8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : ٭” انفال “ (نفل کی جمع ہے) زیادہ، زائد چیز۔ شریعت میں اس مال غنیمت کو کہتے ہیں جو جنگ میں دشمن سے حاصل ہوتا ہے۔ ٭ یہ سورة غزوہ بدر کے بعد ٢ ھ؁ میں نازل ہوئی جس میں صلح و جنگ، امن و سلامتی اور مال غنیمت کی تقسیم کے بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ٭ غزوہ بدر ١٧ رمضان المبارک ٢ ھ؁ میں پیش آیا۔ یہ مسلمانوں کا سب سے پہلا رمضان تھا اور کسی مسلح گروہ سے باقاعدہ جنگ کا پہلا تجربہ تھا۔ ٭عرب میں یہ دستور تھا کہ جب کسی فریق سے جنگ کی جاتی تھی تو جو شخس جس کو قتل کرتا یا اس سے مال غنیمت چھین لیتا وہ اسی کی ملکیت بن جاتا تھا۔ ٭ غزوہ بدر چونکہ اچانک پیش آیا جس کا پہلے سے کوئی تصور بھی نہ تھا۔ غزوہ بدر کے بعد قدرتی طور پر یہ سوال ہر شخص کے ذہن میں گونج رہا تھا اور کچھ بحث و مباحثہ بھی ہو رہا تھا کہ مال غنیمت کے لئے اسلام کا کوئی ضابطہ یا اصول ہے ؟ یا ہم پرانے دستور کے مطابق اس مال غنیمت کے مالک ہیں۔ ٭سورۃ الانفال کی آیات میں جب یہ اصول ارشاد فرمایا گیا کہ اہل ایمان کو اس جنگ میں یا آئندہ کسی جنگ میں جب بھی کوئی مال غنیمت ہاتھ آئے تو تمام چیزیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امانتیں ہیں۔ جس کو جو چیز حاصل ہو وہ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لا کر ڈھیر کردے۔ تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ کل مال غنیمت میں سے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جائیں اور پانچواں حصہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ان کے رشتہ داروں اور غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ٭ یہ ابتدائی حکم تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اس بات پر اجماع امت ہے کہ اب کل مال غنیمت کی تقسیم امیر المومنین کے حکم کے مطابق ہوگی۔ غزوہ بدر حق و باطل کی وہ جنگ ہے جس نے کفار کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی۔ غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔ ٢ ھ میں غزوہ بدر کے بعد یہ سورة نازل ہوئی جس میں صلح و جنگ کے اسلامی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ جب قرآن کریم میں مال غنیمت کا حکم آگیا تو صحابہ کرام (رض) نے اس حکم کے آگے گردنیں جھکا دیں اور دورجہالت کے ہر طریقہ کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ ٭ جیسا کہ آپ تفصیلات ملاحظہ فرمائیں گے کہ غزوہ بدر یعنی کسی پیشگی تیاری کے انتہائی بےسروسامانی کی حالت میں اچانک پیش آیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو زبردست فتح عطا فرمائی جس سے کفار مکہ اور مشرکین کی کمر ٹوٹ کردہ گئی۔ حق و باطل کے اس معرکہ نے جہاں کفار مکہ کے تکبر، غرور اور طاقت کو خاک میں ملا کر رکھ دیا وہیں دین اسلام، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کی دہشت سے کفار کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا اور ان کے دل کسی نامعلوم خوف سے گزرنے لگے۔ فرمایا کہ اے مومنو ! تم اس وقت کا تصور تو کرو جب تم بہت ہی کمزور تھے اور تمہیں ہر وقت یہ خوف لگا رہتا تھا کہ وہ لوگ تمہیں اچک کر نہ لے جائیں لیکن پھر اللہ نے تمہیں اپنی مدد سے قوت دی اور تیں حلال اور پاکیزہ رزق عطا فرمایا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔

Ayahs 8:1–4

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

وہ آپ سے انفال (مال غنیمت ) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ انفال اللہ اور رسول کے لئے ہیں۔ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور آپس میں تعلقات کی اصلاح کرتے رہو۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن وہ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز اٹھتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

وہ نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے ایمان والے لوگ ہیں ان کے رب کے پاس ان کے بڑے درجات، مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔

لغات القرآن۔ الانفال۔ (نفل) ۔ مال غنیمت۔ اصلحوا۔ درست کرلو۔ اصلاح کرلو۔ ذات بینکم۔ تم آپس میں (ذات۔ والا ۔ بین ۔ درمیان) ۔ ذکر اللہ ۔ اللہ کا ذکر کیا گیا۔ وجلت۔ (وجل) ۔ ڈر گئی۔ (ڈر گئے) ۔ تلیت۔ تلاوت کی گئی۔ (پڑھا گیا) ۔ زادت اضافہ ہوگیا۔ بڑھ گئی۔ یتوکلون۔ وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یقیمون۔ وہ قائم کرتے ہیں۔ رزقنا۔ ہم نے دیا ۔ ینفقون۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ عزت کا رزق۔ تشریح : انفال ۔ نفل کی جمع ہے جس کے معنی ” زائد “ کے آتے ہیں۔ شرعی طور پر اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ کے بعد دشمن سے حاصل ہوتا ہے اسی کو مال غنیمت کو بھی کہتے ہیں۔ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کا آغاز ” انفال “ کے لفظ سے کرکے اہل ایمان کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ایک مومن جب دشمن سے جنگ کرتا ہے تو اس کا مقصد مالی اور مادی فائدے حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ دنیا کی اخلاقی ذہنی اور روحانی انتظامی اصلاح کرنا ہے۔ وہ جنگ پر اس وقت آمادہ ہوت ہیں جب مخالف طاقتیں ان کے خلاف حملہ کردیں، سازشیں کرنے لگیں یا جب دعوت و تبلیغ کے ذریعے اصلاح کو ناممکن بنادیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جنگ کا اصل مقصد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور دین اسلام کے ابدی اور سچے اصولوں کی سربلندی ہے۔ جنگ کے دوران دشمن سے جو کچھ مال و دولت حاصل ہوتا ہے وہ مال غنیمت ہے وہ اس اعلیٰ مقصد سے ہٹ کر الگ ایک چیز ہے جس پر صرف اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے۔ اللہ اور اس کے رسول جس طرح اور جیسے چاہیں گے اس کو تقسیم کریں گے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے اس وقت کے جنگی پس منظر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ انفال کی حقیقت پوری طرح اجاگر ہو کر سامنے آجائے۔ تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں جاں نثار ان رسول ﷺ ہر طرح کی اذیتوں اور ہجرت کی صعوبتوں سے گزر کر جب مدینہ منورہ آگئے تو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں نے مدینہ میں بھی صحابہ کرام ؓ کو چین سے نہ رہنے دیا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ابتدائی زندگی میں صحابہ کرام ؓ کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں تھی کہ وہ دشمنان اسلام کی کسی اذیت کا جواب دیں بلکہ دشمن پر ہاتھ تک نہ اٹھانے کو پسند کیا گیا تھا مگر جب بدر کے میدان پر جنگ کو مسلط کردیا گیا تو اللہ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی اجازت دیدی۔ شدید بےسروسامانی کے باوجود کفار مکہ کے ایک ہزار کے لشکر کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور مسلمانوں کو تاریخی فتح نصیب ہوئی۔ جنگ کے بعد مسلمانوں کو کفار کا بہت سا مال اور جنگی سامان ہاتھ آیا۔ چونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد صحابہ کرام ؓ کو جنگ کا پہلا تجربہ تھا اور دوسری طرف جنگ کے وہ انداز ان کے سامنے تھے جن کا پہلے سے رواج تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ جس شخص نے جنگ کے دوران دشمن سے جو کچھ مال و دولت لوٹا ہے وہ اسی کی ملکیت ہوتا تھا۔ اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوتا تھا۔ مال غنیمت کے لئے چونکہ دین اسلام میں اب تک کوئی واضح ہدایت نازل نہیں ہوئی تھی اس لئے رائے کا اختلاف ہونا قدرتی بات تھی۔ پرانے رسم و رواج کے مطابق بعض صحابہ کرام ؓ کا یہ خیال تھا کہ جس نے دشمن سے جو کچھ لوٹا ہے وہ اسی کا ہے بعض صحابہ کرام ؓ کی نظر میں مال غنیمت کا بہترین طریقہ یہ تھا کہ اس مال کو تمام مجاہدین میں برابر برابر تقسیم کردیا جائے کیونکہ سب کو مشرت کہ کوششوں سے دشمن کو شکست دی گئی ہے خواہ وہ اس جنگ میں شریک تھے یا وہ اللہ کے رسول کے حکم کے تحت مختلف ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ رائے کے اسی اختلاف کو دور کرنے اور اسلامی جنگوں میں مال غنیمت کی تقسیم کے اصول متین کرنے کے لئے یہ آیتیں نازل کی گئیں۔ ان آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے : (1) پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ یہ مال غنیمت ایسی کوئی اہم چیز نہیں ہے کہ جس پر اختلاف اور بحث کرکے آپس میں انتشاد پیدا کیا جائے کیونکہ اہل ایمان جب بھی جنگ کرتے ہیں تو اس میں ان کی ذاتی غرض یالالچ نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کو اصل ایمان سمجھتے ہیں اور ان کو جس طرح کرنے کے لئے کہا جائے وہ اس کو اسی طرح کرتے ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ دشمن سے حاصل ہونے والے مال و دولت، چھوٹی اور بڑی چیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی امانت ہے جس کو جو کچھ مال غنیمت ملے وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لا کر جمع کر ادے اللہ اور اس کے رسول جس طرح چاہیں گے اس کو مجاہدین میں تقسیم کریں گے تاکہ کسی مومن کے دل میں یہ بات پیدا نہ ہو کہ وہ جنگ اس لئے کر رہا ہے کہ مال و دولت یا کسی ملک یا سلطنت پر قبضہ کرکے اس کو اپنی ذاتی ملکیت بنا لے گا۔ (3) فرمایا گیا کہ اللہ کا خوف آپس میں اتحاد و اتفاق اور باہمی صلح مندی اور اللہ اور رسول کی اطاعت و فرماں برداری، اسی کی ذات پر مکمل بھروسہ ، نماز قائم کرنا اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرنا، جب اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو ان کے ذریعہ ایمان میں اور پختگی آجان۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کا روشن ہوجانایہ ایک مومن کے ایمان کی پہنچان ہے یہی وہ سچے مومن ہیں جن کے لئے ان کے رب کے پاس بڑے بڑے درجات ہیں ان کی مغفرت کا سامان اور عزت کی روزی کا انعام موجود ہے۔
Ayahs 8:5–8

