9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 9:118–119

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی (مہربانی کی) کہ جو پیچھے رہ گئے تھے۔ یہاں تک کہ باوجود فراخی کے ان پر زمین تنگ ہوگئی تھی اور وہ اپنی جان سے بھی تنگ آگئے تھے اور سمجھ گئے تھے کہ اس کے قہر سے اس کے سوا اور کہیں پناہ نہیں۔ پھر ان پر بھی رحمت کی (کہ ان کو توفیق دی تاکہ توبہ کریں) بیشک اللہ ہی بڑا توبہ قبول کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچے ہو کر رہو۔

اس جنگ میں تین شخص سچے مسلمان محض آرام طلبی کی وجہ سے شریک نہ ہوئے تھے جن کی نسبت پہلے آیا تھا وآخرون مرجون لا مر اللّٰہ۔ اب یہاں اس فیض رحمت کے طفیل میں ان پر بھی رحمت کرتا اور ان کی توبہ قبول فرماتا ہے فقال وعلی الثلاثۃ الذین۔ اب ہم ان تینوں صاحبوں کا قصہ صحیح بخاری سے بیان کرتے ہیں کہ جس سے ان پر زمین فراخ کا تنگ ہونا اور جان کا تنگ آجانا اور خدا کے سوا کوئی ٹھکانا نظر نہ آنا معلوم ہوجاوے۔ یہ تو آپ کو پیشتر ہی معلوم ہوچکا ہے کہ یہ تین صحابی کعب بن مالک شاعر۔ مرارۃ بن الربیع۔ ہلال بن امیہ انصاری تھے۔ بخاری کعب سے نقل کرتے ہیں کہ میں بجز موقع بدر کے آنحضرت ﷺ کے ساتھ سے کبھی پیچھے نہیں رہا تھا اور میں لیلۃ العقبہ میں شریک تھا۔ اس سال میرے پاس دو سواریاں بھی تھیں جو کبھی نہ ہوئی تھیں اور فراخ دست بھی تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس غزوہ تبوک کی تیاری کردی اور لوگوں کو اعلان کردیا مگر موسم وہ تھا کہ جس میں سایہ اور پھل اچھے معلوم ہوتے تھے۔ لوگ تیاری کرتے تھے۔ میں یہ کہتا تھا کہ کرلوں گا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اور سب لوگ چل دیے مگر میں یہ خیال کرتا تھا کہ جانے دو دو روز بعد بھی جا کر ان سے مل جائوں گا۔ الغرض اسی شش و پنج میں رہ گیا۔ بعد آپ کے جبکہ میں مدینہ میں دیکھتا تھا کہ یا تو منافق نہیں گئے یا صاحب عذر تو میں اپنے دل میں نہایت غمگین ہوتا تھا یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ تبوک میں پہنچ گئے وہاں آپ نے لوگوں کے روبرو مجھے یاد فرمایا تو بنی سلمہ میں سے ایک نے کہا یارسول اللہ ! وہ اپنے عیش و آرام کی وجہ سے نہیں آیا۔ معاذ بن جبل ؓ نے کہا تو نے برا کیا۔ وہ شخص نیک ہے۔ پس جب مجھ کو یہ خبر ملی کہ آنحضرت ﷺ بہت ہی قریب آگئے تب مجھ کو فکر ہوئی کہ کیا حیلہ کروں جس سے آنحضرت ﷺ کی ناراضگی دور ہو۔ سب سے مشورہ کرتا پھرا مگر دل میں قصد کیا کہ جھوٹ تو ہرگز نہ بولوں گا۔ پس جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور حسب عادت مسجد میں دو رکعت پڑھ کر صبح کو بیٹھے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ اسی (80) کے قریب تھے ٗ آئے اور عذر کرنے لگے۔ آپ ان کے ظاہر قول پر اعتبار کرتے جاتے اور ان سے بیعت لیتے جاتے اور ان کے لئے معافی مانگتے تھے اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کرتے تھے۔ اس میں میں بھی آیا اور میں نے سلام کیا۔ آپ نے غضب آلود تبسم سے فرمایا کہ آیئے۔ میں آکر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ‘ پوچھا کہ تم کس لئے نہیں گئے تھے ؟ میں نے کہا کہ سچ سے ہی نجات ہے۔ آپ کے سامنے جھوٹ نہیں بولنے کا۔ مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ آپ نے فرمایا ٗچلو اٹھو تمہارے حق میں اب جو کچھ اللہ فیصلہ کر دے۔ آپ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا اور اسی طرح ان دونوں کے لیے ہوا۔ لوگوں کو ہم سے کلام سلام سے منع کردیا۔ وہ دونوں تو اپنے گھر میں بیٹھ گئے مگر میں نماز جماعت میں آکر شریک ہوتا اور آپ کو سلام کرتا اور دیکھتا تھا کہ جواب میں آپ کے لب بھی ہلتے ہیں۔ جب میں آپ کی طرف دیکھتا تو آنکھ چرا جاتے اور جب میری آنکھ پھرتی تو گوشہ چشم سے مجھے دیکھتے۔ کوئی شخص ہم سے بات یا سلام نہ کرتا تھا۔ اسی عرصہ میں میں اپنے چچازاد بھائی ابو قتادہ ؓ کے باغ میں گیا۔ اس سے بہت کچھ ترحم آمیز کلمات سے کلام کیا مگر اس نے جواب نہ دیا تب تو ہم پر باوجود فراخی کے زمین تنگ آگئی۔ اس عرصہ میں پچاس راتیں گذر گئیں۔ پچاسویں رات کو صبح کو میں اپنے کوٹھے کی چھت پر تھا کہ کسی نے سلع پہاڑ سے پکار کر آواز دی کہ اے کعب ! بشارت ہو اور اسی طرح ان کی طرف بھی لوگ دوڑتے ہوئے بشارت دینے آئے۔ میرے پاس بھی ایک سوار آیا اور جس کی میں نے آواز پہلے سنی تھی اس کو اپنے کپڑے اتار دیے۔ اس روز کی خوشی کا کچھ بیان نہیں۔ پھر میں مسجد میں گیا۔ آنحضرت ﷺ کے پاس لوگ بیٹھے تھے۔ وہ مجھے مبارکباد دینے لگے۔ آنحضرت ﷺ کو میں نے سلام کیا اور آپ کا خوشی میں چاند کی طرح منہ چمکتا تھا۔ فرمایا کہ آج تجھے ایسی خوشی کا مژدہ ہو کہ جب سے پیدا ہوا ہے کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ پھر میں نے عرض کیا کہ میں اپنی توبہ میں اپنا تمام مال للہ دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ رکھ بھی لے۔ انتہیٰ ملخصًا مع تقدیم و تاخیر مایناسب۔
Ayahs 9:120–121

