفال ایک سورت ہے۔ اور بعض نے کہا : یہ دو سورتیں ہیں۔ پس ان دونوں کے درمیان فاصلہ رکھا گیا ان کے قول کے مطابق جنہوں نے کہا کہ یہ دو سورتیں ہیں۔ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم چھوڑ دی گئی ان کے قول کے مطابق جنہوں نے کہا : یہ دونوں ایک سورت ہے۔ پس دونوں فریق ایک ساتھ راضی ہوگئے اور دونوں کی حجت مصحف میں ثابت ہوگئی۔
اور پانچواں قول یہ ہے : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا میں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے پوچھا گیا سورت براءت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کیوں نہیں لکھی گئی ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیونکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم امان ہے۔ اور سورت براءت تلوار کے ساتھ نازل ہوئی اس میں امان نہیں ہے۔ اور مبرد سے اس کا معنی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : اسی لیے ان دونوں کو جمع نہیں کیا گیا کیونکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم رحمت ہے اور سورت برات ناراضگی کے ساتھ نازل ہوئی۔ اور اس کی مثل سفیان سے بھی مروی ہے۔ سفیان بن عینیہ نے کہا ہے : اس سورت کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی گئی کیونکہ تسمیہ رحمت ہے اور رحمت امان ہے اور یہ سورت منافقین کے بارے میں اور تلوار کے ساتھ نازل ہوئی ہے۔ اور منافقین کے لیے امان نہیں ہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ اس کے شروع میں تسمیہ نہیں لکھا گیا، کیونکہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس سورت میں تسمیہ کے ساتھ نازل نہیں ہوئے۔ یہ علامہ قشیری نے کہا ہے۔ اور حضرت عثمان ؓ کے قول میں ہے کہ تمام سورتیں آپ ﷺ کے ارشاد اور آپ کے بیان کے ساتھ مرتب ہوئیں اور یہ کہ اکیلے براءت کو عہد نبوی ﷺ کے بعد سورة انفال کے ساتھ ملایا گیا۔ اس لیے کہ اس بارے آپ ﷺ کے بیان کرنے سے پہلے ہی موت آپ کو جلدی آگئی۔ اور ان دونوں کو قرینتین پکارا جاتا ہے۔ پس واجب ہے کہ ان دونوں کو جمع کیا جائے اور ان میں سے ایک دوسرے کو ساتھ ملایا جائے، اس وصف اقتران کی وجہ سے جوان دونوں کو لازم تھا اور رسول اللہ ﷺ با حیات تھے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ علامہ ابن عربی (رح) (1) نے کہا ہے : یہ اس پر دلیل ہے قیاس دین میں اصل (اور حجت) ہے، کیا آپ حضرت عثمان اور مقتدر صحابہ کرام ؓ کی طرف دیکھ نہیں رہے کہ انہوں نے نص نہ ہونے کی صورت میں قیاس الشبہ کی طرف کیسے پناہ لی اور انہوں نے دیکھا ” براءت “ کا قصہ ” الانفال “ کے قصہ کہ مشابہ ہے پس انہوں نے اسے اس کے ساتھ ملا دیا ؟ تو جب اللہ تعالیٰ نے تالیف قرآن میں دخول قیاس کو بیان کردیا ہے تو وہ دیگر تمام احکام میں تیرا کیا خیال ہے (یعنی قیاس حجت سرعیہ تسلیم کیا جائے گا)
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : براءۃ آپ کہتے ہیں : برئت من الشی ابرا براۃ مبتد امحذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، تقدیر کلام ھذہ براءۃ اور یہ بھی صحیح ہے کہ اسے مبتدار ہونے کے سبب رفع دیا جائے اور مخبر قول باری تعالیٰ الی الذین میں ہو۔ اور نکرہ کو مبتدا بنانا جائز ہے کیونکہ نکرہ موصوفہ ہے اور یہ من وجہ معرفہ ہوچکا ہے لہذا اے اخبار عنہ بنان جائز ہے۔ اور عیسیٰ بن عمرنے برء اۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے، اس کے مطابق تقدیرعبارت یہ ہے التزموابراءۃ پس اس میں اغراء کا معنی پایا گیا۔ اور یہ فعال ۃ کے وزن پر مصدر ہے، جیسا کہ شناءۃ اور دناءۃ مصدر ہیں۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ : الی الذین عھد تم من المشرکین یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن سے رسول اللہ ﷺ نے معاہدہ کیا تھا، کیونکہ آپ عقد کرنے والی اور مختار تھے۔ اور آپ ﷺ کے تمام صحابہ کرام اس کے ساتھ راضی تھے، تو گویا انہوں نے باہمی عقد اور معاہدہ کیا پس یہ عقدان کی طرف منسوب ہوا۔ اور اسی طرح کفار کے ائمہ اپنی قوم کی طرف سے جو معاہدہ کریں گے وہ ان کی طرف منسوب ہوگا وہ تمام کو شامل ہوگا اور اس کے ساتھ ان کا مواخذہ کیا جائے گا، جب کہ اس کے سوا کچھ ممکن نہیں، کیونکہ تمام سے رضامندی حاصل کرنا متعذر ہے (1) پس جب امام وقت کسی ایسے امر کے بارے معاہدہ کرلے جس میں وہ مصلحت دیکھتا ہے تو وہ تمام رعایا پر لازم ہوجائے گا (اور اس کی پابندی تمام پر لازم ہوگی)
Ayah 9:2آیت نمبر 2
مسئلہ نمبر 2 ۔ علماء نے تاجیل اور مہلت کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے اور ان لوگوں کے بارے میں (اختلاف کیا ہے) جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ نے قطع تعلق کا اعلان کیا ہے۔ پس محمد بن اسحاق وغیرہ نے کہا ہے : یہ مشرکین کی دو قسمیں ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جن کے معاہدوں کی مدت چار ماہ سے کم تھی پس انہیں چار ماہ مکمل کرنے کی مہلت دی گئی اور دوسری وہ ہے جن کے معاہدہ کی کوئی معین اور محدود مدت نہ تھی پس اسے چار ماہ میں محصور کردیا تاکہ وہ اپنے آپ کو پابند کرلیں۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول مکرم ﷺ اور مومنین کی طرف سے اعلان جنگ ہے، جہاں کوئی پایا گیا وہیں قتل کردیا جائے گا اور قیدی بنا لیا جائے گا مگر یہ کہ توبہ کرلے۔ اور اس مدت کی ابتداء حج اکبر کے دن سے ہے اور اس کا اختتام دس ربیع الاخر کو ہوگا۔ اور رہے وہ جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تو ان کی مدت چار شہر حرام کے گزرنے تک ہے۔ اور وہ پچاس دن ہیں : بیس ذوالحجہ اور محرم سے ہیں۔
اور کلبی (رح) نے کہا ہے : بیشک یہ چار مہینے ان کے لیے تھے جن کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان معاہدہ چار ماہ سے کم تھا اور جن کا معاہدہ چار مہینوں سے زیادہ تھا تو وہ وہ ہیں جن کے بارے اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : فاتموا الیھم عھدھم الی
مدتھم (توبہ :4) کے ساتھ حکم فرمایا کہ ان کا عہد مکمل کیا جائے۔ اور یہی موقف علامہ طبری وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔
