9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 9:1–3

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

جن مشرکوں سے تم نے عہد و (پیمان) کرلیا تھا اب اللہ اور رسول کی طرف سے ان کو صاف جواب ہے۔

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

سو اے مشرکو ! تم ملک میں چار مہینے تک پھرو چلو اور جان لو کہ تم اللہ کو ہرا نہ سکو گے اور یہ (بھی جان لو) کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن سب لوگوں کے لئے اعلان ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے دستبردار ہیں۔ پھر اگر تم توبہ کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور جو اب بھی پھرے رہو تو یاد رہے کہ تم اللہ کو عاجز نہ کرسکو گے اور (اے نبی ! اب آپ) کافروں کو عذاب الیم کا مژدہ سنا دیجئے۔

ترکیب : برأۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ورسولہ عطف ہے اللہ پر ‘ الی متعلق ہے براۃ سے۔ من المشرکین بیان ہے الذین کا اربعہ اشہر ظرف ہے فسیحوا کا وان اللّٰہ معطوف ہے انکم پر مفعول ہے واعلموا کا۔ و اذان معطوف ہے برأۃ پر فاذا شرط فاقتلوا الخ جواب ‘ فان تابوا شرط فخلوا الخ جواب ‘ وان شرط احد فاعل استجارک محذوف کا جس کی تفسیر استجارک ثانی ہے۔ فاجرہ جواب حتی غایۃ ہے اجرہ کی ذلک مبتدا بانہم خبر۔ تفسیر : چونکہ اخیر انفال میں اہل عہد پر چڑھائی کرنے کی ممانعت تھی اور اس سورة میں تمام عہدوں کو ختم کردیا ہے اور نیز ان دونوں کے مطالب بھی ملتے جلتے ہیں اس لئے دونوں سورتوں میں فصل کے لئے لوح محفوظ میں بسم اللہ نہیں۔ گویا دونوں ایک ہی سورة ہیں۔ گو نازل ہونے میں دونوں میں کئی برس کا فاصلہ ہے کس لئے کہ انفال دوسرے سال ہجری میں نازل ہوئی اور برأۃ کی بابت ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورة مدینہ میں فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی ہے جو آٹھواں سال تھا۔ اس سورة کے تیرہ نام ہیں فاضحہ حامزہ مخزیہ وغیرہا مگر دو نام زیادہ مشہور ہیں۔ توبہ اور برأۃ اس سورة کی ابتداء میں بسم اللہ نہ لکھنے کی چند وجہ علماء نے بیان کی ہیں (1) وہ جو ترمذی نے ابن عباس سے نقل کیا کہ ہم نے پوچھا بسم اللہ اس پر کیوں نہیں لکھی ؟ جواب دیا کہ حضرت پر جب کوئی آیت نازل ہوئی تھی تو کاتبوں سے اس کے موقع پر لکھوا دیتے تھے۔ چونکہ ان دونوں کا مضمون یکساں تھا تو ہم نے دونوں کو ایک سورة سمجھ لیا مگر حضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں ایک سورة ہیں (2) صحابہ کا دونوں سورتوں کے ایک ہونے میں اختلاف تھا۔ بعض دونوں کو ایک بعض دو کہتے تھے۔ اس لئے بسم اللہ نہ لکھی گئی مگر فصل کے لئے خالی جگہ چھوڑ دی گئی (3) حاکم نے مستدرک میں ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت علی ﷺ سے اس امر میں پوچھا فرمایا کہ بسم اللہ امان کے لئے ہوتی ہے چونکہ اس سورة میں کفار کے لئے امن نہیں ٗ اس لئے بسم اللہ نہ لکھی گئی تاکہ آثار غضب الٰہی ظاہر ہوں (4) امام قشیری کہتے ہیں صحیح یہی ہے کہ جبرئیل اس سورة کے ساتھ بسم اللہ نہ لائے اسی طرح لکھی گئی زیادتی نہ کی گئی۔ (تیسیرا القاری شرح صحیح البخاری) اور یہ جو مشہور ہے کہ اس سورة کا اول منسوخ التلاوہ ہوگیا اس کے ساتھ بسم اللہ بھی ساقط ہوئی اس کو صاحب تیسیر وغیرہ نے ناپسند کیا ہے۔ براۃ من اللّٰہ الخ اس کے نازل ہونے کا یہ سبب ہے کہ آٹھویں سال مکہ فتح ہوا تو بہت سی قومیں اسلام لائیں اور بہت نے آنحضرت ﷺ سے عہد و پیمان کرلیا کہ ہم آپ سے اور آپ کے حلیفوں 1 ؎ سے جنگ نہ کریں گے۔ مدد کے موقع پر مدد بھی دیں گے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ نے بھی ان سے عہد کرلیا تھا، جب نویں سال ہجری میں آنحضرت ﷺ شام کی طرف غزوہ تبوک 2 ؎ کو تشریف لے گئے تو پیچھے بہت سی قوموں نے بدعہدی کی۔ منافقوں نے بہت افواہیں اڑائیں وہاں سے لوٹنے کے بعد یہ سورة نازل ہوئی جس میں ان بدعہدوں کی اور غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے والوں اور غلط باتیں اڑانے والوں کی سرزنش ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس سال حاجیوں کا قافلہ سالار ابوبکر کو کیا اور بعد میں علی کو اپنے ناقہ پر سوار کرکے بھیجا کہ وہاں مجمع عام میں یہ آیات لوگوں کو سنا دیں کہ آیندہ سے ہم سے کسی مشرک کا کوئی عہد باقی نہیں رہا۔ پس ابوبکر ؓ نے احکام حج تعلیم کئے۔ علی ؓ نے یوم النحر کو جمرۃ العقبیٰ کے پاس کھڑے ہو کر لوگوں کو اس سورة کی تیس یا چالیس و بقول مجاہد تیرہ آیات سنا دیں اور کہہ دیا کہ سال آیندہ میں خانہ کعبہ میں کوئی مشرک نہ آوے نہ کوئی برہنہ ہو کر طواف کرے جیسا کہ جاہلیت کا دستور تھا اور ہر ایک عہد والے کا عہد تمام ہوگیا۔ لوگوں نے کہا اے علی ؓ اپنے بھائی سے کہہ دیجئو کہ ہم نے خود عہد کو پس پشت ڈال دیا ٗ اب تلوار ہے یا تیر۔ ان آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکین متعاہدین سے بیزاری اور براءت کی گئی ہے کہ اب ہمارا تمہارا کچھ عہد باقی نہیں رہا اور یہ کہ خواہ ان کا عہد زیادہ مدت کے لئے ہو خواہ کم کے لئے سب کو چار مہینے کے لئے مہلت دی گئی۔ ان چار مہینوں کو اشہر حرم فرمایا یعنی وہ مہینے کہ جن میں جنگ حرام ہے۔ علماء میں اختلاف ہے کہ اس جگہ اشہر حرم سے کونسے چارمہینے مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے وہی چار مہینے مشہور ہیں کہ جن میں جنگ کرنی عرب میں ممنوع تھی۔ یعنی ذیقعدہ ٗ ذی الحج ٗ محرم ٗ رجب۔ پس جن کے لئے عہد معین نہ تھا ان کے لئے حج اکبر کے دن سے لے کر محرم تک مہلت تھی اور جن کی مدت چار مہینے یا زیادہ ہے۔ ان کے لئے پورے چارمہینے حج اکبر کے روز سے لے دسویں ربیع الثانی تک مہلت قرار پائی تھی۔ حج اکبر کی تفسیر میں علماء کے چند قول ہیں عمر اور ابن الزبیر و ابن عباس ؓ و عطا و طائوس و مجاہد کہتے ہیں عرفہ کا دن کیونکہ بڑے ارکان اسی روز ادا ہوتے ہیں اور بعض کہتے ہیں نحر کا دن۔ پس اس کے بعد کسی کا عہد باقی نہیں بجز ان کے کہ جنہوں نے آپ سے عہد شکنی نہ کی تھی وہ بنو حمزو کنانہ کا ایک قبیلہ تھا۔ پھر اس کے بعد جو کوئی کہیں مل جائے قتل کیا جائے یا غلام بنایا جائے۔ ان کا محاصرہ کیا جاوے۔ ان کے راستے روکے جاویں۔ اگر توبہ کریں چھوڑ دیے جائیں مگر ان میں سے جو کوئی کلام الٰہی سننے کے لئے آوے وہ قتل نہ کیا جاوے بلکہ اس کی جگہ میں پہنچا دیا جاوے جبکہ وہ کلام الٰہی سن چکے۔ یہ خلاصہ احکامات ہے۔ 2 ؎ تبوک عراق عرب میں ایک چشمہ ہے لوگوں نے مشہور کیا تھا کہ ہرقل شاہ روم کی طرف سے مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جرار آتا ہے۔ اس کے مقابلہ کے لئے آنحضرت ﷺ بیس ہزار آدمی لے کر وہاں تک گئے وہاں کچھ نہ پایا۔ یہ چڑھائی گرمی کے دنوں میں تھی اور صحابہ میں افلاس بہت تھا۔ اس لئے اس کو جیش العسرۃ بھی کہتے ہیں۔ اسی مقام کے قریب خالد بن ولید نے دومۃ الجندل کا محاصرہ کرکے وہاں کے نصرانی کو گرفتار کیا تھا۔ 12 منہ
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر وہ مشرک جن سے تم عہد کرچکے ہو۔ پھر انہوں نے تم سے کچھ بھی بدعہدی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ میں کسی کی مدد کی ہے تو ان کے عہد کو ان کی مدت مقررہ تک پورا کرو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت رکھتا ہے۔

