7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 7:1
1 ؎ المص۔ ان چاروں حروف میں اس طرف بھی لطیفہ اشارہ ہے۔ ا۔ ل۔ م۔ ص۔ الف سے اشارہ اللہ کی طرف ل سے لطفِ الٰہی کی طرف م سے محمد کی طرف۔ ص سے صعود یعنی بلندی و رفعت کی طرف۔ جس کا یہ مطلب ہوا کہ اللہ نے اپنے لطف خاص سے محمد ﷺ اور ان کی امت کو دنیا و آخرت میں سربلندی اور رفعت عطا کی۔ 12 منہ۔
Ayahs 7:2–3

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے سو اس سے آپ کے دل میں تنگی نہ پیدا ہو تاکہ آپ اس کتاب سے لوگوں کو متنبہ کریں اور ایمانداروں کو پند حاصل ہو

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(لوگو) اسی پر چلو جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس کے سوا اور معبودوں کی پیروی نہ کرو (لیکن) تم بہت ہی کم سمجھتے ہو

ترکیب : کتاب مبتداء محذوف کی خبر جو ذلک یا ھو ہے۔ انزل الخ اس کی صفت فلایکن لفظوں میں حرج کے لیے نہی ہے اور معنیً مخاطب کے لیے اے لاتخرج بہ لتنذر کالام انزل سے متعلق وذکریٰ معطوف ہے کتاب پر اتبعوا سے من ربکم متعلق ہے۔ اولیاء مفعول لا تتبعوا کا من دونہ مفعول سے حال کم مبتداء من قریۃ بیان کم اھلکناھا خبر بیات اسم مصدر موضع حال میں ہے۔ ییاتًا ای لیلاً اور مصدر وقع موقع الحال یقال بات بیتا وبیاتا قائلون من قیلولۃ وھی النوم فی نصف النہار۔ تفسیر : فیض مبدئِ فیاض جوش زن ہے۔ عرب کی قوت روحانی جو عرصہ سے مردہ ہوگئی تھی۔ آنحضرت ﷺ کے قم باذن اللہ سے حرکت میں آرہی ہے۔ گھر گھر چرچے ہو رہے ہیں۔ مکہ میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ ایذا و تکالیف عشاق الٰہی کا بازار گرم ہے۔ ایسی حالت میں لگاتار ہدایت افزا مضامین کا مینہ برسانا اور اس سورة کا نازل ہونا نفوس بشریہ کو حرکت دینا ہے کہ جس میں مبدء و معاد کی تشریح اور دنیا کی بےثباتی اور عالم قدس کے ناز و نعیم کی دوسری طرح پر عکسی تصویر کھینچی گئی ہو۔ اس لئے فرماتا ہے المص 1 ؎ ان چار حروف میں جو کچھ رموز و اسرار نہانی ہیں ان کو تو وہی عالم الغیوب جانتا ہے یا اس کا نبی محبوب مگر کتاب انزل الیک سے آنحضرت ﷺ کو دعوت عامہ کے لیے ابھارا جاتا ہے جس کی کہ انا سنلقی علیک قولا ثقیلا پہلے سے خبر دی تھی کہ اے نبی ! ہم نے آپ پر کتاب یعنی قرآن نازل کیا ہے۔ بس آپ اس بات سے دل تنگ نہ ہوں کہ آپ اس سے لوگوں کو متنبہ کریں اور بدکاروں کو ڈرا دیں اور ایمانداروں کے لئے اس سے پند حاصل ہو یعنی اس تبلیغ دعوت عامہ میں کچھ دل نہ ہاریئے۔ جب نبی کو تبلیغ کا حکم دیا اور قول ثقیل سے دل تنگ نہ ہونے کی تاکید کی تو لوگوں کو اس کی تعمیل پر مامور کیا۔ اتبعوا الخ کہ تاریکی کا زمانہ گیا جس عہد مبارک کا انبیائِ سابقین سے وعدہ اور فاران پہاڑ کی چوٹیوں سے خداوند کی جلوہ گری کا مدت سے غلغلہ تھا وہ وقت آگیا۔ پس اب تم اے لوگو ! اسی کی پیروی کرو جو تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا۔ پرانے سڑے بسے خیالات اور اپنے فرضی معبودوں کو چھوڑو۔ اس کے بعد ان مغرور دولت و جاہ کو یہ بھی سناتا ہے کہ تم اپنی مال و جاہ پر غرور نہ کرو کیونکہ بہت سی بستیاں 2 ؎ ایسی ہیں کہ جن کو ہم نے یکایک ہلاک کردیا۔ وہ رات کو سوتے تھے یا دوپہر کو قیلولہ میں تھے یکایک عذاب الٰہی نے آلیا پھر اس وقت بجز اس کے کہ اپنے خطاکار ہونے کا اقرار کرنے لگے اور کچھ بن نہ پڑا۔
Ayahs 7:4–5

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور ہم کتنی ایک بستیاں غارت کرچکے ہیں کہ جن پر راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے ہمارا عذاب آپڑا

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پھر جبکہ ان پر (اچانک) ہمارا عذاب آپڑا تو یہی پکارنے لگے کہ بیشک ہم ہی زیادتی پر تھے۔