محمد اسحاق اور مجاہد رحمتہ اللہ علیہا وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور وہ اس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال قریش کے ساتھ صلح کی، اس شرط پر کہ دس سال تک جنگ نہیں ہوئی ہوگی، اس عرصہ میں لوگ پر امن رہیں گے۔ اور ایک دوسرے پر (حملہ وغیرہ کرنے) سے باز رہیں گے۔ پس بنو خذاعہ رسول اللہ ﷺ کے معاہدہ میں داخل ہو کر آپ کے حلیف ہوگئے اور بنو بکر قریش کے عہد میں داخل ہو کر ان کے حلیف بن گئے، پھر بنو بکر نے خزاعہ پر زیادتی کی اور انہوں نے اپناعہدہ توڑ دیا۔ اور اس کا سبب وہ دم تھا جو بتی بکر کا اسلام سے کچھ مدت پہلے خزاعہ پر لازم ہوا تھا (یعنی خزاعہ نے ان کا آدمی قتل تھا اور اس کا بدلہ ابھی باقی تھا) پس جب حدیبیہ کے مقام پر صلح واقع ہوگئی، تو لوگ آپس میں ایک دوسرے سے پر امن ہوگئے، تو بنو بکر میں سے بنو دیل نے اسے غنیمت جانا۔ اور یہی لوگ ہیں جن کا دم واجب تھا۔
یعنی انہوں نے اس فرصت اور خزاعہ کی غفلت سے فائدہ اٹھایا اور انہوں نے بنی اسود بن رزن کا بدلہ لینے کا ارادہ کیا اور یہی وہ ہیں جنہیں خزاعہ نہ قتل کیا تھا، پس نوفل بن معاویہ الدیلی ان لوگوں کے ہمراہ نکلا جنہوں نے بنی بکر بن عبد منات میں سے ان کی اتباع و پیروی کی (اور اس کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوئے) یہاں تک کہ انہوں نے رات کے وقت خزاعہ پر حملہ کردیا اور وہ قتل ہوگئے اور قریش نے ہتھیاروں کے ساتھ بنی بکر کی معاونت کی اور قریش کی ایک جماعت نے تو بنفس نفیس ان کی مدد کی، پس خزاعہ نے شکست خوردہ حالت میں پناہ لی جیسا کہ یہ مشہور واقعہ لکھا ہوا ہے۔ پس یہ اس صلح کو توڑنا ہے جو حدیبیہ میں واقع ہوئی تھی، چناچہ عمروبن سالم، بدیل بن ورقاء الخزاعی کی ایک جماعت یہ سب لوگ رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنے کے لیے اس معاملہ میں جو انہیں بنو بکر اور قریش کی طرف سے پیش آیا۔ اور عمرو بن سالم نے اسے شعر کی صورت میں اس طرح کہا :
یا رب انی ناشد محمدا حلف اء بینا واء بیہ الاتلدا
اے میرے رب میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنے اور ان عظیم آباد و اجداد کے درمیان قائم معاہدہ کو یاد دلاتا ہوں۔
کنت لنا اء با و کنا ولدا ثمت اسلمنا ولم تزع یدا
آپ ہمارے لیے باپ ہیں اور ہم اولاد ہیں پھر ہم نے اسلام قبول کرلیا اور اپنا ہاتھ نہیں کھینچا۔
فانصر ھداک اللہ نصرا عتدا وادع عباد اللہ یاتوا مددا
اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی فرمائے آپ فو راً مدد فرمائیے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو بلائیے کہ وہ مدد کو آئیں۔
فیھم رسول اللہ قد تجر دا ابیض مثل الشمس ینمو صعدا
ان ( لشکر) میں رسول اللہ ﷺ ہوں جو مقام و مرتبہ میں منفرد اور یکتا ہیں مثل آفتاب روشن ہیں بلندیوں چڑھ رہے ہیں۔
ان سیم خسفا وجھہ تریدا فی فیلق کالبحر یجری مزیدا
اگر ان پر زیادتی کی جائے تو ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے ایسے عظیم لشکر میں جو سمندر کی جھاگ اچھالتے ہوئے چلتا ہے۔
ان قریشا اخلفوک الموعدا و نقضوا میثاتک الموکدا
بے شک قریش نے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کیا ہوا پختہ وعدہ توڑ دیا ہے۔
وزعموا ان لست تد عو احدا وھم اذل و اتل عد دا
اور انہوں نے گمان کیا کہ آپ کسی کو نہیں بلائیں گے اور وہ خود ذلیل (کمزور) اور تعداد میں تھوڑے ہیں۔
ھم بیتونا بالوتیر ھجدا وقتلونا رکعا و سجدا
انہوں نے وتیر کے مقام پر رات کے وقت حملہ کیا جب کہ ہم سوئے تھے یا نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے ہمیں رکوع و سجود کرتے ہوئے (اسلام کی حالت میں) قتل کیا۔
پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” میں غالب نہیں آسکتا اگر میں بنی کعب کی مدد نہیں کرتا “۔ پھر آپ ﷺ نے بادل کی طرف دیکھا اور فرمایا :” بیشک یہ بھی بنی کعب کی مدد کے لیے رو رہا ہے “۔ بنی کعب سے مراد خزاعہ ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے بدیل بن ورقا اور ان کے ساتھیوں کو فرمایا :ـ” بیشک ابو سفیان عنقریب آئے گا تاکہ معاہدہ کو پختہ کرے اور صلح میں اضافہ کرے اور بخیر مقصد اور حاجت (حاصل کیے) واپس لوٹ جائے گا۔ “ قریش نے جو کیا وہ اس پر نادم اور شرمندہ ہوئے، پس ابو سفیان مدینہ کی طرف نکلا تاکہ معاہدہ کو برقرار رکھے اور صلح میں اضافہ کرے، لیکن وہ بغیر حاجت کے لوٹ آیا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے۔ اور آپ کی یہ خبر معروف ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کی تیاری شروع کردی اور اللہ تعالیٰ نے اسے فتح فرمادیا۔ اور 8 ہجری میں ہوا۔ پس جب ہوازن میں فتح مکہ کی خبر پہنچی تو مالک بن عوف النصری نے انہیں جمع کیا، جیسا کہ غزوئہ حنین کے بارے میں مشہور معروف ہے۔ اور اس کا کچھ حصہ عنقریب آئے گا۔ اور کافروں کے خلاف مسلمانوں کو فتح و کامرانی اور مدد نصرت حاصل ہوئی۔ حنین کے دن غزوئہ ہوا زن یکم شوال 8 ہجری کو پیش آیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے غنائم میں سے اموال اور عورتوں کی تقسیم چھوڑدی۔ آپ نے اسے تقسیم نہ کیا یہاں تک کہ آپ طائف میں آگئے اور آپ ﷺ نے بیس سے کچھ زائد راتیں ان کا محاصرہ کیے رکھا۔ اور اس کے سوا بھی کہا گیا ہے اور آپ نے ان کے خلاف منجنیق نصب کی اور ان پر اس کے ساتھ پتھر برسائے، جیسا کہ اس غزوئہ میں معروف ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ جعرانہ کی طرف واپس تشریف لائے اور حنین کے مال غنیمت کو وہ ان تقسیم فرمایا جیسا کہ اس بارے میں امرو خبر مشہو رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ واپس لوٹے اور الگ الگ ہوگئے۔ اور آپ ﷺ نے اس سال لوگوں کے لیے حضرت عتاب بن اسید کو امیر حج مقرر فرمایا۔ اور آپ پہلے امیر ہیں جنہوں نے اسلام میں حج ادا کروایا۔ مشرکوں نے اپنے طریقہ پر حج کیا۔ اور حضرت عتاب بن اسید انتہائی نیکو کار، فضیلت رکھنے والے، زاہد تھے۔ کعب بن زہبر بن ابی سلمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کی مدح بیان کی اور آپ کے سامنے اپنا وہ قصیدہ پڑھا جس کا آغاز اس طرح ہے :
بانت سعاد فقلبی الیوم متبرل
(میری سعاد جدا ہوگئی جس کی وجہ سے آج میرا دل ہلاک ہوا چاہتا ہے) اور اس نے آخر تک یہ قصیدہ کہہ دیا اور اس میں مہاجرین کا ذکر بھی کیا اور ان کی تعریف کی۔ اور اس سے پہلے اس کی حضور نبی کریم ﷺ کے بارے ہجو محفوظ تھی۔ پس انصارنے اس پر نکتہ چینی کی اور اعتراض کیا جب اس نے ان کا ذکر نہ کیا، و وہ دوسرے دن ایک اور قصیدہ لے کر حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کی بارگاہ میں آیا اور اس میں وہ انصار کی مدح کرتا ہے۔ پس اس نے کہا :
من سرہ کرم الحیاۃ فلا یزل فی مقنب من صالحی الانصار
جسے زندگی کی شرافت خوش کرتی ہو تو انصار کی صالح جماعت کے ساتھ رہے۔