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جیسا کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو آپ سے گھر سے حق کے ساتھ (بدر کی طرف) روانہ کیا۔ بیشک اہل ایمان میں سے ایک جماعت اس کو گراں سمجھ رہی تھی۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ حق ظاہر ہونے کے بعد بھی آپ سے بحث کر رہے تھے جیسے وہ موت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں اور وہ اس کو دیکھ رہے ہیں۔

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور یاد کرو جب اللہ نے دو جماعتوں میں سے ایک (کی فتح) کا وعدہ کرلیا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی۔ اور تم چاہتے تھے کہ کانٹا نہ لگے اور وہ تمہاری ہوجائے۔ جب کہ اللہ چاہتا تھا کہ اپنے احکامات کے ذریعہ حق کو حق ثابت کر دکھائے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ وہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کردے خواہ مجرموں کو (کتنا ہی) ناگوار گزرے۔

لغات القرآن۔ اخرج۔ نکالا۔ بیت۔ گھر۔ لکرھون۔ البتہ برا سمجھنے والے ہیں۔ ناگوار محسوس کرنے والے ہیں۔ یجادلون۔ وہ جھگڑتے ہیں۔ تبین۔ کھل گیا۔ کھل چکا۔ واضح ہوگیا۔ کانما۔ جیسے۔ گویا کہ وہ۔ یساقون۔ وہ ہانکے جا رہے ہیں۔ ینظرون۔ وہ دیکھ رہے ہیں۔ یعد۔ وہ عدد کرتا ہے۔ احدی۔ کوئی ایک۔ الطائفین۔ دو جماعتیں۔ تو دون۔ تم پسند کرتے ہو۔ غیر ذات الشوکۃ۔ کانٹانہ لگے۔ ان یحق۔ یہ کہ وہ ثابت کردے۔ یقطع۔ وہ کاٹتا ہے۔ دابر۔ (دبر) ۔ جڑ ۔ بنیاد۔ یبطل۔ وہ باطل کرتا ہے۔ مٹاتا ہے۔ کرہ۔ برا لگا۔ تشریح : درحقیقت غزوہ بدر ہر اعتبار سے اس قدر فیصلہ کن تاریخی واقعہ ہے جس نے کفار مکہ کو نہ صرف ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا تھا بلکہ غیر متوقع حالات نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ یہ غزوہ 17 /رمضان المبارک کو ہوا۔ یہ مسلمانوں کا پہلا رمضان تھا اور اس سے پہلے باقاعدہ جنگ بھی نہ ہوئی تھی اس لئے یہ بہت ہی نازک وقت تھا مسلمانوں کا فقر و فاقہ، وطن سے بےوطنی، بےسروسامانی ، ایک ہزار فوج سے مقابلہ اور وہ بھی مدینہ منورہ سے باہر کافی دور۔ ایک طرف ابو سفیان کی قیادت میں مدینہ سے گزرنے والا وہ قافلہ تھا جو مکہ والوں کی دولت سے مالا مال تھا۔ دوسری طرف مکہ سے آنے والا وہ لشکر تھا جو انتقام اور اپنی طاقت و قوت پر نازل کرتا ہوا بڑھا چلا آ رہا تھا۔ اللہ نے فرمادیا تھا کہ ان دونوں میں سے جس طرف بھی قدم بڑھائے جائیں گے فتح و کامرانی مسلمانوں کا مقدر ہوگی۔ لیکن اس کا فیصلہ کیسے ہوگا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے جاں نثار صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ جب بھی کسی بات میں بالخصوص نازک حالات میں مشورہ کیا جاتا ہے تو رائے کا اختلاف ضرور ہوا کرتا ہے اور مشورہ کی جان بھی یہی ہوتی ہے کہ ہر شخس کو اپنی بات کہنے کی آزادی حاصل ہو۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ نے بھی پورے خلوس اور آزادی سے اپنی اپنی رائے پیش کی۔ ان صحابہ کرام ؓ میں جہاں وہ اولو العزم لوگ تھے جنہوں نے بےخوف و خطر اس آگے میں کودنے کا فیصلہ کرلیا تھا وہیں وہ حضرات بھی تھے جو کسی انجانے خوف سے پریشان تھے اور آسان راستہ کی طرف مائل تھے مسلسل پریشانیوں کی وجہ سے وہ اس طرف مائل تھے کہ سب سے پہلے ابو سفیان کے قافلے کو ٹھکانے لگا دیا جائے اور پھر کفار مکہ سے مقابلہ کیا جائے یا کوئی ایسا راستہ تلاش کرلیا جائے جس میں کانٹا بھی نہ لگے اور مسئلہ بھی حل ہوجائے۔ یہ تو مشورے کا ایک اختلافی انداز تھا لیکن جب نبی کریم ﷺ نے مال و دولت سے لدے ہوئے قافلہ کو چھوڑ کر کفار مکہ سے لشکر کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر کسی نے اختلاف نہیں کیا بلکہ عظیم ایثار و قربانی کا وہ عمل پیش کیا جس پر کائنات کا ذرہ ذرہ فخر کرتا رہے گا۔ جس سے کفار کی کمر بھی ٹوت گئی اور ساری دنیا کے سامنے حق حق بن کرچمک اٹھا اور باطل باطل ہوکر رہ گیا اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کو اسی حق و صداقت کی سربلندی کے لئے اپنے گھر سے نکلوایا اور میدان جنگ میں پہنچایا تاکہ حق کا بول بالا ہو۔ یہ بات اگرچہ کچھ لوگوں کو گراں تھی اور وہ ایسا مجھ رہے تھے کہ جیسے جانتے بوجھتے وہ موت کے منہ میں دھیکلے جا رہے ہوں حالانکہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے اس بات کا وعدہ کرلیا تھا کہ آج یہ جاں نثار جس طرف بھی قدم بڑھائیں گے فتح و کامرانی ان کے قدم چومے گی لیکن اللہ کی مرضی یہ تھی کہ اہل ایمان لشکر کفار سے مقابلہ کرکے اپنا ایثار و قربانی پیش کریں تاکہ کفر کو بنیادوں سے اکھاڑ پھینکا جائے اور حق و صدات کی شمع کو اس طرح روشن کردیا جائے کہ سچ سچ بن کر جگمگا اٹھے اور جھوٹ باطل ہو کر رہ جائے خواہ یہ واقعہ کسی کو کتنا بھی ناگوار کیوں نہ ہو۔
Ayahs 8:9–14

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر ہے تھے پھر اس نے تمہاری فریاد سن کر کہا کہ میں تمہاری ایسے ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا جو مسلسل ( پے در پے) چلے آئیں گے۔

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

یہ تو ایک خوشخبری تھی جو اللہ نے تمہارے اطمینان قلب کے لئے بھیج دی تھی لکنی (یاد رکھو) مدد تو صرف اللہ ہی کی مدد ہوتی ہے (وہ اللہ جو) زبر دست اور حکمت والا ہے۔

