8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 8:41–42

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو کچھ تم غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے۔ اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس پر جو ہم نے فیصلہ کے دن جبکہ دو لشکر آملے تھے اپنے بندے پر نازل کیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جبکہ تم ادھر کے ناکے پر اور وہ ادھر کے ناکے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے اتر گیا اور اگر تم آپس میں جنگ کا وعدہ بھی کرتے تو وقت پر یکساں نہ پہنچتے لیکن اللہ کو تو ایک کام کرنا تھا جو مقدر ہوچکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو تو حجت تمام ہو کر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو حجت تمام ہو کر زندہ رہے اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔

ترکیب : انما غنمتم ما بمعنی الذی والعائد محذوف من شیء حال من العائد المحذوف والتقدیر ماغنمتوہ قلیلاً او کثیراً یہ سب مبتداء فان للّٰہ خمسہ جملہ خبرو فی الفاء وجہان احد ہما انہا دخلت فی خبر الذی لما فیہا معنی الشرط وان وماعملت فیہ فی موضع رفع خبر مبتداء تقدیرہ فالحکم ان للہ خمسہ والثانی ان الفاء زائدۃ وان بدل من الاولی اذ انتم بدل ہے یوم سے العدوۃ 1 ؎ بالضم والکسر ‘ القصوٰی اعلیٰ لاصل والقیاس ان تکون قصیا کالدنیا لانہا صفۃ تقلب واوہا یاء افرقابین الاسم والصفۃ۔ 1 ؎ العدوۃ بضم العین فی موضعین وکذابالفتح والکسر وقری بھا ایضا ہی شطالوادی وعاقبۃ عدت لان یتجاوز ھاما فی الوادی من ماء وغیرہ وقال ابو عمروھی المکان المرتفع (ٹیلہ) والد نیا تانیث الاولیٰ من الدنوای القرب من المدینۃ والقصویٰ تانیث الاقصیٰ من قصی یقصو ای البعد والمعنی انتم بالجانب القریب من المدینۃ وعدو کم بالجانب البعید۔ 12 منہ تفسیر : چونکہ کفار کے ساتھ جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا اور نصرت و مددِ الٰہی کا وعدہ ہوا تھا جس سے کفار پر فتح و غلبہ اور ان کے مال پر قبضہ ہونا سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے اس کے بعد اس مال کی تقسیم اور اس کے حصے بیان کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے واعلموا انما غنمتم من شیئٍ ۔ الانفال للہ والرسول کے بعد اس کی تصریح و تشریح کے لئے نازل کیا۔ واضح ہو کہ فے اور غنیمت اکثر اہل علم کے نزدیک ایک ہی چیز ہے یعنی وہ مال کہ جو غلبہ سے مسلمانوں کے ہاتھ آوے اور فے بعض اہل علم کے نزدیک وہ مال ہے کہ جو بغیر جنگ و جدل کفار سے ہاتھ آوے جیسا کہ وہ مسلمانوں سے دب کر جزیہ دینا قبول کرلیں یا وہ محصول جو ان سے لیا جاتا ہے یا ان کے لاوارث مال غنیمت کی تقسیم خواہ وہ کسی قدر ہو (مگر غیر منقول اسباب جائیداد و املاک محققین 1 ؎ کے نزدیک اس سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ امام کے اختیارات میں رہیں گے جن کو وہ حسب ضرورت خرچ کرنے کا مجاز رکھتا ہے) ۔ اس آیت میں یوں تقسیم کی گئی کہ کل مال کے پانچ حصے کرکے ان میں سے ایک حصہ جس کو خمس کہتے ہیں اللہ اور رسول اور رسول کے قرابت مندوں اور فقیروں اور یتیموں اور مسافروں کے لیے ہوگا یعنی اس خمس کے پانچ حصے کئے جاویں گے مگر ابو العالیہ کہتے ہیں کہ اس کے چھ حصے کئے جاویں گے۔ پانچ تو یہی اور چھٹا اللہ کا حصہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے لئے ہوگا کیونکہ للہ بھی مذکور ہے جمہور کے نزدیک لفظ للہ محض تعظیم کے لئے افتتاح کلام میں آیا ہے جیسا کہ قل الانفال للّٰہ والرسول میں آیا ہے کیونکہ تمام چیزیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کو حصہ کی کیا حاجت ہے اور تعمیر کعبہ امام اور اہل اسلام کا فرض ہے اور نیز خیبر کے غنائم میں آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے یہی فرمایا تھا کہ صاحبو میرے لئے تو اس میں سے خمس ہے سو وہ بھی تمہیں لوگوں کو الٹ کردیا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا حصہ آپ کے مصارف خانہ داری میں صرف ہوتا تھا اور ذی القربیٰ کے حصہ کو اپنے اقارب میں صرف کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے اقارب کی تفسیر میں کہ جن کو حصہ دیا جاتا تھا اہل علم کے مختلف قول ہیں۔ بعض نے سب قریش کو لیا ہے۔ مجاہد و علی بن حسین نے بنی ہاشم کو خاص کیا ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک بنی ہاشم اور بنی المطلب مراد ہیں نہ بنی عبد شمس نہ بنی نوفل کیونکہ جبیر بن معطم و عثمان ؓ نے آکر آنحضرت ﷺ سے سوال کیا تھا کہ آپ نے بنی المطلب کو دیا حالانکہ ہم اور وہ آپ سے قرابت میں مساوی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اور بنی ہاشم ایک ہی ہیں یعنی انہوں نے جاہلیت میں اسلام کی مدد کی تھی (فی الصحیح) فقراء اور مسافرین اور یتامٰی میں جمہور کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی قرابت اور غیر قرابت کی کچھ قید نہیں۔ کوئی ہو مگر امام زین العابدین (رح) کے نزدیک ان میں بھی قرابت کی قید ہے۔ آنحضرت (علیہ السلام) کے بعد اس خمس کی تقسیم میں علماء کے دو قول ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا حصہ جمہور کے نزدیک جن میں امام ابوحنیفہ اور شافعی بھی ہیں اسلام کے مصارف اور اس کی ضرورتوں میں صرف ہوگا کیونکہ اب آپ کو کوئی ضرورت باقی نہیں 2 ؎ رہی۔ چناچہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوبکر و عمر ؓ آپ کا حصہ ہتھیاروں اور اسباب جہاد کی خرید میں صرف کرتے تھے (معالم) بعض نے کہا کہ وہ ذوی القربیٰ اور یتامٰی اور مساکین اور ابن السبیل کو تقسیم ہوگا۔ اسی طرح آپ کے اقارب کے حصہ میں بھی اختلاف ہے۔ امام شافعی اور مالک کہتے ہیں کہ بعد میں بھی آنحضرت ﷺ کے اقارب کو حصہ ملے گا۔ مرد کو دوگنا عورت کو اکہرا۔ امام ابوحنیفہ اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ اقارب کی خبر گیری بھی انسان کے ذاتی حوائج میں داخل ہے۔ جب آنحضرت ﷺ ذاتی حوائج بشریہ سے مبرا ہوگئے تو یہ حقوق بھی ساقط ہوگئے۔ پس ان میں سے غربا اور یتامٰی کی پرورش بیت المال کے ذمہ ہے۔ اس تقدیر پر وہ خمس اس زمانہ میں مساکین و یتامیٰ و ابن السبیل کو بیت المال کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً دیا جاوے گا۔ رہے غنیمت کے چار حصہ باقی ان کی تقسیم آیت میں مذکور نہیں۔ احادیث سے علماء 1 ؎ امام ابوحنیفہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ 12 منہ 2 ؎ یعنی بعد وفات 12 منہ نے ان کا مجاہدین میں تقسیم کرنا ثابت کیا ہے۔ ابوحنیفہ (رح) نے اس طور سے کہ سوار کے لئے دو حصے پیدل کا ایک حصہ دیگر علماء نے تین حصے قائم کئے ہیں ایک گھوڑے کا دو اس کی ذات کے۔ امام مالک (رح) اور اکثر مالکیہ کہتے ہیں امام کو اختیار ہے ہر حاجت اور ضرورت میں حسب مصلحت صرف کرے 1 ؎ اور کہتے ہیں کہ خلفاء اربعہ آپ کے بعد ایسا ہی کیا کرتے تھے کیونکہ ایسا نہ ہو تو امام کے پاس کوئی ذخیرہ کافی جمع نہ ہو۔ جس کو بوقت ضرورت امور مہمہ میں صرف کیا جاوے اور نیز ایسی صورت میں سلطنت اسلام کا ضعف متصور ہے۔ گو آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات میں صحابہ کو چند مواقع پر ضرورت سمجھ کر اس طرح سے تقسیم کیا مگر اب موقع اور مصلحت اسی کی مقتضی ہے واللہ اعلم۔ اسی طرح فے بھی اکثر کے نزدیک رائے امام کی طرف مفّوض ہے اور یہی جمہور کا مسلک ہے۔ اس کے بعد اس حکم تقسیم کو مؤکد کرتا ہے کہ یہ جو ہم نے فرمایا ہے اس کو تسلیم کرو اور برحق جانو ان کنتم آمنتم باللہ وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقیٰ الجمعان اور اس پر یقین کرتے ہو جو ہم نے اپنے بندہ محمد ﷺ پر فیصلہ کے دن (یعنی بدر کے روز جبکہ دو لشکر اسلام اور کفر کے ملے تھے) نازل کیا ہے وہ کیا نازل کیا تھا۔ آیات اور ملائکہ اور وہ دن جمعہ کا روز رمضان کی سترہویں تھی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے کہ جس نے باوجود قلت کے تم کو فتح دی۔ پھر یوم الفرقان یعنی بدر کے دن کا بیان کرتا ہے۔ اذ انتم بالعدوۃ الدنیا عدویٰ ابن کثیر و نافع و ابو عمرو اس کو بالکسر باقی قراء بالضم پڑھتے اور دونوں طرح سے درست ہے۔ عدویٰ کنارہ اور جانبداری کو کہتے ہیں اور اس کی جمع عدی آتی ہے۔ دنیا تانیث ادنیٰ بمعنی قریب اس کی ضد قصویٰ جو اقصیٰ کی تانیث بمعنی بعید جیسا کہ اکبر کی تانیث کبریٰ ہے۔ عدوۃ الدنیا یعنی وادی بدر کا وہ کنارہ جو مدینہ کے رخ اور عدوۃ القصوٰی وہ کنارہ جو مکہ کی جانب ہے۔ اس مدینہ کی طرف کے گوشہ میں لشکر اسلام پڑا تھا اور پرلے کونے پر لشکر کفار اور وہیں پانی بھی تھا۔ والرکب قافلہ جس کے لئے مسلمان نکلے تھے۔ اسفل منکم نشیب میں تھا یعنی سمندر کا کنارہ اس میدان سے تین میل کے فاصلہ پر چلا گیا تھا۔ پھر فرماتا ہے اگر جنگ کا کوئی وقت معین کیا جاتا تو اے اہل اسلام تم اپنی بےسرو سامانی کی وجہ سے وقت معین پر نہ پہنچتے یہاں اتفاقاً تم کو ان سے بھڑا کر کفر کا کام تمام کرا دیا تاکہ قدرت حق دیکھنے کے بعد جو کفر میں پڑ کر ہلاک ہو تو دیدہ و دانستہ یعنی حجت دیکھ کر اور جو ایمان لائے تو حجت دیکھ کر۔ 1 ؎ یعنی خمس کے بعد غنیمت کے چار حصے 12 منہ
Ayahs 8:43–45

