8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا اور اگر تم (جنگ کے لئے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم و تاخیر ہوجاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے ہی کر ڈالے۔ تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

انعام ششم قال اللہ تعالیٰ ۔ اذ انتم بالعدوۃ الدنیا۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لسمیع علیم (ربط): ابتداء سورت سے غزوۂ بدر کے واقعات اور اس کے انعامات کا ذکر چلا آرہا ہے منجملہ ان انعامات کے ایک انعام یہ ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے یاد کرو اس وقت کو جب اے مسلمانو تم میدان جنگ کے نزدیک کے کنارہ پر تھے جو مدینہ منور سے قریب تھا اور کافر پر لے کنارہ پر تھے جو مدینہ سے بعدی تھا اور قریش کا قافلہ جس کے لیے مسلمان آئے تھے وہ نشیب میں تھا اور اگر تم اور مشرکین پہلے سے آپس میں لڑائی کا وعدہ کرلیتے اور پہلے سے لڑائی کا کوئی وقت ٹھہرا لیتے تو ضرور وعدہ کے پورا کرنے میں اختلاف کرتے۔ مسلمان تو اپنی قلت اور ان کی کثرت کے باعث ان سے مقابلہ کرنے سے ڈرتے اور کافر پہلے ہی تم سے مقابلہ کرنے سے ڈرتے تھے ان کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی ہیبت بیٹھی ہوئی تھی اب تم کو اللہ تعالیٰ نے بلا ارادۂ جنگ ہی ایک دوسرے سے بھڑا دیا۔ تم نکلے تھے تجارتی قافلہ کی تلاش میں اور وہ نکلے تھے اپنے قافلہ کی مدد میں، لڑنے کا ارادہ کسی فریق کا بھی نہ تھا، و لیکن اللہ کو ایک کام کرنا تھا جو اس کے علم میں ہوا رکھا تھا۔ یعنی چونکہ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ کفر کا زور ٹوٹے اور کافر ذلیل ہوں اور اسلام عزت پائے اس لیے اس نے تم کو بغیر وعدہ کے ایک دوسرے سے بھڑا دیا۔ تاکہ اس کے بعد جو ہلاک ہو وہ حجت قائم ہونے کے بعد ہلاک ہو، کیونکہ وہ آیت اور عبرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے اور جو زندہ رہے وہ بھی حجت قائم ہونے کے بعد زندہ ہے۔ یعنی باوجود بےسروسامانی کے اس نے اسلام کی فتح ونصرت کا مشاہدہ کرلیا ہے اور جان لو کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ مومن اور کافر سب کی باتوں کو سننے والا اور ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں " یعنی قریش اپنے قافلہ کی مدد کو آئے تھے اور تم قافلہ کی غارت کو، قافلہ بچ گیا، اور دو فوجیں ایک میدان کے دو کناروں پر آپڑیں ایک کو دوسرے کی خبر نہیں یہ تدبیر اللہ کی تھی۔ اگر تم قصدا جاتے تو ایسا بروقت نہ پہنچتے اور اس فتح کے بعد کافروں پر صڈیق پیغمبر کا کھل گی اجومرا وہ بھی یقین جان کر مرا اور جو جیتا رہا وہ بھی حق پہچان کرتا کہ اللہ کا الزام پورا ہو۔ انتہی۔ اور بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ موت اور حیات یعنی مرنے اور جینے سے کفر اور ایمان مراد ہے یعنی اب جو ایمان لائے یا جو کفر پر جما رہے تو کافر کا کفر اور مومن کا ایمان حق کے واضح ہونے کے بعد اور عبرت دیکھنے کے بعد ہوگا اور یہ معنی محمد بن اسحاق سے منقول ہیں اور ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر نہایت جید ہے اور شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ نے بھی اس معنی کو اختتیار فرمایا ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں " مراد از ہلاک اصرار بر کفر است واز حیات مسلمان شدن "
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے۔ لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچالیا۔ بیشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔

انعام ہفتم قال اللہ تعالی۔ اذ یریکھم اللہ فی منامک۔۔۔ الی۔۔۔ انہ علیم بذات الصدور۔ اے نبی آپ ﷺ اللہ کا وہ احسان یاد کریں کہ جب اللہ نے تجھ کو تیرے خواب میں ان کافروں کو کم کر کے دکھایا واقعۂ بدر سے پہلے آں حضرت ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ کافر بہت تھوڑے ہیں آں حضرت ﷺ نے ٰہ خبر اپنے اصحاب کو دے دی جس سے ان کے دل بڑھ گئے اور حوصلے بلند ہوگئے اور لڑنے پر دلیر ہوگئے اور اگر خدائے تعالیٰ ان کو زیادہ کر کے دکھلاتا تو تم بزدلی کرتے اور جنگ کے معاملہ میں ضرور آپس میں نزاع کرتے کہ لڑیں یا نہ لڑیں و لیکن اللہ نے تم کو اس بزدلی اور باہمی نزاع سے بچا لیا بیشک وہ جاننے والا ہے جو باتیں سینوں میں وہ چھپی ہوئی ہیں۔ ہمت اور جرات اور طبعی کمزوری اور سستی سب اس کے سامنے عیاں ہے شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں " کہ پیغمبر کو خواب میں کافر تھوڑے نظر آئے اور مسلمانوں کو مقابلہ کے وقت (تھوڑے نظر آئے) تاکہ جرات سے لڑیں پیغمبر (علیہ السلام) کا خواب غلط نہیں چونکہ ان میں آخر تک کفر پر قائم رہنے والے تھوڑے تھے اکثر وہ تھے جو بعد میں مسلمان ہوئے اس لیے پیغمبر کو خواب میں کافر تھوڑے دکھائے گئے پس پیغمبر کا خواب حق ہے " (کذا فی موضح القرآن موضحا)
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام کرنا منظور تھا اسے کر ڈالے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے۔