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

یاد کرو جب اس نے تمہارے اوپر ایک اونگھ ( سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت) کو طاری کردیتا تھا تاکہ تمہیں اس سے کون مل جائے (یاد کرو) جب اس نے آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسایا تھا تاکہ تم اپنا میل کچیل صاف کرکے صفائی و پاکی حاصل کرو اور شیطان کے وسوسوں کی ناپاکی بھی دو رہوجائے۔ تاکہ تمہارے دل مضبوط ہوجائیں اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے۔

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں کی طرف وحی کرکے کہا تھا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کے (دلوں کو) جمارئے رکھو میں بہت جلد کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دوں گا تم (کفار کی) گردنوں پر ضرب لگائو اور ان کے ایک ایک پور پر چوٹ لگائو۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی روش کو اختیار کیا ہے اور یاد رکھو جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

(قیامت میں اللہ کہے گا کہ) یہ ہے وہ تمہاری سزا جس کا تم مزا چکھو اور یقینا کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب مقرر ہے۔

لغات القرآن۔ تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ استجاب۔ جواب دیا۔ قبول کیا۔ ممد۔ مدد کرنے والا۔ الف۔ ہزار۔ مردفین۔ ایک کے بعد دوسرے کا آنا۔ لگاتار آنا۔ بشری۔ خوش خبری۔ لتطمئن۔ تاکہ مطمئن ہوجائیں۔ عزیز۔ زبردست۔ اللہ کی صفت ہے۔ یغشی۔ وہ چھا جاتا ہے۔ النعاس۔ اونگھ (نیند اور جاگنے کی درمیانی حالت) ۔ لیطھرکم۔ تاکہ وہ تمہیں پاک کردے۔ یذھب۔ وہ لے جاتا ہے۔ وہ جاتا ہے۔ رجز الشیطن۔ شیطان کی گندگی۔ لیربط۔ تاکہ وہ باندھ دے۔ یثبت۔ جما دیتا ہے۔ الاقدام۔ (قدم) قدم۔ ثبتوا۔ تم جما دو ۔ القی۔ میں ڈال دوں گا۔ الرعب۔ ہیبت۔ ڈر۔ اضربوا۔ مارو۔ سزا دو ۔ فوق۔ اوپر۔ الاعناق۔ (عنق) ۔ گردنیں۔ بنان۔ انگلیوں کے پورے۔ جوڑ جوڑ۔ شاقوا۔ نافرمانی کی۔ جھگڑا کیا۔ تشریح : یہاں پے در پے تین واقعات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جو رہتی دنیا تک اپنے اندر اہم سبق رکھتے ہیں۔ (1) پہلا واقعہ یہ ہے کہ جب نبی مکرم ﷺ نے بد رکی جنگ سے پہلے دونوں فوجوں کا جائزہ لیا تو آپ نے نہایت عاجزی اور انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ آپ نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اس کو جلد پورا کر دیجئے کیونکہ اگر مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت فنا ہوگئی تو پھر زمین میں آپ کی عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ اللہ نے آپ کی دعا کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے اس طرح بھیجوں گا جو مسلسل آتے رہے گے یہ بھی فرما دیا کہ یہ ایک خوشخبری ہے تاکہ مسلمانوں کو یقین ہوجائے کہ غیب کی مدد ان کے شامل حال ہے اور فتح یقینی ہے۔ (2) دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر نیند اور جاگنے کی درمیانی کیفیت اطمینان و سکون کی ” اونگھ “ طاری کردی۔ یہ ایک ایسی ہلکی سی اونگھ تھی کہ جب صحابہ کرام ؓ کی آنکھ کھلی تو وہ بالکل تازہ دم اور پرسکون تھے۔ دوسری طرف کفار مکہ نے آتے ہی سب سے پہلے میدان جنگ کے لئے اس علاقہ کا انتخاب کیا جہاں پانی تھا اور مسلمان جو پہاڑی کی طرف تھے وہ پانی سے محروم تھے۔ اللہ نے کرم فرمایا کہ تیز بارش برساد دی جس سے کفار کا میدان کیچڑ ہی کیچڑ ہوگیا جس میں چلنا پھرنا بھی دشوار ہوگیا تھا اور جو علاقہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ ؓ کے پاس تھا اس کی ریت دب گئی، پانی کا ذخیرہ کرلیا گیا۔ صحابہ کرام ؓ خوب نہا کر دھو کر تازہ دم ہوگئے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست سے مراد غسل کی حاجت بھی ہوسکتی ہے اور وہ خوف و ہر اس کی کیفیت بھی ہوسکتی ہے جس میں بعض صحابہ ؓ پریشان تھے۔ (3) تیسرا واقعہ وہ ہے جس کا تعلق پردہ غیب سے ہے کہ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اہل ایمان جو تیر چلائیں اس کو نشانے پر لگا دو اور یہ نشانے کا فروں کی گردنوں اور جوڑ جوڑ پر لگیں اور مزید کرم یہ فرمایا کہ تمام فرشتوں سے ارشاد ہوا کہ میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اللہ نے یہ بھی فرما دیا کہ میں بہت جلد کافروں کے دلوں میں ایسی ہیبت اور رعب ڈال دوں گا کہ جس سے اللہ اور اس کے رسول کے دشمن شدید کرب میں مبتلا ہوجائیں گے اور اپنی حماقتوں کی آگ میں جلتے رہیں گے۔ ان آیات کا مطلب ایک ہی ہے کہ وہ عوامل جو ہمیں بہت زبردست اور دل ہلا دینے والے نظر آتے ہیں ان سے خوف کھانا اور پریشان ہونا بیکار ہے زیادہ اہم عوامل وہ ہیں جو نظر نہیں آتے مثلاً اللہ کی غیبی مدد فرشتوں کی آمد، بشارت، نندا، بارش، کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ان سب چیزوں کا تعلق غیب سے ہے۔ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
Ayahs 8:15–18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم میدان جنگ میں ان کافروں کے مقابل ہو کر (جنگ کر رہے ہو تو) ان سے پیٹھ مت پھیرو

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور یاد رکھو۔ اس دن جو، ان سے پیٹھ پھیرے گا وہ غضب کا شکار ہوجائے گا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا جو بدترین ٹھکانا ہے۔ البتہ وہ شخص جو (کسی جنگی مصلحت کی وجہ سے ) دشمن کے لئے گھات لگا رہا ہو یا اپنی جماعت سے جا ملنے کی کوشش کر رہا ہو وہ مستثنیٰ ہے۔

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

آپ نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا ہے۔ اور جب آپ (مٹھر بھر خاک) ان پر پھینک رہے تھے تو وہ آپ نہیں بلکہ اللہ پھینک رہا تھا تاکہ وہ مومنوں کو اچھی طرح آزما لے بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ (اہل ایمان کے لئے ان کی ) تدبیر تھی لیکن اصل میں یہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا تھا۔

