7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 7:1–2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

(اے محمد یہ) کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے اس سے تم کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے (یہ نازل) اس لئے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے۔

آیت نمبر 1۔ 2 قولہ تعالیٰ : المص سورة البقرہ کے شروع میں ان حروف کی بحث گزر چکی ہے۔ اور یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ اور کتب اس کی خبر ہے، گویا کہ یہ فرمایا : المص حروف آیت : کتٰب انزل الیک ( یہ حروف ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے) اور کسائی نے کہا ہے : ای ھذا کتاب ( یہ کتاب ہے) ( اس میں کتاب خبر مبتدا محذوف کی ہے جو کہ ھذا ہے۔ ) قولہ تعالیٰ : آیت : فلا یکن فی صدرک حرج منہ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : حرج، ای ضیق ( تنگی) یعنی آپ کا سینہ تبلیغ کے سبب تنگ نہ ہو، کیونکہ آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : انی اخاف ان یثلغوا راسی فیدعوہ خبزۃ ( صحیح مسلم، کتاب الجنتۃ وصفۃ نعیمھا، جلد 2، صفحہ 385) (مجھے خوف ہے کہ وہ میرا سر کچل دیں اور اسے نشیبی جگہ میں پھینک دیں) الحدیث۔ اسے مسلم نے روایت کہا ہے۔ الکیاطبری نے کہا ہے : ظاہر میں یہ کلام نہی ہے، لیکن اس کا معنی آپ ﷺ سے تنگی کی نفی کرتا ہے، یعنی لا یضیق صدرک الا یومنوا بہ ( آپ کا سینہ تنگ نہ ہو کہ وہ اس کے ساتھ ایمان نہیں لائے) بلا شبہ آپ پر تبلیغ کرنا لازم ہے اور اس کے ساتھ ڈرانے کے سوا ان کے ایمان یا کفر میں سے کوئی شے آپ پر لازم نہیں، اور اسی کی مثل یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : فعللک باخع نفسک الآیہ ( الکہف : 6) (تو کیا آپ ( فرط غم سے) تلف کردیں گے اپنی جان کو) اور مزید فرمایا : آیت : لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین (الشعرائ) ( اے جان عالم ! ) شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو اس غم میں کہ وہ ایمان نہیں لا رہے) ۔ اور حضرت مجاہد اور قتادہ کا مذہب یہ ہے کہ یہاں حرج کا معنی شک ہے (تفسیر طبری، جلد 10، صفحہ 54 ) ، لیکن یہ کفر کا شک نہیں بلکہ تنگی کا شک ہے۔ اور اسی طرح قول باری تعالیٰ ہے : آیت : ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون (الحجر) ( اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو وہ کیا کرتے ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطاب حضور نبی رحمت ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے۔ اور اس (قول میں) بہت بعد ہے۔ اور منہ میں ہا ضمیر قرآن کے لیے ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ انداز کے لیے ہے، یعنی انزل الیک الکتاب لتنذر بہ فلا یکن فی صدرک حرج منہ ( آپ کی طرف کتاب نازل کی گئی تاکہ آپ اس کے ساتھ ڈرائیں ُ س آپ کے سینے میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو) پس کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس تکذیب کے لیے ہے جو آۃ پ کو قوت کلام عطا کر رہی ہے یعنی فلا یکن فی صدرک ضیق من تکذیب المکذبین لہ ( آپ کے سینے میں اسے جھٹلانے والوں کی تکذیب سے کوئی تنگی نہ ہو) مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وذکری اس کے لیے جائز ہے کہ یہ محل رفع، محل نصب اور محل خفض ( جر) میں ہو۔ پس رفع کی دو وجہیں ہیں۔ بصریوں نے کہا ہے : یہ مبتدا مضمر کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : اس کا عطف کتٰب پر ہے ( لہٰذا یہ مرفوع ہے) اور نصب کی بھی دو وجہیں ہیں : ایک مصدر ( یعنی مفعول مطلق) ہونے کی بنا پر، یعنی وزکر بہ ذکری یہ بصریوں کا قول ہے۔ اور امام کسائی نے کہا ہے : اس کا عطف انزلناہ کہ ہا ضمیر ہے ( لہٰذا یہ منصوب ہے) اور محل جر اس بنا پر ہے کہ اسے لتنذر بہ کے محل پر محمول کیا جائے۔ اور انذار (ڈرانا) کافروں کے لیے ہے اور نصیحت مومنوں کے لیے ہے، کیونکہ یہی اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(لوگو ! ) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی کی پیروی نہ کرو۔ (اور) تم (کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

آیت نمبر : 3 اس میں دو مسئلے ہیں مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : آیت : اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ( پیروی کرو جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے) یعنی کتاب و سنت۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : واما اٰتٰکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا (الحشر : 7) ( اور رسول (کریم) جو تمہیں عطا فرمادیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں روکیں تو رک جاؤ ) اور ایک گروہ نے کہا ہے : یہ امر حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت سبھی کو شامل ہے اور ظاہر کلام یہ ہے کہ یہ امر آپ ﷺ کے سوا تمام لوگوں کے لیے ہے، یعنی اتبعوا ملۃ الاسلام والقرآن ( تم دین اور قرآن کی پیروی کرو اور اس کے حلال کو حلال قرار دو اور اس کے حرام کو حرام قرار دو اور اس کے امر کی پیروی کرو اور اس کی نہی سے اجتناب کرو (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 766 ) ۔ اور یہ آیت نص کی موجودگی میں آراء کی پیروی ترک کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولاتتبعوا من دونہ اولیائ، من دونہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا ( دوسرے دوستوں کی پیروی نہ کرو) اس میں ہا ضمیر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے اور معنی یہ ہے : تم اس کے ساتھ کسی غیر کی عبادت نہ کرو اور نہ اسے دوست بناؤ جو اللہ تعالیٰ کے دین سے پھیر دے اور ہر وہ جس نے کسی مذہب کو پسند کرلیا تو وہ مذہب رکھنے والے اس کے اولیاء دوست ہیں۔ اور حضرت مالک بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے اس طرح قراءت کی : آیت : ولا تتبعوا من دونہ اولیاء ( یعنی تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوست تلاش نہ کرو) اور اولیاء غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں الف تانیث ہے ( جو قائم مقام دو سببوں کے ہے) اور یہ قول بھی ہے : کہ ضمیر اس ما کی طرف لوٹ رہی ہے جو اس قول میں ہے اتبعوا ماانزل لیکم من ربکم، قلیلا ما تذکرون اس میں ما زائدہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ما فعل کے ساتھ مصدر ہوتا ہے۔
Ayahs 7:4–5

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جبکہ وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے۔