1 ؎ حلیف ہم سوگند عرب میں دستور تھا کہ ایک دوسرے سے اتفاق و اتحاد کی بابت حلف کرلیا کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ حلیف کہلاتے تھے جو ایک دوسرے کیلئے خون بہانا اپنی نجابت کا جوہر جانتا تھا۔ 12 منہ
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب حرمت 1 ؎ کے مہینے گذر چکے تو جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ قتل کرو اور ان کو گرفتار کرلو اور ان کو گھیر لو اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو ۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے

1 ؎ ذیقعدہ ٗ ذی الحج رجب ٗ محرم یعنی ان چار مہینوں میں حسب دستور قدیم عرب امن ہے۔ اس کے بعد جو کوئی مشرک مل جائے اس سے لڑو جن قبائل مشرکین سے عہد و پیمان امن ابتدائِ اسلام میں ہوا تھا اب وہ بذریعہ اس اعلان کے توڑ دیا گیا۔ یہ سورة مدینہ میں فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی جبکہ اسلام کا زور ہوگیا اور بڑے بڑے قبائلِ عرب اسلام میں آگئے تھے۔ اب اس عہد کی ضرورت نہیں رہی۔ اگر کوئی عہد ہو اس کی میعاد تمام ہونے پر ضرور ہے کہ پیشتر سے اعلان کردیا جاوے۔ اس سورة میں یہ اعلان ہے براءۃ کے معنی ہیں بیزاری اور یکسوئی کے جس کا مرادی ترجمہ صاف جواب بہت مناسب ہے۔ 12 منہ
Ayahs 9:6–12

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور جو کوئی مشرکوں میں سے آپ سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن سکے۔ پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دو ۔ یہ اس لئے کہ وہ ایک بےعلم قوم ہے۔

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

مشرکوں کا اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کیونکر عہد ہوسکتا ہے مگر ان کا کہ جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا ہے۔ پھر جب تک وہ عہد پر قائم رہیں تو تم بھی (اپنے عہد پر) قائم رہو کیونکہ خدا پرہیزگاروں سے محبت رکھتا ہے

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

( ان کا عہد) کیونکر (باقی رہ سکتا ہے) حالانکہ اگر وہ تم پر قابو پا ویں تو تمہارے لئے نہ قرابت کا لحاظ رکھیں نہ عہد کا وہ تم کو اپنے منہ کی (چکنی چپڑی) باتوں سے خوش کرتے ہیں اور دل ان کے پھر رہے ہیں اور اکثر تو ان میں سے فاسق ہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ چکے ہیں۔ پھر لوگوں کو اس کے رستہ سے روک چکے ہیں۔ بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

وہ کسی ایماندار کے لئے بھی نہ قرابت کا لحاظ رکھتے ہیں نہ عہد کا اور یہی لوگ حد سے گذرے ہوئے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم جاننے والوں کے لئے کھول کر آیتیں بیان کر رہے ہیں

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد بھی اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو پھر کفر کے سرداروں کو قتل ہی کر ڈالو کیونکہ ان کی کچھ بھی قسمیں نہیں تاکہ وہ باز آویں۔

ترکیب : عہد اسم یکون اور خبر یا کیف ہے جو استفہام کے لئے مقدم کردیا گیا ہے یا للمشرکین ہے اور عند دونوں صورتوں عہدا یا یکون کا ظرف ہے یا عند اللّٰہ ہے فما زمانیہ یا شرطیہ ای فاستقیموا لھم مدۃ استقامتھم وان استقاموا فاستقیموا۔ یرضونکم حال ہے یا جملہ مستانفہ فان تابوا شرط فاخوانکم جواب۔ تفسیر : اس مقام پر ان کے عہد کو تمام کرنے کا سبب بیان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ؟ بجز ان شخصوں کے کہ جن سے تم نے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے پاس سال حدیبیہ میں عہد کیا تھا یعنی قریش کا ایک گروہ سب کو لوگوں نے بنو حمزہ بنو کنانہ کہا ہے جن کا پہلی آیات میں استثناء کیا گیا تھا۔ ان کے سوا اور کسی کا عہد باقی نہیں اور یہ بھی جب تک اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو۔ ان کے عہد پر قائم رہنے کی وجہ بجز مشرکین کہنے کے اور کوئی نہ بیان کی تھی جس میں اشارہ تھا کہ انسان کے تمام اخلاق اور سب خوبیوں کے غارت کرنے کے لئے ایک شرک کافی ہے جو جہل اور حبّ دنیا اور خودغرضی اور مالک حقیقی کی احسان فراموشی پر مبنی ہے۔ کیف وان یظہروا اب یہاں سے ان کے چند عادات نامحمود عہد شکن کو ذکر کرتا ہے۔ (1) یہ کہ اگر وہ تم پر قابو پاویں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ (2) وہ زبانی تم سے چپڑی چکنی باتیں کرتے ہیں مگر دل میں کاوش رکھتے ہیں۔ (3) ان میں اکثر فاسق ہیں۔ اگرچہ سب کافر فاسق ہیں مگر بعض کافر اپنے مذہب کی رو سے پرہیزگار بات کے پورے ہوتے ہیں مگر یہ عہد شکن ایسے بھی نہیں۔ (4) انہوں نے تھوڑی سی دنیا پر آیات الٰہی کو بیچ ڈالا یعنی فوائدِ دنیا کو دین پر مقدم رکھا۔ اس میں یہود بنی قریظہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو بدعہدی میں شامل تھے (5) کسی مومن کے بارے میں نہ عہد کا لحاظ رکھتے ہیں نہ قرابت کا۔ پس اگر وہ توبہ کرلیں ‘ نماز پڑھیں ‘ زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں ورنہ مستوجب جنگ ہیں۔
Ayahs 9:13–16

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

تم اس قوم سے کیوں نہیں لڑتے کہ جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور رسول کے نکالنے کی فکر میں ہوگئے اور انہوں نے پہلے تم سے (چھیڑ) شروع کی۔ کیا ان سے ڈرتے ہو ؟ ڈر تو اللہ ہی کا چاہیے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