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

جبکہ (اے نبی ! ) آپ کے خواب میں اللہ ان کو کم کرکے دکھا رہا تھا اور اگر ان کو بہت کرکے تمہیں دکھاتا تو تم بزدلی کرتے اور کام میں جھگڑا ڈال دیتے لیکن اللہ نے بچا لیا کیونکہ وہ دلوں کے راز سے واقف ہے

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور جبکہ تم ان سے مقابل ہوئے تو ان کو تمہاری آنکھوں میں کم کرکے دکھایا اور تم کو ان کی آنکھوں میں کم کرکے دکھایا تاکہ اللہ ایک ہونے والی بات کو پورا کرے اور سب کاموں کی انتہاء اللہ ہی کی طرف ہوتی ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

ایمان والو ! جب تم کسی لشکر سے مقابل ہوا کرو تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو بہت یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پائو

ترکیب : اذ منصوب ہے با ضمار اذکریا بدل ثانی ہے یوم الفرقان سے یا متعلق ہے سمیع علیم سے یری کا فاعل اللّٰہ ک مفعول اول ہم مفعول ثانی قلیلا مفعول ثالث فی فعل سے متعلق ولو شرط لفشلتم الخ جواب واذ معطوف ہے اذا ول پر یہ بھی بدل ہے۔ تفسیر : یہ بھی یوم الفرقان کے بیان کا تتمہ ہے۔ مجاہد اور مقاتل کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں اللہ تعالیٰ نے بدر کا واقعہ دکھایا۔ اس میں کفار تھوڑے دکھائی دیے۔ آپ نے اس بات کی صحابہ کو خبر دی۔ اس سے ان کو اور بھی جرأت مقابلہ کے لئے ہوئی۔ پھر جب مقابلہ کا وقت آیا اور دونوں طرف سے صفیں بندھیں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نگاہ میں کفار کو کم کرکے دکھایا۔ چناچہ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مخالفین ہم کو اس قدر کم دکھائی دیتے تھے کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا تو انہیں ستر سمجھتا ہے۔ اس نے کہا کہ سو خیال کرتا ہوں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہزار تھے۔ مسلمانوں کی نظر میں بوقت مقابلہ کم کرکے دکھانا دو وجہ سے تھا ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ کا خواب اور آپ کا فرمودہ غلط نہ نکلے۔ دوم یہ کہ مسلمانوں کو جرأت ہو اور رعب دل میں نہ آوے۔ ویقلکم فی اعینہم اسی طرح کافروں کی نظروں میں مسلمان کم نظر آتے تھے۔ سدی کہتے ہیں کہ بعض مشرکین نے کہا کہ قافلہ تو سلامت نکل گیا ٗ تم بھی واپس چلے چلو۔ ابو جہل نے سن کر کہا کہ محمد ﷺ اور اس کے دوست آج تمہارے مقابلہ میں آئے ہیں۔ ہم جب تک ان کا فیصلہ نہ کردیں گے واپس نہ جائیں گے۔ وہ چند آدمی ہیں ان کو قتل تو کیا کرو گے پکڑ کر باندھ دو ۔ اگر کافروں کی آنکھ میں مسلمان بہت دکھائی دیتے تو ہیبت کے مارے بھاگ جاتے مقابلہ نہ ہوتا مگر یقضی اللّٰہ امر کان مفعولا اللہ کو تو ایک بات جو مقدر ہوچکی تھی ٗ پوری کرنی تھی اور سب باتیں اسی کے قبضہ میں ہیں۔ شبہ : کیا خدا نے پیغمبر اور اس کے اصحاب کو غلطی میں مبتلا کیا ہزار کو سو کرکے دکھایا ؟ نفس الامری واقعہ کو مخفی کیا جہل مرکب میں پھنسایا اور کیا عالم اسباب میں ایسا ممکن ہے ؟ جواب یہ روایت باعتبار ان کی قوت و دلیری کے تھی۔ سو اس لحاظ سے وہ اسی قدر تھے یہ جہل مرکب نہیں نہ غلطی ہے بلکہ چشم حقیقت بین کو نفس الامر پر مطلع کیا اور کفار کا غرور و عجب مسلمانوں کی اصلی طاقت دیکھنے کے لئے حاجب ہوگیا۔ ان کو برعکس دکھائی دیا۔ دنیا میں حس غلطی کرتی ہے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ انسان کے جمیع قوی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ رات دن دنیا میں یہی ہو رہا ہے۔ کسی کو کوئی چیز اچھی کرکے دکھاتا ہے اسی کو دوسرے کی نظر میں مکروہ بناتا ہے جس قوم اور دولت کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے ان کی نظر میں مخالف کو کمزور دکھاتا ہے۔ مخالف کو ان پر جرأت دلا کر مقابلہ کرا دیتا ہے۔ ان کا کام تمام ہوجاتا ہے۔ مسبب اسباب کی ہر روز نئی شان ہے آنکھ ہو تو دیکھ لو۔ 1 ؎ ریح ہوا مگر مراد اقبال و شوکت ہے شبہت الدولۃ وقت نفاذ ہا و تمشیۃ امرہا بالریح وہبو بھا یقال ہبت ریاح فلان اذا انت لہ الدولۃ ونفذ امرہ 12 منہ۔
Ayahs 8:46–48

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کیا کرو اور آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ نامرد ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جاوے گی اور برداشت کیا کرو کیونکہ اللہ برداشت کرنے والوں کے ساتھ ہے

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور تم ان جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اترانے اور لوگوں کے دکھاوے کے لئے نکلے اور لوگوں کو اللہ کے رستے سے روکنے لگے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ کے علم میں ہے

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جبکہ ان کو شیطان نے ان کے کام عمدہ کر دکھائے اور کہہ دیا کہ آج تم پر کوئی شخص غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا ساتھی ہوں۔ پھر جب دونوں لشکر مقابل ہوئے تو اپنے الٹے پائوں چلتا بنا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کچھ سروکار نہیں کیونکہ مجھے وہ نظر آتا ہے جو تمہیں نہیں سوجھتا میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور (چونکہ) اللہ کی سخت مار ہے۔

ترکیب : فتفشلوا موضع نصب میں ہے کیونکہ جواب نہی ہے اور اسی طرح تذھب ہے۔ بطر اور ریاء الناس مفعول خرجوا کے ویصدون معطوف ہے معنی مصدر پر غالب مبنی ہے اسم لا کی وجہ سے۔ لکم اس کی خبر الیوم معمول خبر ہے۔ من الناس حال ہے ضمیر لکم سے فلما تراءت شرط نکص رجع جواب علی عقبیہ حال ہے ای ھارباً وقال معطوف ہے نکص پر۔ تفسیر : فتح بدر کے سامان غیبی ذکر فرما کر اور یہ بات جتلا کر کہ اللہ تمہارا مددگار ہے۔ مسلمانوں کو یہ چند حکم دیتا ہے۔ اول یہ کہ جب تمہارا لشکر مخالفین سے مقابلہ ہوا کرے تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو خوب یاد کیا کرو کیونکہ یہ فتح و ظفر اس کی طرف سے ہے اور نیز اس کی یاد سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ للہ درمن قال ؎ ہرچند پیروخستہ دل و ناتواں شدم ہر گہ کہ یادروئے تو کردم جواں شدم اور مخالفین پر ہیبت پڑتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنگ میں تکبیر اور نعرہ اللہ اکبر بلند کرنا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ عام ہے ذکر قلبی اور لسانی سب کو شامل ہے۔ دوم یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ نامردی پیدا ہوجاوے گی اور تمہاری ہوا بگڑ جاوے گی کیونکہ اتفاق میں جو فرادیٰ قوتیں مجتمع ہو کر ایک اثر پیدا کرتی ہیں اختلاف میں وہ بات کہاں رہتی ہے ؟ سوم یہ کہ جب اعداء کے مقابلہ کو نکلو تو لوگوں کو بہادری دکھلاتے اور تکبر کرتے نہ نکلو جیسا کہ جنگ بدر کے لئے قریش ابو جہل وغیرہ نکلے تھے۔ اکڑتے جاتے تھے کہ ہم یوں کریں گے ٗ یہ کریں گے اور فتح پا کر وہاں شراب نوشی کریں گے اور ناچ دیکھیں گے۔ پھر ان متکبرین کے چند حالات بیان فرماتا ہے۔ اول تو یہی کہ وہ بطراً اور ریائً نکلے تھے۔ دوم یہ کہ لوگوں کو ہمیشہ اللہ کے رستہ سے روکا کرتے تھے۔ مکہ میں غربائِ مسلمین پر آفت برپا کر رکھی تھی۔ سوم یہ کہ شیطان نے ان کے برے اعمال ان کی آنکھوں میں اچھے کر دکھائے تھے۔ اس بدی کو وہ نیکی سمجھتے تھے اور شیطان نے ان سے بدر کے روز یہ بھی کہا تھا کہ میں تمہارا حمایتی ہوں تم پر کوئی غالب نہ آئے گا مگر جبکہ اس نے ملائکہ جبرئیل وغیرہ کو دیکھا تو یہ کہہ کر الٹا پھر گیا کہ میں تم سے الگ ہوں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس روز شیطان سراقہ بن مالک سردار بنی بکر بن کنانہ کی صورت میں ظاہر ہوا تھا۔ حسن اور اصم کہتے ہیں کہ بغیر کسی شکل میں ظاہر ہونے کے اس نے دل میں کفار کے وسوسہ ڈالے تھے۔
Ayahs 8:49–54

