9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 9:41–43

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

ہلکے اور بوجھل ہو کر (یعنی سامان اور بےسامانی کے ساتھ ہر حالت میں) جہاد کے لئے نکلو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرو۔ یہ تمہارے لئے (بہت) بہتر ہے۔ اگر تم سمجھتے ہو۔

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر سر دست نفع ہوتا اور سفر بھی کم ہوتا تو وہ آپ کے ساتھ ہو لیتے لیکن ان کو دور دراز کی مشقت دکھلائی دی اور وہ بھی اللہ کی قسمیں کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم کو قدرت ہوتی تو آپ کے ساتھ نکلتے (جھوٹی قسمیں کھا کر) اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور خدا جانتا ہے کہ وہ ضرور جھوٹے ہیں۔

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ آپ کو معاف کرے۔ آپ نے ان کو اجازت ہی کیوں دی یہاں تک کہ آپ کو سچے خود ہی ظاہر ہوجاتے اور جھوٹوں کو (الگ) معلوم کرلیتے

ترکیب : خفافًا و ثقالاً حال ہیں ضمیر فاعل انفروا سے لوکان کا اسم محذوف ای مادعوتھم الیہ عرضا خبر جملہ شرط لاتبعوک جواب حتی متعلق ہے محذوف سے ای بلا اخرتھم الی ان یتبین والباقی واضح۔ تفسیر : آخر آنحضرت ﷺ کے پاس تیس ہزار لشکر جمع ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں ستر ہزار تو پنجشنبہ کے دن رجب کے مہینے میں نویں سال آپ نے کوچ کیا۔ ادھر منافق ہیں کہ ہر منزل سے اجازت لیتے اور بہانے بناتے اور پیچھے رہے جاتے ہیں۔ بہت نے مدینہ ہی میں عذر کرنے شروع کر کردیے۔ ہزاروں جھوٹی قسمیں کھانی شروع کیں کہ ہمیں یہ عذر ہے ٗ یہ ضرورت ہے۔ ہم کو چلنے کی طاقت نہیں ٗبخدا اگر طاقت ہوتی تو ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ مسلمانوں کو باہر نکلنے اور جہاد کرنے کا حکم دے کر ان منافقوں کے عذرات باردہ کو رد فرماتا ہے کہ اگر غنیمت ہاتھ لگتی اور پاس کا سفر ہوتا تو آپ کے ساتھ چلتے وہ ابھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہمیں قدرت ہوتی تو چلتے اور آپ سے اجازت مانگتے ہیں۔ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو خود پیچھے رہ جاتے۔ ان کا جھوٹ سچ معلوم ہوجاتا اور بےایمان لوگ اجازت مانگتے ہیں۔ ایمانداروں کا کام نہیں۔ اگر آپ کے ساتھ جاتے بھی تو کیا کرتے ٗ جھوٹی خبریں اڑاتے۔ جیسا کہ پہلے بھی کرچکے ہیں الخ انفروا خفا فاو ثقالا حسن و ضحاک و مجاہد کہتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جوان اور بڈھے سب چلیں۔ بعض کہتے ہیں ہلکے سے مراد تنگدست اور بھاری سے غنی بعض کہتے ہیں سامان لے کر اور بےسامان بھی پاپیادہ اور سوار یعنی ہر حال میں چلو۔
Ayahs 9:44–48

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے میں آپ سے (گھر رہنے کی) اجازت نہیں مانگتے 1 ؎ اور اللہ ہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

آپ سے رخصت تو وہی لوگ مانگا کرتے ہیں کہ جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ قیامت پر اور ان کے دل میں شک پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہی اپنے شک میں بھٹکتے رہتے ہیں

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر باہر نکلنا چاہتے تو اس کی کچھ تیاری بھی کرتے لیکن خود اللہ ہی کو ان کا اٹھنا پسند نہ ہوا۔ سو ان کو بٹھلا دیا اور کہہ دیا گیا کہ اور بیٹھنے والوں کے ساتھ تم بھی بیٹھے رہو