تم ان سے جنگ کرو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور مسلمانوں کی ایک قوم کے دل ٹھنڈے کرے گا

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دل کی جلن نکالے گا اور اللہ جس کو چاہے گا توبہ نصیب کرے گا اور اللہ خبردار ‘ حکمت والا ہے۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے اور ہنوز خدا نے تم میں سے ان کو تو معلوم ہی نہیں کیا کہ جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ تم کر رہے ہو۔

ترکیب : قوما موصوف نکثوا وھموا صفت مفعول تقاتلون وھم الخ جملہ حال ہے تقاتلون سے۔ اول مرۃ منصوب ہے بَدْئُوْکُمْ کا ظرف ہو کہ فاللّٰہ مبتداء احق الخ ان تخشوہ مبتداء سے پھر یہ جملہ خبر ہے مبتداء سے ‘ پھر یہ جملہ دال برجزا ان کنتم الخ سے۔ یعذب ویخز وینصر ویشف جواب امر ہیں جو قاتلو ہے ویتوب جملہ مستانفہ ہے ان تترکوا جملہ مفعول حسبتم۔ تفسیر : ان آیات میں کفار سے جنگ کرنے کی ترغیب ہے اور مسلمانوں کو ان سے نہ جنگ کرنے میں عار دلاتا ہے کہ تم ان مشرکوں سے کیوں نہیں لڑتے کہ جنہوں نے عہد توڑ ڈالے اور انہوں نے مکہ سے رسول کے نکالنے کا قصد کیا۔ دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا تھا جس کی تفصیل اوپر گذری اور انہوں نے پہلے تم سے چھیڑ کی۔ جمہور مفسرین کہتے ہیں اس میں اس بدعہدی کی طرف اشارہ ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد ان سے ظہور میں آئی جس کی تفصیل یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال آنحضرت ﷺ نے عمرہ کے لئے مکہ کا قصد کیا۔ آپ تخمیناً چودہ سو آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب مکہ کے قریب ایک جگہ آئے جس کا نام حدیبیہ ہے جو مکہ سے تخمیناً نو میل براہ قدیم مدینہ کی جانب واقع ہے تو مشرکین مکہ آمادہ جنگ ہوئے اور مانع آئے۔ آخر باہم صلح ہوگئی کہ نہ ہم تم پر چڑھائی کریں گے نہ تم ہم پر اور نہ کوئی باہم ایک دوسرے کے حلیف کو ستاوے۔ آپ وہیں سے مدینہ واپس چلے آئے۔ اطراف مکہ میں قبیلہ بنی بکر قریش کے عہد میں آگیا اور خزاعہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں آیا۔ ان دونوں میں مدت سے عداوت تھی۔ ایک بار بنی بکر کا ایک شخص دف پر آنحضرت ﷺ کی ہجو کر رہا تھا ٗ خزاعہ کے ایک شخص نے منع کیا۔ اس نے نہ مانا تو اس کا دف توڑ ڈالا۔ اس نے اپنی قوم سے فریاد کی ٗ باہم دونوں قبیلوں کی لڑائی شروع ہوئی۔ بنی بکر نے قریش سے مدد طلب کی باوجود معاہدہ کے چند سفہائِ قریش عکرمہ بن ابی جہل و صفوان بن امیہ و سہل بن عمرو وغیرہم نے لباس بدل کر خزاعہ پر شب خون مارا۔ یہ وہ اول بار ان کی عہد شکنی تھی جس پر خزاعہ کا سردار عمرو بن سالم مدینہ میں آنحضرت ﷺ کی حضور میں فریادی آیا۔ تب آپ نے آٹھویں سال ہجری میں مکہ پر لشکرکشی کرکے مکہ کو فتح کیا۔ فرماتا ہے کیا ان سے ڈرتے ہو ڈرنا تو اللہ سے چاہیے۔ ان سے لڑو اللہ ان کو تمہارے ہاتھ سے مغلوب کرے گا جس سے ایمانداروں کے دل ٹھنڈے ہوں گے اور دل کا غبار نکلے گا اور ان میں سے جس کو چاہے گا توبہ بھی نصیب کرے گا۔ چناچہ اس پیشین گوئی کے مطابق ایسا ہی ہوا۔ کفار عرب مقہور و مقتول و مغلوب بھی ہوئے فتح مکہ میں اور اس کے بعد ہزاروں اسلام بھی لائے۔ ام حسبتم یہاں مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ یہ نہ ہوگا کہ جماعت اسلام میں اگر یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ اور امتحان نہ کیا جاوے کہ مجاہد فی سبیل اللہ کون ہیں اور کس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے سوا غیر کو دلی دوست نہیں بنایا ؟ یہ کسوٹی ہے تم اس پر کسے جاؤ گے جو اس پر کھرا رہا وہی حقیقی ایماندار ہے ورنہ منافق ہے جہاد سے غرض قتال نہیں بلکہ اخلاص ہے۔
Ayahs 9:17–22

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کا کام نہیں کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں اور خود کفر کا اقرار بھی کرتے جائیں۔ یہی ہیں جن کے عمل اکارت گئے اور دوزخ میں یہی ہمیشہ رہیں گے۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدیں تو وہی آباد کیا کرتا ہے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا اور نماز پڑھتا اور زکوٰۃ دیتا ہو اور خدا کے سوا کسی سے ڈرتا بھی نہ ہو۔ انہیں سے توقع ہے کہ ہدایت پاویں۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد الحرام کا آباد کرنا اس شخص کے برابر کردیا ہے کہ جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا اور ان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ وہ دونوں اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہوں گے اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ کہ ایمان لائے اور انہیں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد بھی کیا تو ان کے خدا کے نزدیک بڑے درجے ہیں اور یہی ہیں کہ جو اپنی مرادوں کو پاویں گے۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا خدا ان کو اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کا مژدہ دیتا ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

کہ جن میں ناز و نعم دائمی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہا کریں گے۔ بیشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔

ترکیب : شاھدین حال ہے فاعل یعمروا سے ‘ ان یعمروا کان کا اسم للمشرکین خبر۔ فی النار ظرف مقدم ہے تخصیص کے لئے۔ من موصولہ آمن و معطوف تھا صلہ سب فاعل یعمر سقایۃ مصدر کا لعمارۃ و صحت الیاء لما کانت بعد ھاتاء التانیث والتقدیر اجعلتم اصحاب السقایۃ الخ مثل من امن الذین الخ مبتداء اعظم خبر۔ تفسیر : مکہ کے بت پرست قدیم سے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور ایام حج میں لوگوں کو پانی بھی پلایا کرتے تھے۔ اسلام کے مقابلہ میں وہ اپنی نیکیوں پر فخر کرتے تھے کہ ہم مجاور بیت اللہ اور اس کے خادم ہیں۔ ہم سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کس کا رتبہ ہے ؟ پھر اس پر محمد ﷺ ہم سے لڑنے اور عہد تمام کردینے کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ یہود نے بھی اس بارے میں تصدیق کرکے یہی کہا تھا کہ تم ہی عند اللہ بڑے درجے رکھتے ہو۔ اس کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اور مسلمانوں میں سے بھی جو مکہ میں رہتے تھے اور ہجرت کرکے مدینہ میں نہ آتے تھے۔ مسلمانوں کی ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ اور اعانت رسول کریم پر اپنے ان اعمال تعمیر مسجد الحرام اور پانی پلانے کو قوت دیتے تھے۔ چناچہ حضرت عباس ؓ نے (حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جواب میں جو انہوں نے ملامت کرکے ہجرت کی تاکید کی) یہی کہا تھا۔ فرماتا ہے مشرکین کا کام مساجدِ الٰہی کی تعمیر کرنا نہیں کس لئے کہ وہ کفر کے مقر اور شرک کے مرتکب ہیں اور مساجد کی آبادی خواہ تعمیر عمارت ‘ خواہ اس کی رونق اور وہاں رہ کر عبادت کرنا خلوص اور توحید پر مبنی ہے سو وہ ان میں کہاں ؟ بلکہ ان کے کفر و شرک نے ان کے اچھے کام تعظیم والدین ‘ مہمان نوازی وغیرہ کو بھی اپنی تاریکی میں ڈھانک لیا اور اپنے شعلے سے جلا دیا۔ اس لئے یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے یعنی ان کے اس کام کا کچھ ثواب نہیں یا یہ ان کا کام کالعدم ہے۔ فرماتا ہے کہ مساجد کی تعمیر تو ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ٗنماز پڑھتے ٗ زکوٰۃ دیتے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ہیں ٗ سو ان کے لئے امید کی جاتی ہے کہ وہ ہدایت پر ہیں یعنی ان کا راہ صواب پر ہونا قرین قیاس ہے۔ عسیٰ کلام الٰہی میں فائدہ یقین دیتا ہے۔ یہ ان کی پہلی نیکی کا جواب ہے۔ رہا حاجیوں کا پانی پلانا کہ جس پر حضرت عباس ؓ کو بھی فخر تھا اور جس کو وہ جہاد اور ہجرت کے برابر سمجھتے تھے۔ اس کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ کام اللہ اور قیامت پر ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہوسکتا ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں یہ کام ان کو سعادت کا رستہ نہیں دکھاوے گا۔ سعادت تو جان اور مال اللہ کی راہ میں صرف کرنے سے حاصل ہوتی ہے سو وہ ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ واضح ہو کہ انسان کے لئے تین چیزیں ہیں۔ روح ٗ بدن ٗ مال۔ جب تک وہ ان تینوں کو مہذب اور درست نہ کرے گا سعادت کا منہ نہ دیکھے گا۔ روح کی تہذیب یہ ہے کہ اللہ اور قیامت پر ایمان لاوے، مبدء و معاد ذکر کرنے سے یہ غرض کہ جو ان کے وسائل ہیں ملائکہ اور اللہ کی کتابیں اور اس کے رسول پر ایمان لانا موقوف علیہ ہے بغیر ان کے مبداء و معاد پر ایمان قا ئم ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ قوت نظریہ کی تکمیل ہے اور جب روح منور ہوجاتی ہے تو وہ اپنے حیز طبعی عالم نور اور عالم سرور کی طرف بےخود ہو کر کھنچتی ہے اور اپنے ساتھ اس جسم اور اس کے مایہ عیش اور شہوات کے اور مال کے صرف کرنے کا موقع بنی نوع کی نفع رسانی اور ان کو ورطہ ہلاکت جاودانی سے نکال کر کرسی سعادت پر بٹھانے میں ہے اور اپنے محبوب حقیقی کا نام پاک زمین پر روشن کرنے میں اور اس رستہ میں جو سدِّراہ ہیں ان کے دور کرنے میں ہے اور اس کا نام جہاد ہے۔ جہاد کیا ہے گویا جلتوں کو آگ میں سے نکالنا یا ڈوبتوں کو تھامنا ہے۔ اس میں جان اور بدن اور مال تینوں صرف ہوتے ہیں اور ان کی پوری تہذیب اور آراستگی ہوجاتی ہے اور یہ لوگ گویا ہمیشہ کے لئے توحید اور حق پرستی کا نشان زمین پر چھوڑ جاتے ہیں یا سعادت کا مدرسہ یا حیات جاودانی کا چشمہ جاری کرتے ہیں جس کے صلہ میں ان کو سعادت عظمیٰ اور حیات جاودانی عطا ہوتی ہے۔ اس لئے اول ان کے مساعی جمیلہ کو بیان فرماتا ہے آمنوا وھاجروا وجاھدوا فی سبیل اللّٰہ الخ یہ تین کام ہوئے۔ ایمان لانا ٗہجرت کرنا ٗ جہاد کرنا اب ان کے نتائج ذکر کرتا ہے اولئک اعظم درجۃ عند اللّٰہ کہ ان کا درجہ خدا کے نزدیک بہت بڑا ہے۔ یہ ایک بات ہوئی۔ واولئک ھم الفائزون اور وہی کامیاب اور بامراد ہیں۔ یہ دوسری بات ہوئی۔ یبشرھم ربہم برحمۃ منہ کہ ان کا رب اپنی رحمت کی انہیں بشارت دیتا ہے۔ (اپنی رحمت اور ان کا رب جو کچھ مقام عشق میں لطف دے رہا ہے بیان سے باہر ہے) یہ تیسری بات ہوئی۔ جس میں تین چیزیں ہیں اول رضوان اپنی خوشنودی کی بشارت کہ اللہ ان سے ہمیشہ خوش رہے گا۔ دوم جنت یعنی ایسے باغ ملیں گے کہ جن میں نعیم و ناز دائمی ہیں۔ سوم اس میں ہمیشہ رہا کریں گے۔ یہ تین انعام تو ان کے تین مساعی جمیلہ کے بدلہ میں تھے مگر اپنی طرف سے خدا تعالیٰ ایک اور بڑھ کر انعام کا مژدہ سناتا ہے۔ وہ کیا اجر عظیم۔ اس کی تفسیر میں علماء کے بہت اقوال ہیں۔ ازانجملہ یہ کہ اجر عظیم دیدارِ الٰہی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی اجر نہیں۔ اس بشارت میں خلفائِ 1 ؎ اربعہ بدرجہ اولی شامل ہیں۔ اب ان فضائل اور ان اوصاف کے مقابلہ میں تعمیر مسجد اور حاجیوں کو پانی پلانا کیا ہے۔ فرض کرو کہ کسی نے سونے کی مسجد بنائی اور شربت اور دودھ کی سبیل لگائی۔ پھر کیا یہ کام ابقائِ اسلام اور احیائِ ملت خیرالانام کے حق میں اشاعت علوم اور بنائِ مساجد اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ آج کل جو مسلمانوں کا ستارہ پستی پر ہے یہی وجہ ہے کہ ان کو نیکی بھی نہیں آتی۔ ایک فریق جو حامی قوم اور ریفارمر اٹھا تو انہوں نے دین اور اسلام کو سلام کرکے محض انگریزی تعلیم اور ان کی وضع کو وسیلہ ترقی جانا۔ اول تو اس میں حصول دنیا نہیں اور جو ہو تو اسلام کی پروا نہیں مرتد ہی کیوں نہ ہوجائے پر کوئی نوکری مل جائے۔ اگر ایسا ہو تو اسلامیوں کو کیا خوشی ہوگی۔ سینکڑوں عیسائی دولتمند ہیں ‘ ہوا کریں نہ ان کو خدا کے کلام اور پیغمبر (علیہ السلام) کے علوم باقی رہنے کی فکر نہ اس کی کوئی تدبیر دوسرا فریق ایسا اٹھا کہ اس نے بدعات میں سرگرمی کرنا باعث اجر 1 ؎ فضائلِ خلفائِ اربعہ۔ عظیم سمجھ لیا ہے۔ ان کے نزدیک ابقائِ اسلام اور کار خیر ہے تو یہ ہے۔ برخلاف ان کے مخالفوں کی مفید کوششیں کیا غضب ڈھا رہی ہیں۔ کہیں زنانہ مدارس ہیں کہیں واعظ ملکوں میں پھرتے ہیں۔ کہیں تصانیف کا بازار گرم ہے۔
Ayahs 9:23–27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

ایمان والو ! تم اپنے باپ اور بھائیوں کو رفیق نہ بناؤ اگر وہ کفر کو ایمان سے عزیز رکھیں اور جو کوئی تم سے ان کی رفاقت کرے گا تو وہی ظالم ہے۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو اگر تم کو اپنے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت کہ جس کے مندہ ہوجانے سے ڈرتے ہو اور وہ مکانات کہ جن میں تم پسند رکھتے ہو تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے عزیز تر ہیں تو تم انتظار کرو۔ یہاں تک کہ اللہ اپنا عذاب لاوے اور اللہ بدکار قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