آیت نمبر : 4۔ 5 قولہ تعالیٰ : آیت : وکم من قریۃ اھلکنٰھا اس میں کم تکثیر کے لیے ہے، جس طرح کہ رب تقلیل کے لیے ہوتا ہے۔ اور کم مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اھلکنٰھا اس کی خبر ہے، یعنی بہت سے بستیاں تھیں۔ قری بہت سے لوگوں کے اکٹھا رہنے کی جگہوں کو کہتے ہیں۔ ہم نے انہیں ہلاک و برباد کردیا۔ اور کم کو اس بنا پر محل نصب میں قرار دینا بھی جائز ہے کہ اس کے بعد فعل مضمر ہو اور اس سے پہلے فعل مقدر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ استفہام اپنے سے ما قبل میں عمل نہیں کرتا۔ اور پہلے قول کو یہ قول تقویت دیتا ہے : آیت : وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح (الاسراء : 17) ( اور کتنی قومیں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا نوح کے بعد) اگر اھلکنھا ضمیر کے ساتھ مشغول نہ ہوتا تو اس کے ساتھ کم کا محل یقینا منصوب ہوتا۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اھلکنھا، قریۃ کی صفت اور کم معنی میں ھی القریۃ ہو اور جب تو نے القریۃ کی صفت لگائی تو گویا تو نے کم کی صفت لگائی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : آیت : وکم من ملک فی السموٰت لا تغنی شفاعتھم شیئا ( النجم : 26) ( اور کتنے فرشتے ہیں آسمانوں میں جن کی شفاعت کسی کام نہیں آسکتی) ہپس ضمیر معنی کے اعتبار سے کم کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ معنی میں ملائکہ ہیں۔ پس اس تقدیر پر یہ صحیح ہے کہ کم محل نصب میں ہو اس فعل کے سبب جو اس کے بعد مضمر ہو۔ فجآء ھا باسنا اس میں اشکال ہے فا کے ساتھ عطف ہونے کی وجہ سے۔ پس فراء نے کہا ہے : فا بمعنی واؤ ہے، پس ترتیب لازم نہ ہوگی اور یہ بھی کہا گیا ہے : ( کہ اصل عبارت ہے) وکم من قریۃ اردنا اھلا کھا فجاء ھا باسنا ( اور کتنی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے برباد کرنے کا ارادہ کیا پس ہمارا عذاب ان پر آیا ( جیسے یہ قول باری تعالیٰ ہے : آیت : فاذا قرأت القران فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم (النحل) ( سو جب تم قرآن کی تلاوت کرنے لگو تو پناہ مانگو اللہ تعالیٰ سے اس شیطان ( کی وسوسہ اندازیوں) سے جو مردود ہے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک ہلاکت اور بربادی بعض قوم پر واقع ہوئی، پس تقدیر کلام ہوگی : وکم من قریۃ اھلکنا بعضھا فجائھا باسنا فاھلکنا الجمعی ( اور کتنی بستیاں تھیں ان میں سے بعض کو ہم نے برباد کردیا پھر ہمارا عذاب ان پر آیا تو ہم نے تمام کو ہلاک کردیا) ۔ اور یہ قول بھی ہے : اس کا معنی ہے اور کتنی بستیاں تھیں ہم نے انہیں اپنے حکم اور فیصلے میں برباد کرد یا، پس ہمارا عذاب ان پر آیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہم نے انہیں اپنی طرف سے ملائکہ عذاب ان کی طرف بھیج کر برباد کرد یا، پس ہمارا عذاب ان پر آیا اور باس سے مراد تباہ ور برباد کردینا، جڑ سے اکھیڑ دینا ہے۔ اور الباس کا معنی آدمی پر آنے والا عذاب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : اھلنا ھا فکان اھلا کنا ایاھم فی وقت کذا، فمحی الباس علی ھذا ھوالا ھلاک ( ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور ہمارا انہیں ہلاک کرنا فلان وقت میں تھا، پس اس بنا پر عذاب آنے کا معنی ہلاک و برباد کرنا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ باس ( عذاب) اھلاک ( ہلاک کرنا) کے علاوہ ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے اور فراء نے بھی بیان کیا ہے کہ جب دو فعلوں کا معنی ایک ہو یا ایک کی طرح ہو تو ان میں سے جسے چاہے پہلے ذکر کردیے، پس معنی یہ ہے وکم من قریۃ جاء ھا باسنا فاھلکنا ھا، جیسے دنا فقرب اور قرب فدنا ( دونوں کا معنی قریب ہونا ہے) اور شتمنی فاساء اور اساء فشتمی، کیونکہ الاساۃ اور الشتم ( برا بھلا کہنا) دونوں ایک شی ہیں۔ (معانی القرآن للفرائ، جلد 1، صفحہ 371) اور اسی طرح قول باری تعالیٰ ہے : آیت : اقتربت الساعۃ وانشق القمر (القمر : 1) اس کا حقیقی معنی تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور انشق القمر فاقتربت الساعۃ دونوں کا معنی ایک ہے ( قیامت قریب ہوئی اور چاند پھٹ گیا) بیاتا اس کا معنی ہے۔ لیلا ( رات کے وقت) اور اسی سے البیت ہے، کیونکہ اس میں رات گزاری جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے : بات یبیت بیتا وبیاتا ( رات گزارنا) اوھم قآئلون یعنی یا اس ھال میں کہ وہ دوپہر کو سو رہے تھے۔ اوھم قآئلون پس انہوں نے ثقیل سمجھا تو انہوں نے واو کو حذف کردیا، یہ فراء نے کہا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ خطا ہے، کیونکہ جب ذکر دوبارہ ہو تو واو کی ضرورت نہیں ہوتی، آپ کہتے ہیں : جآءنی زید راکبا اوھو ماش اس میں واو کی ضرورت نہیں ( اور وھو ماش نہیں کہا جائے گا) مہدوی نے کہا : یہ نہیں کہا بیاتا او وھم قائلون کیونکہ جملہ میں ایک ضمیر ہے جو اول کی طرف لوٹ رہی ہے پس وہ واو سے مستغنی ہے۔ اور یہ معنی میں زجاج کے قول کے ساتھ برابر ہے اور یہاں اوشک کے لیے نہیں ہے بلکہ تفصیل کے لیے ہے، جیسے آپ کے اس قول میں : لاکرمنک منصفا لی او ظالما ( میں ضرور بضرور تیری عزت و تکریم کروں گا تو میرے ساتھ انصاف کرے یا ظلم) اور نحویوں کے نزدیک اس واؤ کو واو الوقت کا نام دیا جاتا ہے۔ اور قائلون یہ قائلۃ سے ہے اور اس کا معنی ہے قیلولہ کرنا۔ اور اس کا معنی ہے دوپہر کے وقت سونا۔ اور یہ بھی کہا ہے : الاستراحۃ نصف النھار اذا اشتد الحروان لم یکن معھانوم ( دوپہر کے وقت آرام کرنا جب گرمی شدیدی ہو اگرچہ اس کے ساتھ نیند نہ بھی ہو) اور آیت کا معنی یہ ہوا : ہمارا عذاب ان پر آیا اس حال میں کہ وہ غافل تھے یا تورات کے وقت یا دن کے وقت۔ اور الدعوٰ اس کا معنی دعا ( پکارنا) ہے اور اسی سے یہ قول ہے : آیت : واخردعوھم ( یونس : 10) ( اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی) اور نحویوں نے بیان کیا ہے : اللھم اشرکنا فی صالح دعوی من دعا ک ( اے اللہ ! ہمیں اس اچھی اور صالح دعا میں شریک کرنا جو کوئی تجھ سے مانگے) اور کبھی دعوی بمعنی ادعاء ( دعوی کرنا) بھی ہوتا ہے۔ اور معنی یہ ہے : بیشک وہ بربادی اور ہلاکت کے وقت اس اقرار میں مخلص تھے کہ وہ ظالم لوگ تھے۔ اور دعوٰھم کان کی خبر ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور اس کا اسم الا ان قالوا ہے اور اس کی نظیر آیت : فماکان جواب قومہ الا ان قالوا ( النمل : 56) ہے۔ اوعر یہ بھی جائز ہے کہ الدعوی محل رفع میں اور ان قالوا محل نصب میں، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : لیس البر ان تولوا ( البقرہ : 177) اس میں البر رفع کے ساتھ ہے۔ اور قول باری تعالیٰ ہے : آیت : ثم کان عاقبۃ الذین اسآء وا السوآٰی ان کذبوا ( الروم : 10) اس میں عاقبۃ رفع کے ساتھ ہے۔
Ayahs 7:6–7

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کرینگے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے !

قولہ تعالیٰ : فلنسئلن الذین ارسل الیھم یہ اس پر دلیل ہے کہ کفار سے حساب لیا جائے گا۔ اور قرآن میں ہے : آیت : ثم ان علینا حسابھم ( الغاشیہ) ( پھر یقینا ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے) ۔ اور سورة القصص میں ہے : ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون (القصص) ( اور نہیں دریافت کیے جائیں گے مجرموں سے ان کے گناہ) یعنی جب وہ عذاب میں قرار پکڑ اجائیں گے۔ اور آخرت میں کئی وطن ہوں گے۔ ایک وطن ایسا ہوگا جس میں حساب و کتاب کے لیے پوچھ گچھ کی جائے گی اور ایک وطن ایسا ہوگا جس میں ان سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ اور ان سے سوال ( عذاب کو) پختہ کرنے، زجروتوبیخ اور انہیں ذلیل ورسوا کرنے کے لیے ہوں گے۔ اور رسولوں سے سوال اپنے بارے میں گواہ لانے اور تفصیل بیان کرنے کے بارے ہوں گے یعنی انہیں ان کی قوم نے جو جوابات دیئے ( ان کے بارے ان سے پوچھا جائے گا) اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد : آیت : لیسئل الصدقین عن صدقھم ( الاحزاب : 8) (یہ کہ ( آپ کا رب) پوچھے سچوں سے ان کے سچ کے متعلق) کا یہی معنی ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : آیت : فلنسئلن الذین ارشل الیھم یعنی انبیاء (علیہم السلام) سے ہم پوچھیں گے۔ آیت : ولنسئلن المرسلین اور ہم ان ملائکہ سے پوچھین گے جو ان کی طرف بھیجے گئے۔ فلنسئلن میں لام قسمیہ ہے اور یہ حقیقۃ تاکید کے لیے ہے۔ اور اسی طرح آیت : فلنقصن علیھم بعلم بھی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ( اللہ تعالیٰ ) ان پر ( ان کے حالات) بیان کر گا۔ آیت : وما کنا غآئبین یعنی ہم ان کے اعمال کا مشاہدہ کر ہرے ہیں۔ اور آیت اس پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ساتھ جاننے والا ہے۔
Ayahs 7:8–9