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

جبکہ منافقین اور وہ کہ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو تو (مسلمانوں کو) ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے حالانکہ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ زبردست حکمت والا ہے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

(کفایت کرتا ہے) اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جبکہ ملائکہ کافروں کی جان نکالتے ہوں گے ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے ہوں گے اور (کہتے جاتے ہوں گے لو) دوزخ کا عذاب چکھو

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ بدلہ ہے تمہارے ان کاموں کا جن کو تم نے آگے بھیجا تھا اور اللہ تو بندوں پر (کچھ بھی) ظلم نہیں کرتا۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

فرعونیوں اور ان سے پہلوں جیسی گت ہوئی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائی تھیں پھر اللہ نے ان کو ان کے گناہوں پر پکڑ لیا کس لئے کہ اللہ قوت والا ‘ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ تو کسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطا کرتا ہے ٗ بگاڑتا نہیں جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو خراب نہیں کرلیتی اور اللہ سنتا ‘ جانتا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

فرعونیوں اور ان سے پہلوں جیسی گت ہوتی ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں جھٹلائیں سو ان کو ہم نے ان کے گناہوں سے پکڑ لیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا اور وہ سب ظالم تھے۔

ترکیب : اذیقول ممکن ہے کہ معمول اذکر ہو یا زین کا ظرف ہو۔ الذین کفروا مفعول ہے یتوفی کا الملائکۃ فاعل ذوالحال یضربون حال وذوقوا ای یقولون معطوف ہوگا یضربون پر یہ بھی حال ہو کر ملائکہ کا مقولہ ہوگا اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو یعنی بعد موت کے ہم ان سے کہیں گے۔ تفسیر : چونکہ تزیین شیطانی کا ذکر آیا تھا کہ شیطان نے مکہ کے کافروں کو یوں گمراہ کر رکھا تھا۔ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ تزیین کچھ انہیں میں منحصر نہیں بلکہ مدینہ کے منافق کہ جن کے دل میں مرض شک و نفاق ہے بدر کے واقعہ کی نسبت مسلمانوں کو یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کردیا ہے۔ محمد ﷺ کے وعدوں پر تین سو تیرہ ٹوٹے پھوٹے مسلمان ہزار جنگجو اور بہادر قریش سے لڑنے چلے ہیں۔ اس کی نسبت خدا تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ یہ غرور نہیں بلکہ خدا پر توکل ہے اور جو اس پر توکل کرتا ہے تو وہ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے کیونکہ وہ زبردست بھی ہے اور حکیم بھی۔ اس کے بعد ان منکرین کا وہ حال بیان فرماتا ہے جو موت کے وقت ہوگا کہ اے نبی ! یا اے دیکھنے والے ! اگر تو ان کا وہ وقت دیکھے کہ جب فرشتے ان کی جان نکالتے اور ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے ہوں گے تو تجھے حیرت ہو۔ کفار جب دنیا سے جاتے ہیں تو ادھر ان کو عالم آخرت کے ظلمات و عذاب میں جانے کا غم ادھر لذت دنیا کے چھوڑنے کا قلق ہوتا ہے۔ سو ان کے منہ اور پیٹھ پر مارنے سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ اس حالت میں فرشتے یہ بھی کہیں گے کہ یہ تمہارے اعمال کے نتائج ہیں جو تم نے یہاں کے لئے بھیج رکھے 1 ؎ تھے۔ اللہ نے تم پر ظلم نہیں کیا یعنی اس تنزیین کی قلعی اس وقت کھل جائے گی جس طرح کہ فرعونیوں اور ان سے پہلوں پر کھل گئی۔ دنیا میں ان کے عروج و اقبال جاتے رہے۔ اپنے گناہوں سے ہلاک ہوئے جو کوئی خدا کی دی ہوئی نعمت کو پہلے آپ خراب نہیں کرلیتا تب تک از خود خدا اس سے وہ نعمت نہیں لیتا یعنی جب اس نعمت کی ناقدری کرکے بیجا صرف کرتا ہے تو پھر خدا اس سے چھین لیتا ہے جیسا کہ فرعونیوں اور ان سے پہلوں کے ساتھ کیا۔ ان کو ہلاک کیا۔ فرعونیوں کو قلزم میں غرق کیا۔ تم اب بھی تزیین شیطان سے نہیں بچتے۔
Ayahs 8:55–59

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بیشک زمین پر چلنے والوں میں سے اللہ کے نزدیک وہ بدتر ہیں کہ جنہوں نے کفر کیا۔ سو وہ ایمان نہیں لاتے

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

(یہ) وہ لوگ کہ جن سے آپ نے عہد کیا تھا پھر وہ ہر بار عہد توڑ ڈالتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پھر جو کبھی آپ ان کو لڑائی میں پالیں تو ایسی سزا دیں کہ جس سے ان کے پچھلے دیکھ کر بھاگیں تاکہ وہ عبرت حاصل کریں

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور جو آپ کو کسی قوم کی دغا کا اندیشہ ہو تو ان کے عہد کو ان کی طرف برابر پھینک مارو کیونکہ اللہ کو دغا باز پسند نہیں آتے

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ سمجھ لیں کہ ہمارے قابو سے نکل گئے۔ وہ ہرگز عاجز نہ کرسکیں گے