2 ؎ لوط کی بستیوں پر بھی اور عاد وثمود کی قوم پر یوں ہی عذاب آیا۔ اس زمانہ میں بھی بعض شہروں میں شب کو زلزلہ شروع ہوا تو ہزاروں ہلاک ہوگئے بعض جا پر شباشب سیلاب نے غارت کیا۔ سینکڑوں شہروں پر وباء آئی۔ بہت کو ظالم بادشاہوں نے ہلاک کیا۔ غرض سینکڑوں طور عذاب الٰہی کے ہیں ڈرنا چاہیے۔ رات کا عذاب اسی طرح دوپہر جو کہ عرب میں آرام کا وقت ہے اور یہی قہر ہے۔ 12 منہ
Ayahs 7:6–8

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

سو ہم کو ان سے بھی پوچھنا ہے کہ جن کے پاس رسول بھیجے گئے تھے اور رسولوں سے پوچھیں گے

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم ان کو خوب (اچھی طرح سے بتائیں گے) اور ہم کہیں دور نہ تھے

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس روز اعمال کا تلنا برحق ہے پھر تو جن کی تولیں بھاری ہوں گی وہی کامیاب ہوں گے

ترکیب : الذین صلہ و موصولہ مفعول ہے لنسئلن کا بعلم لنقصن سے متعلق یا مفعول اس کا علیہم فعل سے متعلق۔ والوزن مبتدا یومئذ ثابت کے متعلق ہو کر خبر الحق الوزن کی صفت اور بھی احتمال ہے۔ تفسیر : رسول کو تبلیغ پر اور امت کو قبول پر مامور کرکے اول رسول کی مخالفت کا دنیاوی نتیجہ بیان فرمایا تھا کہ ہم ان کو یکایک مبتلائے بلا کردیں گے (مسلمانوں پر جو آج کل نحوست ہے وہ نافرمانی رسول کریم ﷺ کا نتیجہ ہے) اب یہاں آخرت کا نتیجہ بیان کرتا ہے اور ضمناً عالم آخرت میں پیش آنے والی حالتیں بھی بیان فرماتا ہے۔ اول یہ کہ ہم ان لوگوں سے کہ جن کے پاس رسول یا ان کے نائب آئے اور انہوں نے نہ مانا ٗ بازپرس کریں گے اور رسول سے بھی سوال کریں گے کہ آیا تم نے تو کچھ کمی احکام پہنچانے میں نہیں کی تھی ؟ گو ہم سب کچھ جانتے ہیں کیونکہ اس وقت بھی ہم موجود تھے مگر یہ سوال صرف تنبیہ کے لئے ہوگا۔ سو ہم ہر بات ان پر کھول دیں گے جس کو وہ آج مخفی کرتے ہیں۔ بظاہر اس آیت میں اور اس آیت میں فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان وقولہ ولا یسئل عن ذنوبہم المجرمون کچھ تعارض سا معلوم ہوتا ہے مگر دراصل کچھ بھی تعارض نہیں کیونکہ نہ پوچھنے سے مراد عزت و احترام کا پوچھنا ہے اور یہاں پوچھنے سے مراد بازپرس کرنا ہے۔ مثلاً کوئی یوں کہے کہ حساب لیا جاوے گا ٗبازپرس ہوگی ٗ فلاں باتوں پر سوال ہوگا اور عذرات باطلہ میں تمہاری بات بھی نہ پوچھی جائے گی تو اس کلام میں کچھ بھی منافات نہیں۔ اور علاوہ اس کے پوچھنے کا موقع اور نہ پوچھنے کا اور محل ہے۔ دوم والوزن یومئذن الحق کہ اس روز اعمال کا وزن ہوگا۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کو ترازوئے عمل قائم ہوگی۔ ایک پلے میں نیکی اور دوسرے میں بدی رکھی جاوے گی۔ پس فمن ثقلت موازینہ جن کے اعمال نیک کی تولیں بھاری ہوں گی کہیں روزہ کی کہیں نماز کی کہیں صدقہ و خیرات کی فاولئک ھم المفلحون سو یہی فلاح پاویں گے عالم قدس میں حیات ابدی کے مستحق ہوں گے جن کا مقام جنت ہے اور جن کی نیکی کی تولیں ہلکی ہوں گی فاولئک الذین خسروا الخ سو وہ خسارہ میں پڑیں گے اور یہ خسارہ میں پڑنا انہوں نے اپنے ہاتھ سے کیا کہ جو آیات الٰہی پر ظلم کیا یعنی ان کی تکذیب کی یا ان پر عمل نہ کیا۔ اس ترازو سے مراد دنیا کی ترازو آٹا دال تولنے کی نہیں کہ اس پر اعمال کا تولنا (جو اغراض غیر قائم بالذات ہیں فلسفیوں کے کہنے سے) محال خیال کیا جاوے جس کی توجیہ میں اعمال کو مع ان کاغذوں کے تولنا کہا جاوے کہ جن میں وہ اعمال ملائکہ نے لکھے تھے بلکہ اس سے مراد ایک خاص موازنہ ہے جو اعمال کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی طرح اس آیت اور اس آیت میں فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا کچھ بھی مخالف نہیں کیونکہ جن کے اعمال صالحہ برباد ہوگئے ان کے لئے کون وزن قائم ہوسکتا ہے ؟
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کی تولیں ہلکی ہوں گی سو یہ وہی لوگ ہوں گے کہ جنہوں نے ہماری آیتوں 3 ؎ پر زیادتی کرکے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا تھا۔

