Ayahs 8:1–4قال اللہ تعالیٰ یسئلونک عن الانفال۔۔۔ الی۔۔۔ ومفرۃ ورزق کریم
سورة انفال کل مدنی ہے جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اسی وجہ سے اس سورت کو سورة بدر بھی کہتے ہیں اس میں پچھتر یا چھتر یا ستتر آیتیں اور دس رکوع ہیں۔
فائدہ : انفال۔ نفل بالتحریک کی جمع ہے جس سے مراد مال غنیمت ہے۔ نفل در اصل بمعنی زیارت ہے اور نفل کو نفل اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اصل فرض سے زائد ہے اور غنیمت کو نفل اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور عطیہ ہے مال غنیمت پہلی امتوں پر حلال نہ تھا اس امت پر بطور فضل وزیادت حلال کردیا گیا اور غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو جہاد میں کافروں سے حاصل ہو اور فقہاء کی اصطلاح میں نفل کا اطلاق اس مال پر ہوتا ہے جو مسلمانوں کا امیر کسی غازی کو اس کافر مقتول کا گھوڑا یا ہتھیار دے دے جس کافر کو اس غازی نے قتل کیا ہے چونکہ یہ مال غازی کو اس کے اصل حصہ سے زائد ملتا ہے اس لیے اس زائد عطیہ کو نفل کہا جاتا ہے اور اس آیت میں انفال سے غنائم کے معنی مراد ہیں۔
(ربط) گزشتہ سورت میں انبیاء کرام کا اپنی اپنی قوموں اور امتوں کے مقابلہ میں غلبہ اور کامیابی کا ذکر تھا اب اس سورت میں زیادہ تر غزوۂ بدر کا بیان ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو محض تائید غیبی سے فتح ونصرت اور غلبہ عطاء کیا ظاہری اسباب اور ظاہری سازوسمان کے لحاظ سے صحابہ بالکل بےسروسامان تھے حق تعالیٰ نے ان بےسروسامانوں سے سرداران قریش کے غرر اور تکبر کو خاک میں ملا دیا اور صحابہ کرام کی ایک مٹھی بھر جماعت جو ملائکہ مقربین 1 لا یستکبرون عن عبادتہ ویسبحونہ ولہ یسجدون۔ کا نمونہ تھی مستکبرین کے لشکر جرار پر غالب آئی اور یہ کامرانی اور کامیابی تقوی اور توکل کی برکت تھی اس لیے اس سورت کو تقوی اور خوف اور خشیت اور توکل سے شروع فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دورامدار اخلاص اور تقوی اور توکل اور اطاعت خدا و رسول پر ہے۔
1 گزشتہ سورت کے خاتمہ کے ساتھ ربط کی طرف اشارہ ہے
شان نزول : سورة انفال مدنی ہے ہجرت کے بعد ایام جنگ بدر میں نازل ہوئی جب مسلمانوں کو جنگ بدر میں بعنایت الٰہی فتح نصیب ہوئی اور کافروں کا بہت سارا مال قبضہ میں آیا تو اس مال کی تقسیم میں لوگوں نے کچھ اختلاف کیا جوانوں کا گروہ یہ کہتا تھا کہ غنیمت کے زیادہ حقدار ہم ہیں کیونکہ ہم نے دشمنوں کو قتل کیا ہے اور ہم آگے بڑھ کر لڑے ہیں اور ہم نے ان کو شکست دی ہے جسے اور بوڑھے یہ کہتے تھے کہ ہم زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ ہم تمہاری پشت پناہی پر تھے اور تم ہماری قوت سے لڑے ہو اگر خدانخواست شکست ہوتی تو تم بھاگ کر ہمارے پاس آکر دم لیتے نیز یہ کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کر رہے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کسی کو بھی حق نہیں فتح محض اللہ کی مدد سے ہوئی اس فتح کو تم اپنی قوت بازو کا کرشمہ سمجھو۔ اللہ اس مال کا مالک ہے اور رسول اس کا نائب ہے جیسا آپ مناسب سمجھیں گے تقسیم کردیں گے چناچہ آنحضرت ﷺ نے وہ مال سب پر برابر تقسیم کردیا اور آئندہ کے لیے نصیحت کردی گئی کہ جو پکے مسلمان ہیں ان کو چاہئے کہ ہر معاملہ میں خدا سے ڈریں اور آپس میں صلح اور آشتی سے رہیں حرص اور طمع کو دل سے نکال دیں اور خدا کا رسول جو حکم دے اس پر بےچون وچرا عمل کریں اور نظر اللہ پر رکھیں مغفرت اور درجات عالیہ انہی لوگوں کو ملتے ہیں جن کی نظر صرف اللہ پر ہوتی ہے چناچہ فرماتے ہیں (اے نبی) یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تو آپ کے اصحاب اور احباب ہیں ان کا مطمع نظر تو فقط اجر اخروی ہونا چاہئے تھا مال غنیمت اگرچہ بلاشبہ حلال ہے مگر آپ حکم دریافت کرتے اور حرف استھقاق زبان پر لاتے۔ آپ ان کے جواب میں کہدیجئے کہ مال غنیمت جہاد اور جدوجہد کا اجر اور معاوضہ نہیں جہاد کا اجر آخرت میں ملے گا اور یہ تمام اموال غنیمت خالص اللہ کی ملک ہیں۔ مشرکین کی ملک سے نکل کر اللہ کی ملک میں داخل ہوئے ہیں تم پر بطور انعام تقسیم کیے جائیں گے نہ کہ بطور معاوضہ و استحقاق اور رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہے۔
پس یہ تمام اموال رسول اللہ ﷺ کے دست تصرف میں ہیں جسے چاہتا ہے بحکم خداوندی دیتا اور تقسیم کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اموال غنیمت سب اللہ کا مال ہیں اور اسکا رسول اس کا نائب ہے وہ اپنے اختیار سے جس کو جتنا چاہے دے تمہیں اس کے حکم پر چلنا چاہئے اور آپس میں نزاع نہیں کرنا چاہئے۔ پس اللہ سے ڈرو اور تقوی کی راہ اختیار کرو کہ اس کی ملک میں بغیر اس کی اجازت کے تصرف کرو اور اپنے آپس کے معاملہ کو صاف اور درست کرو اور باہمی اختلاف کو یار اور غمخواری سے بدل ڈالو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف کچھ حد اعتدال سے آگے نکل گیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ فرمائی اور ان کا فیصلہ اپنے رسول کے سپرد فرمایا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مال مسلمانوں پر درست طریقہ سے تقسیم کردیا اور اختلاف کرنے والوں نے اپنے اختلاف کی اصلاح کرلی اور فمرانبرداری کرو خدا اور اس کے رسول کی اگر تم ایمان والے ہو اس لیے کہ ایمان طاعت اور تقوی کو مقتضی ہے۔ اس آیت یعنی ان کنتم مومنین میں حرف ان شک کے لیے نہیں بلکہ جوش دلانے اور برانگیختہ کرنے کے لیے ہے کہ جب تم مومن ہو تو تقوی کی راہ اختیار کرو اور رسول کی اطاعت کرو جز ایں نیست کو مومن کاملین جو ایمان کے مقتضی پر چلتے ہیں وہ وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ ایتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ مضبوط کردیتی ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور پہلی نازل ہوئی آیتوں کا ایمان جب اس آیت کے ایمان کے ساتھ مل جاتا ہے تو ایمان اور زیادہ ہوجاتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ تلاوت کے انوار وبرکات سے ان کے باطن میں نور یقین زیادہ ہوجاتا ہے اور ظاہر میں طاعت اور اعمال صالحہ کی زیادتی ہوجاتی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو اہل دل ہیں جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو ان کے دل کا روزن اور زیادہ وسیع اور فراخ ہوجاتا ہے اور عالم غیب کا نور اس میں چمکنے لگتا ہے اور غیر اللہ سے نظر اٹھ جاتی ہے اس لیے یہ لوگ صرف اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان کو ماسوی اللہ کی پروا نہیں رہتی۔ ایسے ہیں کہ ٹھیک ٹھیک نماز ادا کرتے ہیں۔ یعنی آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں اور جو روزی ہم نے ان کو دی ہے اس میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے ہی لوگ جو صفات مذکورہ کے ساتھ موصوف ہوں سچے اور پکے مومون ہیں جن کے مومن ہونے میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہوسکتا ایسے لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے پاس بڑے درجے اور مرتبے ہیں اور ان کی تقصیر ات کی بخشش ہے اور عمدہ روزی ہے جو محنت اور مشقت سے مبرا اور زوال اور حساب کے خوف سے خالی ہے۔ امام قشیری (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رزق کریم وہ ہے جو مرزوق کو ارزاق کے مشاہدہ سے مانع نہ ہو۔
1 ایمان کی زیادتی اور نقصان کی بحث تفسیر آل عمران زیر آیت ان الناس قد جمعو لکم فاخشوھم فزادھم ایمانا میں گزر چکی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کاملین کی پانچ صفتیں ذکر فرمائیں
اول : اللہ تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت سے قلوب کا معمور ہونا
دوم ؛ تلاوت قرآن اور سماع کلام الٰہی سے ایمان میں زیادتی کا ہونا
سوم : اللہ پر توکل اور اعتماد
: چہارم : آداب عبودیت کی بجا آوری
پنجم : قلب کا حرص اور طمع اور بخل سے پاک ہونا۔
یہ پانچ خصلتیں ایمان کے عظیم شعبے ہیں جس میں یہ پانچ صفتیں جمع ہوجائیں اس کا ایمان ثابت اور مھقق ہوگیا۔ اولئک ہم ال مومن ون حقا۔ ایسے پکے اور سچے مومنوں کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ایسے تین مومنوں کا تو تین لاکھ کافر بھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔
Ayahs 8:5–6ذکر انعامات خداوندی در واقعہ بدر بہ برکت ایمان وتقوی وتوکل
قال اللہ تعالیٰ ٰ کما اخرجک ربک من بیتک بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ وھم ینظرون
(ربط): اس سورت میں عموما غزوہ بدر کی کامیابی کے واقعات کا ذکر ہے اور اس ضمن میں جو انعامات خداوندی مبذول ہوئے ان کی تذکیر اور یاد دہانی مقصود ہے اور یہ بتلانا ہے کہ دیکھو تو سہی کہ باوجود بےسروسامانی کے جنگ بدر میں کس طرح از اول تا آخر تائید غیبی تمہاری معین اور مددگار رہی یہ سب ایمان اور تقوی اور توکل اور اطاعت خدا اور رسول کی برکت تھی۔ شروع سورت میں اجمالی طور پر غزوہ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں اس غیبی کامیابی کے کچھ واقعات ذکر کرتے ہیں تاکہ ان غیبی انعامات اور آسمانی نشانات کو یاد کر کے دل میں منعم حقیقی کی محبت اور عظمت کا جذبہ جوش میں آجائے اور اسباب ظاہری سے بالکلیہ نظر اٹھ جائے۔
شان نزول :
چناچہ پہلا واقعہ جو پیش آیا وہ یہ تھا کہ کفار قریش کا تجارتی قافلہ جس کا سردار ابو سفیان تھا شام سے مال تجارت لے کر مکہ واپس آرہا تھا آپ کو اس قافلہ کی آمد کی خبر ملی تو آپ نے صحابہ سے اس کا ذکر کی اور حال بیان کیا کہ اس قافلہ میں مال تو بہت ہے اور آدمی تھوڑے ہیں اے مسلمانو ! تم اس قافلہ کی طرف خروج کرو شاید اللہ تعالیٰ تم کو یہ اموال عطاء کرے آپ نے اسی قافلہ کے ارادے سے صحابہ کی ایک جمعیت کے ساتھ مدینہ سے خروج فرمایا۔ ابوسفیان جب حجاز کے قریب پہنچا تو اس نے جاسوس چھوڑے کیونکہ غزوہ بدر سے پہلے ہی آنحضرت ﷺ کی طرف سے سرایا کا سلسلہ جاری ہوچکا تھا کہ وہ قریش کے تجارتی قافلوں پر حملہ آور ہوتے تھے اسی خدشہ کی بناء پر ابو سفیان نے مختلف طرف جاسوس روانہ کیے اور راستہ میں جو قافلہ ملتا اس سے حال پوچھتا کہ مبادا مسلمان اس کے قافلہ پر حملہ کردیں۔
یہاں تک کہ اس کو کسی قافلہ کے ذریعہ یہ خبر ملی کہ آنحضرت ﷺ تیرے قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوگئے ہیں ابو سفیان نے اسی وقت ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت دیکر مکہ کی طرف دوڑایا۔ اور یہ پیغام دیا کہ مکہ میں جا کر یہ اعلان کردے کہ اے قریش جلد از جلد تم اپنے قافلہ کے بچانے کے لیے نکلو جب اہل مکہ کو یہ خبر پہنچی تو ابوجہل ایک بڑا لشکر اپنے ساتھ لے کر قافلہ والوں کی مدد کے لیے روانہ ہوا مگر ابو سفیان دوسرا راستہ اختیار کر کے قافلہ کو مسلمانوں کی زد سے بچا کر نکل گیا۔ لیکن ابوجہل لڑائی کے ارادہ سے مقام بدر پر آپہنچا ادھر آنحضرت ﷺ اس وقت وادی ذفران میں تشریف فرما تھے یہ جبریل امین وحی لیکر آئے اور آپ کو ابوجہل کے لشکر کے آنے کی ساری اطلاع دی۔ آں حضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ حال یہ ہے کہ ادھر سے تو قافلہ آتا ہے اور ادھر سے لشکر۔ تم قافلہ سے مقابلہ پسند کرتے۔ یا لشکر کفار سے مقاتلہ اور محاربہ پسند کرتے ہو یہ سن کر مسلمانوں میں کچھ اختلاف رائے ہوا۔ بعض نے آنحضرت ﷺ کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ اور بعض نے یہ کہا کہ ہم لڑائی کے ارادے نہیں نکلے تھے اور نہ اس کے لیے ہم نے کوئی تیاری کی بلکہ ہم تو قافلہ کے لوٹنے کے لیے نکلے تھے تو ہم کو قافلہ ہی کا تعاقب کرنا چاہئے آپ اس بات سے رنجیدہ ہوئے تو اس وقت حضرت ابوبکر اور عمر ؓ اور حضرت مقداد اور سعد بن معاذ ؓ نے اطاعت آمیز اور جاں نثارانہ تقریریں کیں اور دل و جان سے لڑائی پر آمادگی ظاہر کی اور سعد بن معاذ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم آپ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں اللہ نے آپ کو جو حکم دیا ہے ویسا ہی کیجئے خدا کی قسم اگر آپ ہم کو دریا میں گھس جانے کا حکم دیں گے تو ہم دریا میں گھس پڑیں گے اور ایک آدمی بھی ہم میں سے پیچھے نہ رہے گا اور ہم دشمن کے مقابلہ سے ذرہ برابر ناخوش نہیں۔ ہم لڑائی کے وقت بڑے صابر اور ثابت قدم ہیں اور دشمن کے مقابلہ میں ہم صادق اور سچے ہیں کیا عجب ہے کہ الہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ بات دکھلائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ آپ اللہ کے نام اور اس کی برکت پر چلیے آپ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔ چلو اللہ کی برکت پر اور بشارت ہو تم کو۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ دو گروہوں میں سے ایک گروہ کا وعدہ کیا ہے ایک ابو سفیان کے قافلہ کا گروہ اور دوسرا ابو جہل کے لشکر کا گروہ مجھ سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ان دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارے لیے مسخر ہوجائیگا اور تم اس پر غالب ہوگے مفصل قصہ کتب سیر میں مذکور ہے۔ غرض یہ کہ بعض مسلمانوں کو بوجہ بےسروسامانی کے اور بوجہ آسانی کے یہ خیال تھا کہ لڑائی نہ ہو اور قافلہ کا مال کثیر ان کے ہاتھ آجائے اور اللہ اور اس کے رسول کو یہ منظور تھا کہ کفر کا زور ٹوٹ جائے اور مسلمانوں کی دھاک کافروں کے دل میں بیٹھ جائے کیونکہ اگر قافلہ پر حملہ کیا گیا تو صرف مال تو ہاتھ آجائے گا مگر کفر کی کمر نہیں ٹوٹے گی۔ اس لیے آپ نے ابوجہل کے مقابلہ کو ترجیح دی۔ آئندہ آیات میں اسی بات کا ذکر ہے۔
گزشتہ آیات میں تقسیم غنائم کے بارے میں اختلاف اور نزاع پر تنبیہ فرمائی تھی اب ان آیات میں دوسرے اختلاف پر ملامت اور تنبیہ فرماتے ہیں جو ابتداء سفر میں پیش آیا اور چونکہ اس اختلاف کا منشا محض اسباب ظاہری پر نظر تھی اس لیے گزشتہ آیت وعلی ربھم یتوکلون۔ میں اس پر ایک لطیف تعریض بھی ہے کہ اے اصحاب رسول تمہارا اسباب ظاہری پر نظر کر کے جہاد و قتال سے گریز کرنا اور قافلہ تجارت کے مال و دولت کی طرف نظر اٹھانا شان توکل کے شایان شان نہیں چناچہ اس غزوہ میں جو من جانب اللہ مسلمانوں پر انعامات مبذول ہوئے ان کو ذکر فرماتے ہیں۔
انعام اول
اے نبی جس طرح لوگوں نے اس تقسیم انفال میں اختلاف کی اور بعضوں کو یہ تقسیم طبعاً گراں گزری اور بع اس سے ناخوش تھے مگر بوجہ مصالح کثیر خیر اسی میں تھی کہ اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم سے تم میں یہ مال برابر تقسیم کردیا اور تمہاری ناگواری کا لحاظ نہیں کیا۔ عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبو شیئا وھو شر لکم۔ اسی طرح جب تیرے پروردگار نے تجھ کو تیرے گھر سے عینی تیری بستی سے حکمت اور مصلحت کے ساتھ بدر کی طرف نکالا تو مسلمانوں نے خروج کے بارے میں اختلاف کیا اور تحقیق اہل ایمان کی ایک جماعت بوجہ سروسامانی اور پہلے سے تیاری نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے اس خروج کو طبعاً ناپسند کرتی تھی یعنی یہ کراہت اور ناگواری بوجہ مخالفت حکم نہ تھی۔ بلکہ بےسروسامانی کے سبب سے وہ طبیعت کی کراہت تھی جو طبیعت بشریہ کے لوازم میں سے ہے اور یہ لوگ آپ سے امر حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ حق ظاہر ہوگیا کہ کافروں سے جہاد اور قتال اور ان کی سرکوبی اور گردن کشی ہی بہتر ہے اور جب آپ کی بشارت سے ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ ہر حال میں دشمن پر فتح پائیں گے تو پھر اس علم کے جنگ سے گریز اور پہلو تہی کیسی اور ظاہری اسباب کی بناء پر خوف وہراس کیسا۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے باوجود علم اور یقین کے آپ سے مجادلہ اور اصرار میں اس قدر مبالغہ کیا کہ گویا کہ یہ لوگ موت کی طرف ہنکائے جارہے ہیں اور گویا وہ موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مگر بالآخر انجام اسی کا بہتر ہوا جس کو وہ ناپسند کرتے تھے اور اسی میں خیر ہوئی لشکر کفار سے مقابلہ کا انجام یہ ہوا کہ اسلام غالب ہوا اور کفر مغلوب ہوا اور یہ بات قافلہ تجارت کے مقابلہ سے حاصل نہ ہوتی مال تو مل جاتا مگر کفر ذلیل اور خوار نہ ہوتا پس جس چیز کو تم ناپسند کرتے تھے اسی میں تمہاری خیر اور بھلائی ہوئی کہ بلا قصد اور بلا ارادہ اور بلا تیاری کے تم کو تمہارے دشمن سے بھڑا دیا اور پھر تم کو فتحیاب بھی کردیا اسی طرح تمہارے خلاف منشاء اور خلاف طبع۔ انفال کی تقسیم میں حکمتیں اور مصلحتیں ہیں خلاصہ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اے نبی بدر کی غنیمتوں میں مسلمانوں کا اختلاف کرنا ایسا ہی خطاء ہے جیسا کہ جنگ بدر کے لیے خروج کرنے میں مسلمانوں کا اختلاف خطاء تھا جو لوگ اولئک ھم المومنون حقا کے مصداق ہوں ان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنی قلت تعداد اور قلت اسلحہ اور دشمنوں کی کثرت تعداد اور کثرت اسلحہ سے ڈر جائیں اور ان کا یہ اختلاف اگرچہ بطور مشورہ تھا مگر اس پر اصرار مناسب نہ تھا۔ اور ایسے پاکبازوں کے شایان شان نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دونوں غلطیاں معاف کیں۔ پہلی غلطی کا منشاء یہ تھا کہ یہ لوگ اپنی قلت تعداد اور قلت اسلحہ اور دشمنوں کی کثرت تعداد اور کثرت اسلحہ کی بناء پر خائف تھے مگر چونکہ یہ خوف طبعی تھا اور ظاہر اسباب کی بناء پر تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے معاف کیا اور دوسری غلطی کا منشاء یہ تھا کہ وہ غنیمت کا مستحق اسی کو سمجھتے تھے کہ جو دشمن کو قتل کرے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلطی کا ازالہ فرمادیا کہ تم اس مال کے مستحق نہیں۔ فتح ونصرت محض اللہ کی غیبی مدد سے ہوئی ہے تمہاری طاقت اور زور سے یہ فتح نہیں ہوئی سو یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے اور پیغمبر اس کے نائب ہیں۔ اس کے حکم کے مطابق تقسیم کردیں گے بہرحال تمہارا یہ سمجھنا کہ مال غنیمت کے ہم مستحق ہیں یہ تمہاری غلطی تھی جو اللہ تعالیٰ نے معاف کردی سچے اور پکے مومنین کی شان کے مناسب نہیں کہ ان کے دل مال حلال (مال غنیمت) کی طرف مائل ہوں اور ظاہری اسباب پر نظر کر کے اپنی قلت سے اور کافروں کی کثرت سے ڈرنے لگیں یہ توکل کے منافی ہے۔
نکتہ :
آیت مذکورہ بالا۔ یجادلونک فی الحق میں جن بعض صحابہ کے مجادلہ اور اصرار کی طرف اشارہ ہے۔ سو وہ مجادلہ محبانہ اور خادمانہ اور نیاز مندانہ تھا بطور ناز تھا۔ جو محبت سے پیدا ہوا تھا۔ معاذ اللہ مخالفانہ اور عاصیانہ نہ تھا۔ جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا قوم لوط کے بارے میں اللہ سے مجادلہ ازراہ خلت و انبساط تھا کما قال تعالیٰ یجادلنا فی قوم لوط اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس فریق کو فریقا من ال مومنین فرمایا کہ یہ مجادلہ ایمان کے منافی نہ تھا۔
Ayahs 8:7–8ذکر انعام دوم
قال اللہ تعالیٰ واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین۔۔۔ الی۔۔۔ ولو کرہ المجمون
(ربط ان آیات میں غزوہ بدر کے متعلق دوسرے انعام کا ذکر فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تم تو غیر ذی شوکت جماعت یعنی قافلہ ابو سفیان کے طلبگار ہو اور خدا تعالیٰ کو احقاق حق اور ابطال باطل مقصود ہے اور یہ بات ذی شوکت جماعت یعنی ابو جہل کے لشکر جرار کے مقابلہ اور جنگ سے حاصل ہوتی ہے۔ دین حق کا غلبہ اور باطل کی سرکوبی خونریز جنگ سے ہوتی ہے نہ کہ تجارتی قافلہ سے چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو تم اس وقت کو کہ جب اللہ تم سے وعدہ کرتا تھا کہ دو جماعتوں میں سے یعنی ابو جہل کے لشکر اور ابو سفیان کے قافلہ تجارت میں سے ایک گروہ تمہارے لیے مسخر اور مقدر ہے۔ دو فریق میں سے ایک فریق ضرور تمہارے ہاتھ لگے گا یا قافلہ لوٹو گے۔ یا لشکر کفار کو قتل کرو گے اور تم یہ چاہتے تھے کہ غیر ذی شوکت جماعت تمہارے ہاتھ لگے یعنی تم قافلہ کو لوٹنا چاہتے تھے جس کے پاس جنگی قوت و شوکت نہ تھی اور ابوجہل کی جماعت جو ہتھیار بند تھی اور کیل کانٹے سے لیس تھی تم اس سے مقابلہ کرنا نہیں چاہتے تھے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنی باتوں سے حق کو ثابت کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے تاکہ کافروں کی اس ذلت آمیز قتل سے دین اسلام کا حق ہونا اور کفر کا باطل ہونا ظاہر کرے اگرچہ مجرموں کو یہ ناگوار گزرے اب تم کو اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے جس بات کو چاہو اختیار کرو بالآخر سب نے کفار سے لڑنے کو اختیار کیا اور ابوجہل کے مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت یہ چاہتی تھی کہ تجارتی قافلہ پر حملہ ہو کہ کانٹا بھی نہ چبھے اور بہت سا مال ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کی ایک بےسروسامان مٹھی بھر جماعت کفار کے لشکر جرار پر غالب آئے تاکہ خدا کے وعدوں کی سچائی اور اسلام کا معجزہ ظاہر ہو اور کفر ایسا ذلیل و خوار ہو کہ دنیا اس کی ذلت و خواری کا تماشہ دیکھے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جنگ بدر میں قریش کے ستر سردار مارے گئے جن میں ابو جہل بھی تھا جو اس امت کا فرعون تھا اور ستر ہی قید ہوئے اس طرح کفر کی کمر ٹوٹ گئی۔
Ayahs 8:9–10انعام سوم
قال اللہ تعالیٰ اذ تستغیثون ربکم۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ان اللہ عزیز حکیم
یاد کرو تم اس وقت کو کہ جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے کہ اے اللہ ہم کو اپنے دشمن پر فتح دے اور آنحضرت ﷺ نے یہ دعا فرمائی کے اے اللہ اگر مومنوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا کیونکہ یہ امت آخری امت ہے اور یہ نبی آخری نبی ہے سو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی اور تمہاری دعا قبول کی۔ اور وعدہ فرمایا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو لگاتار یکے بعد دیگرے آنے والے ہوں گے۔ ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت آئے گی۔ چناچہ اولا ایک ہزار فرشتوں سے مدد کا وعدہ فرمایا پھر تین ہزار ہوگئے اور پھر پانچ ہزار ہوگئے اس آیت میں پہلی مرتبہ کے ہزار کا ذکر ہے اور آل عمران کی آیت میں دوسری بار اور تیسری بار کے تین ہزار اور پانچ ہزار کا ذکر ہے اس بات پر تو تمام مفسرین اور محدثین کا اتفاق ہے کہ جنگ بدر کے دن فرشتے مسلح ہو کر مسلمانوں کی امداد کے لیے نازل ہوئے جو بعض اوقات مسلمانوں کو دکھائی بھی دئیے مگر اس میں اختلاف ہے کہ انہوں نے جنگ بھی کی یا نہیں۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ فرشتوں کا نزول محض مسلمانوں کی شمار بڑھانے اور ان کی تسلی کے لیے تھا۔ مگر یہ قول صحیح نہیں۔ صیح یہ ہے کہ فرشتوں نے جنگ بھی کی جیسا کہ ظاہر آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ اور کثیرہ سے ثابت ہے اور آنے والی آیت فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان۔ اس بارے میں نص صریح ہے اور نہیں بنایا اللہ نے فرشتوں کی اس امداد کو مگر فتح کی خوشخبری کہ تم خوش ہوجاؤ کہ آسمانی امداد ہمارے ساتھ ہے اور تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔ اور قلت اور ذلت کا خوف تمہارے دلوں سے دور ہوجائے اور نہیں ہے فتح اور نصرت مگر صرف اللہ کی طرف سے فرشتوں کے نزول کو فتح ونصرت کی علت نہ جانو بلکہ اس کو من جانب اللہ محض بشارت جانو وہ بغیر فرشتوں کے بھی فتح اور نصرت دے سکتا ہے۔ بیشک اللہ ہی غالب ہے وہی اپنے دوستوں کو فتح اور غلبہ دیتا ہے۔ حکمت والا ہے۔ اپنی حکمت سے تھوڑی جماعت کو کثیر جماعت پر فتح دیدی لہذا تم کو چاہئے کہ نظر اللہ پر رکھو نہ کہ فرشتوں پر۔
Ayah 8:11انعام چہارم
قال اللہ تعالیٰ اذ یغشیکم النعاس امنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ یثبت بہ الاقدام
(ر بط) ان آیات میں بھی ایک خاص انعام کا ذکر ہے وہ یہ کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کے دل کچھ افسردہ ہو رہے تھے اور کیوں نہ ہوتے کافروں کی فوج مسلمانوں سے دو چند بلکہ سہ چند سے بھی زائد تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل مضبوط کرنے کے لیے خلاف عادت ان پر نیند طاری کردی جس سے ان کا تکان دور ہوگیا اور دلوں سے سارا خوف وہراس کافور ہوا عین جنگ کے وقت اونگ اور نیند کا آنا ایک خارق عادت امر ہے جو نبی اکرم ﷺ کے اعتبار سے معجزہ تھا اور صحابہ کرام کے اعتبار سے کرامت تھی۔ اس لیے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جنگ کے وقت اور خاص کر جب کہ دشمن کی کثرت ہو آدمی کو نیند نہیں آتی۔ دل مضطرب رہتا ہے اہل بدر پر خدا تعالیٰ نے یہ احسان کیا کہ ان پر عین حالت قتال میں اونگھ کو مسلط کردیا جس سے ان کو دشمن کا ذرا اندیشہ نہ رہا۔ اور چونکہ نوم خفیف تھی اس لیے جب دشمن ان پر وار کرتا تھا تو فورا متنبہ ہوجاتے تھے۔ پس وہ اونگ ان پر اللہ تعالیٰ کا انعام تھا۔
عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ قتال کی حالت میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن ہے اور نماز میں شیطان کی طرف سے ہے اس آیت میں اسی انعام کا ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں یاد کرو اس وقت کو کہ جب اللہ تعالیٰ تم کو ہلکی نیند سے ڈھانک رہا تھا جو اس کی طرف سے تم کو چین اور امن دینے کے لیے طاری کی گئی۔ جس طرح فرشتے تمہارے اطمینان کے لیے اتارے گئے اسی طرح تمہاری چین اور امن کے لیے ہلکی سی نیند تم پر طاری کردی گئی اور ایسا ہی اونگھ کے طاری ہونے کا واقعہ جنگ احد میں پیش آیا کما قال تعالیٰ ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا یغشی طائفۃ منکم وطائفۃ قد اھمتھم انفسھم (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 291 ج 2)
غرض یہ کہ اونگ کا واقعہ دو بار ہوا ایک بدر میں اور ایک احد میں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام یاد لایا کہ دیکھو ہم نے کس طرح تم پر اونگھ ڈالدی جس کی وجہ سے تمہارا وہ تمام خوف جاتا رہا جو دشمن کی کثرت سے تم پر طاری تھا اور اسی میدان قتال میں اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ انعام کیا کہ وہ تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس کے ذریعے تم کو حد اصغر اور اکبر سے پاک کردے اور تم سے شیطان کی گندنگی اور ناپاکی کو کدور کر دے اور تاکہ تمہارے دلوں پر صبر اور اطمینان کی گرہ لگا دے کہ خدا کی عنایت سے دل ایسے مضبوط ہوجائیں کہ تزلزل اور اضطراب کا نام نہ رہے اس لیے کہ غیبی الطاف و عنایات کو دیکھ کر دل مضبوط ہوجاتا ہے اور تاکہ ظاہر میں اس بارش کے ذریعے اس ریگستان میں تمہارے قدم جمادے کہ ریت میں دھنسنے نہ پائیں یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے پائے استقلال اور قدم ثبات میں تزلزل نہ آنے پائے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ربنا افرغ علینا صبرا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین۔
بدر میں مشرکین پہلے جا پہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا اور مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک ریت کے ٹیلے کے پاس اترے جس میں پاؤن دھنستے تھے اور بعض ان میں سے بےوضو تھے اور بعض کو نہانے کی حاجت ہوگئی تھی جب مسلمانوں کو پیاس نے ستایا اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے عاجز ہوئے تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ اگر تم حق پر ہوتے اور خدا کے مقبول ہوتے تو اس پریشانی میں نہ پھنستے خدا تعالیٰ نے ان کے اس وسوہ کو مٹانے کے لیے باران رحمت نازل کی جس سے وہاں کے تمام نالے بہہ نکلے مسلمانوں نے اس سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔ اور وضو اور غسل کیا اور اپنی مشکوں بھر لیا۔ اور اتنی ھبارش ہوئی کہ اس سے تمام ریت جم گیا اور پھسلن جاتی رہی اور مسلمانوں کے پاؤ اس جگہ پر جم گئے اور ان کے دل سے شیطانی وسوسہ دور ہوا۔ اور اس غیبی امداد سے ان کو لطف خداوندی کا جلوہ دکھائی دیا اور یقین ہوگیا کہ ہم سے اس میں کیچڑ اور پھسلن ہوگئی اور کافروں کو چلنا دشوار ہوگیا الحاصل اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس ریتلے میدان میں آسمان سے پانی برسایا جس سے انہوں نے حدث اصغر اور اکبر سے پاکی حاصل کی یہ ظاہر کی تطہیر ہوئی اور ان کے دل مضبوط ہوگئے اور قدم جم گئے اور دل شیطان کے وسوسوں سے پاک ہوا یہ باطن کی تطہیر ہوئی اور ان کے دل مضبوط ہوگئے اور قدم جم گئے اور دل شیطان کے وسوسوں سے پاک ہا۔ یہ باطن کی تطہیر ہوئی۔
