8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 8:1–4

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے رسول ! ) آپ سے مال غنیمت کا حکم دریافت کرتے ہیں ٗ کہہ دو کہ مال غنیمت تو اللہ اور رسول کا ہے۔ سو اللہ سے ڈرتے رہو اور باہمی 1 ؎ معاملات درست رکھو اور اپنی حالت کو درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور جب اس کی آیتیں انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اس سے ان کا ایمان اور زیادہ (تروتازہ) ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے دیتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی وہ سچے مسلمان ہیں (اور) انہیں کے لئے ان کے رب کے ہاں درجے ہیں اور بخشش اور عزت کی روزی۔

1 ؎ اور اپنی حالت کو درست کرو۔ ترکیب : عن 2 ؎ الانفال یسئلون سے متعلق ‘ الانفال مبتداء للّٰہ والرسول خبر المؤمنون مبتداء الذین موصول اذا ذکر شرط وجلت جواب جملہ صلہ واذا تلیت شرط و جواب مل کر جملہ معطوف ہے پہلے صلہ میں داخل مجموعہ خبر و علی ربہم جملہ یا حال ہے یا صلہ میں داخل بذریعہ عطف الذین یقیمون صلہ و موصول پہلے الذین سے بدل حقًا مفعول مطلق ہے فعل محذوف سے عند ربہم درجات بمعنی اجر کا ظرف۔ 3 ؎ تفسیر : یہ سورة ایام جنگ بدر میں مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ حسن اور عکرمہ و جابر بن زید و عطا وغیرہم ائمہ تفسیر سے منقول ہے ابو الشیخ و ابن مردویہ و نحاس نے ابن عباس ؓ سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور اس کو سورة بدر بھی کہتے ہیں۔ اس کی پچھتر یا چھہتر آیات ہیں۔ انفال نفل کی جمع ہے۔ نفل اور نافلہ اس کو کہتے ہیں جو اصل پر زائد چیز حاصل ہو۔ غنیمت کے مال کو اس لئے انفال کہتے ہیں کہ وہ برخلاف اور امتوں کے ایک نفع کی بات ثواب جہاد سے زائد (جو اصل ہے) خاص اس امت کو حلال ہے۔ ان کو حلال نہ تھا۔ جیسا کہ اب تک عہد عتیق کے مختلف مقامات سے ثابت ہے اور نماز نفل کو بھی اس لئے نفل کہتے ہیں کہ وہ فرض سے زائد بات ہے اور وہ جنگ میں سردار سپاہ اسلام کو انعام کے طور پر دیتا ہے اس کو بھی نفل کہتے ہیں۔ اس جگہ مراد مال غنیمت ہے جو کفار سے مقابلہ کے بعد لیا جاتا ہے جس کو لوٹ 2 ؎ اس آیت کو اگلی آیت فان خمسہ الخ سے منسوخ قرار دینا ایک زائد بات ہے کس لیے کہ الانفال علیہ و رسول کے معنی یہ ہیں کہ انفال کا حکم اللہ رسول کے اختیار میں ہے سو یہ بات اگلی بات کہ اس کی یوں تقسیم ہونی چاہیے کچھ منافی ہیں۔ 3 ؎ انفال میں اور دیگر معانی انعام وغیرہ کو اس جگہ مراد لینا ممکن ہے مگر مراد غنائم ہیں۔ 12 منہ۔ کہتے ہیں۔ اس کا سبب نزول یہ ہے کہ جنگ بدر میں جب مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور مشرکین کا مال قبضہ اہل اسلام میں آیا تو اس کی تقسیم میں لوگوں کا اختلاف ہوا۔ جوانوں نے کہا ہمارا حق ہے ہمیں نے شکست دی ‘ بڈھوں نے کہا ہم تمہاری پشت پر تھے۔ اس لئے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تب یہ سورة نازل ہوئی۔ اس میں غنیمت اللہ اور رسول کے لئے قرار پائی یعنی اللہ کا مال ہے جس طرح وہ رسول کو تعلیم کرے تقسیم کرے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے سب کو برابر تقسیم کردیا جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے۔ فرمایا اللہ سے ڈرو ‘ آپس میں سلوک رکھو ‘ غنیمت پر جھگڑا نہ مچائو ‘ ہر بات میں اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اگر ایمان رکھتے ہو۔ پھر آگے حقیقی ایمانداروں کا وصف بیان فرماتا ہے کہ ان میں یہ پانچ باتیں ہوتی ہیں۔ اول جبکہ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو محبت اور خوف کے مارے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ دوم جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں تو اور بھی سن کر ایمان مستحکم ہوجاتا ہے۔ سوم وہ ہر کار بار میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہ تینوں وصف تو قوت نظریہ سے متعلق تھے۔ قوت عملیہ کے متعلق (4) نماز پڑھتے ہیں (5) اللہ کے دیے میں سے دیتے ہیں۔
Ayahs 8:5–8

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(یہ حکم بھی بظاہر ایسا ہی ناگوار ہے) جیسا کہ آپ کے رب نے ان کے گھر سے حکمت کے ساتھ باہر نکلنے کا آپ کو حکم دیا تھا اور مسلمانوں کی ایک جماعت تو اس سے ناخوش ہی تھی۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

حق ظاہر ہوجانے پر بھی تو (اے پیغمبر ! ) ایسا جھگڑ رہے تھے گویا کہ وہ موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور وہ اس کو دیکھ بھی رہے ہیں

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور جبکہ اللہ تم کو دو چیزوں میں سے ایک کا وعدہ دیتا تھا کہ یہ تم کو ملے گی اور تم یہ چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ اپنے حکم سے حق کو حق کرنا اور کافروں کی جڑ کاٹنا چاہتا تھا

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ حق کو ثابت کرے اور باطل کو مٹا دے اور مجرم پڑے برا مانا کریں۔