انعام ہشتم قال اللہ تعالی۔ واذ یریکموھم اذ التقیتم فی اعینکم قلیلا۔۔۔ الی۔۔۔ والی اللہ ترجع الامور ؎ اور اے مسلمانو وہ وقت بھی یاد کرو کہ جب خدا نے عین موقعہ جنگ پر تمہارے دشمن کو تمہارے نگاہوں میں تھوڑا دکھلایا تاکہ نبی برحق نے جو خواب دیکھا تھا تم بیدار میں اس کی تصدیق کرلو اور تمہارا یقین اور تمہاری جرات اور ہمت اور بڑھ جائیے چناچہ جب مسلمان اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے مقابل ہوئے اور دونوں صفوں کا آمنا سامنا ہوا تو عبداللہ بن مسعود ؓ اپنے پاس والے شخص سے کہنے لگے کہ شاید یہ کافر کل ستر ہوں گے اس نے کہا میرے خیال میں سو کے قریب ہوں گے حالانکہ وہ نو سو پچاس تھے اور اسی طرح تمہیں بھی دشمنوں کی آنکھوں تھوڑا کر کے دکھلایا تاکہ وہ تم سے لڑنے پر دلیر ہوجائیں۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰٰ مسلمانوں کو ان کی آنکھوں میں کثیر دکھلاتا تو وہ ڈر کر مقابلہ سے بھاگ جاتے اور کفر کے ستر سردار قتل نہ ہوتے اور یہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تھوڑے آدمی نگاہ میں بہت معلوم ہوں یا بہت آدمی تھوڑے نظر آویں یہ بات اللہ کے لیے دشوار نہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ جو احول (بھینگا) کو ایک کدو دو کر کے دکھلانے پر قادر ہے کیا وہ کسی قوم کو کسی قوم کی نظر میں تھوڑا کر کے دکھلانے پر قادر نہیں۔ جس طرح دل اور عقل کی آنکھ کبھی خراب ہوجاتی ہے تو برائی اس کو بھلائی نظر آتی ہے۔ صبر تلخ معلوم ہوتا ہے مگر عقل کی قوت ذائقہ اس کو شیریں سمجھتی ہے۔ جو شخص صفراوی بخاری میں مبتلا ہو تو اس کو شربت بھی تلخ معلوم ہوتا ہے ان امور کو نہ کذب کہا جاسکتا ہے اور نہ جہالت بلکہ یہ سب قدرت خداوندی کے کرشمے ہیں۔ اَحوَل (بھینگا) بنانا اس کے اختیار میں ہے، جس کو جس درجہ کا بینگا بنانا چاہے بنا سکتا ہے۔ مجوس کو ایک خدا کے دو خدا نظر آئے اور نصاری کو ایک خدا کے تین خدا نظر آئے اسی طرح حق تعالیٰ کا جنگ بدر میں کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دکھائی دینا خدائے قدیر کی قدرت کا کرشمہ تھا۔ جو بطور خرق عادت اس لیے ظاہر کیا گیا تھا۔ تاکہ اللہ اس کام کو پورا کرے جو اس کے علم میں ہوا ہوا یا تھا۔ اللہ نے اپنی قدرت سے یہ کرشمہ اس لیے ظاہر کیا تاکہ دین اسلام کی حقانیت اور صداقت اور کفر کا باطل ہونا ظاہر اور عیاں ہوجائے اور یہ جملہ گو لفظا مکرر ہے مگر بلحاظ مقصود اور غرض مکرر نہیں کیونکہ پہلی آیت میں یہ جملہ مومنوں کے کافروں پر فتح اور غلبہ پانے کی علت میں بیان کیا گیا تھا اور یہاں ایک فریق کو دوسرے فریق کی آنکھوں میں تھوڑا دکھلانے کی علت میں لایا گیا ہے اور اس قسم کے خوارق عادت اور کرشمہ ہائے قدرت کا ظہور کو رئی عجیب نہیں۔ اس لیے کہ اسباب مؤثر بالذات نہیں بلکہ مؤثر بالذات اللہ ہے جو مسبب الاسباب ہے۔ اور یاد رکھو کہ تمام کاموں کا مرجع اللہ ہی ہے۔ اسباب کی تاثیر اسی کے ہاتھ میں ہے پس وہ اگر اپنی قدرت کاملہ سے کسی وقت اپنے ہی پیدا کئے ہوئے اسباب کو توڑ پھوڑ کر کوئی کرشمہ ظاہر فرمائے تو وہ نہ قابل تعجب ہے اور نہ محل تردد ہے اسباب بالذات مؤثر نہیں بلکہ اسباب کی تاثیر اس کے ارادہ اور مشیت کے تابع ہے کیونکہ وہ مسبب الاسباب ہے خدا تعالیٰ کی قدرت سے ابتداء جنگ میں مسلمان کافروں کی نظروں میں تھوڑے دکھلائی دئیے اور واقع میں بھی مسلمانوں کی تعداد تھوڑی تھی۔ لیکن جب گھمسان کی لڑآئی شروع ہوئی اور آسمان سے فرشتوں کا لشکر مسلمانوں کی تھوڑی تھی۔ لیکن جب گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی اور آسمان سے فرشتوں کا لشکر مسلمانوں کی مدد کے لیے پہنچا تو اس وقت مسلمان کفار کی نظر میں دنگے نظر آنے لگے جیسا کہ سورة آل عمران میں ہے واخری کافرۃ یرونھم مثلیھم رای العین۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ ابتداء جنگ میں ابو جہل مسلمانوں کی جماعت کو دیکھ کر بولا کہ محمد اور ان کے اصحاب کیا ہیں۔ ہمارے اونٹوں کا ایک لقمہ ہیں پھر کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہتھیاں روں سے نہ لڑو بلکہ یوں ہی پکڑکر ان کی مشکیں باندھ لو اور رسیوں میں باندھ کر مکہ لے چلو بعد ازاں جب لڑائی شروع ہوئی تو اس وقت حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو کافروں کی نظر میں دگنا کردیا۔ کما قال تعالیٰ یرونھم مثلیھم رای العین۔ کفار یکایک یہ منظر دیکھ کر مبہوت اور شکستہ دل ہوگئے اور شکست کھا گئے۔
Ayahs 8:45–49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

مومنو ! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کی مددگار ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لئے) اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کو دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل (صف آرا) ہوگئیں تو پسپا ہو کر چل دیا۔ اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا سخت عذاب کرنیوالا ہے۔