3 ؎ آیتوں کو جھٹلانا ان پر ظلم کرنا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 7:10–13

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو زمین میں بسایا اور ہم نے تمہارے لئے اس میں روزی کے اسباب پیدا کئے۔ تم کمتر شکر کرتے ہو

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے دادا (آدم) کو پیدا کیا ٗپھر ہم نے تمہاری صورت بنائی۔ پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھکو۔ پھر سب جھک پڑے مگر ابلیس جو جھکنے والوں میں سے نہ تھا

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

( ہم نے) فرمایا تجھ کو کس بات نے جھکنے سے منع کردیا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا۔ عرض کیا میں اس سے بہتر ہوں ٗ مجھے تو نے آگ سے بنایا اور اس کو خاک سے بنایا۔

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا یہاں (جنت) سے پیچھے اتر جا پھر تیری کیا مجال ہے جو تو یہاں پر شیخی مارے۔ پس نکل باہر ہو تو ہی ذلیلوں میں کا ایک ذلیل ہے۔

ترکیب : معایش مفعول جعلنا جمع معیشۃ۔ ان لا لا زائدہ اور من جار حذف یہ مفعول ثانی ہے منع کا یا موضع حال میں اذ ظرف ہے تسجد کا منہا اے من الجنۃ وقیل من السموات فبماب قسم کے لئے ما مصدریہ لا قعدن جواب قسم۔ تفسیر : پہلے اس سے لوگوں کو انبیاء کی فرمانبرداری کا حکم دیا تھا اور مخالفت میں عذاب دنیوی سے بقولہ وکم قریۃ اھلکناھا اور آخرت کے عذاب سے سوال و وزن کرنے سے ڈرایا تھا۔ انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ خوف اور نعماء و احسانات سے مسخر و مطیع ہوتا ہے۔ اس لئے خوف مضرت دارین کے بعد بنی آدم پر ان کے بزرگ و جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) پر جو کچھ انعام و احسان کئے ہیں ان کو یاد دلاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ تخویف میں عالم آخرت کا اور احسان یاد دلانے میں اس کی ابتداء کا بھی بیان کردیا جو آسمانی کتاب کا ایک ضروری کام ہے اور اس کو علم مبتدء و معاد کہتے ہیں۔ ولقد مکنکم الخ زمین پر بنی آدم کا بسانا اور سب چیزوں پر مسلط کرنا اور پھر قدرتی چیزیں جیسا کہ پھل ‘ ترکاری ‘ غلہ وغیرہ اور صنعت کے متعلق گھی شکر کپڑا وغیرہ ان کے لئے مہیا کردینا ایک ایسا احسان ہے کہ جس سے گردن اٹھ ہی نہیں سکتی مگر انسان بہت کم شکر کرتا ہے۔ نعمت میں مست ہو کر شہوات میں مصروف ہوتا ہے۔ تکلیف میں گلہ شکوہ کرنے لگتا ہے۔ ولقد خلقنکم ثم صورنکم ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا یہاں سے ان کے بزرگ اور جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) پر جو احسان و احترام کیا تھا اس کو یاد دلاتا ہے کہ ان کو عمدہ شکل پر پیدا کرکے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے سجدہ کیا مگر شیطان نے نافرمانی اور تکبر کیا تو اس کو ملعون کردیا۔
Ayahs 7:14–17

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

عرض کیا مجھے اس دن تک کی مہلت دے کہ جب تک لوگ مر کر جی اٹھیں۔ 1 ؎

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا (جا) تجھے مہلت ہے۔

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

کہا پھر تو قسم ہے میں بھی جیسا کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے ( ان کی تاک میں) آپ کے سیدھے رستہ ہی پر آبیٹھوں گا (تاکہ بہکائوں)

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر میں ان کے پاس ان کے سامنے اور ان کے پیچھے سے اور دائیں اور بائیں سے آیا کروں گا اور تو ان میں سے بہتیروں کو شکر کرنے والا نہ پاوے گا۔

1 ؎ ابلیس نے جی اٹھنے تک زندہ رہنے کی دعا مانگی اس نے یہ بات سوچی تھی کہ میں موت سے محفوظ رہوں گا مگر خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا بلکہ ایک وقت خاص تک زندہ رہنے کی دعا قبول کی جو کہ خاص اللہ ہی کو معلوم ہے۔ ابلیس کی دعا قبول کرنا گویا اس کی تمام عبادت کا معاوضہ اس کی خواہش کے مطابق دینا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 7:18–21

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

فرمایا یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر جا نکل۔ جو کوئی ان میں سے تیرے تابع ہوگا تو میں بھی تم سب سے جہنم ہی بھر دوں گا

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں جارہو۔ پھر تم دونوں جہاں سے چاہو کھائو (پیو) لیکن اس درخت کے پاس بھی نہ جانا (ورنہ تم) خرابی میں پڑجاؤ گے۔

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کو برہنہ کرے اور (آکر) کہنے لگا کہ (اے آدم و حوا ! ) تمہارے رب نے جو تم کو اس درخت سے منع کیا ہے تو اسی لئے کہ تم کہیں فرشتہ نہ ہوجاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہوجائو

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان سے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیرخواہ ہوں۔