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اور اگر تمہارے ساتھ نکلتے بھی تو تم میں کچھ خرابی ہی پیدا کرتے اور تم میں فتنہ پیدا کرنے کے لئے کوشش کرتے اور تم میں ان کے جاسوس (سننے والے) بھی ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

انہوں نے پہلے بھی فتنہ کرنا چاہا تھا اور آپ کے لئے (بہت کچھ) جوڑ توڑ لگائے تھے۔ یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا اور وہ ناخوش ہی رہ گئے۔

1 ؎ کہ اجازت مانگ کر بہانہ بنا کر جہاد سے بیٹھ رہیں۔ 12 منہ
Ayahs 9:49–54

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ مجھے رخصت دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالئے۔ دیکھو فتنہ 1 ؎ میں تو خود ہی پڑے ہوئے ہیں اور بیشک کافروں کو جہنم نے گھیر رکھا ہے۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر آپ کو بھلائی پہنچتی ہے تو ان کو رنجیدہ کرتی ہے اور جو آپ کو کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی سے اپنا کام ٹھیک کر رکھا تھا اور خوشیاں کرتے ہوئے جاتے ہیں۔

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

کہہ دیجئے جو کچھ اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے اس کے سوا ہم پر کوئی مصیبت نہیں پڑے گی۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور اللہ ہی پر ایمانداروں کو بھروسہ بھی کرنا چاہیے

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

(اور) کہہ دیجئے تم تو ہمارے حق میں دو خوبیوں میں سے ایک نہ ایک کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ خدا تم پر کوئی اپنی طرف کا عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں سے کوئی سزا دے۔ سو انتظار کرو ٗ ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

(اور یہ بھی) کہہ دیجئے کہ تم خوشی سے دو یا بےدلی سے تمہاری خیرات تو ہرگز قبول نہ کی جائے گی کیونکہ تم ایک فاسق قوم ہو

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کی خیرات قبول نہ ہونے کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کردیا ہے اور وہ نماز کو بھی آتے ہیں تو محض سستی سے اور کچھ دیتے بھی ہیں تو محض برے دل سے۔

1 ؎ یعنی رسول کی نافرمانی کیا کم فتنہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : منہم خبر ہے من یقول کی اور جملہ معطوف ہے کلام سابق پر۔ ان تصبک شرط تسئوھم جواب الا ما فاعل یصیب کا ان یصبکم مفعول ہے نتربص کا بکم اس سے متعلق ان تقبل کا مفعول مالم یسم فاعلہ نفقاتہم جملہ موضع نصب میں ہے بدل ہو کر مفعول منہم سے۔ تفسیر : منافقوں میں سے ایک شخص جد بن قیس تھا۔ اس نے یہ عذر کیا کہ میں رومی عورت دیکھ کر صبر نہیں کرسکتا مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ٗ اجازت دیجئے۔ آپ نے ترش رو ہو کر فرمایا ٗ اجازت۔ ومنہم من یقول میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ باقی ان کے حالات ترجمہ سے ظاہر ہیں۔ ہمارے لئے دو خوبیوں میں ایک تو ضرور ہے یا شہادت یا فتح و غنیمت۔ بعض منافق آپ نہ جاتے تھے۔ روپیہ اور سامان ہارے دل سے دیتے تھے۔ ان کی نسبت فرمایا یہ قبول نہ ہوگا۔ آخر جب آنحضرت ﷺ نے ثنیۃ الوداع میں آکر لشکر کی ترتیب دی۔ بڑاجھنڈا ابوبکر صدیق ؓ کو دیا اور ایک نشان زبیر بن العوام ؓ کو اور ہر قبیلہ کا ایک جدا نشان مقرر کیا اور آنحضرت ﷺ نے علی ؓ کو پیچھے مدینہ میں خبر گیری کے لئے چھوڑا۔ یہ لشکر ہرقل کے مقابلہ میں چلا اور مدینہ اور شام کے درمیان جو تبوک ایک قلعہ یا پانی کا چشمہ تھا مدینہ سے چودہ منزل جہاں ہرقل کے لشکر سے مقابلہ ہونے کی خبر تھی وہاں دو مہینے یا بقول بعض بیس روز یا بقول بعض بارہ روز قیام کرکے ہرقل کے لشکر کا انتظار کیا۔ چونکہ ہرقل کو آنحضرت ﷺ کے آثار نبوت کتب سابقہ سے معلوم تھے اور وہ پہلے سے معجزات و خرق عادات سن چکا تھا اس لئے اس کا حوصلہ نہ پڑا۔ آنحضرت ﷺ سالماً غانماً مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ اس معرکہ اور سفر میں لوگوں نے بہت سے معجزات آنحضرت ﷺ کے دیکھے اور اس لشکر کشی سے نہ تنہا عرب بلکہ اطراف و جوانب عرب میں بھی شوکت اسلام نمودار ہوگئی۔
Ayahs 9:55–62