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے۔

ذکر آداب جہاد وقتال قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الذین امنوا اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ عزیز حکیم (ربط): اوپر سے بدر کے واقعات اور جہاد و قتال کے احکام کا ذکر چلا آرہا ہے اب ان آیات میں مسلمانوں کو جہاد کے ظاہری وباطنی آداب کی تعلیم دی جاتی ہے کہ جہاد و قتال کے وقت ان امور کو خاص طور پر ملحوظ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو جب تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ اللہ تعالٰ ضعیف اور ناتواں اور بےسروسامان کو قوی اور سازوسامان والے پر غلبہ عطا کرنے پر قادر ہے اور جنگ بدر میں تم اس کا مشاہدہ بھی کرچکے ہو لہذا تم کو کافروں کے مقابلہ میں ضعیف اور کمزور نہ بننا چاہئے بلکہ جب کافروں کی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو چند باتوں کا خیال رکھو اول تو یہ کہ تم ثابت قدم رہو اور ان کے مابلہ پر جمے رہو اور فرار کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ اور دوم یہ کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرو جس کے لیے اس کے دشمنوں سے جہاد و قتال کر رہے ہو اس کی یاد سے غافل نہ ہوتا کہ تم فلاح پاؤ ثابت قدمی اور ذکر الٰہی سے فتح حاصل ہوتی ہے ذکر الٰہی کی تاثیر یہ ہے کہ اس سے ذاکر کا دل مضبوط اور مطمئن ہوجاتا ہے جس کی جہاد میں خاص طور پر ضرورت ہے۔ کما قال تعالیٰ الذین امنوا وتمئن قلوبھم بذکر اللہ الا بذکر اللہ تمئن القلوب اور ذکر میں زبان اور دل دونوں جمع ہوجائیں تو بہتر ہے اور ذکر میں دعا بھی داخل ہے جیسا کہ حق تعالیٰ نے اصحاب طالوت کی یہ دعا ذکر کی ہے۔ ربنا افرغ علینا صبرا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین۔ اور سوم یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اطاعت کی برکت سے فتح نصیب ہوگی۔ چناچہ صحابہ کرام کو باوجود بےسرورسامانی کے فارس اور روم پر جو فتح نصیب ہوئی وہ اسی اطاعت کی برکت تھی اور چہارم یہ کہ آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ تم کمزور ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا خیزی ہوجائے گی۔ جس سے تمہارا رعب ان کے دل سے نکل جائے گا چناچہ جب جنگ احد میں مسلمانوں نے آپس میں نزاع کیا تو ان میں بزدلی آگئی اور دشمن کے مقابلہ سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے مطلب یہ ہے کہ اگر تم آپس میں اختلاف کرو گے تو تم میں بزدلی آجائے گی اور تمہاری قوت کمزور پڑجائے گی اور دشمنوں پر جو تمہاری دھاک بیٹھی ہوئی وہ جاتی رہے گی اور پنجم یہ کہ تم تکالیف جنگ میں صبر اور تحمل سے کام لو بیشک اللہ تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہے اور وہ ان کا حافظ وناصر ہے اور ششم یہ کہ تم ان لوگوں کے مانند نہ بنو جو اپنے گھروں سے اتارتے اور اکڑتے ہوئے اور اپنی شجاعت پر فخر کرتے ہوئے نکلے یعنی جس طرح کافر جنگ بدر میں غرور کرتے ہوئے آے تھے اس طرح تم لڑائی کے وقت غرور نہ کیا کرو اور ہفتم یہ کہ تم ان لوگوں کے مشابہ بھی نہ بنو جو اپنے گھروں سے لوگوں کو دکھلانے کے لیے نکلے تاکہ لوگ ان کی شجاعت کی تعریف کریں جب تم خدا کے دشمنوں سے لڑنے نکلے ہو تو ان کے تشبہ سے اپنے کو محفوظ رکھو اور یہ مغرور اور ریاکار لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں لوگوں کو دین الٰہی سے باز رکھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں قیامت کے دن ان کو ان کے اعمال کی سزا دے گا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب ابو سفیان مسلمانوں کی زد سے نکل گیا تو اس نے قریش کو یہ پیغام بھیجا کہ تم لوگ اپنے قافلہ کی امداد کے لیے اپنے گھر سنکلے تھے سو قافلہ مسلمانوں کی زد سے صیح بدر سنکل گیا ہے لہذا تم واپس لوٹ جاؤ۔ ابو جہل بولا کہ ہم ضرور بدر جائیں گے آج کل وہاں میلے کے دن ہیں وہاں ہم تین روز رہیں گے اور اونٹوں کو ذبح کریں گے مسافروں کو کھانا کھلائیں گے۔ شرابیں پئیں گے ڈومنیاں ہمارے سر پر گائیں گی اور اس سے پہلے ہم محمد اور ان کے یاروں کا کام تمام کرچکے ہوں گے۔ ہماری عظمت اور بڑائی کا ڈن کہ تمام عرب میں بج جائے گا۔ اور ہماری ہیبت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جائے گی۔ اس تکبر اور غرور کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب بدر میں آئے تو انہوں نے شراب کے بجائے موت کے جام پئے اور ڈمنیوں کی بجائے عورتوں نے ان پر نوحہ کیا۔ خدا تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ تم اپنے گھروں سے کافروں کی طرح نہ نکلو، جو بڑائی مارتے اور ریاکاری کرتے ہوئے نکلتے ہیں تم تو اللہ کے دین کی حمایت اور نصرت کے لیے نکلو اور خوب یادرکھو کہ بڑائی اور خودبینی اور ریاکاری اور فخرورغرور اور نمایش اور نمود اسباب فتح ونصرت سے نہیں بلکہ تزئین شیطانی ہے پس اگر اس کو سمجھنا چاہتے ہو تو اس وقت کو یاد کرو کہ جب شیطان نے کافروں کی نظر میں ان کے اعمال کو خوش نما اور آراستہ کر کے دکھلایا اور اس باب قہر وذلت کو اسباب فتح ونصرت کر کے دکھلایا اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں ان کی قوت کو ان کی نظروں میں اس قدرت نمایاں کیا کہ وہ بالکلیہ اس پر اعتماد کربیٹھے اور اس قدر مبالغہ کیا کہ شیطان نے ان سے یہ کہ آج آدمیوں میں تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا تمہارا لشکر بڑا آراستہ و پیراستہ ہے اور میں تمہارا پناہ دینے والا ہوں، جب قریش نے بدر کی روانگی کا قصد کیا تو ان کو بنی بکر بن کنانہ کی طرف سے اندیشہ ہوا کیونکہ قریش نے بنی کنانہ کے ایک آدمی کو قتل کیا کردیا تھا اور ان دونوں قبیلوں میں دشمنی اور جنگ کا سلسلہ قائم تھا۔ اور چھیڑ چھاڑ جاری تھی۔ اس لیے قریش کو اندیشہ ہوا کہ مبادا بنی کنانہ راستہ میں آڑے نہ ڑائیں۔ ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ بنی کنانہ کے اندیشہ سے محمد ﷺ کے مقابلہ کے لیے نکلنے میں پس وپیش کر رہے ہیں تو فورا شیطان ان کی ہمت بڑھانے کے لیے بنی کنانہ کے سردار سراقۃ بن مالک کی صورت بنا کر ان کے پاس آیا اور کہا کہ تم گھبراؤ نہیں بنی کنانہ کی طرف سے تم کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اس کا میں ذمہ دار ہوں اور تم میری پناہ میں ہو آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اس طرح شیطان نے ابو جہل وغیرہ کو اطمینان دلایا۔ قریش نے جب دیکھا کہ بنی کناناہ کا سردار ان کے ساتھ ہے تو ان کا اندیشہ جاتا رہا اور ان کی ہمت بڑھ گئی اور آں حضرت ﷺ کے مقابلے پر جا ڈٹے۔ پس جب میدان بدر میں پہنچ گئے اور دونوں جماعتیں مسلمانوں کی اور کافروں کی آمنے سامن بےہوئیں اور شیطان کو جبریل اور فرشتے آسمان سے اترتے ہوئے نظر آئے تو شیطان الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور کہا میں تم سے بیزار اور بےتعلق ہوں بیشک میں اس چیز کو دیکھ رہا ہوں جس کو تم نہیں دیکھتے یعنی میں دیکھتا ہوں کہ فرشے مسلمانوں کی مدد کو آرہے ہیں۔ تحقیق میں اللہ سے ڈر رہا ہوں کہ کہیں قیامت سے پہلے ہی نہ پکڑ لیا جاؤ اور اللہ کا عذاب سخت ہے باوجود مہلت کے بھی چھوٹا موٹا عذاب دنیا میں مجھے دے سکتا اور دنیا میں مجھ کو جو مہلت دی گئی ہے۔ وہ عذاب اخروی کے اعتبار سے ہے جو عذاب دنیوی کے لحاظ سے بہت ہی شدیدی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ معلون نے جھوٹ بولا اس کے دل میں خدا کا خوف نہ تھا اس نے دیکھ لیا کہ قریش کا لشکر ہلاکت کے بھنور میں پھنس چکا ہے اور اس کی قدیم عادت ہے کہ وہ اپنے متبعین کو دھوکہ دے کر اور ہلاکت میں پھنسا کر عین وقت پر کھسک جاتا ہے۔ اسی عادت کے مطابق یہاں بھی کیا کما قال اللہ تعالی۔ یعدھم عیمنیھم وما یعدھم الشیطان الا غرورا (نساء) جب مسلمانوں اور کافروں میں لڑائی ہونے لگی تو ابلیس لعین حارث بن ہشام کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔ جب اس نے آسمان سے فرشتوں کو اترتے ہوئے دیکھا تو حارث کا ہاتھ جھٹک کر بھاگنے لگا حارث بولا کہ اے سراقہ تو ہم کو ایسے حال میں چھوڑ کر بھاگتا ہے۔ ابلیس نے اس کے سینہ پر ہاتھ مارا اور کہا کہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں میں وہ چیز دیکھتا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتی اور میں اللہ سے ڈرتا ہوں اس کا بھاگنا تھا کہ کافروں نے شکست کھائی۔ بدر کے بھگوڑے جب کہ مکہ پہنچے تو وہاں جا کر یہ کہا کہ ہم کو سراقہ نے شکست دلائی اور سراق کے پاس کہلا کر بھیجا کہ تو نے ہم کو شکست دلائی جب یہ خبر سراقہ کے پاس پہنچی تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے تو اتنی بھی خبر نہیں کہ تم لڑائی کے ارادہ سے نکلے تھے ہاں جب تم شکست کھا کر واپس آئے اس وقت مجھ کو تمہاری لڑائی اور شکست کا حال معلوم ہوا قریش نے کہا کہ کیا تو فلانے فلانے روز ہمارے پاس نہیں آیا تھا اور کیا تو نے ہم سے یہ باتیں نہیں کی تھیں۔ اس نے قسم کھائی کہ مجھے ان باتوں کی ذرا بھی خبر نہیں۔ تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ شیطان تھا جو سراقہ کی شکل میں ظاہر ہوا تھا اور ابلیس کا یہ قصہ روایات کثیرہ سے ثابت ہے جس کو ابن کثیر نے عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد اور قتادہ اور ضحاک اور سدی اور محمد بن اسحاق رحمہم اللہ وغیرھم سے نقل کیا ہے (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 317 جل د 2 اور تفسیر قرطبی ص 26 ج 8) آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ تزئین شیطانی کفار مکہ ہی میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافقین بھی اس میں مبتلا ہیں اور ان کے دل میں جو نفاق کی بیماری وہ اس تزئین شیطانی کا اثر ہے چونکہ بدر کی لڑائی میں مسلمان بہت کم تھے اور سامان جنگ بھی نہ تھا اس لیے منافق یہ کہنے لگے کہ ان لوگوں کے ان کے دین نے غرہ میں ڈال دیا تین سو آدمی ایک ہزار کافروں کے لشکر جرار سے لڑنے جارہے ہیں ان لوگوں کی نظر ظاہی اسباب پر تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی یاد کرو اس وقت کو کہ جب مدینہ کے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں شک اور کفر کا روگ تھا جیسے اہل مکہ، یہ کہنے لگے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے غرہ اور دھوکہ میں رکھا ہے یعنی یہ مسلمان اپنے دین حقانیت پر اس قدر مغرور ہیں کہ تھوڑے سے آدمی اپنے سے سہ چند سے لڑنے پر تیار ہیں یہ ان کے دین نے دھوکہ اور فریب دیا ہے کہ جو خدا کی راہ میں لڑے گا اس کو جنت میں ایسا اور ایسا ملے گا۔ خیر آخرت میں تو انہیں جیسا ملے ویسا ملے گا مگر دنیا میں تو یہ اپنی جان سے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ غرہ اور غرور نہیں بلکہ توکل ہے اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ وہم و گمان سے بڑھ کر اس کی مدد کرے گا کیونکہ بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے وہ اپنے پر بھروسہ کرنے والوں کو غلبہ دینے پر قادر ہے اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے بےسروسامان دوستوں کو دشمنوں کے لشکر جرار پر فتح دے واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون
Ayahs 8:50–54

