8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔

(1) بدر کے دن آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ ﷺ سے خاص عنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں اے محمد ﷺ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ بدر کے دن کی غنیمتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ملک ہیں، تمہیں اس بارے میں کوئی اختیار نہیں۔ یہ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور رسول اکرم ﷺ کا حکم اس میں نافذ ہوگا، غنائم کے لینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور باہمی جھگڑوں کی اصلاح کرو کہ کہیں غنی فقیر پر اور قوی ضعیف پر اور جوان بوڑھے پر زیادتی نہ کربیٹھے ، جب تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو تو صلح کے معاملات میں ان ہی کی پیروی کرو۔ شان نزول : (آیت) ”یسئلونک عن الانفال“۔ (الخ) امام ابوداؤد ؒ ، نسائی ؒ ، ابن حبان ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے یہ اعلان کردیا تھا کہ جو شخص کسی شخص کو قتل کرے یا قید کرے اس کو اتنا اتنا انعام ملے گا، سو بوڑھے تو جھنڈوں کے نیچے رہے اور جوان لوگ قتل غنیمت کی طرف دوڑے، بوڑھوں نے ان جوانوں سے کہا ہمیں بھی اس میں شریک کرو ہم تمہارے مددگار تھے، اور اگر تم پر کوئی حادثہ آپڑتا تو تم ہماری ہی پناہ لیتے۔ اس بارے میں ان لوگوں کے درمیان گفتگو ہوگئی، آپ ﷺ تک مقدمہ آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور امام احمد ؒ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا ہے کہ بدر کے روز میرا بھائی عمیر قتل کیا گیا تو میں نے اس کے بدلے سعید بن العاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے کر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ یہ تلوار مجھے دے دیجے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اس کو غنیمت میں رکھ دو ، میں لوٹا مگر مجھے بہت دکھ ہوا، میں ذرا ہی چلا تھا کہ سورة انفال نازل ہوگئی آپ نے فرمایا جاؤ اپنی تلوار لے لو۔ اور امام ابو داؤد ؒ ، ترمذی ؒ اور نسائی ؒ نے حضرت سعد ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں بدر کے روز ایک تلوار لیکر آیا اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے میرے سینہ کو مشرکین سے محفوظ رکھا ہے، یہ تلوار مجھے ہبہ کردیجیے، آپ نے فرمایا یہ نہ میری ہے اور نہ تمہاری، مجھ کو رنج ہوا میں نے دل میں کہا کہ مجھ ہی کو ملے گی، چناچہ رسول اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی وہ اس وقت میری نہ تھی اور اب وہ میری ہے میں تمہیں دیتا ہوں فرماتے ہیں پھر یہ آیت نازل ہوگئی۔ ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے چار اخماس نکالنے کے بعد، پانچویں حصہ کا حکم دریافت کیا گیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 8:2

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہ ہے مہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

(2) کیوں کہ جب اہل ایمان کو تو اللہ کی جانب سے جب کسی چیز مثلا صلح وغیرہ کا حکم دیا جاتا ہے تو ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ اور جب ان کو آیات الہی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان کے یقین اور ایمان کو اور پکا کردیتی ہیں، وہ حضرات غنیمتوں پر انحصار نہیں کرتے۔
Ayah 8:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

(3) اور وہ حضرات پانچ وقتہ نمازوں کو ان کے اوقات پر وضو کے ساتھ کمال رکوع و سجود کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے، اسے اطاعت الہی میں صدقہ و خیرات کرتے ہیں یا یہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
Ayah 8:4

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لئے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے) درجے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

(4) بس کامل اور سچے ایمان والے یہی لوگ ہیں، ان کے لیے آخرت میں بڑے بڑے درجاتا اور دنیا میں ان کے گناہوں کی معافی ہے اور جنت میں ان کے لیے بہترین ثواب ہے۔
Ayahs 8:5–6

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اس طرح نکلنا چاہئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے۔ گویا موت کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔

