Al-Anfaal 8:74

Al-Anfaal · from ayah 74

8:74

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْۤا اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ؕ— لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِیْمٌ ۟وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who have believed and emigrated and fought in the cause of Allah and those who gave shelter and aided - it is they who are the believers, truly. For them is forgiveness and noble provision.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 10 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:74

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناه دی اور مدد پہنچائی، یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (راہِ خدا میں گھر بار اور وطن قربان کر دینے والوں کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی، وہی لوگ حقیقت میں سچے مسلمان ہیں، ان ہی کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اور جن لوگوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی مدد کی، یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور عزت کا رزق ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، یہی لوگ پکے مومن ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی، اور جہاد بھی کیا، اللہ کی راہ میں، اور جنہوں نے ان کو ٹھکانہ دیا اور ان کی مدد بھی کی تو ایسے ہی لوگ مومن ہیں سچے (پکے) ان کے لئے ایک عظیم الشان بخشش بھی ہے، اور عزت کی روزی بھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت (بھی) کی اور جہاد (بھی) کیا اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے (انہیں) رہنے کی جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ تو ہیں پورے پورے مومن ان کے لئے مغفرت اور معزز روزی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں (یعنی مہاجرین) اور وہ لوگ (انصار مدینہ) جنہوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی نصرت کی یہی لوگ ہیں سچے مؤمن۔ ان کے لیے ہے مغفرت اور رزق کریم

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور (وطن سے) ہجرت کر گئے اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کے لیے اللہ کے پاس عزت کی روزی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who believe and have migrated and strove in the way of Allah, and those who gave them refuge and help - it is they who are the true believers. Theirs shall be forgiveness and honourable sustenance.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who have believed and emigrated and carried out Jihad in the way of Allah, and those who gave refuge and help, both are the believers in truth. For them there is forgiveness and a respectful provision.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who have believed and emigrated and carried out Jihad in the way of Allah, and those who gave refuge and help, both are the believers in truth. For them there is forgiveness and a respectful provision.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who believed, and emigrated and strove hard in the cause of Allah (Al-Jihad), as well as those who gave (them) asylum and aid -- these are the believers in truth, for them is forgiveness and a generous provision.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who believed and left their homes and strove for the cause of Allah, and those who took them in and helped them - these are the believers in truth. For them is pardon, and bountiful provision.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who have believed and emigrated and fought in the cause of Allah and those who gave shelter and aided - it is they who are the believers, truly. For them is forgiveness and noble provision.

— Saheeh International

The believers who left their homes, and strove for the cause of God and those who gave them refuge and helped them, are true believers. They will have forgiveness (from their Lord) and (will be granted) honorable provisions.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who believed and fled and struggled hard in Allah's way, and those who gave shelter and helped, these are the believers truly; they shall have forgiveness and honorable provision.

— Muhammad Habib Shakir

And those who believe and have emigrated and striven hard in the way of Allah, those who sheltered and succoured --these! they are the believers in very truth; for them shall be forgiviness and honourable provision.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who believe, and adopt exile, and fight for the Faith, in the cause of Allah as well as those who give (them) asylum and aid,- these are (all) in very truth the Believers: for them is the forgiveness of sins and a provision most generous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–75

مہاجر اور انصار میں وحدت مومنوں کا دنیوی حکم ذکر فرما کر اب آخرت کا حال بیان فرما رہا ہے ان کے ایمان کی سچائی ظاہر کر رہا ہے جیسے کہ سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے انہیں بخشش ملے گی ان کے گناہ معاف ہوں گے انہیں عزت کی پاک روزی ملے گی جو برکت والی ہمیشگی والی طیب و طاہر ہوگی قسم قسم کی لذیذ عمدہ اور نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ ان کی اتباع کرنے والے ایمان و عمل صالح میں ان کا ساتھ دینے والے آخرت میں بھی درجوں میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 73–75