ترکیب : کما صفت ہے مصدر محذوف کی اے ھذہ الحالۃ فی کراھتھم لھا مثل اخراجک فی حال کر اہتھم وقد کان خیرا پس یہ کما خبر ہوگی مبتداء محذوف کی جو ھذہ ہے وان فریقاً جملہ حال ہے کہ اخرجک سے یجادلونک الخ جملہ حال ثانی ہے کانما جملہ صفت ہے مصدر محذوف کی۔ اذ یعدکم کا عامل اذکر محذوف کم مفعول اول احدی الطائفتین مفعول ثانی یعد کا انہالکم بدل ہے مفعول ثانی سے بدل الاشتمال۔ تفسیر : کما اخرجک اس تشبیہ میں علمائِ مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ ازانجملہ سب سے راجح یہ ہے کہ تقسیم بھی مسلمانوں کو بظاہر ایسی ہی ناگوا رہے جیسا کہ اے پیغمبر اس جنگ کے لئے آپ کا بحکم الٰہی گھر سے نکلنا ناگوار تھا لیکن جس طرح وہاں ان کی ناخوشی کا لحاظ نہیں کیا گیا ایسا ہی یہاں بھی لحاظ نہیں کس لئے کہ حکمت الٰہی اور انجام کار کے عمدہ نتائج تک ان کی عقلیں نہیں پہنچتیں۔ بندے تو بالعقل کی آسانی کو اور موجودہ فائدہ کو دیکھتے ہیں۔ اس جنگ کے لئے گھر سے نکلنے میں بظاہر تکلیف اور مشقت اور دشمنوں کی کثرت تعداد اور اپنی قلت کے سبب مارے جانے کا خوف تھا مگر اس جنگ نے مشرکین مکہ کی جو اسلام میں سدِراہ تھے کمر ہی توڑ ڈالی۔ اسی طرح غنیمت میں شرعی تقسیم کا قائم کرنا ‘ آیندہ لشکر کشی اور فتوحات کے لئے بہت ہی مفید ہے۔ ان آیات میں جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال رمضان کی پہلی تاریخوں میں آنحضرت ﷺ کو خبر دی گئی کہ ابو سفیان شام سے ایک کاروان تجارت کے ساتھ آرہا ہے جس میں صرف چالیس آدمی ہیں اور بہت کچھ اسباب ہے۔ اس کے تعاقب میں آنحضرت ﷺ تخمیناً تین سو انصار و مہاجرین لے کر نکلے۔ اس کو بھی خبر لگ گئی۔ تو وہ سمندر کے کنارے کنارے دوسرے رستہ ہو لیا اور اس نے ضمضم بن عمرو غفاری کو مکہ کی طرف دوڑایا کہ جلد میری مدد کو پہنچو ورنہ مسلمانوں نے گرفتار کرلیا۔ جب آنحضرت ﷺ ذفران کی وادی میں پہنچے تو قریش مکہ کے آنے کی خبر ملی جو ابو سفیان کی مدد کو آتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جبرئیل کی معرفت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دو باتوں میں سے ایک کا وعدہ کرلیا ہے خواہ قافلہ کو گرفتار کرلو خواہ کفار مکہ پر فتح حاصل کرلو تمہاری کیا مرضی ہے ؟ ابوبکر و عمر ؓ نے عرض کیا جو بہتر ہو کیجئے۔ اسی طرح انصار کے سردار سعد بن معاذ ؓ نے کہا کہ ہم ہر حال میں آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ نے فرمایا کفار سے مقابلہ کرو۔ ان سے پہلے چل کر میدان بدر میں پانی پر ڈیرہ ڈال دو مگر بعض لوگوں نے عذر کیا کہ ہم لڑائی کا سامان لے کر نہیں آئے۔ ہم تخمیناً تین سو وہ تقریباً ایک ہزار آخر اکثر مسلمان آمادہ جنگ ہوئے اور بدر میں لڑائی ہوئی جس میں کفار کو نمایاں شکست ہوئی۔ یہ تھا آنحضرت ﷺ سے حق بات پر جھگڑنا جو جبرئیل کی معرفت ظاہر بھی ہوچکی تھی اور یہ تھا ان کا موت کی طرف کھینچ کرلے جانا کیونکہ کثرت و شوکت قریش ادھر اپنی قلت و ضعف موت کا ظاہری سبب تھا جو آنکھوں کے روبرو تھا۔ اس لئے ان باتوں میں سے قافلہ کا لوٹنا جس میں کھٹکا نہ تھا ‘ پسند تھا اور اللہ کو تو کافروں کی جڑ کاٹنی اور اسلام کا بالا کرنا منظور تھا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا بہت سے کفار مارے گئے بہت سے گرفتار ہو کر آئے۔ ان آیات میں ان باتوں کا ذکر اور مسلمانوں کا گلہ ہے۔
Ayahs 8:9–10

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

اور (یاد کرو) تم اپنے رب سے فریاد کرنے لگے۔ سو وہ تمہاری فریاد کو پہنچا (وعدہ کیا) کہ میں لگاتار تمہاری ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور یہ تو اللہ نے صرف تمہارے لئے مژدہ اور تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے کیا تھا اور فتح تو اللہ ہی کی طرف سے ہے کیونکہ وہ زبردست اور حکمت والا ہے