(5۔ 6) یہ امر بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ محمد ﷺ آپ کو آپ کے پروردگار نے مدینہ منورہ سے قرآن حکیم کے ساتھ یا جنگ کے ارادہ سے (بدر کی طرف) روانہ کیا اور ایک جماعت لڑائی کو شاق اور ناگوار سمجھ رہی تھی اور اس کے باوجود کہ ان پر یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ آپ بغیر حکم خداوندی کے کوئی کام نہیں کرتے، وہ آپ سے جنگ کے بارے میں بطور مشورہ جھگڑ رہے تھے۔ شان نزول : (آیت) ”کما اخرجک ربک من“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منور میں تھے ہمیں اطلاع ملی کہ ابوسفیان کا قافلہ آرہا ہے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کیا ارادہ ہے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہمیں غنیمت عنایت فرمائے، چناچہ ہم نکلے اور ایک یا دو دن چلے کہ ابوجہل لشکر لے کر بدر میں آگیا آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگوں کی کیا رائے ہے، ہم نے عرض کیا اس قوم سے قتال کی تو ہماری اندر طاقت نہیں، ہم تو صرف قافلہ کی نیت سے آئے تھے، اس پر حضرت مقداد ؓ نے فرمایا : ایسا مت کہو، جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم نے کہا تھا کہ ”تم اور تمہارا اللہ جاکر لڑو“۔ ہم یہیں بیٹھے ہیں۔“۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، اور ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابو سفیان اور ابو جہل کے) دو گرہوں میں ایک گردہ تمہارا مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بےہتھیار) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور جو کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔

(7۔ 8) اور وہ وقت بھی یاد کرو، جب کہ تم سے ان جماعتوں یعنی قافلہ اور لشکر میں سے ایک کے غنیمت میں ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ اور تمہاری خواہش تھی کہ قافلہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنی مدد اور قوت سے دین اسلام کا حق ہونا ظاہر کردے، اور ان کافروں کی جڑ ہی کاٹ دے تاکہ دین اسلام کا مکہ مکرمہ میں نام بلند ہو، شرک اور مشرک نیست ونابود ہوجائیں، اگرچہ یہ مشرک اس چیز کو ناپسند ہی کریں۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا کہ) (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے۔

(9) بدر کے روز جب تم لوگ مدد کے لیے دعا کررہے تھے، پھر تمہاری پکار سن لی گئی کہ ایک ہزار فرشتوں سے میں تمہاری مدد کروں گا جو سلسلہ وار چلے آئیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”اذ تستغیثون ربکم فاستجاب“۔ (الخ) حضرت امام ترمذی ؒ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مشرکین مکہ کو دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ کی جماعت کے لوگ تین سو تیرہ تھے، چناچہ آپ ﷺ قبلہ رخ ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے کہ یا الہ العالمین جو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اس کو پورا کر، یا الہ العالمین مسلمانوں کی اگر یہ جماعت ہلاک ہوجائے گی تو پھر زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی، آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے ہاتھوں کو دراز کیے ہوئے اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی چادر مبارک گرگئی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی چادر مبارک اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈالی پھر آپ کو پیچھے کی طرف سے چمٹ گئے۔ اور عرض کرنے لگے، اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ کے پروردگار سے آپ کی آہ وزاری بہت ہوگئی وہ ضرور اس چیز کو پورا کرے گا جس کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فرشتوں کے ذریعے سے مدد فرمائی۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل اس سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

(10) اور یہ امداد محض اس حکمت سے تھی کہ تمہیں خطبہ سے بشارت ہو اور واقعہ فرشتوں کی ایہ امداد اس ذات کی طرف سے تھی جو اپنے دشمنوں کو سزا دینے میں زبردست ہے اور حکمت والا ہے کہ ان کے لیے قتل اور شکست کا فیصلہ کیا اور تمہارے لیے غنیمت اور مدد کا فیصلہ۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔

(11) اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ تم پر اپنی جانب سے دشمن سے راحت دینے کے لیے اونگھ کو طاری کررہا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر بڑا احسان تھا اور اس ذات نے آسمان سے پانی برسایا تاکہ تمہیں چھوٹی ناپاکی اور بڑی ناپاکی سے پاک کر دے۔ اور تمہارے دلوں سے شیطانی وسوسہ کو دور کردے اور اس کے لیے تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور بارش سے ریت پر تمہارے پاؤں کو جمادے یا یہ کہ بارش سے ریت کو جمادے تاکہ پیر اس پر جمنے لگیں ،
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور اس کا پور پور مار (کر توڑ) دو۔

(12) اور جب آپ کے پروردگار نے ان امداد کے فرشتوں کو وحی کی، یا حکم دیا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں کہ لڑائی میں مومنوں کی مدد کرو فتح کی بشارت دے کر ان کی ہمت بڑھاؤں، میں ان کفار کے دلوں میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا رعب ڈالے دیتا ہوں۔
Ayahs 8:13–14

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔ تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لئے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار ہے)