ورثوا لمکارم کا برا عن کا بر ان الخیار
یہ نسل در نسل بزرگی کے وارث چلے آرہے ہیں، بہترین لوگ تو صرف بہترین لوگوں کی اولاد ہوتے ہیں
المکرھین السمھری با ذرع کسوافل الھندی غیر قصار
وہ اپنے ہاتھوں سے سمبری نیزے چلاتے ہیں ہندی تلواروں کی طرح جو لمبی ہیں چھوٹی نہیں۔
والناظرین باء عین محمرۃ کالجمر غیر کلیلۃ الابصار
وہ سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہیں گویا وہ آگ کے انگارے ہیں ان کی آنکھیں تھکی ماندی ہیں۔
والبائعین نفوسھم لئبیھم للموت یوم تعانق و کرار
یہ اپنے نبی کی خاطر اپنے نفوس کو موت کے عوض بیچنے والے ہیں اس روز جو لشکروں کے ملنے کا دن ہے اور بار بار حملے کا دن ہے۔
یتطھرون یردنہ نسکا لھم بد ماء من علقوا من الکفار
یہ پاکیزگی کرتے ہیں اور اسے اپنی عبادت خیال کرتے ہیں ان کی خوفوں سے جنہیں وہ کفار میں سے قتل کرتے ہیں۔
دربوا کما دربت ببطن خفیۃ غلب الرقاب من الاء سود ضوار
یہ عادی ہوگئے ہیں جس طرح خفیہ وادی میں موٹی گردنوں والے اور چیر پھاڑ کرنے والے شکاری شیر عادی ہوگئے ہیں۔
واذا حللت لیمنعوک الیھم اصحت عند معاقل الاء غفار
جب تو ان کے پاس اترت تاکہ وہ تیری حفاظت کریں تو گویا تو پہاڑی بکروں کی پناہ گاہ میں پہنچ گیا ہے۔
ضربوا علیا یوم بدر ضربۃ دانت لوقعتھا جمیع نزار
انہوں نے بدر کے دن قریش پر ایسا وار کیا جس کے پڑنے سے قبیلہ نزار کے تمام افراد نے اطاعت اختیار کرلی۔
لو یعلم الاء قوام علمی کلہ فیھم لصدقنی الذین اء ماری
اگر لوگ ان کے بارے میرے علم جیسا علم رکھیں تو وہ بھی سیری تصدیق کریں جو سیرے بارے میں شک رکھتے ہیں۔
قوم اذا خوت النجوم فانھم للطارقین المنازلین مقاری
وہ ایسی قوم ہیں جب ستارے غروب ہونے لگیں تو یہ رات کے وقت آنے والے مہمانوں کی خوب میزبانی کرتے ہیں۔ پھر طائف سے واپس لوٹنے کے بعد حضور نبی مکرم ﷺ ذوالحجہ، صفر، ربیع الاول، ربیع آخر، جمادی الاول، اور جمادی الآخر میں مدینہ طیبہ میں مقیم رہے اور رجب 9 ہجری میں میں مسلمانوں کا لشکر ساتھ لے کر غزوئہ روم، غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے۔ یہی وہ آخری غزوہ ہے جس میں آپ ﷺ شریک ہوئے۔ ابن حریج نے حضرت مجاہد (رح) سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوئہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ نے حج کا ارادہ فرمایا کہ ” وہ بیت اللہ شریف میں حاضر “ ہوں ننگے بدن مشرک بیت اللہ شریف کا طواف کررہے ہوں تو میں پسند نہیں کرتا کہ میں حج کروں یہاں تک کہ اس طرح نہ ہو “
چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر الحج بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سورة براءت کی ابتدائی چالیس آیات بھجیں تاکہ آپ انہیں حاجیوں کے سامنے پڑھیں۔ جب وہ چلے گئے تو حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا : ” سورة براءت کی ابتدا اسے قصہ کو لے کر جائو اور اس کے بارے لوگوں میں اعلان کردو جب وہ جمع ہوں “ پس حضرت علی ؓ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کی ناقہ عضباء پر سوار ہو کر نکلے یہاں تک کہ مقام ذو الحلیفہ پر انہوں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو پالیا، تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا : ” امیر امیر و مامور “ ؟ (کیا امیر ہو یا مامور (تابع ہو) تو انہوں نے جواب دیا : بلکہ میں تو مامور ہوں پھر دوں و اٹھے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کو حج کے لیے ان مراتب پر کھڑا کیا جن پر وہ دور جاہلیت میں تھے (1) ۔ نسائی کی کتاب میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے یوم ترویہ (آٹھویں ذی الحجہ کا دن) سے ایک دن قبل لوگوں پر سورت براءت پڑھی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ (یعنی مکمل نے سورت براءت پڑھ کر سنائی) اور یوم عرفہ اور یوم نحر (نویں اور دسویں ذی الحج کے دن) میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا خطبہ ختم ہونے کے بعد تین دنوں میں (اسے پڑھا) اور جب وہاں سے واپس لوٹنے کا پہلا دن تھا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انہیں بتایا کیسے واپس چلیں گے اور کیسے رمی کریں گے، آپ انہیں ان کے مناسک سکھاتے رہے۔ پس جب آپ فارغ ہوئے تو حضرت علی ؓ اٹھے اور لوگوں پر پوری سورت براءت پڑھی (2) ۔
سلیمان بن موسیٰ نے کہا ہے : جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ عرفات میں خطبہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا : اے علی ! اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچادو پس حضرت علی ؓ کھڑے ہوئے اور وہ عمل کیا (یعنی سورت براءت پڑھ کر سنائی) فرمایا : میرے دل میں یہ بات آء کہ تمام لوگ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خطبہ میں حاضر نہیں، چناچہ میں نے یوم نحر کو خیموں کی تلاش شروع کردی (اورر وہاں جا کر انہیں پیغام پہنچایا) ۔ ترمذی نے زید بن یثیع سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا : کون سی شے کے ساتھ آپ کو حج پر بھیجا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : چار چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے کہ کوئی ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرے اور وہ جن کے اور نبی مکرم ﷺ کے مابین معاہدہ ہے تو وہ اپنی پوری مدت تک ہے اور جن کا کوئی عہن نہیں تو ان کے لیے مدت چاہ ماہ ہے اور جنت میں سوائے مومن نفس کے کوئی داخل نہ ہوگا اور اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک اکٹھے نہ ہوں گے (3) ۔ فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور نسائی نے اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ نے فرمایا : پس میں اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔
ابو عمر نے بیان کیا ہے : حضرت علی ؓ کو بھیجا گیا تاکہ آپ ہر عہد والے کے ساتھ اس کا عہد توڑ دیں۔ اور ان سے یہ عہدلیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہیں کرے گا اور نہ کوئی ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا اور اس سال 9 ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حج ادا کروایا۔ پھر آئندہ سال حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنا وہ حج ادا فرمایا جس کے بغیر آپ نے مدینہ طیبہ سے کوئی حج نہیں کیا اور آپ ﷺ کا یہ حج ذوالحجہ میں ادا ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک زمانہ گردش کناں ہے “ الحدیث۔ اس کا بیان آیئہ النسئی میں آئے گا۔ اور حج یوم قیامت تک ذوالحجہ میں ثابت اور پختہ ہوگیا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے 9 ہجری میں ذوالقعد میں حج ادا کیا تھا۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : سورت ” براء ۃ “ حضرت علی ؓ کو عطا کرنے کی میں حکمت یہ تھی کہ براءت اس نقض عہد کو متضمن ہے جس کا عقد حضور نبی مکرم ﷺ نے کیا تھا اور عربوں کا عمل اور طریقہ یہ تھا کہ عقد کوئی نہیں کھول سکتا تھا مگر وہی جس نے وہ عقد کیا ہوتا یا پھر اس کے خاندان میں سے کوئی آدمی ایسا کرسکتا تھا۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ نے حجت کے ساتھ عربوں کی زبانوں کو بند کرنے کا ارادہ فرمایا اور اپنے اہل بیت میں سے اپنے زاد ہاشمی کو نقض عہد کے اعلان کے لیے بھیجا تاکہ ان کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی باقی نہ رہے (1) ۔ اس مفہوم کو زجاج نے بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء نے کہا ہے : یہ آیت ہمارے اور مشرکین کے درمیان عہد توڑنے کے جواز کو متضمن ہے۔ اور اس کی دو حالتیں ہیں : ایک حالت یہ ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان مدت گزر جاتی ہے تو ہم انہیں جنگ کے بارے آگاہ کرتے ہیں۔ ایذان کا معنی اختیار دینا ہوتا ہے۔ اور دوسری یہ ہے : ہمیں ان کی طرف سے دھوکہ دہی کا خوف ہوتا ہے، تو ہم ان کے ساتھ معاہدوں توڑدیتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : یہ آیت منسوخ ہے، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ نے معاہدہ کیا پھر آپ نے عہد توڑ دیا جب آپ کو قتال کا حکم دیا گیا۔
Ayah 9:3مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : و اذ ان، الا ذان کا لغوی معنی بغیر کسی اختلاف کے الاعلام (اطلاع کرنا، اعلان کرنا) ہے اور یہ براٗۃ پر معطوف ہے۔ الی الناس یہاں الناس سے مراد ساری مخلوق ہے۔ یوم الحج الاکبر یہ ظرف ہے اور اس میں عامل اٗذان ہے اگرچہ اس کی صفت من اللہ کے قول سے لگائی ہے، کیونکہ اس میں فعل کی بو باقی ہے اور یہ ظروف میں عمل کرسکتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ س میں عامل مخزی ہے۔ اور اٗذان کا عمل کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس کی صفت لگائی گئی ہے اور یہ فعل کے حکم سے خارج ہوگیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ حج اکبر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ پس بعج نے کہا ہے : اس سے مراد یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ کا دن) ہے یہ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت ابن عباس ؓ، حضرت طائوس اور حضرت مجاہد سے مروی ہے۔ اور یہی امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کا موقف ہے اور اسی طرح امام شافعی (رح) نے کہا ہے۔ اور حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن ابی اوفیٰ اور حضرت بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ حج اکبر یوم نحر (دسویں ذی الحجہ کا دن) ہے۔ اور اسے ہی علامہ طبری نے پسند فرمایا ہے۔
اور حضرت ابن عمر ؓ عنہانے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سال حج کے دوران جس میں آپ نے حج ادا فرمایا دسویں کے دن وقوف کیا اور فرمایا :’ ’ یہ کون سا دن ہے ؟ “۔ تو صحابہ کرام عرض کی : یوم نحر ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ حج اکبر کا دن ہے “ (1) ۔ اسے ابودائود نے نقل کیا ہے۔ اور امام بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مجھے ان لوگون میں بھیجا جو دسویں ذی الحج (یوم نحر) کو منیٰ میں اعلان کرینگے کے اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا اور حج اکبر کا دن یوم نحر ہے۔ اور اسے لوگوں کے اس قول کی وجہ سے حج اکبر کہا گیا ہے : (کہ وہ) حج اصغر بولتے ہیں۔ پس اس سال حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کے معاہدے توڑدیئے۔ پس حجتہ الوداع کے سال جس میں حضور نبی مکرم ﷺ نے حج ادا فرمایا کسی مشرک نے حج نہیں کیا۔ (2) ۔
اور ابن ابی اولیٰ ؓ نے کہا ہے : یوم نحر ہی حج اکبر کا دن ہے، اس میں خون بہایا جاتا ہے۔ اس میں بال کٹوائے جاتے ہیں (یعنی حلق وغیرہ کیا جاتا ہے) اس میں میل کچیل اتاری جاتی ہے اور اس میں احرام کھل جاتے ہیں۔ اور یہ مذہب امام مالک (رح) کا ہے، کیونکہ اس میں مکمل حج یوم نحر میں ہے، کیونکہ وقوف اس کی رات کو ہے، ری جمار، قربانی، حلق، اور طواف اس کی صبح کے وقت ہیں۔
فریق اول نے حدیث مخرمہ سے استدلال کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ”‘ حج اکبر کا دن یوم عرفہ ہے “ (3) ۔
اسے قاصی اسماعیل نے روایت کیا ہے اور امام ثوری اور ابن جریح رحمتہ اللہ نے کہا ہے : حج اکبر وہ ہے جس میں وقوف عرفات ہو اور حج اصغر عمرہ ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد تمام ایام حج ہیں۔ اور حسن اور عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کہا ہے : اسے یوم الحج الاکبر کہا گیا ہے کیونکہ اس سال مسلمانوں اور مشرکوں نے حج کیا (1) اور اس میں اس وقت کئی دینو کی عیدیں اکتھی اور متفق ہوئیں، مثلاً یہود، نصاریٰ اور مجوسی۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ ضعیف ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں اس لیے اسے اکبر کی صفت سے متصف کرے اور حسن بھی مروی ہے : بیشک اس حج کا نام اکبر رکھا ہے کیونکہ اس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حج ادا کیا اور اس میں معاہدے توڑ دیئے گئے (2) اور یہ وہ ہے جو حسن کے نظریہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ اور ابن سیرین نے کہا ہے : یوم الحج الا کبر وہ سال ہے جس میں حضور نبی رحمت ﷺ نے ججۃ الوداع کیا۔ اور اس میں آپ کی معیت میں امتیوں نے بھی حج ادا کیا۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : ان اللہ بریء من المشرکین و رسولہ اس میں ان ہمرہ کے فتحہ کے ساتھ محل نصب میں ہے اور تقدیر کلام ہے باٗن اللہ ہے اور جنہوں نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اس طرح تقدیر ذکر کی ہے قال ان اللہ بری یہ ان کی خبر ہے۔ ور سولہ یہ محل پر معطوف ہے اور اگر آپ چاہیں تو برء میں ضمیر مب فوع پر عطف کرلیں۔ یہ دونوں حسن ہیں، کیونکہ کلام طویل ہوگیا ہے۔ اور اگر چاہیں تو اسے مبتدا پر معطوف کرلیں اور خبر محذوف ہو۔ تقدیر کلام ہو : ورسولہ بریء منھم اور جنہوں نے ورسولہ نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور حسن وغیرہ ہیں۔ انہوں نے اس کا عطف اس جلالت لفظ اللہ پر کیا ہے۔ اور شواذ میں سے یہ ہے کہ ورسولہ قسم کی بنا پر مجرور بھی ہے۔ تقدیر عبارت ہے و حق رسولہ (اور اس کے رسول کی حق کی قسم) اور یہ حسن سے مروی ہے۔ اس بارے میں حضرت عمر ؓ کا قصہ اول کتاب میں گزر چکا ہے۔ فان تبتم پس اگر تم توبہ کرلو شرک سے۔ فھو خیر لکم تو وہ تمہارے لیے زیادہ لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ وان تولیتم اور اگر تم منہ پھیرے رہو ایمان سے۔ فاعلموا انکم غیر معجزی اللہ تو خوب جان لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، کیونکہ وہ تمہارا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ اپنی سزا تم پر اتارنے والا ہے۔