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہونگے وہ تو نجات پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لئے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔

قولہ تعالیٰ : والوزن یومئذا لحق یہ مبتدا اور خبر ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ الحق صفت ہو اور خبر یومئذ ہو اور یہ بھی جائز ہے الحق مصدر کی بنا پر منصوب ہو۔ اور وزن سے مراد میزان ( ترازو) کے ساتھ بندوں کے اعمال کا وزن کرنا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا : بندوں کے صحائف اعمال کا وزن کیا جائے گا اور یہی صحیح ہے اور اسی کے بارے حدیث میں ہے جو آگے آرہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : میزان سے مراد وہ کتاب ہے جس میں مخلوق کے اعمال درج ہیں۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : میزان سے مرادنیکیوں اور گناہوں کا عیاں ہونا ہے۔ اور آپ سے حضرت ضحاک اور اعمش سے یہ بھی مروی ہے کہ وزن اور میزان عدل اور قضا ( عدل و انصاف سے فیصلہ کرنا) کے معنی میں ہیں اور وزن کا ذکر بطور ضرب المثل ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : ھذا الکلام فی وزن ھذا وفی وزانہ یعنی یہ کلام اس کے مساوی اور ہم پلہ ہے اگرچہ وہاں کوئی وزن نہیں۔ زجاج نے کہا ہے : لغت اور زبان کے اعتبار سے یہ جائز ہے اور اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ اس کی اتباع اور پیروی کی جائے جو ان صحیح احادیث میں ہے جو میزان کے ذکر میں وارد ہیں۔ علامہ قشیری نے کہا ہے : اس بارے میں انہوں نے جو کہا خوب کہا کہ اگر میزان کو اس ( مذکورہ معنی) پر محمول کیا جائے تو پھر چاہیے کہ پل صراط کو دین حق ( کے معنی) پر محمول کیا جائے، جنت اور دوزخ اس معنی پر جوار واح پر صادق آتا ہے نہ کہ اجسام پر اور شاطین اور جنات کو اخلاق مذمومہ پر اور ملائکہ کو قوائے محمودہ کے معنی پر محمول کیا جائے، حالانکہ امت کا دور اول میں اس پر اجماع ہوچکا ہے کہ یہ تمام الفاظ بغیر کسی تاویل کے اپنے ظاہر معنی پر محمول ہیں۔ اور تاویل نہ ہونے پر اجماع ہے تو پھر ظاہر معنی مراد لینا واجب ہے اور یہ ظواہر ہی نصوص ہوگئے۔ ابن فورک نے کہا ہے : معتزلہ نے اس بنا پر میزان کا انکار کیا ہے کہ اعراض کا وزن کرنا محال ہے، کیونکہ وہ بالذات قائم ہی نہیں ہوتے۔ اور متکلمین میں سے بعض کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ اعراض کو اجسام میں بدل دے گا اور وہ قیامت کے دن ان کا وزن کرے گا۔ اور یہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے اور صحیح یہ ہے کہ موازین ان کتابوں کے سبب بوجھل اور بھاری ہوں گے جن میں اعمال لکھے ہوئے ہیں اور انہیں کے سبب خفیف اور ہلکے ہوں گے۔ اور حدیث طیبہ میں وہ مروی ہے جو اس کو ثابت کرتا ہے اور وہ اس طرح مروی ہے کہ بعض لوگوں کا میزان ( ترازو) قریب ہے کہ نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوجائے پھر اس میں کا غز کا ایک ٹکڑا رکھا جائے گا جس پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا تو وہ بھاری ہوجائے گا، تو اس سے معلوم ہوا کہ کہ ان کتابوں کے وزن کی طرف راجع ہے جن میں اعمال لکھے ہوئے ہیں نہ کہ نفس اعمال کی طرف اور یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ میزان کو ہلکا کر دے گا جب چاہے گا اور بھاری کر دے گا جب ارادہ فرمائے گا اس شے کے ساتھ جو ان صحف میں سے اس کے پلڑوں میں رکھی جائے گی جن میں اعمال درج ہیں۔ اور صحیح مسلم میں صفوان بن محرز سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر ؓ کو کہا : آپ نے کیا سنا ہے رسول اللہ ﷺ نجومی ( سرگوشی) کے بارے کیا فرماتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مومن کو قیامت کے دن اپنے رب کے قریب کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس پر اپنی رحمت کا پردہ ڈال دے گا اور اسے اس کے گناہوں کے بارے اقرار کرائے گا اور فرمائے گا : کیا تو ( اسے) پہچانتا ہے۔ تو وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں پہچانتا ہوں، تو رب کریم فرمائے گا : چونکہ میں نے اسے دنیا میں تجھ پر مخفی اور پوشیدہ رکھا ہے اور میں اسے آج بھی تیرے لیے معاف فرماتا ہوں، پس اسے اس کی نیکیوں کو صحیفہ عطا کردیا جائے گا۔ اور رہے کفار اور منافقین تو انہیں بھی مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا کہ یہ وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ “ (صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، جلد 2، صفحہ 360 ) ۔ پس آپ کا قول : فیعطی صحیفۃ حسناتہ یہ اس پر دلیل ہے کہ اعمال صحف میں لکھا جاتے ہیں اور ان کا وزن کیا جائے گا۔ اور ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عمر وؓ سے حدیث روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے دن میری امت کا ایک آدمی تمام مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا اور اس پر ننانوے رجسٹر ( دفتر) کھل جائیں گے ان میں سے ہر رجسٹر حد نگاہ تک ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو اس میں سے کسی کا انکار کرتا ہے ؟ تو وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! نہیں۔ پھر رب کریم فرمائے گا : کیا میرے کراما کاتبین فرشتوں نے تیرے ساتھ زیادتی کی ہے ؟ تو وہ عرض کرے گا : نہیں۔ پھر رب کریم فرمائے گا : کیا تیرا کوئی عذر ہے، کیا تیری کوئی نیکی ہے ؟ تو وہ آدمی ڈر جائے گا اور عرض کرے گا : نہیں۔ تو رب کریم فرمائے گا : ( کیوں نہیں) بلکہ ہمارے پاس تیری نیکیاں ہیں اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا، پھر اس کے لیے کاغذکا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں یہ لکھا ہوگا اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ ( میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) تو وہ پوچھے گا : اے میرے رب ! ان رجسٹروں کے ہوتے ہوئے اس کاغذ کے ٹکڑے کی کیا حیثیت ہے ؟ تو رب کریم فرمائے گا : بلاشبہ تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا پس وہ کا پیاں ( اور رجسٹر) ترازو کے ایک پلڑے میں رکھی جائیں گی اور وہ کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو کا پیوں والا پلڑا ہلکا ہوجائے گا اور وہ گا غذ کا ٹکڑا بھاری ہوجائے گا “ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، جلد 1، صفحہ 328 ) ۔ ترمذی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : فلا یثقل مع اسم اللہ شی (جامع ترمذی، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا اللہ الا اللہ، حدیث نمبر 2583، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پس اللہ تعالیٰ کے نام سے کوئی شی بھاری نہیں ہو سکتی۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اس بارے میں مزید بیان سورة الکہف اور سورة الانبیاء میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ قولہ تعالیٰ : آیت : فمن ثقلت موازینہ فاولئک ھم آیت نمبر۔ 9۔ 8 الی آخرہ۔۔ موازینہ یہ میزان کی جمع ہے اور اس کی اصل موزان ہے، واو ماقبل مکسور کو یا سے بدل دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کہ بھی جائز ہے کہ وہاں ایک عامل کے لیے کئی میزان ہوں اور ہر میزان کے ساتھ ایک نوع کے اعمال کا وزن کیا جائے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ میزان ایک ہو اور اسے لفظ جمع کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہو، جیسے آپ کہتے ہیں : خرج فلان الی مکۃ علی البغال، اور خرج الی البصرۃ فی السفن۔ اور قرآن کریم میں ہے : آیت : کذبت قوم نوح المرسلین ( الشعرائ) اور کذبت عاد المرسلین (الشعرائ) اور بلاشبہ دو تاویلوں میں سے ایک کے مطابق وہ رسول ایک ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الموازین، موزون کی جمع ہے، نہ کہ میزان کی اور موازین سے مراد وہ اعمال ہیں جن کا وزن کیا جائے گا۔ آیت : ومن خفت موازینہ اس کی تفسیر بھی مذکورہ تفسیر کی مثل ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نیکیوں اور بدیوں کا وزن ایسے ترازو میں کیا جائے گا جس کی ایک لسان ( یعنی وہ حصہ جو تولتے وقت ہاتھ میں رہتا ہے) اور دو پلڑے ہیں، پس جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو اس کے عمل کو انتہائی حسین صورت میں لایا جائے گا اور اسے ترازو کے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا تو اس کی نیکیاں اس کی بدیوں پر غالب آجائیں گی اور اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فمن ثقلت موازینہ فاولئک ھم المفلحون، اور کافر کے عمل کو انتہائی قبیح صورت میں لایا جائے گا اور اسے ترازو کے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا اور اس کا وزن ہلکا ہوجائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں گر جائے گا۔ اور جس کی طرف حضرت ابن عباس ؓ نے اشارہ کیا ہے وہ اس کے قریب ہے جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال میں سے ہر جز کا جوہر تخلیق فرمائے گا اور اسی جوہر کا وزن کیا جائے گا اور اسے ابن فورک وغیرہ نے رد کیا ہے۔ اور حدیث طیبہ میں ہے :” جب مومن کی نیکیاں کم ہوں گی تو رسول اللہ ﷺ انگلی کے پورے کی مثل کاغذ کا ٹکڑا نکالیں گے اور اسے میزان کے اس دائیں پلڑے میں ڈال دیں گے جس میں اس کی نیکیاں ہوں گی تو نیکیاں بڑھ جائیں گی ( یعنی یہ پلڑا بھاری ہوجائے گا) پس وہ بندہ مومن حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرے گا : آپ پر میرے ماں باپ نثار ! آپ کا چہرہ مبارک کتنا حسین ہے اور آپ کے اخلاق کتنے خوبصورت ہیں ( یہ تو بتائیے) آپ کون ہیں ؟ تو آپ فرمائیں گے : ان محمد نبیک وھذہ صلواتک التی کنت تصلی علی قد وفیتک احوج ما تکون الیھا ( میں تیرا نبی محمد ﷺ ہوں اور یہ تیرا وہ درود پاک ہے جو مجھ پر تو پڑھتا تھا اور میں نے تیری وہ حاجت پوری کردی جس کا تو زیادہ حاجت مند تھا۔ اسے قشیری نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے (تفسیر کبیر، جلد 13، صفحہ 27) اور بیان کیا کہ یہ بطاقۃ ( با کے کسرہ کے ساتھ) کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس میں سامان ( متاع) کی تفصیل لکھی جائے یہ اہل مصر کی لغت کے مطابق ہے۔ اور ابن ماجہ نے کہا ہے کہ محمد بن یحییٰ نے بیان کیا کہ بطاقہ لکھی ہوئی پرچی (رقعہ) کو کہتے ہیں (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4289، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اہل مصر رقعۃ کو بطاقۃ کہتے ہیں۔ اور حضرت حذیفہ ؓ نے بیان کیا ہے : قیامت کے دن وزن کرنے والے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہوں گے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : یا جبریل زن بینھم فروسا من بعض علی بعض ( اے جبریل ! ان کے درمیان وزن کر اور بعض سے بعض کی طرف لوٹا دے) فرمایا : وہاں کوئی سونا اور چاندی نہ ہوگا۔ پس اگر ظالم کی نیکیاں ہوگی تو اس کی نیکیاں لے کر مظلوم کی طرف لوٹا دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ لے کر ظالم پر ڈال دیئے جائیں گے۔ پس وہ آدمی لوٹے گا اور اس پر پہاڑ کی مثل ( بوجھ) ہوگا (تفسیر طبری، جلد 10، صفحہ 69 ) ۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے ” کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا : اے آدم ! میزان کے پاس کرسی کی جانت جاؤ اور اپنی اولاد کے ان اعمال کی طرف دیکھو جو تمہاری طرف اٹھائیں جائیں گے پس جس کی نیکی شر پر رائی کے دانہ کے برابر بھی بھاری ہوجائے گی تو اس کے لیے جنت ہے اور جس کا شر اس کی نیکی پر رائی کے دانہ کی مقدار بھاری ہوجائے گی تو اس کے لیے جہنم ہے یہاں تک کہ تو جان لے گا کہ میں ظالم کے سوا کسی کو عذاب نہیں دوں گا “۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہمیں نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے سامان معیشت پیدا کئے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