البتہ بہت سے موقعوں میں اللہ تمہاری مدد کرچکا ہے (خصوصاً ) حنین کے دن جبکہ تم اپنی کثرت دیکھ کر اترائے۔ پھر تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی اور باوجود وسیع ہونے کے تم پر زمین تنگ آگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے رسول اور مسلمانوں پر دلجمعی بھیجی اور ایسے لشکر اتارے جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کو سزا دی اور یہ ہے کافروں کا بدلہ۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ نے جس کو چاہا توبہ نصیب کی اور اللہ معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

ترکیب : اولیاء جمع ولی مفعول لاتتخذوا ان شرط جملہ ما قبل دال برجز۔ حسب خبر کان یہ تمام جملہ شرط فتربصوا جواب یوم حنین مواطن سے بدل جو نصرکم ظرف ہے۔ اذ کا عامل نصر ہے تغن کا فاعل ضمیر جو کثرت کی طرف راجع ہے۔ تفسیر : مسلمانوں کو کفار سے اعلاناً جنگ کا حکم دیا گیا جہاں فریق مخالف میں سے ان کو اپنے بال بچوں کنبہ برادری سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایک شخص مسلمان اور باقی کافر ‘ دشمن اسلام۔ ایسی صورت واقع تھی اور نیز عموماً ہجرت کا بھی حکم صادر ہوا تھا جس میں کنبہ ‘ بھائی بند ‘ جگر کے ٹکڑے ‘ چھٹتے تھے۔ تجارت بگڑتی تھی۔ افلاس کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ یہ ساری باتیں ایسی تھیں جو انسان کو فطرتی طور پر جہاد و ہجرت سے باز رکھتی تھیں مگر ملائِ اعلیٰ میں دنیا پر راستی اور توحید کے انوار پھیلانے کا ذریعہ مسلمانوں کا مدینہ میں مجمع ہو کر جہالت اور کفر و بت پرستی کی سیاہی کو آب شمشیر سے دھونا قرار پا گیا تھا۔ اس لئے بتاکید حکم دیا یا ایہا الذین آمنوا کہ اے گروہ مومنین ! اگر تمہارے باپ اور بھائی کفر پسند کریں تو تم ان کو دوست نہ بناؤ اور جو ایسا کرے گا وہ بےانصاف و ظالم ہوگا اور اگر تم کو اپنے اقارب اللہ اور رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے بہتر محبوب معلوم ہوں تو دیکھو پھر خدا کیا کرتا ہے یعنی تم پر بھی بلائِ آسمانی نازل ہوتی ہے۔ غزوہ حنین میں ملائکہ کا نازل ہونا : اس کے بعد یہ بات بتلاتا ہے کہ تم اپنی کثرت و شوکت پر نازاں نہ ہونا صرف مدد آسمانی تمہارے ساتھ ہے جس نے تم کو بہت مواقع میں فتح مند کیا جہاں کہ تمہاری کچھ بھی قوت ظاہری نہ تھی اور خصوصاً 1 ؎ جنگ حنین میں کہ جہاں تمہارے پاس بہت کچھ سامان اور بہت لشکر تھا جس پر تم کو ناز ہوا تھا۔ باوجود یکہ تمہارے مخالف کم تھے وہاں تمہارا ناطقہ بند ہو چلا اور تم پر زمین تنگ آگئی تھی۔ وہاں تمہاری کثرت کچھ بھی کام نہ آئی۔ آخر پھر ہم نے تم پر مدد غیبی بھیجی۔ تمہارے دل میں جرأت ڈالی اور تمہاری مدد کو ایسی فوج ملائکہ کی اتاری جس کو تم نہیں دیکھتے تھے جس سے مخالفین کو مقہور کیا ان کے کفر کی وجہ سے۔ پھر اس کے بعد خدا نے توبہ نصیب کی۔ بھاگنے والوں کو بھی جو جنگ سے بھاگے تھے اور نیز کفار میں سے بھی داخل زمرہ اسلام ہوئے۔ 1 ؎ آٹھویں سال ہجری میں جب آنحضرت ﷺ نے مکہ فتح کیا تو دو ہزار اس وقت کے نو مسلم اور بہت سے انصار و مہاجرین جن کے مجموعہ کی تعداد میں مختلف اقوال ہیں کوئی دس ہزار ‘ کوئی بارہ ہزار کہتا ہے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مکہ سے حنین کی طرف چلے جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے۔ جب کہ مکہ فتح کیا تو ہوازن اور ثقیف جو وہاں دو قبیلہ تھے۔ انہوں نے ازراہ تکبر یہ کہا کہ محمد ﷺ نے مکہ کو فتح کرلیا۔ وہاں کے لوگ جنگ سے نا آشنا تھے۔ ہم سے لڑے تو معلوم ہو۔ لیجئے اس سے پہلے ہم ہی اس پر گرتے ہیں۔ ہوازن کا سردار ملک بن عوف تھا۔ ثقیف کا کنانہ بن عبدیا لیل انہوں نے تخمیناً چار ہزار سپاہ جمع کرکے آنحضرت ﷺ کے راستہ میں پہاڑ کی تنگ گھاٹیوں میں تیر اندازوں کو بٹھا رکھا تھا۔ شنبہ کے روز شوال میں کوچ کیا اور لشکر اسلام ان گھاٹیوں میں آیا۔ نو مسلم تیروں کی تاب نہ لا کر بھاگ اٹھے۔ ان کے ساتھ مسلمان بھی بھاگ پڑے۔ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھ عباس اور ابو سفیان بن حارث اور چند لوگ ٹھہرے رہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک مشت خاک اٹھا کر مخالفوں کی طرف پھینکی جس سے وہ آنکھیں ملنے لگے اور سب کی آنکھوں میں جا پڑی اور عباس ؓ نے انصار و مہاجرین کو پکارا تو سب دوڑ پڑے اور ملائکہ آسمان سے ابلق گھوڑوں پر نمودار ہوئے کفار نے ہزیمت پائی مع مال و اسباب لشکر اسلام کے اسیر ہوئے۔ 12 منہ
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مسلمانو ! مشرک تو نرے گندے ہیں سو وہ اس سال کے بعد مسجد الحرام کے پاس نہ آنے پاویں اور اگر تم کو تنگدستی 1 ؎ کا ڈر ہے تو اللہ چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے ابھی غنی کر دے گا۔ بیشک اللہ خبردار ‘ حکمت والا ہے۔