سورة الْاَنْفَال 52 اس فقرے کا تعلق اگر قریب ترین فقرے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح کفار ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم اہل ایمان اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا۔ اور اگر اس کا تعلق ان تمام ہدایات سے مانا جائے جو آیت 72 سے یہاں تک دی گئی ہیں تو اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے ولی نہ بنیں، اور اگر ہجرت کر کے دارالاسلام میں نہ آنے والے اور دارالکفر میں مقیم رہنے والے مسلمانوں کو اہل دارالاسلام اپنی سیاسی ولایت سے خارج نہ سمجھیں، اور اگر باہر کے مظلوم مسلمانوں کے مدد مانگنے پر ان کی مدد نہ کی جائے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں مکہ سے ہجرت کرنے والے صحابہ اور ان کی مدد کرنے والے انصار مدینہ کی تعریف و ثنا اور ان کے سچا مسلمان ہونے کی شہادت اور ان سے مغفرت اور باعزت روزی کا وعدہ مذکور ہے ارشاد فرمایا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤ ْمِنُوْنَ حَقًّا یعنی یہی لوگ سچے پکے مسلمان ہیں اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ ہجرت نہ کرنے والے حضرات بھی اگرچہ مسلمان ہیں مگر ان کا اسلام کامل بھی نہیں اور یقینی بھی نہیں کیونکہ یہ احتمال بھی ہے کہ دراصل منافق ہوں بظاہر اسلام کا دعوی رکھتے ہوں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ۔ یعنی ان کے لئے مقرر ہے مغفرت جیسا کہ صحیح احادیث میں ہے الاسلام یھدم ما کان قبلہ والھجرة…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ دار الکفر کے مسلمانوں کے لیے ہجرت صداقت کی کسوٹی ہے : اس آیت میں ہجرت کو دار الکفر کے مسلمانوں کے لیے صداقت کی کسوٹی قرار دیا ہے۔ جب یہ فرمایا کہ سچے اور پکے مسلمان وہی ہیں جنہوں نے ہجرت اور جہاد کیا اور جنہوں نے مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی تو اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلتی ہے کہ اسلام کی اصل دولت مہاجرین و انصار ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لا چکے ہیں لیکن ابھی انہوں نے دارالکفر سے ہجرت نہیں کی ہے، انہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

74۔ 1 یہ مہاجرین و انصار کے انہی دو گروہوں کا تذکرہ ہے، جو پہلے بھی گزرا ہے۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر ان کی فضیلت کے سلسلے میں ہے۔ جب کہ پہلے ان کا ذکر آپس میں ایک دوسرے کی حمایت و نصرت کی وجہ بیان کرنے کے لئے تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

54: یعنی جن مسلمانوں نے ابھی ہجرت نہیں کی ہے، اگرچہ مومن وہ بھی ہیں، لیکن ان میں ابھی یہ کسر ہے کہ انہوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا، دوسری طرف مہاجرین اور انصار میں یہ کسر نہیں ہے، اس لئے وہ صحیح معنی میں مومن کہلانے کے مستحق ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد قرآن کریم صریح الفاظ میں ان کو بتاتا ہے کہ حقیقی ایمان کا تحقق یوں ہوتا ہے وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔ وہی سچے مومن ہیں ، بلکہ وہی مومن ہیں ، کے الفاظ پر غور کریں۔ گویا ایمان کی حقیقی صورت یہی ہے۔ اور اسی صورت میں اور اسی شکل میں حققی دین نشوونما پاتا ہے۔ دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سردار کے ساتھ والے مسلمان اعلیٰ ہیں گھر بیٹھنے والوں سے۔ آخرت میں ان کے لیے بڑی بھاری بخشش ہے اور دنیا میں عزت کی روزی یعنی غنیمت اور دوسرے فائق حقوق۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 74 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ یہاں پر مہاجرین اور انصار کے ان دونوں گروہوں کا اکٹھے ذکر کر کے ان مؤمنین صادقین کی خصوصیات کے حوالے سے ایک حقیقی مؤمن کی تعریف definition کے دوسرے رخ کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘ جبکہ اس کے پہلے حصے یا رخ کے بارے میں ہم اسی سورت کی آیت 2 اور 3 میں پڑھ آئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھنے سے پہلے مذکورہ آیات کے مضمون کو ایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کرلیجئے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے بُنِیَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 مہاجرین و انصار کی فضیلت :۔ اس لیے جس آڑے وقت میں اسلام کی سربلندی کے لیے ان مہاجرین و انصار نے اپنی جان اور مال سے قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان کا اعزاز اور ان کے درجات یقیناً ان مسلمانوں سے بلند ہوں گے اور ہونے چاہئیں جو اس وقت ایمان لائے یا ہجرت کی یا جہاد کیا۔ جبکہ اسلام پوری طرح جڑ پکڑ چکا ہے اور اس وقت اسلام لانے میں کسی خوف و خطر کی فکر تو درکنار فائدہ ہی فائدہ نظر آ رہا تھا۔ ان دونوں قسم کے مسلمانوں میں حقیقی اور راست باز مسلمان تو وہی قرار دیئے جاسکتے ہیں جنہوں نے کئی قسم کے خطرات مول لے کر اپنے گھر اور وطن کو خیر باد کہا یا پھر وہ لوگ جنہوں نے ان خستہ حال مسلمانوں کو وہاں پہنچتے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114 ۔ (جنت میں) آخرت میں کامیاب ترین لوگ یہی تو ہوں گے جو دنیا میں سارے مراتب ایمان بجالے آئے۔ (آیت) ” الذین۔۔۔ فی سبیل اللہ “۔ یعنی طبقہ مہاجرین جنہوں نے ایمان، ہجرت و جہاد کا حق ادا کردیا۔ (آیت) ” والذین او واونصروا “۔ یعنی گروہ انصار جنہوں نے نصرت مہاجرین کا حق ادا کردیا۔ (آیت) ” ھم ال مومن ون حقا “۔ یعنی ایمان میں کامل، سارے مراتب ایمان کے طے کرجانے والے ، (آیت) ” لھم مغفرۃ “۔ مغفرۃ کا صیغہ نکرہ اس پر دال ہے کہ مغفرت اپنے پورے کمال پر ہوگی۔ وتنکیر لفظ المغفرۃ یدل علی الکمال والمعنی لھم مغفرۃ تامۃ کاملۃ عن جمیع الذنوب والسیات (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