آیت نمبر : 10 یعنی ہم نے زمین کو تمہارے لیے سکونت کی جگہ اور بچھونا بنا دیا اور ہم نے تمہارے لیے اس میں اسباب معیشت پیدا فرما دیئے۔ معایش معشۃ کی جمع ہے، یعنی کھانے پینے میں سے وہ چیزیں جن کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور جن کے ساتھ زندگی قائم ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے : عاش یعیش عیشا ومعاشا ومعیشا ومعیشۃ وعیشۃ۔ اور زجاج نے کہا ہے : معیشۃ سے مراد وہ سبب زندگی ہے جس کے ساتھ زندگی متصل ہوتی ہے۔ اخفش اور کثیر نحویوں کے نزدیک معیشۃ مفعلۃ کے وزن پر ہے ( یعنی مصدر میمی ) ۔ اور اعراج نے معائش ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اسی طرح خارجہ ابن مصعف نے نافع سے روایت کیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : ہمزہ غلطی ہے جائز نہیں ہے، کیونکہ واحد معیشۃ ہے اور اس کی اصل معیشۃ ہے، پھر الف وصل کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ اور یا دونوں ساکن ہیں، پس حرکت دینا ضروری ہے، کیونکہ حذف کا کوئی راستہ نہیں۔ اور الف کو حرکت نہیں دی جاسکتی پس یا کو وہ حرکت دی گئی جو اس کے لیے واحد میں ثابت ہے اور واو میں اس کی مثال منارۃ ومن اور اور مقام ومقاوم ہے، جیسا کہ شاعر نے بھی کہا ہے : وانی لقوائم مقاوم لم یکن جریر ولا مولی جریر یقومھا اور اسی طرح مصیبۃ مصاوب ہے۔ یہ جیس اور عمدہ ہے اور لغت شاذہ مصائب ہے۔ اخفش نے کہا ہے : بلاشبہ مصائب جائز ہے، کیونکہ اس کا واحد معتمل ہے ( یعنی اس میں حرف علت موجود ہے) ۔ زجاج نے کہا ہے : یہ خطا ہے، کیونکہ اس طرح ان پر مقائم کہنا لازم آئے گا، البتہ یہ قول ہے کہ یہ وسادۃ اور اسادۃ کی مثل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : معایش میں ہمزہ جائز نہیں، کیونکہ معیشۃ مفعلۃ کے وزن پر ہے، اس میں یا اصلیہ ہے اور ہمزہ تب ہوتا ہے جب یا زائدہ ہو جیسے مدینۃ ومدائن اور صحیفۃ وصحائف اور کریمۃ و کرائم اور وظیفۃ ووظائف اور ان کے مشابہ الفاظ میں ہے۔
Ayah 7:11

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہمیں نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت و شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو۔ تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا۔

