9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 9:79–82

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

اے رسول ! ) وہ جو بامقدور مسلمانوں کی خیرات میں طعن کرتے ہیں اور وہ جو اپنی مزدوری کے سوا کچھ نہیں رکھتے ان سے (بھی) ہنستے ہیں اللہ ان سے ہنسے گا اور ان کو عذاب الیم ہے۔

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

ان کے لئے اللہ سے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ اگر آپ ان کے لئے ستر بار بھی بخشش چاہیں گے تو بھی اللہ ان کو کبھی نہیں بخشے گا۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ بدکار قوم کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

پیچھے رہ جانے والے رسول اللہ سے ٹل کر بیٹھنے پر خوش ہوگئے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرنا برا سمجھا اور کہہ دیا کہ گرمی میں نہ نکلو (پس آپ) کہہ دیں جہنم کی آگ تو سخت ہی گرم ہے۔ کاش وہ سمجھتے ہوتے

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

سو تھوڑا سا ہنس لیں اور بہت کچھ روئیں۔ ان کاموں کے بدلہ میں جو کیا کرتے تھے

ترکیب : الذین الخ مبتداء من المومنین المطوعین کابیان۔ فی الصدقات متعلق ہے یلمزون سے۔ والذین مبتداء فیسخرون خبر جملہ معطوف ہے اول الذین پر سخر اللّٰہ منہم خبر سبعین منصوب علی المصدر والعدد یقوم مقام المصدر کقولک ضربۃ عشرین ضربتہ قلیلا وکثیرا صفت ہے مصدر محذوف کی۔ تفسیر : ان آیات میں منافقین کی عادت و طعنہ زنی کو بیان کرتا ہے کہ جو اہل اسلام مقدور والے ہیں ان پر بھی طعن کرتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں اور جو مفلس اور مزدور اپنی مزدوری میں سے صدقہ دیتے ہیں ان پر بھی ہنستے ہیں۔ غزوہ تبوک کے لئے جب تیاری کا حکم دیا اور لوگوں کو اس میں مال و زر سے مدد دینے کی ترغیب دی تو عبدالرحمن بن عوف ؓ چار ہزار درہم لائے اور عرض کیا کہ آٹھ ہزار تھے چار اہل و عیال کے لئے باقی رکھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو دعا برکت دی۔ پھر عاصم بن عدی عجلانی سو وسق 2 ؎ [2 ؎ عرب میں ایک پیمانہ تھا جس میں کئی من غلہ آتا تھا۔ 12 منہ ] کھجور کے لائے۔ پھر ابو عقیل انصاری آدھ سیر چھوہارے لائے اور عرض کیا کہ رات بھر مزدوری کرکے سیر بھر حاصل کئے تھے نصف گھر میں دیے نصف یہاں حاضر کئے۔ آنحضرت ﷺ نے وہ سب کے اوپر رکھوا دیے۔ منافقوں نے اشارے کرنے شروع کئے کہ وہ دونوں اس قدر لائے کہ ان کا نام ہوا اور یہ میاں اس لئے لائے کہ میرا بھی صدقہ دینے والوں میں ذکر ہو۔ اس قصہ کی طرف ان جملوں میں اشارہ ہے۔ الذین یلمزون الخ فرماتا ہے کہ ان سیاہ دلوں کے لئے اے نبی ! اگر آپ ستر بار بھی مغفرت طلب کریں گے تو خدا ان کو ہرگز نہ بخشے گا کیونکہ یہ کافر ہیں اور کافر کی بخشش نہیں۔ مدینہ کے جو منافق جنگ تبوک میں شریک نہ ہوئے تھے اور اپنے کھجور کے باغوں میں بیٹھ کر خوشیاں کرتے تھے اور لوگوں کو بھی جانے سے منع کرتے تھے کہ سخت گرمی ہے۔ ان کی دونوں باتوں کے جواب میں دو باتیں بیان فرماتا ہے۔ دنیا کی گرمی کے مقابلہ میں جہنم کی سخت گرمی ہے یعنی اگر یہ نہ برداشت کی تو وہ کیونکر برداشت کرو گے جو تمہارے لئے مقرر ہوچکی ہے اور اس چند روزہ خوشی کے مقابلہ میں آخرت کے غموم و ہموم پر ہمیشہ رویا کرو گے۔ اب عقل ہے تو کم ہنسو بہت روؤ کہ بڑی مصیبت پڑے گی (ماضی کو بصیغہ امر تعبیر کیا۔ قطعی ہونے کے سبب سے) ان کی ایک اور حیلہ گری کی پیشتر سے خبر دیتا ہے کہ اے نبی ! اگر تم تبوک سے واپس آؤ گے۔ ان کے ایک گروہ کی طرف جو اس وقت تک زندہ ملیں گے یا نفاق پر قائم رہیں گے تو وہ آپ سے کہیں گے اگر آپ چلیں گے تو ہم آپ کے ساتھ چلیں گے۔ فاستاذنوک للخروج حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہ چلو نہ میرے ساتھ ہو کر دشمن سے لڑو کیونکہ تم اوّل بار بیٹھے رہے سو بیٹھے رہو جیسا کہ اور بیٹھ رہتے ہیں۔ یہ نہایت عتاب ہے یہ جملہ خبر ہے بمعنی نہیں تاکید کے لئے۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

اور اگر خدا آپ کو ان کے 1 ؎ کسی گروہ کی طرف پھر لادے ٗ پھر وہ آپ کے ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ کبھی نہ چلو گے اور نہ میرے ساتھ ہو کر دشمن سے لڑو گے کیونکہ اول مرتبہ تم گھر میں بیٹھ رہنے پر راضی ہوگئے تھے سو اب بھی اور پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ تم بھی بیٹھے رہو۔

1 ؎ یعنی جہاد سے آپ اے پیغمبر ! اگر صحیح وسالم ان منافقوں کے پاس واپس آویں اور یہ آپ کے ساتھ جانے کی اجازت مانگیں تو آپ اجازت نہ دیں۔ 12 منہ 1 ؎ حوائف خائف کی جمع گھر کی بیٹھنے والی عورتوں کو خوائف کہا کرتے ہیں کیونکہ یہ خلف یعنی بعد مردوں کے گھروں میں رہتی ہیں جبکہ وہ باہر چلے جاتے ہیں۔ 12 حقانی
Ayahs 9:84–89

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور جو کوئی ان میں سے مرجاوے تو (اے نبی ! ) کبھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ بدکاری کرتے کرتے مرگئے

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور آپ ان کے مال اور اولاد پر تعجب نہ کریں۔ خدا یہی چاہتا ہے کہ اس سے ان کو دنیا میں عذاب دے اور ان کی جان بھی نکلے تو کفر ہی میں نکلے

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر جہاد کرو تو ان میں سے مقدور والے آپ سے رخصت مانگنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو چھوڑ جایئے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

انہیں تو عورتوں کے ساتھ میں رہنا پسند آیا اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ٗ سو وہ نہیں سمجھتے