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں۔ ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (اب) عذاب آتش (کامزہ) چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا (بندوں پر) ظلم نہیں کرتا

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی انکا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نے ان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بیشک خدا زبردست (اور) سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لئے کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کی جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے۔

بیان ذلت کفار در عالم برزخ قال اللہ تعالیٰ ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل کانوا ظلمین (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی دنیوی ذلت اور مغلوبیت اور رسوائی کا بیان تھا جو ان کی پہلی بار اپنی زندگی میں پیش آئی۔ اب ان آیات میں کفار کی برزخی ذلت اور رسوائی کا بیان ہے کہ موت کے وقت ان کی کیا حالت ہوتی ہے اور کس ذلت آمیز طریقہ سے ان کی روح قبض کی جاتی ہے اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں ان کو کیا عذاب دیا جاتا ہے اور اس وقت ان پر تزئین شیطانی کی ساری قلعی کھلی اور سمجھے کہ ہم دھوکہ میں مبتلا تھے خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ وبرباد کیا اور آل فرعون کی طرفح اپنی آنکھوں سے دیکھا لیا کہ نبی کی پیروی سے انحراف کا انجام یہ ہوتا ہے اب ان آیات میں کفار کی برزخی ذلت اور اس کی علت کو بیان کرتے ہیں اس برزخی ذلت کی علت بھی وہی مخالفت حق ہے جس کی وجہ سے دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی کاش آپ اس وقت کو دیکھتے کہ جب فرشتے کافروں کی ارواح قبض کرتے ہیں روح قبض کرتے وقت ان کے مونہوں پر اور ان کے سرینوں پر 1 آگ کے گرز مارتے جاتے ہیں۔ اور یہ کہتے جاتے ہیں کہ جلنے کے عذاب کا مزہ چکھو۔ یہ عذاب دوزخ کا مقدمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی جان کنی کی کیفیت نہایت قابل عبرت ہے اگر آپ ان کی اس حالت کو دیکھیں تو بڑا ہی تعجب کریں 1 ۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ادبار سے ان کی استاہ یعنی سرینیں مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ ادبار سے ظہور مراد ہیں یعنی ان کی پشتوں پر مارتے ہیں (دیکھو تفسیر قرطبی ص 28 ج 2 مگر راجح پہلا ہی قول ہے) نکتۃ : اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ فرشتے کافر کی روح نکالتے وقت اس کے منہ پر اس کی دبر پر یعنی سرین پر آگ کے گرز مارتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ کافر کا منہ اور اس کی دبر دنوں ایک ہی حکم میں ہیں اس لیے عطف کے لیے معطوف اور معطوف علیہ میں مناسبت ضروری ہے اور یہاں مناسبت یہ ہے کہ جس طرح دبر سے حسی اور ظاہری نجاست خارج ہوتی ہے اسی طرح کافروں کے منہ سے کلمات کفریہ نکلتے ہیں جو نجاست معنویہ ہیں اسی وجہ سے مشرکین کو نجس اور رجس کہا گیا ہے۔ کما قال تعالیٰ انما المشرکون نجس۔ بلکہ زبان سے جو کلمہ معصیت کا نکلتا ہے وہ نجاست کا حکم رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام نے جھوٹ بولنے اور غیبت کرنے کے بعد وضو کو مستحب لکھا ہے (دیکھو فتح القدیر شرح ھدایہ) اب آگے اس عذاب ذلت کی علت بیان فرماتے ہیں کہ قبض روح کے وقت وجوہ اور ادبار پر یہ ضرب شدید اس سبب سے ہے کہ تمہارے ہاتھوں نے جو کرتوت کیے ہیں یہ ان کی سزا ہے اور یہ ذلت اور مصیبت تو قبض روح کے وقت کی ہے اور قبر میں جانے کے بعد جو ہوگا وہ اس کے علاوہ ہے اس کا تو کہنا ہی کیا اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں کرتا یہ جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ تمہارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔ خدا تعالیٰ کسی کو بےجرم نہیں پکڑتا۔ آگے فرماتے ہیں کہ دین حق اور نبی برحق کی عداوت تکذیب میں مشرکین عرب کا وہی طور و طریق ہے جو فرعونیوں کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا اور جیسے ان سے پہلے قوم عاد اور ثمود کا اپنے پیغمبروں کے ساتھ دستور تھا کہ اللہ کی نشانیوں کو نہ مانا اور نافرمانی کی کوئی پروا نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے قیامت سے پہلے ہی ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ یہی حال کفار مقتولین بدر کا ہوا کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو نہ مانا اور دنیا ہی میں قتل اور قید کے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا قوی ہے اور اپنے پیغمبر کے دشمنوں کو سخت عذاب دینے والا ہے کافر اس کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ عذاب جو ان لوگوں پر ان کے جرائم کی پاداش میں نازل ہوا اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو دے دیتا ہے وہ اس کو اس وقت تک نہیں بدلتا۔ جب وہ اپنے دل کے حالات کو نہ بدلیں۔ یعنی خدا تعالیٰ نے اہل مکہ کو یہ نعمت دی کہ ان کو بھوک سے کھانا دیا اور خوف سے امن میں رکھا اور ان کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو ان میں بھیجا اور ان کو عقل اور فہم اور قبول حق کی استعداد عطا کی پس جب ان لوگوں نے خدا کی ان نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور تو اللہ نے ان سے ان نعمتوں کو چھین لیا قحط کی وجہ سے بھوک میں مبتلا ہوئے مسلمانوں کی طرف سے ہر دم خائف رہنے لگے اور محمد رسول اللہ ﷺ ان میں سے نکل کر انصار میں چلے گئے اور یہ لوگ نور ہدایت سے محروم ہوگئے اور یہ امر ثابت ہے کہ اللہ ہر قول کو سننے والا اور ہر چھپی بات کو جاننے والا ہے اس پر نہ منافقوں کا نفاق چھپا ہوا ہے اور نہ ریاکاروں کا ریاء۔ پس اس تغیر حالت اور زوال نعمت میں ان کی حالت وہی ہوئی جو فرعونیوں اور ان سے پہلے کافروں کی ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کیا بعض کو خسف سے اور بعض کو مسخ سے اور بعض کو زلزلہ سے بعض کو پتھر برسا کر اور بعض کو ہوا سے اور آل فرعون کو ہم نے بحر قلزم میں غرق کردا اور جو نعمتیں ان کو دے رکھی تھیں وہ سب ان سے چھین لیں۔ نہ وہ باغات رہے اور نہ وہ نہریں اور کھیتیاں رہیں اور وہ اگلے اور پھچلے سب ہی ظالم تھے۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم وستم نہیں کیا بلکہ ان کمبختوں نے خود ہی اپنے اوپر طلم کیا کہ خدا سے مقابلہ کی ٹھانی خدا اور اس کے رسول کا مقابلہ نہ کرتے تو خدا ان سے اپنی دی ہوئی نعمتیں نہ چھینتا چونکہ فرعونیوں اور اگلے کفار کی ہلاکت کے ذکر کرنے سے مقصود عبرت دلانا ہے دیکھ لہ کہ جن لوگوں نے خدا اور اس کے رسول سے بغاوت کی کہ کس طرح ہم نے اپنی دی ہوئی نعمتیں چھین لیں اس لیے تاکید کے لیے اس مضمون کو مکرر لایا گیا۔
Ayahs 8:55–59

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے۔

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے۔

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

اگر تم انکو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہوں وہ انکو دیکھ کر بھاگ جائیں۔ عجب نہیں کہ انکو (اس سے) عبرت ہو۔

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو ) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔

بیان احوال وحاکم کفار اہل کتاب قال اللہ تعالیٰ ان شر الدواب عندا لہ الذین کفرو۔۔۔۔ الی۔۔۔ انھم لا یعجزون (ربط) شروع سورت سے یہاں تک کفار مشرکین کے احوال و قتال کا بیان تھا اب ان آیات میں کفار اہل کتاب یعنی یہود کے احوال و قتال کا بیان ہے کیونکہ ان آیات کا سبب نزول یہود بنی قریظہ کی عہد شکنی اور اسلام کی دشمنی ہے یہود نے آں حضرت ﷺ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے دشمنوں (کفار مکہ) کو کوئی مدد نہ دیں گے مگر پھر ان کی غزوہ احراب میں مدد کی اور بھی چند بار ایسا ہی کیا اور ہر مرتبہ یہ کہ دیتے کہ ہمیں عہد یاد نہیں رہا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی اور اسی عہد شکنی اور حق کی دشمنی کی وجہ سے ان کو بدترین حیوانات بتلا اور حکم دیا کہ جب ان سے لڑائی ہو تو ان کو خوب قتل کرو اور ایسی عبرتناک تکلیف ان کو پہنچاؤ کہ دوسرے کافر بھی سن کر ڈر جائیں اور تمہارے مقابلہ باز آجائیں اور ڈر جائیں کہ مبادا اگر ہم نے مقابلہ کیا تو ہماری بھی ایسی ہی گت بنے گی جو ان کی بنی ہے۔ یا یوں کہو : کہ گزشتہ آیت میں تمام کافروں کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ کل کانوا ظالمین۔ یہ سب ظالم تھے۔ اب ان آیات میں سب سے بڑے ظالموں یعنی یہود بےبہبود کی ظالمانہ عادتوں کو بیان کرتے ہیں جس سے ان کا بدترین ظالم ہونا ثابت ہوجائے۔ مطلب یہ ہے کہ ظالم تو سارے ہی کافر ہیں مگر یہ یہود خباثت میں سب سے بڑ کر ہیں۔ ان میں خاص طور پر دو وصف پائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ یہ کفر پر مصر ہیں دوسرے یہ کہ یہ بد عہد ہیں، عہد کا خیال نہیں رکھتے ہر بار اپنے عہد کو توڑتے ہیں۔ لہذا آپ ان کو ایسی سخت سزا دیجئے کہ دوسرے کافر ان کا حال سن کر ڈر جائیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق یہ لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں اس قدر غرق اور مست ہوئے کہ طبیعت اور فطرت ہی متغیر اور متبدل ہوگئی اور دائرہ انسانیت سے نکل کر جنس حیوانات میں داخل ہوگئے حتی کہ بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک یہ کافر ہیں اگرچہ لوگوں کی نظر میں بڑے عاقل اور دانا ہیں پس یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں اور دلیل اس کی یہ ہے کہ یہ کافر جن سے آپ نے عہد کیا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ بار بار عہد باندھتے ہیں پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑتے رہتے ہیں۔ یہ آیت یہود بنی قرظہ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضور پر نور سے عہد باندھا کہ ہم نہ آپ سے لڑیں گے اور نہ آپ کے مقابلہ میں دوسروں کو مدد دیں گے۔ مگر انہوں نے اس عہد کو توڑا اور بار بار اس کے خلاف کیا۔ جب آپ نے ان سے باز پرس کی تو انہوں نے کہا کہ ہم تو بھول گئے تھے اور ہم سے غلطی ہوگئی۔ ایسے بدعہد اور غدار مکار کیسے ایمان ل اس کتے ہیں اور آئندہ بھی وہ عہد شکنی سے ڈرتے نہیں تو پھر ان کے بدترین حیوانات ہونے میں کیا شک ہے سو ایسے بد عہدوں اور دغا بازوں کا علاج یہ ہے کہ اے نبی اگر آپ لڑائی میں ان پر قابو پا جائیں تو ان کے بیدریغ قتل سے ان لوگوں کو متفرق اور منتشر کردیں تو ان کے پیچھے تمہارے لیے دشمن ہیں شاید وہ پچھلے کافر ان کی سزا کو دیکھ کر نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اگر یہ دغا باز اور غدار آپ کے مقابل میدان جنگ میں آجائیں تو ان میں اس قدر خونریزی کیجئے کہ ان کا قتل دوسروں کے لیے موجب عبرت بن جائے اور ان کا حال معلوم کر کے دوسرے کافر عبرت حاصل کریں اور عہد شکنی کرنے سے ڈریں یہ حکم تو ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے علانیہ عہد کو توڑا اور اگر ابھی تک علانیہ طور پر عہد تو نہیں توڑا مگر آپ کو معاہد جماعت سے خیانت یعنی عہد شکنی کا اندیشہ ہو اور قرائن سے یہ محسوس ہو کہ یہ لوگ در پردہ کوئی شرار کرنا چاہتے ہیں تو آپ ان کا عہد ان کی طرف پھینک دیں یعنی ان کو اطلاع کردیں کہ اب ہم میں اور تم میں کوئی عہد نہیں رہا۔ ایسی طرح کہ وہ اور تم اس علم میں برابر ہوجائیں یعنی ان کو بھی معلوم ہوجائے کہ اب عہد ختم ہوچکا ہے اور اس اطلاع سے تم اور وہ علم میں برابر ہوجائیں۔ محض اندیشہ اور خطرہ کی بنا پر بلا اطلاع دشمن پر حملہ کرنا ایک قسم کی خیانت ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنیوالوں کو دوست نہیں رکھتا اور نہ ان کے اس عمل کو پسند کرتا ہے خیانت سے مراد وہی نقض عہد ہے۔ سنن ابی داود میں ہے کہ امیر معاویہ اور رومیوں کے درمیان کوئی میعادی معاہدہ تھا میعاد کے اندر حضرت معایہ نے اپنی فوجوں کو رومیوں کی سرحد کے قریب جمع کرنا شروع کیا تاکہ جب عہد کی میعاد ختم ہو تو فورا حملہ کردیا جائے حضرت عمرو بن عنبسہ ؓ کا اس طرف گزر ہوا تو اس ماجرا کو دیکھ کر یہ فرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر وفاء لا غدر (یعنی وفا چاہئے عہد شکنی نہیں) اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جب کسی قسم سے معاہدہ ہو تو اس کی کوئی گرہ نہ کھولی جائے اور نہ باندھی جائے۔ یہاں تک کہ معاہدے کی مدت پوری ہوجائے یا برابری کی حالت میں ان کے عہد کو ان کی طرف پھینک دیا جائے۔ حضرت معاویہ ؓ نے جب یہ سنا تو بےلڑے اپنے ملک میں واپس آگئے۔ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ برابری کی حالت میں عہد پھینکنا اس وقت ہے کہ جب قرائن اور علامات سے یہ معلوم ہو کہ وہ عہد شکنی کرنے والے ہیں لیکن اگر انہوں نے فی الحقیقت عہد شکنی کردی ہے تو پھر عہد پھینکنے کی کوئی ضرورت نہیں ان کی بغیر اطلاع کے ان پر حملہ کرنا جائز ہے جیسا کہ قریش نے جب صلح حدیبیہ کو توڑا تو آں حضرت ﷺ نے بغیر اطلاع دئیے قریش پر حملہ کیا اور مکہ کو فتح کرلیا اور نبذ عہد کا حکم جو اوپر مذکور ہوا تو اس سے بظاہر دشمن کو تیاری کا موقع مل جانے کا امکان ہے اس لیے ارشاد فرماتے ہیں کہ اس حکم سے کافر یہ گمان نہ کریں کہ جب ہم کو پہلے سے علم ہوجائے گا تو ہم بچ کر کہیں نکل جائیں گے خوب سمجھ لیں کہ وہ بلاشبہ خدا تعالیٰ کو اپنے پکڑنے سے عاجز نہیں کرسکتے۔ وہ جہاں سے چاہے پکڑ سکتا ہے۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائیگا۔ اور تمہارا ذرا نقصان نہ کیا جائیگا۔

