Ayahs 8:65–66ترغیب وتشویق اہل ایمان پر قتال کفار و قانون قرار وفرار
از میدان کارزار
قال اللہ تعالیٰ یا یہا النبی حرض ال مومنین علی القتال۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ مع الصبرین
(ربط) گزشتہ آیات میں بوقت ضرورت حسب مصلحت کافروں سے صلح کی اجازت دی اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ کافروں سے صلح محض جائز اور مباح کے درجہ میں ہے اصلی حکم کافروں سے جہاد و قتال ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ اہل ایمان کو جہاد و قتال کا خوب شوق دلائیے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اس کا بول بالا ہوا اور کفر ذلیل و خوار ہو۔ اور یہ بات جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔ صلح سے حاصل نہیں ہوتی اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر وقت جہاد کے لیے تیار رہیں ل۔ مبادا کافروں نے نے دھوکہ کی نیت سے صلح کی ہو اور اس حکم کے ساتھ ساتھ میدان جہاد و قتال سے قرار اور فرار کے متعلق ایک قانون اور ضابطہ بتلاتے ہیں کہ اس بارے میں ابتداء میں یہ حکم تھا کہ اگر کفار مسلمانوں سے دس گنا ہوں تب بھی ان سے قتال کیا جائے مگر بعد میں یہ حکم اٹھا لیا گیا اور صرف دو گنے کافروں سے لڑنے کا حکم باقی رہ گیا چناچہ فرماتے ہیں کہ اے نبی مسلمانوں کو کافروں سے جہاد و قتال پر اکسا اور اس پر برانگیختہ کر اس لیے کہ ایمان اصل اقتضاء دشمنان خدا سے جہاد و قتال ہے نہ کہ صلح لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاد و قتال کے وقت کافروں کی کثرت کی پرواہ نہ کریں اور ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تم میں سے بیس شخص صابر، ہوں گے تو وہ دو کافروں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں گے تو وہ ایک ہزار پر غالب آئیں گے یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ ثواب آخرت کو سمجھتے نہیں۔ یعنی وہ اس لیے تم پر غالب نہیں آئیں گے کہ وہ آخرت کو نہیں سمجھتے ان کی نظر دنیاوی زندگی پر مقصور ہے اس لیے وہ اپنی جان کو خطرہ میں نہیں ڈالتے بخلاف اہل ایمان کے کہ وہ آخرت کے ایسے مشتاق ہیں جیسے پیاسا پانی کا مشتاق ہو۔ وہ آخرت کے شوق میں اپنی جان کو پانی کی طرح بہادیتے ہیں اس لیے کافر تمہارے مقابلہ میں ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور یہ حکم یعنی اپنے سے دس گنے سے مقابلہ کا حکم اس وقت تھا کہ جب قوت ایمانی حد کمال کو پہنچی ہوئی تھی اور اہل ایمان صبر اور استقامت اور تسلیم وتفویض کے اعلی مقام پر فائز تھے اور ان کی نظر عددی قلت و کثرت پر نہ تھی بلکہ صرف خدا پر تھی اللہ کو معلوم ہے کہ بعد میں چل کر ان اوصاف میں کمی آجائے گی۔ اس لیے یہ حکم اٹھا لیا گیا اور صرف دگنے کافروں سے لڑنے کا حکم باقی رہ گیا چناچہ فرماتے ہیں اب اللہ نے تم پر تخفیف کردی اور اس نے معلوم کرلیا کہ اب تمہاری ہمت اور صبر و تحمل میں کچھ ضعف اور کمزوری آگئی ہے پس اگر تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو کافروں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو کافروں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ایک ہزار ہوں گے تو وہ دو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے اللہ کے حکم سے یعنی ایک گنا کے دوگنا پر غلبہ محض بحکم خداوندی ہے و لیکن مشروط بہ صبر ہے اگر صبر کریں گے تو اپنے سے دوگونہ پر غالب آئیں گے اس لیے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔
علماء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ یہ پچھلی آیت پہلی آیت کے لیے ناسخ ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ پہلا حکم عزیمت ہے اور دوسرا رخصت ہے جو پہلے حکم پر عمل کرے اس کا ثواب اور اجر کامل اور اکمل ہے اور جو دوسرے حکم پر عمل کرے تو وہ بھی جائز اور درست ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ صبر اور یقین اور توکل کے مدارج مختلف ہیں جس درجہ کا صبر ہوگا اسی درجہ کی مدد من جانب اللہ اس کے ساتھ ہوگی۔ اگر صبر میں کامل ہوگے تو تم میں سے ایک ایک دس دس پر غالب آئے گا۔ دس کا عدد عدد کامل شمار ہوتا ہے۔ تلک عشرۃ کاملۃ جو صبر میں کامل ہوگا وہ عدد کامل پر غالب آئے گا اور اگر تمہارا صبر کمزور ہوگا تو ایمان اور صبر کی برکت سے ایک ایک دو دو پر غالب آئے گا اور اگر صبر نہیں تو پھر کوئی وعدہ نہیں۔