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مال اور جان سے جہاد کیا اور انہیں کے لئے خوبیاں ہیں اور یہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے بہشتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

ترکیب : منہم ومات دونوں احد کی صفت ہیں ابدا ظرف ہے لاتصل کا اذا انزلت شرط استاذن جواب۔ خوالف جمع خالفۃ ہے المراۃ لھم اعد سے متعلق جنت موصوف تجری الخ صفت خالدین حال ہے ضمیر لہم سے۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقین کے لئے آنحضرت ﷺ کو استغفار سے منع کیا تھا اب یہاں ان کی نماز جنازہ اور ان کی قبر پر دعا کے لئے کھڑا ہونے سے بھی منع فرماتا ہے جو انسان کے لئے نجات کا بڑا وسیلہ تھا یعنی مغفرت اور رسول کی شفاعت کے دائرہ سے خارج کردیا گیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مرگیا تو آنحضرت ﷺ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے لوگوں نے بلایا۔ آپ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ اس نے ایسا ایسا کہا ہے۔ آپ اس کی نماز نہ پڑھیے ٗ ہٹ آیئے۔ آپ نے فرمایا مجھ کو اختیار دیا گیا ہے اور اگر یہ معلوم ہو کہ میرے ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے سے اللہ اس کو بخش دے گا تو میں اس سے بھی زیادہ استغفار کرتا۔ آپ نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد یہ آیت ولاتصل الخ نازل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کو ایک تو یہ بات منظور تھی کہ منافقوں پر یہ حال کھل جائے کہ ان کا سردار خواستگار شفاعت ہوا جس سے ان کے دل میں بھی اسلام کی حقیقت راسخ ہوگئی۔ دوسرے یہ کہ نفاق کی رسوائی ہو کہ ان پر نماز و استغفار کا بھی حکم الٰہی نہیں۔ ولا تعجبک اموالہم یہاں سے لایفقہون تک ان کے مال و اسباب و اولاد کی بےثباتی اور دار آخرت میں کارآمد نہ ہونا اور دنیا میں مصیبت کا سبب ہوجانا بیان فرماتا ہے اور غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں پر عتاب ظاہر کرتا ہے۔ اولاد و مال کا وبال ہونا اہل عقل پر مخفی نہیں۔ بہت سے آدمیوں کو اولاد و مال کے وبال میں گرفتار دیکھا ہے۔ اولاد کو پالا اور پرورش کیا جب وہ کسی لائق ہوئے یا بات چیت کرنے لگے۔ طوطے کی طرح بولتے بولتے چل دیے اب ماں باپ کے دل کا ناسور ہے کہ رات دن آنکھوں سے غم کے آنسو جاری ہیں۔ دنیا سیاہ ہوگئی یا وہ ہوشیار ہو کر آوارہ اور بدچلن ہوئے۔ ماں باپ کی جان کے لیوا خون کے پیاسے ‘ الٰہی توبہ اسی طرح مال کا حال ہے کہ کوئی مصیبت آپڑی تو اس کو یاد کرکے عمر بھرروتے ہیں اور اگر یہ کچھ نہیں تو یہ تو ضرور ہے کہ ان کی محبت میں دل چور ہے مرتے وقت ہر چیز کو آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا ہے۔ مولیٰ سے غافل ہو کر مرنا اور داغ مفارقت دینا ساتھ لے کرجاتا ہے۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور کچھ دیہاتی بہانہ ساز بھی آئے تاکہ ان کو بھی رخصت 1 ؎ دی جائے (کہ گھر میں رہیں) اور جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا 2 ؎ وہ تو بیٹھ ہی رہے (آئے تک بھی نہیں) سو ابھی ان میں سے کافروں کو درد انگیز سزا ہونی ہے۔

1 ؎ رخصت مانگتے تھے ٗ پیچھے رہ جانے کے لئے کہ جہاد یعنی جنگ تبوک میں جانا نہ پڑے جو گرمی اور افلاس کے زمانہ کی لڑائی تھی اور مقابلہ میں قیصر روم تھا جس کی دہشت ان کم اعتقادوں کے دلوں پر تھی۔ یہ وقت بڑے امتحان کا تھا۔ آپ کے ایماندار ہی پیغمبر خدا ﷺ کے ساتھ جانثاری کے لئے تیار ہوگئے اور ساتھ بھی گئے اور باقی جو دعویٰ اسلام میں جھوٹے یا سست تھے اور بزدل یا آرام طلب تھے وہ بہانے اور حیلہ سے رخصت اور اجازت مانگنے لگے کہ چلنے میں ہمیں یہ عذر ہے کہ فلاں کام ضروری درپیش ہے۔ اس صورت میں انہیں لوگوں پر عتاب ہو رہا ہے اور ان کے حیلے اور بہانے اور رخصت مانگنے پر ان کی سست اعتقادی اور بزدلی اور آرام طلبی پر جو بمقابلہ دار آخرت کے درجات کے تھی تشنیع کی جا رہی ہے اور ان سچے ایمانداروں جانبازوں کی جنہوں نے دار آخرت اور خدا اور رسول کی خوشنودی حاصل کرنے میں کوشش کی مدح اور ان کے درجات اور فضائل بیان ہو رہے ہیں۔ خلفائِ اربعہ اور جلیل القدر صحابہ انصار و مہاجر انہیں میں داخل ہیں جن کو شیعہ زبردستی اسلام اور نیکی سے خارج کرتے ہیں اور باہمی خلافت کے نزاع سے ان کی ان تمام مساعی جمیلہ پر پانی پھیرتے ہیں جو انصاف سے بعید ہے۔ 2 ؎ اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا یعنی اسلام کا دعویٰ جھوٹا کیا تھا یا اعانت و تائید اسلام کا اقرار جو بوقت اسلام لانے کے کیا جاتا تھا اس میں جھوٹے نکلے وہ اپنے گھر ہی بیٹھ رہے ٗ عذر کرنے بھی نہیں آئے۔ 12 منہ
Ayahs 9:91–92

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

ضعیفوں پر کوئی الزام نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر کہ جن کو سفر خرچ میسر نہیں بشرطیکہ گھر بیٹھ کر بھی وہ اللہ اور رسول کی خیر خواہی کرتے ہوں۔ نیکوکاروں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان پر بھی کچھ الزام ہے جبکہ وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سوار کرائیں ٗ آپ نے کہہ دیا کہ تمہارے سوار کرانے کو میرے پاس کچھ نہیں تو وہ آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے اس رنج میں کہ ان کو سفر خرچ میسر نہیں واپس لوٹ گئے۔