والذین آمنو ........، مہاجر و انصار کے علاوہ یہ تیسرے فریق کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمان تو ہوگئے مگر ہجرت نہیں کی، مہاجر اور غیر مہاجر کے مابین مالی وارثت جاری نہ ہوگی، البتہ ہجرت کرنے کے بعد آپس میں مالی وارثت جاری ہوگی ہجرت کا وجود گو بعد فتح مکہ باقی نہیں رہا، تاہم دارلکفر سے ہجرت کرنا، ہمیشہ اولی اور موجب اجر ہے وقد کانت الھجرة فرضًا حین ھاجر النبی ﷺ الی ان فتح النبی ﷺ مکة . (حصاص، ماجدی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین امنوا وھاجروا وجاھدوا فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا اولئک ھم المؤمنون حقًاط اور جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا (یعنی مہاجرین مجاہدین) اور وہ لوگ جنہوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی ‘ یہی سب لوگ حقیقی مؤمن ہیں۔ یعنی پکے ایمان والے ہیں ‘ اپنے مسلمان ہونے کے دعوے میں سچے ہیں۔ انہوں نے ہی ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا ‘ ہجرت کی ‘ اللہ کی راہ میں جان و مال صرف کیا اور حق کی مدد کی۔ ان کے برخلاف وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے مگر نہ ہجرت کی نہ جہاد کیا۔ ان کو اگرچہ مؤمن کہنا صحیح تو ہے مگر اللہ نے فرمایا : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُھَاجِرُوْا لیکن ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(74) اور جو حضرات پہلے پہلے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور ہجرت کے زمانہ میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور شروع ہی سے اطاعت خداوندی میں جہاد کیا اور جن حضرات نے رسول اکرم ﷺ اور ان مہاجرین کو مدینہ منورہ میں اپنے ہاں ٹھہرایا اور بدر کے دن ان کی مدد کی یہ لوگ تو صدق اور یقین کے اعتبار سے ایمان کا پورا حق ادا کرنے والے ہیں، دنیا میں ان کے گناہوں کی معافی اور جنت میں ان کے لیے بہت ہی بہترین بدلہ ہے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا : اس آیت میں مسلمانوں کے پہلے دو گروہوں، یعنی مہاجرین اولین اور انصار کی تعریف فرمائی ہے، کیونکہ پہلے ان کا ذکر باہمی دوستی اور تعاون کی تاکید کے لیے تھا۔ اس آیت میں ان کی تعریف تین طرح سے کی ہے، پہلا تو یہ کہ یہ لوگ ایمان، ہجرت، جہاد اور اہل ایمان کو جگہ دینے اور نصرت کی وجہ سے پکے مومن ہیں، بخلاف ان کے جو ایمان تو لائے مگر ہجرت نہیں کی، جس کی وجہ ان کے ایمان کی خامی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (97) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان مہاجرین و انصار کے لیے (اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا) بہت بڑی سند ہے۔ دوسرا ان کے لیے عظیم مغفرت اور بخشش ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 72–75

مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ ان الذین امنوسورت کا اختتام موالاۃ کے ذکر ساتھ کیا تاکہ ہر فریق اپنے اس دوست اور ولی کو جان لے جس وہ مدد طلب کرسکتا ہے۔ ہجرت اور جہاد کا لغوی اور اصطلاحی معنی و مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ والذین او واونصروایہ اس پر معطوف ہے۔ اور مراد وہ انصار ہیں جو ان سے پہلے ایمان کے ساتھ اپنے گھروں میں اقامت گزیں تھے اور حضور نبی کریم ﷺ اور مہاجرین ان سے آملے۔ اولئک یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے۔ بعضھم یہ دوسرا مبتدا ہے۔ اولیاء بعض یہ اس کی خبر ہے اور پھر سب مل کر ان کی خبر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اولیاء بعض، فی المیراث (یعنی وہ میراث میں ایک دو سے کے ولی ہیں) پس وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 73–74

:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابو مالک کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمان میں سے ایک آدمی نے کہا ہم ضرور اپنے مشرک رشتہ داروں کو وارث بنائیں گے تو آیت نازل ہوئی (آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد “ 2:۔ ابن جریرنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ اہل عرب کے مشرکین کو وارث بنانے کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ یعنی کافر میراث میں ایک دوسرے کے جماعتیں ہیں (آیت) ” الا تفعلوہ “ یعنی تم (کافروں کی) میراث میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَهَاجَرُوْا [ اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جہاد کیا ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] اٰوَوْا [ ٹھکانہ دیا ] وَّنَصَرُوْٓا [ اور مدد کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ [ ہی مومن ہیں ] حَقًّا ۭ [ حقیقتا ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] مَّغْفِرَةٌ [ مغفرت ہے ] وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ [ اور باعزت روزی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا : (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا) (الآیۃ) جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ دیا اور ان کی مدد کی یہ دونوں جماعتیں یعنی مہاجرین اور انصار سچے پکے مسلمان ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان کے لیے بڑی مغفرت کا وعدہ ہے اور ان کے لیے عزت والی روزی مقرر ہے جو جنت میں ان کو نصیب ہوگی۔ اس آیت میں جہاں مہاجرین کی مدح ہے وہاں حضرات انصار کی بھی تعریف ہے اور دونوں جماعتوں کو مغفرت کی بشارت دی گئی ہے آخری آیت میں تین مضمون بیان فرمائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–75

مراتب اہل اسلام و فضائل مہاجرین عظام و انصار کرام وبیان احکام باعتبار ہجرت واسلام قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا وھاجروا۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بکل شیئ علیم (ربط) گزشتہ رکوعات میں جہاد اور صلح کے احکام بیان کیے اور گزشتہ آیات میں قیدیوں کو تسلی دی اب ان آیات میں مہاجرین اور انصار کے فضائل اور مسلمانوں کے باعتبار ہجرت وعدم ہجرت مراتب اور احکام بیان کرتے ہیں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کافروں سے مقابلہ اور مقاتلہ کی قدرت ہو تو جہاد فرض ہے اور اور اگر عاجز ہو تو ہجرت فرض ہے۔ گزشتہ رکوعات میں جہاد کے احکام مذکور تھے اب جہاد کے بعد ان آیات میں ہجرت کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہجرت اور جہاد دونوں توام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

74: یہ مہاجرین اور انصار کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے اور ان کی کئی خوبیاں گنائی ہیں۔ مہاجرین کی ہجرت اور ان کے جنگ و قتال کو فی سبیل اللہ اور محض رضائے الٰہی کے لیے ہونے کا سر ٹیفیکیٹ عطا فرمایا اور دونوں فریق کے بارے میں “ اُوْلٓئِکَ ھُمُ الْمُؤمِنُوْنَ حَقًّا ” نازل کرکے اعلان فرما دیا کہ مہاجرین وانصار نہایت سچے اور مخلص مؤمن تھے۔ “ لَھُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ ” سے ان کے مغفور الذنب اور جنتی ہونے کی تصدیق فرما دی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 74–75