1 ؎ کہ ان کے نہ آنے سے تجازت بند ہوجاوے گی۔ 12 منہ ترکیب : نجس بفتح بجیم بمعنی ناپاکی نجاستہ العین مصدر ہے مذکر مونث پر اطلاق ہوتا ہے بکسر الجیم ناپاک نجاستہ حکمی خبر ہے المشرکون کی۔ المسجد الحرام لایقربوا کا مفعول بعد متعلق ہے لایقربوا ہذا عامہم سے بدل یا بیان ہے وان خفتم شرط فسوف الخ جواب۔ ولا معطوف ہے باللّٰہ پر باعادۃ الجار ولا یحرمون لایؤمنون پر اور اسی طرح ولا یدینون من بیان ہے الذین کا حتی غایۃ ہے قاتلوا کی۔ تفسیر : ان آیات میں دو حکم صادر فرمائے ہیں۔ اول یہ کہ مشرکین اس سال کے بعد کہ جس میں یہ حکم سنایا گیا ہے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ میں نہ آنے پاویں کیونکہ ناپاک ہیں جنس کے لفظ سے بعض علمائِ ظاہریہ نے مشرکین کو نجس العین سمجھا ہے۔ ان کا ہاتھ بھی کسی پاک چیز سے لگنا درست نہیں۔ امامیہ بھی اسی طرف گئے ہے مگر جمہور علمائِ اسلام اور ائمہ اربعہ کہتے ہیں کہ وہ نجس العین نہیں کیونکہ خدا نے ان کا کھانا پینا حلال کیا اور ان کے برتنوں سے مسلمانوں نے قرن اول میں پانی لیا اور پیا۔ ان کی نجاست باطنی ہے یعنی کفر و شرک اور ظاہری بھی ہے تو بقول قتادہ یہ ہے کہ وہ غسل جنابت نہیں کرتے ‘ ناپاکی سے احتراز نہیں کرتے اور مسجد الحرام کے سوا اور مساجد میں داخل ہونے کی بابت اختلاف ہے۔ اہل مدینہ جمیع مساجد سے منع کرتے ہیں۔ امام شافعی و ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں اور مساجد میں آنے کی ممانعت نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ثمامہ بن اثال کو اپنی مسجد میں باندھا تھا اور وفد ثقیف کو وہیں اتارا تھا۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ کعبہ میں بھی داخل نہ ہونے دینے سے یہ مراد ہے کہ زور شوکت کے ساتھ نہ جاویں لفظ نجس تو یہی کہہ رہا ہے کہ مقامات مقدسہ میں نہ جانے پاویں اور اسی پر علماء کا عمل ہے۔ (ک) دوسرا حکم یہ ہے کہ زمین پر توحید و راستی پھیلاؤ اس کے مخالفوں کی شوکت توڑو۔ یہ اسلام کا اعلیٰ کام ہے۔ پس جب اسلامیوں کو ان سے مقابلہ کی قدرت ہو تو اول ان کو ہدایت کی طرف بلایا جاوے۔ اگر نہ مانیں تو ان کو اعلان جنگ کرکے اطاعت اسلام اور جزیہ 1 ؎ دینے پر مجبور کیا جاوے خواہ وہ کافر اہل کتاب ہوں یا مجوس خواہ کسی ملک کے ہوں مگر امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ خاص عرب کے مشرکوں سے جزیہ نہ لیا جاوے یا وہ ملک چھوڑ دیں یا وہ اسلام قبول کریں اور عرب کے اہل کتاب سے جزیہ لینا جائز ہے۔ پھر جزیہ کی مقدار میں کلام ہے۔ عطا اور یحییٰ بن آدم و ابو عبید وابن جریر کہتے ہیں کہ شرع نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی جیسا کہ موقع ہو اور جو قرار پا جاوے اور آنحضرت ﷺ نے جو اہل یمن اہل بحرین وغیرہ سے لیا وہ کوئی مقرر تعداد نہیں ہوئی مگر امام شافعی (رح) آنحضرت ﷺ کے فعل کو حد معین کرکے ایک دینار اور امام ابوحنیفہ بارہ چوبیس اڑتالیس درہم علی حسب استطاعت مقرر کرتے ہیں۔ اہل کتاب سے جنگ کرنا اور جزیہ یعنی رعیت بنا کر ٹیکس لینا فرمایا تھا۔ اب ان کی وہ حرکات ناشائستہ بیان فرماتا ہے جن کے سبب یہ حکم دیا گیا : اول یہود سے شروع کیا کہ انہوں نے عزیر یعنی عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا فرزند کہا تھا۔ یہ سب یہود نے نہیں کہا تھا بلکہ ایک خاص فرقہ نے جو بقول بعض علمائِ یہود بنی قریظہ تھے اور پھر نصاریٰ کا حال بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دیا۔ بجز بعض فریق کے نصاریٰ کے جملہ فرقوں کا آج تک یہی عقیدہ ہے۔ فرماتا ہے یہ انہوں نے اپنے سے پہلے گمراہوں کی تقلید کی ہے۔ وہ بھی اپنے معتقد علیہ بزرگوں کو بڑ ھاتے بڑھاتے خدا یا اس کا بیٹا ہی بنا کر چھوڑتے تھے۔ ان پر اللہ کی مار کہاں بہکے جا رہے ہیں۔ خلاف عقل و نقل بات پر اڑ رہے ہیں اس کے سوا ان دونوں فرقوں نے ایک اور غضب ڈھا رکھا تھا۔ وہ یہ کہ یہود نے اپنے احبار یعنی مولویوں کو اور نصاریٰ نے راہبوں اپنے درویشوں کو اور مسیح کو خدا بنا رکھا تھا۔ احبار رہبان کو خدا بنانے کی یہ صورت تھی کہ خلاف عقل و خلاف توریت و انجیل جو کچھ فتویٰ دیتے تھے اس کو خدا کے حکم کے برابر جانتے تھے۔ رومہ کے پوپ خدائی کرتے تھے۔ مگر علماء دین اور آئمہ مجتہدین کے ان فتوئوں کے پیرو جو وہ کتاب و سنت سے استنباط کرکے دیتے ہیں اس میں داخل نہیں ہوسکتے ان کا مسائل مذکورہ میں اتباع خدا اور رسول کا اتباع ہے۔ 12 منہ
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

ان لوگوں سے بھی لڑوجو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ حرام سمجھتے ہیں اس چیز کو کہ جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں اور اہل کتاب سے (لڑو) جب تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے ماتحت ہو کر جزیہ نہ دیویں

1 ؎ جزیہ دینا ہی ان کی ذلت ہے جیسا کہ امام شافعی فرماتے ہیں نہ کہ اور زیادہ اہانت۔ 12 منہ
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہودی کہہ چکے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہہ چکے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ تو 2 ؎ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ اپنے سے پہلے کافروں کی ریس 3 ؎ کیا چاہتے ہیں خدا انہیں غارت کرے کہاں بہکے جاتے ہیں !

2 ؎ یعنی بےاصل باتیں ہیں۔ 12 منہ 3 ؎ پہلے بت پرست قومیں بھی اپنے دیوتائوں کو ایسا ہی سمجھتی تھیں۔ مصر کے لوگ اور روم کے باشندے اور کنعان کی قومیں سو انہوں نے ان کی پیروی اختیار کی ہے۔ حالانکہ انبیائِ بنی اسرائیل کی معرفت خدائے واحد کی پرستش کا حکم ہوا تھا۔ 12 منہ
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار اور رہبانوں کو اور مریم کے بیٹے مسیح کو بھی رب بنا لیا اور ان کو حکم تو یہی دیا گیا کہ خدائے واحد کی پرستش کرتے رہیں جس کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔ وہ ان کے شریک بنانے سے پاک ہے۔

ف اسلام میں بھی جو اپنے مشائخ اور ان کی قبور سے ایسا کرتے ہیں کہ ان کو سجدہ کرتے اور قاضی الحاجات جانتے اور خلاف شریعت باتوں کو مانتے ہیں اسی میں داخل ہیں۔ اتخذوا احبارہم۔ الخ
Ayahs 9:32–33

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ تو اپنے نور کو پورا کئے بغیر نہ رہے گا اور کافر پڑے برا مانا کریں گے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے کہ جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو ہر دین پر غالب کرے۔ اگرچہ مشرکوں کو ناگوارگذرے۔