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ اور ان کے آس پاس کے بدؤوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے رہ جاویں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو اس کی جان سے عزیز سمجھیں۔ یہ اس لئے کہ ان 1 ؎ کے لئے ہر پیاس اور ہر تکلیف اور بھوک جو اللہ کی راہ میں ان کو بھیجی ہے اور جن مقامات پر ان کا پھرنا کفار کو ناگوار گذرتا ہے اور جو کچھ دشمنوں سے وہ چھین جھپٹ لیتے ہیں (ہر حال میں) ان کے لئے نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ بیشک اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور جو کچھ بھی وہ صرف کرتے ہیں تھوڑا یا بہت اور جو میدان وہ طے کرتے ہیں سب (کا اجر) ان کے نام لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے کام کا بہتر سے بہتر بدلہ عطا کرے

1 ؎ یعنی پیچھے رہ جانا اس لئے نامناسب ہے کہ جہاد میں یہ کچھ فضائل ہیں کہ بھوک پیاس ‘ سفر کی ماندگی اور دشمن پر فتح یابی ہر حال میں ان کے لئے اجر اور یہ کام نیک ہے سعادت کے دفتر میں لکھا جاتا ہے پھر ایسے کام سے تخلف نازیبا نہیں تو اور کیا ہے۔ ترکیب : ان یتخلفوا اسم کان لاھل المدینۃ خبر ذلک مبتداء بانہم ظماء فاعل لایصیب ولا نصب اس پر معطوف ولا یطؤن لایصیبھم پر معطوف الا استثناء من کل واحد ای کل منھا کتب لھم عمل صالح فلولا ہلا طائفۃ فاعل نفر۔ تفسیر : ان لوگوں کی توبہ قبول کرکے جو ان کو صدق یعنی سچائی کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی آیندہ کے لئے اللہ سے ڈرنے اور صدق اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ فقال اتقوا اللّٰہ وکونوا مع الصادقین۔ صادقوں کے جو کچھ فضائل آئے ہیں بیان سے باہر ہیں۔ جب آدمی اپنے اللہ سے سچا رہتا ہے تو دین و دنیا کی برکات نصیب ہوتی ہیں۔ چونکہ صدق بھی نبوت کا ایک جزو اعظم ہے اس لئے صدیق کا مرتبہ نبی کے بعد ہے۔ پھر اس کے بعد اور چونکہ صدق کا حاصل ہونا بغیر استقلال ان حوادث جانکاہ کے ( کہ جو صادق اور کاذب کے لئے کسوٹی ہیں یعنی مرشد کامل سرور کائنات کا ہر امر میں ساتھ دینا) ممکن نہ تھا اس لئے اس کے بعد مدینہ کے آس پاس والوں اور خاص مدینہ والوں کو جو اس وقت میں وہی اس فیض تعلم اور صحبت ہادی برحق سے سرفراز تھے ٗ یہ فرماتا ہے ماکان لا ھل المدینۃ الخ کہ مدینہ والوں اور اس کے آس پاس کے اعراب کو کسی واقعہ میں رسول سے پیچھے رہ جانا سزاوار نہیں اور نہ یہ بات کہ وہ اپنے نفس کو رسول کے نفس سے عزیز سمجھیں یعنی جس مشقت یا تکلیف کے کام کو رسول کرے وہ وہاں آپ آرام طلبی اختیار کرکے بیٹھ رہیں کس لئے کہ اس کام میں جو کوئی تکلیف ان کو پہنچے گی وہ ان کے لئے ثواب اور اجر آخرت کا باعث ہوگی۔ ذلک بانہم لایصیبہم ظماء الخ صحیح یہی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ فرماویں تو کسی کو جہاد سے باز رہنا درست نہیں اور بعد میں یہ بات حسب ضرورت ہے وماکان لمؤمنون لینفروا کافہ الخ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے والوں پر تشدد ہوا تو پھر سب جانے لگے جس میں آنحضرت ﷺ اکیلئے رہ جاتے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ دو فریق ہو کر ایک تو جہاد میں جایا کرے۔ ایک آنحضرت ﷺ کے پاس رہ کر مسائل دینیہ ‘ وحی نازل شدہ سیکھا کرے۔ جب جہاد والے واپس آویں تو یہ لوگ ان کو جو کچھ سیکھا ہے بتا دیا کریں۔ یہ اس تقدیر پر کلام سابق کا تتمہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جس طرح جہاد اور ہجرت فرض ہوئی اسی طرح تفقہ یعنی دینی مسائل سیکھنے کا بھی اس آیت میں حکم ہوا اور اس کے لئے آنحضرت ﷺ کے عہد میں مدینہ آنا ہوتا تھا اور چونکہ سب لوگوں کا آنا موجب دشواری تھا اس لئے فرمایا کہ ایک گروہ جا کر سیکھ آئے اور ان کو آکر سکھا دے۔ تب یہ کلام مستقل ہے۔ بقدر ضرورت سیکھنا فرض عین اور زیادہ فرض کفایہ ہے۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور مسلمانوں کو یہ بھی مناسب نہیں کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوا کریں۔ یوں کیوں نہیں کیا کہ ان کی ہر جماعت میں سے کچھ کچھ نکلتے تاکہ دین میں سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنی قوم کو ڈراتے شاید وہ بھی بچتے 2 ؎۔

2 ؎ برے کاموں سے 12 منہ 3 ؎ یعنی اگر سب کے جانے کی مقابلہ کے لیے ضرورت ہو تو سب ورنہ بعض کا جانا کافی ہے۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے آس پاس کے کفار سے لڑو اور چاہیے کہ ان کو تم میں کر ارا پن معلوم ہو اور معلوم رہے کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے

ترکیب : من الکفار الذین کا بیان غلظہ بکسر الغین وضمھا مفعول بعدوا فمنہم خبر من مبتداء جملہ جواب اذا ما ایمانا تمیز ہے زادت سے۔ ہل یَرٰکم ای یقولون ھل یری من انفسکم۔ رسول کی صفت اول عزیز ‘ علیہ ما عنتم صفت ثانی حریص علیکم صفت ثالث بالمؤمنین رؤف رحیم صفت رابع۔ تفسیر : ان قوانینِ آسمانی کا ذکر فرما کر اور مسلمانوں کو آیندہ تخلف سے منع کرکے عام جہاد کا حکم دیتا ہے اور قریب والوں سے شروع کرتا ہے کہ پہلے پاس والوں سے پھر اوروں سے رفتہ رفتہ سب سے لڑو قاتلوا الذین یلونکم اور چونکہ اس کام کے لیے سختی اور بہادری بھی شرط ہے۔ اس لئے فرماتا ہے ولیجدوا فیکم غلظۃ کہ ذرا کر ارا پن بھی دکھائو۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت ایسے تاریک زمانہ میں ہوئی تھی کہ روئے زمین پر کفر و بدکاری کی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اور صدہا بنی آدم کا مزاج فطرتی بگڑ گیا تھا۔ ان میں اصلاح کی قابلیت ہی نہ رہی تھی۔ ان کا وجود اس قابل تھا کہ نیست و نابود کردیا جائے۔ وہ شجر پُر زہر کشت بنی آدم سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاوے اور ایسے زمانہ کے اگلے انبیاء عیسیٰ و موسیٰ ( علیہ السلام) خبر دیتے چلے آئے تھے۔ اسی وجہ سے خدائی جہاد کا جھنڈا بلند کیا کہ حتی المقدور سمجھا جاوے اور جن میں مادہ اصلاح نہ ہو ان سے دنیا کو صاف پاک کردیا جاوے۔ اس کام کا لشکر آنحضرت ﷺ کی قوم قرار پائی اور جنگ و قتال میں کبھی شوکت و غنیمت کا بھی خیال ہوتا ہے جو منشائِ الٰہی کے برخلاف ہے۔ اس لئے فرمایا کہ اعلموا ان اللّٰہ مع المتقین اور تقویٰ ایک بڑا وسیع المعنی لفظ ہے جس میں ہر قسم کی منہیات سے بچنے کی طرف اشارہ ہے لیکن ان سب میں بڑھ کر نفاق ہے۔ خصوصاً لشکر میں شمار ہو کر اور اس دفتر میں نام لکھوا کر اس لئے واذا ما انزلت سے لے کر بانہم قوم لایفقہون تک نفاق اور منافقین کی مذمت اور ان کی بیہودہ حرکات کا ذکر فرمایا گیا کہ لوگوں کو متنبہ کردیا اور نفاق کا منشاء یہی تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو عادات خوردو نوش جملہ انسانی باتوں میں اپنے مانند دیکھ کر باوجود معجزات دیکھنے کے آپ کی نبوت اور وحی میں شک کرتے تھے جو محض حماقت تھی۔ جیسا کہ لایفقہون میں اشارہ ہے۔ اس لئے اس سورة کے خاتمہ پر آنحضرت ﷺ کے چند اوصاف حمیدہ ذکر فرمائے جن سے شک جاتا رہے : (1) من انفسکم یعنی تمہیں میں کا رسول تمہارے پاس بھیجا جس کے حالات صدق و امانت و عفاف و صیانت ابتداء کی عمر سے تمہیں معلوم ہیں۔ کوئی غیر نہیں کہ جس سے واقف نہ ہوں اور نیز یہ کہ تمہارے ملک تمہاری قوم کا شخص ہے جو تمہارے لئے فخر اور رحمت ہے۔ انفس نفیس سے بھی لیا ہے یعنی تم سب میں سے افضل و اشرف۔ (2) عزیز علیہ ماعنتم کہ تمہارا دلی دردمند ‘ خیرخواہ (3) حریص علیکم تمہاری بھلائی چاہنے کا نہایت خواہش مند کہ دنیا و آخرت کی خوبی تمہیں پہنچائے۔ (4) بالمؤمنین رؤف رحیم کہ وہ مسلمانوں پر نہایت نرم اور مہربان ہے۔ فان تولوا پس اگر اس پر بھی نہ مانیں تو کہہ دو کہ مجھے تمہاری کچھ پروا نہیں۔ حسبی اللّٰہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
Ayah 9:124

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة نازل ہوتی ہے تو ان میں سے ایک 1 ؎ دوسرے سے پوچھتا ہے کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کردیا لیکن وہ جو ایمان لا چکے ہیں سو ان کا تو ایمان زیادہ کردیا اور وہی خوش بھی ہوتے ہیں

1 ؎ یعنی منافق۔ 12 منہ
Ayahs 9:125–129

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن کے دلوں میں 2 ؎ مرض ہے تو ان کی خباثت پر اور خباثت بڑھا دی اور وہ مریں گے بھی تو کافر ہی ہو کر۔

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال میں ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں۔ پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ سمجھتے ہیں

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو تکتا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھتا تو نہیں۔ پھر اٹھ کر چل دیتے ہیں (رسول کی مجلس سے کیا پھرے) اللہ نے ان کے دلوں ہی کو پھیر دیا کس لئے کہ یہ نادان قوم ہے

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

(لوگو ! ) بیشک تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک ایسے رسول آگئے کہ جس پر تمہاری تکلیف شاق گذرتی ہے جس کو تمہاری بھلائی کا ہو کا ہے۔ وہ مسلمانوں پر نہایت شفیق (اور) مہربان ہیں۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر اس پر ہی نہ مانیں تو کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کرلیا ہے اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔

2 ؎ نفاق کا مرض۔ 12 منہ