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ِ ایمان مہاجرین اور مجاہدین کی تعریف کی اور احکام بھی نازل فرمائے کہ جو لوگ ایمان سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے سوائے اس کے کہ اگر کسی کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا ہو تو اس قوم کے خلاف مسلمانوں کی مدد نہیں کی جائے گی۔ اگر اہل ایمان اپنے مسلمان بھائیوں کی جائز مدد نہیں کریں گے تو زمین میں فتنہ و فساد ہی برپا ہوگا۔ کافر لوگ بھی آپس میں دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اہل اسلام کو بھی چاہیے کہ وہ آپس میں دوستانہ قائم رکھیں اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اب اس سورة کی آخری آیتوں میں اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۝ 0 ۭ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۝ 74 حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–75

ترکیب : الذین مع صلہ اسم ان والذین اس پر معطوف اولئک مبتداء بعضہم خبر جملہ خبر ان والذین مبتداء مالکم الخ خبر۔ ان استنصروکم شرط فعلیکم جواب الا ای ان لا تفعلوہ الضمیر یعود الی النصر وقیل الی الولاء شرط تکن جواب فتنۃ و فساد کبیر اسم ہیں کان کے والذین مبتداء اولئک الخ جملہ خبر حقا کی ترکیب بیان ہوچکی۔ والذین مبتداء متضمن بمعنی شرط فاولئک جواب یا خبر۔ تفسیر : جبکہ بدر کے قیدیوں کو بشرط اطاعت عوض دینے کا وعدہ کیا اور ان کو دلاسہ دیا تو ان آیات میں انصار و مہاجرین کو اجر آخرت کا دلاسہ دیتا ہے یا یوں کہو کہ جب ان قیدیوں کو عہد لے کر چھوڑا اور ان میں سے بہت نے بدر کے موقع پر آسمانی مدد اور اسلام کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْاوَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (الانفال : 74 ) (اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی یہی لوگ پکے مومن ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے۔ ) مندرجہ بالا صفات کے حامل ہی اسلام کی اصل قوت ہیں اس آیت کریمہ میں باردگر اس حقیقت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ امت مسلمہ کی اصل قوت مسلمان ہیں چونکہ یہ ایک نظریاتی گروہ ہے اس لیے کوئی دوسرا گروہ اولاً تو اس میں شامل نہیں ہوسکتا اور اگر ریاست…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مقابلہ میں مومنوں کا کردار اور ان کی آپس میں محبت۔ اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا وارث اور دوست قرار دیا گیا ہے۔ کفار اور جان بوجھ کر ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں سے لاتعلقی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر ان مسلمانوں کے ایمان کی تصدیق فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت کرنے والے اور اس کفار سے تعلقات توڑتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف رہتے ہوئے مہاجروں کی ہر قسم کی امداد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے ہاں پکے اور سچے مومن ہیں۔ ان کے گناہ معاف کردیے جائیں گے اور انھیں بہترین رزق سے نوازا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی اللہ کی رضا کی خاطر ہجرت اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مہاجرین و انصار سے عہد ہائے مغفرت : آیت 74: وَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجَاھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذیْنَ ٰاوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا (اور جو لوگ مسلمان ہوئے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے اپنے ہاں ٹھہرایا اور ان کی مدد کی یہ لوگ ایمان کا پورا حق ادا کرنے والے ہیں) کیونکہ انہوں نے اپنے ایمان کو سچا کردیا۔ اور اس کے مقتضیات کو حاصل کرکے ثابت کردیا۔ جیسے وطن چھوڑنا اہل و عیال چھوڑنا۔ گھر کو خیر باد کہنا۔ مال و دنیا سے علیحدگی اختیار کرنا۔ جس میں سوائے دین اور آخرت کے اور کوئی مقصد نہ تھا۔ لَھُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