ترکیب : اذ تستغیثون ممکن ہے کہ اذا ول سے بدل ہو انی اے بانی جملہ تفسیر ہے استجاب کی یا بیان مردفین بضم المیم وکسر الدال واسکان الرامن اردف مفعولہ مجذوف ہے مردفین امثالھم۔ یہ حال ہے الملائکۃ سے ولتطمئن معطوف ہے بشرٰی پر ای ما جعلہ الا لتطمئن وما النصر الخ جملہ حال ہے فاعل جعل سے النعاس مفعول ثانی ہے یغشیکم کا منہ صفت ہے امنۃ کی جو حال ہے النعاس سے یا مفعول لہ وینزل معطوف ہے یغشی پر ویذھب معطوف ہے یطہر پر وقس علیہ البواتی اذ یوحی بدل ہے اذیغشیکم سے اور عامل ان کا استجاب ہے وقیل اذکر انی سے لے کر کل بنان تک یوحی کا بیان ہے النعاس النوم الخفیف۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان دو باتوں میں سے کہ جن کا ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا یہ ایک بات یعنی احقاقِ حق و ابطال باطل مقصود تھی کما قال یحق الحق ویبطل الباطل اور یہ جنگ کرنے سے حاصل ہوتی تھی جنگ ہوئی اور اس جنگ میں جو جو کفر کو مٹانے اور اسلام کو بالا کرنے کے لئے اس نے اپنی قدرت کے کرشمے دکھائے اور مسلمانوں پر فضل و کرم کیا ان کا ان آیات میں ذکر فرماتا ہے۔ ہر ایک بات کو اذاذ سے ذکر فرماتا ہے۔ وہ موقع یاد دلا کر فقال : (ا) اذ تستغیثون غوث مدد استغاثہ مدد طلب کرنا۔ آخر آنحضرت ﷺ میدان بدر میں جا پہنچے۔ گرمی کے دن تھے اور بدر میں جو پانی تھا اس کو اول آکر مشرکین مکہ نے اپنے قبضہ میں کرلیا تھا 1 ؎۔ ادھر تو غنیم کی کثرت کہ وہاں مع ساز و سامان مکہ کے تخمیناً ہزار بہادر جنگجو تھے ادھر تخمیناً تین سو آدمی بھوکے پیاسے بےسروسامان ایسی حالت میں مسلمان اپنے پروردگار سے مدد کے خواہاں ہوئے اور اسی سے فریاد رسی کے امیدوار ہوئے۔ چناچہ ابن عباس ؓ عمر بن الخطاب ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ اس حالت کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ اور ابوبکر ؓ ایک خیمہ میں گئے اور آنحضرت ﷺ نے رو بقبلہ ہو کر ہاتھ اٹھا کر نہایت عجز و انکسار سے دعا کرنی شروع کی کہ الٰہی تو اپنے وعدہ کو پورا کر۔ اگر اہل حق کی یہ جماعت ماری گئی تو پھر زمین پر تیرا کوئی نام لینے والا نہ رہے گا۔ دعا کرتے کرتے رداء مبارک موڈھوں سے گر پڑتی۔ ابوبکر ؓ نے اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈال دی اور ہاتھ تھام کر عرض کی کہ یا نبی اللہ ! بس کیجئے آپ کی دعا خدا نے قبول کرلی۔ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ تب یہ آیت اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین لے کر جبرئیل نازل ہوئے یعنی فریاد قبول کرلی۔ آپ نے فرمایا دیکھو یہ جبرئیل گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے مسلح ہو کر آئے ہیں۔ مردفین کے معنی یکے بعد دیگرے چناچہ اول ہزار فرشتوں کی مدد کا وعدہ ہوا تھا۔ پھر تین ہزار ہوگئے۔ پھر پانچ ہزار جیسا کہ آل عمران میں 1 ؎ بعض مؤرخین کہتے ہیں پانی پر تو اول ہی سے مسلمانوں نے قبضہ کرلیا تھا مگر کسی قدر بارش وقت پر ہوجانے سے مشرکین نے بھی اسی لئے پانی کا زیادہ خیال نہیں کیا تھا۔ 12 منہ ہے۔ اس بات پر تو تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ بدر کے روز آسمان سے مسلح ہو کر مسلمانوں کی مدد کو فرشتے نازل ہوئے جو مسلمانوں کو بھی دکھائی دیے مگر اس میں اختلاف ہے کہ انہوں نے جنگ کی کہ نہیں کی ؟ کتب احادیث سے جنگ کرنا بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص ایک مشرک پر حملہ کے لیے دوڑا تو اس کے مارنے سے پیشتر ہی وہ زمین پر مرا پڑا تھا اور اس کے منہ پر کوڑے کا نشان تھا اور کوڑے کی آواز کے ساتھ یہ آواز بھی سنائی دی تھی۔ اقدم حیزوم بعض کہتے ہیں جنگ نہیں کی صرف مسلمانوں کے اطمینان کے لئے نازل ہوئے تھے جیسا کہ اس جملہ میں وما جعلہ اللّٰہ الا بشرٰی الخ سے پایا جاتا ہے کہ یہ صرف تمہارے اطمینان کے لئے تھا ورنہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے مگر یہ بات تو جب بھی پائی جاتی ہے کہ جب فرشتوں کا جنگ کرنا تسلیم کرلیا جاوے۔
Ayahs 8:11–14

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

اور یاد کرو جبکہ اللہ اپنی طرف کی تسکین دینے کے لئے تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ تم کو اس سے پاک کرے اور شیطانی ناپاکی کو تم سے دور کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور اس سے تمہارے قدم جمائے

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جبکہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں سو تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو میں ابھی کافروں کے دل میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے ہر ایک جوڑ پر مارو۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کیا کرتا ہے تو اللہ (اس کو) سخت عذاب دیا کرتا ہے

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

(کافروں سے کہو) لو یہ چکھو (اور یاد رہے) کہ کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب سخت ہے۔

