Ayahs 8:1–41 " بدر " میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس کے متعلق صحابہ میں نزاع تھی۔ نوجوان جو آگے بڑھ کر لڑے تھے وہ کل مال غنیمت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ پرانے لوگ نوجوانوں کی پشت پر تھے، کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے سہارا لگانے سے فتح ہوئی۔ لہذا غنیمت ہم کو ملنی چاہیے۔ ایک جماعت جو نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کرتی رہی تھی وہ اپنے کو اس مال کا مستحق سمجھتی تھی۔ ان آیات میں بتلا دیا کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے ہے کسی کا سہارا اور زور پیش نہیں جاتا سو مال کا مالک خدا ہے پیغمبر اس کے نائب ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت حکم دے، اسی کے موافق غنیمت تقسیم ہونی چاہیے (اس حکم کی تفصیل آگے آئے گی) پکے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ ہر معاملہ میں خدا سے ڈریں۔ آپس میں صلح و آشتی سے رہیں، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑے نہ ڈالیں، اپنی آراء و جذبات سے قطع نظر کر کے محض خدا اور رسول کا حکم مانیں، جب خدا کا نام درمیان میں آجائے ہیبت و خوف سے کانپ اٹھیں، آیات و احکام الٰہی سن کر ان کا ایمان و یقین زیادہ مضبوط ہوتا رہے۔ اس قدر مضبوط و قوی ہوجائے کہ ہر معاملہ میں ان کا اصلی بھروسہ اور اعتماد بجز خدا کے کسی پر باقی نہ رہے۔ اس کے سامنے سر عبودیت جھکائیں، اسی کے نام پر مال و دولت خرچ کریں۔
غرض عقیدہ، خلق، عمل اور مال ہر چیز سے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں رہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو سچا اور پکا ایماندار کہا جاسکتا ہے جو خدا کے یہاں اپنے اپنے درجہ کے موافق بڑے بڑے مقامات و مراتب قرب پر فائز ہوں گے۔ جنہیں معمولی کوتاہیوں سے درگزر کر کے عزت کی روزی سے سرفراز کیا جائے گا۔ رزقنا اللہ منہ بفضلہ ومنہ۔
Ayahs 8:5–62 یعنی سوچو کہ اس جنگ (بدر) میں شروع سے آخر تک کس طرح حق تعالیٰ کی تحریک و تائید اور امداد اور توفیق مسلمانوں کے حق میں کارفرما رہی۔ خدا ہی تھا جو نصرت دین اسلام کے حق (سچے) وعدے کر کے اپنے نبی کو ایک امر حق یعنی کفار کے ساتھ جہاد کرانے کے لیے مدینہ سے باہر بدر کے میدان میں اس وقت لے آیا جبکہ ایک جماعت مسلمانوں کی لشکر قریش سے نبرد آزمائی کرنے پر راضی نہ تھی۔ یہ لوگ ایسی سچی اور طے شدہ چیز میں پس و پیش کر رہے اور حجتیں نکال رہے تھے جس کی نسبت بذریعہ پیغمبر انہیں ظاہر ہوچکا تھا وہ یقیناً خدا کی فرمائی ہوئی اٹل بات ہے (یعنی اسلام و پیران اسلام کا بذریعہ جہاد غالب و منصور ہونا) ابو جہل کے لشکر سے مقابلہ کرنا ان کو اس قدر شاق اور گراں تھا جیسے کسی شخص کو آنکھوں دیکھتے موت کے منہ میں جانا مشکل ہے۔ تاہم خدا اپنی توفیق سے ان کو میدان جنگ میں لے گیا اور اپنی امداد سے مظفر و منصور واپس لایا۔ پس جیسے خدا ہی کی مدد سے ازل اول تا آخر یہ مہم سر ہوئی، مال غنیمت بھی اس کا سمجھنا چاہیے وہ اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے جہاں بتلائے وہاں خرچ کرو۔ (تنبیہ) کَمَا اَخْرَجَکَ الخ کے کاف، کو میں نے اپنی تقریر میں صرف تشبیہ کے لیے نہیں لیا، بلکہ ابو حیان کی تحقیق کے موافق معنی تعلیل پر مشتمل رکھا ہے جیسے واذْکُرُوْہُ کَمَا ہَدَأکُمْ میں علماء نے تصریح کی ہے اور اخرجک ربک من بیتک الیٰ آخر الآیات کے مضمون کو میں نے اَ لْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ کا ایک سبب قرار دیا ہے۔ ابو حیان کی طرح " اعزک اللہ " وغیرہ مقدر نہیں مانا۔ نیز تقریر آیت میں صاحب " روح المعانی " کی تصریح کے موافق اشارہ کردیا ہے کہ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ منم بَیْتِکَ میں صرف آن خروج من البیت مراد نہیں بلکہ خروج من البیت سے دخول فی الجہاد تک کا ممتد اور وسیع زمانہ مراد ہے جس میں (وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۙ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ ) 8 ۔ الانفال :5-6) وغیرہ سب احوال کا وقوع ہوا۔ ایک فریق کی کراہیت تو عین خروج من المدینہ ہی کے وقت ظاہر ہوگی جسے ہم صحیح مسلم اور طبری کے حوالے سے سورة الانفال کے پہلے فائدہ میں بیان کرچکے ہیں اور مجادلہ کی صورت غالبًا آگے چل کر لشکر کی اطلاع ملنے پر مقام صفراء میں پیش آئی۔ اس کے سمجھ لینے سے بعض مبطلین کے مغالطات کا استیصال ہوجائے گا۔
Ayahs 8:7–83 مسلمان چاہتے تھے کہ " تجارتی قافلہ " پر حملہ ہو، کہ کانٹا نہ چبھے اور بہت سا مال ہاتھ آجائے لیکن خدا کی مرضی یہ تھی کہ اس چھوٹی سی بےسرو سامان جماعت کو کثیر التعداد اور مرتب و پرشوکت لشکر سے بھڑا کر اپنی باتوں سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کفار مکہ کی جڑ کاٹ ڈالے تاکہ اس طرح اس کے وعدوں کی سچائی حیرت انگیز طریقہ پر ظاہر ہو کر سچ کا سچ اور جھوٹ کا جھوٹ ہونا کفار کے علی الرغم صاف صاف آشکارا ہوجائے۔ چناچہ یہ ہی ہوا۔ بدر میں قریش کے ستر سردار مارے گئے جن میں ابو جہل بھی تھا اور ستر ہی قید ہوئے۔ اس طرح کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین مکہ کی بنیادیں ہل گئیں۔ فللہ الحمد والمنہ۔
Ayahs 8:9–101 اسی طرح کی آیت " آل عمران " پارہ " لن تنالوا " کے ربع پر گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کیے جائیں۔ البتہ اس جگہ فرشتوں کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک بیان کی گئی تھی اگر واقعہ ایک ہے تو کہا جائے گا کہ اول ایک ہزار کا دستہ آیا ہوگا۔ پھر اس کے پیچھے دوسرے دستے آئے ہوں، جن کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک پہنچی۔ شاید لفظ " مردِفین " میں اسی طرف اشارہ ہو۔
Ayah 8:112 " بدر کا معرکہ فی الحقیقت مسلمانوں کے لیے بہت ہی سخت آزمائش اور عظیم الشان امتحان کا موقع تھا۔ وہ تعداد میں تھوڑے تھے، بےسروسامان تھے، فوجی مقابلہ کے لیے تیار ہو کر نہ نکلے تھے، مقابلہ پر ان سے تگنی تعداد کا لشکر تھا۔ جو پورے سازو سامان سے کبرو غرور کے نشہ میں سرشار ہو کر نکلا تھا، مسلمانوں اور کافروں کی یہ پہلی ہی قابل ذکر ٹکر تھی، پھر صورت ایسی پیش آئی کہ کفار نے پہلے سے اچھی جگہ اور پانی وغیرہ پر قبضہ کرلیا مسلمان نشیب میں تھے، ریت بہت زیادہ تھی جس میں چلتے ہوئے پاؤں دھنستے تھے، گردو غبار نے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ پانی نہ ملنے سے ایک طرف غسل و وضوء کی تکلیف، دوسری طرف تشنگی ستا رہی تھی۔ یہ چیزیں دیکھ کر مسلمان ڈرے کہ بظاہر آثار شکست کے ہیں۔ شیطان نے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ اگر واقعی تم خدا کے مقبول بندے ہوتے تو ضرور تائید ایزدی تمہاری طرف ہوتی اور ایسی پریشان کن اور یاس انگیز صورت حال پیش نہ آتی۔ اس وقت حق تعالیٰ نے قدرت کاملہ سے زور کا مینہ برسایا جس سے میدان کی ریت جم گئی، غسل و وضوء کرنے اور پینے کے لیے پانی کی افراط ہوگئی، گرد و غبار سے نجات ملی۔ کفار کا لشکر جس جگہ تھا وہاں کیچڑ اور پھسلن سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا۔ جب یہ ظاہری پریشانیاں دور ہوئیں تو حق تعالیٰ نے مسلمانوں پر ایک قسم کی غنودگی طاری کردی۔ آنکھ کھلی تو دلوں سے سارا خوف و ہراس جاتا رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور ﷺ اور ابوبکر صدیق رات بھر " عریش " میں مشغول دعا رہے۔ اخیر میں حضور ﷺ پر خفیف سی غنودگی طاری ہوئی، جب اس سے چونکے تو فرمایا خوش ہوجاؤ کہ جبرائیل تمہاری مدد کو آ رہے ہیں۔ عریش سے باہر تشریف لائے تو (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ) 54 ۔ القمر :45) زبان مبارک پر جاری تھا۔ بہرحال اس باران رحمت نے بدن کو احداث سے اور دلوں کو شیطان کے وساوس سے پاک کردیا۔ ادھر ریت کے جم جانے سے ظاہری طور پر قدم جم گئے اور اندر سے ڈر نکل کر دل مضبوط ہوگئے۔
Ayahs 8:12–143 جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس معرکہ میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک مدلجی کی صورت میں ممثل ہو کر ابو جہل کے پاس آیا اور مشرکین کے خوب دل بڑھائے کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، میں اور میرا سارا قبیلہ تمہارے ساتھ ہے۔ ابلیس کے جھنڈے تلے بڑا بھاری لشکر شیاطین کا تھا۔ یہ واقعہ آگے آئے گا۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمک پر شاہی فوج کے دستے جبرائیل و میکائیل کی کمانڈ میں یہ کہہ کر بھیجے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر شیاطین آدمیوں کی صورت میں (ہم شکّل) ہو کر کفار کے حوصلے بڑھا رہے ہیں اور ان کی طرف سے لڑنے کو تیار ہیں اور مسلمانوں کے قلوب کو وسوسے ڈال کر خوفزدہ کر رہے ہیں تو تم مظلوم و ضعیف مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرو۔ ادھر تم ان کی ہمت بڑھاؤ گے ادھر میں کفار کے دلوں میں دہشت اور رعب ڈال دوں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ ہو کر ان ظالموں کی گردنیں مارو اور پور پور کاٹ ڈالو۔ کیونکہ آج ان سب جنی و انسی کافروں نے مل کر خدا اور رسول سے مقابلہ کی ٹھہرائی ہے۔ سو انہیں معلوم ہوجائے کہ خدا کے مخالفوں کو کیسی سخت سزا ملتی ہے۔ آخرت میں جو سزا ملے گی اصل تو وہ ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اس کا تھوڑا سا نمونہ دیکھ لیں اور عذاب الٰہی کا کچھ مزہ چکھ لیں۔ روایات میں ہے کہ بدر میں ملائکہ کو لوگ آنکھوں سے دیکھتے تھے اور ان کے مارے ہوئے کفار کو آدمیوں کے قتل کئے ہوئے کفار سے الگ شناخت کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے یہ ایک نمونہ دکھا دیا کہ اگر کبھی شیاطین الجن والانس ایسے غیر معمولی طور پر حق کے مقابل جمع ہوجائیں تو وہ اہل حق اور مقبول بندوں کو ایسے غیر معمولی طریقہ سے فرشتوں کی کمک پہنچا سکتا ہے۔ باقی ویسے تو فتح و غلبہ بلکہ ہر چھوٹا بڑا کام خدا ہی کی مشیت وقدرت سے انجام پاتا ہے۔ اسے نہ فرشتوں کی احتیاج ہے نہ آدمیوں کی، اور اگر فرشتوں ہی سے کوئی کام لے تو ان کو وہ طاقت بخشی ہے کہ تنہا ایک فرشتہ بڑی بڑی بستیوں کو اٹھا کر پٹک سکتا ہے۔ یہاں تو عالم تکلیف و اسباب میں ذرا سی تنبیہ کے طور پر شیاطین کی غیر معمولی دوڑ دھوپ کا جواب دینا تھا اور بس۔
Ayah 8:154 " فرار من الزحف " (جہاد میں سے نکل کر بھاگنا اور لڑائی میں کفار کو پیٹھ دکھانا) بہت سخت گناہ اکبر الکبائر میں سے ہے اگر کافر تعداد میں مسلمانوں سے دگنے ہوں اس وقت تک فقہاء نے پیٹھ پھیرنے کی اجازت نہیں دی۔
Ayah 8:161 یعنی اگر پسپائی کسی جنگی مصلحت سے ہو، مثلاً پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا زیادہ موثر ہے یا ایک جماعت سپاہیوں کی مرکزی فوج سے جدا ہوگئی وہ اپنے بچاؤ کے لیے پسپا ہو کر مرکز سے ملنا چاہتی ہے، تو ایسی پسپائی جرم نہیں۔ گناہ اس وقت ہے جبکہ پسپائی محض لڑائی سے جان بچا کر بھاگنے کی نیت سے ہو۔
Ayah 8:172 جب جنگ کی شدت ہوئی تو حضور ﷺ نے ایک مٹھی کنکریاں لشکر کفار کی طرف پھینکیں اور تین مرتبہ شاہت الوجوہ فرمایا۔ خدا کی قدرت سے کنکریوں کے ریزے ہر کافر کی آنکھ میں پہنچے، وہ سب آنکھیں ملنے لگے ادھر سے مسلمانوں نے فوراً دھاوا بول دیا۔ آخر بہت سے کفار کھیت رہے، اسی کو فرماتے ہیں کہ گو بظاہر کنکریاں تم نے اپنے ہاتھ سے۔ پھینکی تھیں لیکن کسی بشر کا یہ فعل عادۃً ایسا نہیں ہوسکتا کہ مٹھی بھر کنکریاں ہر سپاہی کی آنکھ میں پڑ کر ایک مسلح لشکر کی ہزیمت کا سبب بن جائیں، یہ صرف خدائی ہاتھ تھا جس نے مٹھی بھر سنگریزوں سے فوجوں کے منہ پھیر دئیے، تم بےسروسامان قلیل التعداد مسلمانوں میں اتنی قدرت کہاں تھی کہ محض تمہارے زور بازو سے کافروں کے ایسے ایسے منڈ مارے جاتے، یہ تو خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے ایسے متکبر سرکشوں کو فنا کے گھاٹ اتارا، ہاں یہ ضرور ہے کہ بظاہر کام تمہارے ہاتھوں سے لیا گیا اور ان میں وہ فوق العادت قوت پیدا کردی جسے تم اپنے کسب و اختیار سے حاصل نہ کرسکتے تھے، یہ اس لیے کیا گیا کہ خدا کی قدرت ظاہر ہو اور مسلمانوں پر پوری مہربانی اور خوب طرح احسان کیا جائے۔ بیشک خدا مومنین کی دعاء و فریاد کو سنتا اور ان کے افعال و احوال کو بخوبی جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ مقبول بندوں پر کس وقت کس عنوان سے احسان کرنا مناسب ہے۔
Ayah 8:183 یعنی اس وقت بھی خدا نے کفار مکہ کے سب منصوبے خاک میں ملا دئیے اور آئندہ بھی ان کی تدبیروں کو سست کردیا جائے گا۔
Ayah 8:194 یہ خطاب کفار مکہ کو ہے، وہ ہجرت سے پہلے حضور ﷺ سے کہا کرتے تھے مَتٰی ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ یعنی ہمارے تمہارے درمیان یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ سو پورا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا مگر ایک طرح کا فیصلہ آج میدان بدر میں بھی تم نے دیکھ لیا کہ کیسے خارق عادت طریق سے تم کو کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا ملی۔ اب اگر نبی (علیہ السلام) کی مخالفت اور کفر و شرک سے باز آجاؤ تو تمہارے لیے دنیا و آخرت کی بہتری ہے۔ ورنہ اگر پھر اسی طرح لڑائی کرو گے تو ہم بھی پھر اسی طرح مسلمانوں کی مدد کریں گے اور انجام کار تم ذلیل و خوار ہو گے۔ جب خدا کی تائید مسلمانوں کے ساتھ ہے تو تمہارے جتھے اور جماعتیں خواہ کتنی ہی تعداد میں ہوں کچھ کام نہ آئیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابو جہل وغیرہ نے مکہ سے روانگی کے وقت کعبہ کے پردے پکڑ کر دعاء کی تھی کہ خداوندا ! دونوں فریق میں جو اعلیٰ و اکرام ہو اسے فتح دے اور فساد مچانے والے کو مغلوب کر فقد جاءَ کم الفتح میں اس کا بھی جواب ہوگیا کہ جو واقعی " اعلیٰ و افضل " تھے، ان کو فتح مل گئی اور مفسد ذلیل و رسوا ہوئے۔
Ayah 8:205 پہلے فرمایا تھا کہ " اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے " اب ایمان والوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہہ ان کا معاملہ خدا اور رسول کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے ؟ جس سے وہ خدا کی نصرت و حمایت کے مستحق ہوں۔ سو بتلا دیا کہ ایک مومن صادق کا کام یہ ہے کہ وہ ہمہ تن خدا اور رسول کا فرمانبردار ہو۔ احوال و حوادث خواہ کتنا ہی اس کا منہ پھیرنا چاہیں مگر خدا کی باتوں کو جب وہ سن کر سمجھ چکا اور تسلیم کرچکا، تو قولاً و فعلاً کسی حال ان سے منہ نہ پھیرے۔
Ayah 8:216 یعنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سننا ہی کیا جو آدمی سیدھی سی بات کو سن کر سمجھے نہیں یا سمجھ کر قبول نہ کرے۔ پہلے یہودیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا " سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا " (ہم نے سن لیا مگر مانا نہیں) مشرکین مکہ کا قول آگے آتا ہے۔ ( قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ ) 8 ۔ الانفال :31) یعنی جو قرآن آپ سناتے ہیں بس ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو اسی جیسا کلام بنا کرلے آئیں۔ مدینہ کے منافقین کا تو شیوہ یہ تھا کہ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے زبانی اقرار کر گئے اور دل سے اسی طرح منکر رہے۔ بہرحال مومن صادق کی شان اور یہود اور مشرکین و منافقین کی طرح نہ ہونی چاہیے۔ اس کی شان یہ ہے کہ دل سے، زبان سے، عمل سے، حاضر و غائب احکام الٰہیہ اور فرامین نبویہ پر نثار ہوتا رہے۔
Ayah 8:227 جنہیں خدا نے بولنے کو زبان سننے کو کان اور سمجھنے کو دل و دماغ دیئے تھے پھر انہوں نے یہ سب قوتیں معطل کردیں۔ نہ زبان سے حق بولنے اور حق کو دریافت کرنے کی کوشش کی۔ غرض خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو اس اصلی کام میں صرف نہ کیا۔ جس کے لیے فی الحقیقت عطا کی گئی تھیں۔ بلاشبہ ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
Ayah 8:231 یعنی اصل یہ ہے کہ ان لوگوں میں بھلائی کی جڑہی نہیں کیونکہ حقیقی بھلائی انسان کو اس وقت ملتی ہے جب اس کے دل میں طلب حق کی سچی تڑپ اور نور ہدایت قبول کرنے کی لیاقت ہو۔ جو قوم طلب حق کی روح سے یکسر خالی ہوچکی اور اس طرح خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو اپنے ہاتھوں برباد کرچکی ہو، رفتہ رفتہ اس میں قبول حق کی لیاقت و استعداد بھی نہیں رہتی۔ اسی کو فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں قبول خیر و ہدایت کی لیاقت نہیں دیکھی۔ اگر ان میں کچھ بھی لیاقت دیکھتا تو اپنی عادت کے موافق ضرور ان کو اپنی آیتیں سنا کر سمجھا دیتا۔ باقی بحالت موجودہ اگر انہیں آیات سنا اور سمجھا دی جائیں تو یہ ضدی اور معاند لوگ سمجھ کر بھی تسلیم اور قبول کرنے والے نہیں۔