74” والذین امنوا وھاجروا وجھدوا فی سبیل اللہ الذین او وا ونصروآ اولٓئک ھم المومنون حقا “ ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں ہے۔ بعض نے کہا انہوں نے ہجرت اور جہاد کے ذریعے اپنے ایمان کو ثابت کردیا۔ ” لھم مغفرۃ و رزق کریم “ جنت ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اس آیت کے تکرار کا کیا مطلب ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ مہاجرین کے کئی طبقے تھے۔ بعض پہلی ہجرت والے ہیں جنہوں نے حدیبیہ سے پہلے ہجرت کی اور بعض دوسری ہجرت والے تھے ۔ یہ وہ لوگ جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی اور بعض دو ہجرت والے تھے ہجرت حبشہ بھی کی اور ہجرت مدینہ بھی۔ تو پہلی آیت سے پہلی ہجرت مراد ہے اور دوسری آیت سے دوسری ہجرت مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–75

74۔ 75۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار اور ہجرت نہ کرنے والے مسلمان ان سب کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ ہجرت کر کے اور اپنا اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ میں چل آئے اور جو لوگ ان مہاجرین کے ہر طرح مددگار بنے بیشک وشبہ وہ کامل مومن ہیں ان کا عقبے کا انجام بیان کیا کہ ان کے واسطے آخرت میں بخشش ہے کیونکہ ان لوگوں نے اپنی جان اور مال سے کسی طرح دریغ نہ کیا ہر غنیمت ان کے واسطے حلال ہے اور آخرت میں جو نعمتیں ان کو ملیں گی وہ بےمشقت ہوں گی پھر اللہ پاک نے ان لوگوں کو بھی جو بعد میں ہجرت کر کے آئے انہیں مہاجرین اور انصار کے حکم میں داخل کیا کہ یہ لوگ پہلے اگرچہ مہاجرین کے ساتھ نہیں آئے مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–75

آیات (74) گزشتہ آیات میں مہاجرین و انصار کے رشتۂ موالات کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کی مدح اور ثواب کا ذکر ہے۔ چناچہ فرمایا : (والدین امنو اوھاجروا فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی “ یعنی مہاجرین و انصار (اولیک ھمہ المومنون حقا) یعنی وہی بچے مومن ہیں کیونکہ انہوں نے ہجرت، نصرت دین ‘ ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق ہے۔ (لھمہ مغفرۃ) ” ان کے لئے مغفرت۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 73–74

کافر کیسے ایک دوسرے کے دوست ہیں ؟ قول باری ہے (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض۔ جو لوگ منجر حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں ض حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے کہ اہل کفر میراث میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ نصرت اور معاونت میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ابن اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب قول باری (ان الذین امنوا و ھاجرو و جاھدو) تا قول باری (اولئک بعضھم اولیاء بعض) ہجرت کی بنا پر توارث کا موجب ہے اور قول باری (والذین آمنوا ولم بھاجروا مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجرو) میرا ث کی نفی کرتا ہے تو پھر یہ لازم ہوگیا کہ قول باری (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

153 مہاجرین و اَنصار سب کے سب پکے سچے مومن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں سچے پکے مومن۔ یعنی مہاجرین و انصار کہ ان حضرات نے جان و مال وغیرہ کی ہر قربانی دے کر اور دین و ایمان کی خاطر اپنے وطن اور اپنی قوم قبیلہ کو چھوڑ کر اپنے عقیدئہ و ایمان کی پختگی اور حقانیت کا واضح اور عملی ثبوت مہیا کردیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے اہل السنت والجماعت کی حقانیت اور اہل تشیع کا بطلان واضح اور آشکارا ہوجاتا ہے کہ اس میں حضرات انصار و مہاجرین دونوں کے مومن صادق ہونے کی تصریح موجود ہے۔ اور تاکید و حصر کے ساتھ تصریح موجود ہے۔ اور یہی اہل السنت والجماعت کا عقیدئہ و مسلک ہے۔ جبکہ شیعہ کا عقیدہ اس کے برعکس ہے بلکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 72–75