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

پس آپ ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کریں 1 ؎ خدا یہی چاہتا ہے کہ ان کو اس سے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب دے اور مریں بھی تو بےایمان ہی رہیں

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تو تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں بلکہ وہ ایک قوم (ظاہر و باطن میں) فرق رکھنے والی ہے۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی پناہ کی جگہ یا کوئی غار یا سر گھسانے کی جگہ مل جائے تو رسیاں توڑاتے ہوئے اسی کی طرف دوڑ پڑیں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور کچھ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو آپ پر زکوٰۃ کی تقسیم میں الزام لگاتے ہیں۔ پھر اگر ان کو بھی اس میں سے (ان کی خواہش کے موافق) مل جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو فوراً ہی بگڑ بیٹھتے ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر اسی پر راضی ہوجاتے کہ جو اللہ اور اس کے رسول نے دیا تھا اور (یہ) کہتے کہ ہم کو اللہ کفایت کرتا ہے۔ اللہ اور اس کا رسول ہم کو اپنے فضل سے اور دے گا ہم تو اللہ ہی سے رغبت رکھتے (تو بہت بہتر ہوتا)

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

زکوٰۃ تو صرف فقیروں اور مسکینوں اور اس کے ملازموں کے لئے ہے اور جن کے دل پر چائے جاتے ہیں ان کے لئے اور غلاموں کے آزاد کرانے کے لئے اور قرض داروں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں کے لئے ہے (یہ) اللہ کی طرف سے مقرر ہوچکا اور اللہ خبردار حکمت والا ہے

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کانوں کا کچا ہے۔ (سو ان سے) کہہ دیجئے وہ تو تمہاری بہتری کو بہت جلد سنتا ہے (اور) اللہ پر یقین رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات مانتا ہے اور جو تم میں سے ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے رحمت ہے اور جو اللہ کے رسول کو ستاتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

وہ تمہارے لئے اللہ کی قسمیں کھایا کرتے ہیں تاکہ تم کو راضی رکھیں۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول ہی راضی رکھنے کے زیادہ مستحق ہیں۔ اگر وہ ایمان رکھتے ہوں۔

ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔ تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت میں گرفتار ہو کر مصائب میں مبتلا ہوں گے۔ یا یہ اولاد کی موت اور ناہنجاری کی وجہ سے بھی ان کو رنج پہنچاوے گی۔ مال میں روح لٹکی رہے گی۔ اب ان کے اور چند بدخصائل ذکر فرماتا ہے : اول یہ کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تم میں سے ہیں حالانکہ وہ جھوٹے ہیں اور حال یہ ہے کہ اگر ان کو کوئی پناہ مل جائے تو وہیں چلے جائیں۔ دوم یہ کہ آنحضرت ﷺ کو تقسیم صدقات و زکوٰۃ و غنایم میں الزام لگاتے ہیں۔ وہ الزام چند وجہ سے تھے۔ بعض اس وجہ سے کہ آنحضرت ﷺ کو حسب حاجت و حسب مصالح جو لوگوں کو کم زیادہ دیتے دیکھتے تھے ٗ اس پر ان کو اعتراض تھا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت ﷺ غنایم تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص بنی تمیم میں سے جس کا نام خرقوص بن زہیر اور لقب ذوالخو یصرہ تھا۔ آیا اور کہا انصاف کیجئے الحدیث اور بعض اس طور سے کہ زکوٰۃ لینا بےفائدہ بات ہے۔ پیغمبر کو کیا پڑی جو لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرے اور پھر اس کو تقسیم کرے (آج کل کے پو ادر بھی یہی کہتے ہیں) اول تو ان کا یہ جواب دیا کہ یہ اعتراض ان کا خودغرضی سے ہے۔ اگر خود ان کو مل جائے تو وہ خوش ہوجائیں ورنہ ناراض۔ دوسرا جواب صلی یعنی اس کام کی مصلحت بضمن مصارف بیان فرمائی کہ ان صدقات کو حضرت اپنے اور اپنے اقارب کے لئے نہیں لیتے بلکہ دنیا میں نائبِ خدا بن کر اس سے بیچاروں اور درماندوں کی حاجت روائی اور سلطنتِ آسمانی کا انتظام کرتے ہیں کیونکہ صدقات فقراء و مساکین وغیرہ آٹھ جگہ دیئے جاتے 1 ؎ ہیں۔ سوم یہ کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت کچھ باتیں بتاتے ایذا دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کچھ پروا نہیں محمد ﷺ اُذُنْ یعنی جو سنتا باور کرلیتا ہے ٗ ہم انکار کردیتے ہیں۔ وہ اس کو بھی باور کرلیتے ہیں۔ منجملہ ان منافقوں کے ایک جلاس بن سوید اور نبتل بن حارث تھا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اس کا شنوا ہونا تمہاری بہتری کے لئے ہے۔ آگے وجوہ بہتری فرماتا ہے۔ یومن الخ 1 ؎ وہ آٹھ یہ ہیں فقیر مسکین اور مسکین فقیر سے بھی زیادہ محتاج ہے۔ عاملین یعنی زکوٰۃ کے وصول کرنے والے ان کی تنخواہ اس میں سے دی جاتی ہے۔ مولفتہ القلوب یعنی وہ لوگ کہ جن کو اسلام کی طرف ممنون احسان کرکے لایا جاتا تھا جیسا کہ ابو سفیان و حارث بن ہشام و سہل بن عمرو وغیرہ کو آنحضرت ﷺ دیتے تھے مگر ایسے لوگوں کو دینا کچھ ضرور نہیں ان کا حصہ ساقط ہوگیا۔ غلاموں کے آزاد کرانے میں قرض داروں کو فی سبیل اللہ یعنی جہاد اور مصالح ملکی میں اور مسافروں کو ان میں سے جس کی زیادہ ضرورت سمجھی جائے ٗ دیا جاوے۔ 1 ؎ یعنی اس نافرمانی پر جو ان کو مال اور اولاد کی ترقی ہے اس سے حیرت نکرد کہ نافرمانی میں کیوں پھلتے پھولتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ اولاد اور مال ان کے لیے وبال ہے دنیا کا بھی اس کے تلف ہونے پر جو لازمی بات ہے ان کو سخت صدمہ پہنچے اور آخرت کا بھی کہ مریں تو بدنصیب اسی میں سے ایمان ہی مریں 12 منہ۔
Ayahs 9:63–72

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کو ناخوش کرتا ہے تو اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے کہ جس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈر رہے ہیں کہ ان پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دل کی بات ظاہر کرے۔ کہو ہنسا کرو۔ اللہ تو وہ بات ظاہر ہی کر دے گا جس سے تم ڈرتے ہو