Ayahs 8:67–71تلقین احکام دربارۂ اسیران جنگ جنگ
قال اللہ تعالیٰ ﷺ ان کان لنبی ان یکون لہ اس ری حتی یثخن فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم
(ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و قتال کے مسائل اور احکام کا بیان تھا چونکہ جہاد و قتال میں بسا اوقات کفار قید ہو کر آتے ہیں اس لیے آئندہ آیات میں اسیران جنگ اور خاص کر اسیران بدر کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں کیونکہ قیدیوں کے قتل اور فدیہ کا فیصلہ قتال سے فارغ ہونے کے بعد ہوتا ہے اس لیے اس سورت میں احکام قتال کو۔ قیدیوں کے احکام پر ختم فرمایا۔
شان نزول۔
اور شان نزول ان آیات کا یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں ستر کافر قید ہو کر آئے تو آں حضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے۔ صدیق اکبر رضی الہ عنہ نے یہ رائے دی کہ یا رسول اللہ یہ لوگ آپ کے رشتہ دار اور ہم قوم ہیں اور بھائی بند ہیں ان پر رحم کیا جائے اور فدیہ لے کر ان کی جان بخشی کردی جائے۔ آج ہر ایک اپنی استطاعت کے موافق فدیہ دے کر جان بخشی کرا سکتا ہے۔ شاید پھر کوئی دن آئے کہ یہ لوگ ہدایت پا جائیں جس سے مسلمانوں کے عدد میں اور ان کی مدد میں زیادتی ہوجائے اور اس وقت فدیہ سے جو مال ملے گا اس سے کفار سے محاربہ اور جنگ میں قوت حاصل ہوگی اور فاروق اعظم نے عرض کیا یارسول اللہ یہ لوگ کافروں کے پیشوا اور سردار ہیں آپ ہم کو ان سب کی گردنیں مارنے کی اجازت دیجئے اور سعد بن معاذ ؓ کی بھی یہی رائے تھی۔ آنحضرت ﷺ نے بوجہ رحم دلی ابوبکر کی رائے کو پسند کیا اور ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں فدیہ لینے پر عتاب آیا کہ نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ کافروں کو فدیہ لے کر چھوڑ دے۔ جہاد سے مال حاصل کرنا مقصود نہیں بلکہ کافروں کی ضد اور ان کا زور توڑنا مقصود ہے اور یہ بات قتل ہی سے حاصل ہوسکتی اور یہ ظالم اور متکبر رحم دلی کے لائق نہیں بلکہ سرکوبی اور گردن زدنی کے لائق ہیں بہتر یہی ہے کہ ان کو قتل کیا جائے تاکہ کفر کی کمر ٹوٹ جائے۔
نکوئی بابداں ﷺ کردن چناں است کہ بد کرن بجائے نیک مرداں
چناچہ فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی شان کے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں اور وہ ان سے فدیہ لے لے جب تک زمین میں ان کی خوب خونریزی نہ کرلے یہاں تک کہ کفر کی جان نکل جائے یا قریب المرگ ہوجائے دشمنان اسلام کی خونریزی ہی کفر کی ذلت اور اسلام کی عزت اور شوکت کا ذریعہ ہے اسی وجہ سے غزوہ بدر میں فرشتوں کو یہ حکم دیا گیا۔ فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منہم کل بنان۔
پیغمبر کو حکم خداوندی یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کو کافروں سے جہاد و قتال کا شوق دلائے اس کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ فقط کافروں کے قید کرنے پر اکتفاء کرے یا ان سے فدیہ لے کر ان کو رہاء کردے جہاد مقتضی ہے تقل کو اور فدیہ قتل سے مانع ہے۔ لہذا فدیہ لے کر ان کافروں کو چھوڑ دینا جہاد کی غروض وغایت کے منافی ہے اس لیے فدیہ لینے پر عتاب آیا اور سورة قتال میں جو من اور فداء کا اختیار دیا گیا ہے سو وہ بھی اثخان کفار کے بعد دیا گیا ہے کما قال تعالیٰ فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدو الوثاق فاما منا بعد وامافداء حتی تضع الحرب اوزارھا۔ یعنی اے مسلمانوں جب تم کافروں سے جنگ کرو تو ان کی گردنیں مارو اور مارتے رہو یہاں تک کہ جب ان کا خون خوب بہا چکو کہ اب ان میں مسلمانوں سے لڑنے کی سکت باقی نہ رہے پھر ان کو قید کرو اور قید کرنے کے بعد یا تو ان پر احسان کرو کہ بلا معاوضہ لیے ہوئے ان کو چھوڑ دو یا ان سے فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دو اور یہ حکم اس وقت تک ہے کہ جب تک لڑائی اپنے ہتھیار نہ ڈالے اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جب تک اعداء اللہ کی خوب خونریری نہ ہوجائے اور لڑائی اسلام کے سامنے اپنے ہتھیار نہ ڈالدے اور حق کی ہیبت اور دبدبہ اور رعب قائم نہ ہوجائے اس وقت تک فدیہ لینا جائز نہیں ہاں جب کافروں کے اثخان یعنی ان کی خوب خونریزی کے بعد اسلام کی عمت اور ہیبت اور شوکت اور دبدبہ قائم ہوجائے تب اگر فدیہ لے کر ان کی جان بکشی کردی جائے تو جائز ہے لیکن اس سے پہلے جائز نہیں اول اثخان ہوجانا ضروری ہے اس کے بعد فدیہ اور احسان کی اجازت ہے اس سے پہلے نہیں۔