مہاجرین وانصار کے فضائل تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایات کا مجموعہ ہے یہ آیات اس لیے بےحد اہم اور غور کے قابل ہیں کیونکہ ان میں مسلمانوں کو ایک اہم دفعہ دستوری قانون کی بتائی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے تو انصار، یعنی مدینہ کے مقامی لوگ اور مہاجر، یعنی مکہ سے آنے والے یا کہیں سے بھی آنے والے مسلمان ان لوگوں کو بھائی بھائی بنانے کا حکم دیا گیا ان کی تعریف کی گئی اور ان کے ایمان کی گواہی دی گئی۔ کیونکہ جو لوگ اسلام کی خاطر اپنے عزیز و اقارب، مال و دولت اور گھربار چھوڑ کر وطن سے نکل آئے وہ بھی تعریف کے قابل ہیں اللہ کے ہاں مقبول ہیں اور وہ بھی قابل تعریف ہیں جنہوں نے خوش دلی سے ان کو اپنے پاس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 70–75

آیات 70 تا 75 اسرار و معارف رب جلیل نے ان قیدیوں کو فراموش نہیں کردیا ۔ بلکہ انہیں بھی تسلی دی اور فرمایا اے حبیب ان قیدیوں سے کہیئے دل برداشتہ نہ ہوں کہ شکست اور قید کی ذلت کے بعد اب مال دے کر جان چھڑائی بلکہ ان سے کہیے توبہ وا ہے اگر خلوص دل سے آج بھی ایمان لے آؤ تو اللہ کی تمہیں دنیا میں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی عطافرمائیں گے ۔ جو جنگ اور فدیہ میں تم کھو چکے ہو اور تمہاری ساری خطائیں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی حالت کی ہے ۔ اگر قلب میں خیربھلائی یعنی نور ایمان اور کی رحمت آجائے تو یہ سب کچھ آج بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ہاں اگر جھوٹ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 انکے مقابلے میں جو لوگ دارالاسلام قائم ہوجانے کے باوجود اس کی طرف ہجرت نہ کریں اور کافروں کی غلامی میں رہنے پر قانع ہوں ان اسلام کچا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ کہ دنیا میں عزت کی روزی سے مرادمال غنیمت اور فے ہے جو خالص ان لوگوں کو حق ہے جو سردرار کے ساتھ شریک جنگ ہوں ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 73–74

(7:73) الا تفعلوہ۔ الا اور لا سے مرکب ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ ای الا تفعلوا ما امرتکم من تو اصل المسلمین وتولی بعضہم بعضا حتی فی التوارث تفضیلا لنبۃ الاسلام علی نسبۃ القرابۃ ولم تقطعوا العلائق بینکم وبین الکفار۔ اے مسلمانو ! اگر تم باہمی مقاربت ومواصلت نہ رکھو گے اور ایک دوسرے کی مددگاری نہیں کرو گے اور دین اسلام کو نسبت کو رشتہ داری کی نسبت پر فضیلت نہ دو گے۔ اور اپنے اور کفار کے درمیان تعلقات کو منقطع نہیں کروگے تو ۔۔ الخ۔ تکن اصل میں تکون تھا۔ جواب شرط کی وجہ سے حرف آخرت پر جزم آگئی واؤ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی۔ تکن ہوگا۔ مضارع مجزوم واحد مؤنث غائب۔ کون مصدر ۔ (فتنہ برپا) ہوجائے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 72–75

آیات : 72 تا 75 لغات القرآن۔ جاھدوا۔ انہوں نے جہاد کیا۔ اوو۔ ٹھکانا دیا۔ سہارا دیا۔ ولایۃ۔ ساتھ۔ رفاقت۔ استنصروا۔ وہ مدد مانگیں۔ علیکم۔ تم پر (لازم ) ہے۔ النصر۔ مدد کرنا۔ میثاق ۔ عہدہ و معاہدہ ۔ الا تفعلوہ۔ اگر تم نے ایسے نہ کیا۔ فساد۔ تباہی۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ اولو الارحام۔ رحم والے۔ رشتہ دار۔ اولیٰ ۔ زیادہ قریب۔ تشریح : مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام ؓ نے ایمان و اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں وہ ایسی ایثار و قربانی کی مثالیں ہے جن کی مثال تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ابتداء میں تمام تر قربانیوں کے باوجود اگر کسی نے ہجرت نہیں کی تو صاف صاف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–75