(13۔ 14) ان کافروں کا قتال اس لیے کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین کی مخالفت کی ہے اور جو ایسا کرتا ہے ہم اسے سخت سزا دیتے ہیں اور اس دنیا میں بھی سزا چکھو اور آخرت میں بھی جہنم کا عذاب ہے۔
Ayahs 8:15–16

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لئے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

(15، 16) بدر کے دن کافروں سے سامنا ہوجانے کے بعد ان سے پیٹھ مت پھیرو اور جو شخص بدر کے دن شکست کھا کر ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے اور مدد حاصل کرنے کی وجہ سے ہو اور اس سے مستثنی ہے باقی جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کے ساتھ واپس لوٹے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمد ﷺ جس وقت تم نے (کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزما لے۔ بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

(17) اور بدر کے روز جبریل امین ؑ اور دوسرے فرشتوں نے کافروں کو قتل کیا اور مشرکین تک آپ نے مٹی نہیں پھینکی لیکن واقعی وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی۔ تاکہ اس مٹی پھینکنے کی وجہ سے مدد اور غنیمت کے ذریعے مسلمانوں کو بہترین بدلہ دے، اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو سننے والا اور تمہاری مدد سے باخبر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”وما رمیت اذ رمیت“۔ (الخ) امام حاکم ؒ نے سعید بن المسیب ؓ کے ذریعے مسیب سے روایت کیا ہے کہ ابی بن خلف احد کے روز رسول اکرم ﷺ کی طرف آیا، اس کا راستہ چھوڑ دیا اس کے سامنے سے حضرت مصعب بن عمیر ؓ آئے۔ اور رسول اکرم ﷺ نے ابی بن خلف کی ہنسلی اس کے خود اور زرہ کے درمیان سے دیکھی، آپ نے اس میں اپنا نیزہ مارا، وہ گھوڑے سے گرپڑا اور آپ کے نیزہ مارنے سے خون وغیرہ نہیں بہا البتہ اس کی زرہ کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ٹوٹ گئی، اس کے ساتھی دوڑ کر اس کے پاس آئے۔ وہ بیل کی طرح چنگاڑ رہا تھا تو اس کے ساتھیوں نے کہا ایسی کون سی بات پیش آگئی ہے یہ تو معمولی سی خراش ہے تو اس نے ان سے رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا کہ نہیں بلکہ میں ابی کو قتل کروں گا۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جس قدر مجھے چوٹ آئی ہے اگر اس قدر ذی المجاز والوں کو آتی تو سب مرجاتے۔ غرض کہ ابی مکہ جانے سے پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا اور مرگیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، حدیث صحیح الاسناد ہے مگر غریب ہے۔ اور ابن جریر ؒ نے عبدالرحمن بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے خیبر کے دن تیر کمان منگوائی اور تیر قلعہ پر مارا، تیر گھستا چلا گیا تاآنکہ ابن ابی الحقیق کو مار ڈالا اور وہ اپنے بستر پر تھا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، یہ حدیث مرسل ہے، سند عمدہ مگر غریب ہے۔ مگر مشہور یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے روز اس وقت اتری جب آپ نے کفار کی طرف ایک مٹھی بھر کر کنکریاں ماریں، چناچہ ابن جریر ؒ ، ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے حکیم بن حزام سے روایت کیا گیا ہے کہ جب بدر کا دن ہوا تو ہم نے کچھ آواز سنی، گویا کہ آسمان سے زمین کی طرف آئی گویا کہ وہ کنکریوں کی سی آواز ہے، جو ایک طشت میں آئیں اور رسول اکرم ﷺ نے ان کنکریوں کو پھینکا، ان ہی کی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی، اسی چیز کی طرف اللہ تعالیٰ نے فرمان میں اشارہ ہے ، (آیت) ”وما رمیت اذ رمیت“۔ الخ اور ابوالشیخ ؒ نے اسی طرح جابر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے، نیز ابن جریر ؒ نے دوسرے طریقہ سے اسی طرح مرسل روایت نقل کی ہے۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ (ہے) کہ کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

(18) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا تھا۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(کافرو) اگر تم (محمد ﷺ پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر (تمہیں عذاب) کریں گے۔ اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے۔