آیت نمبر : 11 قولہ تعالیٰ : آیت : ولقد خلقنٰکم ثم صورنکم جب اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کا ذکر کرچکا تو اس نے اپنی تخلیق کی ابتدا کا ذکر فرمایا۔ اور خلق کا معنی کئی مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : ثم صورنکم یعنی ہم نے تمہیں نطفہ کی صورت میں تخلیق فرمایا، پھر ہم نے تمہاری خاص شکل و صورت بنائی پھر ہم تمہیں خبر دے رہے ہیں کہ ہم نے ملائکہ کو کہا : آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ اور حضرت ابن عباس اور ضحاک وغیرہما سے روایت ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا پھر ہم نے اس کی پشت میں تمہیں خاص شکل و صورت عطا فرمائی۔ اور اخفش نے کہا : ثم بمعنی واو ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ولقد خلقنکم یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا، بعد ازاں نے ملائکہ کہ کہا : تم آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو، پھر ہم نے تمہیں خاص شکل و صورت عطا فرمائی۔ تو یہ تقدیم وتاخیر کی بنا پر ہے۔ اور یہ بھی گیا ہے : آیت : ولقد خلقنکم یعنی آدم (علیہ السلام) کو ہم نے پیدا کیا، تو ان کا ذکر لفظ جمع کے ساتھ کیا گیا ہے، کیونکہ آپ ابو البشر ہیں۔ آیت : ثم صورنکم یہ ضمیر بھی آپ ہی کی طرف راجع ہے، جیسے کہا جاتا ہے : نحن قتلنا کم یعنی قتلنا سیدکم ( کہ ہم نے تمہارے سردار کو قتل کردیا) پھر کہا : آیت : ثم قلنا للملئٓکۃ اسجدوا لادم اور اس بنا پر تقدیم وتاخیر نہیں ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔ اور یہ قول بھی ہے : اس کا معنی ہے ولقد خلقنکم مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور مائی حوا (علیہما السلام) ہیں۔ پس حضرت آدم (علیہ السلام) خاک سے ہیں اور حضرت حواء (علیہما السلام) آپ کی پسلیوں میں سے ایک پسلی سے پیدا ہوئی ہیں، پھر اس کے بعد شکل و صورت بنی۔ سو معنی یہ ہوا : تحقیق ہم نے تمہارے والدین ( حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت مائی حوا علیہا السلام) کو پیدا فرمایا پھر ہم نے ان دونوں کو خاص شکل و صورت عطا فرمائی۔ حسن نے یہی کہا ہے (معانی القرآن للزجاج، جلد 2، صفحہ 321 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ہم نے تمہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تخلیق فرمایا، پھر ہم نے تمہیں اس وقت خاص شکل و صورت عطا کی جس وقت ہم نے تم سے میثاق ( وعدہ) لیا۔ یہ حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے، اسے آپ سے ابن جریج اور ابن ابی نجیح نے روایت کیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ تمام اقوال میں سے اچھا قول ہے۔ حضرت مجاہد (رح) اس طرف جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تخلیق فرمایا، پھر انہیں اس وقت شکل و صورت عطا فرمائی جب ان سے میثاق لیا، پھر ملائکہ کو سجود کا حکم اس کے بعد ہوا۔ اور اسے یہ ارشاد تقویت دیتا ہے : آیت : واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم ( الاعراف : 172) ( اور اے محبوب ! ) یاد کرو جب نکالا آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو) اور یہ حدیث طیبہ بھی ” کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چیونٹیوں کی طرح نکالا اور ان سے میثاق لیا “ (مسند امام احمد، حدیث نمبر 2455، روایت بالمعنی) ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ ثم اخبار کے لیے ہے، یعنی ہم نے تمہیں آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تخلیق فرمایا، پھر ہم نے تمہیں ارھام میں شکل و صورت عطا فرمائی۔ نحاس نے کہا ہے : حضرت ابن عباس ؓ سے یہ صحیح قول ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : ان تمام اقوال کا احتمال ہو سکتا ہے، البتہ ان میں سے صحیح وہ ہے جس کی تائید قرآن کریم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ولقد خلقنا الانشان من سلٰلۃ من طین ( المومنون) ( اور بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے جوہر سے) اس میں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اور مزید فرمایا : آیت : وخلق منھا زوجھا ( النسا : 1) ( اور پیدا فرمایا اسی سے جوڑا اس کا) پھر فرمایا : جعلنہ یعنی ہم نے ان کی نسل اور اولاد کو بنایا۔ آیت : نطفۃ فی قرار مکین الایہ ( المومنون) ( پھر ہم نے رکھا اسے پانی کی بوند بنا کر ایک محفوظ مقام میں) پس حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق کیا گیا پھر شکل و صورت بنائی گئی اور انہیں سجود کی عزت و تکریم سے نوازا گیا اور ان کی نسل اور اولاد کی شکلیں اور صورتیں ماؤں کے رحموں میں بنائی گئیں رحموں میں اور باپوں کی صلبوں میں تخلیق کیے جانے کے بعد، حالانکہ سورة الانعام کی ابتداء میں گزر چکا ہے کہ ہر انسان کو نطفہ اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے، پس اس میں غور کرلو۔ اور یہاں فرمایا : آیت : خلقنکم ثم صورنکم۔ اور سورة الحشر کے آخر میں فرمایا : آیت : ھو اللہ الخالق الباری المصور ( وہ اللہ سب کا خالق، سب کو پیدا کرنے والا ( سب کی مناسب) صوت بنانے والا ہے) تو اس میں تصویر (شکلیں بنانے) کا ذکر (بری) جامعہ خلقت پہنانے کے بعد ہے۔ اس کا بیانک عنقریب آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت : ولقد خلقکم کا معنی ہے ہم نے ارواح کو پہلے پیدا کیا پھر جسموں کو شکل و صورت عطا کی۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الا ابلیس لم یکن من السٰجدین یہ استثنا من غیر جنسہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مسثنی منہ کی جنس سے استثنا ہے تحقیق اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ کہا ابلیس ملائکہ میں سے تھا یا نہیں ؟ جیسے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 7:12