حاصل یہ کہ اے مسلمانو اثخان کے بعد یعنی خوب خونریزی کے بعد جب کفر خوب ذلیل اور خوار ہوجائے تو پھر تم کو من اور فداء کا اختیار ہے اس سے قبل نہیں اور مقعہ بدر پر منشاء خداوندی یہ تھا کہ کافروں کی خوب خونریزی کی جائے حتی کہ کفر کا دماغ پلپلا ہوجائے اور آئندہ کے لیے اس میں اسلام کے مقابلہ میں سر اٹھانے کی سکت نہ رہے اس موقعہ پر مسلمانوں نے چو کہ اعداء اللہ کے اثخان یعنی کافی خونریزی سے قبل ہی فدیہ لے لیا اس لیے بارگاہ خداوندی سے عتاب آیا۔ (دیکھو احکام القرآن للامام الجصاص ص 72 ج 3)
خلاصہ کلام یہ کہ خدا تعالیٰ 1 کے نزدیک پسندیدہ یہی تھا کہ کافروں کو قتل کیا جائے تاکہ کفر کی شوکت ٹوٹ جائے اس لیے گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ نبی کے شایان شان نہیں کہ کافی خونریزی کے بغیر قیدیوں کو زندہ چھوڑ دے اب آئندہ آیت میں مسلمانوں پر عتاب ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو تم دنیا کا سامان چاہتے ہو جو ایک حقیر اور عارضی چیز ہے عنقریب زائل ہونے والی ہے اس لیے تم نے فدیہ لینے کی رائے دی اور اللہ تمہارے لیے آخرت کی مصلحت چاہتا ہے کہ دین اسلام غالب ہو اور کفر مغلوب ہو اور اللہ غالب ہے حکتم وال اوہ تم کو کافروں پر غلبہ دینا چاہتا ہے۔ غلبہ کے بعد فتوحات سے تم کو اتنا مال مل جائے گا کہ چاہتا تو ابھی مل جاتے لیکن حکمت کی وجہ سے اس میں دیر ہو رہی ہے بہرحال تمہارا یہ فعل خدا تعالیٰ کو پسند نہیں آیا اور اگر اس بارے میں اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہ لکھا جاچکا ہوتا تو البتہ پہنچتا تم کو اس مال کے بارے میں جو تم نے کافروں سے فدیہ میں لیا۔ اور انہیں چھوڑ کر بڑا عذاب اس کتاب کے من اللہ یعنی اس نوشتہ خدا وندی کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس سے کیا مراد ہے سو اس سے۔
1 ۔ یا تو یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے کہ بغیر صریح ممانعت کے عذاب نازل نہیں کرتا۔
2 ۔ یا یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نادانی اور اجتہادی خطا پر مواخذہ نہیں کرتا۔
3 ۔ یا یہ مراد ہے کہ اللہ کے یہاں یہ امر طے شدہ ہے کہ کسی سے نادانستہ عمل پر مواخذہ نہیں کرتا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے مغفرت کا وعدہ فرمایا لیا ہے اور ان سے یہ کہہ دیا ہے اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم۔ کہ اے اہل بدر تم جو چاہے کرو تم جو غلطی کرو گے وہ معاف ہے۔
اس لیے کہ بدر کے میدان میں تم نے جو جاں نثاری اور جان بازی دکھلائی ہے اس کے صلہ میں تمہاری سب خطائیں معاف ہیں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کرلیا ہے کہ رسول کے ہوتے ہوئے کوئی عذاب نازل نہیں کرے گا کما قال تعالیٰ وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیہم یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے کہ ان قیدیوں میں سے بہت سوں کی قسمت میں مسلمان ہونا ہے سو اگر اس قسم کا کوئی نوشتہ اور حکم و فرمان اللہ کی طرف سے پہلے صادر نہ ہوچکا ہوتا تو اس فدیہ لینے سے تم پر عذاب عظیم نازل ہوتا اور امام ابن جریر طبری کا میلان اس طرف ہے کہ یہ تمام معانی لفظ کتاب من اللہ کے تحت میں مندرج اور داخل ہیں کیونکہ لفظ عام ہے جو سب کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر اس قسم کے موانع نہ ہوتے تو یہ غلطی اتنی عظیم اور ثقیل تھی کہ سخت عذاب نازل ہجانا چاہئے تھا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر بالفرض والتقدیر عذاب نازل ہوتا تو سوائے عمر ؓ اور سعد بن معاذ ؓ کے کوئی نہ بچتا۔ جاننا چاہئے کہ عذاب نازل نہیں ہوا بلکہ محض آپ کے سامنے پیش کیا گیا ھا اور فقط آپ کو دکھلایا گیا تھا (جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے) تاکہ آں حضرت ﷺ قریب سے اس عذاب کو دیکھ لیں اور لوگوں کو بتلا دیں کہ اگر تمہاری اس غلطی پر عذاب نازل ہوتا تو ایسا ہوتا مقصود محض عذاب کا دکلانا تھا نہ کہ اس کا نازل کرنا اور اتارنا محبین کی تنبیہ کے لیے اتنا ہی کافی تھا (دیکھو زرقانی شرح مواہب ص 442 ج 1)