ترکیب : الذین کفروا خبر ان فاما شرط تثقفنھم تجدنہم چونکہ شرط کا کلمہ ان ما کے ساتھ مؤکد ہوگیا اس لئے اس کے بعد فعل کو نون تاکید کے ساتھ لانا مستحسن ہو۔ افشرد جواب شرط فرق بہم ای بسببہم متعلق ہے شرد سے۔ من موصولہ خلفہم ثبت کے متعلق ہو کر اس کا صلہ یہ سب شرد کا مفعول ہوا خیانۃ مفعول ہے تخافن کا فانبذا طرح عہد ھم علی سوا حال ہے ای مستویاسب جواب شرط۔ من قوۃ ومن رباط الخیل ما کا بیان ہے الذین کفروا یحسبن کا فاعل ‘ سبقوا مفعول اور بعض نے تحسبن بھی پڑھا ہے۔ تفسیر : کافروں کو کہا تھا کل کانوا ظالمین اب ان ظالموں میں سے زیادہ تر راندہ درگاہوں کا ذکر اور ان کی عادت کا بیان فرماتا ہے کہ ان سے کیا برتاوا کرنا چاہیے ؟ ان الشر الدواب کہ سب میں برتر وہ کافر ہیں کہ جن میں دو وصف ہیں۔ اول یہ کہ وہ اپنے کفر پر مصر ہیں ٗ ایمان نہیں لاتے۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے عہد کو ہر بار توڑ ڈالتے ہیں۔ اس کی کچھ رعایت نہیں کرتے۔ اب ان سے کیا کرنا چاہیے ؟ کہ اگر کہیں جگ میں ہاتھ آجاویں تو ان کو ایسی سزا دے کہ جس کو سن کر ان کے بعد کے کفار پریشان ہوجاویں۔ یہ تو ان کا حال تھا کہ جنہوں نے کھلم کھلا عہد توڑ ڈالا۔ جیسا کہ بنی قریظہ یا جنہوں نے جنگ بدر میں باوجود عہد کے کفار کو ہتھیاروں کی مدد دی۔ پھر قائل ہونے کے بعد بھی جنگ احزاب میں مخالفوں سے جا ملے اور جن سے عہد شکنی کا گمان ہو اور اس کی علامات پائی جاویں تو ان کو آپ بھی صاف طور پر مطلع کر دیجئے کہ اب ہمارا تمہارا عہد باقی نہیں رہا تاکہ آپ پر عہد شکنی کا دھبہ نہ لگے اور ایسے چالاک کافر یہ خیال نہ کریں کہ وہ ہمارے قابو میں ہیں ٗ ہم ان سے عاجز نہیں۔ مگر اے اہل اسلام ! بظاہر تم بھی ان کے مقابلہ میں جہاں تک قوت بہم پہنچ سکے پہنچائو۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں علاوہ رباط الخیل یعنی جنگ کے لئے گھوڑے باندھنے کے تیر اندازی بھی عمدہ قوت تھی مگر اس زمانہ میں بجائے اس کے عام مسلمانوں کو قواعد سکھلانا عمدہ اور نو ایجاد توپیں اور بندوقیں اور دخانی جہازات اور دیگر سامان حرب پہنچانا عمدہ موقعوں پر اور ریل اور تار برقی لگانافرض کفایہ ہے۔ اس قوت کا فائدہ دشمنوں کو خوف دلاتا ہے کیونکہ اعدانہ کسی علم سے ڈرتے ہیں ‘ نہ کسی معاہدہ سے ‘ نہ کسی صنعت و حرفت سے ‘ نہ نئی روشنی کے لباس و عادات سے وہ تو قوت جنگ سے ڈرتے ہیں جس میں یہ ہے اسی کی عزت ٗ اسی کے لئے عہد ہے۔ اس میں جو کچھ مسلمانوں کا صرف ہو اس کا اجر اللہ کے ہاں سے پورا ملے گا۔ پھر اس طاقت و شوکت کے بعد بھی اگر وہ صلح پر مائل ہوں تو صلح کرلیجئے اور اسلام پر بھروسہ رکھئے۔ ان کے کی دو مکر آپ پر کچھ نہ چلیں گے۔ اللہ کافی ہے جس نے آپ کے بغیر اسباب ظاہرہ اپنی فتح 1 ؎ اور مومنین سے بھی مدد کی ہے۔ 1 ؎ اللہ کی فتح ہر قسم کی کشائش جو نبی ﷺ کو میسر آئی یہ بڑی مدد تھی۔ 12 منہ
Ayahs 8:60–62

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور ان کے مقابلہ کے لئے جو کچھ قوت بہم پہنچ سکے بہم پہنچاؤ اور منجملہ اس کے گھوڑے باندھنا ہے کہ جس سے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھاؤ اور ان کے سوا ان لوگوں پر بھی کہ جن کو تم نہیں جانتے۔ اللہ ہی ان کو جانتا ہے اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ تمہیں ملے گا اور تمہارا کوئی حق رہ نہ جاوے گا

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ کافر صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو اور اللہ پر توکل کرو کیونکہ وہ سنتا ‘ جانتا ہے

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ کافر آپ سے فریب کرنا چاہیں گے تو آپ کا بھی اللہ کارساز ہے وہ کہ جس نے آپ کو اپنی فتح اور مسلمانوں سے قوت دی۔

1 ؎ ورنہ حقیقی تو معنی مراد ہی ہیں کہ فرشتے ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ 12 منہ 2 ؎ وآخرین من دونہم لا تعلمونھم مرا وایران و روم دویگر بلاد کے وہ کافر ہیں کہ جن کو مسلمان اس زمانہ میں اچھی طرح جانتے بھی نہ تھے جیسا کہ کئی صدیوں سے فرانس و روس و انگلینڈ وغیرہ نئی طاقتیں پیدا ہوگئی ہیں جو اسلام کے جھنڈے کو زمین پر گرا دینا چاہتے ہیں جیسا کہ حرمت صلیب میں چاہا تھا 12 منہ۔
Ayahs 8:63–67

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور (اے رسول ! ) اللہ ہی نے مسلمانوں میں باہم محبت پیدا کردی۔ اگر آپ دنیا بھر کی سب چیزیں بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دل میں الفت پیدا نہ کرسکتے تھے مگر اللہ نے ان کے دل میں الفت پیدا کردی کیونکہ وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

( اے نبی ! ) اللہ آپ کو اور جس قدر آپ کے پیرو مسلمان ہیں بس کرتے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ! ایمان داروں کو جہاد کی رغبت دلاؤ۔ اگر تم میں سے بیس بھی صابر (مستقل مزاج) ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو ہوں گے تو کافروں کے ہزار پر غالب آویں گے۔ اس لئے کہ وہ ناسمجھ قوم ہے۔

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب خدا نے تم پر تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ضعف ہے۔ سو اگر تم میں سے سو صابر ہوں گے تو دو سو پر غالب آویں گے اور جو تم میں سے ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آویں گے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کو جب تک زمین پر کافروں کا خون نہ بہا لے کافروں کو صرف قیدی بنا کر رکھنا مناسب نہیں۔ مسلمانو تم دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ (تم کو) آخرت (دینا) چاہتا ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

