Ayahs 8:20–29ترغیب بر اطاعت وامانت وترہیب از معصیت وخیانت و زجر دوستاں
از مشابہت دشمناں
قال اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ ذوالفضل العظیم
(ربط) گذشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ کی معیت اور نصرت اور حمایت کا دارومدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اگر تم اللہ کی معیت اور اس کی نصرت کے طلبگار ہو تو اس کی دو شرطیں ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل وجان سے ایسی اطاعت کرو جس میں خیانت کا شائبہ نہ ہو اس لیے کہ خیانت اطاعت کاملہ میں مخل ہے۔ دوم یہ کہ اہل ایمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے دشمنوں اور اس کے باغیوں یعنی کافروں اور منافقوں کی مشابہت اور مماثلت سے محفوظ رکھیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ من تشبہ بقوم فھو منہم (جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا) کوئی بادشاہ اور فرمانروا یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کی وفاداری کا دعوی دار اس کے دشمنوں کا ہمرنگ اور ہم لباس اور ہم صورت بنے۔ اسی طرح دعوی تو ہو ایمان کا اور خدا اور رسول کی محبت کا اور صورت اور طرز معاشرت سارا کا سارا ہو دشمنان خدا و رسول کا سا۔ یہ در پردہ اجتماع ضدین ہے۔ جو حکماء اور عقلاء کی نظر میں احمقانہ دعوی ہے۔
اس لیے ان آیات میں (اولا) حق تعالیٰ نے اطاعت کاملہ کا حکم دیا اور (ثانیا) اعداء اسلام یعنی کفار اور منافقین سے تشبہ کی ممانعت فرمائی کما قال تعالیٰ ولا تکونوا کالذین قالو سمعنا۔ اور پھر اس ی کے ساتھ مشبہ بہ کی مذمت میں ان کو شر الدواب فرمایا تاکہ تشبہ بالکفار کی قباحت خوب ذہن نشین ہوجائے اور ثالثا یا ایہا الذین امنوا استجیبو الخ میں یہ بتلایا کہ اطاعت خدا اور رسول حیات ابدی کا ذریعہ ہے۔ اور (رابعا) یا ایہا الذین امنوا لا تخونوا اللہ میں خیانست سے ممانعت کی اور بال اور اولاد کے فتنہ پر تنبیہ فرمائی اس لیے کہ اس سے اطاعت میں خلل پڑتا ہے اور (خامسا) یا ایہا الذین امنوا ان تتقوا اللہ میں تقوی کے فوائد اور برکات کو بیان فرمایا اور یہ تمام مضامین اپس میں غایب درجہ متناسب اور متجاذہب ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی معیت 1 چاہتے ہو تو تم اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور رسول کے حکم سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سن رہے ہو کہ وہ ہمارے رسول ہیں اور ان کی اطاعت ہماری اطاعت ہے اور ایمان کا مقتضی ہی اطاعت ہے اور ان لوگوں کے مشابہ نہ ہو جو زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیرا حکم سن لیا اور دل سے نہیں سنتے یعنی منافقوں کے مانند نہ بنو جن کا ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ فقط سر کے کانوں سے سن لینا کافی نہیں اور یہ فقط مقتضائے ایمان کے خلاف نہیں بلکہ مقتضائے انسانیت کے بھی خلاف ہے اس لیے کہ تحقیق بد ترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو حق کے سننے سے بہرے اور حق کے بولنے سے گونگے اور حق کے سمجنے سے بےعقل ہیں نہ حق کو سنتے ہیں اور نہ حق بات منہ سے نکالتے ہیں اور نہ حق بات کے سمجھنے کی طرف عقل کو متوجہ کرتے ہیں ایسے لوگ بہائم سے بھی بدتر ہیں اس لیے کہ حیوانات تو عقل اور ادراک سے عاری ہیں انہیں کیا ہوا کہ عقل اور شعور کے ہوتے ہوئے نفس اور طبیعت کی طرف دوڑ پڑے اور اگر اللہ ان میں کوئی خیر اور بھلائی جانتا یعنی حق کی طلب اور قبول حق کی صلاحیت جانتا تو ضرور ان کو حق سنا دیتا یعنی ان کو سننے کی توفیق سے آیات قرآنی سے ہدایت حاصل کرتے اور حق کو سمجھ جاتے اور اگر بالفرض خدا تعالیٰ ان کو ایسی حالت میں سنادے جبکہ ان میں کچ بھی خیر نہیں اور نہ حق کی طلب ہے بلکہ بجائے خیر کے ان کے دل عناد اور حق کی نفرت سے لبریز ہیں ایسی حالت میں اگر خدا تعالیٰ ان کو سنا بھی دے تب بھی وہ روگدانی کریں گے اور اعارض کر کے الٹے پیر بھاگیں گے جن میں خیر کا کوئی مادہ ہی نہ ہو اور قبول حق کی صلاحیت اور استعداد ہی نہ ہو اور نہ حق کی طلب ہو اور نہ اس کی فکر اور تلاش ہو تو ایسے بدبخت سننے کے بعد بھی ہدایت پر نہیں آتے اور ظاہری کانوں سے سننے کے بعد بھی بےرخی برتتے ہیں کیونکہ خٰر سے خالی ہونے کی وجہ سے یہ لوگ دائرہ انسانیت سے نکل کر دائرہ حیوانیت میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہاں تک محروم اور مردود لوگوں کا حال بیان ہوا اب آئندہ آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے اہل قرب اور محبین کو متابعت رسول کی راہ سے اپنے قرب اور مشاہدہ کی دعوت دیتے ہیں لہذا تم کو چاہئے کہ اس کی دعوت کو قبول کرو تاکہ تم کو حیات دائمی حاصل ہو۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تمہارا ایمان جب مکمل ہوگا کہ جب تمہارا دل زندہ ہوجائے لہذا اگر تم حیات روحانی اور حیات جاودانی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی پکار کو قبول کرو جب اللہ کا رسول روحانی زندگی بخشنے کے لیے تم کو بلائے یعنی علوم حقہ اور ایمان اور اعمال صالحہ کی طرف بلائے جس سے دنیا میں تم کو روحانی زندگی ہو اور جنت میں حیات ابدر حاصل ہو غرض یہ کہ جس دین کی طرف آپ بلاتے ہیں وہ دل کو زندہ کرنے والا ہے اور دل کی زندگی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم اس نعمت عظمی سے روگردانی کرو اور ساتھ ساتھ اس بات کو جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے وہ مقلب القلوب ہے دلوں کو پلٹتا رہتا ہے یعنی زندگو کو غنیمت سمجھو اور استجابت رسول میں دیر نہ کرو شاید تھوڑی دیر کے بعد دل کی یہ حالت نہ رہے دل آدمی کے قبضہ میں نہیں بلکہ دل خدا کے ہاتھ میں ہے وہ اس کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ ابتداء اللہ تعالیٰ کسی کے دل کو خیر سے نہیں روکتا اور نہ اس پر مہر کرتا ہے البتہ اگر بندہ کاہلی اور سستی اور روگردانی کرنے لگے اور حد سے گذر جائے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس کی سزا اور پاداش میں اپنی توفیق اور ہدایت کو روک لیتا ہے یا کوئی حق پرستی کو چھوڑ کر ضد اور عناد پر اتر آئے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کردیتا ہے اور اس پر قفل ڈال دتیا ہے جس سے دل کے اندر خیر پہنچنے کا راستہ بند ہوجاتا ہے (ہذا توضیح مافی موضح القرآن) اور بچتے اور ڈرتے رہو