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔

آیت نمبر : 12 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : ما منعک، مامبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، یعنی ای شی منعک ؟ ( کون سی شے ہے جس نے تجھے روکا ہے ؟ ) یہ سوال زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ الا تسجد یہ محل نصب میں ہے، یعنی من ان تسجد ( تجھے سجدہ کرنے سے) اور لا زائدہ ہے۔ اور سورة ” ص “ آیت 75 میں ہے آیت : ما معنک ان تسجد ( کس چیز نے باز رکھا تمہیں اس کو سجدہ کرنے سے) اور شاعر نے کہا ہے : ابی جو دہ لا البخل فاستعجلت بہ نعم من فتی لا یمنع الجود نائلہ (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 378) اس میں مراد ابی جو دہ البخل ہے، اس میں لا زائدہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کہ لا زائدہ نہیں ہے، کیونکہ اس میں منع قول اور دعا کی ایک طرف ہے، تو گویا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ فرمایا : من قال لک الا تسجد ؟ ( کس نے تجھے کہا کہ تو سجدہ نہ کرے ؟ ) یا من دعا ک الی الا تسجد ؟ ( کس نے تجھے اس طرف دعوت دی کہ تو سجدہ نہ کرے) جیسا کہ آپ کہتے ہیں : قد قلت لک الا تفعل کذا ( تحقیق میں نے تجھے کہا کہ تو اس طرح نہ کرے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام میں حذف ہے، تقدیر عبارت ہے : ما منعک من الطاعۃ واھوجک الی الا تسجد ( کون سے شی نے تجھے اطاعت سے روکا ہے اور تجھے اس کا محتاج بنا دیا ہے کہ تو سجدہ نہ کرے ؟ ) علماء نے کہا ہے : وہ شے جس نے اسے سجدہ نہ کرنے پر مجبور کیا تھا وہ تکبر اور حسد تھا۔ ور اس نے اپنے اندر چھپا رکھا تھا جب اسے اس کے بارے حکم دیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آیت : انی خالق بشرا من طین ( ص) کہ میں پیدا کرنے والا ہوں بشر کو کیچڑ سے) آیت : فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین ( ص) ( پس جب میں اس کو سنواردوں اور پھر پھونک دوں اس میں اپنی ( طرف سے خاص) روح تو تم گر پڑنا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے) تو گویا آیت : فقعوا لہ سجدین کے قول سے اس میں امر عظیم ( بہت بڑا اضطراب) داخل ہوگیا، کیونکہ اس سجدہ کرنے میں سجدہ کرنے والے کی ذلت و رسوائی اور جس کے لیے کیا گیا اس کی عزت و تکریم ہے پس اس نے اپنے دل میں یہ رکھ لیا کہ وہ سجدہ نہیں کرے گا جس وقت اسے اس کا حکم دیا گیا۔ پس جب حضرت آدم (علیہ السلام) میں روح پھونکی گئی تو ملائکہ سجدے میں گر گئے اور وہ ان کے درمیان کھڑا باقی رہا، پس اس نے اپنے قیام اور سجدہ ترک کرنے کے ساتھ اسے ظاہر کردیا جو اس کے اندر چھپا ہوا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ما منعک الا تسجد یعنی میرے حکم کی پیروی سے تجھے کس نے روکا ہے ؟ تو اس نے اپنے دل کا راز نکال دیا اور کہا : آیت : انا خیرمنہ۔ مسئلہ نمبر 2، قولہ تعالیٰ : آیت : اذامرتک یہ اس پر دلیل ہے جو فقہاء کہتے ہیں کہ جب امر مطلق بغیر قرینہ کے ہو تو وہ وجوب کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ اس میں مذمت اس امر مطلق کو ترک کرنے پر معلق کو ترک کرنے پر معلق ہے جو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو فرمایا : آیت : اسجدوا لادم ( آدم کو سجدہ کرو) اور یہ بین اور واضح ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قال انا خیرمنہ یعنہ سجدہ کرنے سے مجھے میرے اس فضیلت نے روکا ہے جو مجھے اس پر حاصل ہے۔ ابلیس کی طرف سے یہ جواب بالمعنی ہے، جیسے آپ کہتے ہیں : لمن ھذی الدار ؟ یہ گھر کس کا ہے ؟ تو مخاطب کہتا ہے : مالکھا زید ( اس کا مالک زید ہے) تو عین جواب نہیں ہے، بلکہ ایسا کلام ہے جو معنی جواب کی طرف راجع ہے۔ آیت : خلقتنی من نار وخلقتہ من طین پس اس نے گمان کیا کہ آگ مٹی سے اشرف واعلیٰ ہے، اس لیے کہ یہ بلند مرتبہ ہے، بلندی کی طرف چڑھنے والی ہے اور تیزرفتار ہے اور اس لیے بھی کہ یہ ایک روشن جوہر ہے۔ حضرت ابن عباس، حسن اوسر ابن سیرین ؓ نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ابلیس نے قیاس کیا اور اس نے قیاس میں غلطی کی پس جس نے دین میں اپنی رائے سے قیاس کیا اللہ تعالیٰ اسے ابلیس کے ساتھ ملا دے گا۔ ابن سیرین نے کہا : سورج و چاند کی عبادت صرف اور صرف قیاسوں کے مطابق کی گئی۔ اور حکماء نے کہا ہے : اللہ کے اس دشمن نے اس بارے میں خطا اور غلطی کی ہے کہ اس نے آگ کو مٹی پر فضیلت دی ہے۔ اگرچہ یہ دونوں جامد مخلوق ہونے کے اعتبار سے ایک درجہ میں ہیں، پھر بھی مٹی آگ سے چار وجہ سے افضل و برتر ہے۔ (1) مٹی کے جوہر میں استحکام اور سکون ہے، وقار اور بردباری ہے، حلم، حیا اور صبر ہے اور یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مذکورہ سعادت و اعزاز کے بعد توبہ، تواضع اور عجزوانکساری کی طرف دعوت دینے والا ہے، پس اس نے آپ کو مغفرت، اجتباء اور ہدایت کا وارث بنا دیا۔ اور آگ کے جوہر میں خفت ( ذلت) طیش، حرارت، بلندی اور اضطراب ہے اور یہ ابلیس کو مذکورہ شقاوت وبدبختی کے بعدتکبر اختیار کرنے اور اس پر اصرار کرنے کی دعوت دینے والا ہے، پس اس نے اسے ہلاکت، عذاب، لعنت اور شقاوت کا وارث بنا دیا۔ یہ قفال نے کہا ہے۔ (2) بیشک حدیث اس پر ناطق ہے کہ جنت کی مٹی انتہائی خوشبودار کستوری ( کی مثل) ہے اور اس پر کوئی حدیث نہیں کہ جنت میں آگ ہے اور (نہ اس پر) کہ جہنم میں مٹی ہے۔ ( 3) تیسری وجہ یہ ہے کہ آگ کا سبب ہے اور یہ اللہ کا عذاب اس کے دشمنوں کے لیے ہے، لیکن مٹی عذاب کا سبب نہیں ہے۔ (4) مٹی آگ کی محتاج نہیں اور آگ مکان کی محتاج ہے اور اس کا مکان مٹی ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : ایک پانچویں قول کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ مٹی سجدہ کرنے کی جگہ اور پاک کرنے والی ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں موجود ہے۔ اور آگ ڈرانے والی اور عذاب ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ذلک یخوف اللہ بہ عبادہ ( الزمر : 16) ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ابلیس کے لیے قیاس کی نسبت اطاعت وفرمانبرداری اولیٰ اور بہتر تھی لیکن اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور یہ وہ پہلا فرد ہے جس نے اپنی رائے کی مطابق قیاس کیا اور نص کی مخالفت میں قیاس مردود ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ قیاس کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے کچھ اس کے قائل ہیں اور کچھ اسے رد کرنے والے ہیں۔ پس جو اس کا قائل ہیں وہ صحابہ، تابعین، اور ان کے بعد آنے والے جمہور ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنا عقلا جائز ہے اور شرعا ایسا واقع ہوا ہے اور یہی صحیح ہے۔ شافعیہ میں سے قفال اور ابو الحسین بصری اس طرف گئے ہیںٰ کہ اس کے مطابق عقلا عمل کرنا واجب ہے اور نظام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اس کے مطابق عمل کرنا عقلا اور شرعا محال ہے۔ اور بعض اہل ظواہر نے اس کا رد کیا ہے، لیکن پہلا (قول) صحیح ہے۔ امام بخاری (رح) نے ” کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ “ میں کہا ہے : اس کا معنی ہے لاعصمۃ لاحد الا فی کتاب اللہ اوسنۃ نبیہ اوفی اجماع العلماء اذا وجد فیھا الحکم فان لم یوجد فالقیاس ( کسی کے لیے عصمت اور بچاؤ نہیں ہے مگر کتاب میں یا نبی کریم ﷺ کی سنت میں علماء کے اجماع میں جب کہ اس میں حکم پایا جائے اور اگر حکم نہ پایا جائے تو پھر قیاس ہے) اور اسی بنا پر انہوں نے عنوان باندھا باب من شبہ اصلا معلوما باصل مبین قد بین اللہ حکمھا لیفھم السائل ( یعنی یہ باب اس کے بیان میں ہے جس نے کسی اصل معلوم کو اس اصل مبین کے ساتھ تشبیہ دی جس کے حکم کو اللہ نے بیان فرما دیا تاکہ سائل سمجھ جائے) اور اس کے بعد یہ عنوان ذکر کیا۔ باب الاحکم التی تعرف بالدلائل وکیف معنی الدلالۃ وتفسیرھا ( یہ بات ان احکام کے بیان میں ہے جو دلائل سے پہچانے جاتے ہیں اور دلالۃ کا معنی اور اس کی تفسیر کیا ہے) ۔ اور علامہ طبری نے کہا ہے : کتاب اللہ، نبی مکرم ﷺ کی سنت اور اجماع امت سے اجتہاد و استنباط کرنا ہی حق واجب ہے اور اہل علم کے لیے فرض لازم ہے اور اس بارے میں حضور نبی مکرم ﷺ اور صحابہ کرام اور تابعین رضوان اللہ علیم اجمعین کی جماعت سے کئی احادیث وروایات مروی ہیں۔ اور ابو تمام مالکی نے کہا ہے : امت نے قیاس پر اجماع کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے ان کا زکوٰۃ میں سونے اور چاندی کے قیاس پر اجماع ہے۔ اور حضرت ابوبکر ؓ نے کہا : اقیلونی بیعتی ( تم میری بیعت توڑ دو ) تو حضرت علی ؓ نے کہا : واللہ لا نقیلک ولا نستقیلک، رضیک رسول اللہ ﷺ لدیننا افلا نرضاک لدنیانا ؟ (مسند امام احمد، حدیث نمبر، 133، روایت المعنی) ( قسم بخدا ! نہ ہم آپ کی بیعت توڑیں گے اور نہ توڑنے کا مطالبہ کریں گے رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا ہے تو ہم کیوں نہ آپ کو اپنی دنیا کے لیے پسند کریں گے) تو اس میں آپ نے امامت کو نماز پر قیاس کیا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے زکوۃ کو نماز پر قیاس کیا اور فرمایا : واللہ افرق بین ما جمع اللہ (مسند امام احمد، حدیث نمبر 67) ( قسم بخدا ! میں ان کے درمیان تفریق نہیں کروں گا جنہیں اللہ تعالیٰ نے جمع فرمایا) اور حضرت علی ؓ نے صحابہ کرام کی موجودگی میں شراب پینے والے کے بارے میں قیاس کی تصریح کردی اور فرمایا : انہ اذا سکر ھذی، واذا ھذی افتری، فحدہ حد القاذف ( بیشک جب وہ نشے میں ہوتا ہے تو ہذیان بکتا ہے اور جب ہذیان کہتا ہے تو بہتان تراشی کرتا ہے پس اس کی حد تہمت لگانے والے کی مثل ہوگی) اور حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی طرف ایک خط لکھا اور اس میں فرمایا : الفھم الفھم فیما یختلج فی صدرک فما لم یبلغک فی الکتاب والسنۃ، اعرف الامثال والاشباہ، ثم قس الامور عند ذالک، فاعبد الی احبھا الی اللہ تعالیٰ واشبھھا بالحق فیما تری، الحدیث بطولہ ذکرہ الدار قطنی (سنن دار قطنی، حدیث نمبر 4471) ( خوب سمجھو اور غورفکر کرو ایسے امر میں جس کے بارے میں تمہارے دل میں کوئی خلش اور شک پیدا ہوجائے اور اس کے بارے کتاب وسنت کا حکم تمہیں نہ پہنچے تو اس کی امثال واشباہ کو پہچانو، پھر ان امور میں سے کسی پر قیاس کرلو اور اس پر اعتماد کرو جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو اور تمہاری رائے میں حق کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہو۔ یہ ایک طویل حدیث ہے جسے دارقطنی نے ذکر کیا ہے۔ اور حضرت ابو عبیدہ ؓ نے حضرت عمر ؓ کو حدیث وباء میں کہا، جس وقت حضرت عمر ؓ مقام سرغ سے واپس لوٹے ! آیت : نفر من قدر اللہ ؟ ( کیا ہم اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں ؟ ) تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : نعم ! نفر من قدر اللہ الی قدر اللہ ( ہاں ! ہم اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں) پھر حضرت عمر ؓ نے انہیں فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے (ایضا، حدیث نمبر 1683، مختصر) ۔۔ پس آپ نے اسے ان مسائل پر قیاس کیا اور ان کے مطابق اس میں غور و فکر کی جو اس سے مشابہت رکھتے تھے اور یہ سب مہاجرین وانصار کی موجودگی میں ہوا اور تیرے لیے یہی کافی ہے۔ اور اس معنی میں جہاں تک آثار اور آیات قرآنی کا تعلق ہے تو وہ کثیر اور بہت زیادہ ہیں۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ قیاس اصول دین میں سے ایک اصل ہے۔ اور مسلمانوں کی حفاظت اور بچاؤ کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور مجتہدین اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور عمل کرنے والے علماء اس کی پناہ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ احکام مستنبط کرتے ہیں اور یہ ان کی جماعت کا قول ہے جو حجت ہیں اور جو ان سے الگ ہوگیا اس کی طرف کوئی التفات نہیں کیا جائے گا۔ اور رہی مذموم رائے اور ایسا قیاس جس میں منھی عنہ ( وہ شی جس سے سے منع کیا گیا ہو) کے بارے میں تکلف کیا گیا ہو تو وہ اس مذکورہ اصول پر نہیں، کیونکہ وہ ظن اور شیطان کی جانب سے دھوکہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ولا تقف مالیس لک بہ علم (الاسرائ : 36) ( اور نہ پیروی کرو اس چیز کی جس کا تمہیں علم نہیں) اور قیاس کی مذمت میں جتنی کمزور اور ضعیف اخبار واحادیث قیاس کے مخالف لاتے ہیں تو وہ قیاس مذموم کی اس نوع پر محمول ہیں، جس کی شریعت میں کوئی اصل معلوم نہیں۔ اس بارے مکمل بحث کتب اصول میں ہے۔
Ayah 7:13