اور اس وقت آپ کے سامنے عذاب کا پیش کرنا اسی قسم کا تھا۔ جیسے نماز کسوف میں آپ کے سامنے جنت و جہنم آپ کے سامنے دیوار قبلہ میں متمثل کر کے پیش کی گئی تاکہ عذاب کا ایک نظارہ ہوجائے کہ وہ کیسا ہوتا ہے اور بس
تنبیہات :
1 ۔ جاننا چاہئے کہ ان خطابات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ ودلم داخل نہیں اس لیے کہ تریدون عرض الدنیا کا خطاب صرف ان لوگوں کو ہے جنہوں نے اپنے فائدہ کو مد نظر رکھ کر فدیہ لینے کا مشورہ دیا یا دیگر مصلح دینیہ کے ساتھ مالی مصلحت کو بھی ملحوط رکھا اور جن لوگوں نے محض صلہ رحمی اور رحم دلی اور دیگر مصالح دینیہ کی بنا پر یہ مشورہ دیا وہ اس خطاب اور عتاب میں داخل نہیں اخفاء اور پردہ پوشی کے لیے کطاب عام آیا ورنہ مراد سب نہیں بلکہ صرف بعض مراد ہیں عتاب اس پر آیا کہ تم نے دنیا کے فانی سامان پر کیوں نظر کی حالانکہ مومن کی نظر صرف آخرت پر ہونی چاہئے اور مالی اور دنیوی فوائد پر نظر کرنا اگرچہ فی حدذاتہ جائز ہے مگر صحابہ ؓ جیسے مقربین کی شان عالی اور منصب جلیل کے مناسب نہیں۔
اور آں حضرت ﷺ نے جو صدیق اکبر کی رائے کو عمر ؓ کی رائے پر ترجیح دی اس کا منشاء شفقت و رحمت کا غلبہ تھا نہ کہ مالی فائدہ اور اگر بالفرض والتقدیر کسی درجہ میں مالی فائدہ آپ کے پیش نظر بھی ہو تو وہ اپنے لیے تھا بلکہ دوسروں کے فائدہ کے لیے تھا اور دوسروں کے مال فائدہ کو ملحوظ رکھنا جودوکرم ہے جو عقلا ً شرعا محمود ہے وہ محل عتاب نہیں۔
2 ۔ جنگ بدر میں جب ستر کافر مسلمانوں کے ہاتھ قید ہو کر آئے تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا بعض نے مشورہ دیا کہ ان کو قتل کردیا جائے اور بعض نے کہا کہ ان سے کچھ مال لے کر چھوڑ دینا چاہئے اس پر آپ پر وحی نازل ہوئی ور جبریل امین نے آکر عرض کیا کہ آپ کے رب نے اسیران بدر کے بارے میں آپ کے صحابہ کو اختیار دیا ہے کہ خواہ ان کو قتل کریں اور خواہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑیں مگر بایں شرط کہ آئندہ سال تمہارے بھی ستر آدمی شہید ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم ان سے فدیہ لے کر ایک گونہ قوت حاصل کریں اور سال آئندہ حق تعالیٰ جس کو چاہیں شہادت کی عزت و کرامت سے سرفراز فرمائیں اور ہمارے ستر آدمی جنت میں داخل ہوں آپ نے بمشورہ صحابہ کرام اسیران بدر سے فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا اس پر یہ آیات عتاب نازل ہوئیں اب یہاں شبہ یہ ہے کہ جب من جانب اللہ قتل اور فدیہ دونوں کا اختیار دے دیا گیا تھا تو پھر فدیہ لینے پر کیوں عتاب نازل ہوا۔
جواب : جواب اس کا یہ ہے کہ یہ اختیاط فقط ظاہری اور صوری تھا لیکن معنوی اور حقیقی لحاظ سے اختبار (یعنی آزمائش) اور امتحان تھا کہ دیکھیں مسلمان اعداء اللہ کے قتل کو اختیار کرتے ہیں یا سامان دنیا کو اختیار کرتے ہیں اور یہ بات اہر ہوجائے کہ مسلمان اپنی رائے سے کس طرف جھکتے ہیں۔ جیسے حق تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو دو صورتوں میں اختیار دیا کہ چاہے دنیا کو اختیار کریں اور چاہے آخرت کو اختیا کریں کا قال تعالیٰ ۔ یا ایہا النبی قل لا ازواجک ان کنتن تردن الحیاۃ الدنیا وزینتھا فتعالین امتعکن وسرحکن سراحا جمیلا۔ وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الاخرۃ فان اللہ اعد للمحسنتا منکن اجرا عظیما۔
بیان حلت فدیہ