(2) اذ یغشیکم الخ یہ بھی اسی روز کا دوسرا واقعہ ہے جب خدا نے مسلمانوں کو مضبوط کرنا چاہا تو خلاف عادت ان پر نیند مسلط کردی۔ اس نعاس یعنی نیند میں علماء کے دو قول ہیں۔ اول یہ کہ جنگ سے اول اس رات کہ صبح کو جنگ ہوگی حق سبحانہ نے مسلمانوں کو راحت سے سلا یا جس سے ماندگی سفر کی دور ہوگئی اور دل بھی صبح کو قوی تھے۔ ایسے قلق و اضطراب میں کہ موت سامنے دکھلائی دے رہی ہو نیند آنا انعامِ الٰہی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بہ وقت جنگ ایک ایسی حالت طاری ہوگئی جس سے اطمینان اور دل سنبھل گئے۔ یہ صاف معجزہ ہے عین صف جنگ میں سب کا اونگھنا خلاف عادت ہے۔ روایات سے اخیر قول کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ بجز رسول اللہ ﷺ کے ہم میں کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ جو نیند کے مارے جھک جھک نہ پڑتا ہو۔ اس لئے اس کو امنۃ منہ کہنا بہت ہی ٹھیک ہے۔ امنہ ! من و اطمینان دلانے والی اس پر خدا نے یہ فضل کیا۔ (3) کہ ینزل علیکم من السماء ماء مینہ برسایا جس سے چند فائدے ہوئے۔ اول لیطہرکم کہ مسلمان نہا کر پاک ہوگئے اور پانی پیا اور جانوروں کو پلایا اور ریت میں بھی قدم جمنے کے قابل ہوگئے۔ دوم یذھب عنکم رجز الشیطان وسوسہ شیطانی کہ بےپانی کے فتح مشکل ہے دور کردیا (رجز) وسوسہ مشقت۔ سوم لیربط علی قلوبکم مسلمانوں کے دل قوی کردیے۔ جسمانی آسائش سے بھی اور آسمانی مدد کے آثار سے بھی چہارم ویثبت بہ الاقدام قدم جما دیے۔ ظاہری طور پر بھی کیونکہ ریتے میں دھنسے جاتے تھے۔ ایسی حالت میں جنگ میں دشواری ہوتی ہے اور یوں بھی ثابت قدمی ہوگئی۔ اس بارش میں بھی دو قول ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس اونگھ کے بعد ایک بادل اٹھا اور پانی برسا جس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ دوم یہ کہ اس اونگھ سے پہلے بارش ہوئی۔ بدر میں جو پانی کی جگہ تھی اس پر مشرکین نے اول سے قبضہ کرلیا تھا۔ مسلمانوں کو پانی نہ ملنے سے بڑی تکلیف تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آسمانی پانی برسا دیا۔ (4) اذیوحٰی الخ یہ اس روز کا چوتھا واقعہ ہے کہ خدا نے فرشتوں کو وحی بھیجی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مسلمانوں کو ثابت قدم کردینا ‘ بظاہر ان کے شریک حال ہو کیونکہ جب کوئی اپنے ساتھ ایک جماعت مددگار دیکھتا ہے تو دل قوی ہوجاتا ہے یا اس طور سے کہ جس طرح شیاطین کو دل میں وسواس ڈالنے کا قابو دیا گیا ہے اسی طرح ملائکہ کو نیک خیال پیدا کرنے کا جس کو لَمَّہ و الھام کہتے ہیں سو ملائکہ نے مسلمانوں کے دل میں بہادری القاء کی اور دلوں ہی کی قوت وضعف پر فتح و شکست ہے۔ سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب یہ کلام بھی ملائکہ سے متعلق ہے کہ ان سے یہ بھی کہا تھا سو ملائکہ نے کفار کے دل میں رعب ڈال دیا اور اسی طرح فاضربوا الخ کا بھی ملائکہ کو حکم ہوا تھا کیونکہ ملائکہ کو طریق جنگ معلوم نہ تھا۔ سو ان کو بتلایا کہ ان مقامات پر مارو کہ ان سے آدمی جلد نکما ہوجاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے خطاب ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ عضو رئیس سے لے کر جو گردن و سر ہے حنس تک جہاں قابو پاؤ مارو اس جنگ میں عین مقابلہ کے وقت آنحضرت ﷺ نے ریتے کی ایک مٹھی پھینکی۔ ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ جس کی دونوں آنکھوں میں نہ جا پڑا ہو۔ اس موقع پر دلیران اسلام نے مار مار کر ان کے ڈھیر کردیے۔ ستر مارے گئے ستر مدینہ میں قید ہو کر آئے۔ باقی بھاگ گئے۔ ابو جہل وغیرہ بڑے بڑے سردار کفر مارے گئے۔ کفر کا آج زور ٹوٹ گیا۔ عرب میں مسلمانوں کی دھاک مچ گئی۔ پھر ان کی اس رسوائی کا سبب بھی بیان کرتا ہے ذلک بانہم کہ انہوں نے رسول کی نافرمانی کی تھی جس کا یہ مزا چکھا اور آیندہ جو نافرمانی کرے گا سزا پاوے گا۔
Ayahs 8:15–18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

مسلمانو ! جب کہ تم کفار سے (صف بصف) مقابل ہوجاؤ تو ان کو پیٹھ نہ دینا اور جو کوئی اس روز ان کو پیٹھ دے گا

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

بجز اس کے کہ کوئی حیلہ جنگ کرتا ہو یا لشکر میں پناہ لینے کو آتا ہو تو وہ خدا کا غضب لے کر پھرے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ (بہت ہی) بری جگہ ہے۔

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

پھر تم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور (اے محمد ! ﷺ آپ نے مٹی نہیں پھینکی جبکہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور (یہ) اس لئے کہ اللہ مسلمانوں پر اپنی طرف سے خوب احسان کیا چاہتا تھا۔ بیشک اللہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ ہے اور اللہ کو تو کافروں کا فریب بگاڑنا تھا (اے کافرو ! ) اگر تم فتح کے خواستگار تھے

ترکیب : اذا لقیتم شرط فلا تولوا جواب جملہ ندا ہے۔ زحفا مصدر موضع حال میں قبل ہو مصدر علی حال المحذوفۃ ای پزحفون زحفا الادبار جمع دبر مفعول ثانی ہے تولوا کا۔ ومن یولہم شرط یومئذ ظرف دبرہ مفعول ثانی فقد باء جواب الا متحرفا استثناء فی ہذہ الاحوال ای لایجوز التولی فی ایّ حال الافی التحرف ای التعطف لقتال بان تریھم الفرۃ کیدا ویزید الوقوع علیھم کرۃ او متحیزاً ای منضما الی فئۃٍ ای جماعت المسلمین ذلکم ای الامر ذلکم۔ تفسیر : چونکہ اس جنگ بدر میں کامیابی بظاہر اسباب استقلال اور ثابت قدمی سے واقع ہوئی اس لئے ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو ہر ایک جنگ میں صبر و استقلال کا حکم دیتا ہے۔ بقولہ یا ایہا الذین امنوا الخ زحف کے معنی آہستہ آہستہ قریب ہونا اصل میں زحف چوتڑوں کے بل چلنے کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد لشکر ہے۔ دوسرے لشکر کا مقابلہ ہونا ہے۔ اس آیت میں بجز دو صورتوں کے مقابلہ کفار سے بھاگنا حرام قرار دیا گیا ایک یہ کہ حیلہ اور داؤ مقصود ہو بظاہر تو بھاگنا معلوم ہو مگر الٹ کر مارنا مقصود ہو۔ دوم یہ کہ بھاگ کر اسلام کے لشکر میں آملنا مقصود ہو۔ جمہور کے نزدیک یہ حکم عام ہے مگر اگلی آیت تخفیف سے یہ بھاگناجائز ہے اور احادیث صحیحہ میں مقابلہ کفار میں بھاگناان سات گناہ کبیرہ میں شمار ہوا ہے جو باعث ہلاکت ہیں مگر ابی سعید و ابو نصرہ و عکرمہ و نافع و حسن و قتادہ و ضحاک کہتے ہیں کہ یہ حکم خاص جنگ بدر کے لئے تھا کیونکہ یہ اول جنگ تھی اور نیز یومئذ کی قید سے یہی سمجھا جاتا ہے۔ جمہور کے نزدیک یہ قول ضعیف ہے اور یومئذ سے مراد یوم الزحف ہے نہ یوم بدر اور نیز جنگ بدر کے بعد یہ آیت اتری ہے اور اس کے لفظ عام ہیں۔ فلم تقتلوھم الخ مجاہد کہتے ہیں کہ اس کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ بدر کے بعد بعض کہتے تھے کہ میں نے یوں کیا کوئی کہتا تھا کہ میں نے بہادری کی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ سب کچھ اس کے فضل سے ہوا بلکہ نبی ﷺ نے بھی جو وقت مقابلہ ایک ریتے اور کنکروں کی مٹھی پھینکی تھی کہ جس سے وہ سب آنکھیں ملتے رہ گئے جس سے مسلمانوں نے ان کام تمام کیا یہ بھی ہمارے ید قدرت کا کام ہے۔ اس جملہ سے ہمیشہ کے لئے عُجب اور انانیت کا خاتمہ کردیا۔ ان 1 ؎ تستفتحوا عام مفسرین کے نزدیک کفار کی طرف خطاب ہے کہ تم جنگ سے پہلے کعبہ کا پردہ پکڑ کر کہتے تھے کہ اے اللہ ! جو دین حق ہو اس کو فتح یاب کر۔ چناچہ ابو جہل نے بھی ایسا ہی کیا تھا ٗ سو تم نے فتح دیکھ لی۔ بدر میں اسلام غالب رہا اور اگر تم باز آؤ اور توبہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم پھر مقابلہ کرو گے تو ہم پھر اسلام کو فتح یاب کریں گے اور تمہاری کثرت و شوکت کچھ کام نہ آئے گی کیونکہ ہم ایمانداروں کے ساتھ ہیں۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