اس فتنہ سے کہ جس کا وابل تم میں سے فقط ان لوگوں پر نہ پڑے گا جنہوں نے خاص کر ظلم کا ارتکاب کیا ہے بلکہ اس کا وبال عام ہوگا ظالم اور غیر ظالم سب ہی اس کی زد میں آجائیں گے آیت میں فتنہ سے مداہنت فی الدین کا فتنہ مراد ہے کہ جب لوگ کھلم کھلا منکرات کا ارتکاب کرنے لگیں اور اہل علم باوجود قدرت کے مداہنت برتیں اور نہ ہاتھ سے اور نہ زبان سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں اور نہ دل سے اس سے نفرت کریں جو آخری درجہ ہے اور نہ ایسے لوگوں سے میل جول کو چھوڑیں تو ایسی صورت میں اگر من جانب اللہ کوئی عذاب آیات تو وہ عام ہوگا جس میں اہل معاصی اور مرتکبین منکرات کی کوئی تخصیص نہ ہوگی بلکہ وہ عذاب مداہنت کرنے والوں پر بھی واقع ہوگا کیونکہ منکرات اور معاصی اگر لوگوں میں شائع ہوجائیں تو ان کی تغییر حسب قدرت سب پر واجب ہے اور جو باوجود قدرت کے سکوت کرے تو معلوم ہوا کہ وہ بھی دل سے راضی ہے اور راضی حکم میں عامل کے ہے بلکہ بعض اوقات رضا بالمنکر۔ ارتکاب منکر سے زیادہ دین کے لیے مضر ہوتی ہے اس لیے اس فتنہ میں پر جو عقوبت اور مصیبت نازل ہوگی وہ سب کو عام ہوگی اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے جو اس کی معصیت اور نافرمانی کو دیکھ کر باوجود قدرت کے اس پر سکوت کریگا اور اندر سے اس کا دل رنجیدہ نہ ہوگا تو اس کو بھی عذاب پہنچے گا۔
1 گزشتہ آیت میں وان اللہ مع ال مومنین کے ساتھ ربط کی طرف اشارہ ہے منہ عفا اللہ عنہ
پس اس آیت کا خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ خود بھی خدا تعالیٰ و رسول کی اطاعت اور فرمانرداری کرو۔ اور جو اس کی نافرمانی کرے اس کو نصیحت اور فہمارئش کرو۔ زمانیں تو کم از کم بیزاری اور نفرت کا اظہار کرو اور حضرت شاہ عبدالقادر (رح) تعالیٰ نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے فتنہ اور فساد اور ایسے گناہ سے بالخصوص بچنا چاہئے جسکا خراب اثر گناہ کرنے والے کی ذات سے متعدی ہو کر دوسروں تک پہنچتا ہے پہلے فرمایا تھا کہ خدا اور رسول کے حکم ماننے میں کاہلی نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر کرنے کی وجہ سے دل ہٹ جائے اور پھر اس کا کرنا اور مشکل ہوجائے اب تنبیہ فرماتے ہیں کہ اگر نیک لوگ کاہلی کریں تو عامل لوگ بالکل چھوڑ دیں گے تو رسم بد پھیلے گی اس کا وابل سب پر پڑے گا جیسے جنگ میں دلیر سستی کریں تو نامرد بھاگ ہی جائیں پھر شکست پڑے تو دلیر بھی نہ تھام سکیں۔ آگے فرماتے ہیں کہ اپنے ضعف اور ناتوانی کی بناء پر حکم برداری میں کاہلی نہ کریں اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب تم شمار میں بہت تھوڑے تھے اور سرزمین مکہ میں ہجرت سے پہلے تم ضعیف اور ناتواں سمجھے جاتے تھے۔ ضعف کا یہ حال تھا کہ تم ڈرتے تھے کہ کافر تم کو کہیں اچک نہ لے جائیں پس اللہ نے تم کو مدینہ میں ٹھکانہ دیا اور اپنی مدد سے تم کو قوت بخشی اور تمہارا ضعف مبدل بہ قوت ہوا اور تم کو اپنی کمزوری کی بناء پر جو یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ دشمنان اسلام ہم کو نچ کھسوٹ کر نہ لیجائیں یہ خدشہ دور ہوا اور ہجرت کے بعد تم کو جہاد کا حکم ہوا اور پکیزہ اور ستھری چیزوں سے تمہیں روزی دی اور مال غنیمت تمہارے لیے حلال کیا جو پہلی امتوں کے لیے حلال نہ تھا۔ تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر مانو جتنا شکر کرو گے اسی قدر نعمتوں میں زیادتی ہوگی آگے فرماتے ہیں کہ منعم کا حق اور اس کا شکر یہ ہے کہ اس کے حق میں کوئی خیانت نہ کی جائے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ تم خدا اور رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور نہ اپنی آپس کی امانتوں میں خیانت کرو اور حالانکہ تم جانتے ہو کہ امانت کی حفاطت واجب ہے اور خیانت کرنے کا بڑا وبال ہے خیانت کے لغوی معنی نقص اور کمی کے ہیں۔ پس کسی کے حقوق میں کمی کرنا خیانت ہے اسی طرح اللہ کا دین امانت ہے اللہ کی طرف اس کو ادا کردو۔ اس کے فرائض بجا لاؤ اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود پر قائم رہو۔
یہ آیت ابو لبابہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی یہود بنی قریظہ نے جب حضور پرنور سے صلح کی درخواست کی تو اس بات میں یہود نے ابو لبابہ سے مشورہ کی اور پوچھا کہ آنحضرت ﷺ ہمارے ساتھ کیا معاملہ کریں گے چونکہ ان کے مال و عیال اس گھڑی میں ان کے پاس تھے اس لیے مقتضائے بشریت ابو لبابہ نے انگلی سے حلق کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کر ڈالیں گے۔ ابو لبابہ اشارہ کر تو گزرے مگر فورا تنبہ ہوا کہ میں نے خدا اور رسول کے ساتھ خیانت کی واپس آکر اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا اور عہد کیا کہ نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پیوں گا حتی کہ موت آجائے۔ یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول سات آٹھ دن یونہی بندھے رہے فاقہ سے غشی طاری ہوگئی آخر بشارت پہنچی کہ حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کی اس پر کہا کہ خدا کی قسم جب تک رسول اللہ ﷺ اپنے دست مبارک سے میری رسی نہ کھولیں گے اس وقت تک میں اپنے آپ کو نہ کھولوں گا۔ آپ تشریف لائے اور خود اپنے دت مبارک سے ان کو کھولا۔ لؓ وارضاہ۔ (تفسیر در منثور ص 178 ج 3)
تحذیر از فتنہ مال واولاد
ابو لبابہ انصاری نے جو یہود کی یہ خیر خواہی کی اور خدا و رسول سے ایک قسم کی خیانت کی اس کی وجہ یہ تھی کہ ابو لبابہ کے اہل و عیال اور ان کے اموال بنی قریظہ میں تھے ان کے بچاؤ کے لیے ایسا کیا اس لیے آئندہ آیت میں متنبہ فرماتے ہیں کہ مال اور اولاد فتنہ ہیں یعنی تمہارے لیے آزمائش ہیں یہ اموال اور اولاد تم کو اس لیے دئیے گئے ہیں کہ تم اس عطیہ کا شکر ادا کرو اور اطاعت بجا لاؤ نہ اس لیے کہ تم بمقابلہ اسلام ان کی رعایت کرو اور اللہ اس کے رسول سے خیانت کرو۔ چناچہ فرماتے ہیں اور خوب جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد بڑی آزمائش ہیں عاقل کو چاہئے کہ ان چیزوں کی محبت میں پڑ کر اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرے اور یقین رکھو کہ اللہ کے یہاں بڑا ثواب ہے جس کے سامنے یہ تمام دنیوی منافع ہیچ ہیں لہذا مال اور اولاد کی خاطر ثواب اور آخرت کو ہاتھ سے نہ دینا چاہئے۔
برکات تقوی