ترکیب : ان یطفئوا مفعول یریدون یا اس کی تفسیر۔ لیاکلون خبر ہے ان کی ویصدون اس پر معطوف والذین مبتداء یکنزون خبر علیہا مفعول مالم یسم فاعلہ یحمٰی کا جو یوم کا معنی عامل ہے اے یعذب فی یحمٰی سے متعلق جباھہم الخ مفعول مالم یسم فاعلہ تکوی کا بہا تکوٰی سے متعلق اس کا آلہ ھذا مبتدا ماکنزتم الخ خبر۔ تفسیر : کافروں کے پہلے تین عیب قابل جنگ و تقرر جزیہ بیان فرمائے تھے : اول یہ کہ وہ دین الٰہی کے برخلاف چلتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ دوم یہ کہ یہود نے عزیر اور نصاریٰ نے مسیح کو اللہ کا بیٹا کہا۔ نصاریٰ تو اب تک مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ یہود میں سے یہ بات سب نے نہیں کہی تھی بلکہ مدینہ کے بعض یہود نے اور بعض شام کے یہود بھی ایسا کہتے تھے جس لئے اس حماقت کا قوم پر الزام دیا گیا ؎ چواز قومے یکے بیدانشی کرد نہ کہ رامنزلت ماندنہ مہ را سوم یہ کہ وہ اپنے مشائخ اور درویشوں کے یہاں تک تابع ہوئے کہ ان کو خدا کی طرح حرام و حلال کرنے کا مجاز سمجھنے لگے۔ باوجودیکہ ایسی باتوں کی ممانعت کی گئی تھی مگر نہ مانا۔ پہلی قوموں کی مانند جاہل ہوگئے۔ تاریکی میں پھنس گئے۔ پیشین گوئی در باب ظہور اسلام : اب یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ نے جو ان کو تاریکی میں سر ٹکرانے سے نجات دینے کے لئے ایک چراغ ہدایت روشن کیا تو اس کو پھونک پھونک کر بجھانا چاہتے ہیں۔ اپنے منہ کی بیہودہ باتوں اور لغو اعتراضات سے پیش آتے ہیں۔ پر کیا ہوتا ہے اللہ تو اپنے نور کو پھیلا ہی کر رہے گا، گو وہ اس کو نہ چاہیں یعنی اس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ سب غلط اور پر اوہام مذہب پر غالب ہو کر بنی آدم کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو تھام لے۔ سو وہ دین حق کو غالب ہی کرکے رہے گا۔ چناچہ صحابہ ؓ کے عہد میں ایسا ہوچکا یعنی وہ روشنی مشرق سے مغرب تک پھیل گئی اور عہد مہدی (علیہ السلام) میں پھر پھیلے گی۔ یہود و نصاریٰ کے عالم اپنی کتابوں میں تحریف کرنے کے عادی تھے۔ وہ لوگوں کو طرح طرح کے شبہات میں مبتلا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج کل مشنری کرتے ہیں۔ اب مسلمانوں کو ان کے فریب سے ان میں ایک خباثت کا نشان بتلا کر مطلع فرماتا ہے کہ وہ مکاران فریبوں سے مال مارتے اور اس کو جمع کرتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں خود صرف کرنا نہیں جانتے جیسا کہ ہندوئوں کے برہمن اور پنڈت کرتے ہیں۔ سو ایسے لالچیوں کی بات کا کیا اعتبار ہے ؟ ایسے مال سے قیامت میں تپا کر ان کے منہ اور پیٹھ اور پہلو داغ دیے جاویں گے۔ اس آیت میں مسلمانوں کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور بعد زکوٰۃ دینے کے مال جمع کرنا جمہور کے نزدیک جائز ہے۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

ایمان والو ! بہت سے احبار اور رہبان تو لوگوں کا فریب سے مال کھا رہے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے رستہ سے روک رہے ہیں اور (یہ وہ) لوگ ہیں جو سونا اور چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے رستہ میں خرچ نہیں کرتے۔ سو ان کو عذاب الیم کا مژدہ سنا دو

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن کہ اس مال کو دوزخ کی آگ سے تپایا جاوے گا۔ پھر اس سے ان کی پیشانیوں اور پسلیوں اور پیٹھوں پر داغ دیا جاوے گا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہ وہ مال ہے کہ جس کو تم اپنے لئے گاڑ گاڑ کر رکھتے تھے۔ لو اپنے جمع کئے ہوئے مال کا مزہ چکھو۔

ف یہود و نصاریٰ کے احبارو رہبان جو کچھ جال پھیلاتے اور بہروپ بدلتے تھے سب مال و زر کے لئے تھا جس کا انجام جہنم میں داغ دیا جانا ہوگا۔ یہود و نصاریٰ پر کیا موقوف ہے یہ مال و زر کی طمع ایسی بلا ہے کہ جس سے بشربمشکل نجات پاسکتے ہیں۔ مسلمانوں کے بعض گروہ کو بھی اس مرض مہلک نے ہلاک کیا اور اولیاء کرام کا بہروپ بدل کر درویشوں ‘ پیر زادوں نے وہ ڈھونگ بنائے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ کہیں میلہ ‘ کہیں نذر و نیاز کا طریقہ اور پھر اس بزرگ کے خدائی اختیارات کی حکایات اور پھر ان علمائِ سوء کا ان کی تاویلات کرنا اور علمی قلعی چڑھا کر رواج دینا ‘ کہیں راگ رنگ کی مجالس کو اور جملہ لہو و لعب کو دین بنانا اور بحث میں علمی زور دکھانا۔ پھر پیر جی کا خلاف شرع اپنی تعظیم و تکرمت کے احکام جاری کرنا ‘ سجدے کرانا ‘ نذانے وصول کرنا اور درپردہ شہوات و لذات کے مزے اڑانا سب اگلے احبارو رہبانوں کی تقلید ہے۔ حق سبحانہ اپنے نبی پاک کی محبت اور اتباع نصیب کرے۔ آمین۔ 12 منہ
Ayahs 9:36–37

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

جس دن سے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے اس دن سے اللہ کے دفتر میں تو مہینوں کا شمار بارہ مہینے ہیں جن میں سے چار ادب کے مہینے ہیں۔ یہ رستہ تو سیدھا ہے۔ سو تم ان مہینوں میں اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو (ناحق لڑ کر) اور سب مشرکوں سے لڑو جس طرح کہ وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور واضح ہو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

مہینے کا ہٹا دینا صرف کفر کی بدعت ہے جس سے کافر دھوکا دیے جاتے ہیں کہ کسی سال میں تو اس کو (لوند کے مہینہ کو) ہلال اور کسی حال میں حرام سمجھ لیتے ہیں تاکہ خدا کے حرام کئے ہوئے مہینوں کی گنتی پوری کرکے جس کو اللہ نے حرام کیا اس کو حلال بنا لیویں۔ ان کی بدکرداریاں ان کو بھلی کرکے دکھائی گئی ہیں اور اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