(19) اگر تم مدد طلب کرتے تو مدد تو تمہارے مقابلہ میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے لیے آچکی ہے کیوں کہ ابوجہل نے لڑائی شروع ہونے اور شکست کھانے سے پہلے دعا کی تھی کہ الہ العالمین دونوں ادیان میں جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہو اور جو سب سے افضل ہو اس کی مدد فرما، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی مدد فرمائی۔ اور اگر تم قتال اور کفر سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ اور اگر تم رسول اکرم ﷺ سے لڑائی کی تیاری کرو گے تو پھر بدر کی طرح ہم دوبارہ تمہارا خاتمہ کردیں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی بھی زیادہ ہو، عذاب الہی کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہ آئے گی اور اللہ تعالیٰ کی مدد ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ان تستفتحوافقد“۔ (الخ) حضرت امام حاکم ؒ نے عبداللہ بن ثعلبہ بن صغیر ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ دعا کرنے میں ابوجہل تھا کیوں کہ اس نے مقابلہ کے وقت کہا ”اے اللہ جو ہم میں قاطع رحم ہو اور ایسی باتیں کرتا ہو جن کا اسے علم نہ ہو اس کو ہلاک کردے تو اس کے حق میں یہ استفتاح تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ“ اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو فیصلہ تمہارے سامنے آموجود ہوا۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم ؒ نے عطیہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل نے دعا کی اے اللہ دونوں جماعتوں میں جو زیادہ عزت و شرافت والی ہو اس کی مدد فرما، چناچہ یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو۔

(20) یعنی صلح کے معاملات میں حکم الہی اور فرمان رسول اکرم ﷺ کی خلاف ورزی مت کرو، اور تم نصائح قرآنی اور امورصلح کو سن تو لیتے ہی ہو۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم خدا) سن لیا مگز (حقیقت میں) نہیں سنتے۔

(21) اور اطاعت میں یا نافرمانی کرنے میں عبد دار اور نضر بن حارث وغیرہ کی طرح مت بنو، جو زبان سے دعوی اطاعت کا کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ اطاعت نہیں کرتے اور ان ہی لوگوں کے بارے میں اگلی آیت نازل ہوئی ہے۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

(22) کہ بدترین خلقت واخلاق کے اعتبار سے وہ لوگ ہیں جو حق کی بات سننے اور کہنے سے بہرے اور گونگے ہیں اور حکم الہی اور توحید الہی کو بالکل نہیں سمجھتے ،
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

(23) اور اگر اللہ تعالیٰ بنی عبد دار وغیرہ میں کوئی خوبی دیکھتے تو انھیں ایمان کی دولت سے ضرور بہرہ ور فرماتے، اور اگر اس حالت میں ان کو ایمان کی توفیق دے دیں تو وہ ضرور اس سے روگردانی کرجائیں اور جھٹلانا شروع کردیں، اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو بخوبی جانتے ہیں۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ جبکہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسکے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔

(24) اے جماعت رسول اکرم ﷺ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کہنے کو بجا لایا کرو، جب کہ وہ تمہاری عزت و شرافت اور قتال سے زندگی بخش چیز کی طرف تمہیں بلایا کریں۔ اے مسلمانوں کی جماعت اللہ تعالیٰ مومن اور اس کے قلب کے درمیان محافظ بن جاتا ہے، اس طرح کہ قلب مومن کو ایمان کے اوپر محفوظ رکھتا ہے کہ اس سے کفر سرزد نہیں ہوتا، اور کافر کے دل کو کفر ہی پر قائم رکھتا ہے کہ اسے ایمان کی دولت نصیب ہی نہیں ہوتی اور بیشک روز قیامت تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے وہ تمہارے اعمال کا تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

(25) اور تم لوگ ہر ایک مصیبت سے بچو جو کہ ظالم ومظلوم سب کو شامل ہوگی ،
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخانماں نہ کریں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو۔

(26) اور اگر اے مہاجرین کی جماعت اس وقت کو بھی یاد رکھو جب تم تعداد میں کم تھے اور کمزور سمجھے جاتے تھے۔ سرزمین مکہ میں اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ مکہ والے تمہیں لوٹ نہ لیں یا تمہیں قیدی نہ بنالیں تو ہم نے تم لوگوں کو مدینہ منورہ میں جگہ دی اور بدر کے روز تمہاری مدد کی اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی اور تمہیں مال غنیمت عطا فرمایا تاکہ بدر کے روز جو تمہیں نصرت اور غنیمت حاصل ہوئی اس نعمت خداوندی پر اس کا شکر کرو۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو۔