اے ایمان والو اگر تم اپنے ایمان کو فتنہ سے بچانا چاہتے ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو اور تقویٰ کو اپنا شعار بنا لو تو اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں پر ایسی فتح اور غلبہ دے گا کہ پھر تمہیں کافروں کی کسی رعایت کی ضرورت ہی نہ رہے گی اور فتنہ سے تم محفوظ ہوجاؤ گے۔ مطلب یہ ہے کہ فرقان سے فتح ونصرت مراد ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ فرقان سے نور ہدایت مراد ہے یعنی تقوی کی برکت سے اللہ تمہارے دل میں ایک نور ڈال دیگا جس سے تم ذوقا ووجدانا حق اور باطل میں فرق کرلیا کرو گے۔ اور اس کے علاوہ تقوی کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے برائیاں دور کریگا اور تم کو بخش دیگا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ وہم و گمان سے بڑھ کردیتا ہے۔
شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ شاید فتح بدر میں مسلمانوں کے دل میں آیا کہ یہ فتح اتفاقی ہے، حضرت سے مخفی کافروں پر احسان کریں کہ ہمارے گھر بار اور اہل و عیال کو مکہ میں نہ ستاویں سو پہلی آیت میں خیانت کو منع فرمایا اور دوسری آیت میں تسلی دی کہ آگے فیصلہ ہوجائے گا تمہارے گھر بار کافروں میں گرفتار نہ رہیں گے (موضح القرآن)
Ayah 8:30ذکر انعام خاص
قال اللہ تعالیٰ واذ یمکر بک الذین کفروا۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ خیر المکرین،
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مومنین پر انعام کا ذکر تھا اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ پر اپنے خاص انعام کا ذکر فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ہجرت کے وقت دشمنوں کے نرغہ سے کس طرح آپ کو صحیح سالم نکالا چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اے نبی ! اس وقت کو کہ جب کافر آپ کے ساتھ مکر و فریب کر رہے تھے اور آپ پر اپنا داؤ چلا رہے تھے تاکہ تجھ کو مضبوط باندھ کر قید کرلیں اور ایک گھر میں مقید کر کے اس کا دروازہ بند کردیں اور صرف ایک روشندان کھلا رہنے دیں اس میں آپ کے کھانے کے لیے ڈال دیا کریں یہاں تک کہ آپ کی موت آجائے یہ رائے ابو البختری بن ہشام کی تھی یا آپ کو مختلف تلواروں سے قتل کردیں یہ رائے ابوجہل کی تھی۔ اس نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلہ میں سے ایک ایک جوان منتخب کرلیا جائے اور ہر ایک کے ہاتھ میں تلوار دیدی جائے اور سب مل کر ایک ساتھ حملہ کریں اور ایک ہی وار میں آپ کا کان تمام کریں جب اس طرح آپ کو قتل کردیں گے تو آپ کا خون تمام قبائل قریش پر بٹ جائیگا اور بنی ہاشم تمام عرب سے لڑ نہیں سکیں گے ناچار دیت پر راضی ہوجائیں گے اور ہم اس کی دیت دیکر چھوٹ جائیں گے یا آپ کو مکسہ سے نکال دیں یہ رائے ہشام بنم عمرو کی تھی اس نے کہ میری رائے یہ ہے کہ اس شخص کو ایک اونٹ پر سوا ر کر کے مکہ سے نکال دو ۔ جب وہ تم سے غائب ہوجائیگا تو وہ تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور سرداران قریش دین حق کے مٹانے کی تدبیروں اور سازشوں میں سرگرداں تھے اور طرح طرح مکر و فریب کر رہے تھے اور مخفی طور پر اللہ تعالیٰ ان کے مکرو فریب کے باطل کرنے کی تدبیریں کر رہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو ان کے مکر و فریب سے محفوظ رکھے اور اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ کے آگے لوگوں کے سب منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں اس آیت میں واقعہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے جس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ جب انصار مسلمان ہوگئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کرلی تو کفار قریش کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں محمد ﷺ کی شان بڑھ نہ جائے اور آپ کا دین سب دینوں پر غالب نہ آجائے اس کی روک تھام اور انسداد کی تدبیر کرنے کے لیے سردارن قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے تاکہ محمد ﷺ کے بارے میں آپس میں مشورہ کریں اور مشورہ کے بعد جو بات طے پائے اس پر عمل کریں اس مجمع کے بڑے سردار عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ابوجہل اور ابو سفیان اور طعیمۃ بن عدی اور نضر بن الحارث اور ابو البختری بن ہشام اور حکیم بن حزام وغیرہم تھے۔
جب سب لوگ جمع ہوگئے تو ابلیس لعین بھی ایک مقدس شیخ کی صورت بنا کر ان میں آموجود ہوا لوگوں نے جب اس کو دیکھا تو اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں اس نے کہا میں نجد کا ایک شیخ ہوں میں نے تمہارے مجمع کا حال سنا تو میں بھی تمہارے پاس آگیا تاکہ عمدہ رائے سے تمہاری خیر خواہی کروں لوگوں نے کہا کہ اچھا آئیے بیٹھئے ! غرض یہ کہ وہ شیخ لعین بھی ان کے مجمع میں شامل ہوگیا۔ جب سب لوگوں سے رائے لی گئی تو ابو البختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم محمد کو پکڑ کر مضبوط باندھ لو اور ایک گھر میں مقید کر کے اس کا داروازہ بند کردو اور ایک رشندان کھلا رہنے دو اسی میں اس کی طرف کھانا پانی ڈال دیا کرو اور اس کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر رہو۔ یہاں تک کہ جس طرح اس سے پہلے اور شاعر مرگئے وہ بھی مرجائے جب ابلیس لعین نے یہ رائے سنی تو چلا یا اور کہا کہ یہ تمہارے رائے غلط اور بری ہے اگر تم نے اس کو قید کرلیا تو یہ ناممکن ہے کہ اس کی خبر دروازہ سے باہر نہ نکلے جب اس کے اصحاب اس بات کو سنیں گے تو جنگ کر کے تمہارے ہاتھ سے چھڑا لیں گے یہ سن کر لوگوں نے کہا کہ شیخ نجدی سچ کہتا ہے پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اس کو ایک اونٹ پر سوار کر کے اپنے یہاں سے نکال دو جب وہ تم سے غائب ہوجائے گا تو وہ تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور تم اس کے شر سے راحت میں ہوجاؤ گے۔ شیخ نجدی نے کہا کہ یہ رائے تو بہت نکمی ہے تم ایسے شخص کو جس نے تمہاری عقلوں پر جادو کردیا اپنے غیروں کی طرف نکالتے ہو کیا تم نے اس کی فصاحت کلامی اور شیریں زبانی کو نہیں دیکھا اور اس بات پر نظر نہیں کی کہ اس کی باتیں لوگوں پر کیا اثر کرتی ہیں اگر تم نے ایسا کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ یہاں سے چلا جائے گا اور دوسری قوموں کو مائل کر کے ان کو تم پر چرھا لائیگا اور پھر تم کو تمہارے شہر سے نکالدے گا۔ جب لوگوں نے اس کا یہ قول سنا تو سب نے کہا شیخ نجدی نے سچ کہا اس کے بعد ابو جہل نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلہ میں سے ایک ایک آدمی لیا جائے اور سب مل کر دفعۃً اس کو قتل کردیں تاکہ اس کا خون تمام قبیلوں میں بٹ جائے اور ظاہر ہے کہ بنی ہاشم تمام قبائل عرب سے نہیں لڑ سکتے ضرور بالضرور دیت پر راضی ہوجائیں گے اور ہم دیت دیکر چھوٹ جائیں گے۔ اس کے سوا میری اور کوئی رائے نہیں شیخ نجدی نے جب ابو جہل کی یہ رائے سنی تو خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہا کہ بیشک رائے تو یہی ہے جو اس جوان نے دی ہے اس سے بہتر کوئی رائے نہیں غرض ابوجہل کے قول پر سب کا اتفاق ہوگیا کہ اسی شب آنحضرت ﷺ کو قتل کردیں اور مجمع برخاست ہوگیا۔