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایان نہیں کہ یہاں غرور کرے۔ پس نکل جا ' تو ذلیل ہے۔

قولہ تعالیٰ : آیت : قال فاھبط منھا یعنی فرمایا : تو آسمان سے اتر جا۔ آیت : فما یکون لک ان تتکبر فیھا کیونکہ اس کے باسی تواضع اور انکساری کرنے والے فرشتے ہیں۔ آیت : فاخرض انک من الصغرین پس تو نکل جا بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے۔ اور یہ اس ل پر دلیل ہے کہ جس نے اپنے مولی کی نافرمانی کی تو وہ ذلیل ہے۔ ابو روق اور بجلی نے کہا : آیت : فاھبط منھا یعنی تو اپنی اس صورت سے الگ ہوجا جس میں تو ہے، کیونکہ اس نے اس پر فخر کیا کہ وہ آگ سے ہے پس اس کی صورت تاریکیوں کے ساتھ اور اس کی چمک اور روشنی کے زوال کے ساتھ بدشکل ہوگئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : فاھبط منھا یعنی تو زمین سے سمندروں کے جزیروں کی طرف منقل ہوجا، جیسے کہا جاتا ہے : ھبطنا ارض کذا یعنی ہم دوسری جگہ فلاں زمین کی طرف منتقل ہوگئے، تو گویا اسے زمین سے سمندروں کے جزیروں کی طرف نکال دیا گیا اور اس کا غلبہ اور سلطنت انہیہںٰمیں ہے اور وہ زمین جس میں داخل نہیں ہو سکتا مگر چور کی حالت کی طرح وہ اس میں ڈرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے نکل جاتا ہے۔ پہلا قول اظہر اور واضح ہے اور سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 7:14–15

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔

آیت نمبر : 14۔ 15 اس نے قبروں سے اٹھانے اور حساب کے دن تک باقی رہنے کی مہلت مانگی۔ اس نے مطالبہ کیا کہ وہ نہ مرے، کیونکہ یوم البعث کے بعد پھر کوئی موت نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : انک من الصغرین بیشک تو مہلت دیئے ہوؤں میں سے ہے۔ حضرت ابن عباس، سدی وغیرہما ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے نفخہ اولیٰ تک مہلت دی کہ اس وقت تمام مخلوق مر جائے گی۔ اور اس کا مہلت کا مطالبہ نفخہ ثانیہ تک تھا جس وقت لوگ رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے اٹھیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کا انکار فرما دیا۔ اور فرمایا : آیت : الی یوم یبعثون ( اس دن تک جب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے) اور جسے اٹھایا جائے گا اس کا ذکر پہلے نہیں کیا، کیونکہ یہ قصہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد کے بارے میں ہے، پس قرینہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہی ہیں جنہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا۔
Ayahs 7:16–17

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

(پھر) شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے۔ میں بھی تیرے سیدھے راستے پر ان کو (گمراہ کرنے) کیلئے بیٹھوں گا۔

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا۔ (اور ان کی راہ ماروں گا) تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائیگا۔