ترکیب : والف معطوف ہے اید پر حسبک ای کا فیک مبتداء اللّٰہ خبر ومن اللہ پر معطوف۔ ان شرطیہ یکن تامہ عشرون فاعل منکم ان سے حال یہ شرط یغلبوا جواب شرط مائتین یغلبوا کا مفعول ‘ من الذین کفروا الفا کا بیان بانہم جملہ علت ہے یغلبوا کی۔ تفسیر : اور اس نے اس کے دل میں الفت دی جو کسی کے اختیار کی بات نہ تھی۔ جس وقت آنحضرت ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے جس طرح تمام روئے زمین پر کفر و بت پرستی کی تاریکی محیط تھی (کیونکہ اس وقت خدا پرست روئے زمین پر یہود اور عیسائی خیال کئے جاتے تھے۔ سو ان کی جو کچھ حالت خراب تھی اور جس قدر ان میں بت پرستی تھی تواریخ سے ظاہر ہے) اسی طرح ملک عرب میں علاوہ بت پرستی و زناکاری کے باہمی عداوت اور خانہ جنگی کا بھی کچھ حساب نہ تھا۔ جہاں کسی نے ایک قبیلے کے لڑکے کو ایک طمانچہ مار دیا دوسرا قبیلہ ان پر چڑھ آیا۔ پھر یہ آتش جنگ قرنوں تک فرو نہ ہوتی تھی۔ مدینہ کے رہنے والوں اوس اور خزرج دو قبیلوں میں صدیوں سے عداوت اور کشت و خون تھا۔ پس جونہی مکہ میں اس آفتاب ہدایت نے طلوع کیا جس طرح تمام عالم کو منور کیا اسی طرح تمام عرب میں محبت اور اتفاق پیدا کردیا۔ اگر یہ ایک ایسا معجزہ نہیں کہ جو تمام معجزات انبیائِ سلف کا عطر ہے تو اور کیا ہے ؟ اس نعمت کو خدا تعالیٰ ظاہر کرتا ہے اور عزیز حکیم میں اس مصلحت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جس سے روم و ایران پر غلبہ دیا گیا اور آسمانی سلطنت کا جھنڈا قائم کیا گیا۔ ان عربوں کو آسمانی بادشاہت کا لشکر قرار دے کر آنحضرت ﷺ کو اپنی اور اپنی فوج کی مدد کا بھروسہ دلا کر دعوت عام اور مخالفین کے ساتھ جنگ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ اس پاکباز جماعت کے دس سو پر بھاری (کیونکہ خاصان خدا کی روح کی کہ جو نور الٰہی سے منور ہے باطنی طور پر مخالف پر بڑی ہیبت ہوا کرتی ہے۔ بڑے بڑے بادشاہ اور دنیا کے سردار اولیا اللہ کی ہیبت میں دب جاتے ہیں) مگر خدا نے تمہارے ضعف پر نظر کرکے تم پر تخفیف کردی کہ اگر اس پاکباز لشکر کے دس ہوں گے تو بیس پر اور سو دو سو پر بھاری ہوں گے۔ اس آیت سے یہ بات علما نے ثابت کی ہے کہ ابتدائِ اسلام میں خصوصاً بدر کی جنگ تک اپنے سے دو چند کفار سے مقابلہ کرنے کا حکم تھا مگر اس کے بعد دو چند سے مقابلہ کرنے کا حکم باقی رہ گیا۔ بانہم قوم لایفقہون میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ وہ دار آخرت اور ثواب کو نہیں جانتے اس لئے تم سے برابری نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 8:68–70

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر خدا کا پہلے سے نوشتہ (تقدیر) نہ ہوتا تو جو کچھ تم نے (بدر کے قیدیوں سے) لے لیا ہے اس پر تمہیں بڑی سزا ملتی

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

(خیر) جو کچھ تم کو غنیمت ہاتھ لگی ہے اس کو حلال طیب سمجھ کر کھاؤ اور اللہ سے ڈرا کرو۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی ! ان قیدیوں سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں (یہ) کہہ دو کہ اگر اللہ کو تمہارے دل میں کچھ بھی نیکی معلوم ہوگی تو تم کو اس سے بہتر دے گا کہ جو تم سے لیا گیا ہے اور تم کو بخش دے گا اور اللہ غفور رحیم ہے

ترکیب : ان یکون کا جملہ کان کا اسم کتاب مبتداء من اللّٰہ صفت اول سبق صفت ثانی یا سبق خبر لمسکم جملہ جواب لولا۔ لمن لام قل سے متعلق ہے فی ایدیکم صلہ من الاسریٰ من کا بیان ان یعلم اللّٰہ جملہ مقولہ ہے قل کا وان یریدوا معطوف ہے ان یعلم پر یا مستانفہ۔ تفسیر : بدر کی لڑائی سے آنحضرت ﷺ ستر قیدی کفار کے لے کر مدینہ میں آئے۔ ان قدیوں کی بابت کہ جن میں حضرت کے چچا عباس اور علی کے بھائی عقیل ؓ بھی تھے۔ لوگوں سے رائے طلب کی گئی۔ ابوبکر ؓ نے کہا فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے۔ آپ کی قوم ہے۔ خدا ان کو توفیق ہدایت دے گا۔ عمر ؓ نے کہا قتل کرنا چاہیے تاکہ کفر کا زور ٹوٹے۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا ٗ آگ میں جلا دیجئے۔ آخرکار آنحضرت ﷺ کو ابوبکر کی رائے پسند آئی۔ ہر ایک سے چالیس اوقیہ 1 ؎ لے کر چھوڑ دیا۔ عباس ؓ سے خود ان کا اور ان کے بھتیجے عقیل کا اور نوفل بن حارث کا تاوان لیا جس پر عباس ؓ نے کہا کہ میں فقیر 2 ؎ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا وہ سونا جو گھر میں دبا کر آیا ہے کہاں ہے چونکہ اس کی کسی کو بھی خبر نہ تھی یہ سنتے ہی عباس ؓ اسلام لائے۔ کتب حدیث میں یہ مضمون پایا جاتا ہے۔ 1 ؎ اوقیہ سونے کا ایک وزن تھا جس کے چالیس درہم ہوتے تھے۔ درہم کچھ کم چار آنے کا تھا۔ 2 ؎ جب بحرین کا اخراج آنحضرت کے حضور میں آیا تو عباس سے کہا جس قدر تجھ سے اٹھ سکے اٹھالے اس فدیہ کے معاوضہ میں اسی طرح مالا مال ہوگئے۔ 12 منہ امام کے اختیار میں چار باتیں یہ ہیں یا قیدیوں کو فدیہ لے کر یا مفت چھوڑ دے یا مار ڈالے یا غلام بنا کر رکھے سب اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے بجز نیچر یوں کے وہ تقلید یورپ غلام بنانا درست نہیں جانتے۔ 12 منہ فدیہ لینا اور قتل کرنا آنحضرت ﷺ کے لئے دونوں فعل مباح تھے اور اسی لئے لوگوں سے مشورہ لیا تھا لیکن زیادہ تر مناسب وقت ان کا قتل کرنا تھا تاکہ پھر سرکشی نہ کرتے اور انبیاء (علیہم السلام) پر ترک اولیٰ پر بھی عتاب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی کو زیبا نہیں کہ قیدی بنا رکھے اور خوب قتل نہ کرے۔ اے مسلمانو ! تم فدیہ کی طرف مائل ہوئے جو دنیا کا اسباب ہے۔ اللہ تو تمہارے لئے عالم باقی کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ حکیم اور زبردست ہے۔ مصلحت 1 ؎ اور حکمت قتل کو خوب جانتا ہے۔ اگر تقدیرِ الٰہی میں روز ازل نہ لکھا گیا ہوتا (کہ تم ان سے فدیہ لو گے پھر وہ تم پر چڑھائی کریں گے اور نیز یہ کہ ان میں سے بہت لوگ اسلام لاویں گے اور یہ کہ تم کو فدیہ لینا درست ہے) تو تم کو اس فدیہ لینے پر عذاب الیم ہوتا (عمر ؓ کی رائے عالم بالا کے منشا کے مطابق تھی) خیر اب جو کچھ تم نے ان سے لیا ہے یا غنیمت میں لائے ہو وہ تمہارے لئے حلال طیب ہے۔ کھاؤ پیو اللہ غفور رحیم ہے لیکن آیندہ ڈرتے رہو اور اے نبی ! ان قیدیوں سے کہہ دو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس پر تاسف نہ کرو۔ اگر تمہارے دل میں نیکی ہوگی اور تم اسلام لاؤ گے تو اس سے بہتر تم کو دلایا جائے گا (زمین کی سلطنتیں کسریٰ اور قیصر کے خزانے مسلمانوں کو ملنے ہیں) اور خدا تمہارا یہ گناہ بھی معاف کر دے گا۔ وہ غفور رحیم ہے اور اگر اے نبی وہ تمہارے پاس سے جا کر پھر شرارت کریں گے تو کچھ پروا نہیں۔ اول اللہ سے شرارت کی تھی جس کا بدلہ یہ پایا کہ تمہارے ہاتھ میں قید ہوئے۔ پھر اللہ ہی ان سے بدلہ لے لے گا۔ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر آپ سے (اے نبی ! ) وہ دغا کرنا چاہیں گے تو (کچھ پروا نہیں) اس سے پیشتر خود اللہ سے دغا کرچکے ہیں جس لئے اس نے ان کو گرفتار کرا دیا اور اللہ خبردار حکمت والا ہے۔