فدیہ للینے پر جب عتاب نازل ہوا تو مسلمان ڈر گئے اور غنائم بدر سے (جن میں فدیہ اساری بھی شامل تھا) ہاتھ کھینچ لیا۔ اور اس کے حلال ہونے میں شبہ ہوگیا اس پر آئندہ آیت نازل ہوئی جس میں ان کی تسلی فرما دی گئی کہ وہ اللہ کی عطا ہے اس کو خوش سے کھاؤ مال غنیمت فی حد ذاتہ حلال اور طیب ہے اس کے طریق حصول میں تم سے لغزش ہوئی وہ معاف کردی گئی اور یہ فدیہ ہم نے لیے مباح کردیا پس جو مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے جس میں یہ فدیہ بھی شامل ہے اس کو پاک اور حلال سمجھ کر کھاؤ وہ حلال ہے اور بلا شبہ پاک ہے ہمارے عتاب سے اس میں جو کراہت آئی تھی وہ اب ہماری معافی اور اباحت سے زائل ہوگئی اس آیت میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی کردی کہ یہ حرام نہیں بلکہ بلاشبہ حلال ہے لہذا اس کو خدا تعالیٰ کا عطیہ سمجھ کر کھاؤ اور آئندہ کے لیے احتیاط رکھو اور خدا سے ڈرتے رہو اور مال کی حرص اور طمع سے بچتے رہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے کہ اس نے تمہاری اس خطا کو معاف کیا اور فدیہ کو تمہارے لیے حلال کردی ایہ اس کی رحمت ہے۔ بعد ازاں بعض قیدی مسلمان ہوگئے اور زر فدیہ بھی ادا کردیا مگر فدیہ کی ادائیگی ان پر گراں گزری جس سے وہ دل شکستہ ہوئے اس پر ان کی تسلی کے لیے آئندہ آیت نازل ہوئی۔ اے نبی آپ ان قیدیوں سے جو آپ کے ہاتھ میں ہیں اور مسلمان ہوگئے ہیں جن سے آپ نے فدیہ لے لیا ہے یہ کہدیجئے کہ تم اس پر فسوس نہ کرو اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں ایمان اور خلوص نیت کی کوئی بھلائی جانے گا یا دیکھے گا تو تم کو دیا ہی میں اس مال سے بہتر دیدے گا جو فدیہ میں تم سے لیا گیا ہے اور آخرت میں تمہارے تمام گناہ بخشدے گا۔ جو تم نے زمانہ کفر وشرک میں کیے ہیں اور اللہ بڑ ابخشنے والا مہربان ہے وہ اپنی رحمت اور مہربانی سے اس فدیہ کا نعم البدل تم کو عطا فرمادیں گے یہ آیت حضرت عباس کے بارے میں نازل ہوئی حضرت عباس سے جب فدیہ مانگا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں تو بالکل غریب ہوگیا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں آپ نے فرمایا کہ وہ سونا کہاں جو تم مکہ سے چلتے وقت رات کی تاریکی میں اپنی بیوی ام الفضل کو دے کر آئے تھے۔ چونکہ یہ راز نہایت مخفی تھا تو عباس سن کر نہایت متعجب ہوئے اور کہنے لگے اے بھتیجے تم کو یہ کیونکر معلوم ہوا آپ نے فرمایا کہ مجھ کو میرے پروردگار نے بتلا یہ سن کر حضرت عباس کو یقین ہوگیا کہ آپ سچے نبی ہیں۔ فورا اسلام لے آئے پھر ان دونوں بھتیجوں عقیل اور نوفل کو اسلام لانے کا حکم دیا تو وہ اسی وقت مسلمان ہوگئے پھر خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر تم صدق دل سے ایمان لائے اور اپنے ایمان، زبان پر ثابت قدم رہے تو جو مال تم سے اب لیا گیا ہے اس سے بہتر اللہ تم کو دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا یہ اس کے علاوہ ہے۔ حضرت عباس کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دو وعدے کیے تھے ایک تو یہ کہ جو مال مجھ سے لیا ہے اس سے بہتر مجھ کو دے گا سو اللہ نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا جو اس نے مجھ سے لیا تھا اس سے بہتر مجھ کو دے دیا۔ بیس اوقیہ سونے کے عوض اب میرے پاس بیس غلام ہیں جو سب تاجر ہیں اور ان میں سے ادنی غلام مجھے بیس ہزار درہم ادا کرتا ہے اور اللہ نے مجھے آب زمزم پلانے کی خدمت عطا جس کے بدلہ میں میں تمام اہل مکہ کے اموال کو پسند نہیں کرتا اور دوسرا وعدہ مغفرت کا ہے اس کے اپنے پروردگار سے امید لگائے ہوئے ہوں کہ وہ میرے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور خداوند کریم کے وعدہ میں خلاف نہیں ہوتا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ان قیدیوں کے دل میں کوئی شر یا شرارت کہ یہ قیدی شرارت سے مسلمان ہوئے ہیں اور آپ کے ساتھ خیانت اور دغا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کوئی فکر نہ کیجئے۔ وہ اس سے پہلے بیھی خدا اور رسول کے ساتھ خیانت اور دغا کرچکے ہیں اور اس کا انجام بھی دیکھ چکے ہیں پھر اگر اسلام کے ساتھ کوئی دغا کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے پکڑنے پر قدرت دی یہاں تک کہ وہ جنگ بدر میں آپ کے ہاتھ گرفتار ہوئے۔ اور اس کے بعد بھی ممکن ہے کہ تجھ کو ان پر غالب اور قادر کردے جس طرح وہ پہلے قادر تھا۔ اسی طرح وہ آئندہ بھی قادر ہے اور اللہ خوب جاننے والا ہے کوئی غدار اور خائن اس مخفی نہیں اور بڑی حکمت وا ا ہے۔ اس کی حکمتوں کا ادراک کسی کی قدرت میں نہیں۔
۔۔۔۔۔