(27) نیز مروان اور ابولبابہ بن عبد المنذر تم لوگ بنی قریظہ کو اس بات کا اشارہ کرکے کہ سعد بن معاذ کے حکم پر مت اترو دین خداوندی میں خلل مت ڈالو اور تم احکام الہی میں جن کی حفاظت تم پر امانت کے طور پر واجب ہے خلل نہ ڈالو اور تم لوگ تو اس خلل کو جانتے ہی ہو۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لا“۔ (الخ) حضرت سعید بن منصور ؒ نے عبداللہ بن ابی قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر کے متعلق نازل ہوئی، قریضہ والے دن ان سے بنو قریظہ نے پوچھا تھا کہ یہ کیا فیصلہ ہوگا، تو انہوں نے حلق کے اشارے سے بتادیا تھا، کہ گردنیں اڑا دی جائیں گی، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ابولبابہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس اشارہ کے بعد میری قوم اپنی جگہ سے نہیں ہٹی مگر میں نے اچھی طرح جان لیا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے معاملہ میں خیانت ہوگئی ہے۔ ابن جریرہ ؒ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوسفیان مکہ معظمہ سے نکلا تو جبریل امین رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتلایا کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے، رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ ابوسفیان فلاں مقام پر ہے، اس کی طرف چلو اور اس بات کو راز میں رکھو تو منافقین میں سے ایک شخص نے ابوسفیان کو اس بات کی اطلاع کردی کہ محمد ﷺ تمہارے پیچھے آرہے ہیں لہٰذا اپنا بچاؤ کرلو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حقوق میں دخل اندازی نہ کرو، یہ حدیث بہت غریب ہے اس کی سند اور متن میں کلام ہے، نیز ابن جریر ؒ نے سدی ؒ سے روایت کیا ہے کہ منافقین رسول اکرم ﷺ سے کسی بات کی خبر لگاتے اور پھر اس کو ظاہر کردیتے تھے، مشرکین کو اس کی اطلاع ہوجاتی تھی، اس بات پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے۔ اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں) کا بڑا ثواب ہے۔

(28) اور لبابہ یہ بات بھی یاد رکھو کہ بنی قریظہ میں جو تمہارے اموال واولاد ہیں وہ تمہارے لیے ایک آزمایش ہیں، اور جہاد پر جنت میں بہت بڑا ثواب ہے۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دے گا (یعنی تم کو ممتاز کر دے گا) اور تمہارے گناہ مٹا دیگا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑے فضل والا ہے۔

(29) اگر تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تقاضے پورے کرتے رہو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور نجات عطا فرمائے گا اور تمہارے تمام صغیرہ گناہوں کو معاف فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مغفرت اور جنت کے ذریعے بڑا فضل فرمانے والے ہیں۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کردیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (ادھر) خدا چال چل رہا تھا اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