سامان جنگ کی بھر پور تیاری کا حکم قال اللہ تعالیٰ ۔ واعدو لھم ما استطعتم من قوۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم لا تظلمون (ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کے قتل و قتال اور ان سے جنگ وجدال اور اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی عداوتوں کا اور خیانتوں کا اور بدعہدیوں کا ذکر فرمایا اب ان ا آیات میں دشمنان اسلام سے مقابلہ اور مقاتلہ کے لیے ساز و سامان کی تیاری اور سامان حرب کے مہیا کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ دشمنان اسلام کے مقابلہ کے لیے جس قدرمادی قوت اور طاقت تم مہیا کرسکو اس میں دقیقہ اتھا نہ رکھو اور اتنی طاقت کے فراہم کرو کہ تمہارا رعب دشمن پر قائم ہوجائے اور وہ تمہاری طاقت سے اتنا مرعوب اور خوفزدہ ہوجائے کہ وہ خود تمہارے ساتھ نہ بد عہدی کرسکے اور نہ تمہارے کسی دشمن کی مدد کرسکے۔ اور جب کافروں کو تمہاری قوت اور طاقت کا علم ہوجائے گا تو وہ مرعوب ہوجائیں گے اگرچہ تم ان کافروں کو نہ جانتے ہو اور نہ تمہیں ان کی عداوت کا علم ہو کما قال اللہ تعالیٰ واخرین من دونہم لا تعلمونھم اس آیت میں ایسے ہی کافروں کی طرف شارہ ہے ان لوگوں کو جب تمہاری طاقت کا علم ہوگا تو وہ نہ تم پر حملہ کرنے کی جرات کریں گے اور نہ تمہارے دشمن کے ساتھ علانیہ تعلق قائم کرنے کی ہمت کریں گے۔ یا یوں کہو : کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ فتح وظفر سب من جانب اللہ ہے اور اللہ ہی کی مدد سے ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ اگرچہ فتح وظفر در حقیقت اللہ ہی کی مدد سے ہے مگر تم بندے ہو اور عالم اسباب کے باشندے ہو اس لیے تم کو اسباب ظاہری کو نہ چھوڑنا چاہئے۔ دشمنان اسلام کی جنگ کے لیے اور کفر اور شرک کے فتنہ کے انسداد کے لیے ظاہری اسباب کو جمع کرو اور اتنا سازوسمان کرو کہ تمہارا دشمن تمہاری طاقت سے مرعوب ہوجائے اور اس پر تمہاری دھاک بیٹھ جائے بایں ہمہ بھروسہ اللہ پر پرکھو۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے مسلمانوں کافروں کے مقابلہ کے لیے جو قوت اور طاقت اور زور تم سے بن پڑے وہ مہیا کرو اور گھوڑے باندھنے سے بھی مقابلہ کا سامان تیار کرو جس سے تم اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو ڈراؤ جن کو تم جانتے ہو اور ان کے سوا دوسرے دشمنوں کو بھی ڈراؤ جن کو تم نہیں جانتے و لیکن اللہ ان کو جانتا ہے کہ تمہارے چھپے دشمن ہیں تمہاری کمزوری کے وقت ان کی عداوت ظاہر ہوگی لہذا تم کو ایسی طاقت اور قوت فراہم کرنی چاہئے کہ جس سے تمہارے ظاہری دشمن اور چھپے دشمن سب مرعوب اور خوف زدہ ہوجائیں ظاہری دشمن سے وہ کفار مراد ہیں جو اس وقت تم سے برسر پیکار ہیں اور باطنی دشمن سے وہ کفار مراد ہیں جو بظاہر اس وقت مسلمانوں سے بر سر پیکار نہیں لیکن مسلمانوں کی عداوت کو دل میں چھپائے ہوئے ہیں اور تمہاری فکر میں لگے ہوئے ہیں اور موقع کے منتظر ہیں جب کبھی بھی کسی وقت مسلمانوں میں کمزوری دیکھیں گے اس وقت ان کی عداوت ظاہر ہوگی اس آیت میں ظاہری دشمنوں سے کفار مکہ اور یہود مدینہ مراد ہیں اور اخرین من دونھم لا تعلمونھم سے کفار فارس اور روم مراد ہیں جن سے ابھی سابقہ نہیں پڑا لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ جب فارس اور روم سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوگا اس لیے ابھی سے حکم دے دیا گیا کہ ابھی سے تم اتنی قوت اور طقت فراہم کرلو جو آئندہ چل کر ان دشمنوں کے مقابلہ میں بھی کام آسکے جن کی دشمنی کا تم کو علم نہیں اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ تمہارے چھپے دشمن ہیں تمہاری تاک میں ا اور موقع کے منتظر ہیں جیسے آج کل خاص کر مغربی ممالک جو دن رات اسلامی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے مکر اور فریب اور ان کی منافقانہ دوستی اور عیارانہ امداد سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔ اب آئندہ آیت میں مال جہاد کی ترغیب دیتے ہیں اور اے مسلمانو ! جو چیز بھی تم خدا کی راہ میں یعنی سامان جہاد کی تیاری میں خرچ کروگے تو وہ تم کو پورا پورا دیے دیا جائے گا اور تمہارے حق میں کمی ہوگی اول تو دنیا ہی میں مال غنیمت اور مال فئی اور مال جزیہ اور مال خراج سے تمہارے خرچ کا ضعافا مضاعفہ معاوضہ تم کو مل جائے گا جو تمہاری خرچ کی ہوئی رقم سے کہیں زیادہ ہوگا اور اگر کچھ کمی بھی رہی تو وہ آخرت میں پوری کردی جائے گی۔ لطائف و معارف 1 ۔ احادیث میں اگرچہ قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی گئی ہے مگر باعتبار عموم الفاظ اس سے مراد ہر قسم کا سامان حرب ہے اور یہ مطلب نہیں کہ قوت صرف تیر اندازی میں منحصر ہے بلکہ تلوار اور نیزہ اور سپر اور زرہ اور خود اور قلعے اور سمان رسد اور سامان حرب سب قوت میں داخل ہیں اس لیے کہ مقصود اصلی تو آیت کا یہ ہے کہ وہ سازوسامان اور آلات حرب مہیا کرو جس کے زریعے تم دشمن کی مدافعت کرسکو اور اس پر غالب آسکو عہد نبوی میں گھوڑوں کا باندھنا اہم سامان حرب تھا۔ اس لیے اس کی اہمیت اور شرافت کی بنا پر اس کو علیحدہ بیان فرمایا کتب احادیث اور تفاسیر میں تیر اندازی اور گھوڑوں کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں مذکور ہیں اور مشہور ہیں وہاں دیکھ لی جائیں اور سب مقصود سامان جنگ کی تیاری کا حکم دینا ہے۔ بہر حال اس آیت سے مقصود مسلمانوں کو یہ حکم دینا ہے کہ تم دشمنوں کے مقابلہ کے لیے سامان جنگ تیار کرو ل۔ جس قدرطاقت اور قوت تم فراہم کرسکتے ہو اس میں کسر نہ چھوڑو اور ظاہر ہے کہ ہر زمانہ میں سامان جنگ بدلتا رہا ہے پہلے زمانے تیر وتلوار تھے اور اس زمانے میں توپ اور بندوق ہیں۔ یہ سب سامان جہاد ہے اور اسی طرح اور اسی طرح آئندہ جو اسلحہ اور آلات ھرب وضرب تیار ہوں گے انشاء اللہ وہ سب اس آیت کے عموم اور مفہوم میں داخل ہوں گے اور عین منشاء قرانی ہوں گے لہذا اس آیت کی رو سے مسلمان حکومتوں پر جدید اسلحہ کی تیاری اور ان کے کارخانوں کا قائم کرنا فرض ہوگا۔ اس لیے کہ اس آیت میں قیامت تک کے لیے ہر مکان وزمان کے مناسب قوت و طاقت کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے جس طرح کافروں نے تباہ کن ہتھیار تیار کیے ہیں ہم پر بھی اسی قسم کے تباہ کن ہتھیاروں کا تیار کرنا فرض ہوگا تاکہ کفر اور شرک کا مقابلہ کرسکیں۔ کما قال تعالیٰ ۔ وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ۔ ولمن النتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل مفمن اعتدی علیکم فاعتدو علیہ بمثل ماعتدی علیکم۔ 2 ۔ گذوہ احزاب میں آں حضرت ﷺ نے مدینہ کے گرد خندق کھود کر قریش مکہ کا مقابلہ کیا جو کسری اور ایرانیوں کا طریقہ تھا کہ خندقیں کھود کر دشمن کا مقابلہ کرتے تھے سن 5 ھ میں جب تمام قائل عرب نے ایک کمان ہو کر مدینہ منورہ پر حملہ کیا تو اس وقت آں حضرت ﷺ سلمان فارسی کے مشورہ سے جنگ کا ایک جدید طریقہ اختیار کیا جو عرب میں رائج نہ تھا وہ یہ کہ مدینہ کے اطراف میں خدخندقیں کھود کر مشرکین عرب کا مقابلہ کیا جائے جنگ کا یہ طریقہ کسری اور مجوس کا تھا جس کو نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اختیار فرمایا اور تمام صحابہ اس میں شریک رہے۔ پھر سن 7 ھ میں خیبر کا معرکہ پیش آیا جو یہود کا گڑھ تھا اور اس میں یہود کے بڑے مستحکم قلعے تھے جن کے فتح کرنے میں تقریبا ایک ماہ لگا خیبر کے قلعوں میں ایک صعب نامی قلعہ تھا جب مسلمانوں کا اس پر قبضہ ہوگیا اور اس کے تہہ خانوں کی تلاشی لی گئی تو ان میں سے بہت سا سامان جنگ اور ہتھیار مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور اس میں دبا بات اور منجنیقیں بھی مسلمانوں کے ہاتھوں آئیں۔ یہ رومی آلات حرب تھے جو قلعہ کشائی کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ یہود کے خود ساختہ تھے یا رومیوں سے حاصل کیے تھے دبابہ : یعنی لکڑی کا ٹینک امام ابن اثیر جزی (رح) نہایہ ص 10 ج 2 میں فرماتے ہیں کہ دبابہ ایک آلہ ہے جو لکڑی اور چمڑے سے تیار کیا جاتا ہے اور وہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ چند آدمی اس میں بیٹھ سکیں اور دشمن کی قلعہ کی دیوار کے قریب لے جا کر اسے کھڑا کردیں تاکہ اس میں بیٹھ کر قلعہ میں نقب لگا سکیں اس آلہ میں بیٹھنے والے ان تیروں سے محفوط رہیں جو قلعہ کے اوپر سے پھینکے جارہے ہیں (دیکھو نہایہ1 ابن اثیر صفحہ 10 جلد 2 و مجمع البحار ص 94 جلد 1) نیز ابن اثیر فرماتے ہیں کہ حدیث عمر ؓ میں ہے کیف تصنعون بالحصون قال نتخذ دبابات یدخل فیھا الرجال (دیکھو نہایہ ص 10 ج و مجمع البحار ص 394 ج 1) 1 ۔ اصل عبارت اس طرح ہے الدبابۃ الۃ تتخذ من جلود وخشب یدخل جیھا الرجال ویقرباونھا من الحصن المحاصر لینقبوہ وتقیھم مایرمون بہ من فوقھم۔ انتھی کذا فی النھایہ ص 10 ج 2 وکذا فی مجمع البحار ص 394 ج 1 وکذا فی الدر النثیر للحافظ السیوطی ص 10 ج 2 حضرت عمر ؓ نے ایک لشکر کو دشمن کے مقابلہ میں روانہ کرتے وقت لشکر سے دریافت کیا تم دشمن کے قلعوں کے ساتھ کیا کرو گے اور ان کو کس طرح فتح کرو گے تو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم دبابے بنالیں گے اور ہمارے جوان ان میں بیٹھ کر قلعہ میں نقب لگائیں گے یعنی اس طرح دشمن کے قلعوں کو مسخر کریں گے۔ دبابہ کی تعریف آپ نے سن لی آج کل اصطلاح میں اس کا نام ٹینک ہے فرق اتنا ہے کہ پہلے زمانہ میں یہ آلہ حرب لکڑی اور چمڑے سے تیار ہوتا تھا اور اس زمانہ میں فولاد سے تیار ہوتا ہے۔ حضرت عمر کے اس سوال۔ کیف تصنعون بالحصون (تم دشمن کے مضبوط قلعوں کو کسی طرح مسخرو کرو گے) کے جواب میں صحابہ کا یہ عرض کرنا نتخذ دبابات یدخل فیھا الرجال ہم (دبابے بنا لیں گے اور اس میں بیٹھ کر دشمن کے قلعہ میں نقب لگائیں گے) یہ اس امر کی دلیل ہے کہ دبابہ کا بنانا اور اس کی صنعت اور اس کا استعمال اس زمانے میں رائج تھا اور مسلمان بھی ضرورت کے وقت دبابہ (اس زمانے کے ٹینک) بنانے پر قادر تھے منجنیق (اس زمانے کی مشین گن) منجنیق پتھر پھینکنے کے آلہ کو کہتے ہیں کہ جس کے ذریعے سے سنگباری کی جائے جس کو آج کل اصطلاح میں مشین گن کہتے ہیں جنق سے مشتق ہے جس کے معنی رمی یعنی پھینکنے کے ہیں اور جو شخص اس آلہ کے ذریعے پتھر پھینکے اس کو جانق کہتے ہیں۔ روایات میں ہے کہ حجاج بن یوسف نے جب مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا تو اس نے خانہ کعبہ کے سامنے دو منجنیق نصب کیے اور دو جانق اس کے چلانے کے لیے مقرر کیے (دیکھو نہایۃ ابن اثیر ص 182 ج 1) معلوم ہوا کہ اس زمانے میں منجنیق کا استعمال لڑائیوں میں معروف ومشہور تھا غزوہ خیبر میں جب قلعہ صعب فتح ہوا اور اس میں سے کچھ دبابے اور کچھ منجنیقیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں جو رومیوں کے آلات جنگ تھے اس قلعہ کے فتح کے بعد جب خیبر کے دوسرے دو قلعے وطیح اور سلالم کے فتح کرنے میں آں حضرت ﷺ کو دشواری پیش آئی تو اس وقت آپ نے یہ ارادہ فرمایا کہ ان لوگوں پر منجنیق کو نصب کیا جائے مگر اس کی نوبت نہیں آئی اور یہ دونوں قلعے بحمدہ تعالیٰ بغیر منجنیق کے نصب کیے ہوئے فتح ہوگئے۔ بہر حال آنحضرت ﷺ کا ان آلات کے استعمال کا ارادہ فرمانا جو غیر مسلموں کی ایجاد تھے۔ یہی اس کی مشروعیت اور جواز کی دلیل ہے۔ پھر جب سن 8 ھ میں مکہ مکرمہ فتح ہوا تو آنحضرت ﷺ فتح مکہ کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے اور بارہ ہزار صحابہ آپ کے ہمرکاب تھے اور وہاں پہنچ کر طائف کا مھاصرہ کیا تقریبا بیس روز محاصرہ رہا جب فتح میں دشواری ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے سلمان فارسی کے مشورے سے ان پر منجنیق نصب کی اور منجنیق سلمان فارسی ؓ نے خود اپنے ہاتھ سے تیار کی اور ان کے قلعہ کو مسمار کرنے کے لیے اس کو بنایا اور یہ سب کچھ آنحضرت ﷺ کے حکم سے آپ کے سامنے ہوا علامہ زرقانی فرماتے ہیں کہ اسلام میں یہ پہلی منجنیق تھی۔ جو دشمنوں کے مقابلہ میں نصب کی گئی اور دنیا میں سب سے پہلا شخص نمرود ہے جس نے منجنیق تیار کی اور ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ پھینکنے کے لیے اس کو استعمال کیا تفصیل کے لیے زرقانی شرح مواہب ص 31 ج 3 دیکھیں۔ غرض یہ کہ آں حضرت ﷺ نے تیر وتلوار کے علاوہ جدید آلات حرب بھی استعمال کیے اور صحابہ کو ان کے بنانے کا حکم بھی دیا اور آپ کے بعد جب فاروق اعظم کو شام اور عراق کی مہم پیش آئی تو آپ نے صحابہ کو قعلہ شکن دبابوں کے بنانے کا اور استعمال کرنے کا حکم دیا۔ پس حق جل شانہ نے اس آیت۔ واعدو الھم ما استطعتم من قوۃ) میں ہر قسم کی قوت اور طاقت کے مہیا کرنے کا قطعی حکم دے دیا اس آیت کا عموم قیامت تک ظاہر ہونے والی قوتوں کو شامل ہے لہذا اب اگر کوئی اسلامی حکومت اس سے غفلت برتتی ہے تو یہ قصور اس کا ہے اسلام کا کوئی قصور نہیں۔ 3 ۔ اس آیت میں دو حکم دئیے گئے ہیں ایک قوت اور طاقت یعنی سامان جنگ کی تیار کا سو یہ باتفاق فقہاء فرض کفایہ ہے اور دوسرا حکم رباط خیل کا ہے یعنی دشمن کے مقابلہ کے لیے گھوڑوں کے پالنے کا ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ سرحدوں پر چھاؤنیوں کا قائم کرنا ازحد ضروری ہے اور حق تعالیٰ جل شانہ کے اس ارشاد یا ایہا الذین امنوا اصبروا وصابروا ورابطوا میں مرابطہ سے سرحد کی نگرانی اور پاسبانی راد ہے جو بحکم خداوندی فرض اور لازم ہے۔
Ayahs 8:61–64