نکتہ : ابوجہل کی رائے کو سن کر ابلیس لعین کو خوش اس امر کی ہوئی کہ میرا ایک شاگرد مکروفریب کی اس منزل پر پہنچ گیا کہ جہاں میرا فکر نہ پہنچ سکا۔
مجمع برخاست ہونے کے بعد جبرئیل امین نازل ہوے اور تمام واقعہ کی آپ کو خبر دی آنحضرت ﷺ نے اپنے بستر حضرت علی کو لٹا دیا اور فرمایا کہ میری چادر اوڑھ کر لیٹ جاؤ تم کو کوئی تکلیف نہ ہوگی اور آپ ﷺ ۔ انا جعلنا فی اعناقھم اغلالا۔۔۔ تا۔۔۔ فھم لا یبصرون۔ پڑھتے ہوئے گھر سے نکلے اور ایک مٹھی خاک اٹھا کر ان کے سروں پر پھینک دی اللہ تعالیٰ نے ان کو اندھا کردیا اور وہ آپ کو نہ دیکھ سکے آپ سیدھے ابوبکر ؓ کے گھر گئے اور پھر ان کو ساتھ لیکر غارثور میں جا چھپے۔
مشرکین تمام رات علی کی رکھوالی کرتے رہے اور ان کو یہ سمجھتے رہے کہ یہ محمد ہے جب صبح ہوئی تو قتل کے ارادہ سے گھر میں گھس گئے جب انہوں نے علی کو دیکھا اور آپ کو نہ دیکھا تو سخت متحیر ہوئے اور علی سے بولے کہ تمہارا رفیق کہاں گیا علی نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں۔
غرض یہ کہ حق تعالیٰ نے اس طرح سے آنحضرت ﷺ کو دشمنوں سے بچایا اور دشمن خائب و خاسر واپس ہوئے پھر جنہوں نے آپ کے قتل کا مشورہ دیا تھا غزوہ بدر میں وہی قتل کیے گئے۔ ابو جہل جس نے قتل کا مشورہ دیا تھا وہ بھی بدر کے دن مارا گیا۔ لعنۃ اللہ علیہ۔
اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتلا یا کہ جب خدا ساتھی ہو تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا پس جس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مکہ میں دشمنوں سے بچایا اسی طرح وہ تمہارے اہل و عیال کی بھی مکہ میں حفاظت کرسکتا ہے۔
Ayahs 8:31–37تفصیل مکائکفار در ابطال دین پروردگار
قال اللہ تعالیٰ ٰ واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا قد سمعنا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ذات نبوی کے متعلق کفار کے کید اور مکر کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دین محمد کے بارے میں کفار کے کید ومکر کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے مٹانے کے لیے کیا کیا حیلے اور بہانے تراشتے تھے اور کس طرح جان ومال سے اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت اور دشمنی کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار قریش کے تمرد اور عناد اور ان کے متکبرانہ دعاوی اور احمقانہ عادتوں کا بیان ہے اولئک ھم المخسروان۔ تک یہی مضمون چلا گیا ہے جس سے مقصود ان کی مذمت وشناعت اور ان کے استحقاق عقوبت کو بیان کرنا ہے۔ یعنی یہ لوگ اپنے تمرد اور عناد اور عادات شنیعہ کی بناء پر اس قابل ہیں کہ ان کو سخت عذاب دیا جائے چناچہ فرماتے ہیں اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ازراہ تکبر یہ کہتے ہیں کہ ہاں ہم نے سن لیا۔ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا ہی قرآن کہہ سکتے ہیں۔ یہ قرآن ہے ہی کیا چیز صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو ملک فارس اور حیرہ سے رستم اور اسفند یار کی داستانیں سن آیا تھا جہاں بیٹھتا وہاں لوگوں کو یہ قصے سنایا کرتا اور یہ کہتا کہ جیسے قصے تم کو محمد سناتا ہے ویسے قصے میں تم کو سناتا ہوں اس کا کلام ہے ہی کیا اگر میں چاہوں تو میں بھی ویسا ہی کلام بنا لوں مگر اس کا یہ کہنا صریح حق کو جھٹلانا تھا۔ کہاں رستم واسفند یار کے قصے اور کہاں یہ قرآن پاک۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ رستم اور اسفند یار کے قصے جھوٹ اور مبالغے سے پر ہیں اور قرآن پاک کا حرف حرف صداقت اور واقعیت اور موعظت و حکمت پر مبنی ہے پھر اس پر قرآن کی وہ فصاحت وبلاغت جس نے تمام عرب وعجم کو عاجز کردیا اس کے علاوہ ہے پھر یہ کہ جب قرآن ببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے کہ جس کو قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں شک اور شبہ ہے تو اس کے مثل لے آئے تو نضر بن حارث کو کسی نے منع کردیا کہ وہ قرآن جیسا کلام نہ بنا لائے جب اس کا دعوی یہ تھا کہ لو نشاء لقلنا مثل ھذا۔ اگر ہم چاہیں تو قرآن جیسا ہم بھی کہہ لیں تو سوال یہ ہے کہ پھر آپ نے چاہا کیوں نہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ اگر میرا گھوڑا چلے تو ایک دن میں لندن پہنچے۔ مگر وہ چلتا نہیں یہ متکبرین اور معاندین حروف سے تو قرآن کا مقابلہ نہ کرسکے البتہ سیوف (تلواروں) سے مقابلہ کے لیے تیار ہوگئے اور ان کے تمرد اور عناد کی ایک بات اور سنو جبکہ اس بات کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ اے اللہ اگر یہ قرآن یا یہ دین صحیح اور درست ہے تیری ہی طرف سے اتارا گیا ہے تو ہم تو جب بھی اس قرآن کو نہیں مانیں گے تو تو عذاب میں دیر مت کر ہم پر آسمان سے پتھر برسا جس طرح تو نے اصحاب فیل پر برسائے تھے یا اور کسی طرح کا ہم پر دردناک عذاب لا یہ قول بھی نضر ہی نے کہا تھا جس سے مقصود قرآن کے باطل ہونے پر اپنے یقین کا ظاہر کرنا تھا اور اسی نضر کے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی۔ سال سائل بعذاب واقع للکفرین اور دوسری جگہ یہ ہے۔ ویسعجلونک بالعذاب ولولا اجل مسمی لجاء ھم العذاب ولیا تینھم بغتۃ وھم لا یشعرون وقال ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب۔ فاسقط علینا کسفا من السماء ان کنت من الصاقین۔ عطاء کہتے ہیں کہ قرآن میں نضر کے بارے میں کچھ اوپر دس آیتیں نازل ہوئی سو خدا تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کی اور بدر کے دن گرفتار ہوا۔ اور آں حضرت ﷺ نے صبرا (بھوکا پیا) رکھ کر اس کی گردن مارنے کا حکم دیا اور نضر کی طرح ابوجہل نے بھی اسی طرح کہا تھا وہ بھی بدر کے دن ذلت اور رسوائی کے ساتھ مارا گیا اور کنوئیں میں ڈال دیا گیا امم سابقہ کے جاہلوں نے بھی یہی کہا تھا۔ فاسقط علینا کسفا من السماء ان کنت من الصادقین۔ اسی طرح عرب کے متمردوں اور سرکشوں نے یہ کہ ا کہ اے اللہ اگر یہ دن حق ہے تو ہم پر اصمان سے پتھر برسا یا اور کوئی عذاب نازل کر اور یہ دعا ہی ان کی عناد اور جہالت اور حماقت کی دلیل ہے اگر ذرا بھی عقل ہوتی تو یہ دعا کرتے اللہم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فاھدنا لہ وافقنا لاتباعہ۔ (یعنی اے اللہ اگر یہ دین حق ہے اور تیرے پاس آیا ہے تو ہم کو ہدایت دے اور اس کے اتباع اور پیروی کی توفیق دے)