(30) اور جب دارالندوہ میں ابوجہل اور اس کی جماعت کے لوگ آپ کے بارے میں بڑی بڑی تدبیریں سوچ رہے تھے تو عمرو بن ہشام کہنے لگا کہ آپ کو قید کرلیں اور ابوجہل بن ہشام کا مشورہ یہ تھا کہ سب مل کر آپ کو قتل کرڈالیں اور ابو البختری بن ہشام کی رائے تھی کہ آپ کو جلاوطن کردیں۔ اے محمد ﷺ یہ لوگ آپ کو قتل کرنے اور ایذا پہنچانے کے بارے میں اپنی منصوبہ بندی کررہے تھے اور اللہ تعالیٰ بدر کے روز ان لوگوں کے قتل اور نیست ونابود ہوجانے کی سکیم فرما رہے تھے اور سب سے زیادہ اچھی سکیم اور تدبیر کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واذ یمکربک الذین“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش کی ایک جماعت اور ہر ایک قبیلہ کے شرفا دار الندوہ میں جانے کے لیے جمع ہوئے، راستہ میں ان کو شیطان ایک بہت بوڑھے شخص کی شکل میں ملا، جب ان لوگوں نے اسے دیکھا تو دریافت کیا کہ تو کون ہے ؟ شیطان بولا کہ میں اہل نجد کا ایک شیخ ہوں، میں نے سنا کہ تم سب لوگ جمع ہورہے ہو تو اس لیے میں بھی آگیا تاکہ میرے مشورہ سے تم محروم نہ ہو، چناچہ یہ ابلیس بھی ان لوگوں کے ساتھ اندر چلا گیا اور جا کر کہنے لگا کہ اچھا اس شخص یعنی رسول اکرم ﷺ کے معاملہ میں غور کرو تو کسی نے کہا کہ ان کو مضبوط بیڑیوں میں قید کرکے ڈال دو ، یہاں تک کہ ان پر مدت گزر جائے تو جیسا کہ پہلے شعرا زھیر اور نابغہ وغیرہ ہلاک ہوئے ہیں یہ بھی ہلاک ہوجائیں گے کیوں کہ یہ بھی ان ہی میں سے ہے۔ ان کی یہ تدبیر سن کر اللہ تعالیٰ کا دشمن نجدی بوڑھا نے کہا یہ تمہاری رائے ٹھیک نہیں کیوں کہ ان کے قید کی جگہ سے ان ساتھیوں تک کوئی سبیل نکل جائے گی، اور وہ سب ایک دم آکر ہجوم کرجائیں گے جس کی وجہ سے تمہارے ہاتھوں سے ان کو لے جائیں گے اور پھر تم سے انکی حفاظت کریں گے اور تم پر وہ اطمینان نہیں کریں گے اور انکو تمہارے شہر سے لے جائیں گے لہٰذا اس کے علاوہ اور کوئی تدبیر سوچو، تو کسی نے کہا ان کو اپنے ہاں سے نکال دو اور ان سے راحت حاصل کروکیون کہ جب وہ تمہارے ہاں سے چلے جائیں گے تو انکی باتیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ تو یہ نجدی بوڑھا نے کہا خدا کی قسم یہ بھی تمہاری ٹھیک رائے نہیں ہے کیا تم ان کی زبان کی مٹھاس اور سلاست بیان اور دلوں میں اتر جانے والی باتیں نہیں سنتے ہو، خدا کی قسم اگر تم لوگوں نے ایسا کیا اور محمد ﷺ نے اپنا کلام عرب کے سامنے پیش کیا تو سب عرب ان کے گرد جمع ہوجائیں گے اور پھر سب تم پر حملہ آور ہو کر تمہیں تمہارے شہر سے نکال دیں گے، تمہارے شرفاء کو قتل کردیں گے سب نے اس رائے کو پسند کیا تو بوڑھا کہنے لگا کہ اس کے علاوہ اور کوئی تدبیر سوچو تو ابوجہل کہنے لگا کہ اب میں ایسے رائے پیش کرتا ہوں جو تم میں سے ابھی تک کسی کو نہیں سوجھی اور اس کے علاوہ تم دوسرے رائے بھی پسند نہیں کرو گے، سب نے کہا وہ کیا رائے ہے ؟ ابوجہل کہنے لگا کہ ہر ایک قبیلہ سے ایک دلیر اور بہادر نوجوان کا انتخاب کرلو اور پھر ان میں سے ہر ایک نوجوان کو ایک تلوار دے دو اور اس کے بعد سب مل کر ایک ساتھ (العیاذباللہ) آپ کو قتل کردیں، اس طریقہ سے قتل کرنے میں آپ کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس قبیلہ بنی ہاشم میں پورے قریش سے مقابلہ کی قدرت ہوگی، جب بنی ہاشم یہ مشکل صورتحال دیکھیں گے تو دیت قبول کرلیں گے اور ہمیں ان سے سکون سے مل جائے گا اور ہم سے ان کی تکالیف دور ہوجائیں گی، یہ سن کر نجدی بوڑھا کہنے لگا خدا کی قسم رائے صحیح ہے، اس سے بہتر اور کوئی رائے نہیں ہوسکتی، چناچہ سب اس رائے پر متفق ہو کر چلے گئے۔ دوسری طرف جبریل امین ؑ رسول اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو حکم دیا کہ جس بستر پر آپ رات کو آرام فرماتے ہیں، آج اس پر آرام نہ فرمائیں اور آپ کی قوم کے مکر سے آپ کو خبردار کیا گیا۔ لہذا رسول اکرم ﷺ نے اس رات اپنے گھر میں آرام نہیں کیا اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کا حکم دیا لہٰذا چناچہ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ پر یہ آیات اتریں جن میں اللہ تعالیٰ اپنے اس انعام کو جو آپ پر فرما دیا تھا یاد دلارہا ہے یعنی اس واقعہ کا بھی ذکر کریں جب کہ کافر لوگ آپ کے متعلق تدبیریں بنا رہے تھے۔ ابن جریر ؒ نے بواسطہ عبید بن عمیر ؒ ، مطلب بن ابی وداعۃ سے روایت کیا ہے کہ ابو طالب نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ کی قوم آپ کے بارے میں کیا مشورہ کررہی ہے۔ آپ نے فرمایا وہ مجھے قید کرنے یا قتل کر ڈالنے یا جلاوطن کرنے کی تیاری کررہی ہے، ابوطالب نے کہا کہ آپ کو اس کی کس نے خبردی آپ نے فرمایا میرے اللہ تعالیٰ نے، ابوطالب کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تو تمہارا ہے ان کو نیکی کے بارے میں کہو آپ ﷺ نے کہا کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کو وصیت کروں بلکہ وہ مجھے وصیت فرماتے ہیں، اس پر یہ آیت اتری کہ اس واقعہ کو بھی یاد کیجیے (الخ)۔ حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں کہ ابوطالب کا اس میں ذکر غریب بلکہ منکر ہے کیوں کہ یہ واقعہ ہجرت کی رات کو پیش آیا ہے اور ہجرت ابوطالب کے فوت ہونے کے تین سال بعد ہوئی ہے۔
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں۔ اور یہ ہے ہی کیا ؟ صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