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔

حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت اور صلح کے بعد مسلمانوں کو توکل کا حکم اور وعدۂ نصرت وحفاظت قال اللہ تعالیٰ ۔ وان جنحوا للسلم فاجنح لھا۔۔۔ الی۔۔۔ ومن اتبعک من ال مومن ین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ارباب کفار کا بیان تھا یعنی اتنی قوت اور طاقت فراہم کرو کہ دشمن مرعوب ہوجائے اب آگے یہ بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی وقت دشمن صلح کی طرف مائل اور تم سے صلح کی درخواست کرے تو حسب ضررت ومصلحت ایک مدت معینہ کے لیے صلح کرنا جائز ہے مگر واجب نہیں اس لیے کہ اصل فریضہ کفار سے جہاد و قتال کرنا ہے البتہ حسب ضرورت ومصلحت کفار سے صلح کی اجازت ہے حکم نہیں۔ شریعت نے کافروں سے اصل حکم جہاد کا دیا ہے اور بوقت ضرورت حسب مصلحت کافروں سے صلح کی اجازت دی ہے کہ اگر تم کافروں سے صلح کرلو تو جائز ہے مگر واجب نہیں۔ قال ابو حنیفۃ ؓ لا ینبغی موادعۃ اھل الشرک اذا کان بالمسلمین علیھم قوۃ لان فیہ ترک القتال المامور بہ او تاخیرہ وذالک مما لا ینبغی للامیر ان یفعلہ من غیر حاجۃ قال اللہ تعالیٰ ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مومنین وان لم یکن بالمسلمین قوۃ علیھم فلا باس بالموادعۃ لان الموادعۃ خیر للمسلمین فی ھذہ الحالۃ وقد قال عزوجل وان جنحوا للسلم فاجنح لھا الایۃ ولان ھذا من تدبیر القتال فان علی المقاتل ان یحفظ قوۃ نفسہ اولا ثم یطلب العلو والغلیبۃ اذا تمکن من ذالک (شرح سیر کبیر للامام السرخسی ص 2 ج 4) ترجمہ : امام ابوحنیفہ ؓ فرماتے ہیں اگر مسلمانوں میں کافروں کے مقابلہ کی طاقت اور قوت ہو تو پھر ان سے صلح کرنا کسی طرح مناسب اور زیبا نہیں کیونکہ حق تعالیٰ نے کافروں سے جہاد اور قتال کا حکم دیا ہے پس اگر کفار سے صلح کی جائے تو فریضہ جہاد کا ترک یا اس میں تاخیر لازم آئے گی اور مسلمانوں کے امیر کے لیے یہ کسی طرح زیبا اور لائز نہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے بغیر ضرورت اور بغیر مجبوری کے صلح کرے اس لیے کہ حق جل شانہ کا ارشاد ہے۔ اے مسلمانوں تم دشمنان اسلام کے جہاد و قتال میں کمزور اور سست نہ پرو اور اس راہ میں جو تکلیف پہنچے اس سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہو اور تم ہی غالب رہو گے۔ اگر تم سچے اور پکے مسلمان ہو (اللہ کا حکم ختم ہوا) اور اگر مسلمانوں میں کافروں کے مقابلہ کی قوت نہ ہو تو پھر صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ ایسی حالت میں صلح کرنا ہی مسلمانوں کے لیے خیر اور مصلحت ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر کافر صلح کی طرف مائل ہیں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہوجاؤ نیز ایسی حالت میں صلح کرلینا یہ در پردہ جہاد و قتال کی ایک تدبیر ہے اس لیے کہ مجاہد پر یہ فرض ہے کہ اولا وہ اپنی قوت کو محفوظ کرے اور قوت حاصل ہوجانے کے بعد پھر دشمن اسلام پر غلبہ کی کوشش کرے جب کبھی اس کو یہ موقعہ ملے امام ابوحنیفہ (رح) کے کلام کا ترجمہ ختم ہوا اور یہی مضمون احکام القرآن ص 69 ج 2 و ص 70 ج 3 للامام ابی بکر الجصاص میں مذکور ہے۔ فقہاء کرام نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ مسلمان فرمانروا کافروں سے ایک مدت معینہ کے لیے صلح کرسکتا ہے مگر جہاں تک ممکن ہو صلح کی مدت کم مقرر کرے اور دس سال سے زیادہ کا معاہدہ نہ کرے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ وآلہ وسلم نے حدیبیہ میں قریش سے دس سال کے لیے معاہدہ کیا اور اس سے زیادہ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے حدیبیہ میں قریش سے دس سال کے لیے معاہدہ کیا اور اس سے زیادہ مدت کے لیے کبھی کسی سے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ بہر حال ایک مدت معینہ کے لیے کافروں سے صلح جائز ہے اور اس مدت میں اگر کفار اپنے عہد کو توڑ ڈالیں تو وہ بجائے معاہدہ کے محارب سمجھے جائیں گے۔ بلا اطلاع کے ان پر چڑھائی اور فوج کشی جائز ہوگی۔ جیسے قریش نے صلح حدیبیہ کو توڑا تو آں حضرت ﷺ بلا اعلان جنگ قریش پر حملہ کے لیے روانہ ہوئے اور مکہ کو فتح کرلیا۔ اب آیت کی تفسیر دیکھئے ک۔ فرماتے ہیں اور اگر دشمنان اسلام تمہاری قوت اور طاقت سے مرعوب ہو کر صلح کی طرف جھکیں تو آپ کو بھی اجازت ہے کہ اگر مصلحت سمجھیں تو صلح کی طرف جھک جائیں۔ شاید وہ اس بہانہ سے اسلام میں داخل ہوجائیں اور تمہارے بھائی بن جائیں اور اس صلح پر بھروسہ نہ کیجئے بلکہ بھروسہ اللہ پر دیکھئے کیونکہ اللہ ہی کافروں کے مکروفریب سے بچانے والا ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ کافروں کے اندرونی مشوروں کو سنتا ہے اور ان کی بد نیتی کو خوب جانتا ہے کہ کس نیت سے یہ صلح کر رہے ہیں اور اگر آپ کو قرائن سے معلوم ہو کہ وہ اس صلح سے آپ کو دغا دینا چاہتے ہیں تو آپ ھسب صوابدید اللہ پر بھروسہ کر کے کافروں کی صلح کی درخواست قبول کرلیجئے اور ان کے دھوکہ کی پرواہ نہ کیجئے پس تحقیق اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے دھوکہ سے بچانے کے لیے کافی ہے جس خدا نے پہلے آپ کی حفاظت اور کفایت کی وہی اب بھی محافظ اور کافی ہے کیونکہ اسی نے جنگ بدر میں بغیر قوت اور بغیر رباط خیل کے اور بغیر ظاہری اسباب کے اپنی خاص مدد سے آپ کو قوت دی فرشتوں سے آپ کی مدد کی اور ان مسلمانوں کے ذریعے آپ کو قوت دی جو خدا تعالیٰ کی اطاعت شعاری اور جاں نثاری میں فرشتوں کا نمونہ تھے یعنی حقیقت میں تیرا مددگار اللہ ہے اور ظاہری اسباب میں یہ مسلمان تیرے مددگار ہیں تو تجھے کسی کا کیا ڈر ہے۔ اس لیے اگرچہ یہ لوگ دغا بازی اور عہد شکنی کا ارادہ کریں تو آپ اس کی فکر نہ کیجئے اللہ آپ کو کافی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس مٹھی بھر جماعت کو قائم مقام قوت اور رباط خیل کے بنادیا کیونکہ اللہ نے ان کو دلوں میں الفت ڈال دی اور زمانہ جاہلیت کی دیرینہ عداوتیں جو صدیوں سے چلی آرہی تھیں وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ نے یک لخت ان کے دلوں سے نکال دیں اور یہ سب آپ کے ہاتھ پر ایمان لے آئے اور آپ کے اعوان وانصار بن گئے آپ کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعتوں کو بدل دیا بیشک وہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ یعنی بظاہر حال قبیلہ اوس اور قبیلہ خزرج میں اور دیگر قبائل میں صدہا سال کے عداوت کے بعد اتفاق کا پیدا ہونا ناممکن نظر آتا تھا مگر اللہ زبردست ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے اس کی حکمت اس امر کی مقتضی ہوئی کہ ان کی باہمی دشمنی کو ختم کر کے کفر کی دشمنی پر ان سب کو متفق کرے اے نبی اگر آپ حقیقت پر نظر کریں تو ایک اللہ آپ کے لیے کافی ہے اگرچہ کوئی بھی آپ کے ساتھ نہ ہو اور اگر ظاہرا اسباب پر نظر کریں تو جو مسلمان تیرے پیرو ہیں وہ تیرے اور تیرے دین کی مدد کے لیے کافی ہیں آپ کے اتباع کی برکت سے مسلمانوں کی تھوڑی سی جماعت کفار کے لشکر جرار کو شکست دے سکتی ہے جیسے بدر میں آپ نے دیکھ لیا۔