ترکیب : حرج اسم لیس علی الضعفاء الخ خبر اذا کا عامل حرج ہے۔ ولا علی الذین معطوف ہے علی المرضٰی پر۔ اذا ما کا جواب تولوا قلت حال ہے فاعل تولوا سے من بیان ہے تفیض کا ‘ حزنا مفعول لہ ہے تفیض کا۔ تفسیر : مدینہ کے منافقوں کے سوا عرب کے دیگر قبائل میں سے بھی ایسے لوگ تھے جو جنگ تبوک میں شامل نہ ہوئے تھے۔ ازانجملہ عامر بن الطفیل کے چند لوگ تھے۔ آنحضرت ﷺ سے عذر کرنے لگے کہ ہم کو رخصت دیجئے۔ آپ نے فرمایا مجھے پہلے ہی سے تمہارا حال اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا تھا اور بعض ایسے تھے کہ وہ عذر کرنے بھی نہیں آئے۔ متکبرانہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ اول فریق کی طرف وجاء المعذرون میں اور دوسرے کی طرف وقعد الذین میں اشارہ کرتا ہے۔ قسم ثانی کے لوگ منافق تھے۔ ان کی نسبت عذاب الیم کا حکم سنایا گیا۔ چونکہ پیچھے رہ جانے والے عذرات باطلہ پیش کرتے تھے اس لئے اس کے بعد اصلی عذر والوں کا ذکر کردیا کہ یہ لوگ نہ جاویں تو کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ ان کا عذر صحیح ہے۔ فقال لیس علی الضعفاء الخ یہ چار قسم کے لوگ ہیں کہ جن کا عذر قبول ہے اور جن پر جہاد میں جانا فرض واجب نہیں۔ اول ضعفاء اس کی تفسیر میں ابن عباس ؓ وغیرہ نے فرمایا کہ ضعیف سے مراد ہے لنگڑے لولے ‘ اپاہج ‘ بہت بوڑھے اور لڑکے اور عورتیں۔ دوم مرضی جمع مریض یعنی بیمار۔ اب رہے مالی حالت کے معذور سو ان کی بھی دو قسم ہیں۔ ایک وہ جو لایجدون ماینفقون کہ نہایت تنگ دست بےسرو سامان ہیں۔ خواہ وہ آنحضرت ﷺ کے حضور میں عذر آور ہوئے ہوں یا نہ ہوں۔ دوم یہ کہ ان کا عذر اور وجہ معقول حضرت ﷺ کے روبرو (بعد آپ کے امام کے حضور) ثابت ہوگیا ہو جن کی طرف ولا علی الذین الخ میں اشارہ ہے۔ معقل بن یسار و سخر بن خنساء و عبداللہ بن کعب انصاری وعلیہ بن زید انصاری وسالم بن عمیر وثعلبۃ ابن غنم و عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ سات شخص حضرت کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہم کو سواری دیجئے۔ چونکہ سواری نہ تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس تمہارے لئے کوئی سواری نہیں۔ تب وہ ناداری پر روتے ہوئے واپس چلے آئے۔ ان چاروں قسوں کے علاوہ جو تندرست و غنی تھے ان کے رہ جانے پر عتاب فرماتا ہے کہ ان پر گناہ ہے اور خبر دیتا ہے کہ جب تم واپس آؤ گے۔ یعتذرون الیکم تو تم سے عذر کرنے آویں گے تو کہہ دینا کہ مت عذر کرو ٗتمہارا حال معلوم ہوچکا اور اچھا آیندہ معلوم ہوجاوے گا کہ کیا کرتے ہو۔
Ayahs 9:93–96

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو صرف ان پر ہے جو باوجود مالدار ہونے کے آپ سے اجازت مانگتے ہیں۔ ان کو تو عورتوں کے ساتھ رہنا پسند آگیا اور ان کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے اس لئے وہ نہیں جانتے 3 ؎

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم (جہاد سے) لوٹ کر آؤ گے تو تمہارے آگے عذر کریں گے ٗ کہہ دینا عذر نہ کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے۔ تمہارے حالات تو اللہ ہم کو بتا چکا ہے اور ابھی تو اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل دیکھے گا۔ پھر تم اس چھپے اور کھلے جاننے والے کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔ پھر وہ تم کو بتا دے گا کہ تم کیا کرتے تھے۔

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

تمہارے آگے جبکہ تم ان کے پاس لوٹ کر آؤ گے تو اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ ان سے درگذر کرو تو ان سے منہ پھیرلینا کیونکہ وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے (یہ) بدلہ ہے اس کا جو وہ کیا کرتے تھے (دنیا میں)

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

تمہارے خوش کرنے کے لئے قسمیں کھائیں گے۔ پھر اگر تم ان سے خوش بھی ہوجاؤ تو اللہ تو بدکار قوم سے خوش ہونے کا ہی نہیں۔

3 ؎ کہ جہاد میں دنیا و آخرت کے کیا کیا فوائد ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 9:97–99

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

گائوں 1 ؎ والے کفر اور نفاق میں بڑے سخت ہوتے ہیں اور وہ اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل کئے ہیں ان کو نہ جانیں اور اللہ خبردار حکمت والا ہے

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض ایسے بھی ہیں کہ جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کو تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے لئے برے زمانہ کے منتظر رہتے ہیں۔ انہیں پر برا زمانہ آوے اور اللہ سنتا (اور) جانتا ہے

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور کچھ بدو ایسے بھی ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے خرچ کرنے کو اللہ کے نزدیک تقرب اور رسول کی دعا کا وسیلہ بھی جانتے ہیں۔ ہاں یہ ان کے لئے موجب تقرب ہے۔ بہت جلد اللہ ان کو اپنی رحمت میں لے لے گا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

1 ؎ یعنی وہ دیہاتی جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے یا عموماً گنوار بوجہ جہالت کے کفر و نفاق میں بڑے سخت ہوا کرتے ہیں۔ 12 منہ 3 ؎ عربی کی جمع عرب جیسا کہ یہودی کی یہود اور اعرابی جنگلی کو کہتے ہیں یعنی گنوار اس کی جمع اعراب یا اعاریب
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور مہاجرین و انصار میں سے جو (نیک کاموں میں) پیش قدمی کرنے والے 2 ؎ ہیں اور جو نیکی میں ان کے پیرو ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور ان کے لئے اللہ نے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں کہ جن کے تلے نہریں جاری ہیں ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہا کریں گے ٗ یہ ہے بڑی کامیابی۔