آیات : 15 تا 18 لغات القرآن۔ لقیتم۔ تم نے ملاقات کی۔ تم ملے۔ زحف۔ لڑائی۔ لاتولوا۔ تم نہ پھیرو۔ یومئذ۔ اس دن۔ متحرف۔ پینترا بدلنے والے (جنگی چال) ۔ متحیز۔ ملنے والے۔ رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی۔ اس نے پھینکا۔ بلاء حسن۔ اچھی طرح آزمانا۔ موھن۔ سست اور ضعیف کرنے والا تشریح : دراصل جنگ ہو یا امن۔ زندگی کا میدان ہو یا پریشانی کے حالات جو لوگ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں وہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کے حقدر ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو میدان چھوڑ کر اور پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہیں کبھی کسی طرح کی کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے۔ ان آیت میں اس بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ اے مومنو ! جب بھی کسی جنگ میں تمہارا مقابلہ کفار سے ہو تو ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرو اور وان کو پیٹھ دکھا کر نہ بھاگو کیونکہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوجائے گا اور اس کے لئے جہنم جیسا بدترین ٹھکانا اس کا مقدر بن جائے گا البتہ اگر کوئی جنگی مصلھت ہو تو اور بات ہے مثلاً اس لئے میدان جنگ سے پیچھے ہٹا جائے تاکہ دشمن آگے بڑہ آئے اور وہ اس گمان میں اپنی مضبوط پوزیشن کو چھوڑ دے کہ مسلمان پیچھے ہٹ رہے ہیں اور جب کفار آگے بڑہ آجائیں تو ان پر ایسا وار کیا جائے کہ دشمن کو شکست کھا کر بھاگنا پڑے۔ جنگ موتہ میں حضرت خالد بن ولید ؓ نے اسی جنگی حکمت عملی کو اختیار کیا اور دشمن کو شکست فاش دیدی۔ پیچھے ہٹنے کی دوسری شکل یہ ہوتی ہے کہ امیر کے حکم سے اپنی فوج کے کسی بڑے حصے سے جا کر ملنا ہوتا کہ جمع ہو کر اور پلٹ کر حملہ کیا جائے۔ ان دو صورتوں کے علاوہ کسی حال میں دشمن کو پیٹھ دکھانا مومن کی شان نہیں ہے اسی طرح کی اور آیات اہل ایمان کی رہنما تھین اور انہوں نے ڈٹ کر دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا کامیابیاں حاصل کیں اور دشمن کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا۔ دوسری بات جو پچھلی آیات میں واضح طور پر کہی گئی ہے اور یہاں بھی دوبارہ ارشاد فرمائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہار جیت کا فیصلہ محض انسانی کوششوں سے نہیں ہوتا بلکہ غیبی مدد کا بہت کچھ دخل ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی کوششوں پر اعتماد کے بجائے اللہ کی ذات پر بھروسہ کیا جائے۔ کفار کا بھروسہ اور اعتماد ظاہری فوج، ہتھیار، مال اور خزانہ پر ہوتا ہے کہ لیکن، مومنوں کا اعتماد سراسر نصرت الٰہی پر ہوتا ہے ۔ کافر تو تلوار پر بھروسہ کرتا ہے لیکن مومن کے ہاتھ میں تلوار نہ بھی ہو وہ محض اللہ پر بھروسہ کرکے اپنے ایمان و یقین کو پیش کرتا ہے اور اللہ کی مدد سے کامیاب ہوجاتا ہے۔ غزوہ بدر میں اہل ایمان کے پاس نہ سواریاں تھیں نہ تلواریں جب کہ مکہ کے کفار ہتھیاروں اور سواریں سے لیس تھے۔ لیکن اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ کفار مکہ کو شکست فاش ہوئی اور بےسراسامانی کے باوجود مسلمانوں کو تاریخی فتح نصیب ہوئی۔ سچ ہے جنگیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں ہتھیاروں سے نہیں۔ اسی بات کو اللہ نے یہاں جنگ بدر کی مثال دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ تم نے قتل نہیں کیا بلکہ ان کفار کو اللہ نے قتل کیا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر تمہاری کیا مجال تھی کہ تم دشمن کا بال بھی بیکا کرسکتے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ خاک کی مٹھی آپ نے نہیں پھینکی تھی بلکہ گویا ہم نے پھینکی تھی ورنہ یہ نتیجہ کبھی ظہور میں نہ آتا۔ واقعہ یہ ہے کہ جہاد بدر میں دشمنوں کی بڑی تعداد دیکھ کر اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دعا فرمائی جواب میں اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا کہ ایک مٹھی بھر ریت لشکرکفار کی طرف پھینک دیجئے آپ نے ایسا ہی کیا ہر کافر جنگجو کی آنکھوں میں وہ ذرے پہنچ گئے وہ وقتی طور پر دیکھنے سے محروم ہوگئے اتنی دیر میں مسلمانوں کے تیروں نے ان میں تباہی مچا دی۔ اللہ نے ان آیتوں میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اے مجاہدو ! تم اپنی کوششوں اور سعی و عمل پر ناز نہ کرو یہ تو اللہ کی فتح و نصرت تھی جس نے قدم قدم پر تمہارا ساتھ دیا۔ جس کے حکم سے فرشتے آئے، بارش برسائی گئی اور تم تازہ دن ہوگئے کفار قتل ہوئے اور خاک کے ذرات نے اپنا کرشمہ دکھایا تمہارے ہاتھ پاؤں دل و دماغ تیرو تفنگ جو استعمال کئے گئے ہیں تو محض اس لئے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت کے حق قرار پائو اور کافروں کو معلوم ہوجائے کہ لشکر ہو یا کروفر ان کی ہر چال کو الٹ دیا جائے گا اس بات کی مزید وضاحت اس کے بعد کی آیات میں فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 8:19–24

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو تمہارے پاس فیصلہ آگیا۔ اگر تم باز آگئے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم نے یہی کیا تو پھر ہم بھی یہی کریں گے ۔ اور تمہاری یہ کثرت تمہارے کام نہ آئے گی۔ بیشک اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے منہ نہ پھیرو

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے ہیں۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک اللہ کے نزدیک سب جانداروں میں وہ لوگ بدترین ہیں جو بہرے اور گونگے بن رہے ہیں اور بات کو نہیں سمجھتے۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو وہ ان کو سننے کی توفیق دیتا اور اگر وہ ان کو سنوا دیتا تو وہ ضرور بھاگ جاتے اور منہ پھیر لیتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو جس وقت وہ تمہیں ایک ایسی چیز کی طرف بلاتے ہیں جس میں تمہاری زندگی ہے اور اس بات کو (اچھی طرح) جان لو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور بلاشبہ تم اسی کی جمع کئے جائو گے۔