حماقت بالائے حماقت
اول تو اپنی حماقت سے یہ احمقانہ دعا مانگی پھر جب خدا کی کسی حکمت اور مصلحت سے عذاب نازل نہ ہوا تو اپنی اس احمقانہ دعا سے اپنی حقانیت پر ناز کرنے لگے اور یہ نہ سمجھا کہ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک یغمب رقوم کے اندر موجود رہتا ہے اس قت تک قوم پر عذاب نازل نہیں ہوتا۔ خاص کر جب کہ آپ رحمۃ للعالمین ان میں موجود ہوں ان کے درمیان آپ کا نفس وجود ان پر عذاب نازل ہونے سے مانع ہے اور نیز نزول عذاب سے ایک مانع اور بھی ہے کہ وہ استغفار بھی کرتے رہتے ہیں اور اللہ ایسی حالت میں عذاب نہیں دیتے کہ جب وہ استغفار بھی کرتے ہوں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بوجہ کفر اور تمرد اور عناد اس کے مستحق ہیں کہ ان پر عذاب مذکور نازل کیا جائے لیکن عذاب نازل کرنے سے دو چیزیں مانع ہیں ایک تو نبی اکرم ﷺ کا ان کے درمیان تشریف فرما ہونا اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ اس قوم پر عذاب نازل کرے جس میں نبی موجود ہو کیونکہ یہ امر نبی کے اعزاز واکرام کے منافی ہے پہلی امتوں پر جو عذاب نازل ہوا تھا وہ بھی اسی وقت ہوا تھا کہ جب انہوں نے اپنے نبی کو درمیان سے نکال دیا تھا اور دوسری چیز جو نزول عذاب سے مانع ہے وہ ان کی استغفار ہے اور عذاب سے امن اور سلامتی کا باعث ہے مشرکین طواف وغیرہ کی حالت میں غفرانک غفرانک کہا کرتے پس جبکہ کافر کی استغفار دنیا میں نزول عذاب سے مانع ہوسکتی ہے تو مسلمان کی استغفار بدرجہ اولی نزول عذاب سے مانع ہوسکتی ہے۔ ترمذی میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے دو امانیں اتاری ہیں ایک میرا وجود اور دوسرے استغفار جب میں ان میں سے اٹھ جاؤنگا تو استغفار ان کے لیے قیامت تک چھوڑ جاؤ گا اور متمردین اور معاندین پر اگرچہ آپ کے وجود باوجود کی وجہ سے اور استغفار کی وجہ سے فی الحال دنیا میں عذاب نازل نہیں ہوا لیکن مستحق عذاب کے ضرور ہیں کیونکہ عذاب کے اسباب اور مقتضیات سب ان میں موجود ہیں اس لیے کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے حالانکہ وہ اس کے مستحق ہیں اس لیے کہ وہ اہل ایمان کو مسجد حرام کی زیارت سے اور طواف سے روکتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ ہم سجد حرام کے متولی ہیں اور وہ اس لائق نہیں کہ مسجد حرام کے متولی بنیں یہ کفار ناہنجار مسجد کے متولی بننے کے لائق نہیں۔ مسجد حرام کی تولیت کے لائق اور سزاوار صرف پرہیزگار لوگ ہیں جو شرک اور معصیت سے پرہیز کرتے ہیں و لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں کہ تولیت ان کا حق نہیں۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ قریش اپنے آپ اولاد ابراہیم سمجھ کو خانہ کعبہ کا مختار ٹھہراتے تھے اور مسلمانوں کو آنے نہی دیتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اولاد ابراہیم میں سے جو پرہیزگار ہو تولیت اسی کا حق ہے اور ایسے بےانصافوں کا حق نہیں کہ جس سے وہ ناخوش ہوئے اسے نہ آنے دیا۔ (کذا فی موضح القرآن بایجاح) اور مسجد کی تولیت کا حق اس شخص کو ہے کہ جو مسجد کا حق ادا کرے اور اس میں صحیح طریقہ سے نماز پڑھے اور ان لوگوں کی نماز تو خانہ کعبہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانے کے اور تالیاں بجانے کے کچھ بھی نہیں ایسے لوگ خانہ کعبہ کے متولی کیسے ہوسکتے ہیں ایسے لوگ تو عذاب کے مستحق ہیں پس اے مدعیان تولیت تم اپنے کفر کے بدلہ میں عذاب کا مزہ چکھو دنیا میں قتل اور قید اور آخرت میں عذاب جہنم مطلب یہ ہے کہ قریش کا یہ دعوی کہ ہم مسجد حرام کی تولیت کے مستحق ہیں بالکل غلط ہے جو شخص خانہ کعبہ کا برہنہ طواف کرے اور بجائے ذکر اللہ کے سیٹیاں اور تالیاں بجائے اس شخص نے مسجد حرام کا احترام نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ تمسخر اور استہزاء کیا اور یہ صریح کفر ہونے کے علاوہ صریح جہالت اور حماقق بھی ہے۔ آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ جس طرح ان کی یہ نماز کفر ہے اسی طرح ان کے صدقات اور خیرات بھی کفر ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ کافر ہیں وہ اپنے مالوں کو اس لیے کخرچ کرتے ہیں۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت بدنی کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں ان کی عبادت مالی کا ذکر فرمایا جیسا کہ جنگ بدر میں بارہ سرداروں نے ایک ایک دن لشکر کھانا کھلانا اپنے ذمہ لیا تھا روانہ ایک شخص کی طرف سے دس اونٹ ذبح کیے جاتے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ آیت ابو سفیان کے بارے میں ہے جس نے جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ کے لیے دو ہزار آدمی جع کیے اور ان کے لیے سامان حرب اور رسد مہیا کرنے میں مال کثیر صرف کیا اور جنگ بدر کے موقعہ پر ابو سفیان جو تجارتی قافلہ بچا کر نکال لے گیا تھا۔ اس مال کا نفع پچاس ہزار مثقال سونا تھا وہ بھی اس لشکر پر خرچ کیا اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی بہر تقدیر یہ آیت عام ہے اگعچہ سبب نزول خاص ہو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خبر دی ہے کہ یہ لوگ دین اسلام سے روکنے کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں سو آئندہ بھی یہ لوگ اسی طرح خرچ کرتے رہیں گے پھر نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سارا خرچ ان پر حسرت اور افسوس ہوگا کہ مال تو سارا خرچ ہوگیا اور مقصود حاصل نہ ہوا پھر آخر مسلمانوں کے مقابلہ میں مغلوب ہوں گے مطلب یہ ہے کہ کفار دین اسلام سے روکنے کے لیے کتنا ہی مال خرچ کر ڈالیں مگر نتیجہ یہی ہوگا کہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہاریں گے اور ان مالوں کے ضائع ہونے پر حسرت اور افسوس کریں گے جیسا کہ فتح مکہ کے دن اس کا ظہور ہوا کہ سارا جزیرۃ العرب مغلوب اور مقہور ہوا اور آٹھ سال میں جو اسلام کی دشمنی میں خرچ کیا تھا وہ ضائع اور بےکار گیا۔ یہ تو دنیا میں ہوا اور قیامت کو جو ندامت اور حسرت ہوگی وہ اس کے علاوہ ہے جس کا بیان آئندہ آیت میں ہے اور ان خرچ کرنے والوں میں سے جو لوگ اخیر دم تک کفر پر قائم رہے وہ جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے اس جگہ حق تعالیٰ نے بجائے ضمیر لانے کے اسم ظاہر یعنی والذین کذبوا۔ کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ وہ خرچ کرنے والے سب دوزخی نہ تھے کیونکہ بعض ان میں سے اللہ کے علم میں اسلام لانے والے تھے۔ اور قیامت کے دن ان کافروں کو دوزخ کی طرف اس لیے ہنکایا جاگا تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے جدا کردے۔ یعنی اہل شقاوت کو اہل سعادت سے الگ کردے کہ ناپانکوں کو دوزخ کی طرف ہنکائے اور پاکوں کو بہشت میں داخل کرے اور پھر ان ناپاکوں کو ایک دوسرے پر چڑھا کر اور تودہ ور ڈھیر بنا کر جہنم میں یکبارگی دھ کہ دیدے اس طرح کرح کافروں کے سردار اور ان کے پیرو ایک دوسرے کے سر پر یر رکھے بلا امتیاز یکبارگی ذلت اور خواری کے ساتھ جہنم میں پھینک دئیے جائیں گے دیکھ لو ایسے ہی لوگ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والے ہیں جس کی کوئی تلافی نہیں البت اگر مرنے سے پہلے اس دار دنیا میں اپنے کسارہ کی تلافی کرنا چاہیں تو اپنے کفر سے باز آجائیں۔ آئندہ آیت میں اسی تلافی کا ذکر ہے۔
Ayahs 8:38–40احکام متعلقہ بقبول اسلام وعدم قبول اسلام
قال اللہ تعالیٰ قل للذین کفروا ان ینتھوا۔۔۔ الی۔۔۔۔ ونعم النصیر
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے خسران اور نقصان کا بیان تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ خسارہ اور نقصان نکلنے کا راستہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ انے کفر اور عناد اور عداوت سے باز آجائیں اور اسلام میں داخل ہوجائیں تو گزشتہ کے تمام کفریات بخش دئیے جائیں گے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں کفار کے اقوال کفریہ اور اعمال کفریہ کا بیان تھا اب ان آیات بینات کے سننے کے بعد کفار کی دو حالتیں ہیں یا تو اسلام قبول کریں گے یا اپنے کفر اور عناد پر قائم رہیں گے۔ آئندہ آیات میں ان دو حالتوں کے متعلق احکام بیان فرماتے ہیں اے نبی آپ ان کافروں سے جو اسلام کی عداوت پر تلے ہوئے ہیں یہ کہدیجئے کہ اگر یہ لوگ اپنے کفر وعداوت سے باز آجائیں سو جو پہلے ہوچکا ہے وہ معاف کردیا جائیگا یعنی اسلام قبول کرنے سکفر کی حالت میں خدا جو گناہ کیے ہیں وہ سب معاف ہوجائیں گے اللہ اپنے حقوق کو معاف کردے گا۔ حقوق العباد معاف نہ ہونگے۔ ان کا مسئلہ علیحدہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ الاسلام یھدم ما کان قبلہ۔ یعنی اسلام سے پہلے کیے ہوئے گناہ اسلام لانے سے مٹ جاتے ہیں اور اگر پھر وہی کریں جو پہلے کرتے تھے تو پہلے لوگوں کی رسم گزرچکی ہے۔ یعنی خدا کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے پیغمبروں کے دشمنوں کو ہلاک اور تباہ کرتا رہا ہے تو کیا یہ کافر بھی اسی انتظار اور امید میں ہیں اور اے مسلمانو ! اگر یہ لوگ اپنے کفر اور عناد پر قائم رہے تو تمہارے لیے حکم یہ ہے کہ تم ان سے جہاد و قتال کرو اور برابر ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ کافروں کے ہاتھ سے اسلام اور مسلمانوں پر کسی فتنہ اور فساد کا اندیشہ نہ رہے یعنی کفر کا غلبہ نہ رہے اور کافروں میں اتنا زور نہ رہے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے روک سکیں یا کسی مسلمان کو مرتد بنا سکیں۔ فتنہ سے کفر کا غلبہ مراد ہے جب کفر کو غلبہ ہوتا ہے تو اسلام خطرہ میں پڑجاتا ہے اور یہاں تک جہاد و قتال کرو کہ ہوجائے سب حکم اللہ کا یعنی علی الاعلان اللہ کا حکم جاری اور نافذ ہو اور کفر اس میں مزاحمت نہ کرسکے یہ جہاد کا آخری مقصد ہے کہ کفر کی شوکت نہ رہے اور صرف خدا کا حکم چلے اور دین حق تمام ادیان پر غالب آجائے۔ کما قال تعالیٰ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔ اور جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہو جہاد جاری رہے گا خواہ دفاعی ہو یا اقدامی پس اگر ظاہرا وہ اپنے کفر سے باز آجائیں اور کلہ اسلام کا پڑھیں تو تم ان کے ظاہری اسلام کو قبول کرو اور ان کے دل اور نیت کا حال اللہ کے سپرد کرو تحقیق اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے ان کے عمل کے موافق ان کو جزا دے گا اور اگر وہ قبول حق سے روگردانی کریں اور مسلمانوں کے مقابلہ پر جمے رہیں تو تم بھی ان کے مقابلہ اور مقاتلے پر جمے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعمہارا کارساز اور حافظ اور ناصر اور مددگار ہے اور کیا ہی خوب کارساز اور کیا ہی خوب مددگار ہے جس کا وہ کارساز اور مددگار ہو اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ تم بےفکر ہو کر خدا کے دشمنوں سے جہاد و قتال کرتے رہو اور ہمت نہ ہارو۔ ہماری نصڑت اور حمایت تمہارے ساتھ ہے جسیے تم جنگ بدر میں دیکھ چکے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح تمہاری حمایت اور نصرت فمرائی لہذا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے کفار سے خوب جہاد کرو۔ اور ان کی کثرت شوکت سے مرعوب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تم کو عزت اور غلبہ دیگا اور ان کو مغلوب کرے گا۔ اور ان کی دولت ومال کا تم کو مالک بنادے گا۔ جس کی تقسیم کا طریقہ آئندہ آیت میں آتا ہے۔
Ayah 8:41تقسیم غنائم
قال اللہ تعالیٰ ۔ واعلموا انما غنمتم من شیئ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی کل شیئ قدیر