مہاجرین وانصار کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہجرت کرکے اور اپنا اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ میں چلے آئے اور جو لوگ ان مہاجرین کے ہر طرح مددگار بنے بیشک وشبہ وہ کامل مومن ہیں۔ ان کا عقبیٰ کا انجام بیان کیا کہ کیا ان کے واسطے آخرت میں بخشش ہے اور دنیا میں بہبودی ہے۔ اور غنیمت ان کے واسطے حلال ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی جو بعد میں ہجرت کرکے آئے انہیں مہاجرین وانصار کے حکم میں داخل کیا، پھر فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ ہر شے کا جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 73–74

[27] یعنی آپس کی مخالفتوں اور دشمنیوں کے باوجود مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہوجاتے ہیں۔ [28] یعنی جو ہدایات آیت 27 میں دی گئی ہیں اگر ان پر عمل نہ کرو گے تو کفار قوی ہوں گے اور مسلمان کمزور جس کا نتیجہ فتنہ و فساد کی صورت میں رونما ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–74

(ف 1) یعنی بفہوائے الکفر مسلئۃ واحدۃ ۔ تمام کافر کفر کی تائید پر کمربستہ ہیں اور آپس میں اتحاد واخوت کے تعلقات قائم رکھتے ہیں جہاں کہیں اور جب کہیں اسلام سے تصادم ہوتا ہے ، یہ سب اکھٹے ہوجاتے ہیں اور اپنے اختلافات کو بھول جاتے ہیں ، اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بھی متحد الکلہ رہیں اور پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہیں ورنہ کفر مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان پیدا کر دے گا ، کیونکہ کفر واسلام میں ایک دائمی جنگ اور ایک مستقبل آویزش ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

74 اور جو لوگ ابتدائً مسلمان ہوئے اور ہجرت کے زمانے میں ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں انہوں نے جہاد بھی کیا اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کے رہنے اور بسنے کو جگہ دی اور انہوں نے مہاجرین کی مدد کی یہی سب لوگ حقیقی ایمان … والے ہیں ان کے لئے بڑی مغفرت اور باعزت روزی ہے۔ کچھ وہ لوگ تھے جنہوں نے اول اسلام قبول کیا اور ابتداء ہی میں ایمان لائے اور جب ہجرت کا دور شروع ہوا تو انہوں نے ہجرت نبوی ﷺ کے زمانے میں ترک وطن بھی کیا ان مہاجرین اولین اور ان کی مدد کرنے والے انصار کو بشارت دی گئی ہے اور جو لوگ بعد میں ہجرت کرکے مدینہ آئے ان کا ذکر آگے آتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں بھی اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مہاجرین و انصار ہی دراصل ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں : 98: اسلام ہی وہ شے ہے جو سارے رشتوں سے بڑا رشتہ ہے اور اس میں منسلک ہونے والے ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہو سکتے ہیں کیونکہ یہی وہ رشتہ ہے جس نے سارے حسب و نسب کے رشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا جیسا کہ بدر میں تم نے دیکھا یہی معرکہ کارزار ہے جس میں مہاجرین مکہ کا بہت بڑا سخت امتحان لیا گیا لیکن بحمداللہ وہ اس سے پاس نکلے کیونکہ یہی وہ معرکہ ہے جس میں اپنے حقیقی بھائی ایک دوسرے کے سامنے صف آراء تھے۔ کسی کا باپ ، کسی کا بیٹا ، کسی کا چچا ، کسی کا ماموں اور کسی کا حقیقی بھائی اس کی اپنی تلوار کی زد میں تھا اور اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Mentioned in the third verse (74) are words of praise for the Sahabah who emigrated from Makkah and for the Ansar of Madinah who helped them, as well as the attestation to their being true Muslims and the promise of forgiveness and respectable provision made to them. When it was said: أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا (those are the believers in truth), the hint given was in the direction that those who did not migrate were though Muslims, but their Islam was neither perfect, nor certain - because there existed the probability that they may really be hypocrites professing Islam only…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–74

52. If the words 'unless you also help one another' in the verse are regarded as a continuation of the preceding verse, they would mean that if Muslims do not support each other in the way, unbelielers do, this would give rise to much mischief and disorder in the world. However, if these words are considered to be connected with the directives embodied in verse 72 onwards, their purpose would be to emphasize that the world would become full of mischief and disorder if the Muslims of Dar al-Islam (a) failed to help one another; (b) failed to provide political support and protection to the…

Read the full tafseer →