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے تو کہہ دیں گے ہم تو صرف ہنسی دل لگی کرتے تھے۔ تو (اے نبی ! ) کہہ دو کہ کیا ہنسی بھی کرتے تھے تو اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول ہی سے۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بنائو۔ تم ایمان لاکر ضرور کافر ہوچکے ( اچھا) اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کردیں گے تو دوسرے گروہ کو اس لئے عذاب دیں گے کہ وہ تو مجرم ہی تھا۔

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب آپس میں ایک ہیں جو بری باتیں (یعنی کفر) بتاتے اور اچھی باتوں سے (یعنی ایمان و اسلام لانے سے) روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ سکیڑ لیتے ہیں ( خیرات نہیں کرتے) اللہ کو بھول گئے سو اللہ بھی انہیں بھول گیا۔ کچھ شک نہیں کہ منافق بڑے ہی بد ہیں۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور عورتوں اور کفار سے دوزخ کا وعدہ کرلیا ہے وہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے یہی ان کو بس ہے اور اللہ نے ان پر پھٹکار کردی اور ان کے لئے عذاب دائمی ہے

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

جس طرح کہ تم سے پہلی امت (ہلاک ہوئی) جو تم سے بھی بہت زیادہ قوی اور (تم سے) زیادہ مال اور اولاد رکھتی تھی، اپنا حصہ برت گئے۔ سو تم نے بھی اپنا حصہ برت لیا۔ جیسا کہ تم سے پہلوں نے اپنا حصہ پا لیا۔ تم نے ہنسی کی جیسا کہ انہوں نے ہنسی کی تھی۔ یہی وہ ہیں کہ جن کی کمائی دنیا اور آخرت میں ملیامیٹ ہوگئی اور یہی خسارہ میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ان سے پہلوں کی خبریں نہیں آئیں ؟ نوح اور عاد کی قوم کی اور ثمود اور قوم ابراہیم کی اور مدین کے باشندوں کی اور ان کی کہ جن کی بستیاں الٹی گئیں۔ ان کے رسول ان کے پاس معجزات لے کر آئے پھر خدا تو ان پر کا ہے کو ظلم کرنے لگا تھا بلکہ خود وہ ہی اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

ایماندار مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اچھی باتیں سکھاتے اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ یہی ہیں کہ خدا ان پر رحمت کرنے والا ہے۔ بیشک اللہ زبردست ‘ حکمت والا ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اللہ نے ایماندار مردوں اور عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کرلیا ہے کہ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے اور ہمیشہ کی بہشت میں اچھے مکانوں کا بھی وعدہ کرلیا ہے اور اللہ کی خوشنودی ان سب سے بڑھ کر ہوگی ٗ یہ ہے بڑی کامیابی۔

ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔ تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع کرتی ہیں۔ منجملہ ان کے حالات و اقوال ذمیمہ کے (جو وہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ مخلصین کے حق میں کہتے تھے جنگ تبوک سے پیچھے رہ کر اعنی مدینہ میں بیٹھ کر اور نیز فوج میں شامل ہو کر جو کہ شرما شرمی چلے گئے تھے) ایک یہ ہے کہ وہ تحقیر اسلام کرتے تھے اور گستاخانہ کلمات بکا کرتے تھے جن پر بسا اوقات آنحضرت ﷺ بذریعہ وحی مطلع کئے جاتے تھے۔ پھر جب پوچھا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم تو ہنسی دل لگی کے طور پر کہتے تھے۔ پس جب وحی نازل ہوتی تھی تو آیات سے بہت ڈرتے تھے کہ کہیں وہ باتیں آشکارا نہ ہوجائیں اور وہ ہمارے دل کے راز نہ کھل جائیں۔ اس کی طرف یحذرا المنافقون الخ میں اشارہ فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ کیوں ناحق کے عذر کرتے ہو تم کافر ہوچکے اگر تمہارا ظاہری کچھ ایمان تھا بھی وہ بھی رخصت ہوا۔ اسی جگہ سے علمائِ اسلام کا اتفاق ہے کہ جو دین محمدی کے ساتھ تمسخر کرتا ہے کافر ہوجاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اچھا ہم ان لوگوں کو جو صدق دل سے توبہ کرتے ہیں یا ان کے کلمات حد کفر تک نہ پہنچے تھے ٗ معاف کردیں گے تو اس کے برخلاف دوسرے گروہ منافقین کو جو دل سے توبہ نہیں کرتے جھوٹے عذرات پیش کرتے ہیں ضرور عذاب کریں گے۔ ازانجملہ یہ کہ وہ بری باتیں سکھلاتے ‘ اچھی باتوں سے منع کرتے ‘ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہاتھ روکتے ہیں سو وہ اللہ کو بھول گئے اللہ ان کو بھول گیا۔ یہ علی سبیل مشاکلت فرمایا۔ مراد یہ کہ جس طرح انہوں نے اللہ سے اعراض و بےاعتنائی کی اسی طرح عالم آخرت میں اعراض و بےاعتنائی خدا تعالیٰ کی طرف سے ظہور میں آئے گی۔ جیسا کوئی بوئے گا ویسا کاٹے گا۔ اس کا بدل اور اس جرم کی سزا ان کے لئے بیان فرماتا ہے کہ وعد اللّٰہ ان کو ابدی جہنم ہے اور لعنت اور عذاب دائمی ہر صفت بد کے مقابلہ میں ایک سزا، پھر ان بادہ غفلت اور مئے نخوت کے مستوں کو متنبہ فرماتا ہے کہ ذرا آنکھ کھول کر تو دیکھو کہ کدھر ہیں وہ صاحبان جاہ و حشم اور کہاں گئے وہ والیان فوج و خدم ؟ وہ ان کے نعیم و ناز اور وہ ان کے ماہ رویان خوش انداز کہاں ہیں۔ وہ عمدہ مکان ‘ وہ باغ جنت نشاں کس طرف ہیں۔ دیکھو وہ تم سے زیادہ مال و اولاد رکھتے تھے جس کے نشہ میں انبیائِ الٰہی سے نافرمان ہوئے۔ ان کی باتوں کو ٹھٹھوں میں اڑانے لگے تو شعلہ قہر الٰہی نے ان کو نیست و نابود کردیا اور دیار عدم کی موجوں میں ٹکراتے ٹکراتے قعر جہنم میں پہنچے۔ اب بجز خرابات اور مکانوں کی بنیاد شکستہ کے ان کے حال زار پر کوئی رونے والا بھی نہیں۔ پھر تم بیچارے کیا ہو۔ چلو تم بھی چند روزہ مزے اڑا چکے۔ ان کی چال چل چکے اب دیکھو کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اپنے پاکباز بندوں کے لئے ان کے افعال حمیدہ ایمان و صلوٰۃ و زکوٰۃ بیان کرکے ان کے لئے عالم قدس میں حیات جاودانی اور جنات الفردوس میں سرور و شادمانی کا وعدہ فرماتا ہے جس سے سعید ازلی کا دل بےخود عالم قدس کی طرف کھنچا جاتا ہے۔
Ayahs 9:73–78

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور (بہت ہی) برا ٹھکانا ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ (یہ باتیں) ہم نے نہیں کہیں حالانکہ وہ ضرور کفر کا کلمہ کہہ چکے اور اسلام لا کر کافر ہوچکے ہیں اور اس بات کا ارادہ کرچکے ہیں کہ جس کو نہ پا سکے اور یہ اسی کا بدلہ نکالا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو اپنے فضل سے غنی کردیا۔ پس اگر توبہ کریں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر نہ مانیں گے تو اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور روئے زمین پر ان کا نہ کوئی حامی ہوگا نہ مددگار

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور کچھ ان میں سے وہ بھی تو ہیں کہ جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہم کو اپنے فضل سے دے گا تو ضرور خیرات کریں گے اور نیک ہو کر رہیں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پھر جبکہ اس نے ان کو اپنے فضل سے دیا تو اس میں بخل کیا اور منہ موڑ کر پھرگئے۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