آیات : 19 تا 24 لغات القرآن۔ تستفتحوا۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ تنتھوا۔ تم رک جائو۔ تعودوا۔ تم پلٹ جائو گے۔ نعد۔ ہم پلٹ جائیں گے۔ لن تغنی۔ ہرگز فائدہ نہ دے گا۔ فئۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ کثرت۔ بہت ہے۔ سمعنا۔ ہم نے سن لیا۔ شرا الدواب۔ جان داروں میں بدترین۔ الصم۔ بہرے۔ البکم۔ گونگے۔ اسمع۔ وہ سنوا دیتا۔ استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ دعاکم۔ اس نے تمہیں بلایا۔ یحییکم۔ وہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ یحول۔ (حول) ۔ وہ آڑ بن جاتا ہے۔ بیچ میں آجاتا ہے۔ المراء۔ مرد۔ تشریح : ان آیات میں چند بہت ہی بناندی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) جب مکہ کے کفار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے اس وقت لشکر کفار کے سرداروں نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر اللہ سے جو دعا کی تھی وہ یہ تھی کہ : ” اے اللہ دونوں لشکروں میں جو اعلیٰ و افضل ہو، دونوں فریقوں میں جو زیادہ ہدایت پر ہو، دونوں جماعتوں میں سے جو زیادہ کریم اور شریف ہو اور دونوں میں سے جو دین افضل ہو اس کو فتح عطا فرمایا “ ان جاہلوں اور احمقوں کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ ہر بات میں وہی اعلیٰ وارفع ہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ ؓ حق پر نہیں ہیں (نعوذ باللہ) اسی لئے انہوں نے اس کوش گمانی میں ایسی دعا کی جو خودان کے حق میں الٹ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” تم تو حق کی فتح چاہتے تھے تو لو تمہارے سامنے حق کی فتح آگئی ہے اگر تم اب بھی باز آجائو تو بہتر ہے تو بہ کے دروازے ابھی کھلے ہوئے ہیں اگر تم اپنی پرانی روش سے باز آجائو تو اس دنیا اور آخرت میں فائدہ ہی فائدہ ہے لیکن اگر تم نے وہی حرکتیں جاری رکھیں تو ہم بھی سابقہ نتائج دکھا دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرف بھی متوجہ کردیا کہ اگر تم دوبارہ لائو لشکر لے کر آئو گے تو تمہاری کثرت تمہارے کام نہ آسکے گی اور تم منہ کی کھا کر واپس لوٹو گے۔ یہ قرآن کریم کی ایک پیشین گوئی بھی تھی کہ یہ کفار اپنی روش سے باز نہ آئیں گے اور اپنی طاقت کو اپنی کثرت کے گھمنڈ می آزماتے رہیں گے لیکن اللہ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ اللہ اور اس کی ساری کائنات کی قوتیں اہل ایمان کے ساتھ ہیں۔ (2) ۔ ان آیات میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ : جب تم نے اللہ کے ایک معبود ہونے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا زبانی اور قلبی اقرار کرلیا ہے تو آگے بڑھو اور اپنے عمل کو اس کی شہادت بناد و۔ لیکن تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے زبانی اقرار تو کرلیا لیکن جب عمل کا وقت آیا تو انہوں نے بھاگ نکلنے کے ہزار راستے تلاش کر لئے، اور بہرے ، گونگے، بےعقل جانوروں کی طرح ہوگئے۔ فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کی جائے گی تو ہر کامیابی نصبع ہوگی لیکن اگر بہرے گونگے بن کر زندگی گزاری گئی تو بدنصیبی ہی مقدر بن سکے گی۔ تمام جان داروں میں واحد ذمہ دار اگر ہے تو وہ انسان ہے وہی ” خلیفۃ اللہ فی الارض “ یعنی زمین میں انسان اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے۔ اگر اس نے اپنی ذمہ داری کو محسوس نہ کیا۔ اس نے ایک کان سے سن اور دوسرے کان سے اڑا دیا تو یہ اس کی شان اور رتبہ کے خلاف بات ہوگی جو زبان سے دوسروں کو نہ سنائے جو اللہ کی آیات میں غوروفکر نہ کرے نہ سمجھے نہ سمجھائے تو کیا وہ اللہ کے نزدیک تمام جانداروں میں بدترین نہیں ہوگا ؟ دین اسلام کو سمجھنے کے لئے سننا اور پڑھنا یعنی سمع و بصرکا استعمال ضروری ہے علم کی تعریف قرآن کریم میں بار بار آئی ہے۔ پڑھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید کو نازل کیا ہے جس کی ابتداء ہی ” اقراء بسم ربک “ ( اپنے رب کے نام سے پڑھو) سے ہوئی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ساتھ اپنے عظیم رسول کو بھی بھیجا ہے جو ان آیتوں کو پڑھ کر سناتے ہیں جو اس کتاب کی تعلیم دیتے اور اس کی حکمتوں کو بیان کرتے ہیں اور دلوں کے زنگ کو مانجھ کو صاف کرتے ہیں فرمایا کہ جو شخص ان کا حکم سنے گا، انکا کہ ان مانے گا ان کی اطاعت کرے گا تو وہ اللہ ہی کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا۔ سننے والے چار طرح کے ہوتے ہیں (1) وہ جو کانوں سے سنتے ہیں مگر اس میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے نہ فہم نہ عقیدہ نہ عمل (2) وہ جو سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں مگر نہ عقیدہ نہ عمل (3) وہ جو سنتے ہیں سمجھتے ہیں اور عقیدہ بھی رکھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔ (4) وہ جو سنتے ہیں سمجھتے ہیں۔ ایمان لاتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں سمعنا واطعنا ان کا بنیادی عقیدہ ہوتا ہے۔ پہلی قسم والوں کو ان آیات میں ” شر الدواب “ (جان داروں میں بدترین) کہا گیا ہے دوسری قسم والے کفار اور منافقین ہیں تیسری گناہ گار مسلمانوں کی ہے جو حق سے قریب تر ہیں چوتھی قسم ان مومنوں کی ہے جو اللہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنیو الے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اور جو کچھ وہ سنتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا وآخرت میں کامیاب و بامراد ہونے والے ہیں۔ ایمان والوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب تم نے دیکھ لیا کہ فتح و نصرت اللہ ہی کی طرف سے ہے اور زندگی کے ہر میدان میں وہ اہل ا ایمان کی مدد کرتا ہے تا لازم ہے کہ تم اپنے اپنے ایمان کو اور پختہ کرلو اور جب کبھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم سنو تو اس پر فورا عمل کرو ہچکچاہٹ بہانہ اور پیچھے ہٹنا یہ سب باتیں ایمان کے خلاف ہیں۔ فرمایا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا کہ جب ان کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی گئی تو وہ بہرے گونگے بن کر رہ گئے۔ جنگ بدر میں بعض منافقین بہانے بنا کر پیچھے ہٹ گئے تھے میدان کارزار تک کوئی نہ گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان کو وہاں تک جانے کی توفیق ہی نہیں دی گئی تھی اگر وہ وہاں جاتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتے، جاسوسی کرتے یا دشمنوں سے جا کر مل جاتے اگر ان میں بھلائی کا کچھ مادہ ہوتا تو اللہ انہیں سننے اور عمل کرنے کی توفیق ضرور دیتا یہ اہل ایمان کے لئے اچھا ہی ہوا کہ صرف سچائی پر قائم لوگوں نے ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا اور منافقین اس میدان کا رزار تک نہ پہنچ سکے۔ (3) آخر میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہیں ایک ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری زندگی ہے تو لپک کو اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کرو۔ فرمایا گیا کہ جہاد ہی وہ چیز ہے جس میں ملت کی زندگی ہے۔ اور ملت ہی کی زندگی سے افراد کی زندگی وابستہ ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ کون جہاد میں شریک ہوا اور کون بہانے بناتا رہا۔ وہ ہر انسان کے دل میں بیٹھا ہوا ہے اور اس کی ایک ایک نبض کو پہنچانتا ہے۔ اس بات کا فیصلہ اس دنیا سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن ایک دن تم سب کو اس کے پاس جمع ہر کر اپنا اپنا حساب پیش کرنا ہے۔
Ayahs 8:25–26

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس آزمائش (وبال) سے ڈرتے رہو جو تم میں سے صرف ظالموں پر ہی نہ پڑے گی اور تم (اس بات کو) جان لو کہ اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

یاد کرو جب تم زمین میں بہت تھوڑے تھے اور تمہیں اس بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ تمہیں لوگ اچک کر نہ لے جائیں۔ پھر اس نے تمہیں ٹھکانا دیا اور تمہیں اپنی مدد سے قوت دی اور تمہیں حلال و پاکیزہ رزق عطا فرمایا تاکہ تم شکر ادا کرو۔

آیات : 25 تا 26 لغات القرآن۔ لا تصیبن۔ تمہی نہیں پہنچے گا۔ یتخطف۔ وہ اچک لے گا۔ اوی۔ اس نے ٹھکانا دیا۔ اید۔ اس نے قوت دی۔ بنصرہ۔ اپنی مدد سے ۔ تشریح : قرآن کریم میں اس بات کو بار بار ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کسی بستی میں کوئی وبا آتی ہے تو اس کی لپیٹ میں صرف وہی لوگ نہیں آتے جنہوں نے گندگی پھیلا کر وبا کو دعوت دی ہے بلکہ وہ تمام لوگ بھی آجاتے ہیں جو اپنی انفرادی زندگی مین بہت صاف ستھرے رہے ہوں۔ اسی طرح جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس کی زد مین نہ صرف قصور اور خطار کار پکڑے جاتے ہیں بلکہ وہ سب لوگ بھی آجاتے ہیں جو شخصی زندگی میں بڑے پاک دامن ہیں۔ اس لئے ہر صاحب ایمان پر فرض ہے کہ وہ ان گناہوں کو جو وبائے عام کی صورت اختیار کرسکتے ہیں بنیادوں پر ہی اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ ورنہ اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو اس سیلاب میں ہر کس و ناکس بہہ جائے گا۔ اس وبا اور گناہ کو جڑ پرو روکنے کی تدبیر یہ ہے تبلیغ و نصیحت کے کسی پہلو کو نظر انداز کیا جائے۔ یہ تبلیغ و نصیحت انفرادی سطح سے اٹھا کر اجتماعی سطح تک بلند کی جائے۔ ایک ایسی تنظیمی اور اجتماعی کوشش اور جدوجہد جو برے لوگوں کو ان کی برائی سے روکنے اور اچھے لوگوں کو اچھے کاموں کی طرف راغب کرنے میں معاون ہو پھر بھی اگر بری اور گندگی ذہنیت کے لوگ ماننے کیلئے تیار نہ ہوں تو ان کے خلاف جماعتی طور پر کسی جہا د سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ یہی بات سورة الاعراف کی آیات 123 تا 166 میں اصحاب السبیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہی گئی ہے۔ جب عذاب الٰہی آیا تو لپیٹ میں وہ بھی آگئے جو نہایت نیک اور پاکباز تھے صرف وہی لوگ بچائے گئے جنہوں نے اللہ کا دین پہنچانے کی جدوجہد کی تھی۔ پچھلی آیات میں کہا گیا ہے کہ جہاد روح حیات ہے اور ملت ہی کی زندگی سے افراد کی زندگی وابستہ ہے۔ اسی سورت میں بات کو ایک اور انداز سے دہرایا گیا ہے کہ جب سیلاب آئے گا تو وہ نیک و بد سب کو بہا کرلے جائے گا۔ اس لئے اس سیلاب کے آگے مضبوط باندھنے کی ضرورت ہے۔ مفسر قرآن حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ اپنے حلقہ اثر میں کسی جرم اور گناہ کو جڑ نہ پکڑنے دیں ورنہ گناہ گار اور بےگناہ سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے روایت کی ہے کہ لوگ جب کسی ظالم کو دیکھیں اور ظلم سے اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب عام کردے (ترمذی) ۔ صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قانونی حدود توڑنے کے گناہگار ہیں اور جو لوگ قدرت کے باوجود انہیں گناہ سے روکنے کی کوشش نہیں کرتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بحری جہاز میں اوپر نیچے دو طبقے ہوں نیچے والوں نے پانی حاصل کرنے کے لئے جہاز میں سوراخ کردیا۔ اوپر والے ان کی اس حرکت کو دیکھ رہے ہوں مگر منع نہ کرتے ہوں جب جہاز ڈوبے تو اوپر والے اور نیچے والے دونوں ہی پانی میں غرق ہوجائیں گے۔ چناچہ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ اس آیت میں ” فتنہ “ سے مراد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک کردینا ہے یعنی خیر کے کاموں کو پھیلانا اور برے کاموں سے روکنے کا سلسلہ جب بند ہوجائے گا تو پھر اللہ کا عذاب ایسی بستی کی طرف متوجہ ہوجایا کرتا ہے۔ بعض مفسرین نے لفظ ” فتنہ “ سے مراد ترک جہاد لیا ہے خصوصاً اس وقت جب کہ مسلمانوں کے خلیفہ وقت نے جہاد کی عام دعوت دیدی ہو اس وقت ترک جہاد کا وبال عوام و خواص سب پر پڑے گا۔ اور قرینہ یہ ہے کہ اس کی پچھلی آیات میں بھی ترک جہاد کرنے والوں اور میدان جنگ سے بھاگنے والوں کی مذمت کی ہے۔ سورۃ الانفال میں جہاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ وہ چھبتی ہوئی مثال پیش کی ہے جو سب پر ابھی بیتی ہے۔ یعنی ابھی کتنے دنوں کی بات ہے کہ تم مکہ مکرمہ میں مختسر تھے کمزور ومجبور اور بےکس تھے اور ہر وقت ڈرے سہمے رہتے تھے کہ کہیں کفار تمہیں چٹکیوں میں مسل دیں۔ لیکن اللہ کے حکم سے تم نے ہجرت کی اپنوں کو چھوڑا اور مدینہ کو اپنا ٹھکانا بنایا اس نے تمہیں ٹھکانا عطا فرمایا پھر تم نے اللہ کی راہ میں (بدر میں) جہاد کیا بےسروسامانی کے باوجود اس نے تمہیں فتح و نصرت عطا فرمائی سامان واسباب کے دروازے تم پر کھل گئے اور ساری دنیا پر تمہاری دھاک بیٹھ گئی اگر ہجرت اور جہاد نہ کرتے تو یہ سب کچھ حاصل نہ ہوتا اور دشمن تمہیں فنا کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کرتا اس لئے ہجرت اور جہاد کیلئے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائو۔ شکر گزاری صرف یہی نہیں ہے کہ زبانی طو رپر ہی شکر ادا کردیا جائے بلکہ دین اسلام کی بقاء ترقی اور عظمت کے لئے اور باطل سے ٹکرانے کی مزید تیاری جاری رکھی جائے۔
Ayahs 8:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو اور امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو جب کہ تم جانتے ہو۔