تو لو تمہارے پاس فتح بھی آچکی اور اگر تم باز آؤ تو یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہو اور اگر تم پھر کرو گے تو ہم بھی پھر مدد کریں گے اور تم کو تمہاری فوج کچھ بھی فائدہ نہ دے گی۔ اگرچہ وہ بہت ہی کیوں نہ ہو اور بیشک اللہ تو ایمانداروں کے ساتھ ہے۔

1 ؎ کفار نے مکہ سے نکلتے ہی دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں فریق میں سے جو حق پر ہو …اس کو فتح دے۔ اب ان سے بطور طنز فرماتا ہے لو فتح مل گئی۔ 12 منہ
Ayahs 8:20–22

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کیا کرو اور اس کو سن کر منہ مت پھیرلیا کرو

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

خدا کے نزدیک سب زمین پر چلنے والوں میں سے بدتر وہ حیوانات ہیں جو بہرے اور گونگے ہیں جو کچھ سمجھ نہیں رکھتے

ترکیب : وانتم تسمعون جملہ حال ہے ولا تولوا سے شرالدواب اسم ان الصم الیکم موصوف الذین موصول لا یعقلون صلہ جملہ صفت مجموعہ خبر ان اذا ظرف ہے استجیبوا کا للرسول جار اس فعل سے متعلق۔ وانہ معطوف ہے ان اللّٰہ پر مجموعہ معطوف اور معطوف علیہ مفعول واعلموا لاتصیبن جملہ مستانفہ اور جواب ہے قسم محذوف کا ای واللہ لاتصیبن الظالمین خاصۃً بل تعم اور نہی بھی ہوسکتی ہے اور کلام معنی پر محمول ہوگا ای لاتدخلوا فی الفتنۃ فانہا عقوبۃ عامۃ۔ تفسیر : فرمایا تھا ان اللّٰہ مع المؤمنین کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ خدا کا تمہارے ساتھ ہونا کچھ تمہارے نام کے مسلمان کہلانے سے نہیں بلکہ ان شرائط سے ہے۔ (1) اطیعواللّٰہ ورسولہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ (2) ولا تولوا عنہ وانتم تسمعون کہ رسول کا حکم سن کر روگردانی نہ کرو۔ حقیقت میں جب تک مسلمانوں میں یہ دونوں باتیں رہیں خدا کا سایہ ان پر رہا ٗ دنیا کی سرسبز سلطنتیں باوجود بےسرو سامانی کے ان کے ہاتھ میں دے دیں۔ پھر اسی مضمون کی تاکیدفرماتا ہے کہ تم ان منافقوں جیسے نہ ہوجاؤ کہ جو زبان سے تو سمعنا کہتے ہیں اور دل سے نہیں سنتے۔ قضاء و قدر نے ان میں حق کے سننے اور ماننے کا مادہ ہی نہیں دیا۔ جیسا کہ چارپایوں میں نہیں جو زمین پر چلنے والوں میں مذموم سمجھے جاتے ہیں۔ وہ حق کے سننے سے بہرے اور حق کے بولنے سے گونگے ہیں۔ اس کے سواء عقل بھی نہیں جو باعث شرف ہے اور خدا نے جو ان میں یہ قابلیت نہیں رکھی تو اس لئے کہ وہ ازلی گمراہ ہیں۔ اگر سنتے بھی تو اعتراض کر جاتے۔
Ayahs 8:23–26

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ ان میں کچھ بہتری جانتا تو ان کو سنا ہی دیتا اور اگر ان کو سناتا بھی تو منہ موڑ کر الٹے پھرجاتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ اور (اس کے) رسول کا کہنا مانا کرو جبکہ تم کو وہ ایسی بات کی طرف بلاوے جو تم کو حیات جاودانی بخشے اور آگاہ رہو کہ اللہ تو انسان کے دل پر مطلع رہتا ہے اور یہ بھی کہ تم اس کی طرف جمع کئے جاؤ گے

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنہ سے بھی ڈرتے رہو کہ جو تم میں سے خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا (بلکہ عام ہوگا) اور جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اس وقت کو) یاد کرو جبکہ تم زمین پر کم اور مغلوب تھے (مکہ میں) ڈرا کرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک نہ لیں پھر اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور اچھی روزی دی تاکہ تم شکر کیا کرو۔