خلاصۂ کلام یہ کہ جب اہل ایمان پر کوئی خوف اور اضطراب طاری ہوتا ہے تو غیبی طور پر من جانب اللہ ان کی مدد ہوتی ہے تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں کبھی باران رحمت کا نزول ہوتا ہے اور کبھی ان پر نعاس (نیند) طاری ہوتی ہے اور نعاس اس نیند کو کہتے ہیں جو سر میں ہوتی ہے جس سے سر نیچے کو جھکنے لگتا ہے یہ ایک قسم کا غیر شعوری سجدہ ہے اور بدر کے روز جب آنحضرت ﷺ عریش (چھتر) میں تھے تو آنحضرت ﷺ پر نعاس (اونگھ) کے مانند ایک خفیف نیند طاری ہوگئی تو آپ ﷺ مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ابوبکر تم کو بشارت ہو کہ جبرئیل آئے اور ان کے دانتوں پر غبار تھا پھر آپ عریش کے دروازے سے یہ آیت پڑھتے ہوئے نکلے۔
سیھزم الجمع ویولون الدبر عنقریب کافروں کی یہ جماعت شکست کھائے گی اور پشت پھیر کر چلے جائیں گے۔
کما ذکرہ الامام الرازی فی تفسیرہ ص 524 ج 4
Ayah 8:12انعام پنجم
قال اللہ تعالیٰ اذ یوحی ربک الی الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔ واضربوا منھم کل بنان
(ربط) یہ بھی اسی جنگ بدر کا ایک واقعہ ہے جو حق جل شانہ کے ایک خاص الخاص انعام پر مشتمل ہے حق تعالیٰ نے جنگ بدر میں فرشتوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں کے ہمراہ رہو اور الہام کے ذریعہ ان کے دلوں کو مضبوط اور قوی کرو جس طرح شیاطین کو دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی قدرت اور اختیار ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو وسوسہ دفع کرنے کی اور قلب میں خیر کے الہام اور القاء کی قدرت عنایت فرمائی ہے جیسا کہ روح المعانی میں زجاج سے منقول ہے اور فرشتہ جو نیک خیال دل میں القاء کرتا ہے اس کو لمہ اور الہام کہتے ہیں۔ قال الزجاج کان باشیاء یلقونھا فی قلوبھم تصح بھا عزائمھم ویتاکد جدھم و للملک قوۃ القاء الخیر فی القلب ویقال لہ الھام کما ان للشیطان قوۃ القاء الشر ویقال لہ وسوسۃ (روح المعانی ص 157 ج 9)
چناچہ فرماتے ہیں کہ یاد کرو اس وقت کو جب تیرا پروردگار ان فرشتوں کو جو مسلمانوں کی امداد کے لیے نازل ہوئے تھے۔ یہ حکم دے رہا تھا کہ تحقیق 1 میں مسلمانوں کی اعانت اور امداد میں تمہارا ساتھی اور مددگار ہوں سو تم ایمان والوں کو مضبوط اور استوار کرو یعنی ان کے دلوں میں یہ القاء کرو کہ تم ضرور فتح پاؤ گے جس طرح شیطان آدمی کے دل میں برا خیال ڈالتا ہے اسی طرح فرشتے دل میں اچھا خیال ڈالتے ہیں اول کو وسوسہ کہتے ہیں اور دوسرے کہ لمہ اور الہام کہتے ہیں جس طرح شیطان کو وسوسہ ڈالنے کی قوت ہے اسی طرح فرشتوں کو الہام اور القاء کی قوت ہے سو اے فرشتو ! تم اس طرح کے القاء اور الہام سے مسلمانوں کے دلوں کو قوت پہنچاؤ تاکہ وہ میدان میں ثابت قدم رہیں اور میں کافروں کے دل میں مسلمانوں کی دہشت ڈال دوں گا جس سے ان کے قدم اکھڑا جائیں گے۔ اندرونی طور پر ان کے دلوں میں مسلمانوں کے رعب کا القاء ہوگا۔ اور ظاہر میں ان فرشتوں کو دیکھ کر جو مسلمانوں کے امداد کے لیے نازل ہوئے ہیں خیرہ اور سراسیمہ ہوجائیں گے یہ اللہ کی نعمت تھی کہ کافروں کے دل میں مسلمانوں کا خوف ڈال دیا۔ آئندہ آیت میں فرشتوں کو ایک اور حکم دیا جاتا ہے کہ تم فقط مسلمانوں کی تثبیت اور تقویت پر اقتصار نہ کرو بلکہ ان کے ہمراہ ہو کر ان کے دشمنوں سے لڑو بھی پس تم ان کی گردنوں کے اوپر مارو تاکہ حق کے مقابلہ میں سر ہی نہ اٹھا سکیں اور ان کی سب انگلیاں کاٹ ڈالو۔ یعنی ان کے ہاتھ بیکار کردو کہ وہ تلوار نہ پکڑ سکیں حملہ تو کیا مدافعت کے بھی قابل نہ رہیں فرشتوں کو قتال کا حکم ہوا تو بنی آدم کی طرح فرشتوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ کافروں کے قتل اور ضرب کا کیا طریقہ ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل اور ضرب کا طریقہ بتایا کہ گردن کے بالائی حصہ پر مارو تاکہ سر قلم ہوجائے اور پوروں اور انگلیوں پر تاکہ تلوار اور ہتھیار نہ اٹھا سکیں۔ چناچہ اس حکم کے مطابق جنگ بدر میں فرشتوں نے قتال کیا جیسا کہ ربیع بن انس سے مروی ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں کے ہاتھ کے مقتول اور فرشتوں کے ہاتھ کے مقتول واضح طور پر پہچانے جاتے تھے۔ کسی کا سر گردن سے اڑا ہوا ہے اور کسی کے پوروں پر ضرب کے نشان ہیں جیسے آگ کے جلانے داغ اور نشان پڑجاتا ہے اسی طرح مقتولین بدر کے ہاتھوں اور پوروں پر دیکھے گئے۔
1 دیکھو تفسیر کبیر ص 524 ج 4
فائدہ : شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ کافروں کے دل فرشتوں کے الہام کے قابل نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رعب ڈالنے کو اپنی طرف منسوب کیا اور فرشتوں کو مسلمانوں کے دل ثابت کرنے کا حکم دیا اور اس جنگ میں فرشتے ہاتھوں سے بھی لڑے ہیں (موضح القرآن )
نکتہ : چونکہ معرکہ بدر میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردار اعظم سراقۃ بن مالک مدلجی کی شکل میں متمثل ہو کر ابوجہل کے پاس آیا اور مشرکین کے حوصلے بڑھائے اور اس کو یہ اطمینان دلایا کہ میرا تمام قبیلہ تمہارے ساتھ ہے اور بعد ازاں ابلیس لعین شیاطین کا ایک بھاری لشکر لیکر مشکرین کی مدد کے لیے معرکہ بدر میں حاضر ہوا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اہل ایمان کے دلوں کو مضبوط کرنے کے لیے فرشتوں کا لشکر نازل کیا اور ان کو حکم دیا کہ اپنے الہامات سے مسلمانوں کے دلوں کو قوت پہنچائیں اور ان کی مدد کریں اور ان کے ہمراہ ہو کر کافروں سے لڑیں ورنہ فی الحقیقت اللہ کو نہ فرشتوں کو احتیاج ہے اور نہ آدمیوں کی وہ ایک فرشتہ سے بھی بڑی سے بڑی بستی تباہ کرسکتا ہے۔ یہ سب من جانب اللہ اپنے رسول کا اور اپنے صحابہ کا اعزاز واکرام تھا۔