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایک آزمائش ہیں اور بیشک اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لئے فرقاں ( جو چیزیں اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہو) عطا کردے گا۔ اور تمہاری خطائوں کو معاف کرکے تمہاری بخشش کردے گا۔ اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔

آیات : 27 تا 29 لغات القرآن۔ لا تخونوا۔ خیانت نہ کرو۔ فتنۃ ۔ آزمائش۔ فرقان۔ حق و باطل کے درمیان فرق کرنیو الا۔ تشریح : اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! یہ جسم و جاں مال و اسباب یہ بال بچے۔ یہ علم و عقل یہ صحت و فراغت یہ اقتدار اختیار اپنے اور پرائے غرضیکہ جو کچھ بھی اور جتنا بھی تمہارے پاس ہے سب اللہ کی امانت ہے۔ تم صرف ایک امانت دار ہوں ان چیزوں کو اسی طرح استعمال کرو جس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کو استعمال کرنے کا وقت بارہ مہینے اور گھنٹوں میں چوبیس گھنٹے ہیں ہوش پانے سے ہوش کھونے تک ہے۔ جو خیانت کرنے والے ہیں وہ تبلیغ دین سے بھاگتے ہیں کیونکہ اس میں علم و عقل اور استقلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تنظیم اور تنظیمی کاموں سے بھاگتے ہیں کیونکہ اس میں ” انا اور نفس “ کو مارنے کی اور اطاعت امیر اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے وہ جہاد سے بھاگتے ہیں کیونکہ اس میں اہل و عیال سے چھوٹنے کا خطرہ ہے۔ وقت، آرام اور جان و مال کی قربانی کا سوال ہے۔ سامان زندگی اور سامان عیش و آرام کو تج دینے کا سوال ہے۔ کون ہے جو یہ باتیں نہیں جانتا۔ کون ہے جب اس کی امانت میں خیانت ہوتی ہے تو وہ تڑپ نہیں اٹھتا۔ لیکن کس بےضمیری سے وہ ان امانتوں میں خیانت کرتا ہے جو اللہ نے اس کے پاس رکھوائی ہیں اور جو لوگوں نے اس کے پاس رکھوائی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جان و مال علم و عقل یہ صحت و فراغت نہ صرف اللہ کی امانتیں ہیں بلکہ ان سب کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔ کلمہ طیبہ کا زبان اور دل سے اقرار اہل ایمان کو ان امانتوں میں خیانت اور دوسروں کے حقوق میں کمی سے روکتا ہے۔ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تو ازن کا صحیح طریق سکھاتا ہے۔ اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ تمام چیزیں بندے کا ایک امتحان ہیں دیکھیں کون بےخطر آتش نمرود میں کود پڑتا ہے اور کون لب بام محو تماشا رہتا ہے۔ اس آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیشک مال و دولت اور اولاد میں بڑی کشش ہے یہ کشش ہی بڑی آزمائش ہے لیکن جو لوگ امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں ان شکر گزار بندوں کے لئے اللہ نے بیشمار انعامات اور نعمتوں کا خزانہ محفوظ کر رکھا ہے جو انہیں جنت میں عطا کیا جائے گا۔ آگے فرمایا کہ اے مومنو ! تم اپنے دل میں خشیت الٰہی پیدا کرو ہر قدم جو تماٹھائو ہر کام جس کو تم ہاتھ لگائو پہلے غور کرلو کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی اور رضا شامل ہے یا نہیں۔ اگر اس میں اللہ و رسول کی اطاعت ہے تو کو کر ڈالو اور اگر للہ اور رسول کی اطاعت کے خلاف ہے تو اس راستے سے ہٹ جائو اس مسلسل عمل سے تمہارے اندر ایک سلامتی کا مزاج پیدا ہوجائے گا۔ ایک قوت تمیزی زور پکڑلے گی۔ ایک ضمیر زندہ و تابندہ ہوجائے گا۔ تم خود اپنا فیصلہ آپ کرسکو گے۔ اور قرآن و سنت کی روشنی تمہاری رہنما بن جائے گی۔ اللہ بڑے فضل وکر والا ہے ” یہ آیت امید ہے۔ آیت تو کل ہے آیت تقویٰ ہے۔ آیت ہدایت ہے آیت وعدہ ہے اور آیت جنت ہے۔
Ayahs 8:30–33

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور یاد کرو جب وہ کافر آپ کے خلاف سازش کر رہے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا قتل کردیں یا آپ کو (وطن سے) نکال دیں۔ وہ اپنی سازشیں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں کہتے ہے کہ ’ ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس جیسا کلام بنا سکتے ہیں۔ یہ سوائے پرانے قصے کہانیوں اور کیا ہے۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے سچ ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسادے یا ہمارے لئے دردناک عذاب لے آئا۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

(بات یہ ہے کہ ) اللہ ایسا نہیں ہے کہ جب آپ ان کے درمیان موجود ہیں تو ان کو عذاب دے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ وہ ان کو عذاب دے جب کہ (کچھ لوگ) اپنے گناہوں کی معافی مانگنے والے بھی موجود ہوں۔