ترکیب : مذئوم بالہمزہ مشتق ہے ذامتہ اذا عتبہ سے اور بعض نے صرف و سے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اس لئے ہمزہ کی حرکت ذال کو دے کر ہمزہ کو حذف کردیا اور ممکن ہے کہ اس کی اصل مذیماً کہی جاوے کس لئے کہ فعل اس سے ذام یذیم آتا ہے۔ پس ی کو و سے بدل دیا جیسا کہ مکیل کو مکول اور مشیب کو مشوب کرلیتے ہیں۔ یہ اور اس کا مابعد حال ہے لمن مبتداء قائم مقام قسم لاملئن خبر قائم مقام جواب قسم۔ تفسیر : اس میں آدم اور ان کی اولاد پر بھی احسان ہے کہ تمہارے ساتھ سرکشی اور حسد کرنے والے کو ہم نے یوں ذلت دی اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم وہ ذات شریف ہو کہ پھر اپنے اس قدیمی دشمن کا کہنا مانتے اور اپنے محسن حقیقی کی نافرمانی کرتے ہو اور یہ بات اے بنی آدم ! کچھ تم پر ہی موقوف نہیں۔ تمہارے جد امجد بھی اس کے دائو میں آگئے تھے جن کو شیطان نے قسمیں دے کر ملمع کار باتیں بنا کر ایک درخت کے پھل کھانے پر برانگیختہ کیا کہ جس کے پاس جانے تک کی ممانعت کسی مصلحت سے ہم نے کردی تھی۔ سو انہوں نے کھایا جس سے ان پر مصیبت پڑی۔ جنت سے نکالے گئے ٗ کپڑے اتارے گئے۔ آخرنافرمانی کا مزہ پایا۔ پھر آدم روئے ‘ توبہ کی تو معافی ہوئی۔ اے اولاد آدم ! پھر بھی تم اس عدو مبین کا کہنا مانتے ہو اور جو جہالت سے گناہ ہوجاوے تو اپنے پدر بزرگ آدم کی طرح کیوں توبہ و استغفار نہیں کرتے ؟ اور اس میں یہ بھی رمز ہے کہ نافرمانی کا نتیجہ شیطان نے کیسا پایا۔ راندہ ٔ درگاہ ہوگیا۔ پھر تم کس دلیری سے گناہ پر گناہ کرتے ہو اور ادنیٰ مرتبہ اپنے جد امجد کے جلا وطن و خراب و خستہ ہونے کو بھی نہیں دیکھتے۔ کیا تم اب زمین پر قرار پا کر ملک اور جاگیریں اور باغات و دیہات حاصل کرکے مطمئن ہوگئے ہو کہ معصیت سے یہ چھن نہ جائیں گے۔
Ayahs 7:22–23

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

پھر تو ان کو فریب 1 ؎ سے (کھانے کی طرف مائل ہی کردیا) جوں ہی انہوں نے درخت کو چکھا تو ان کا ستر کھل گیا اور لگے اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے اور ان کے رب نے ان کو پکار کر (کہا) کیا میں نے تم کو اس درخت سے منع نہ کردیا تھا اور یہ نہ کہہ دیا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا صریح دشمن ہے۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے آپ اپنی جانوں کو برباد کیا اور اگر تو ہم کو نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم تو برباد ہی ہوجائیں گے۔

1 ؎ یعنی قسمیں کھا کر فریب دے کر آخرکار اس درخت ممنوع کے کھانے کی طرف مائل ہی کرلیا۔ 12 منہ (1) جنت میں گناہ کرنے سے حضرت آدم و حوا کا لباس عزت اتار لیا گیا تھا جس پر وہ نہایت شرمندہ ہو کر جنت کے درختوں کے پتے اپنے بدن پر ڈھانکتے تھے۔ پھر دنیا میں خدا نے آدم (علیہ السلام) کو کپڑا بنانا سکھایا جس سے ستر ڈھانکنا میسر آیا۔ اس بات کو خدا اپنی بڑی نعمت من آیات اللّٰہ کہتا ہے اور لباس کا نازل کرنا فرما کر ایک اور لباس کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی پرہیزگاری کا لباس بہتر 1 ؎ ہے۔ اس کے بعد اولاد آدم کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو اب تم شیطان کے بہکانے میں نہ آنا کہیں لباس تقویٰ تمہارا نہ اتار لے جس سے تم برہنہ ہوجائو۔ شیطان اور اس کی ذریت تم کو دیکھتے ہیں اور وہ تم کو نظر نہیں آتے کیونکہ ان کا مادہ آتش لطیف چیز ہے جو محسوس بحس بصرہ نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ان خبیثوں سے کافر ہی دوستی رکھتے ہیں 2 ؎
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا نیچے اتر جاؤ کہ تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تم کو ایک وقت تک زمین ہی پر ٹھہرنا