Ayahs 8:72–75مراتب اہل اسلام و فضائل مہاجرین عظام و انصار کرام وبیان احکام باعتبار ہجرت واسلام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا وھاجروا۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بکل شیئ علیم
(ربط) گزشتہ رکوعات میں جہاد اور صلح کے احکام بیان کیے اور گزشتہ آیات میں قیدیوں کو تسلی دی اب ان آیات میں مہاجرین اور انصار کے فضائل اور مسلمانوں کے باعتبار ہجرت وعدم ہجرت مراتب اور احکام بیان کرتے ہیں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کافروں سے مقابلہ اور مقاتلہ کی قدرت ہو تو جہاد فرض ہے اور اور اگر عاجز ہو تو ہجرت فرض ہے۔ گزشتہ رکوعات میں جہاد کے احکام مذکور تھے اب جہاد کے بعد ان آیات میں ہجرت کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہجرت اور جہاد دونوں توام (جڑواں بھائی) ہیں۔ اس لیے ان آیات میں ہجرت ونصرت کے اعتبار سے آں حضرت صلی الہ علیہ وسلم کے عہد میں جو مسلمان تھے ان کے اقسام اور احکام بیان کرتے ہیں سو اس زمانے کے مسلمان چار قسم کے تھے۔
قسم اول :
مہاجرین اولین جنہوں نے دین اسلام کی خاطر اپنا کنبہ اور وطن چھوڑا اور اسلام کی خاطر تمام تکلیفوں کو برداشت کیا۔
قسم دوم :
" انصار " جنہوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ دیا اور جان ومال سے ان کی مدد کی اور ان کے ساتھ ہو کر اعداء اسلام سے لڑے ان دونوں قسموں کا حکم یہ بیان فرمایا اولئک بعضھم اولیاء بعض۔ یعنی ایک دوسرے کے دوست اور وارث ہیں پہلا گروہ مہاجرین سابقین کے ہے اور یہ دوسرا گروہ انصار سابقین کا ہے ان دنوں گروہوں میں آں حضرت ﷺ نے مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کردیا اور اس رشہ مواخات کے اعتبار سے ایک کو دوسرے کا وارث بنا دیا اور ایک کی دوسرے پر نصرت واجب کی یہ دونوں فریق صلح اور جنگ میں ایک دوسرے کے شریک ہیں ان سب کی صلح اور جنگ ایک ہے۔ ایک کا موافق سب کا موافق اور ایک کا مخالف سب کا مخالف ہے
ٍقسم سوم :
وہ مسلمان جو ایمان تو لائے مگر ہجرت نہیں کی اور اپنے ہی ملک میں رہے جہاں کافروں کا زور اور تسلط تھا یعنی دار الحرب میں رہے اور دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی جیسے بعضے لوگ مسلمان تو ہوگئے تھے مگر مدینہ کی طرف ہجرت نہ کی مکہ ہی میں کافروں کے ساتھ رہے ان کے متعلق دو حکم دئیے ایک تو یہ کہ یہ لوگ مسلمانوں کی حمایت اور وراثت میں شریک نہیں جب تک ہجرت نہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ مواخات کی بناء پر مہاجرین اور انصار کے درمیان جو توریث کا سلسلہ قائم کیا گیا ہے اس میں دار الحرب کے مسلمان شامل نہیں یہ لوگ مہاجرین اور انصار کے وارث نہیں ۃ وسکتے اور نہ مال غنیمت اور مال فئی میں ان کا کوئی حصہ اور حق ہے اور دوسرا حکم یہ دیا کہ اگر وہ تم سے کسی دینی امر میں مدد طلب کریں تو تم اپنی مقدور کے موافق ان کی مدد کرو کیونکہ وہ اہل ایمان ہیں مگر اس قوم کے مقابلہ میں مدد نہ دو جن سے تمہارا کوئی عہد ہوچکا ہے تا بقاء عہد معاہدین کے مقابلہ میں دار الحرب کے مسلمانوں کی مدد نہیں کی جاسکتی۔ عہد کی پابندی واجب ہے ان کی وجہ سے معاہدین سے بد عہدی مت کرو۔
پھر حق تعالیٰ نے اس قسم سوم کے ذکر کے بعد قسم اول اور قسم دوم کے مسلمانوں کا زکر فرمایا چناچہ فرمایا والذین امنوا وھاجرو وجھداو فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا الئک ھم المومنون حقا لھم مغفرۃ ورزق کریم کہ ان لوگوں کے لیے آخرت میں مغفرت اور جنت میں عزت و کرامت کی روزی ہے۔ اس آیت میں ان دونوں قسموں کی مدح اور فٰلت بیان کرنا مقصود ہے اور پہلی بار جو ان دو قسموں کا ذکر فرمایا تھا وہاں با عتبار ولایت اور وراثت کے ان کا حکم بیان کرنا مقصود تھا۔ لہذا اس آیت میں تکرار نہیں دوسری مرتبہ ذکر کرنے سے سابقین اولین کی خواہ وہ مہاجر ہوں یا انصار محض ان کی فضیلت کو بیان کرنا مقصود ہے اور منجانب اللہ ان کے سچے مومن ہونے کی شہادت دینا مقصود ہے۔ کما قال تعالیٰ اولئک ھم ال مومنین حقا۔ یہ لوگ ان لوگوں سے اکمل اور افضل ہیں جو ایمان لانے کے بعد دار الحرب میں مقیم رہے اور دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی۔