پس اس دن تک کہ وہ اس سے ملیں ان کے دلوں میں نفاق قائم کردیا۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ خلافی کی اور اس لئے کہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کا بھید اور خفیہ مشورہ جانتا ہے اور یہ کہ وہ بڑا غیب داں ہے۔

ترکیب : ماقالو ! جواب قسم یحلفون قسم کے قائم مقام مانقموا کا مفعول ان اغناھم اللّٰہ ای وما کرھوا الا غنا اللہ ایاھم لئن شرط لنصدقن جواب۔ تفسیر : ان آیات میں ان گمراہان ازلی کے شجر حیات کو قطع و برید کردینے کا حکم دیتا ہے کہ جن میں کسی قسم کا مادہ اصلاح باقی نہیں رہا۔ فقال جاھد الکفار و المنافقین واغلظ علیہم کہ ان لوگوں سے جہاد کر اور ان پر نرمی نہ کر جیسا کہ آپ کی عادت حمیدہ ہر شخص سے نرمی اور لطف کی ہے۔ کفار سے جہاد تلوار سے اور منافقین سے زبان سے کرو۔ ” ابن عباس۔ “ کیونکہ منافقین بظاہر مسلمان تھے ان کے قتل نہ کرنے کی وجہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمائی تھی کہ عرب یہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو قابو پا کر قتل کرتا ہے۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ اس زمانہ میں ملحدین کے ساتھ بحث و مناظرہ کرنا بھی جہاد ہے۔ یحلفون باللّٰہ الخ یہ بھی ان منافقوں کا ایک حال بیان ہوتا ہے کہ کلمہ کفر کہہ کر مکر جاتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک روز ایک حجرہ کے سایہ میں بیٹھے آرام فرما رہے تھے آپ کے فرمایا کہ تمہارے پاس ایک آدمی کرنجی آنکھوں کا آتا ہے جو شیطان کی طرح دیکھتا ہے۔ اس سے بات نہ کیجیو۔ تھوڑی دیر بعد ایک شخص ایسا ہی آیا۔ آپ نے بلا کر پوچھا کہ تو اور تیرے دوست مجھے کس بات پر گالیاں دیا کرتے ہیں وہ شخص اپنے یاروں کو جا کر لایا ٗ سب قسم کھا گئے کہ ہم نے گالیاں نہیں دیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (معالم) وھموا بمالم ینالوا کے معنی علماء نے مختلف بیان کئے ہیں۔ سدی کہتے ہیں کہ جنگ تبوک میں منافقوں نے یہ قصد کیا تھا کہ مدینہ میں جا کر عبداللہ بن ابی کو تاج پہنا دیں گے سو یہ بات ان کو نصیب نہ ہوئی۔ فرماتا ہے کہ یہ باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو اللہ اور رسول نے غنایم سے غنی کردیا۔ پہلے مفلس تھے ومنہم من عاھد اللّٰہ اس میں بھی بعض منافقوں کی اللہ سے وعدہ خلافی کا ذکر فرماتا ہے۔ مفسرین کہتے ہیں اس میں ثعلبۃ بن حاطب انصاری کی طرف اشارہ ہے۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے اس عہد پر دعا کرائی تھی کہ اللہ مجھ کو مال دے گا تو میں خیرات دوں گا اور نیکی کروں گا۔ جب آنحضرت ﷺ کی دعا سے اس کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں ہوگئیں کہ مدینہ کے جنگل میں بھی نہ سما سکیں تو دور لے گیا اور جمعہ جماعت ترک کردی۔ پھر جو آنحضرت ﷺ کی طرف سے دو شخص زکوٰۃ لینے گئے تو نہ دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی پھر وہ لایا تو نہ آپ نے نہ ابوبکر و عمر ؓ نے اپنی حیات میں قبول کی۔