Ayah 9:4قولہ تعالیٰ : الالذین عھد تم من المشرکین یہ استشنا متصل ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہے سوائے ان کے جو ایک معینہ مدت تک معاہدہ کرنے والے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ استشنا منقطع ہے، یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ان سے بری ہے لیکن وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا اور وہ یہ بھی کہا گیا ہے اور اس عہد پر ثابت قدم رہے پس تم ان کا معاہدہ مدت مقررہ تک مکمل کرو۔ اور قول باری تعالیٰ ثم لم ینقصو کم اس پر دلالت کرتا ہے کہ معاہدہ کرنے والوں میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنا معاہدہ توڑدیا اور بعض وہ ہیں جو اسے پورا کرنے پر ثابت قدم رہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو ان کے معاہدہ کو توڑنے کی اجازت عطا فرمائی جنہوں نے معاہدہ میں خلاف ورزی کی اور ان کے معاہدہ کو پورا کرنے کا حکم دیا جو معینہ مدت تک اپنے عہد پر باقی رہے۔ (1) ۔ اور لم ینقصو کم کا معنی ہے کہ انہوں نے معاہدہ کی شرائط میں ذرہ بھر کمی نہیں کی۔ ولم یظاھروا اور انہوں نے (تمہارے خلاف) کسی کی مدد اور معاونت نہیں کی۔ حضرت عکرمہ اور عطا بن یسار رحمتہ اللہ علیہا نے ثم لم ینقصو کم ضاد کے ساتھ مضاف کو حذف کرکے پڑھا ہے تقدیر عبارت ہے ثم لم ینقضوا عھد ھم کہا جاتا ہے : بیشک یہ (حکم) مخصوص ہے اور اس سے خاص کر بنو ضمرہ مراد لیے جاتے ہیں۔ پھر فرمایا : فا تموا الیھم عھدھم الی مد تھم پس تم ان کے عہد کی معینہ مدت پوری کروا اگرچہ وہ چار ماہ سے زیادہ ہو
Ayah 9:5مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : فاذ انسلخ الا شھر الحرم یعنی جب نکل جائیں حرمت والے مہینے اور سلحت اشھر جب تو مہینے کے آخری ایام میں پہنچ جائے (تو یہ جملہ کہتا ہے) تسلخہ سلخا دسلوخا بمعنی خرجت منہ (یعنی میں اس سے نکل گیا) اور شاعر نے بھی کہا ہے :
ٗءاذا ما سلخت الشھر اھللت قبلہ کفی قاتلا سلخی الشھور و اھلالی
اور انسلخ الشھر (مہینہ گزر گیا، نکل گیا) اور انسلخ النھار من اللیل المقبل (آنے والی رات سے دن نکل گیا)
ٗاور سلخت المراءۃ درعھا (عورت نے اپنی قمیض اتاردی) اور قران کریم میں ہے : وایۃ لھم الیل نسلخ منہ النھار (یسین :37) (اور دوسرے نشانی ان کے لیے رات ہے ہم اتار لیتے ہیں اس سے دن کو) اور نخلۃ مسلاخ یہ وہ درخت ہوتاجس کی سبز خشک کھجوریں بکھرجائیں۔
الاشھر الحرام کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں : کہا گیا ہے کہ معروف مہینے ہیں تین مہینے لگا تار ہیں اور ایک مہینہ الک اور مفرد ہے۔ اصم نے کہا ہے : مراد وہ ہیں جن کا مشرکوں سے کوئی عقد نہیں پس ان پر لازم ہے کہ وہ ان کے قتال سے رکے رہیں یہاں تک کہ حرمت والے مہینے گزر جائیں۔ اور یہ پچاس دنوں کی مدت ہے جیسا کہ اسے حضرت ابن عباس ؓ نے ذکر کیا ہے، کیونکہ اس کے بارے میں اعلان یوم نحر کو ہوا۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ معاہدہ کے چار مہینے ہیں۔ یہ مجاہد، ابن اسحاق، ابن زید اور عمرو بن شعیب نے کہا ہے۔ اور انہیں حرم کہا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالٰ نے مومنوں ان میں مشرکوں کا خون اور ان کے ساتھ تعرض کرنا سوائے سبیل خیر کے حرام قرار دیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : فاقتلوا المشرکین یہ حکم عام ہے اور ہر مشرک کے بارے میں ہے، لیکن سنت نے اسے خاص کردیا ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ عورت، راہب اور بچے وغیرہ کا قصہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا ہے : حتی یعطوا الجزیۃ (التوبہ :29) (یہاں تک وہ جزیہ ادا کریں)
مگر یہ جائز ہے کہ مشرکین کا لفظ اہل کتاب کو شامل نہ ہو اور یہ بتوں کی پوجا کرنے والوں اور دوسروں سے جزیہ لینے کے منع کا تقاضا کرتا ہے، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ جاننا چاہیے کہ مطلق ارشاد باری تعالیٰ : فاقتلوا المشرکین ان کے قتل کے جائز ہونے کا تقاضا کرتا ہے وہ کسی بھی مشرک ہوں، مگر مثلہ سے نہی کے بارے احادیث موجود ہیں۔ اور اس کے باوجود یہ جائز ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے اس وقت مرتدوں کو آگ کے ساتھ جلاکر، پہاڑوں کی چوٹیوں سے پتھر اور تیر مار کر اور کنوئوں میں الٹا لٹکا کر قتل کیا یہ آیت کے عموم کے ساتھ متعلق ہے۔ اور اسی طرح حضرت علی ؓ کا مرتدوں تک ایک جماعت کو جلادینا بھی جائز قرار دیتا ہے کہ آپ اس مذہب کی طرف مائل ہیں۔ اور اس کا اعتماد لفظ کے عموم پر ہے۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : حیث و جد ثمو ھم یہ ہر جگہ کے بارے میں عام ہے۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے مسجد حرام کو خاص کیا ہے، جیسا کہ سورة بقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ پھر علماء نے اختلاف کیا ہے۔ پس حسین بن فضل نے کہا ہے : اس نے قرآن کریم کی ہر اس آیت کو منسوخ کردیا ہے۔ جس میں دشمنوں کی اذیتوں پر صبر کرنے اور ان سے اعراض کرنے کا ذکر ہے۔ حضرت ضحاک، سدی اور عطا رحمتہ اللہ علیہم نے کہا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے منسوخ ہے : فاما منا بعدواما فدائ (اور یہ کہ کسی قیدی کو پکڑکر قتل نہیں کیا جائے گا، ( بلکہ) یا تو اس پر احسان کیا جائے گا (یعنی بغیر فدیہ کے آزاد کردیاجائیگا) یا پھر اس سے فدیہ لیا جائے گا۔ حضرت مجاہد اور حضرت فتاوہ نے کہا ہے : بلکہ یہ آیت اس ارشاد باری تعالیٰ کے لیے ناسخ ہے : فاما منا بعد و اما فداء اور وہ یہ کہ مشرک قیدیوں میں سوائے قتل کے اور کوئی شی جائز نہیں۔ اور ابن زید نے کہا ہے : دونوں آیتیں محکم ہیں۔ اور یہی صحیح ہے، کیونکہ احسان کرنا، قتل کرنا اور فدیہ لینا رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان میں اس پہلی جنگ سے مسلسل جاری رہا جو آپ نے ان کے ساتھ لڑی اور غزہ بدر ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : وحذوھم اس پر دلالت کرتا ہے اور اخذ کا معنی قید کرنا، گرفتاری کرنا ہے۔ اور گرفتاری قتل کے لیے ہوتی ہے یا فدیہ کے لیے یا احسان کرنے کے لیے جس پر امام وقت کی رائے قائم ہوجائے۔ اور احصروھم کا معنی ہے جو کوئی تمہارے شہروں میں تصرف کرنے اور تمہارے پاس آنے کا ارادہ کرے تو تم اسے روک لو، مگر یہ کہ تم انہیں اجازت دو اور وہ تمہارے شہروں میں تصرف کرنے اور تمہارے پاس آنے کا ارادہ کرے تو تم اسے روک لو، مگر یہ کہ تم انہیں اجازت دو اور وہ تمہارے پاس امان لے کر داخل ہوں۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : وا قعد الھم کل مرصد، المرصد سے مراد وہ جگہ ہے جس میں دشمن کی تاک میں بیٹھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : رصدت فلانا ارصدہ یعنی میں فلاں کی تاک میں بیٹھا (1) ۔ یعنی تم ان کے لیے ایسی مخفی اور پوشیدہ جگہوں میں بیٹھو جہاں سے انہیں تاکا جاسکتا ہو۔ عامر بن طفیل نے کہا ہے :
ولقد علمت وماء اخالک ناسیا ان المنیۃ للفتی بالمرصد
اور عدی نے کہا ہے :۔
اٗعا ذلء انہ الجھل من لذۃ الفتی وان المنایا للنفوس بمرصد
ان دونوں میں مرصد تاک میں بیٹھنے کی جگہ کے معنی میں ذکر کیا گیا ہے۔
اور اس میں انہیں دعوت اسلام دینے سے پہلے بھی قتل کرنے اور انہیں پکڑنے کے جواز پر دلیل ہے (02) ۔ اور کل ظرف کی بنا پر منصوب ہے اور تقدیر عبارت ہے : فی کل مرصد علی کل مرصد اور مرصد کو طریق کا اسم بنایا جائے گا۔ اور ابو علی نے زجاج کو اس بارے میں غلط قراردیا ہے کہ انہوں نے الطریق کو ظرف بنایا ہے اور کہا : طریق مخصوص جگہ ہوتی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے :
مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ : فان تابوا پس اگر وہ شرک سے توبہ کرلیں۔ و اقاموا الصلو ۃُ واتوا الزکوۃ فخلو سبیلھم اس آیت میں تامل اور غور فکر ہے۔ اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قتل کو شرک پر معلق کیا ہے، پھر فرمایا : فان تا بو اور اس میں اصل یہ ہے کہ قتل جب شرک کے سبب ہے تو وہ اس کے زوال کے سبب زائل ہوجائے گا۔ اور یہ صرف توبہ کے ساتھ قتل آنے سے پہلے صرف توبہ کے ساتھ قتل ساقط ہوجاتا ہے اور یہ اس معنی میں بین اور واضح ہے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے ساتھ دوسری دو شرطیں ذکر کی ہیں۔ اور انہیں لغو قرار دینے کا کو ذریعہ اور سبب نہیں۔ اس کی نظی حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کا یہ ارشاد ہے : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ قتال کروں یہاں تک کہ وہ کہنے لگیں لا الہ الا اللہ اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور جب وہ ایسا کرلیں تو انہوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے بچا لیے، محفوظ کرل یے مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے “۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : قسم بخدا ! میں اسے ضرور قتل کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کیا۔ کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوبکر صدیق ؓ پر رحم فرمائے اور کتنے عظیم فقیہ تھے۔ اور علامہ ابن عرطی (رح) نے بیان کیا ہے : پس قرآن و سنت دونوں منظم ہیں اور دونوں پر عمل جاری ہے۔ مسلمانوں کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کے جس نے نماز اور تمام فرائض حلال سمجھ کر ترک کیے وہ کافر ہے اور جس نے غفلت اور سستی کرتے ہوئے سنن کو ترک کردیا وہ فاسق ہوگیا اور جس نے نوافل کو چھوڑدیا تو اس کے لیے کوئی حرج نہیں، مگر یہ کہ ان کی فضیلت کا انکار کرے گا تو وہ کا فر ہوجائے گا، کیونکہ اس طرح جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے اور جس کے بارے آپ نے خبر دی وہ اسے رد کرنے والا ہوجاتا ہے۔ اور اس کے بارے میں اختلاف ہے جس نے نماز ترک کردیا لیکن نہ اس کا انکار کیا اور نہ اسے حلال سمجھا۔
یونس بن عبدالا علیٰ نے روایت کیا ہے اور کہا ہے۔ اور یہی قول حماد بن زید مکحول اور وکیع کا بھی ہے۔
اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : اسے قید کردیا جائے گا اور مارا جائے (لیکن) اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہی قول ابن شہاب کا ہے اور اسی طرح دائود بن علی کہتے ہیں۔ اور ان کی حجت اور دلیل حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے : امرت ان اقتل الناس حتی یقولوالا الہ اللہ فاز قالوا ذلک عصموا منی دماء ھم اموالھم الا بحقھا۔ (ا) ۔ اور انہوں نے کہا : ان کا حق وہ تین چیزیں ہیں جن کے بارے میں حضور نبی کرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں ہوتا مگر تین چیزوں کے بارے میں سے ایک کے پائے جانے کا ساتھ : ایمان کے بعد پھر کفر کرنا یا احصان کے بعد زنا کا ارتکاب کرن یا کسی آدمی کو بغیر قصاص کے قتل کرنا “ (2) ۔ صحابہ کرام اور تابعین ؓ کی ایک جماعت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جس نے ایک نماز جان بوجھ کر بغیر عذر کے چھوڑی یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا اور اس نے اسے ادا کرنے اور قضاء کرنے سے انکار کردیا اور کہا : میں نماز نہیں پڑھوں گا، تو وہ کافر ہوجائے گا اور اس کا خون اور مال دونوں حلال ہوں گے، اس کے مسلمان ورثا میں سے کوئی اس کا وارث نہیں بنے گا اور اسے توبہ کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ پس اگر اس نے توبہ کرلی (تو بہتر) ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ اور اس کے مال کے حکم مرتد کے مال حکم کی طرح ہوگا۔ اور یہی قول اسحاق کا ہے۔ اسحاق نے کہا ہے :