آیات : 30 تا 33 لغات القرآن۔ یمکر۔ وہ تدبیر کرتا ہے۔ لیثبوک۔ تاکہ وہ تجھے قید کرلیں۔ خیر الماکرین۔ بہترین تدبیر کرنے والا۔ اساطیر۔ (اسطورۃ) ۔ پرانی کہانیاں۔ لکھی ہوئی چیز۔ اللھم۔ میرے اللہ۔ امطر۔ برسادے۔ حجارۃ۔ (حجر) ۔ پتھر۔ انت فیھم۔ تو ان میں ہے ) (آپ ﷺ ان میں ہیں) ۔ یستغفرون۔ وہ معافی مانگتے ہیں۔ تشریح : وہ آخری دن جب آپ ﷺ ہجرتے سے پہلے شہر مکہ میں تھے۔ اور بہت سے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے حبشہ اور دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے کفار مکہ آثار و قرائن سے یقین کرچکے تھے کہ اب حضرت محمد ﷺ بھی ہجرت کر جانے والے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہجرت کی صورت میں ان کے سامنے کیا کیا خطرات پیش آئیں گے اس لئے آگے کی پالیس طے کرنے کے لئے کفار و مشرکین کے سرداروں میں ایک اہم اجلاس ” دار الندوہ “ میں ہوا جس میں حبشہ میں سفارتی ناکامی اور مسلمانوں کی آہستہ آہستہ ہجرت نے کچھ سوالات ہر شخص کے ذہن میں پیدا کر دئیے تھے باہمی مشورہ ہو اور اس بات پر غور کیا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کو (1) قید کردیا جائے۔ (2) ان کو قتل کردیا جائے۔ (3) یا ان کو جلا وطن کردیا جائے۔ ان تمام باتوں میں اس بات کا خطرہ تھا کہ اس قبائلی نظام میں حضور اکرم ﷺ کا قبیلہ بنو ہاشم ان سب اقدمات پر کوئی بھی انتقامی کاروائی کرسکتا ہے۔ ابوجہل کی اس تجویز پر سب نے اتفاق کرلیا کہ سب قبیلوں سے ایک ایک نوجوان کو لے لیا جائے وہ سب حضور ﷺ کے دروازے پر جمع ہوں سب کے پاس تیز تلواریں ہوں اور سب مل کر بیک وقت حضو ر ﷺ پر حملہ کردیں اور ان کی زندگی ختم کردیں (نعوذ باللہ) ان کا خیال تھا کہ حضرت محمد ﷺ کا قبیلہ سارے قبیلوں سے بدلہ نہ لے سکے گا اور خون بہاراضی ہوجائے گا اور اس کا ادا کرنا انتا مشکل نہیں ہے۔ سب نے اس تجویز کو نہ صر فپسند کیا بلکہ یہ فیصلہ بھی کرلیا کہ اس تجویز پر آج رات ہی عمل کیا جائے۔ اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل امین نے سارا واقعہ نبی کریم ﷺ کو بتا دیا۔ حضور اکرم ﷺ اپنے عظیم صحابی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے گھر تشریف لے گئے اور آپ نے فوری طور پر مکہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ جو ذہنی طور پر پہلے سے تیار تھے اور ایک اونٹ اسی وقت کے لئے تیار کر رکھا تھا وہ خوش ہوگئے اور آپ ﷺ کے ساتھ جانے پر تیار ہوگئے۔ لوگوں کی بہت سے امانتیں آپ کے پاس تھیں آپ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جانا تاکہ دشمن یہ سمجھے کہ میں سو رہا ہوں۔ اور صبح کو لوگوں کی امانتیں ان کے حوالے کرکے خود بھی مدینہ منورہ آجانا۔ چنانچہ اسی رات تمام دشمن قبیلوں کے نوجوان تلواریں لے کر آپ ﷺ کے دروازے پر جمع ہوگئے صبح کو جب آپ ﷺ باہر نہیں نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت علی ؓ آپ کے بسترپر ہیں پوری قوم اس ناکامی پر تڑپ کر رہ گئی اور آپ کو تلاش کرنے کے لئے صحرا میں بکھر گئی۔ آپ نے غار ثور میں تین دن قیام کیا کفار تلاش کرتے کرتے مایوس ہوگئے اور آپ ﷺ نے بڑی احتیاط اور خاموشی سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی جان پر کھیل کر اور ہر طرح کے خطرات مول لے کر اللہ کی اس امانت کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا۔ ادھر حضرت علی ؓ لوگوں کی امانتوں کی حفاظت کر رہے تھے لیکن صدیق اکبر ؓ اللہ کی امانت یعنی حضرت محمد ﷺ کی حفاظت میں جاں نثاری کا عظی نذرانہ پیش کر رہے تھے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی سازشوں میں لگے ہوئے تھے اور اللہ جو بہترین تدبیریں کرنے والا ہے بہترین تدبیر فرما رہا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی اس بات کو نقل کیا ہے کہ وہ کفار کہا کرتے تھے کہ جس قرآن کو حضرت محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں وہ اتنا عظیم کلام نہیں ہے کہ ہم نہ کہہ سکیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں اس میں سوائے پرانے زمانے کے قصوں کے اور کیا ہے وہ قرآن کریم کو حقیر سمجھتے تھے۔ اسی طرح صاحب قرآن حضرت محمد ﷺ کی باتوں کو نظر انداز کرکے کہتے کہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس عذاب کو ہمارے اوپر لے آئیے۔ ہمارے اوپر پتھر برسانے ہیں تو پتھر برسا دیجئے یا جو درد ناک سے درد ناک عذاب ہو وہ ہم پر لے آئیے۔ اس کا جواب حق تعالیٰ شان نے یہ دیا کہ جب تک دو صورتیں رہیں گی اس وقت تک اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کو نازل نہیں کرے گا۔ جب تک (1) اے نبی ﷺ آپ ان کے اندر موجود ہیں (2) اور جب تک لوگ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے۔ درحقیقت ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف صاف ارشاد فرما دیا ہے کہ اے کفار مکہ تمہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کا وجود تمہارے اندر اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے۔ سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ اللہ تو عذاب نازل کردیتا لیکن جب تک تمہارے اندر اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور استغفار کرنے والے صحابہ کرام ؓ موجود ہیں عذاب نازل نہیں کرے گا۔ لیکن جب تم نے اپنی سازشوں سے خود ہی اس نعمت کی ناقدری کی ہے اور تم ان دونوں سے محروم ہوگئے تو اب اللہ کا عذاب آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ میں اتنا شدید قحط پڑا کہ لوگ کتے اور بلیاں ہی نہیں بلکہ گھاس تک کھانے پر مجبور ہوگئے تھے دوسرے یہ کہ مکہ کے کفار کا زوال اس دن سے شروع ہوگیا تھا جس دن آپ ﷺ نے ہجرت فرمائی تھی جس کے نتیجے میں متعدد جنگوں میں رسوا کن شکستوں نے ساری دنیا میں ان کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا تھا اور فتح کہ کے بعد وہ وقت بھی آیا جب یہ سارے مجرم شرمندگی سے سر اور آنکھیں جھکائے حضور اکرم ﷺ کے سامنے اپنی جان و مال کی بھیک مانگ رہے تھے۔
Ayahs 8:34–40

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور ایسی ان میں کون سی بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے گا جب کہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ اس کے مالک نہیں ہیں ۔ اس کے متولی تو ان کو ہونا چاہیے تھا جو تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور بیت اللہ میں ان کی نماز سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا ہے پھر تم اس کفر کے سبب جس کو تم کرتے ہو عذاب چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو کفر کرتے اور اپنے مال کو اللہ کے راستے سے روکنے میں خرچ کرتے ہیں اور وہ خرچ کرتے رہیں گے مگر اس پر ان کو افسوس ہوگا۔ پھر وہ مغلوب کئے جائیں گے اور جنہوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے۔

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے جدا کردے۔ ایک گندگی کو دوسری پر ڈال کر ان سب کو ایک ڈھیر کی طرح جمع کرکے جہنم میں جھونک دے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے ! کہ اگر وہ ( اپنی حرکتوں سے) رکتے ہیں تو جو کچھ گزر چکا وہ ان سے معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ پھر وہی کریں گے تو ان سے پہلے لوگوں کیساتھ جو کچھ ہوا (وہی ان کے ساتھ بھی کیا جائے گا) ۔

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک فتنہ (جڑوبنیاد سے) مٹ نہ جائے اور دین سب کا سب اللہ کے لئے نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ رک جاتے ہیں تو بیشک جو کچھ وہ کریں گے اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر پلٹ گئے تو یہ بات جان لو کہ بلاشبہ اللہ تمہارا ساتھی ہے۔ وہی اچھا ساتھی اور بہترین مددگار ہے۔