2 ؎ پیش قدمی اسلام میں کہ سب سے اول ایمان لائے یا عموماً ہر نیک کام میں دوڑ پڑنا اور پیش قدمی کرنا ان کا شیوہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : جزاء مفعول مطلق اے یجزون جزاء مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے من الاعراب خبر ہے من کی مغرما مفعول ہے یتخذ کا ویتربص کا مفعول الدوائر جمع دائرۃ یہ معطوف ہے یتخذ پر السوء بالضم مصدر ہے وما بفتح بمعنی الفساد۔ السابقون مبتداء رضی اللّٰہ عنہم الخ جملہ خبر ہے۔ تفسیر : چونکہ جھوٹ بولنا زمانہ سازی کرنا منافقوں کا کام ہے۔ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بوقت واپسی آنحضرت ﷺ یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور حیلہ بنائیں گے تاکہ آنحضرت ﷺ اور مسلمان ان سے درگذر کریں اور راضی ہوجاویں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ واپس آئے تو ایسا ہی ہوا کہ جد بن قیس وغیرہ ستر منافق آکر عذر کرنے لگے ٗ قسمیں کھانے لگے۔ ان کی نسبت فرماتا ہے سیحلفون الخ۔ پھر فرماتا ہے کہ ان ناپاکوں سے منہ پھیر لو یعنی منہ نہ لگاؤ اور اگر تم ان کی قسمیں کھانے سے خوش بھی ہوگئے تو بدکار لوگوں سے خدا تو خوش نہ ہوگا۔ الاعراب 3 ؎ جنگل کے رہنے والے اہل بادیہ عرب کے قبائل جنگلوں میں رہا کرتے تھے بلکہ اب بھی ان کو بدو یا بدوی کہتے ہیں۔ ان قبائل میں بھی دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک یہ کہ وہ شوکت اسلام سے دب کر مسلمانوں کا ساتھ دیتے اور اسلام ظاہر کرتے تھے اور صدقہ اور زکوٰۃ صرف ایک تاوان اور چٹی خیال کرتے تھے اور مسلمانوں کے لئے برے وقت کا انتظار کرتے تھے کہ کہیں ان پر کوئی حادثہ پڑجائے جس کے جواب میں بطور بددعا کے فرماتا ہے کہ انہیں پر کوئی گردش آوے یا خبر دیتا ہے کہ جس کا ظہور بھی ہوا ان کی نسبت فرماتا ہے۔ اشد کفر 4 ؎ فضائل صحابہ ؓ بجاد بروزن کتاب موٹی لنگی کو کہتے ہیں جس میں خط پڑے ہوئے ہوں۔ یہ عبداللہ صحابی کا لقب اس لئے ہوا کہ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا قصد کیا تو صرف ایک چادر تھی جس کو پھاڑ کر ان کی والدہ نے آدھی تہبند کی جگہ باندھ دی اور آدھی اوڑھا دی ملخص از قالموس وغیرہ۔ اونفاقا کہ یہ کفر و نفاق میں بڑے اشد ہیں اور بسبب جنگلی ہونے کے مجالست اور مکالمت اہل علم نصیب نہیں ہوتی کتاب و سنت اور احکامِ الٰہی سے جاہل ہیں۔ جیسا کہ اسد اور غطفان اور تمیم اور ان کے برعکس بعض ایسے بھی تھے کہ اللہ پر ‘ قیامت پر ایمان رکھتے تھے اور اپنے صدقہ و خیرات کو باعث ثواب اور رسول کی دعا کا وسیلہ جانتے تھے کیونکہ آنحضرت ﷺ صدقہ دینے والوں کے لئے دعائِ خیر و استغفار کرتے تھے جیسا کہ عبداللہ ذی الیجادین اور اس کی قوم ان کو ومن الاعراب من یؤمن الخ میں ذکر کرتا ہے۔ فضائلِ صحابہ y : اس کے بعد صحابہ انصار و مہاجرین کے محامد بیان فرماتا ہے جو اسلام کے رکن اور اسلامیوں کے پیشوا ہیں۔ ان کی دو قسم ہیں اول سابقوں اولون سو مہاجرین میں سے تو ابوبکر صدیق اور علی مرتضی وغیرہم وہ لوگ ہیں جو جنگ بدر میں شریک تھے۔ سعید و قتادہ و ابن سیرین کہتے ہیں وہ کہیں کہ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ شعبی کے نزدیک بیعت رضوان والے اور انصار میں سے عقبہ اولیٰ والے سات شخص اور عقبہ ثانیہ والے ستر اور پھر وہ جو مصعب بن عمیر ؓ کی تعلیم سے مسلمان ہوئے۔ دوم وہ جو اتبعوہم باحسان یعنی ان کے علاوہ اور صحابہ مہاجرین اور انصار بعض کہتے ہیں اس میں وہ بھی شامل ہیں جو قیامت تک ایمان و ہجرت و دین میں ان کے پیرو ہیں۔ ان کے لئے دو وعدے کرتا ہے۔ اول یہ کہ وہ اللہ سے اور اللہ ان سے راضی۔ دوم یہ کہ وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ اب شیعہ کو اس آیت کے بعد صحابہ مہاجرین و انصار سابقین اول کی نسبت بدگمانی نہ کرنا چاہیے۔
Ayahs 9:101–104

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور بعض تمہارے آس پاس کے بدو بھی منافق ہیں اور بعض مدینہ والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ آپ ان کو نہیں جانتے ہم ان کو جانتے ہیں سو ابھی ہم ان کو دوہری سزا دیں گے۔ پھر بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جاویں گے

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے۔ انہوں نے ملے جلے کام کئے ہیں۔ کچھ نیک اور کچھ بد۔ کچھ عجب نہیں کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرلے کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا ‘ (نہایت) مہربان ہے۔

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مالوں کی زکوٰۃ لے لیا کرو۔ اس سے ان کو پاک وصاف کرتا ہے اور ان کے لئے دعائے خیر بھی کرو۔ بیشک آپ کی دعا ان کے لئے راحت ہے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا وہ (یہ) نہیں جانتے کہ اللہ ہی تو ہے کہ جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کیا کرتا اور صدقہ لیا کرتا ہے اور اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