Ayahs 8:13–14بیان حکمت در ہزیمت کفار
قال اللہ تعالیٰ ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ وان للکفرین عذاب النار
(ربط) ان آیات میں کافروں کی ذلت اور ہزیمت کا سبب ذکر فرماتے ہیں ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور اس کی اطاعت سے سرکشی کی جس کا دنیا میں کچھ مزا چکھا اور اصل سزا تو آخرت میں ملے گی۔ چناچہ فرماتے ہیں یہ اس طرح سے کافروں کا مقتول اور مخذول ہونا اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو بیشک اللہ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے اور۔ اے مشرکو یہ قتل اور قید کا مزہ تو فی الحال دنیا میں چکھ لو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے آخرت میں اس کے عالوہ دوزخ کا عذاب ہے دنیاوی سزا سے عذاب اخروی ٹل نہیں سکتا۔ اس لیے کہ اصل عذاب تو آخرت کا ہے اور دنیوی عذاب اس عذاب کا ایک نمونہ ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے غرور اور ان کے کفر اور عداوت کو بیان کیا کہ اتراتے ہوئے رسول کے مقابلہ میں آئے اور پھر اہل ایمان کے استغاثہ اور فریاد کو بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ سے سے مدد چاہی اللہ تعالیٰ نے ان عاجزی کرنے والے بندوں کو مغرورین اور متکبرین کے مقابلہ میں عزت دی اور تکبر اور غرور والوں کو ذلیل اور خوار کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ عزیز اور حکیم ہے اور اخیر میں بتلادیا کہ اصل ذلت و خواری قیامت کے دن ہوگی۔ اور موجودہ ذلت و خواری تو محض سرجھکانے کے لیے ہے تاکہ ہوش میں آجائیں۔
Ayahs 8:15–16بیان حرمت فرار از مقابلہ کفار
قال اللہ تعالیٰ یا ایھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفرو۔۔۔ الی۔۔۔ ابئس المصیر
(ربط) گزشتہ آیت میں ملائکہ تثبیت مومنین کا حکم تھا اب ان آیات میں مومنین کو ثبات وقرار کا حکم ہے یعنی مسلمانوں پر میدان جہاد میں ثابت قدم رہنا واجب ہے اور مقابلہ کفار سے فرار حرام ہے بجز دو صورتوں کے ایک تو یہ کہ پسپائی سے کافروں کو دھوکہ دینا مقصود ہوتا کہ دشمن غافل ہوجائے پھر پلٹ کر دفعۃ اس پر حملہ کرے ظاہر میں بھاگنا ہو مگر در حقیقت مقصود حیلہ اور داؤ ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ مقصود اصلی بھاگنا نہ ہو بلکہ بےسروسامانی کی وجہ سے اپنی مرکزی جامعت میں پناہ لینا ہو تاکہ ان کے ساتھ مل کر دشمنوں سے جہاد وقتل کرتے تو ایسی پسپائی گناہ نہیں ہاں جبکہ پسپائی محض لڑائی سے جان بچا کر بھاگنے کی نیت سے ہو تو وہ گناہ ہے اور اگر بھاگ کر لشکر اسلام میں آملنا مقصود ہو تو پھر گناہ نہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ! جب جہاد میں تم کافروں کے بڑے لشکر سے بھڑو۔ جو انبوہ کثیر ہونے کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہو کہ تمہاری طرف گھسٹا ہوا آرہا ہے تو تم ان کے مقابلہ سے پشت نہ پھیرو میدان جنگ میں ایک کے بھاگنے سے دوسروں کے پاؤں بھی اکھڑ جاتے ہیں۔ اور جو اس دن پشت پھیرے سوائے اس صوت کے کہ وہ لڑائی کے لیے کنی کاٹتا ہو اور دشمن پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت اور مرکز کی طرف پناہ لیتا ہو تاکہ ان کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرے اور اپنی جماعت کے ساتھ شریک ہو کر دشمنوں سے قتال کرے تو ان صورتوں کو علاوہ جو مسلمان کافروں کے مقابلہ پشت پھیریگا سو ووہ اللہ کے غضب کو لیکر لوٹیگا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ دوزخ بہت بری جگہ ہے ان دو صورتوں کے علاوہ دشمن کے مقابلہ سے بھاگنا حرام ہے اور یہ دو صورتیں جو جائز رکھی گے ہیں ان کی وجہ یہ ہے کہ یہ حقیقت میں بھاگنا نہیں بلکہ لڑائی کا ایک داؤ ہے ابتداء میں دہ چند کافروں سے مقابلہ واجب تھا بعد میں حق تعالیٰ نے تخفیف فرما دی کہ دو چند سے مقابلہ واجب ہوا اور مسلمانوں کو اپنے دو چند سے بجز ان دو صورتوں کے پسپا ہونا حرام ہے۔
Ayahs 8:17–18بیان علت بودن قدرت حق و سبب وواسطہ بودن قدرت خلق
قال اللہ تعالیٰ فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ موھن کید الکفرین
(ربط): گزشتہ آیات میں بھی حق تعالیٰ کی ایک غیبی امداد کا ذکر تھا اب ان آیات میں بھی اس کی ایک غیبی امداد کا ذکر ہے جس سے یہ بتلانا ہے کہ جنگ بدر میں جو فتح ہوئی وہ در اصل قدرت خداوندی کا کرشمہ ہے جو خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں سے ظاہر فرمایا ہے اصل علت قدرت حق ہے اور قدرت خلق محض سبب اور واسطہ کے درجہ میں ہے بعض لوگوں کی زبان سے یہ نکلا تھا کہ میں نے اس لڑائی میں فلاں کو مارا اور میں نے فلاں کو مارا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ بتلایا گیا کہ یہ سب اللہ کا فضل وکرم تھا ظاہر میں کفار اگرچہ تمہارے ہاتھ سے قتل ہوئے لیکن درحقیقت اور درپردہ دست قدرت کار فرما تھا۔ اور تمہارا ہاتھ اس کی قدرت اور مشیت کا محض ایک روپوش تھا۔ لہذا ناز کی ضرورت نہیں۔ نیاز کی ضرورت ہے روپوش پر نظر نہ کرو بلکہ اس روپوش کے اندر جو دست قدرت چھپا ہوا ہے اس کی طرف نظر کرو۔