1 ؎ گو یہ حکم قتل سخت تھا مگر مصلحت وقت کے مناسب تھا اور ایسے مصالح کو وہی خوب سمجھتے ہیں جو جنگ میں شریک ہوتے ہیں اور وہی ایسی مصلحت کا خیال کرکے باوجود رحم دلی اور مہذب ہونے کے کو رٹ مارشل کا حکم دیتے ہیں نبی (علیہ السلام) چونکہ بالطبع رحیم و کریم تھے فدیہ لے کر چھوڑ دیا چونکہ دراصل مصلحت وقت کے خلاف تھا اس لیے ان آیات میں اس کی طرف اشارہ کرکے عتاب ہوتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 8:72–75

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کرچکے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کیا اور وہ لوگ (انصار) کہ جنہوں نے (مہاجروں کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی۔ وہی ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور جو ایمان تو لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تو تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں جب تک وہ ہجرت نہ کریں اور اگر تم سے دینی امر میں مدد چاہیں تو تم ان کی مدد کرو مگر اس قوم کے مقابلہ میں نہیں کہ ان میں اور تم میں عہد ہو اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو دیکھ رہا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ اگر تم یہ (باہمی) مدد نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ اور بڑا فساد مچ جائے گا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے رستہ میں جہاد ( بھی) کیا اور وہ کہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایماندار ہیں۔ انہیں کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور وہ جو بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کو بھی آئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا سو وہ بھی تمہیں میں سے ہیں اور قرابت دار آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں (بموجب) کتاب الٰہی۔ بیشک اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