ترکیب : منافقون مبتداء وممن خبر مقدم ‘ مردوا اس کی صفت ومن اھل المدینۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ومن اھل المدینۃ قوم کذلک لا تعلمہم صفت ثانیہ وآخرون معطوف ہے منافقوں پر اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو اور اعترفوا صفت وخلطوا خبر وآخر معطوف ہے عملا پر۔ تفسیر : باہر کے گنواروں ہی پر کچھ موقوف نہیں کہ وہ منافق اور حیلہ باز ہیں بلکہ بعض اہل مدینہ اور مدینہ کے آس پاس کے گنوار جن کو کہ آنحضرت ﷺ کا وعظ و پند سننا بھی ممکن ہے اور اہل اسلام سے پیشتر میل جول رکھتے ہیں ٗ مردوا علی النفاق نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اور اس فن میں ایسے چالاک ہیں کہ باوجود فراست تامہ کے اے نبی ! ان سے تم واقف بھی نہیں ہاں ہم ان کو جانتے ہیں۔ مدینہ کے منافق بنی اوس و خرزج میں سے تھے اور ارد گرد کے قبیلہ مزینہ و جہینہ واشجع و اسلم و غفار میں سے تھے۔ آخرکار بہت سے تائب ہوگئے تھے۔ فرماتا ہے کہ ہم ان کو دو گنا عذاب کریں گے کیونکہ کافروں سے بڑھ کر ہیں۔ دگنے عذاب کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں ایک قتل اور قید ہونا اور دوسرا عذاب قبر۔ بعض کہتے ہیں کہ دیکھا دیکھی اسلام کے سخت کاموں میں شریک ہونا ‘ زکوٰۃ دینا ‘ شوکت اسلام کو دیکھنا ‘ اس کے احکام کی جبراً و کرہاً پابندی کرنا ایک عذاب ہے۔ موت اور قبر کا دوسرا ‘ جہنم کا عذاب عظیم کہ جس کی طرف لوٹ کر جائیں گے ان دونوں کے علاوہ وآخرون الخ اب یہاں سے ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے کہ جو جنگ سے کچھ نفاق کی وجہ سے نہ بیٹھ رہے بلکہ سستی اور کاہلی سے جس پر وہ نادم اور تائب ہوئے۔ ان کا جہاد میں نہ جانا برا کام تھا اور پھر توبہ و ندامت کرنا اچھا یا اور دیگر حسنات ٗ نیک اور بد عمل کے مخلوط کرنے سے یہ مراد ہے کہ ان کے حق میں تین باتیں ذکر فرماتا ہے : اول عسی اللّٰہ ان یتوب علیہم الخ کہ اللہ ان کو معاف کرے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ لفظ عسٰی کلام الٰہی میں تحقیق کے معنی دیتا ہے اور اس میں یہ بھی رمز ہے کہ بندہ کو اپنی توبہ و ندامت پر ناز نہ کرنا چاہیے بلکہ اس سے قبولیت کی امید رکھے۔ دوم یہ کہ اے رسول ! ان کے مال سے صدقہ جو وہ دیویں تو قبول کرلے۔ اس سے وہ پاک ہوں گے۔ یہ ان کے گناہوں کا کفارہ ان کے لئے باعث برکت ہوگا۔ عام ہے کہ زکوٰۃ ہو یا صدقہ نافلہ ہو اور ان کے لئے دعا کرو۔ سوم یہ کہ ایسے تائبین و نادمین کے لیے توبہ قبول کرنے کا اور ان کے صدقات قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ چند آدمی تھے جو آرام طلبی کی وجہ سے شریک جہاد نہ ہوئے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ کے قریب آپہنچے تو ندامت کے مارے انہوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ دیا کہ جب آنحضرت ﷺ ہمیں کھولیں گے تو کھلیں گے۔ آپ نے مسجد میں آکر دیکھا پھر پوچھا۔ پس فرمایا کہ میں بھی جب ہی کھولوں گا کہ جب اللہ حکم دے گا۔ چناچہ کئی روز وہ بندھے رہے۔ روتے رہے آخر یہ آیت نازل ہوئی تب کھلے۔ پھر انہوں نے اس کے کفارہ میں للہ دیا۔ ان میں 1 ؎ ابی لبابہ بھی تھے۔ ؎ ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں دس تھے بعض کہتے ہیں سات تھے۔ ابی لبابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس کے شکریہ میں اپنا گھر بار للہ دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ثلث بہت ہے۔ 12 منہ
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) کہہ دو کام کئے جائو۔ ابھی اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے تمہارا کام دیکھ لیں گے اور ابھی تم اس کے پاس واپس لوٹائے جاؤ گے جو چھپی اور کھلی باتیں جانتا ہے۔ پس وہ تم کو بتلا دے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے

1
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور بعض اور بھی ہیں کہ جو حکم الٰہی کے انتظار پر رکھے گئے ہیں یا وہ ان کو عذاب کرے یا معاف کرے اور اللہ سب کچھ جانتا ‘ حکمت والا ہے

ترکیب : وآخرون مرجون معطوف ہے وآخرون اعترفوا پر والذین معطوف ہے وآخرون مرجون پر ای ومنھم الذین اتخذوا اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو والخبر اَفَمَنْ اسس والعائد محذوف ای منھم۔ ضرار ممکن ہے کہ مفعول ثانی ہو اتخذوا کا وکذلک ما بعدہ والمصادر کلھا ورقعۃً موضع اسم الفاعل ای مفراو مفر قا۔ لمسجد مبتداء اسس الخ اس کی صفت احق ان تقوم اے بان تقوم الخ خبر۔ تفسیر : اب ان عذر کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں اور دیگر بندگان کے لئے ترغیب و ترہیب میں ایسی بات کہتا ہے کہ اگر کوئی اس کا لحاظ رکھے تو معاصی سے بچنے اور طاعت الٰہی کے اختیار کرنے میں ہمیشہ سرگرم رہے۔ فقال وقل اعملوا الخ کہ تم اعمال کئے جاؤ آیندہ جو کچھ اسلام میں کوشش کرو گے وہ اللہ اور اس کے رسول اور ایمانداروں کو آپ معلوم ہوجاوے گی اور بعد مرنے کے اللہ کے پاس جاؤ گے جو چھپی اور کھلی سب باتیں جانتا ہے۔ تمہارا دلی خلوص یا ظاہرداری اصلی عذر یا بناوٹ وہ سب تم کو بتلا دے گا اس سے کوئی بات مخفی نہیں۔ جہاد سے بیٹھ رہنے والوں کی تین قسم بیان فرمائیں : اول وہ منافق کہ جو مردواعلی النفاق۔ دوم وہ جو توبہ کر گئے جن کو اس قول میں بیان فرمایا وآخرون اعترفوا بذنوبہم اور ان کی توبہ قبول ہوئی۔ سوم وہ جو حالت توقف میں تھے جن کا اس آیت میں ذکر ہے وآخرون مرجون لامر اللّٰہ ان کو حکم الٰہی کے انتظار میں رکھا گیا ہے کہ جیسا چاہے ان کے حق میں حکم دے معاف کرے توبہ نصیب کرے یا عذاب دے۔ یہ وہ تین شخص ہیں کہ جن کا قصہ آگے آتا ہے۔ کعب بن مالک و ہلال بن امیہ و مرارہ بن ربیع۔ انہوں نے توبہ میں مبالغہ نہیں کیا نہ عذر کیا جیسا کہ ابو لبابہ اور اس کے ساتھیوں نے کیا تھا۔ 1 ؎ شفا بالفتح کنارہ جرندی کا وہ کڑاڑا جو پانی کی ٹکروں سے گر رہا ہے ہار اس کا مصدر ہو رہے ہیں بولتے ہیں الجرف یہور جبکہ وہ کڑاڑا پیچھے سے پھٹ جاوے اس کو جرف ہار کہتے ہیں اور جب گر پڑے تو انہار۔ حقانی
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے (مدینہ میں) ایک مسجد ضرر دینے کے لئے اور کفر کرنے کے لئے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور اس کو (ابو 2 ؎ عامر) کے لئے کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے پیشتر لڑ چکا ہے تیار کی ہے اور قسمیں کھانے لگیں گے ہم نے تو محض خیر کا ارادہ کیا تھا اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