شان نزول : ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ جب جنگ بدر کی شدت ہوئی تو آں حضرت ﷺ نے تین مرتبہ شاہت الوجوہ پڑھ کر ایک مشت خاک کافروں کی طرف پھینک دی۔ خدا تعالیٰ کی قدرت سے خاک کے ریزے ہر کافر کی آنکھ میں پہنچ گئے جس سے کافر آنکھیں ملنے لگے۔ ادھر مسلمانوں نے ہلہ بول دیا آخر کفار بھاگ پڑے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو اپنی طرف منسوب فرمایا سو اے مسلمانو ! تم نے ان کافروں کو نہیں مارا لیکن اللہ نے مارا یعنی جنگ بدر میں تمہارا اپنے اعداء کو باوجود ان کی کثرت کے اور باوجود تمہاری قلت کے ستر کو قتل کرنا اور ستر کو قید کرنا یہ تمہاری حول اور قوت سے نہیں ہوا بلکہ اللہ کی غیبی نصرت اور مدد سے ہوا کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس فتح اور غلبہ کو اپنا کارنامہ سمجے اور اس پر فخر کرے جو کچھ کیا وہ اللہ ہی نے کیا اگر وہ تمہاری مدد نہ کرتا اور تمہارے دلوں کو مضبوط نہ کرتا اور تمہارے پاؤن نہ جمائے رکھتا تو تم کسی ایک کو بھی قتل نہ کرسکتے تھے یہ اللہ 9 کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہارے ہاتھوں یہ کام کرایا۔ شعر :
منت منہ کہ خدمت سلطان ہمی کنم منت شناس ازو کہ بخدمت بداشت
اور اے نبی ! جب آپ نے کافروں کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تھی تو وہ درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی تھی و لیکن در پردہ اللہ نے پھینکی تھی اور اسی نے اپنی قدرت سے ایک مشت خاک کے تمام ریزوں کو تمام کافروں کی آنکھوں میں پہنچا دیا اور ان کو خیرہ اور سراسیمہ بنادیا اور کوئی مشرک اس سے نہ بچ سکا یعنی بشر میں یہ طاقت نہیں کہ ایک مشت خاک ایک مسلح لشکر کے ہر سپاہی کی آنکھ میں پہنچا دے اور پھر وہ مشت خاک اس لشکر جرار کی ہزیمت کا سبب بن جائے یہ صرف دست قدرت تھا جس نے ایک مشت خاک سے ایک لشکر جرار کی جوف کے منہ پھیر دئیے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ تمہارے ہاتھوں سے اس لیے ظاہر فرمایا کہ اپنے بر و سامان دوستوں کے ہاتھوں متکبر اور سرکشوں کو موت کے گھاٹ اتارے اور تاکہ اہل ایمان پر اپنی طرف سے خوب احسان کرے کہ نصرت اور غنیمت ان کو عطاء کرے بیشک اللہ مومنوں کی دعا کو سننے والا ہے اور ان کے اخلاص اور وفا داری کو بھی خوب جاننے والا ہے۔ یہ تو ہوچکا اور جان رکھو کہ اللہ کافروں کی تدبیر کو سست کرنے والا اور ان کے مکر اور حیلہ کو باطل کرنے والا ہے چناچہ اس وقت بھی کافروں کے سب منصوبے خاک میں مل گئے اور آئندہ کے لیے بھی ان کی تدبیریں سست پڑگئیں اور جن لوگوں کی زبان سے یہ نکلا تھا کہ میں نے فلاں کو مارا اور میں نے فلاں کو مارا اس سے ان کے اعجاب اور خود پسندی کا بھی خاتمہ ہوگیا اور یہ بات روز روزن کی طرح واضح ہوگئی کہ یہ سب کچھ خداوند ذولجلال کے غیبی کرشمہ عنایت سے ہوا نہ کہ ہماری حول اور قوت سے۔
نکتہ : فعل قتل کا ظہور اگرچہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہوا اور فعل رمی کا ظہور آنحضرت ﷺ کے دست مبارک سے ہوا مگر باعتبار اثر اور نتیجہ کے بشری طاقت سے بالا اور برتر تھا اس لیے قتل اور رمی کو ظاہر کے اعتبار سے بندوں کی طرف منسوب فرمایا اور حقیقت اور اثر کے اعتبار سے بندوں سے اس کی نفی کی گئی اور خداوند ذوالجلال کی طرف اس کی نسبت کی گئی کہ یہ تاثیر محض فعل الہی میں تھی۔
: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بدر کی طرح جنگ حنین میں بھی آپ نے ایک مشت خاک لیکر دمنوں کے لشکر کی طرف پھینکی اور شاہت الوجوہ فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کے چہرے خراب ہوئے واللہ اعلم۔
(دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 295 ج 2 و تفسیر ابن جریر ص 204 و صحیح مسلم ص 102 ج 2 باب غزوۃ حنین)
Ayah 8:19تحسیر وتعییر کفار وبیان سبب غلبہ ابرار
قال اللہ تعالیٰ ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ مع ال مومن ین
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کو بطور تذکیر نعم خطبات تھے اب ان آیات میں کفار کو بطور تذکیر نقم خطاب ہے یعنی بطور تعییر وتحسیر خطاب ہے جسکا قصہ یہ ہے کہ جب ابو جہل اور کفار قریش مکہ سے آپ کے مقابلہ کے لیے روانہ ہونے لگے تو حرم کا پردہ پکڑ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ ہمارے اور محمد کے لشکر میں تیرے نزدیک جو باعتبار دین کے بہتر اور برتر ہو اسی کو فتح دے چناچہ حق تعالیٰ نے ان کی دعا کے مطابق مسلمانوں کو فتح دی اور یہ آیت نازل فرمائی۔ (تفسیر قرطبی ص 387 ج 7)
سو اس آیت میں کفار کو عار اور حسرت دلانا مقصود ہے اور بطور تہکم اور استہزاء ان سے خطاب ہے کہ جس فتح کے تم طلبگار تھے دیکھ لو کہ تمہاری تمنا اور دعا کے مطابق وہ فتح تمہارے سامنے آگئی پس اگر تم اپنی خیر چاہتے ہو تو خیریت اسی میں ہے کہ تم ایمان لے آؤ اور دیکھ لو کہ باوجودیکہ تمہاری جماعت بہت زیادہ تھی مگر اس کی کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و عنایت سے مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ وان اللہ مع ال مومنین۔ اس لیے مسلمانوں کی فتح ہوئی۔ خدا جس کے ساتھ ہو اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ چناچہ فرماتے ہیں اے کافرو اگر تم فتح طلب کرتے تھے پس تمہارے سامنے وہ فتح آگئی جس کے تم طلبتگار تھے یعنی اسی دین کی فتح ہوئی جو میرے نزدیک محبوب اور پسندیدہ تھا اور اگر تم آئندہ کے لیے کفر اور عناد سے باز آجاؤ تو وہ تمہارے لیے دین اور دنیا میں بہتر ہے اس جہان کے قتل سے اور اس جہان کے عذاب سے بچ جاؤ گے اور اگر تم دین اسلام کی عداوت میں پھر لوٹو گے تو ہم بھی تمہاری تذلیل وتحقیر کی طرف پھر لوٹیں گے اور تمہاری جماعت تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی اگرچہ وہ کتنی ہی کثیر کیوں نہ ہو اور کیسے کام آسکتی ہے تحقیق اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اور خدا اور خدا کی نصرت اور اعانت جس کے ساتھ ہو اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