ترکیب : الذین مع صلہ اسم ان والذین اس پر معطوف اولئک مبتداء بعضہم خبر جملہ خبر ان والذین مبتداء مالکم الخ خبر۔ ان استنصروکم شرط فعلیکم جواب الا ای ان لا تفعلوہ الضمیر یعود الی النصر وقیل الی الولاء شرط تکن جواب فتنۃ و فساد کبیر اسم ہیں کان کے والذین مبتداء اولئک الخ جملہ خبر حقا کی ترکیب بیان ہوچکی۔ والذین مبتداء متضمن بمعنی شرط فاولئک جواب یا خبر۔ تفسیر : جبکہ بدر کے قیدیوں کو بشرط اطاعت عوض دینے کا وعدہ کیا اور ان کو دلاسہ دیا تو ان آیات میں انصار و مہاجرین کو اجر آخرت کا دلاسہ دیتا ہے یا یوں کہو کہ جب ان قیدیوں کو عہد لے کر چھوڑا اور ان میں سے بہت نے بدر کے موقع پر آسمانی مدد اور اسلام کا برحق ہونا دیکھا تھا اس لئے اسلام کی طرف مائل ہوئے اور نیز عرب کے قبائل نے بھی آنحضرت ﷺ سے عہد باندھنا شروع کیا اور عرب میں اس جنگ کی کرامات و اعجاز نے شہرت پائی جس سے مخالف قبائل خصوصاً مکہ کے رہنے والوں میں سے بہت سے مشرف بہ اسلام ہونے شروع ہوئے مگر ان میں سے بعض تو ترک وطن کرکے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ اس وقت ہجرت فرض تھی اور بہت ایسے تھے کہ جن سے جورو بچے گھر بار خویش و تبار نہ چھٹ سکے۔ اس لئے تو مسلمانوں اور دیگر قبائل کی بابت کوئی قاعدہ اتحاد و ہمدردی کا مقرر ہونا ضرور تھا۔ پس ان آیات میں مع فضائلِ مہاجرین و انصار اس کو بیان فرمایا اور مسلمانوں کے مرتبے بھی ظاہر کردیے۔ ہجرت اور نصرت اسلام کے اعتبار سے اس عہد میں مسلمانوں کی چار قسم تھیں : اول قسم وہ ہیں کہ جو ابتداء میں حضرت پر ایمان لائے اور ہجرت کرکے آپ کے ساتھ مدینہ میں آرہے جیسا کہ ابوبکر ‘ عمر ٗ عثمان ٗ عبداللہ ابن مسعود و ابوذر وغیرہم ؓ اس جملہ میں چار صفات کے ساتھ ذکر کیا۔ ان الذین امنوا الخ صفت اول یہ کہ وہ اللہ اور ملائکہ اور قیامت اور انبیاء پر صدق دل سے ایمان لائے۔ اب ان کے ایمان میں شک کرنا ضعف ایمان ہے۔ صفت دوم ھاجروا کہ انہوں نے اللہ کی خوشنودی کے لئے خویش و اقارب وطن اور فرزند و زن سب کو چھوڑ دیا۔ یہ بات اپنے آپ کو قتل کردینے سے کچھ کم نہیں۔ جلا وطنی کالا پانی بھی پھانسی سے کچھ کم سزا نہیں۔ سو جس طرح انہوں نے اپنے مذہب قدیم کو چھوڑا اسی طرح وطن قدیم سے بھی منہ موڑا اور ہجرت میں قبائحِ اخلاقی و روحانی کے ترک کی طرف بھی اشارہ ہے۔ صفت سوم و چہارم جاھدوا باموالہم و انفسہم فی سبیل اللّٰہ کہ انہوں نے اپنی جان سے اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے۔ جان کو اللہ کے لئے سخت تہلکوں میں ڈال دیا مگر نبی کریم ﷺ پر آنچ نہ آنے دی۔ مکہ میں جبکہ مخالفوں کی تلواروں سے خون ٹپکتا تھا۔ خلفائِ اربعہ نے رفاقت سے کبھی منہ نہیں موڑا نہ کبھی تقیہ کیا نہ کبھی آنحضرت ﷺ کا ساتھ چھوڑا۔ پھر بدر اور غار ثور ہر موقع میں ساتھ رہے اور مال کا تو کچھ ذکر نہیں۔ کئی بار ابوبکر صدیق ؓ نے گھر کا تار تار دے دیا۔ اس میں جہاد روحانی کی طرف اشارہ ہے۔ دوسری قسم ان سے دوسرے درجہ میں یہ لوگ ہیں۔ والذین او وا ونصروا کہ جنہوں نے اہل اسلام کو جگہ دی اور ان کی مدد کی یعنی انصار انہوں نے اپنی جان اور مال کو اسلام کی اعانت میں صرف کردیا ہے۔ ان دونوں قسموں کی بابت فرماتا ہے اولئک بعضہم اولیاء بعض کہ آپس میں ایک دوسرے کا رفیق جان و مال بلکہ دین و ایمان کا ساتھی ہے اور اولیاء میں جو ولایت ہے وہ ولایت نصرت و اتحاد ہے کہ ایک دوسرے سے اتحاد رکھے۔ بعض مفسرین نے ولایت ارث بھی مراد لی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابتدائِ اسلام میں انصار و مہاجرین میں سے ایک کو دوسرے کا دینی بھائی بنا کر وارث قرار دے دیا تھا کیونکہ مہاجرین کے اہل قرابت تو ہنوز وہاں آئے ہی نہ تھے مگر جب اسلام پھیل گیا اور مکہ فتح ہوگیا۔ ہجرت کی ضرورت نہ رہی۔ آیت میراث یا انہیں آیات کے اخیر جملہ واولو الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللّٰہ سے اہل قرابت میں میراث قائم کردی اور اسی جملہ سے امام ابوحنیفہ (رح) نے ذوالارحام کو وارث قرار دیا ہے اور فی کتاب اللّٰہ سے مراد لوح محفوظ ہے نہ کہ قرآن تاکہ حصص مقررہ مراد لے کر ذوی 1 ؎ الارحام کو خارج کیا جاوے۔ جیسا کہ امام شافعی (رح) کرتے ہیں اور اگر ایسا کریں گے تو عصبات کا بھی خارج ہونالازم آوے گا۔ یہ دونوں قسم کے مسلمان اسلام کے رئیس اور سردار اور مقتدٰی ہیں۔ تیسری قسم کے وہ مسلمان جو ایمان تو لائے مگر ہجرت کرکے مدینہ میں نہ آئے جن کی نسبت فرماتا ہے والذین آمنوا ولم یہاجروا ان کے حق میں دو حکم دیتا ہے۔ اول مالکم من ولایتہم من شیء کہ تم پر ان کی حمایت کچھ ضرور نہیں۔ جب تک کہ یہ ہجرت نہ کریں۔ فتح مکہ سے پہلے ہجرت فرض تھی۔ بعض علماء کہتے ہیں بعد میں بھی فرض ہے۔ اس جگہ سے کہ جہاں دین کو آزادی سے نہ ظاہر کرسکے۔ دوسرا حکم یہ کہ اگر وہ تم سے دینی امر میں مدد طلب کریں تو ضرور مدد کرو کیونکہ وہ اہل ایمان ہیں مگر اس قوم کے مقابلہ میں مدد نہ دو کہ جن سے تمہارا عہد ہے اور اس حکم کی تائید کرتا ہے کہ کفار بھی باہم ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ جنسیت کفر خواہ وہ یہود ہوں ‘ خواہ نصاریٰ ‘ خواہ مشرکین عرب سب کو تمہارے مقابلہ پر آمادہ کرتی ہے۔ ایک دوسرے کا مددگار بن جاتا ہے اور اگر تم آپس میں مدد نہ کرو گے تو فتنہ کفر اور بڑا فسادہ قائم 2 ؎ ہوجاوے گا۔ اب ان دونوں پہلی قسموں کے مسلمانوں کی مدح فرماتا ہے۔ والذین آمنوا الخ کہ وہ سچے مسلمان ہیں اور ان کے لئے آخرت میں مغفرت اور جنت میں عزت کی روزی ہے ( حیف ہے ان متعصبین پر جو خلفائِ اربعہ کو جھوٹے مسلمان اور قابل عذاب کہتے ہیں) چوتھی قسم کے وہ مسلمان ہیں جو بعد میں ایمان لائے اور پھر ہجرت کرکے آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ اخیر جہادوں میں شریک ہوئے۔ ان کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ بھی تمہیں میں شمار ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ 1 ؎ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ ہوگیا اور ایک دوسرے کے وارث ہوئے۔ مثل قرابت داروں کے لیکن… اولوالارحام بعضہم اولی ببعض سے یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے۔ 2 ؎ حقیقت میں آج کل جو مسلمانوں کی سلطنتیں معرض زوال میں ہیں۔ اسی وجہ سے ہیں۔ اندلس میں عیسائیوں نے تمام مسلمانوں کو مقہور کیا۔ مسلمانوں کے اور بادشاہ مدد کو نہ پہنچے، اسی طرح حضرت سلطان پر چڑھائی ہوئی ‘ ایران و کابل نہ اٹھے۔ برخلاف ان کے ایک ادنیٰ عیسائی کی مدد میں سب مدد کو آمادہ ہوجاتے ہیں۔ 12 منہ