خلاصہ کلام یہ کہ حق تعالیٰ نے پہلی قسم اور دوسری قسم کے مسلمانوں میں باہمی دو چیزیں ثابت کیں ایک نصرت اور ایک وراثت اور اس تیسری قسم کے لیے صرف نصرت کو ثابت کیا اور میراث کی نفی فرمائی خوب سمجھ لو۔
قسم چہارم :
وہ مسلمان ہیں جو صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے اور پھر ہجرت کر کے آں حضرت ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ کے ساتھ جہاد بھی کیا ان کی نسبت یہ ارشاد ہے کہ یہ لوگ باعبار احکام کے مہاجرین اولین کی برادری سے منسلک ہیں اور یہ لوگ اگرچہ ہجرت کے تقدم وتاخر کی وجہ سے مرتبہ میں ان سے کم ہیں مگر دینی نصرت اور حمایت کے اعتبار سے سب کا حکم الگ ہے۔ یہ تمام تفصیل تفسیر کبیر ص 578 ج 4 سے لی گئی ہے اہل علم اصل کی طرف مراجعت کریں۔
بیان اقسام و احکام باعتبار ہجرت واسلام
بیان قسم اول وقسم دوم
تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور خدا و رسول کی محبت میں اپنے وطن اور خویش و اقارب سے ہجرت کی اور جان ومال سے خدا کی راہ میں جہاد و قتال کیا اور غزوات سرایا میں اپنے کافر اعزاء اوراقارب سے اسلام کی خاطر مقابلہ اور مقاتلہ کیا یہ گروہ سابقین اسلام اور مہاجرین اولین کے لقب سے ملقب ہے جو سب سے افضل اور اکمل ہے اور دوسرا گروہ انصار کا ہے جنہوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ دیا۔ اور جان ومال سے ان کی مدد کی یہ جماعت انصار کے لقب سے ملقب ہے۔ جن کا درجہ مہاجرین اولین کے بعد ہے حق کی نصرت وحمایت آسان ہے مگر حق کے پیچھے ایسا دیوانہ ہوجانا کہ اہل و عیال اور خویش و اقارب اور وطن عزیز کو چھوڑ کر ہجرت کر جائے یہ بہت مشکل ہے یہ دونوں قسم کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے والی اور وارث ہیں۔ یعنی مہاجرین اور انصار آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اور ان کے قریبی رشتہ دار جو کافر ہیں وہ ان کے وارث نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ہجرت اور نصرت کی وجہ سے نصرت وحمایت میں اور باہمی وراثت میں ایکد وسرے کے شریک ہیں۔
قسم سوم :
اور مسلمانوں کی تیسری قسم وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان تو لائے (لیکن دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی ان کی میراث میں تمہارا کوئی حق نہیں یعنی یہاں تک کہ وہ مدینہ کی طرف ہجرت کریں جب وہ ہجرت کر آئیں گے تو وہ بھی اس ھکم میں داخل ہوجائے گ ہیں گے و لیکن یہ مسلمان جنہوں نے دار الحرب سے ہجرت نہیں کی اگرچہ توارث میں تمہارے شریک نہیں لیکن اس قسم کے مسلمان اگر کافروں کے مقابلہ میں تم سے کوئی مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد واجب ہے یعنی اگر ان مسلمانوں کی جنہوں نے ہجرت نہیں کی کافروں سے لڑائی اور مقابلہ ہو اور وہ تم سے مدد کے طالب ہوں تو کافروں کے مقابلہ میں تم پر ان کی مدد واجب ہے کیونکہ وہ اہل ایمان ہیں مگر اس قوم کے مقابلہ میں نہیں جن کے اور تماہرے درمیان صلح کا کوئی عہد اور پیمان ہو۔ یعنی جن سے عہد ہے ان سے عہد نہ توڑو ان کے ساتھ لڑائی کرنے سے عہد مانع ہے یعنی اگر دار الحرب کے مسلمان آزاد مسلمانوں سے مدد طلب کریں تو حتی المقدور ان کی مدد واجب ہے مگر جس جماعت ان آزاد مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا ہے ان کے مقابلہ میں تابقاء عہد دا الحرب سے مسلمانوں کی امداد نہیں کی جاسکتی اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ ایفاء عہد کرتے ہو یا عہد شکنی کرتے ہو حکم خداوندی کی مخالفت نہ کرو اور خوب سمجھ لو کہ جو لوگ کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تمہارا ان میں سے کوئی نہیں اور کفار باوجود باہمی اختلاف کے مسلمانوں کی دشمنی اور عداوت میں سب ایک ہیں اس لیے نہ تم ان کے وارث ہو اور نہ وہ تمہارے وارث ہیں۔ اے مسلمانو ! اگر تم ایسا نہیں کرو گے یعنی کافروں کو اپنا دشمن نہیں سمجوھ گے اور ان سے قطع تعلق نہیں کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد برپا ہوجائے گا۔ یعنی اگر مسلمان ایک دوسرے کو دوست نہیں سمجھیں گے اور باہم مدد نہیں کریں تو مسلمانوں کے کام خراب ہوجائیں گے اور کافر غالب آجائیں گے اور کفر کے غلبہ سے بڑھ کر کوئی فتنہ اور فساد نہیں لہذا ضروری ہوا کہ تم کافروں سے الگ تھلگ رہو اور میراث کا قاعدہ اسلام کی بنیاد پر جاری رکھو۔ خدا نخواستہ اگر تم کافروں کو اپنا دوست اور وارث بنانے لگے تو اسلام ختم ہوجائے گا۔