ولو علم اللّٰہ فیہم الخ کی بابت بعض مفسرین نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ قصی بن کلاب وغیرہ سینکڑوں برس کے مردوں کو زندہ کردیں۔ اگر وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں گے تو ہم بھی مان لیں گے کیونکہ وہ عرب کے بزرگ ہیں۔ اس کے جواب میں یہ جملہ ہے کہ اگر ان میں قابلیت ہوتی تو خدا ان کو سنوا دیتا مگر ان میں قابلیت نہیں۔ اگر وہ زندہ بھی ہوں اور سن بھی لیں تب بھی نہیں مانیں گے۔ اس کے بعد اسی اطاعت کی تاکید فرماتا ہے۔ اس کا نفع بتلا کر اور عدول حکمی کا نقصان جتلا کر فقال لما یحییکم کہ اللہ اور رسول تم کو کسی عبث اور ضرر رسان بات کی طرف نہیں بلاتے بلکہ اس کی طرف جس میں تمہاری زندگانی ہے (یعنی قرآن کیونکہ یہ حیات روحانی کا باعث ہے اور ممکن ہے کہ جہاد خصوصاً مراد ہو کیونکہ اس میں شہادت ملتی ہے جو حیات ابدی کا باعث ہے) کما قال ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اموات بل احیاء ولکن لاتشعرون اور نیز اس میں دشمن پر فتح یابی اور ثروت حاصل ہوتی ہے جو اصل زندگانی دنیا ہے۔ مغلوب اور مقہور قوم کی زندگی کیا بلکہ موت ہے برے حال جیا تو میں خاک جیا مرے جینے کا کچھ بھی مزا ہی نہیں یہ اطاعت کا فائدہ ہے۔ اب خلاف کرنے میں نقصان بتلاتا ہے واعلموا الخ کہ نافرمانی کرکے غرہ نہ کرو کہ توبہ کرلیں گے دل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان آڑ ہوجاتا ہے یعنی اس کام کے کرنے کی توفیق نہیں دیتا اور نیز ایک عام فتنہ پیدا کردیتا ہے جو نیک و بد سب کو مبتلا کرلیتا 1 ؎ ہے۔ 1 ؎ یعنی خدا کی نافرمانی سے دنیا پر مصائب نازل ہوتے ہیں جن پر نیک و بد سبھی آجاتے ہیں جیسا کہ وبا اور قحط یا غیر قوموں کا محکوم ہونا یا آپس کی پھوٹ جس کا برا اثر نیکوں پر بھی پہنچتا ہے چونکہ جب حضرت عثمان ؓ کے عہد میں لوگوں نے معصیت اختیار کی خلیفہ برحق کو شہید کیا تو صحابہ میں عام فتنہ جنگ وجدل قائم ہوا جس میں حضرت علی ؓ اور عائشہ صدیقہ اور زبیر بن العوام ؓ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ مبتلا ہوئے۔ اس لحاظ سے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت صحابہ کے حق میں نازل ہوئی ہے اگر تسلیم بھی کیا جاوے تو اس فتنہ کے مبتلائوں کو برا سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ آیت میں تصریح ہے کہ یہ فتنہ ظالم اور غیر ظالم سب پر پہنچے گا۔ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح ہے۔ 12 منہ
Ayahs 8:27–28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ اور رسول کی خیانت نہ کیا کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ تم (خوب) جانتے ہو کہ خیانت بری چیز ہے

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور آگاہ رہو کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں اور یہ بھی کہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔

ترکیب : وتخونوا یجوزان یکون مجزوما عطفا علی الفعل الاول اے لاتخونوا امانتکم وان یکون نصباً علی الجواب بالواو وانتم تعلمون جملہ حال ہے فاعل لاتخونوا سے وان اللّٰہ معطوف ہے انما اموالکم پر ‘ معطوف اور معطوف علیہ اعلموا کے مفعول ہیں ان تتقوا شرط یجعل لکم جواب۔ تفسیر : ان آیات میں اپنی نعمت اور مسلمانوں کی پہلی حالت جتلا کر جو اطاعت و توکل پر محرک ہے اللہ اور اس کے رسول کی اور آپس کی خیانت سے منع فرماتا ہے جو باہمی اتفاق اور محبت میں خلل انداز اور اسلام کی جماعت میں خلل پیدا کرنے والی چیز ہے اور خیانت کا باعث بیشتر اولاد اور مال کی محبت ہوتی ہے۔ سو اس کو فتنہ قرار دیتا ہے اور دار آخرت میں اجر عظیم کا وعدہ فرماتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے خطاب کرکے فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے۔ کفر و شرک و کبائر سے بچو گے تو ہم تمہارے لئے تین باتیں کریں گے : اول تم میں اور کافروں میں فرق کردیں گے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں دنیا میں بھی۔ تمہارے دل منور ‘ چہرے روشن ‘ مکارم اخلاق ‘ فتح مندی غلبہ دیں گے۔ آخرت میں نجات ‘ جنت اور ان کے لئے اس کے برخلاف۔ فرقان کے معنی مجاہد نے دنیا اور آخرت کی رستگاری اور مقاتل بن حیان نے دینی شبہات سے چھٹکارا اور عکرمہ نے نجات پانا خوفناک چیزوں سے بیان کئے ہیں۔ یہ مصدر ہے جیسا کہ رجحان۔ دوم تمہاری برائیاں چھپاویں گے۔ سوم آخرت میں معاف کردیں گے اور واللّٰہ ذوالفضل العظیم میں دنیا اور آخرت کی نعماء جلیلہ کی طرف اشارہ ہے۔ لاتخونوا اللّٰہ الخ میں کسی خاص خیانت اور کسی شخص کا نام نہیں بلکہ عموماً ہر قسم کی خیانت کی ممانعت ہے۔ خواہ مال کی ہو خواہ غنیمت کے مال کی خواہ آبرو اور کسی راز کی۔ مگر مفسرین نے اس کو بعض اشخاص کی خیانت اور ان کے واقعہ کیطرف بھی لگایا ہے۔ چناچہ سدی نے کہا کہ اس میں منافقوں اور بعض دیگر شخصیتوں کی طرف اشارہ ہے جو مشرکین سے میل و محبت رکھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی باتیں جو جنگ سے متعلق ہوتی تھیں ان کے پاس پہنچا دیتے تھے۔ زہری اور کلبی کہتے ہیں کہ اس میں ابی لبابۃ رفاعۃ بن عبدالمنذر انصاری کی طرف خطاب ہے کہ انہوں نے یہود بنی قریظہ 1 ؎ کو اپنے حلق کی طرف اشارہ کرکے ان کا قتل کیا جانا بتلا دیا تھا جس کے جرم میں انہوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا کہ جب میری توبہ قبول ہوگی تو آنحضرت ﷺ خود کھول دیں گے۔ چناچہ سات روز کے بعد توبہ قبول ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے کھولا۔ بعض نے کہا ہے کہ حاطب بن ابی بلتعۃ کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اہل مکہ کو آنحضرت ﷺ کے ارادہ سے مطلع کردینا چاہا تھا کہ آپ ان پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں۔ واللہ اعلم 1 ؎ بنی قریظہ یہود کا ایک قبیلہ مدینہ کے پاس رہتا تھا۔ انہوں نے باوجود معاہدے کے جنگ احزاب میں جبکہ مشرکوں نے مدینہ کا آکر محاصرہ کرلیا تھا۔ حضرت ﷺ سے سخت بدعہدی کی تھی مشرکین کے جانے کے بعد آنحضرت ﷺ نے بنی قریظہ کا محاصرہ کیا۔ اکیس روز محاصرہ رہا۔ جب وہ تنگ آئے تو آپ نے ابی لبابہ کو بھیجا جو انہیں کی گڑھی میں رہتے تھے کہ باہر نکلو ہم تم سے کوئی اقرار نہیں کرتے۔ ابی لبابہ ؓ نے اشارہ سے آپ کا ارادہ انہیں بتلا دیا ٗ یہ خیانت تھی۔ 12 منہ
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مسلمانو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں فتح دے گا اور تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔

1 ؎ فرقان سے اس جگہ مراد یوم بدر ہے چونکہ یوم بدر کو یوم فرقان بھی کہتے ہیں۔ 12 حقانی
Ayahs 8:30–35

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے نبی ! یاد کرو) جبکہ کافر آپ پر داؤ کرتے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا مار ڈالیں یا شہر سے نکال دیں اور وہ داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور خدا خوب داؤ کرنا جانتا ہے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جبکہ ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (اچھا جی) سن لیا۔ اگر چاہیں تو ہم بھی ایسا کہہ سکتے ہیں۔ یہ تو صرف پہلے لوگوں کے قصہ ہیں

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی یاد کرو جبکہ انہوں نے یہ کہا کہ اے اللہ ! اگر تیری طرف سے یہ دین حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر عذاب الیم بھیج دے

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ تو ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے اور آپ ان میں موجودبھی ہوں اور اللہ کو شایاں نہیں کہ وہ معافی مانگتے ہوں اور (پھر) ان کو عذاب آوے

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور اللہ ان کو کس لئے عذاب نہ کرے گا حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد الحرام سے روکتے ہیں اور یہ اس کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو پرہیزگار ہی ہیں لیکن بہت سے ان میں سے جانتے بھی نہیں

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور بیت اللہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا ان کی نماز ہی کیا تھی (قیامت میں ان سے کہا جائے گا) اپنے کفر کرنے کے بدلہ میں عذاب چکھو۔

ترکیب : واذیمکر اور اذ قالوا کا عامل عامہ مفسرین کے نزدیک اذکر ہے والا رجح ماذکرنا فی مقدمۃ تفسیر نا۔ واذ شرط قالوا جواب شرط۔ ان شرطیہ ھذا کان کا اسم الحق خبر ہے دونوں میں فاصل من عندک الحق کی صفت فامطر الی عذاب الیم جواب شرط مجموعہ مقولہ ہے قالوا کا۔ اللہم نداء ای یا اللہ۔ ان لایعذبہم ای فی ان لا یعذبھم فھو فی موضع نصب اوجر۔ صلاتہم جمہور صلوۃ کو بالرفع اور مکاء کو بالنصب پڑھتے ہیں اور اعمش بالعکس پڑھتے ہیں۔ مکاء کی ہمزہ و سے بدل ہے من مکایمکو 1 ؎۔ تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے قیام مکہ کی چند باتیں یاد دلاتا ہے جو مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں کہ ہم نے تم کو ان حوادث سے بچایا جیسا کہ یہ بیان کیا تھا کہ تم مکہ میں بہت کم اور نہایت کمزور تھے ہم نے تم کو مدینہ میں امن دیا۔ تمہاری شوکت و قوت پیدا کی۔ ازانجملہ واذ یمکربک ہے۔ جب قریش نے دیکھا کہ لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تو دل میں نہایت طیش کھا کے ایک مقام دارالندوہ میں قریش کے بڑے بڑے سردار عتبہ اور شیبہ ربیعہ کے بیٹے اور ابو جہل بن ہشام و ابو سفیان و طعیمہ بن عدی و نضر بن الحارث و امیۃ بن خلف وزمعۃ بن الاسود وابو البختری بن ہشام و حکیم بن حزام وغیرہ جمع ہوئے اور آنحضرت ﷺ کی نسبت تجویزیں کرنی شروع کیں۔ کسی نے کہا ان کو ایک مکان میں قید کر دو کہ یہیں مرجائے۔ کسی نے کہا اس کو جلا وطن کر دو ۔ ابو جہل نے کہا کہ قبائلِ قریش سے ایک ایک جوان لے کر ایک بار اس کو مار ڈالے۔ بنی ہاشم تمام قبائلِ قریش کے مقابلہ میں کچھ نہ کرسکیں گے۔ آخر دیت پر فیصلہ ہوجاوے گا۔ یہ سب نے تسلیم کیا اور رات کو آنحضرت ﷺ کا محاصرہ ٹھہرایا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کو خبر دی۔ آنحضرت ﷺ ابوبکر کو ساتھ لے کر جبل ثور کے غار میں جا چھپے۔ علی کو اپنے بستر پر سلا گئے۔ صبح کو دیکھا تو آنحضرت ﷺ نہ ملے۔ پائوں کے نشان دیکھتے ہوئے غار ثور تک پہنچے۔ اس کے منہ پر مکڑی کا جالا دیکھ کر ہٹ گئے کہ اگر اس میں کوئی جاتا تو جالا نہ ہوتا۔ اس بات کو اذ یمکر الخ میں یاد دلایا کہ اللہ کا داؤ چل گیا ان کا رد ہوا۔ ازانجملہ اذا تتلی الخ ہے آنحضرت ﷺ جب قرآن کی آیات سناتے تو نضر بن حارث جو فارس اور حیرہ میں تجارت کو جاتا تھا اور وہاں سے رستم و اسفند یار کے قصہ سن کر آیا کرتا وہ حضرت ﷺ کے مقابلہ میں یہ کہتا تھا کہ ایسے قصہ میں بھی بیان کر سکتا ہوں۔ ازانجملہ واذ قالوا اللہم ہے یہ بھی نضر بن حارث کی طرف اشارہ ہے۔ وہ یہ کہا کرتا تھا کہ سال سائل بعذاب واقع میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں اذ قالوا اللہم ابو جہل 2 ؎ نے کہا تھا سو بدر کے روز عذاب دنیاوی پا لیا وما کان اللّٰہ ان کے قول کے جواب میں یہ فرمایا کہ بالفعل ہم ان کو دو سبب سے عذاب نہیں کرتے۔ اول یہ کہ اے محمد آپ نبی الرحمۃ ان میں موجود ہو تمہاری موجودگی میں عذاب کیونکر آوے۔ دوم وہ خود یا بعض مسلمان مکہ میں خدا سے معافی مانگ رہے ہیں مگر دونوں باتوں کے بعد مالہم الایعذبہم خدا ان کو کیوں عذاب نہ کرے گا حالانکہ قابل عذاب یہ باتیں ان میں پائی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ ایمانداروں کو مسجد الحرام سے روکتے ہیں اور خود اس کے اہل نہیں۔ کیونکہ اس کے اہل ایماندار 3 ؎ ہیں۔ دوم ان کی عبادت مسجد الحرام کے پاس ایک لغو حرکت ہے۔ سیٹیاں اور تالیاں بجانا جس سے مسلمانوں کی نماز میں خلل پڑتا ہے۔ 1 ؎ مکاء بروزن فعال جیسا کہ غثاء اور رخاء مکا یمکو اذاصفر والمکاء الصفیر التصدیۃ من حدی یصدی تصدیۃ اذا صفق بیدابہ کشاف 12 منہ 2 ؎ یہاں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اہل اسلام میں سے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کا مالک و متولی ہمیشہ متقی فریق رہے گا اور آج تک یہی ہوا ہے۔ 12 منہ 3 ؎؎ کہ اگر یہی دین کہ جس کی طرف محمد ﷺ بلا رہے ہیں برحق اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا اور کوئی عذاب الیم نازل کر دے۔ تب بھی ہم اس کو نہ مانیں گے۔ اللہ رے ضد ! 12 منہ
Ayahs 8:36–40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