2 ؎ اشارہ ہے ابو عامر کی طرف جو پیغمبر خدا کا دشمن تھا۔ قبیلہ بنی غنم نے اس مسجد کو بنایا اور ابو عامر کو اس کا امام بنانا چاہا لیکن ابو عامر مرگیا۔ یہی مسجد ٗ مسجد ضرار ہے۔ حقانی مسجد ضرار کا بیان : منافقین بجائے اعانت اسلام اس کے مٹانے اور کسر شان میں بھی کوشش کرتے تھے۔ منجملہ ان باتوں کے جو وہ کرتے تھے۔ ایک یہ تھی والذین اتخذوا مسجدًا ضرارًا الخ کہ اسلام اور مسجد تقویٰ کو ضرر پہنچانے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے کہ کچھ اس میں بھی آنے لگیں گے اور خدا کے دشمن ابو عامر راہب کے انتظار اور ٹھہرنے کے لئے ایک مسجد جدید بنائی تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں ایک شخص ابو عامر تھا۔ اس نے رومن کیتھولک عیسائیوں سے کچھ کتب قدیمہ توریت و انجیل پڑھ لی تھیں اور ان کے مذہب باطل کے اوہام اور خیالات خام اس کے دل پر نقش حجر ہوگئے تھے جس پر اس کو عرب میں پیشوا بننے کا خبط سمایا تھا مگر جب نبی آخر الزماں (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو پھر آفتاب جہانتاب کے مقابلہ میں ذرہ کو کیا رتبہ اس لئے رشک و حسد میں آکر آنحضرت ﷺ کا مقابلہ کیا۔ حالانکہ اس کا بیٹا ابو حنظلہ اسلام میں وہ برگزیدہ تھا کہ جس کو ملائکہ نے غسل دیا تھا۔ احد کی جنگ میں بھی ابو عامر نے یہ کہا تھا کہ جو قوم تیرے مقابلہ کے لائق اے محمد ﷺ میں پائوں گا ان کے ساتھ ہو کر تجھ سے لڑوں گا۔ چناچہ عرب کے قبائل کو ابھارتا رہا، آخر جب قبیلہ ہوازن نے بھی اسلام سے شکست پائی تو اب یہ عرب سے ناامید ہوگیا اور شام کی طرف نکل گیا وہاں بھی کچھ منصوبے باندھتا رہا۔ وہیں سے اس نے مدینہ کے منافقوں سے کہلا بھیجا کہ تم قوت اور ہتھیار بہم پہنچا رکھو اور ایک مسجد بھی بنا رکھو کہ میں قیصر روم کے ہاں سے ایک لشکر لاتا ہوں کہ جس سے محمد ﷺ اور اس کے یاروں کو شکست دے کر مدینہ سے نکال دوں گا۔ مدینہ کے منافقوں میں سے بارہ کم عقلوں نے ایک مسجد انہیں اغراض فاسدہ سے بنائی جس کو اسلام میں مسجد ضرار کہتے ہیں۔ یہ مسجد بمقابلہ اس مسجد کے بنائی تھی جو تقویٰ اور دینداری پر بنائی گئی تھی جس کو مسجد قوت اسلام کہتے تھے۔ اس کی تعمیر سے یہ لوگ ان دنوں میں فارغ ہوئے تھے کہ جب آنحضرت ﷺ جنگ تبوک کے لئے سفر کرنے کی تیاری کرچکے تھے۔ آخر خواستگار ہوئے کہ بطور تبرک آپ بھی ایک روز وہاں چل کر نماز پڑھا دیجئے۔ آپ نے فرمایا میں برسر سفر ہوں انشاء اللہ واپس آکر۔ پس جب واپس آئے تو ان لوگوں نے آکر پھر درخواست کی۔ اتنے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں مسجد ضرار کی برائی بیان ہوئی اور ان کے راز سے آگاہی دی گئی جس پر آنحضرت ﷺ نے مالک بن دخشم و معن بن عددی و عامر ؓ بن سکن وغیرہ کو فرمایا کہ جا کر اس کو ڈھا دو ۔ چناچہ انہوں نے اس کو جلا دیا اور کوڑی بنا دیا لیکن وہ غضب الٰہی کے شعلہ اس میں سے دنوں تک نکلتے رہے۔ اب بھی قباء میں مسجد ضرار کی جگہ پر کوڑا کرکٹ پڑا رہا کرتا ہے۔ لمن حارب اللّٰہ سے ابو عامر کی طرف اشارہ ہے۔ فرماتا ہے کہ یہ مسجد انہوں نے بنا تو ان وجوہ فاسد سے کی ہے مگر چونکہ جھوٹ کے عادی ہیں ٗ قسمیں کھانے لگیں گے کہ ہماری غرض تو اس سے یہ تھی کہ مینہ بوندی میں اور سردی گرمی میں آسانی ہو۔ مہمان کے ٹھہرنے کی جا ہوجاوے۔ فرماتا ہے کہ اللہ گواہی دیتا ہے یہ جھوٹے ہیں۔ اے نبی ! آپ اس میں جا کر کھڑے بھی نہ ہوجایئے۔ جو مسجد کہ اول روز سے خدا ترسی پر بنائی گئی تمہارا کھڑا ہونا اس میں مناسب ہے۔ اس مسجد کو کہ اول روز تقویٰ سے بنائی گئی۔ بعض مسجد قباء قرار دیتے ہیں جہاں آنحضرت ﷺ ہفتہ میں ایک بار تشریف لے جایا کرتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے اور اکثر علماء اس کو مسجد نبوی قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث صحیح مسلم میں آیا ہے۔ اس مسجد کی مدح دو سبب سے ہے۔ ایک یہ کہ تقویٰ سے بنائی گئی۔ دوم یہ کہ اس میں ایسے لوگ فیہ رجال یحبون ان یتطہروا رہتے ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں عقائدِ فاسدہ اور اعمالِ سیئہ سے پاکی مراد ہے جو طہارت ظاہری کو بھی شامل ہے یعنی پاخانہ میں ڈھیلا لینے کے بعدپانی سے استنجا بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ بعض آثار سے ثابت ہے۔ اس کے بعد ان دونوں مسجدوں کا موازنہ کرکے یہ ثابت کرتا ہے کہ کجا یہ اور کہاں وہ کہ جس کی بنیاد جہنم کے کنارہ پر ہو اور اس میں گر پڑنے کے قریب ہو۔ دونوں برابر ہوسکتی ہیں۔ جہنم کے کنارہ پر بنائے جانے سے مراد نفاق اور بدنیتی سے بنایا جانا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس میں استعارہ مکنیہ ہے۔ تقویٰ ورضوان کو دل میں بنیاد سے تشبیہ دی ہے اور پھر بنیاد کی تاسیس کا ذکر تخییل ہے یا یہ ایک تمثیل ہے اس بات کی کہ ایک نے تو اپنے دینی محل کو تقویٰ اور نیک اعمال اور اخلاص پر قائم کیا اور مستحکم بنیادوں پر اس محل کو چنا اور دوسرے نے اس کو ریاکاری و کفر کے ریتلے کنارے پر قائم کیا جو گرنے کو ہو اور پھر لے کر دھم سے گر بھی گیا ہو۔ جہنم کے عمیق گڑھے میں ڈال دیا۔ کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