ان آیات میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی تیسری قسم کے احکام بیان کیے اب آئندہ آیات میں قسم اول اور قسم دوم کے مسلمانون کی مدح اور فضیلت بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں ور جو ایمان لائے اور پھر وطن چھوڑا اور خدا کی راہ میں اپنوں اور بیگانوں کو چھوڑا سب سے بڑے یہ مہاجرین اولین کا گروہ ہوا جو مسلمانوں کی قسم اول تھی اور جن لوگوں نے خدا کے رسول اور اہل ایمان کو اور مہاجرین کو ٹھکانہ دیا اور جان ومال سے ان کی مدد کی یہ انصار کا گروہ ہو جو مسلمانوں کی قسم دوم تھی یہ دونوں جماعتیں ہی سچے اور پکے ایماندار ہیں جن کے کامل الایمان ہونے میں ذرا بھی شک اور شبہ نہیں مہاجرین اور انصار نے ہجرت اور نصرت اور جہاد سے ایمان کا حق ادا کردیا ان کے لیے آخرت میں مغفرت ہے۔ یعنی بطور دوام و استمرار ان کے لیے اللہ کی مغفرت ثابت ہے۔ اشارہ اس طرح ہے کہ اگر ان سے کوئی لغزش ہوگئی یا ہوجائے تو وہ سب معاف ہے، اور جنت میں ان کے لیے بڑی عزت کی روزی ہے یہ آیت اہل سنت والجماعت کے مذہب کی صحت پر اور شیعہ مذہب کی غلطی پر گواہ ہے کیونکہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار کے صادق الایمان اور جنتی ہونے کی سند دے دی ہے اور یہی اہلسنت کا مذہب ہے۔
ذکر قسم چہارم
اب آئندہ آیت میں مسلمانوں کی چوتھی قسم کا ذکر کرتے ہیں اور جو لوگ صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے اور پھر انہوں نے ہجرت بھی کی اور تمہارے ساتھ شامل ہو کر جہاد بھی کیا یعنی ایمان بھی لائے اور ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا مگر یہ سب کام بعد میں کیے سو یہ لوگ اگرچہ فضیلت اور مرتبہ میں تمہارے برابر نہیں مگر تاہم ان کا شمار تمہارے ہی زمرہ میں سے ہے اور تمہارے ساتھ ملحق ہیں تم ان کے وارث اور وہ تمہارے وارث، وراثت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ دونوں ایک ہی وقت میں ایمان لائے ہوں اور ایک ہی وقت میں اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور ایک ہی وقت میں دونوں نے ہجرت کی ہو۔
مرتبہ میں تو مہاجرین اولین ان بعد والوں سے بڑھے ہوئے ہیں مگر یہ بعد والے ان کے گروہ اور زمرہ میں شامل ہیں اور ان کے ساتھ ملحق ہیں اور مرتبہ میں اگرچہ کم ہیں مگر احکام میراث میں برابر ہیں کیونکہ مرتبہ کے فرق سے احکام میراث میں فرق نہیں پڑتا کیونکہ میراث کے لیے مرتبہ میں برابری کی شرط نہیں اور رشتہ دار کتاب اللہ کی رو سے آپس میں بعض، بعض کی میراث کے بہ نسبت غیر رشتہ داروں کے زیادہ حقدار ہیں۔ یعنی قدیم مہاجرین کا کوئی رشتہ دار جو بعد میں مسلمان ہوا یا بعد میں ہجرت کر کے آیا تو بہ نسبت غیر رشتہ داروں کے وہ قدیم مہاجر کی میراث کا زیادہ حقدار ہے اگرچہ وہ غیر رشتہ دار فضیلت اور مرتبہ میں اس سے زیادہ ہو میراث کے حکم میں مہاجرین اولین اور مہاجرین متاخرین سب برابر ہیں اس آیت سے وہ میراث جو بر بنائے ہجرت اور اخوت اسلامی تھی وہ منسوخ ہوئی اب میراث صرف قرابت پر ہے مگر ایمان اور اسلام بہر حال شرط ہے مسلمان اور کافر میں وراثت جاری نہیں ہوتی تحقیق اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو جاننے والا ہے کہ کون کس کا کس قدر حق دار ہے اسی کے مطابق میراث کا حکم دیا جو سراسر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔ حدیث میں ہے ان اللہ قد اعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث۔ ھذا آخر تفسیر سورة الانفال وللہ الحمد والمنۃ۔
الحمدللہ۔ آج بروز چہار شنبہ بوقت اشراق۔ 8 محرم الحرام 1387 ھجری کو سورة انفال کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔
اے رب العالمین جو کچھ لکھا گیا وہ سب تیری ہی توفیق سے لکھا گیا اس کی قبولیت کی درخواست کرتا ہوں اور باقی قرآن کریم کی تفسیر کی تکمیل اور اس کی قبولیت کی بھی تجھ سے درخواست کرتا ہوں
ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شیئ قدیر۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التوا الرحیم آمین یارب العلمین۔