کافر تو اپنا مال اس لئے خرچ کیا کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے رستے سے روکیں سو ابھی اور بھی خرچ کریں گے پھر تو وہ ان کے لئے حسرت و افسوس کا باعث ہوجائے گا۔ پھر وہ مغلوب ہو کر رہیں گے اور کفر کرنے والے جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے جدا کرے اور ایک ناپاک کو دوسرے پر دھر کر ڈھیر بنائے پھر سب کو جہنم میں ڈال دے۔ یہی ہیں زیاں کار۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

آپ کافروں سے کہہ دیں اگر باز آجاویں تو ان کے گذشتہ قصور معاف کردیے جاویں گے اور جو پھر وہی کریں گے تو پہلوں کا دستور بھی چلا آتا ہے

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑو کہ کچھ بھی فتنہ (کفر) باقی نہ رہے اور بالکل اللہ ہی کی پرستش رہ جاوے پھر اگر وہ باز آویں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر نہ مانیں تو (مسلمانو ! ) یاد رکھو اللہ تمہارا بھی کارساز ہے جو بہت ہی اچھا کارساز اور بہت ہی اچھا مددگار ہے۔

ترکیب : ینفقون اموالہم خبر ہے ان کی لیصدوا ینفقون سے متعلق ویجعل کا۔ الخبیث مفعول الاول بعضہ اس سے بدل ‘ بدل البعض علی بعض مفعول ثانی بواسطہ جر ای لبعض الخبیث علی بعض او بعض الخبیث غالبا علی بعض ان ینتہوا شرط یغفر جواب۔ ماقد سلف مفعول مالم یسم فاعلہ یغفر کا۔ فتنۃ اسم ہے کان تامہ کا کلہ الدین کی تاکید یہ اسم اللّٰہ خبر نعم المولیٰ مخصوص بالمدح اللہ محذوف۔ تفسیر : یہاں ان کے قابل عذاب ہونے کی ایک اور بات بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے مال اللہ کے رستے سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ چناچہ بدر کی جنگ میں ابو جہل وغیرہ قریش کے مال داروں نے خدا پرستوں کے مقابلہ میں ان کفاروں کو کھانا دیتے تھے جن کو ہدم اسلام کے لیے میدان بدر میں لائے تھے۔ پھر بطور پیشین گوئی کے فرماتا ہے کہ ابھی اور بھی خرچ کریں گے۔ چناچہ جنگ بدر کے بعد ابو سفیان نے مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے بہت کچھ مال صرف کیا اور جنگ احد میں لوگوں کو چڑھالایا پھر اس خرچ کرنے کا مآل کار بتلایا ہے کہ یہ ان کے لئے آخرت میں یا اگر وہ مسلمان ہوگئے تو دنیا میں حسرت و افسوس کا باعث ہوجاوے گا۔ دوم وہ اس خرچ کرنے کے غالب نہ ہوں گے بلکہ دنیا میں مغلوب ہوں گے اور آخرت میں جہنم میں جاویں گے۔ سو ایسا ہی ہوا اور یہ خرچ کرنا ان کا اس لئے ہے تاکہ دنیا میں خبیث اور طیب یعنی کافر اور مومن میں امتیاز ہوجاوے یا پاک اور ناپاک مال میں امتیاز ہوجاوے۔ ناپاک شیطانی کاموں میں اور پاک رحمانی کاموں میں صرف ہوا کرتا ہے پھر اس کل ناپاک کا تو دہ لگا کر جہنم میں ڈال دیا جاوے گا اور اس تجارت میں ان کو سخت خسارہ ہوگا کیونکہ نفع کے لئے صرف کیا تھا۔ الٹا نقصان دارین حاصل ہوا۔ اس کے بعد کفار کو اعلان دیا جاتا ہے کہ تم باز آؤ گے اور اسلام لاؤ گے تو تمہارے یہ گناہ کفر کی حالت کے معاف ہوجائیں گے اور نہیں تو عادت الٰہی جاری ہے کہ وہ جماعت انبیاء کو سرسبز کیا کرتا ہے۔ نمرود فرعون سب ہلاک ہوئے۔ پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ تم ان سے جنگ کئے چلے جاؤ۔ یہاں تک کہ فتنہ کفر و معاصی نہ مٹ جائے اور زمین پر راستی نہ قائم ہوجاوے اگر اس میں وہ باز آگئے تو خیر ورنہ تم اطمینان رکھو خدا تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ سب سے اچھا حامی و مددگار ہے ٗ کسی کی پروا نہ کرو۔