آیات : 34 تا 40 لغات القرآن۔ مکاء۔ سیٹیاں۔ تصدیۃ۔ (صدی) ۔ تالیاں بجانا۔ لیصدوا۔ تاکہ وہ روک دیں۔ لیمیز۔ (یمیز) تاکہ وہ الگ الگ کردے۔ الخبیث۔ گندگی۔ الطیب۔ پاکیزگی۔ یرکم۔ (رحکم) ۔ وہ ڈھیر بنا دے گا۔ گٹھا بنا دے گا۔ ان ینتھوا۔ اور اگر وہ رک جائیں۔ سلف۔ گزر گیا۔ ان یعودوا۔ اور اگر وہ پلٹ جائیں۔ مضت۔ گزر گئی۔ سنت الاولین۔ پہلے لوگوں کا طریقہ۔ مولی۔ ستھی۔ نعم المولیٰ ۔ بہترین ساتھی۔ نعم النصیر۔ بہترین مددگار۔ تشریح : قریش مکہ نے خیر مانگے کے بجائے اللہ سے یہ مانگا کہ ان پر پتھروں کی بارش کردی جائے یا درد ناک عذاب بھیج دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بدر کے میدان میں زبردست شکست تمہارے لئے اس لئے عذاب الیم ہے کہ اس نے قریش کی دھاک ختم کردی اور وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ان کے بہترین لیڈر اور کمانڈر یا مار دئیے گئے یا قید کر لئے گئے اور وہی مسلمان جن کو سب سے کمزور سمجھ لیا گیا تھا ہر ذہن پر چھا گئے تھے پتھروں کے مقابل میں ان کے لئے زیادہ سخت سزا اور عذاب ہے۔ ان آیات میں قریش مکہ کے چند اہم گناہ گنوائے گئے ہیں جو ان پر سخت سزاؤں کو جواز بھی بنتی ہیں یہ سزائیں غزورہ بدر سے شروع ہو کر فتح مکہ پر ختم ہوتی ہیں جو ان کمزور مسلمانوں کے ذریعہ ان کو دلوائی گئیں جن پر تیرہ سال تک عرب کی سرزین کو نہ صرف تنگ کردیا گیا تھا بلکہ ان سے ہر خوشی کو چھین لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے گناہوں کی فہرست تو طویل ہے چند گناہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ 1) ان کا پہلا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے گھر اور مسجد حرام میں اللہ کا نا م لینے اور بیت اللہ کے طواف سے مسلمانوں کو روکا، انکا گھمنڈ یہ تھا کہ وہ مسجد حرام کے متولی ہیں ان کا یہ اختیار ہے کہ جس کو چاہیں آنے دیں اور جس سے ناراض ہوں اس کو اس سے روک دیں۔ قرآن کریم کا جواب یہ ہے کہ مسجد حرام اور بیت اللہ کسی شخص یا قوم کی ذاتی ملکیت نہیں ہے ناسمجھ بچے، دیوانے، جھگڑنے والے اور بےحرمیت کرنے والے اور کافروں کے سوا کسی کو اللہ کے گھر میں داخل ہونے سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے دوسرے یہ کہ مسجد کا متولی اور منتظم وہی ہوسکتا ہے جو پرہیز گار ہو۔ فرمایا کہ موجودہ قریش نے پرہیز گار ہیں نہ دین دار کوئی اللہ کا نام لیتا تو اس کو ہر اساں کرنے کے لئے سیٹیاں بجانا تالیاں پیٹنا ننگے ہو کر طواف کرنا ہر ظلم و جبر کے طریقے کو اختیار کرنا۔ کیا ان کی یہی عبادت ہے ؟ قریش کی جنگی دھاک اور ہیبت تو میدان بدر میں ختم ہو کر رہ گئی تھی اب عرب قبائل پر انکی دھونس تھی وہ یہ تھی کہ ہم خانہ کعبہ کے متولی ہیں اس لئے منظور نظر ہیں اس کو بھی قرآن کریم کے اس جواب نے ہلا کر رکھ دیا کہ مسجد کا متولی ظالم و جابر اور بدکار نہیں ہوسکتا۔ پھر اللہ نے ان کی نماز کے متعلق بیان کرکے کہ وہ سیٹیاں اور تالیاں پیٹنے کو عبادت سمجھتے ہیں یہ واضح فرمادیا کہ یہ انتہائی غلط اور ناسمجھی کی بات ہے۔ اللہ کے اس ارشاد نے ان کی عبادت کے ڈھول کا پول کھول کر رکھدیا۔ 2) قریش کا دوسرا گناہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے مسلمانوں کے خلاف نہ صرف سازشیں کرتے ہیں بلکہ یہ کفار و مشرکین بار بار مال و دولت جمع کرتے ہیں۔ اور اللہ کے راستے سے روکنے پر خرچ کرتے ہیں چناچہ جنگ بدر، احد اور احزاب میں انہوں نے بہت سرمایہ لگا یا اور گنوایا۔ سوائے حسرت و افسوس اور پچھتاوے کے ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ آیا۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنا سرمایہ مال دولت اسی طرح اسلام دشمنی میں لگاتے رہیں گے اور گنواتے رہیں گے مگر ہر کوشش کا نتیجہ ان کی توقع کے برعکس ہی نکل رہا ہے اور نکلتا رہے گا۔ فرمایا کہ ” ایک دن وہ مغلوب ہر کر رہیں گے ” ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی پیشن گوئ فرما دی ہے اور دوسری پیشن گوئی یہ فرما دی ہے کہ کفار ایک دن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو انبار در انبار جمع کرکے ان کو گندگی کا ڈھیر بنا دے گا۔ اور پھر اس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہ آیت ایک طرف آیت وعید ہے اور دوسری طرف آیت وعدہ ہے۔ فرمایا ” اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجئے کہ تم اپنی نیچ حرکتوں سے باز آجائو۔ اگر تم باز آگئے اور ان حرکتوں سے رک گئے تو اب تک جو کچھ کرچکے ہو اللہ اسے معاف فرما دے گا اور آیت وعدہ کے ساتھ دعوت بصیرت و عبرت بھی ہے۔ ” اگر وہی حرکتیں کرو گے تو دیکھ لو پہلی قوموں کے ساتھ اللہ کا کیا معاملہ ہوا ہے “۔ ان آیات میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گیء ہے کہ اے مومنو ! تم اس وقت تک قتال و جہاد کرتے رہو جب تک فتنہ دنیا سے مٹ نہ جائے۔ سورة بقرہ کی آیات نمبر 193 میں ارشاد ہے کہ ” تم ان سے قتال کرتے رہو یہاں تکہ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لئے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سو اور کسی سے دست درازی جائز نہیں ہے۔ ان آیات میں اور قرآن کریم کی متعدد آیات میں نہ صرف جہاد بلکہ قتال (جنگ) کو عین عبادت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ اسلام دنیا سے کفارو مشرکین کو نہیں بلکہ کفر شرک کے فتنے کو مٹانے کی بات کرتا ہے۔ کیونکہ اسلام انسانوں سے نہیں مشرکین مملکت اسلامیہ میں رہتے ہیں تو شوق سے رہیں ان کو اپنے عقیدے پر چنے کی اور عبادت کرنے اور زندگی کے اسباب مہیا کرنے کی آزادی ہے۔ اگر وہ فتنہ پیدا نہ کر رہے ہوں تو ان سے قتال کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر وہ فتنہ اٹھا رہے ہوں اور اسلامی قوانین کے نفاذ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے انتہائی اقدامات کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر وہ جزیہ دے کر پر امن شہری بن کر رہتے ہیں تو ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت اسلامی مملکت کی ذمہ داری ہے۔ آیت نمبر 39 میں فرمایا گیا کہ : اس کی بہترین تفسیر حضرت محمد ﷺ کا یہ ارشاد ہے جس کو بخاری ومسلم میں نقل کیا گیا ہے آپ نے فرمایا۔ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے کہ دشمنان اسلام سے اس وقت تک جہاد کرتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمے کو قبول قبول نہ کرلیں۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور جب وہ ایسا کریں گے تو ان کے خون اور مال و آبرو سب محفوط ہوجائیں گے۔ البتہ اسلامی قانون کے ماتحت کسی جرم کی وجہ سے ان کو سزا دی جاسکتی ہے۔ ان کے دلوں کا حساب اللہ پر ہے گا کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ اور اعمال اسلام کو قبول کررہے ہیں یا یہ نفاق کی کوئی چال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر انہوں نے محض اپنی جان بچانے کی خاطر یا کسی جنگی یا سیاسی مصلحت کے طور پر اسلام لانے کا اقرار کیا ہے تو پھر بھی اللہ کا حکم ہے انہیں امان دی جائے۔ اور ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کیا جائے جب تک پورے طور پر ان کی منافقت ثابت نہ ہوجائے۔ اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے۔ اللہ ہی ان کے لئے بہتر فیصلہ فرما سکتا ہے۔ یہ حسن اتفاق اور دین اسلام کی جاذبیت ہے کہ تاریخ میں اب تک ایسا نہیں ہوا کہ گروہ کے گروہ نے منافقت کے ارادے سے کلمہ پڑھا ہو۔ انفرادی طور پر بھی منافقت کا ارادہ بہت شاذو نادر ہے۔ ابو دائود میں مختلف صحابہ کرام ؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص کسی معاہدہ پر (یعنی ایسے شخص پر جس نے اسلامی حکومت کی اطاعت اور وفاداری کا عہد کرلیا ہو) ظلم کرے یا اس کو نقصان پہنچائے یا اس سے کوئی ایسا کام لے جو اس کی طاقت اور ہمت سے بڑھ کر ہو یا اس کی کوئی چیز اس کی دلی رضا مندی کے بغیر حاصل کرلے تو میں قیامت کے دن اس مسلمان کے خلاف اس معاہدہ شخص کی حمایت کروں گا۔ آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ : اگر کوئی معاہد فرد یا جماعت اپنے معادہ سے پھرجائے۔ یا اگر مشرکین و کفار اپنی پست حرکتیں جاری رکھیں تو اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے اللہ تعالیٰ تمہارا بہترین حامی و ناصر ہے۔ جب تمہیں اس کی حمایت و نصرت حاصل ہے تو اس میں ان دشمنان اسلام سے گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