(ربط) شروع سورت میں بھی انفال یعنی غنائم کا ذکر تھا کما قال تعالیٰ یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول اور گزشتہ آیت یعنی قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ میں بھی کفار سے قتال کا حکم تھا۔ اور وعدہ فتح ونصرت کا تھا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قتال میں دشمن سے مال غنیمت بھی حاصل ہوگا۔ اس لیے اس آیت میں مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بتلاتے ہیں کہ جو مال کافروں سے لوٹ میں آئے اس کو کس طرح کرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ شرف بخشا کیہ مال غنیمت کو ان کے لیے حلال کردیا پہلی امتوں کے لیے مال غنیمت حلال نہ تھا بلکہ ان کے لیے یہ حکم تھا کہ مال غنیمت کو ایک میدان میں لیجا کر رکھ دیں آسمان سے ایک آگ آتی اور اس کو لیجاتی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس امت کے لیے مال غنیمت حلال کردیا پس اس آیت میں اس کی تقسیم کا طریقہ بتلاتے ہیں سو یہ آیت شروع سورت کی اس آیت قل الانفال للہ والرسول کی من وجہ تفصیل ہے کیونکہ دونوں آیتوں کا نزول اکثر علماء کے نزدیک غزوہ بدر میں ہوا ہے اس لیے یہ آیت گزشتہ آیت قل الانفال للہ والرسول کی قدرے تفصیل ہے کہ جو مال کافروں سے لوٹ میں ملے اس کا پانچوں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے اور رسول کے قرابت والوں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور باقی ماندہ، چار خمس بالاجماع مجاہدین پر تقسیم کیے جائیں گے امام اعظم کے نزدیک سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ ملے گا اور امام شافعی کے نزدیک سوار کو تین حصے ملیں گے اور بعض لوگوں کو گمان یہ ہے کہ یہ آیت گزشتہ آیت قل الانفال للہ والرسول کی ناسخ ہے کیونکہ اس آیت میں پورے مال غنیمت کو اللہ اور اس کے رسول کا قرار دیا ہے اور اس آیت یعنی واعلموا انما غنمتم من شیئ فان للہ خمسہ میں اس مال کے پانچ حصے قرار دئیے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ یہ گزشتہ آیت کی تفصیل بیان ہے ناسخ نہیں غنائم کا جو حکم قل الانفال للہ والرسول میں مجمل تھا۔ اس آیت میں اس کی تفسیر اور تفصیل کردی گئی اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے مسلمانو ! جہاد و قتال کا حکم تو تم نے پہلے معلوم کرلیا اور اب مال غنیمت کا حکم جانو کہ تحقیق جو مال غنیمت تم کو کافروں پر غلبہ پانے کے بعد دشمن سے حاصل ہو اس کو کس طرح تقسیم کیا جائے سو جانو کہ جو چیز بھی تم نے کافروں سے جہاد میں غالب ہو کر حاصل کی ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے بعد ازاں تحقیق اس کا پانچواں حصہ اللہ کے ہے جس خدا نے تمہاری مدد کی اور دشمنوں پر غلبہ بخشا شکریہ میں اس کے نام کا پانچواں حصہ نکالنا چاہئے اور پھر اس خمس کو اللہ کے خاص بندوں پر تقسیم کیا جائے مثلا رسول ﷺ کے واسطے حصہ نکالا جائے کہ جن کی اتباع کی برکت اور طفیل سے یہ فتح نصیب ہوئی اور پھر رسول کے قرابت والوں کے لیے حصہ ہے جو کہ بنی ہاشم اور بنی المطلب ہیں جنہوں نے جاہلیت اور اسلام میں رسول خدا کی حمایت اور حفاظت کی اور ہر حال میں آپ کا ساتھ دیا ان کا بھی اس مال میں حق ہے اور مسلمانوں کے یتیموں کے لیے ہے اور ان فقیر محتاجوں کے لیے ہے جو مسلمان ہوں اور مسلمان مسافروں کے لیے ہے۔ اس لیے کہ یتامی اور مساکین اور مسافین ضعیفوں اور ناتوانوں کا گروہ ہے جن کی برکت سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی اور فتح ونصرت نصیب ہوتی ہے۔ کما قال تعالیٰ ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا۔ اور حدیث میں ہے ھل تنصرون الا بضعفاء کم۔ اس لیے مال غنیمت میں ان کا بھی حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مال غنیمت پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے جس میں چار حصے تو بالاجماع مجاہدین اور مقا اتلین پر تقسیم کیے جائیں اور پانچویں حصے کو چھ حصوں پر تقسیم کیا جائے۔ ایک حصہ اللہ تعالیٰ کا اور دوسرا حصہ رسول خدا ﷺ کا اور تیسرا حصہ رسول خدا کے قرابت والوں کا اور چوتھا حصہ یتیموں کا اور پانچواں حصہ فقراء اور مساکین اور چھٹا حصہ مسافروں کا۔
خلاصہ کلام :
اے مسلمانو ! اور خدا کے نام پر جہاد و قتال کرنے والو جس خدا نے تم کو کافروں پر غلبہ دیا اور ان کا مال تم کو دلایا اس مال غنیمت میں سے سب سے پہلے اس کے نام کا پانچواں حصہ نکال دو اور باقی چار حصے لے کر تم قناعت کرو۔ اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس امداد غیبی پر جو ہم نے اپنے بندہ محمد ﷺ پر فیصلہ کے دن اتاری یعنی جنگ بدر کے دن۔ جس میں حق اور باطل کا فیصلہ ہوا یعنی جس دن دونوں فوجیں آپس میں بھڑی تھی۔ پس اگر تم یہ یقین رکھتے ہو کہ یہ سارا مال غنیمت تم کو اسی کی تائید غیبی سے ملتا تو پھر اس کے نام کا پانچواں حصہ نکالنا تم پر بھاری نہ ہونا چاہئے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ چار خمس جو ہم کو دئیے جا رہے ہیں یہ بھی اس کا انعام ہے ہمارا حق نہیں پس اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو غنیمت کے چار خمس کو غنیمت سمجھو اور اس پر قناعت کرو اور اس سے زیادہ کی طمع نہ کرو۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے جس طرح اس نے بدر کے دن تین سو تیری درویشوں کو ایک ہزار کے مقابلہ میں غلبہ عطا کی اوہ آئندہ بھی تم کو غلبہ عطا کرنے پر قادر ہے۔
غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اس امت کے لیے مال غنیمت کو حلال کی اور اس آیت میں اس کی تقسیم کا طریقہ اور اس کے مصارف کو بیان کیا بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان جتایا کہ بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے ھق کو باطل سے جدا کی اور اپنے دین کو غلبہ بکشا اور اپنے نبی اور اس کے یارا باوفا کی نصرت وحمایت کی اور اس دن کا نام یوم الفرقان رکھا آئندہ بھی اللہ سے ایسی ہی امید رکھو اور مال غنیمت میں سے خدا کے نام کا خمس نکالنے میں پس وپیش نہ کرو۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آئندہ اس سے زیادہ دینے پر بھی قادر ہے۔
لطائف ومعارف
1 ۔ جاننا چاہئے کہ لفظ ما، انما غنمتم میں عام ہے جو ہر چھوٹی بڑی چیز کو شامل ہے جس پر لفظ غنیمت کا صادق آجائے وہ اس میں داخل ہے اور اموال غنیمت دو طرح کے ہوتے ہیں ایک اموال منقولہ جیسے سونا اور چاندی اور سامان ضرورت جیسے غلہ اور کپڑا وغیرہ اور دوسرے اموال غیر منقولہ یعنی زمین اور جائیداد۔
اموال منقولہ میں جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ اس میں ایک خمس نکال کر باقی چار خمس غانمین پر تقسیم کردئیے جائیں اسی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