ترکیب : بعضکم الخ جملہ حال ہے ضمیر فاعل اھبطوا سے لباسا مفعول انزلنا یواری اس کی صفت وریشا لباساً پر معطوف و لباس منصوب ہو تو ریشا پر معطوف ورنہ مبتدا ذالک جملہ خبر۔ تفسیر : کیوں نہیں ہم نے دنیا میں باہم ایک کو دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ سو ایک پر دوسرے کو مسلط کرکے کیا ہم نہیں چھنوا سکتے ؟ ) چونکہ آدم کے احسانات اس کی اولاد پر ہیں اس لئے آدم کے پیدا کرنے اور اس کی صورت بنانے کو مخاطبین کے پیدا کرنے اور صورت بنانے کے ساتھ اس رمز کے لئے تعبیر کیا ورنہ مراد بالذات آدم ہیں اس لئے ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا سے انہیں کے خاص حال کو شروع کیا گو اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اے بنی آدم ! تمہارے لئے بھی ہم نے ملائکہ کو روزی پہنچانے ‘ تدبیر و تصرف کرنے میں مسخر کردیا ہے جو ایک قسم کا سجدہ ہے۔ اس قصہ کو جداگانہ غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ان سورتوں میں ذکر فرمایا ہے (1) سورة بقرہ (2) سورة حجر (3) سورة بنی اسرائیل (4) سورة کہف (5) سورة طہٰ (6) سورة ص۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

اور برتنا ہے (اور) فرمایا تمہیں یہیں زندگی بسر کرنی ہے اور یہیں مرنا ہے اور اسی میں سے (قیامت کے دن) نکالے جاؤ گے۔

ترکیب : بعضکم الخ جملہ حال ہے ضمیر فاعل اھبطوا سے لباسا مفعول انزلنا یواری اس کی صفت وریشا لباساً پر معطوف و لباس منصوب ہو تو ریشا پر معطوف ورنہ مبتدا ذالک جملہ خبر۔ تفسیر : کیوں نہیں ہم نے دنیا میں باہم ایک کو دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ سو ایک پر دوسرے کو مسلط کرکے کیا ہم نہیں چھنوا سکتے ؟ ) چونکہ آدم کے احسانات اس کی اولاد پر ہیں اس لئے آدم کے پیدا کرنے اور اس کی صورت بنانے کو مخاطبین کے پیدا کرنے اور صورت بنانے کے ساتھ اس رمز کے لئے تعبیر کیا ورنہ مراد بالذات آدم ہیں اس لئے ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا سے انہیں کے خاص حال کو شروع کیا گو اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اے بنی آدم ! تمہارے لئے بھی ہم نے ملائکہ کو روزی پہنچانے ‘ تدبیر و تصرف کرنے میں مسخر کردیا ہے جو ایک قسم کا سجدہ ہے۔ اس قصہ کو جداگانہ غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ان سورتوں میں ذکر فرمایا ہے (1) سورة بقرہ (2) سورة حجر (3) سورة بنی اسرائیل (4) سورة کہف (5) سورة طہٰ (6) سورة ص۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہم نے تم پر ایسا لباس نازل کیا ہے جو تمہاری شرمگاہ چھپاتا ہے اور زیبائش بھی ہے اور پرہیزگاری کا لباس یہ سب سے بہتر ہے۔

1 ؎ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جس لباس میں پرہیزگاری ہو یا جس میں گرمی جاڑے سے بچ سکے وہی عمدہ لباس ہے۔ 12 منہ : لباس التقویٰ ۔ بقول سیدنا عثمان ؓ حسن خلق مراد ہے اور بقول عروہ بن زبیر اللہ سے ڈرنا مراد ہے۔ بعضوں نے پاکدامنی کہا ہے زید علی نے وہ چیزیں مراد لی ہیں جن کو لڑائی میں اپنے بچاؤ کے لئے پہنتے ہیں۔ خواجہ حسن بصری حیا مراد لیتے ہیں چونکہ حیا ہی سے پرہیزگاری کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ حقانی
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

یہ اللہ (یہ قدرتیں ہیں اللہ کی) کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ سمجھیں۔ اے بنی آدم ! تم کو شیطان نہ بہکانے پاوے جیسا کہ تمہارے ماں باپ 1 ؎ کو جنت سے کپڑے اتروا کر نکلوا دیا تھا۔ ان کا ستر دکھانے کے لئے۔ وہ اور اس کی ذریت تم کو اس جگہ سے دیکھتے ہیں کہ تم جہاں سے ان کو نہیں دیکھتے۔ ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا یار بنا دیا ہے کہ جو ایمان نہیں لاتے۔

1 ؎ آدم و حوا۔ 12 منہ
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب کوئی بےحیائی (کا کام) کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی پر پایا اور اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے۔ آپ کہہ دیں اللہ تو ہرگز بےحیائی کا حکم نہیں دیا کرتا کیا تم اللہ پر وہ باتیں لگاتے ہو جن کو تم جانتے بھی نہیں