حضور نبی مکرم ﷺ کے زمانہ مقدس سے لے کر ہمارے اس زمانے تک اہل علم کی رائے اسی طرح رہی ہے۔ اور ابن خویز منداد نے کہا ہے : ہمارے اصحاب نے اختلاف کیا ہے تارک نماز کو کب قتل کیا جائے گا ؟ پس بعض نے کہا ہے : مختار وقت کے آخر میں۔ اور بعض نے کہا ہے : وقت ضرورت کے آخر میں۔ اور اس میں سے یہی صحیح ہے۔ اور وہ یہ کہ عصر کے وقت میں چار کعتیں سورج کے غروب ہونے تک اور رات کے وقت چار رکعتین عشاء کے وقت کی انتہا تک صبھ کے وقت دو رکعتیں سورج طلوع ہونے تک وقت ضورۃ باقی ہوتا ہے۔ اور اسحاق (رح) نے کہا ہے : اور ذھاب الوقت (وات نکل جانا) سے مراد یہ ہے کہ ظہر کی نماز کو غروب آفتاب تک موخر کردیا جائے اور مغرب کی نماز کو طلوع فجر تک موخر کردیا جائے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے کہا : میں نے توبہ کرلی ہے، تو اس کا یہ قول کافی نہ ہوگا یہاں تک کہ توبہ کو ثابت کرنے والے اس کے افعال اس کی طرف منسوب ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں توبہ کے ساتھ نماز قائم کرنے اور زکواۃ ادا کرنے کی شرط ذکر کی ہے تاکہ ان کے ساتھ وہ توبہ کو ثابت کرسکے۔ اور آیت ربا میں فرمایا : وان تبتم فلکمر ئوس اموالکم (البقرہ : 279) (اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہیں مل جائیں گے اصل مال) اور مزید فرمایا : الا الذین تا بوا واصلحو و بینوا (البقرۃ :160) (البتہ جو لوگ تو بہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور ظاہر کردیں) اس کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 9:6مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : وان احد منالمشرکین یعنی ان میں سے جنہیں قتل کرنے کے بارے میں آپ کو حکم دیا ہے۔ استجارک یعنی آپ اس سے پناہ طلب کرے، یعنی آپ کی امان اور آپ کی ذمہ داری کا مطالبہ کرے، تو ان سے وہ امان عطا فرمادیجئے تاکہ وہ قرآن کریم کو سنے، یعنی اس کے احکام اور اس کے اوا مر ونواہی کو سمجھے۔ پس اگر اس نے ایک امر بھی قبول کرلیا تو یہ اچھا ہے اور اگر وہ انکار کردے تو پھر اسے ان کی امن گاہ تک پہنچا دو (1) اور یہ وہ ہے جو میں کوئی اختلاف نہیں۔ واللہ اعلم
امام مالک (رح) نے کہا ہے : جب مسلمان ملکوں کے راستے میں کوئی حربی پایا گیا اور نے کہا : میں امان طلب کرنے کے لیے آیا ہوں ْ ۔ امام مالک رحمتہ اللہ نے فرمایا : یہ مشتبہ ہیں (2) اور میری رائے یہ ہے کہ اسے اس کی امان گاہ کی طرف لوٹا دیا جائے۔ اور ابن قاسم نے کہا ہے : سی طرح وہ ہے جو پایا جائے در آنحا لی کہ وہ تجارت کے لیے ہمارے ساحل پر اترا ہو اور کہتا ہو : مرا گمان یہ تھا کہ تم اس کے ساتھ تعرض نہیں کروگے جو تجارت کے لیے آئے یہاں تک کہ وہ (سامان) بیچ لے۔
ظاہر آیت بلاشبہ اسی کے بارے میں ہے جو قرآن کریم سننے اور دین اسلام میں نظروفکر کا ارادہ رکھتا ہے۔ رہا اس کے علاوہ کسی پناہ دینا تو تو یہ مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر ہے اور ان امور میں نظر و فکر کے اعتبار سے جن کی منفعت اور فوائد اس کے سبب انہیں پہنچیں۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ تمام علماء کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ سلطان وقت کی امان جائز ہے، کیونکہ وہ نظر و فکر اور مصلحت کو پیش نظر رکھنے کے اعتبار سے آگے اور مقدم ہے۔ اور منافع کے حصول اور نقصانات کو دور کرنے میں تمام کا نائب ہے، البتہ غیر خلیفہ کی امان میں اختلاف ہے۔ پس رہا غلام تو مشہور مذہب میں اس کی امان جائز ہے۔
امام شافعی اور آپ کے اصحاب امام احمد، اسحاق، اور زاعی، ثوری، ابو ثور، دائود اور محمد بن حسن رحمتہ اللہ علیہم نے یہی کہا ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : غلام کی مان جائز نہیں ہے اور یہی ہمارے علماء کا دوسرا قول ہے۔ اور پہلا قول اصح ہے : کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : مسلمانوں کے خون کی نگرانی اور دفاع کیا جائے گا اور ان کے ادنی ان کے ذہ کے بارے میں کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے : جب آپ ﷺ نے ادناھم فرمایا ہے (تو یہ اس طرف اشارہ ہے) کہ غلام کی امان جائز ہے۔ اور ازاد عورت اس کے زیادہ لائق اور مناسب ہے اور اس علت کا کوئی اعتبار نہیں کہ ” اس کے لیے یعنی غلام کے لیے وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ اور عبعدالملک بن ماجشون نے کہا ہے : عورت کی امان جائز نہیں ہوتی مگر یہ کہ امام وقت اس کی اجازت دے اور یہ اپنے اس قول کے ساتھ جمہو سے الگ اور جدا ہیں۔ اور جہاں تک بچے کا تعلق ہے تو جب وہ قتال کی طاقت رکھتا ہو تو اس کی امان جائز ہے، کیونکہوہ بھی من جملہ قتال کرنے والوں کے ہوتا ہے اور حفاظت کرنے والے گروہ میں داخل ہے۔ اور حضرت ضحاک اور سدی رحمتہ اللہ علیہم اس طرف گئے ہیں کہ آیت قول باری تعالیٰ : فاقتلوا المشرکین کے ساتھ منسوخ ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : یہ آیت محکم ہے اور قیامت تک ثابت ہے۔ اور یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس آیت کا حکم ان چار ماہ کی مدت باقی رہا جو مدت ان کے لیے بیان کی گئی اور یہ کوئی شے نہیں ہے۔ اور حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے پاس آیا اور کہا : اگر ہم میں سے کوئی آدمی چار ماہ گزرنے کے بعد حضرت محمد ﷺ کے پاس آنے کا ارادہ کرلے وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے یا کسی حاجت کے لیے آپ کے آئے تو وہ قتل کردیا جائے گا ؟ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا : نہیں، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : وان احد من المشرکین استجارک فاجره حتى يسمع کلم اللہ اور یہی صحیح ہے اور آیت محکم ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ وان احد، احد مرفوع ہے اسی طرح کے فعل مضمر کے سبب جو اس کے بعد ہے اور یہ ان میں تو اچھا ہے لیکن اس کے اخوات میں قبیح ہے۔ ان اور اس کے اخوات کے درمیاں فرق کے بارے میں سیبو کا مذہب ہے کہ یہ جب حروف شرط کی اصل ہے تو اسے اس کے ساتھ خاص کردیا گیا ہے اور اس لیے بھی کہ یہ وصف اس کے علاوہ میں نہیں ہوتا۔ محمد بن یزید نے کہا ہے کہ ان کا قول لانھا لاتکون فی غیرہ یہ غلط ہے، کیونکہ یہ (ان) بمعنی ما ہوتا ہے اور ثقیلہ سے مخففہ ہوتا ہے لیکن یہ مبہم ہے اور اس کے سوا دوسرے اس طرح نہیں۔ اور سیبویہ نے شعر کہا ہے :
لا تجزی ان منفسا اھلکتہ واذ ھلکت فعند ذالک فاجزعی
مسئلہ نمبر 4 علماء نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ : حتی یسمع کلم اللہ میں اس پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام قاری کی قراءت کے وقت سنا جائے۔ یہ شیخ ابو الحسن، قاضٰ ابو بکر، ابع الع اس القلاسی، ابن مجاہد اور ابو اسحاق الاسفر ائنی رحمتہ اللہ علیہم اور ان کے علاوہ نے کہا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی یسمع کلم اللہ پس یہ اس پر نص ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس کے کلام ہونے کی وجہ سے قاری کو قراءت کے وقت سنا جائے۔ اور اس پر مسلمانوں کا اجماع بھی دلالت کرتا ہے اور امرء القیس کا شعر پڑھے جانے کے درمیان فرق کیا ہے۔ اور کلام اللہ تعالیٰ کے معنی سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں اور یہ کہ نہ اس کے حروف اور نہ آواز۔ والحمد للہ