اور اموال غیر منقولہ یعنی اراضی مفتوحہ میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے امام شافعی کے نزدیک عقار یعنی زمین و جائیداد بھی اسی حکم میں داخل ہے امام ابوحنیفہ (رح) یہ فرماتے ہیں کہ تقسیم غنائم کا حکم اموال منقولہ کے ساتھ مخصوص ہے اور املاک غیر منقولہ یعنی زمین و جائیداد جو کافروں کا ملک فتح کرنے سے حاصل ہوا۔ مجاہدین پر اس کا تقسیم کرنا واجب نہیں اس میں امیر مملکت کو اختیار ہے کہ مصلحت اور صوابدید کے مطابق عمل کرے خواہ اس زمین کو مجاہدین پر تقسیم کرے یا مصالح مسلمین کے لیے اس کو روک لے یا کافروں ہی کے پاس ان زمینوں کو رہنے دے اور ان پر خراج مقرر کردے جیسا کہ آں حضرت ﷺ نے خیبر کی مفتوحہ زمینوں میں سے آدھی زمینیں پر تو مسلمانوں پر تقسیم کردیں اور آدھی زمینیں مصالح سلطنت کے لیے روکیں اور یہود ہی کو مزارعت (بٹآئی) پردے دیں اور فاروق اعظم ؓ نے بمشورۂ عثمان و علی ؓ و اکابر صحابہ عراق اور شام کی مفتوحہ زمینوں کے ساتھ یہی عمل کیا کہ وہاں کی زمینیں ان کے مالکوں کے ہاتھ میں رہنے دیں اور ان زمینوں پر خراج مقرر کردیا اور ان کی ذوات پر جزیہ مقرر کردیا حضرت بلال ؓ یہ چاہتے تھے کہ عراق کی زمینیں غانمین پر تقسیم کردی جائیں۔ فاروق اعظم ؓ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ اگر یہ زمینیں تم پر تقسیم کردوں تو جو مسلمان تمہارے بعد آئیں گے۔ ان کے لیے کوئی سرمایہ اور ذخیرہ باقی نہ رہے گا جس سے وہ دشمنوں کے مقابلہ میں قوت حاصل کرسکیں۔ تمام صحابہ نے حضرت عمر ؓ کی اس رائے سے اتفاق کیا (انشاء اللہ اٹھائیسویں پارہ میں اس کی تفصیل آئیگی)
2 ۔ تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ اس آیت میں خدا تعالیٰ کا ذکر تبرک اور تعظیم کے لیے ہے اس کو مال کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ آسمان اور زمین کے تمام خزانوں کا مالک اور خالق ہے۔ اللہ کے نام کو پانچواں حصہ انہی باقی پانچ حصوں پر تقسیم کردیا جائے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نام کا حصہ خانہ کعبہ پر خرچ کیا جائے۔
3 ۔ اور رسول اللہ ﷺ کا حصہ امام اعظم (رح) کے نزدیک حضور ﷺ پر نور کے وصال کے بعد ساقط ہوگیا۔ اب اس حصہ کو بقیہ اصناف پر خرچ کرنا چاہئے اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک آپ کے حصے کو مسلمانوں کی عام ضرورت میں صرف کیا جائے اور قتادہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ خلیفہ کا حق ہے۔
4 ۔ اور ذوی القربی سے آں حضرت ﷺ کے رشتہ دار مراد ہیں بعض علماء کا قول ہے کہ جملہ قریش مراد ہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ رشتہ دار مراد ہیں جن پر زکوٰۃ اور صدقہ حرام ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب مراد ہیں۔ آں حضرت ﷺ کے رشتہ داروں کا حصہ آں حضرت ﷺ کی حیات میں بالاتفاق ثابت تھا مگر آپ ﷺ کے وصال کے بعد ان کے حصہ میں اختلاف ہے۔ امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ وہ بدستور اب بھی باقی ہے غنی اور فقیر سب کو دیا جائے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا مذہب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کا حصہ آپ کی زندگی تک محدود تھا آپ ﷺ کے وصال کے بعد ان کا حصہ ساقط ہوگیا اب خمس میں ان کا کوئی حق نہیں اور اب آپ ﷺ کے وصال کے بعد آں حضرت ﷺ کا حصہ اور آپ کے رشتہ داروں کا حصہ یہ دونوں حصے باقی اصناف ثلاثہ یعنی یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں پر تقسیم کیے جائیں گے۔ اور اگر آں حضرت ﷺ کے رشتہ دار ضرورت مند ہوں گے تو وہ سب پر مقدم ہوں گے۔
امام ابوبکر رازی (رح) احکام القرآن میں فرماتے ہیں کہ خلفاء اربعہ یعنی ابوبکر اور عمر اور عثمان اور علی ؓ کا طریقہ یہی تھا کہ آپ کی وفات کے بعد خمس غنیمت کو تین قسموں یعنی یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر صڑف کرتے تھے اور اسی طرح ابن عباس ؓ سے مروی ہے (احکام القرآن ص 61، 63 ج 3)
5 ۔ غنیمت اور فئی میں فرق
جو مال کافروں پر غلبہ اور قہر کے بعد مسلمانوں کے ہاتھ آئے وہ غنیمت ہے اور جو مال بغیر جنگ وجدال اور قتل و قتال کے ہاتھ آئے جیسے جزیہ اور خراج ور دیگر محصولات جو کفار سے وصول کیے جائیں ان کو مال فئی کہتے ہیں جس کے حکم کا بیان سورة حشر میں آئے گا۔ حق جل شانہ نے سورة حشر میں بنی نضیر کے اموال کو فئی کہا ہے اور وجہ اس کی یہ بتائی ہے۔ وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء۔ اس بناء پر ابن اثیر جزری (رح) نے نہایہ میں لکھا ہے کہ جو مال کافروں سے بغیر مقاتلہ اور جنگ کے حاصل ہو اس کو مال فئی کہتے ہیں اس معنی کو مال فئی اور مال غنیمت ایک دوسرے کی ضد اور مقابل ہیں۔ اور امام ابوبکر رازی (رح) احکام القرآن ص 84 ج 3 میں فرماتے ہیں کہ جو مال کافروں سے کفر کی بناء پر مسلمانوں کو حاصل ہو خواہ جہاد و قتال سے حاصل ہو یا بغیر جہاد و قتال کے ھاصل ہو وہ سب ہمارے نزدیک مال فئی ہے دیکھو احکام القرآن ص 84 ج 3 اس معنی کو مال فئی عام ہے اور مال غنیمت خاص ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ حنین میں مؤلفۃ القلوب کو مال فئی سے کچھ عنایت فرمایا اور ظاہر ہے کہ غزوۂ حنین میں جو مال غنیمت آپ ﷺ کو حاصل ہوا وہ مقاتلہ اور جنگ کے بعد حاصل ہوا روایات میں اس پر مال فئی کا اطلاق آیا ہے معلوم ہوا کہ فئی کا اطلاق عام ہے غنیمت پر بھی اس کا اطلاق آجاتا ہے۔
نیز غزوۂ خیبر میں جو قلعہ اور زمین آپ ﷺ نے محفوظ رکھا اور اس کو غانمین پر تقسیم نہیں کیا، صحیح روایتوں میں اس پر فئی کا اطلاق آیا ہے فدک کی نصف زمین اور وادی القریٰ کی ایک تہائی زمین آپ ﷺ کو صلح سے ملی تھی اس پر بھی فئی کا الطاق آیا ہے۔ ان تمام روایات پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو مال یا جو زمین کسی وجہ سے بھی مسلمانوں کو کافروں سے ملے اس کو فئی کہتے ہیں جیسا کہ ابوبکر رازی (رح) نے فرمایا اور صاحب ہدایہ (رح) کے کلام سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے اور مال فئی کے مصارف کو حق تعالیٰ نے سورة حشر میں مفصل بیان کیا ہے۔
کما قال تعالیٰ ۔ ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسا کین وابن السبیل کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم۔ الی قولہ تعالیٰ ۔ والذین جاء و من بعدھم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونابالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا اللذین امنوا ربنا انک رءوف رحیم۔
انشاء اللہ تعالیٰ مال فئی کے مصآرف کی تفصیل سورة حشر کی تفسیر میں آئے گی۔