(31) اور جب نضر بن حارث اور اس کی جماعت کے سامنے ہمارے احکام پڑھے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ تو ہم نے سن لیا اگر ہم ارادہ کریں تو جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں، اس جیسا ہم بھی کہہ سکتے ہیں محمد ﷺ جو کچھ کہتے ہیں وہ تو پہلے لوگوں کی بےبنیاد باتیں ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واذا تتلی علیہم ایتنا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرت سعید بن جبیر ؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط، طعیمۃ بن عدی اور نضر بن حارث کو قتل کروایا اور مقداد نے نضر کو قید کیا تھا جب نضر کی گردن مارنے کا آپ نے حکم فرمایا تو مقداد نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ یہ میرا قیدی ہے، آپ نے ارشاد فرمایا اس نے اللہ کی کتاب کے بارے میں بہت زبان درازی کی ہے اور اسی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے تو انہوں نے اس آیت کو سن کر کہا کہ ہم نے یہ آیت سن لی ہے۔
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جن انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج۔

(32) اور جب نضر بن حارث نے کہا کہ اے اللہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں کہ تو اکیلا ہے اگر یہ واقعی درست ہے تو اس کے انکار پر ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی دردناک عذاب نازل کردے، چناچہ یہ نضر بن حارث بدر کے دن مارا گیا۔ شان نزول : (آیت) ”واذ قالوا اللہم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے اس فرمان الہی کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جن تک تم ان میں تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔

(33) اللہ تعالیٰ آپ کے ان میں موجود ہوتے ہوئے ابوجہل بن ہشام نے کہا اے اللہ اگر یہ قرآن واقعی آپ کی طرف سے نازل شدہ شدہ ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے یا ہم پر کوئی سخت عذاب نازل کیجیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اللہ ایسا ہرگز نہ کریں گے کہ ان میں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے ان کو ایسا اجتماعی عذاب دیں۔ ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور ”غفرانک غفرانک“۔ کہتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”وما کان اللہ لعیذبھم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے یزید بن رومان اور محمد بن قیس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش میں سے کچھ لوگوں نے بعض سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو ہمارے درمیان عزت دی ہے اے اللہ اگر یہ حق ہو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے، جب شام ہوئی تو اپنے اس قول پر شرمسار ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (آیت) ”وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون“۔ سے ”لا یعلمون“۔ تک نازل فرمائی۔ ابن جریر ؒ ہی نے ابن انبری سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (اب) انکے لئے کونسی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں ؟ اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(34) اور جب آپ ان کے ہاں سے تشریف لے آئے تو اب ان کا کیا حق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک نہ کرے وہ تو حدیبیہ کے سال رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو مسجد حرام کا طواف کرنے سے بھی منع کرتے ہیں حالانکہ وہ مسجد کے متولی بننے کے بھی مستحق نہیں، اس کے حقیقی متولی تو رسول اکرم ﷺ اور آپ کی جماعت ہے جو کہ کفر وشرک اور فواحش سے پرہیز کرتے ہیں مگر ان میں سے سب اس چیز کی خبر نہیں رکھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ومالہم الا یعذبھم اللہ“۔ (الخ) اس کے بعد آپ مدینہ منورہ آگئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون“۔ کیوں کہ مسلمانوں میں سے کچھ حضرات مکہ مکرمہ میں باقی رہ گئے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے رہتے تھے، جب وہ حضرات بھی مکہ مکرمہ سے تشریف لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (آیت) ”وما لھم الا یعذبھم اللہ“۔ کہ ان کا کیا حق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ذرا سی سزا بھی نہ دے چناچہ فتح مکہ کی اجازت دی گئی اور یہی وہ عذاب ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سٹیاں اور تالیاں بجانے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو۔