Ayah 9:7قولہ تعالیٰ : کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عھد تم عند المسجد الحرام یہاں کیف تعجب کے لیے ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : کیف یسبقنی فلان (یعنی اسے نہیں چاہیے کہ وہ مجھ پر سبقت لے جائے۔ اور عھد یکون کا اسم ہے۔ اور آیت میں اضمار ہے، ای کیف یکون للمشرکین عھد مع اضمار الفدر (1) (یعنی کیونکر مشرکین کے لیے عہد ہوسکتا ہے اس کے ساتھ کہ عذر اور دھوکہ دہی مخفی ہو) جیسا کہ شاعر نے کہا :
خبر تمانی انما الموت بالقری فیکف وھاتا ھضبۃ و کثیب
تقدیر عبار ہے ــ: فکیف مات، یہ زجاج سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے کیونکہ ان مشرکوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے کہ وہ کل اس کے سبب اس کے عذاب سے پر امن اور محفوظ ہوجائیں اور کیونکر ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کے نزدیک کوئی معاہد ہوسکتا ہے کہ وہ اس کے سبب دنیا کے عذاب سے پر امن اور محفوظ ہوجائیں، پھر استشنیٰ کی اور فرمایا : الا الذین عھد تم عند المسجد الحرام محمد بن اسحاق نے کہا ہے : وہ بنو بکر ہیں۔ یعنی معاہدہ نہیں مگر ان لوگوں کے لیے جنہوں نے نہ معاہدہ اور نہ اسے فسخ کیا۔
قولہ تعالیٰ : فما استقامو الکم فاستقیمو لھم یعنی جب تک تمہارے عہد کو پورا کرنے پر وہ قائم رہیں تو تم بی ان کے لیے اسی کی مثل پر قائم رہو۔ ابن زید نے کہا ہے : پس وہ قائم نہیں رہے تو ان کے لیے چار مہینے مدت مقرر کردی گئی۔ اور رہے وہ جن کے لیے کوئی عہد نہیں تو تم انہیں قتل کو جہاں بھی تم انہیں پائو مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں۔
Ayah 9:8قولہ تعالیٰ : کیف وان یظھرو اعلیکم اس پر تعجب کا اعادہ فرمایا کہ ان کے لیے ان کے خبث اعمال کے باوجود عہد ہو، یعنی کیونکر ان کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے حالانکہ اگر وہ تم غالب آجائیں تو نہ لحاظ کریں تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری کا اور نہ کسی عہد کا۔ کہا جاتا ہے ظھرت علی فلان یعنی میں اس پر غالب آگیا اور ظھرت البیت میں مکان پر چڑھا۔ اور اسی سے ہے : فما اسطاعو ان یظھر وہ پس انہوں نے طاقت نہ رکھی کہ وہ اس پر غالب آئیں۔ قو کی تعالیٰ : لا یر قبو فیکم الا و لاذمۃ، بر قبوا وہ محافظت ہے کریں۔ اور رقیب حفاظت کرنے والے کو کہتے ہیں اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
الا اس سے مراد عہد ہے۔ یہ حضرت مجاہد اور ابن زید رحمتہ اللہ علیہا سے منقول ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) سے یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ حضرت ابن عباس اور ضحاک ؓ نے کہا ہے : اس کا معنی قرابت اور رشتہ داری ہے۔ حسن نے کہا ہے ـ: اس کے معنی جوار اور پڑوس ہے۔ حضرت قتاوہ (رح) نے کہا ہے : مراد حلف (دوستی یا قسم) ہے اور ذمۃ سے مراد عہد ہے۔ ابوعبید نے کہا ہے : مارد قسم یمین ہے۔ اور ان سے یہ بھی منقول ہے الا العھد اور الذمۃ بمعنی التذمم (بچنا) ہے۔ ازہری نے کہا ہے : یہ عبرانی ذبان میں اللہ تعالیٰ کا اسم ہے۔ اور اس کی اصل الالیل سے ہے اور اس کا معنی ہے چمکدار، روشن۔ کہا جاتا ہے : ال لونہ یول الا یعنی اس کا رنگ صاف اور چمک دار ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کی اصل الحدۃ سے ہے اور اسی سے الا لۃ للحربۃ (تیز دھار نیزہ) اور سی سے اذن مولدۃ (تیز کان) اور اسی سے طرفہ بن العد کا قول ہے وہ اپنی ناقہ کے کانوں کی تیزی اور کھڑے ہونے کا وصف بیان کرتا ہے :
مو للتان تعف العتف فیھا کسا معتی شاۃ بحومل مفرد
پس جب عہد، جوار اور قرابت کوء ال کہا جائے تو اس کا معنی ہوگا کہ کان ان جہتوں کی طرف پھر دیئے جاتے ہیں یعنی ان کے لیے تیز کرلیے جاتے ہیں۔ اور عہد کو اس کے صاف و شفاف اور ظاہر ہونے کی وجہ سےء ال کہا جاتا ہے۔ اور اس کی جمع قلت الال آتی ہے۔ اور جمع کثرتء الال آتی ہے۔ اور جوہری وغیرہ نے کہا ہے : الاء ل کسرہ کے ساتھ ہو تو مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور الاء ل کا معنی عہد اور قرابت بھی ہے۔ حضرت حسان ؓ نے کہا ہے :
لعمرک ان انک من قریش کان السقب من رال النعام
قولہ تعالیٰ : ولا ذمۃ یعنی وہ کسی عہد کا لحاظ نہ رکھیں گے۔ اور اس سے مراد ہر وہ حرمت ہے جو تجھ پر لازم ہو جب تو اسے ضائع کرے تو گناہ ہو۔ حضرت ابن عباس، ضحاک اور ابن زید نے کہا ہے : الذمۃ کا معنی عہد ہے۔ اور جنہوں نے الاء ل سے مراد بھی عہد لیا ہے تو پھر یہ تکرار دو مختلف لفظوں کے سبب ہے۔ اور ابوعبید معمر نے کہا ہے : الذمۃ سے مراد التذمم ہے۔ اور ابو عبید نے کہا ہے : حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کے اس ارشاد میں ذمہ سے مراد امان ہے : و یسعی بذمتھم ادناھم اور ذمہ کی جمع ذمم ہے۔ اور بئر ذمۃ (ذال کے فتحہ کے ساتھ) تھوڑے پانی والا کنواں۔ اور اسکی جمع ذمام ہے۔ ذوالرمہ نے کہا ہے :
علی حمیر یات کان عیونھا ذمام الرکایا انکر تھا امواتح
اس میں انکز تھا کا معنی ہے اس نے پانی کو ختم کردیا، کم کردیا۔ اور اھل الذمہ، اہل عقد ہوتے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : یر صونکم بافواھھم وہ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جس کا ظاہر راضی اور خوش کردیتا ہے۔ ا تابی قلوبھم و اکثرھم فسقون یعنی وہ عہد توڑنے والے ہیں۔ اور ہر کافر فاسق ہے، لیکن یہاں مراد وہ ہیں جو اعلانیہ برائیوں کا ارتکاب کرنے والے اور عہد توڑنے والے ہیں۔
Ayah 9:9یعنی مشرکوں نے چند لقموں کے عوض معاہدے توڑ دیئے جو انہیں ابو سفیان نے کھلائے۔ یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک انہوں نے قرآن کے بدلے دنیوٰ سازو سامان لے لیا۔ فصدوا عن سبیلہ یعنی انہوں نے اعراض کرلیا اور صدو سے ماخوذ ہے۔ یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ سے (لوگوں کو) روکا۔ اس صورت میں الصد سے ماخوذ ہے۔
Ayah 9:10نحاس نے کہا ہے : یہ تکرار نہیں ہے، بلکہ پہلا ارشاد تمام مشرکوں کے لیے اور یہ دوسرا یہودیوں کے لیے خاص ہے اور اس پر اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا ہے یعنی یہودیوں نے اللہ عزوجل کے دلائل اور اس کے بیان کو طلب ریاست اور دیگر چیزوں کے طمع اور حرص کے عوض بیچ دیا۔ اولئک ھم المعتدون یعنیوہ معاہدہ توڑنے کے ساتھ حلال سے حرام کر طرف تجاوز کرنے والے ہیں۔