آپ اس مسجد میں کبھی بھی جا کر کھڑے نہ ہونا (ہاں) وہ مسجد کہ جس کی اول ہی دن سے پرہیزگاری پر بنیاد رکھی گئی ہے اس لائق ہے کہ آپ وہاں کھڑے ہوں 3 ؎ اس میں ایسے لوگ ہیں کہ جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو (بھی) پاک رہنے والے پسند ہیں۔

3 ؎ امامت کریں۔ 12 منہ
Ayahs 9:109–111

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جو اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھے وہ بہتر یا وہ جو اپنی بنیاد نرم ریتلے کڑاڑے 4 ؎ کے کنارہ پر قائم کرے جو گرنے کو ہو۔ پھر وہ اس کو جہنم کی آگ میں (دھم سے) لے بھی گرے اور اللہ بےانصاف قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

وہ بنیاد کہ جس کو انہوں نے قائم کیا تھا ان کے دلوں میں ہمیشہ شک قائم کرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاویں اور اللہ علیم حکیم ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بیشک اللہ تو ایمانداروں کی جان اور مال کو جنت کے عوض میں خرید چکا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پس ماریں اور مارے جائیں اس نے اپنے اوپر سچا وعدہ قائم کرلیا ہے جو تورات 1 ؎ اور انجیل اور قرآن میں (لکھا گیا ہے) اور اللہ سے زیادہ کون اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہے۔ سو اس سودے پر جو تم نے کیا ہے خوشیاں منائو اور یہی بڑی کامیابی ہے

4 ؎ یہ قباء میں ایک پہلی مسجد تھی جو حضور ﷺ کی تشریف آوری پر بنی تھی جس کو مسجد قوت الاسلام کہتے ہیں 12 منہ
Ayahs 9:112–114

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

( یہ وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ‘ عبادت کرنے والے ‘ شکر کرنے والے ‘ خدا کی راہ میں سفر کرنے والے ‘ رکوع کرنے والے ‘ سجدہ کرنے والے ‘ اچھی باتوں کے سکھانے والے اور بری باتوں سے روکنے والے اور احکامِ الٰہی کا لحاظ رکھنے والے ہیں اور آپ ایمانداروں کو خوشخبری سنا دیں۔

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

نبی اور ایمانداروں کو زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لئے بخشش کی دعائیں مانگا کریں۔ گو وہ ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کو یہ معلوم ہوچکا ہو کہ وہ دوزخی ہیں

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے بخشش مانگنا صرف ایک وعدہ سے تھا جو اس نے اس سے کرلیا تھا پھر جبکہ اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے کیونکہ ابراہیم بڑے نرم دل (اور) بردبار تھے۔

ترکیب : بان الباء ھنا للمقابلۃ وعدا مصدر ای وعدھم بذلک وعدًا حقًا اس کی صفت فی التورتہ الخ ثابت کے متعلق ہو کر صفت ثالث التائبون خبر ہے مبتداء محذوف کی اے وھم التائبون ویجوز ان یکون مبتداء والخبر الآمرون ومابعدہ وھو ضفیف۔ تفسیر : جبکہ جہاد سے کنارہ کشی کرنے کی وجہ سے منافقین کے قبائح اور فضائح اور ان کی اقسام اور ہر قسم کی لائق سزا دنیا و آخرت میں واقع ہونے والی بیان فرما چکا تو فضائلِ جہاد اور اس کی حقیقت کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ پس فرماتا ہے ان اللّٰہ اشتری الخ محمد بن کعب قرطبی کہتے ہیں کہ مکہ میں لیلتہ العقبۃ میں ستر انصار نے آنحضرت ﷺ سے بیعت کی۔ تب عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا کہ اپنے لئے اور اللہ کے لئے یا رسول اللہ ! جو چاہیے ہم سے شرط کرا لیجئے۔ فرمایا اللہ کے لئے یہ کہ اسی کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور میرے لئے یہ کہ جس چیز سے اپنے نفس اور مال کو محفوظ رکھو اس سے مجھے بھی۔ لوگوں نے کہا جب ہم نے ایسا کیا تو کیا ملے گا فرمایا جنت۔ لوگوں نے عرض کیا بہت فائدہ مند بیع ہے ہم اس کو ہرگز واپس نہ کریں گے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی (معالم) اس آیت میں فرماتا ہے کہ اللہ نے جنت کے عوض میں ایمانداروں کی جان اور مال کو خرید لیا بائع روح مشتری اللہ مبیعہ جسم و مال قیمت۔ جنت پھر فرماتا ہے کہ خریدنے سے ہمارا کیا مطلب ہے۔ یہ کہ تم جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہاں تک کہ مارو یا مرجاؤ یعنی یہ جان و مال گو اللہ ہی کا عطیہ ہے مگر اس کو اللہ کی راہ میں صرف کرو۔ اس کے بدلہ میں تم کو حیات جاودانی اور سعادت روحانی ملے گی۔ اس بات کو خریدو فروخت کے پیرایہ میں ادا کیا تاکہ یہ معلوم ہے کہ جنت کا طالب ہو کر جان و مال کو اپنا نہ سمجھے بلکہ اس کو بیچ چکے ‘ مالک جہاں اس کے صرف کرنے کا حکم دے دریغ نہ کرے۔ حقیقت میں کیا ارزاں سودا ہے کجا یہ مال و جسم فانی کہاں وہ حیات جاودانی۔ کہاں یہ دنیا کا مال کہاں اس کا جمال با کمال ؎ قیمت خود ہر دو عالم گفتہ نرخ الا کن کہ ارزانی ہنوز پھر آگے ان لوگوں کی نو صفت بیان فرماتا ہے جو اخلاق حمیدہ اور تنویر روح اور تمدن اور باہمی اصلاح کا عطر ہیں۔ (1) التائبون یعنی ہر قسم کی برائی سے جو بشریت سے صادر ہوگئی توبہ کرتے ہیں نہ کہ اس پر اڑتے ہیں (2) العابدون اللہ کی عبادت کرنے والے (3) الحامدون خدا تعالیٰ کی ہر حال میں حمد کرتے ہیں جو کچھ اس نے عنایت کیا ہے اسی حالت میں اس سے خوش ہیں (4) السائحون 1 ؎ توریت موجودہ کی بھی متعدد مقامات سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے پر اور مال و جان سے اس کو عزیز رکھنے پر جس کو ان اللہ اشتری الخ سے تعبیر کیا ہے۔ بہبودی اور فلاح کے وعدے نکلتے ہیں جن کو اس امت کے لئے جنت کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ چناچہ استثناء کے 28 باب میں 14 درس تک یہی بیان ہے اور 32 باب 2 درس میں ان اللہ اشتری کا بعینہٖ مضمون موجود ہے انجیل متی کے 5 باب 12 درس میں اس کے عوض پانی کا وعدہ ہے اور دیگر مقامات میں بھی۔ 12 روزہ رکھنے والے کیونکہ روزہ میں جب انسان خواہشوں کے دروازے بند کرلیتا ہے تو اس پر معارف کے دروازہ کھل جاتے ہیں۔ پھر وہ اس میں عالم جلال کی سیر کرتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد خدا کے لئے سفر کرنے والے ہیں طلب علم یا جہاد کے لئے یا ہجرت کے لئے من السیاحۃ (5۔ 6) رکوع اور سجدہ کرنے والے یعنی نماز پڑھنے والے تخصیص بعد التعمیم (7۔ 8) اس سے اپنی تکمیل پر بس نہ کرنے والے بلکہ اوروں کو بھی اس میں شریک کرنے والے یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے والے ٗ بری باتوں سے منع کرنے والے (9) الحافظون لحدود اللّٰہ ہر امر میں احکامِ الٰہی کی رعایت رکھنے والے۔ اس میں ہزاروں باتیں آگئیں جہاد میں چونکہ مخالفین یگانہ لوگ تھے ان سے لڑنا شاق تھا اس لئے اول ان سے بیزاری ظاہر کرکے یہاں ان کے لئے استغفار سے بھی منع کرتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ کے لئے استغفار کی تھی اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ وہ ایک وعدہ کا پورا کرنا تھا جو اس نے اپنے باپ سے کرلیا تھا مگر جب معلوم ہوا کہ کفر پر مرا تو علیحدگی اختیار کی خدا کے سپاہی کو اپنے بیگانہ سے کچھ مطلب نہیں حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayahs 9:115–117