ترکیب : واذا شرط قالوا جواب واقیموا معطوف ہے محل القسط پر معنی ً ای امر ربی فقال اقسطوا واقیمو الدین منصوب ہے مخلصین سے۔ فریقاً منصوب ہے ھدیً اور فریقاً ثانی منصوب ہے فعل محذوف سے ای اصل یدل علیہ مابعدہ اور یہ جملہ حال ہے تعودون سے جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ انہم جملہ قائم مقام دو مفعولوں کے۔ تفسیر : اب ان شیاطین کے مریدوں اور دوستوں کے خصائلِ بد ذکر کرتا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ جب وہ کوئی فحش بات کرتے ہیں زنا یا مغلظات گالیاں یا اور سینکڑوں بےحیائی کے کام تو عقل کے اندھے اس کو اللہ کا حکم اور باپ دادا کی عمدہ رسم بتاتے ہیں جس کے رد میں فرماتا ہے کہ کہہ دے خدا بری باتوں کا حکم نہیں دیا کرتا ہاں اچھی باتوں اور انصاف کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ نماز کے وقت اسی طرف متوجہ ہوا کرو اور خاص اسی کو پکارو کیونکہ کما بداکم 1 ؎ تعودون 2 ؎ جس طرح دنیا میں مومن یا کافر کرکے لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔ انہیں اعمال انہیں حالات میں آخرت میں دوبارہ جی اٹھیں گے۔ اس لئے دنیا میں اس نے اپنے فضل و کرم سے ایک فریق کو ہدایت عطا کی ہے اور ایک گروہ گمراہ ہوگیا اور گمراہ وہ ہیں کہ جنہوں نے خدا کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا دوست و کارکن بنا رکھا ہے اور پھر ایسے اندھے ہیں کہ الٹے اس گمراہی کو ہدایت سمجھتے ہیں۔ ویحسبون انہم مہتدون لباس کو زینت فرمایا تھا۔ اس لئے اس زینت کو اس کے عمدہ موقع پر استعمال میں لانے کا حکم دیتا ہے کیونکہ جب دنیا میں امراء و سلاطین کے دربار میں بغیر لباس کے حاضر نہیں ہوتے تو نماز میں کہ خاص خدا تعالیٰ کا دربار ہے بغیر اس کے حاضر ہونا بےادبی ہے اور اس میں مشرکین کی اس افراط وتفریط کا بھی رد ہے جس کو عبداللہ بن عباس ؓ نے نقل کیا ہے کہ بعض قبائل عرب برہنہ ہو کر طواف کعبہ کرتے تھے۔ عورتیں رات کو برہنہ طواف کرتی تھیں اور مسجد منٰی میں آکر کپڑے اتار ڈالتے تھے اور گھی و گوشت اچھی غذائیں کھانے بھی ان ایام میں ترک کردیتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں فرماتا ہے کہ تم نماز کے وقت لباس پہنا کرو اور کھاؤ پیو فضول خرچی نہ کیا کرو۔ یہ تمہارے لئے ہیں ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ یعنی کسی نے بھی حرام نہیں کیا بلکہ یہ چیزیں اولاً وبالذات تو ایمانداروں کے لئے مخصوص ہیں بالتبع کفار بھی شریک ہیں یا یہ معنی کہ دنیا میں مومن و کافر سب شریک ہیں۔ ع چہ دشمن بریں خوان یغماچہ دوست۔ مگر قیامت کے دن ایمانداروں کے حصہ میں آئیں گی کفار محروم رہیں گے۔ 2 ؎ کیونکہ ناپاک کو پاک سے بوجہ مجانست رغبت ہوتی ہے۔ 12 منہ
Ayahs 7:29–30

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

(اور) کہہ دیجئے میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ نماز کے وقت اس کی طرف متوجہ ہوا کرو اور اس کو پکارو۔ خاص اسی کے فرمانبردار ہو کر۔ جیسا کہ تم کو اول بار پیدا کیا اسی طرح بار دگر پیدا کئے جاؤ گے۔

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فریق کو ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو دوست بنا لیا اور جانتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔

1 ؎ مجاہدو حسن کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح تم لاشے تھے تم کو دنیا میں پیدا اپنی قدرت سے کردیا۔ اسی طرح پھر موت کے بعد تم کو زندہ کر دے گا۔ 2 ؎ اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح صحیح وسالم دنیا میں پیدا ہوئے تھے اسی طرح قیامت کے دن دوسری بار اٹھو گے۔ حدیث میں آیا ہے جس حال میں جو کوئی مرا ہے اس میں اٹھے گا شرابی مست و مخمور ‘ خدا پرست شاد و مسرور۔ 12 منہ
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ہر نماز کے وقت اپنے آپ کو آراستہ 3 ؎ کرلیا کرو اور کھاؤ پیو اور فضول خرچی نہ کرو کیونکہ اس کو فضول خرچی کرنے والے پسند نہیں۔

3 ؎ یعنی نماز کے وقت پاک اور ستھرا لباس پہنا کرو۔ 12 منہ
Ayahs 7:32–34

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

(اے نبی ! ) پوچھو کہ اللہ نے جو آرائش اور پاک روزی اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اس کو کس نے حرام کیا ہے (اور) کہہ دو یہ چیزیں 3 ؎ ایمانداروں کیلئے دنیا کی زندگی میں ہیں۔ آخرت میں تو خاص انہیں کی ہیں۔ عقلمندوں کے لئے ہم یوں کھول کھول کر آیتیں بیان کرتے ہیں

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

(اور منکرین سے) کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو صرف بےحیائی کے کام حرام کئے ہیں خواہ ظاہر ہوں خواہ مخفی اور گناہ اور ناحق کی زیادتی کو اور اس بات کو بھی کہ تم اللہ کا ان چیزوں کو شریک بناؤ کہ جن پر کوئی سند نہیں اتاری اور اس بات کو بھی کہ تم اللہ پر وہ باتیں لگاؤ کہ جن کو تم جانتے بھی نہیں۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر قوم کے لیے ایک وقت (مقرر) ہے۔ پھر جب ان کا وقت آتا ہے تو وہ ایک ساعت اس سے نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں

2 ؎ یعنی یہ نعماء ایمانداروں کے لئے دنیا میں حرام نہیں بلکہ مباح ہیں۔ مقصود بالذات ان کے لئے پیدا کی ہیں۔ تبعاً کفار بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ قیامت میں تو ایمانداروں کا ہی حصہ ہے 12 منہ ترکیب : والطیبات معطوف ہے زینۃ اللّٰہ پر ھی مبتداء اس کی خبر میں تین احتمال ہیں۔ اقوٰی یہ ہے کہ للذین ہے فی الحیوۃ متعلق ہے امنوا سے یا فی الحیوۃ خبر اور للذین خالصۃ سے متعلق اور خالصۃ حال ہے اور عامل اس میں للذین ہے یا فی الحیوۃ الدنیا اور خالصۃ کو مرفوع بھی پڑھا ہے خبر ثانی بنا کر۔ ماظہر وما بطن بدل ہیں الفواحش سے۔ تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ یہ چیزیں تو اللہ نے حرام نہیں کیں۔ ہاں بےحیائی کی باتیں خواہ ظاہر ہوں خواہ مخفی اور گناہ جیسا کہ شراب پینا اور ناحق کی زیادتی اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک بنانا کہ جس پر کوئی دلیل بھی نہیں اور خدا پر جھوٹی باتیں ناسمجھی سے لگانا حرام کی ہیں۔ (1) زینت سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک لباس ہے کہ جس سے ستر عورت ہو سکے۔ مرد کے لئے ناف سے گھٹنوں تک عورت کے منہ ہاتھ پائوں کے سوا کل بدن عند کل مسجد زمان صلوٰۃ یا مکان صلوٰۃ۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوئی کہ ہر نماز کے وقت ستر ڈھانکنا فرض ہے۔ اسی طرح ہر مساجد میں بھی۔ عام اوقات میں ستر ڈھانکنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے۔ (2) بعض علماء کہتے ہیں کہ زینت میں ہر قسم کی تزئین شامل ہے جیسا کہ نہانا خوشبو لگانا عمدہ نفیس کپڑے پہننا اور اسی طرح الطیبات من الرزق ہر قسم کے لذیذ کھانے اور خوشگوار کو شامل ہے۔ بجز اس زینت اور ان کھانوں کے کہ جن کو کتاب و سنت نے منع کیا ہے۔گناہ کی پانچ قسم ہیں۔ اول وہ کہ جن کا اثر بد نسب پر پہنچتا ہے سو وہ زنا ہے جس کو الفواحش میں تعبیر کیا ہے۔ دوم وہ کہ جن کا اثر عقل پر پہنچتا ہے۔ وہ شراب ہے جس کو الاثم سے تعبیر کیا ہے۔ سوم وہ جن کا اثر عزت پر پہنچتا ہے۔ چہارم وہ کہ جن کا اثرمال پر پہنچتا ہے اور جان بھی ان کی طرف البغی بغیر الحق میں اشارہ ہے۔ پنجم وہ کہ جن کا اثر بد اس کی روح اور دین پر پہنچتا ہے ان کو ان تشرکوا الخ میں بیان کیا ہے۔
Ayahs 7:35–37

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اے بنی آدم ! جب کبھی تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آویں (اور) تم کو میری آیتیں سنائیں (تو مان لینا کیونکہ) پھر جو کوئی پرہیزگاری کرے گا اور سنور جاوے گا تو نہ اس پر کچھ خوف ہوگا نہ وہ کچھ رنج کرے گا

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جس نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے اکڑ بیٹھے تو وہی دوزخی بھی ہوں گے جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا یہ وہی ہیں کہ جن کو ان کا حصہ نوشتہ 1 ؎ (ازلی) میں سے بھیج رہا ہے یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتہ ان کی روح قبض کرنے آویں گے تو کہیں گے (اب وہ) کہاں ہیں کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے۔ کہیں گے وہ ہم سے غائب ہوگئے اور وہ اپنے اوپر اس بات کی گواہی دیں گے کہ بیشک ہم کافر تھے۔