ترکیب : اثنا عشر ممیز شہرا تمیزیہ خبر ہے ان کی۔ عدۃ ای عدد الشہور اسم ان فی کتاب اللّٰہ صفت ہے اثنا عشر کی۔ یوم کتاب کا معمول ہے کیونکہ یہ مصدر ہے منہا الخ جملہ صفت ہے اثنا عشر کی اور یہ جملہ مستانفہ اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ النسیء کی خبر زیادۃ فی الکفر اس کی صفت یضل صفت ثانی یحلونہ جملہ صفت ہے فاعل کفروا کی لیواطو ای لیوا فقوا عدۃ اے عددا۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبارو رہبان کو خدا بنا لیا یعنی حرام و حلال کرنے کا مجاز سمجھا۔ یہاں مشرکین عرب کی طرف خطاب ہوتا ہے کہ وہ کیا اس بات سے خالی ہیں ؟ پھر ان باتوں میں سے ایک بات بیان فرماتا ہے جو جہادو قتال سے مناسب تھی۔ وہ یہ کہ عہد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ کے عہد تک عرب کا یہ دستور تھا کہ وہ ان چار مہینوں کی نہایت تعظیم کرتے تھے۔ ان میں مار دھاڑ چڑھائی سب موقوف ہوجاتی تھی۔ کوئی اپنے دشمن کو بھی نہ چھیڑتا تھا۔ امن عام ہوجاتا تھا اور وہ مہینے یہ تھے ذوالقعدہ ‘ ذو الحج ‘ محرم ‘ رجب لیکن اس کے ساتھ ایک عجیب بدعت بھی ایجاد کر رکھی تھی کہ جس کو ان کو کسی سے لڑنے بھڑنے کی ضرورت آپڑتی تو ان میں سے ایک مہینے کو ہٹا دیتے تھے مثلاً محرم کو صفر کے بعد ڈال دیتے تھے اور باوجودیکہ لڑنا منع تھا۔ محرم کو صفر قرار دے کر لڑتے بھڑتے اور یہ ایجاد بعض کہتے ہیں بنی کنانہ میں سے ایک شخص نعیم بن ثعلبہ کا تھا اس کے جانشینوں میں سے حضرت ﷺ کے عہد تک جنادہ بن عوف زندہ تھا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس کا موجد عمرو بن لحی تھا جس کی نسبت آنحضرت نے فرمایا کہ میں نے اس کو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے دیکھا۔ (صحیح مسلم) اس کے رد میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کتاب الٰہی یعنی لوح محفوظ میں تو جس دن سے آسمان و زمین پیدا کئے ہیں بارہ مہینے سے ہیں جن میں یہ چار حرام ہیں یعنی واجب الاحترام۔ سو ان میں اے مسلمانو ! زیادہ تر احتیاط کرو ظلم نہ کرو اور جب کفار تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔ (النسیء مصدر کا کلحریق وقیل مفعول کالجریح من النسیۃ بمعنی التاخیر و منہ النسیۃ فی البیع وقیل من النسیان علی معنی المتروک) اور مہینے کا ہٹا دینا کفر کی رسم ہے۔ حرام کو حلال کرنے کے لئے بعض کہتے ہیں کہ سردی گرمی کے موسم کا لحاظ کرکے قمری مہینوں کو شمسیوں کے مطابق کرتے تھے تاکہ حج موسم خاص میں آیا کرے۔ چناچہ جس سال آنحضرت ﷺ نے حج کیا تو مہینہ قمری اپنے اصلی موقع پر تھا۔ تب آپ نے فرمایا کہ ان الزمان قداستد ارکہیئۃ الحدیث (بخاری) اکثر علماء کے نزدیک اسلام میں ان چار مہینوں کی کوئی خصوصیت باقی نہیں۔ ہر مہینے میں گناہ اور ظلم ممنوع ہے۔ بعض کہتے ہیں ان کی زیادہ رعایت ہے۔ اگر کافر ان میں چڑھائی نہ کریں تو ابتدائً مسلمانوں کو بھی ان مہینوں اور مسجد الحرام کے پاس جنگ نہ کرنا چاہیے۔
Ayahs 9:38–40

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

ایمان والو ! تمہیں کیا ہوا کہ جب تم کو خدا کی راہ (جہاد میں) باہر چلنے کو کہا جاتا ہے تو تم زمین پر لیٹے جاتے ہو۔ کیا آخرت کے بدلہ دنیا کی زندگی کو پسند کر بیٹھے ہو۔ سو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی آسائش ہے کیا بہت ہی کم۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم باہر نہ نکلو گے تو خدا تم کو دردناک عذاب دے گا اور تمہارے بدلہ اور لوگ پیدا کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوگا) خود اللہ اس کی مدد کرچکا ہے جبکہ اس کو کافروں نے (اس طرح) نکال دیا تھا کہ دو میں دوسرا بھی تھا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔ اس وقت وہ اپنے رفیق سے کہہ رہا تھا کہ کچھ غم نہ کر کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر خدا نے اس پر اپنی تسکین نازل کی اور اس کی ایک ایسے لشکر سے مدد کی کہ جس کو تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کی بات کو ہیٹا کردیا اور اللہ ہی کی بات ور ہے اور اللہ زبردست ‘ حکمت والا ہے۔

ترکیب : اثا قلتم الکلام فیھا مثل الکلام فی ادرأتم ماضی بمعنی مضارع ای مالکم متثاقلون اور موضع اس کا نصب ہے ای ای شیء لکم فی التثاقل من الاخرۃ فی موضع الحال ای بدلہ من الآخرۃ ثانی اثنین حال ہے نصرہ کی ضمیر مفعول سے احدا ثنین والآخر ابوبکر اذ بدل ہے پہلے اذا سے اذیقول بدل ثانی ہے۔ تفسیر : ہجرت کے نویں سال آنحضرت ﷺ نے غزوہ طائف سے واپس آتے ہی جنگ تبوک کا اعلان کردیا تھا کیونکہ شام سے ایک قافلہ نے آکر خبر دی تھی کہ ہرقل شاہ روم کو اس کے خوشامدیوں نے یہ خبر دی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا انتقال ہوگیا اور اس کے ملک میں قحط ہے۔ لوگ بےسرو سامان ہیں۔ ایسے وقت میں اس کا ملک آسانی سے ہاتھ آسکتا ہے اس لئے اس نے ایک شخص قباد کو چالیس ہزار فوج کا کمان افسر مقرر کیا اور عرب کے نصرانی قبائل لخم و جذام و عاملہ وغسان وغیرہ کو مدد کے لیے معین کیا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ خبر پا کر لوگوں کو جہاد کے لئے آمادہ کیا اور مسلمان قبائل عرب میں نقیب بھیج دیے کہ جلد مع ساز و سامان آویں چونکہ اس سال قحط تھا اور وہ دن گرمی کے تھے اور کھجوروں کا موسم تھا اور سفر بھی دور کا تھا اور شاہ روم سے مقابلہ کی خبر تھی۔ مسلمانوں میں نہایت تنگدستی تھی کہ فقراء صحابہ میں دس کے پاس ایک سواری اور کرم خوردہ اور سڑی چربی کے سوا خوراک نہ تھی۔ منزلوں پانی نہ تھا۔ اس لئے اس غزوہ کو غزوۃ العسرۃ و جیش العسرۃ و غزوہ فاضحہ بھی کہتے ہیں کہ جس میں منافقوں کی فضیحت ہوئی۔ ان وجوہ سے لوگ خصوصاً منافقین آرام طلب چلنے سے درنگ کرتے تھے۔ تب یہ آیت یا ایہا الذین آمنوا نازل ہوئی جس میں مسلمانوں پر تہدید و تاکید شدید ہے اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو کیا ہوگا۔ اللہ نے اس سخت وقت میں مدد کی ہے کہ جب اس کے پاس کوئی سامان بھی نہ تھا اور وہ واقعہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت کا ہے جس کی تشریح صحیح بخاری و دیگر کتب میں بہت کچھ ہے جس کا خلاصہ جو آیت کے الفاظ سے متعلق ہے یہ ہے کہ جب مکہ میں کافروں کا ظلم و ستم حد سے گذر گیا اور دارالندوہ میں جمع ہو کر آپ کے قتل کی تدبیر کی تو آنحضرت ﷺ کو مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت ہوئی۔ آنحضرت ﷺ نے اس راز سے ابوبکر ؓ کو مطلع کیا تو شب کو موقع پا کر دونوں صاحب جبل ثور میں جو مکہ سے تخمیناً تین میل ہے ایک غار میں آچھپے۔ آپ کے ساتھ دوسرے صرف ابوبکر ؓ تھے۔ ثانی اثنین اس جگہ میں تین رات رہے۔ کفار قریش ڈھونڈتے ہوئے آئے۔ ان کے پائوں اوپر پھرتے چلتے غار میں سے دکھائی دیتے تھے تو ابوبکر ؓ آنحضرت ﷺ کی نسبت خیال کرکے کہ مبادا گرفتار ہوجاویں غم کرتے تھے جس پر آنحضرت ﷺ فرماتے تھے کہ کچھ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تب اللہ نے اس پر اطمینان نازل کیا اور ملائکہ کی فوج سے مدد کی جو کفار کو ادھر سے ان کے دل میں خیال واپسی پیدا کرکے واپس کرتے تھے۔ آخر کافروں کی بات پست ہوئی اور خدا کا بول بالا ہوا۔ وہ نور جو فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا تھا۔ آخر کار تمام عالم میں پھیلا۔ وہ حکمت والا ‘ زبردست ہے۔