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا کا کام نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دیے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ باتیں نہ بتلا دے کہ جن سے وہ بچتے ہیں۔ بیشک اللہ کو ہر چیز معلوم ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

اللہ کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے (وہی) زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا حمایتی ہے نہ مددگار۔

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

البتہ اللہ نے نبی اور مہاجرین اور ان انصار پر بڑا فضل کیا جنہوں نے تنگدستی کے وقت نبی کا ساتھ دیا۔ بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا ہی چلے تھے۔ پھر اس نے ان پر بھی رحم کیا ( کہ ان کو سنبھال لیا) کیونکہ وہ ان پر نہایت نرم ‘ بہت مہربان ہے

ترکیب : ماکاد کا فاعل ضمیر شان والجملۃ بعدہ فی موضع نصب وعلی الثلثۃ معطوف ہے النبی پر ای تاب علی النبی وعلی الثلثۃ الذین الخ بما رحبت ای مع رحبھا من اللّٰہ خبر ہے لا کی ملجاء اسم تھا الا الیہ استثناء ہے مثل لا الہ الا اللہ کے۔ تفسیر : اس سے پہلی آیت میں جو مشرکین کے لئے استغفار کی ممانعت تھی اور یہ کہا تھا کہ نبی اور مسلمانوں کی یہ شان نہیں حالانکہ اس سے پہلے بہت لوگ اپنے اقارب مشرکین کے لئے جو مرگئے تھے استغفار کیا کرتے تھے اور بہت سے لوگ جو استغفار کرتے تھے اس ممانعت سے پیشتر مرچکے تھے اور جو زندہ تھے ان کو اپنے فعل پر سخت ندامت اور خوف تھا کہ ہم گمراہ ہوگئے اس کے جواب میں تسلی کے لیے فرماتا ہے وما کان اللّٰہ لیضل الخ کہ اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی قوم کو ہدایت کرکے بغیر ان باتوں کے بیان کئے کہ جن سے ان کو بچنا چاہیے گمراہ کر دے یعنی چونکہ تم کو استغفار کی ممانعت بتائی نہیں گئی تھی اگر اس سے پہلے تم نے ان کے لئے استغفار کی تو اس سے تم گمراہ اور گنہگار نہیں ہوئے اور ممنوعات کا بیان کرنا اس کا کام ہے کیونکہ وہ ہر شے سے واقف ہے مگر اس کے بعد اہل اسلام کے دل میں یہ کھٹکا تھا کہ اللہ نے کفار عزیز و اقارب بلکہ جمیع کفار کی دوستی سے منع کردیا اور سب سے لڑنے کا حکم دیا اور ہماری قدرت و طاقت معلوم ہے۔ پھر ان کی معاونت بغیر کیا ہوگا۔ اس کے دور کرنے کو فرماتا ہے اللہ کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی مارتا زندہ کرتا ہے۔ وہ قادر مطلق تم کو بس کرتا ہے اسی کی اعانت تمہیں کافی ہے۔ اس کے سوا تمہارا کوئی حمایتی مددگار نہیں۔ نہ ان کی تمہیں کچھ حاجت ہے اور نیز یہ جملہ ان اللّٰہ لہ ملک السموات اس کے ہر شے کے عالم ہونے کی دلیل بھی ہے کیونکہ جو ایسا قادر ہے وہ عالم بھی ہے بغیر علم کے یہ قدرت کاملہ نہیں ہوسکتی اور نیز اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ سب ملک اسی کے ہیں جس سے چاہے لے کر کسی اور کو دے دے۔ چناچہ اس نے صحابہ کو سلطنتیں دیں ‘ مخالفوں کو زیر کردیا۔ چونکہ مہاجرین و انصار نے اس جنگ میں نہایت شدت کی گرمی اور گرسنگی اٹھائی اور طرح طرح کی تکالیف پائی تھیں تو ایسی حالت میں انسان کا مقتضٰی طبعی ہے کہ اس کے دل میں کچھ وسواس فاسدہ گذریں گویا یہ کوئی گناہ نہیں مگر ایسے مقربین کے دل میں بیساختہ ایسے خیالات کا گزرنا بھی عالم محبت میں قابل گرفت ہے۔ جیسا کہ خود ہی ان خیالات کی طرف اشارہ کرتا ہے من بعد ماکاد یزیغ قلوب فریق منہم کہ قریب تھا کہ اس شدت کے وقت میں ایک فریق مومنین کا دل پھر جاوے۔ واپسی پر اور پیچھے رہ جانے کا قصد کریں اور نیز یوں بھی بشریت سے انسان کچھ کر گذرتا ہے لیکن ان کا یہ کام کہ انہوں نے ایسے تنگ اور شدت کے وقت رسول کا ساتھ نہ چھوڑا اور آسمانی لشکر سے تخلف نہ کیا۔ نہایت قابل قدر دانی اللہ کے نزدیک ہوا اس کے انعام میں ان کے لئے لقد تاب اللّٰہ علی النبی والمہاجرین الخ ارشاد ہوا کہ خدا نے ان کو خلعت معافی عطا فرمائی۔ چونکہ خدا کی معافی اور رحمت کا واسطہ آنحضرت (علیہ السلام) تھے۔ اس لئے اس میں سب سے اول آپ کو بھی شریک کرلیا اور ثم تاب علیہم کے لفظ کو پھر تاکید کے لئے اعادہ فرمایا جس طرح خوشی میں بادشاہ اپنے نوکر وفادار سے کہتا ہے ہم نے تم کو یہ چیز دی اچھا دی۔