ترکیب : امایاتینکم شرط منکم یقصون الخ رسل کی صفت یا حال فمن اتقٰی شرط فلا خوف جواب جملہ جواب شرط اول۔ والذین الخ مبتداء اولئک جملہ خبر فمن مبتداء ظلم خبر یتوفونہم حال ہے رسلنا سے مابمعنی الذی۔ تدعون میں ضمیر عائد اس کی طرف محذوف تقدیرہ تدعونہ فی النار متعلق ہے ادخلوا سے۔ کلما دخلت شرط لعنت جواب اذا ادارکو اصلہ تدارکو ‘ ت کود سے بدلا اور ساکن کرکے ادغام کردیا پھر ہمزہ وصل اور زیادہ کردیا۔ جمیعا حال ہے فاعل ادارکو سے یہ سب شرط قالت الخ جواب وکذلک مفعول ہے نجزی کا۔ تفسیر : مسائلِ حلال و حرام بیان کرنے کے بعد کچھ آخرت کا حال بیان کرنا بھی ضرور تھا کہ جہاں اس دنیا کے تمام افعال نیک و بد کا بدلہ دیا جاتا ہے اور آخرت کی پہلی گھاٹی یا اول سیڑھی انسان کی موت ہے کہ پھر اس کے بعد سے وہاں کا دوسرا کارخانہ شرع ہوتا ہے اس لئے سب سے اول یہ فرمایا لکل امۃ اجل الخ کہ دنیا میں ہر ایک قوم کا ایک وقت معین ہے کہ جس کے افراد یکے بعد دیگر فنا ہونے سے وہ قوم فنا ہوجاتی ہے (پچاس ساٹھ برس میں وہ دور تمام ہوجاتا ہے۔ کل شاہجہاں کے لاکھوں سپاہی ہزاروں خادم تھے آج ان میں سے ایک خدمتگار تو کیا ان کی فوج میں سے کسی گھوڑے کی زین اور لگام بھی دکھائی نہیں دیتی نہ اس وقت کا کوئی موافق ہے نہ مخالف ہائے یہ سب کے سب کہاں چلے گئے اور اپنے عہد کی چیزیں بھی ساتھ لے گئے۔ وہ شاندار دربار اور اس کے امراء کہاں غائب ہوگئے۔ وہ ان کے محل کے تجمل اور ان کے سامان کہاں چھپ گئے ؟ ع زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے سو یہ ایک وقت ہر شخص کے لئے ایسا معین ہے کہ نہ کوئی اس سے آگے بڑھ سکے نہ 2 ؎ پیچھے ہٹ سکے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر قوم مخالف انبیاء کے عذاب کے لئے ایک وقت معین ہے ان کی جلدی سے پہلے نہیں ہوسکتا ہٹانے سے ہٹ نہیں سکتا۔ اب عالم آخرت کی سرگذشت شروع کرتا ہے اور وہاں کے عتاب وثواب کا سبب بھی بتلاتا ہے کہ روز ازل ہم نے کہہ دیا تھا کہ اے بنی آدم ! میں اپنے رسول تمہارے پاس بھیجوں گا وہ تمہیں میری آیات سنائیں گے۔ پھر جس نے تقویٰ اور اصلاح اختیار کیا تو ان کے لئے کچھ خوف و غم نہیں اور جنہوں نے اس کو جھٹلایا سو وہ ہمیشہ جہنم میں رہا کریں گے۔ اب وقت موت سے لے کر ہمیشہ تک کا ان کا حال بیان فرماتا ہے کہ ان کو ان کی تقدیر کا لکھا پیش آتا ہے۔ وہ یہ کہ بوقت نزع فرشتے جو ان کی جان قبض کرنے کو آتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ اب وہ تمہارے معبود کہاں ہیں جن کو تم اللہ کا شریک کرتے تھے۔ جواب دیں گے کہ اب وہ کھو گئے اور اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے۔ آسمان میں اس کے انوار متجلی ہیں ان کی تجلیات اجرام علویہ میں بےانتہا ہیں۔ آفتاب ‘ ماہتاب ‘ ستارے سب نورانی چیزیں اسی لئے افلاک سے متعلق ہیں۔ اسی لئے ملائکہ اور ارواح مقدسہ کے لئے افلاک مسکن قرار پایا ہے اور بعد موت کے پاک روحیں اور نفوس مطہرہ اسی دارالبہجۃ والسرور و فضاء النور کی طرف صعود کرتی ہیں اور نفوس خبیثہ بعد مفارقت بدن کے عالم سفلی یعنی اس زمین تاریک و تار کی طرف ان کی مناسبت طبعی سے پھینکے جاتے ہیں۔ اس لئے فرماتا ہے ان الذین کذبوا بایآتنا واستکبروا عنہا لا تفتح لہم ابواب السماء الخ کہ کفار و متکبرین کے لئے نہ آسمان کے دروازہ کھلتے ہیں نہ یہ جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا محال ہے اسی طرح ان کا اس عالم قدس میں۔ اس سے پہلی آیتوں قال 1 ؎ کسی حکیم وفیلسوف نے موت طبعی کے دور کرنے کی تو کیا بڑھاپا روکنے کی بھی تدبیر نہیں نکالی۔ اسی طرح اقبال و ادبار قومی کا بھی ایک وقت مقرر ہے جس طرح اقبال کسی کے زائل کرنے سے زائل نہیں ہوجاتا اسی طرح ادبار بھی کسی تدبیر سے نہیں رک سکتا اور جو آجاوے تو جا نہیں سکتا۔ یہ ہیں خدائی پیادے اور اس کے احکام مبرم بھلا کوئی ان سے سرتابی تو کرے۔ 12 منہ 2 ؎ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایماندار کی روح کو ملائکہ آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے لئے دروازے افلاک کے کھیلتے ہیں (مشکواۃ) روح پاک اس تن کے قفس سے نکل کر سماوات کی طرف اس طرح دوڑتی ہے کہ جس طرح بلبل قفس سے نکل کر چمن کی طرف اڑتی ہے توئی آں دست پرور مرغ گستاخ کہ بودت آشیاں بیروں ازین کاخ چرازان آشیان بیگانہ گشتی چو دوناں چغد ایں ویرانہ گشتی بیفشاں بال وپر زآمیزش خاک بپرتا کنگر ایوان افلاک ارواح خبیثہ جو اس دنیائِ تنگ و تاریک کے لذائذ پر غش ہیں (اخلدالی الارض) وہ وہاں نہیں جانے پاتیں۔ بعض انبیاء زندہ ہی آسمانوں پر چلے گئے۔ 12 منہ