(35) اور ان کی عبادت، خانہ کعبہ کے پاس صرف یہ تھی کہ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا، لہٰذا رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہونے کے سبب بدر کے دن مزہ چکھو۔ شان نزول : (آیت) وما کان صلاتہم عند البیت“۔ (الخ) واحدی ؒ نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ کافر لوگ بیت اللہ شریف کے طواف کے وقت سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے، اس پر یہ آیت اتری اور ابن جریر ؒ نے سعید ؒ سے روایت کیا ہے کہ قریش رسول اکرم ﷺ کو طواف میں پریشان کرتے تھے، اور آپ کا مذاق اڑاتے اور سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے اس پر یہ آیت اتری ہے۔
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اپنا، مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لئے (موجب) افسوس ہوگا۔ اور وہ مغلوب ہوجائیں گے اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

(36) بدر کے دن ابوجہل اور اس کے لوگ یہ تیرہ آدمی زیادہ سرگرم تھے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، کہ یہ لوگ اپنے مالوں کو اس لیے خرچ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین اور اطاعت خداوندی سے روکیں، سو یہ دنیا میں خرچ کرتے رہیں گے اور بالآخر یہ چیز ندامت و حسرت کا باعث ہوگی اور یہاں بھی بدر کے دن مارے جائیں گے اور مغلوب ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین کفروا“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے زہری ؒ اور محمد بن یحییٰ بن حبان ؒ اور عاصم بن عمیر بن قتادہ ؒ اور حصین بن عبدالرحمن ؒ سے روایت کیا کہ جب قریش بدر کے دن شکست کھاچکے اور مکہ مکرمہ واپس آئے تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمۃ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ قریش کے ان لوگوں بات چیت کی کہ اے قریش کی جماعت محمد ﷺ نے تمہیں شکست دی ہے اور تمہارے پیارے عزیزوں کو مار ڈالا ہے تو اس مال سے ان سے پھر لڑائی کرنے کے لیے ہماری مدد کرو شاید ہم اس نقصان کا مداوا کرسکیں چناچہ وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہوگئے اسی طرح ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ اتاری۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے احکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے متعلق نازل ہوئی ہے اس نے مشرکین پر چالیس اوقیہ چاندی خرچ کی تھی، نیز ابن جریر ؒ نے ابن ابزی ؒ اور سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے متعلق نازل ہوئی ہے اس نے احد کے دن رسول اکرم ﷺ سے لڑائی کے لیے دو ہزار حبشی کرایہ پر بلائے تھے
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔

(37) قیامت کے دن ابوجہل اور اس کی جماعت دوزخ میں جمع کیا جائے گی تاکہ کافر مومن سے اور منافق مخلص سے اور بدکار نیکو کار سے نمایاں اور ممتاز ہوجائے تاکہ سب ناپاک آدمیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر اور جمع کرکے دوزخ میں ڈال دے ایسے ہی لوگ انجام کے اعتبار سے گھاٹے میں ہیں۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائیگا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا۔

(38) اے محمد ﷺ آپ ابوسفیان اور اس کی جماعت سے کہہ دیجیے کہ اگر یہ کفر وشرک اور بتوں کی عبادت اور آپ کے ساتھ لڑائی کرنے سے رک جائیں تو ان کے پہلے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے اور اگر یہ آپ کے ساتھ لڑائی اور دشمنی باقی رکھیں گے تو پہلے کافروں کے بارے میں قانون نافذ ہوچکا ہے کہ اولیاء اللہ کی بدر کے دن اعداء اللہ کے مقابلہ میں مدد کی گئی۔
Ayah 8:39

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے۔ اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

(39) اور مومنوں ! مکہ کے کافروں سے اس حد تک لڑائی کرو کہ ان میں کفر وشرک بتوں کی پوجا اور حدود حرم میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ لڑائی کا وسوسہ باقی نہ رہے اور حرم اور پرستش میں صرف دین اسلام ہی باقی رہ جائے، پھر اگر یہ کفر وشرک اور بتوں کی پوجا اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ قتال سے رک جائیں تو اللہ تعالیٰ خیر وشر ہر ایک سے باخبر ہے۔
Ayah 8:40

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔

(40) اور اگر ایمان سے روگردانی کریں تو اے مومنو ! کی جماعت یہ جان لو کہ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرنے والے اور معین و مددگار ہے وہ بہت ہی اچھا محافظ و مددگار اور بہت ہی عمدہ ساتھ دینے والا ہے۔