آیت نمبر : 16۔ 17 اس میں تین مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : فبما اغویتنی اغواء کا معنی ہے ایقاع الغی فی القلب ( دل میں گمراہی کو واقع کرنا) یعنی اس وجہ سے کہ تو نے میرے دل میں گمراہی، عناد اور تکبر ڈال دیا۔ اور یہ اس لیے ( کہا) کیونکہ ابلیس کا کفر کفر جہالت نہیں، بلکہ وہ کفر عناد وتکبر ہے۔ اور اس کے بارے میں بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام کا معنی قسم ہے، یعنی تیرے مجھے گمراہ کرنے کی قسم میں ضرور بضرور ان کے لیے تیرے راستے پر، یا تیرے راستے میں بیٹھوں گا، پس کلام میں حذف ہے فبا غوائک ایای لا قعدن لھم علی صراطک اوفی صراطک اس قول کی دلیل اس کا وہ قول ہے جو سورة ص میں ہے : آیت : فبعزتک لا غوینھم اجمعین (تیری عزت کی قسم ! میں ضرور بضرور ان تمام کو گمراہ کروں گا) تو گویا ابلیس اللہ تعالیٰ کے اسے گمراہ کرنے کی مقدار سے بڑھ کر ہے، کیونکہ اس میں اسے بندوں پر تسلط اور غلبہ دینے کا ذکر ہے، پس اس نے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنی قدر کے عظیم ہونے پر قسم کھائی۔ اور یہ قول بھی ہے کہ بابمعنی لام ہے، گویا اس نے یہ کہا : فلا غوائک ایای ( تیری مجھے گمراہ کرنے کی وجہ سے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بابمعنی مع ہے اور معنی ہے فمع اغوائک ایای ( پس تیرے مجھے گمراہ کرنے کے ساتھ) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ استفہام ہے، گویا اس نے پوچھا بای شی اغواہ ؟ ( کون سی شے کے سبب اللہ نے اسے گمراہ کیا ہے) اور اس بنا پر یہ ہونا چاہیے : فبم اغویتنی ؟ ( کیونکر تو نے مجھے گمراہ کیا ؟ ) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے فبما اھلکتنی بلعنک ایای ( کس سبب سے تو نے مجھے اپنی نعمت کا مستحق قرار دے کر ہلاک کیا) ؟ تو اس کے مطابق اغواء بمعنی اھلاک ( ہلاک کرنا) ہو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فسوف یلقون غیا ( مریم) ای ھلاکا ( وہ ہلاکت کو جا ملیں گے) ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ بمعنی فما اضللتنی ( تو نے مجھے کس سبب سے گمراہ کیا ؟ ) تو اس میں اغوا بمعنی اضلال ( گمراہ کرنا) اور ابعاد ( اپنی رحمت سے دور کرنا) ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ اور یہ قول بھی ہے : خیبتنی من رحمتک ( تو نے مجھے اپنی رحمت سے محروم کردیا ہے) اور اس معنی میں شاعر کا قول بھی ہے : ومن یغولا یعدم علی الغی لائما ای من یخب ( جو محروم ہوجاتا ہے) اور ابن اعرابی نے کہا ہے : کہا جاتا ہے : غوی الرجل ( یغوی) غیا جب آدمی پر اس کا معاملہ فاسد ہوجائے یا اس کے دل میں وہ فاسد ہوجائے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت : وعصی ادم ربہ فغوی (طہ) ( اور حکم عدولی ہوگئی ۃ آدم سے اپنے رب کی سو وہ بامراد نہ ہوا) کے معانی میں سے ایک ہے یعنی جنت میں اس کا رہنا فاسد ہوگیا۔ اور کہا جاتا ہے : غوی الفصیل ( جب اونٹ کے بچے کو بد ہضمی ہونا اور لاغری سے قریب بہ ہلاکت ہونا) جب وہ اپنی ماں کا دودھ نہ پی سکے۔ مسئلہ نمبر 2۔ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کیا اور اس میں کفر پیدا کردیا، اسی وجہ سے اس ارشاد میں اغوا (گمراہ کرنے) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور یہی حقیقت ہے اور موجود کوئی شے نہیں ہے مگر وہ اس کے مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہی سب صادر ہوتا ہے۔ قدریہ وغیرہ نے ابلیس کی مخالفت کی ہے جس کی اطاعت و مطاوعت انہوں نے ہر اس معاملے میں کی جسے اس نے ان کے لیے مزین اور آراستہ کیا، لیکن اس مسئلہ میں انہوں نے اس کی پیروی نہ کی اور وہ کہتے ہیں : ابلیس نے غلطی اور خطا کی ہے اور وہ خطا کا اہل تھا اسی وجہ سے اس نے گمراہی کی نسبت اپنے رب کی طرف کی، اللہ تعالیٰ اس سے انتہائی بلندو برتر ہے۔ تو انہیں کہا جائے گا : ابلیس اگر خطا کا اہل ہے تو نبی (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کرو گے جو مکرم اور معصوم ہے اور وہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں، جب انہوں نے اپنی قوم کو کہا : آیت : ولا ینفعکم نصحی ان ارادت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم ھو ربکم والیہ ترجعون ( ہود) ( اور نہیں فائدہ پہنچائے گی تمہیں میری خیر خواہی اگرچہ میرا ارادہ ہو کہ میں تمہاری خیر خواہی کروں اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کر دے وہ پروردگا ہے تمہارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے) اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت طاؤس کے پاس مسجد حرام میں ایک آدمی آیا اور وہ قدریہ ( فرقہ سے) متہم تھا اور وہ بڑے اور عظیم فقہاء میں سے تھا۔ پس وہ آپ کے پاس بیٹھ گیا تو حضرت طاؤس نے اسے کہا : تو اٹھے گا یا تجھے اٹھایا جائے گا ؟ تو حضرت طاؤس کو عرض کیا گئی : آپ یہ الفاظ ایک فقیہ آدمی کہ کہہ رہے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا : ابلیس افقہ منہ ( ابلیس اس سے بڑھ کر فقیہ ہے) ابلیس کہتا ہے : آیت : رب بما اغویتنی ( الحجر : 39) ( اے میرے رب ! کس سبب سے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے) اور یہ کہتا ہے : انا اغوی نفسی ( میں اپنے آپ کو گمراہ کرتا ہوں) مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : لاقعدن لھم صراطک المستقیم یعنی ( میں ان کو گمراہ کرنے کے لیے تیرے سیدھے راستے پر ضرور ان کی تاک میں بیٹھوں گا) اس سے اعراض کرنے کے ساتھ اور باطل کو مزین وآراستہ کرنے کے ساتھ یہاں تک کہ وہ اسی طرح ہلاک ہوجائیں جیسے وہ ہلاک ہوا یا وہ انہیں اسی طرح گمراہ کر دے جیسے وہ گمراہ ہوا یا وہ انہیں اسی طرح محروم کر دے جیسے اسے محروم کیا گیا، جیسا کہ یہ تینوں معانی اغویتنی کی تفیسر میں گزر چکے ہیں۔ اور صراط مستقیم وہ راستہ ہے جو جنت تک پہنچانے والا ہے۔ اور صراطک منصوب ہے اس بنا پر کہ آیت : صراطک المستقیم سے پہلے علی یافی محذوف ہے، جیسے سیبویہ نے بیان کیا ہے ضرب زید الظھر والبطن اور یہ شعر بھی کہا : لدن بھز الکف یعسل متنہ فیہ کما عسل الطریق الثعلب (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 380) ( دونوں مثالوں میں الظھر والبطن اور الطریق سے پہلے حروف جار محذوف ہے) اور اس قول : آیت : ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمآئلھم کی تاویل میں جو احسن ترین قول کہا گیا ہے ( وہ یہ ہے): میں انہیں ضرور گمراہ کروں گا حق سے اور انہیں دنیا میں رغبت دلاؤں گا اور انہیں آخرت کے بارے میں شک میں مبتلا کروں گا اور گمراہی میں یہ انتہا ہے، جیسے اس نے کہا : آیت : ولا ضلنھم ( النسا : 119) جیسے پہلے گزر چکا ہے۔ اور سفیان نے منصور سے اور اس نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 162) کہ اس نے کہا : آیت : من بین ایدیھم یعنی ان کی دنیا کی جانب سے۔ آیت : ومن خلفھم ان کی آخرت کی جانب سے۔ آیت : وعن ایمانھم یعنی ان کی نیکیوں کی جانب سے۔ آیت : وعن شمآئلھم یعنی ان کے گناہوں اور برائیوں کے اعتبار سے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ قول اچھا ہے اور اس کی شرح یہ ہے کہ آیت : ثم لاتینھم من بین ایدیھم کا معنی ہے میں ضرور ان کے پاس آؤں گا ان کی دنیا کی جانب سے، یہاں تک کہ وہ اس میں موجود آیات اور امم ماضیہ کی اخبار کو جھٹلانے لگیں آیت : ومن خلفھم اور ان کی آخرت کی جانب سے یہاں تک کہ وہ اس کی تکذیب کردیں۔ آیت : وعن ایمانھم ان کی نیکیوں اور ان کے امور دینیہ کی جانب سے۔ اور اس پر یہ قول دلالت کرتا ہے : آیت : انکم کنتم تاتوننا عن الیمین ( الصافات) ( کہ تم آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے کروفر سے) آیت : وعن شمآئلھم یعنی ان کے گناہوں کی طرف سے، یعنی وہ شہوات کی اتباع و پیروی کریں گے، کیونکہ وہ شہوات کو ان کے لیے مزین وآراستہ کر دے گا۔ آیت : ولا تجد اکثرھم شکرین اور تو ان میں سے اکثر کو موحد، اطاعت کرنے والا فرمانبردار اور اظہار شکر کرنے ولانہ پائے گا۔