Ayah 8:242 یعنی خدا اور رسول تم کو جس کام کی طرف دعوت دیتے ہیں (مثلاً جہاد وغیرہ) اس میں از سرتاپا تمہاری بھلائی ہے۔ ان کا دعوتی پیغام تمہارے لیے دنیا میں عزت و اطمینان کی زندگی اور آخرت میں حیات ابدی کا پیغام ہے۔ پس مومنین کی شان یہ ہے کہ خدا اور رسول کی پکار پر فوراً لبیک کہیں۔ جس وقت اور جدھر وہ بلائیں سب اشغال چھوڑ کر ادھر ہی پہنچیں۔
3 یعنی حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید تھوڑی دیر بعد دل ایسا نہ رہے اپنے دل پر آدمی کا قبضہ نہیں بلکہ دل خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جدھر چاہے پھیر دے۔ بیشک وہ اپنی رحمت سے کسی کا دل ابتداء نہیں روکتا نہ اس پر مہر کرتا ہے۔ ہاں جب بندہ امتثال احکام میں سستی اور کاہلی کرتا رہے تو اس کی جزاء میں روک دیتا ہے یا حق پرستی چھوڑ کر ضد وعناد کو شیوہ بنا لے تو مہر کردیتا ہے۔ کذا فی الموضح بعض نے " یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ " کو بیان قرب کے لیے لیا ہے یعنی حق تعالیٰ بندہ سے اس قدر قریب ہے کہ اس کا دل بھی اتنا قریب نہیں (وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ ) 50 ۔ ق :16) تو خدا کی حکم برداری سچے دل سے کرو۔ خدا تم سے بڑھ کر تمہارے دلوں کے احوال و سرائر پر مطلع ہے۔ خیانت اس کے آگے نہیں چل سکے گی۔ اسی کے پاس سب کو جمع ہونا ہے وہاں سارے مکنونات و سرائر کھول کر رکھ دیئے جائیں گے۔
Ayah 8:254 یعنی فرض کیجئے ایک قوم کے اکثر افراد نے ظلم و عصیان کا وتیرہ اختیار کرلیا، کچھ لوگ جو اس سے علیحدہ رہے انہوں نے مداہنت برتی، نہ نصیحت کی نہ اظہار نفرت کیا تو یہ فتنہ ہے جس کی لپیٹ میں وہ ظالم اور یہ خاموش مداہن سب آجائیں گے۔ جب عذاب آئے گا تو حسب مراتب سب اس میں شامل ہوں گے کوئی نہ بچے گا۔ اس تفسیر کے موافق آیت سے مقصود یہ ہوگا کہ خدا و رسول کی حکم برداری کے لیے خود تیار رہو اور نافرمانوں کو نصیحت و فہمائش کرو نہ مانیں تو بیزاری کا اظہار کرو۔ باقی حضرت شاہ صاحب نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے فساد (گناہ) سے بالخصوص بچنا چاہیے جس کا خراب اثر گناہ کرنے والے کی ذات سے متعدی ہو کر دوسروں تک پہنچتا ہے۔ پہلے فرمایا تھا کہ خدا اور رسول کا حکم ماننے میں ادنیٰ تاخیر اور کاہلی نہ کرے کہیں دیر کرنے کی وجہ سے دل نہ ہٹ جائے۔ اب تنبیہ فرماتے ہیں کہ اگر نیک لوگ کاہلی کریں گے تو عام لوگ بالکل چھوڑ دیں گے تو رسم بد پھیلے گی۔ اس کا وبال سب پر پڑے گا۔ جیسے جنگ میں دلیر سستی کریں تو نامرد بھاگ ہی جائیں۔ پھر شکست پڑے تو دلیر بھی نہ تھام سکیں۔
Ayah 8:265 یعنی اپنی قلت و ضعف کو خیال کر کے خدا کا حکم (جہاد) ماننے میں سستی مت دکھلاؤ۔ دیکھو۔ ہجرت سے پہلے بلکہ اس کے بعد بھی تمہاری تعداد تھوڑی تھی، سامان بھی نہ تھا۔ تمہاری کمزوری کو دیکھ کر لوگوں کو طمع ہوئی تھی کہ تم کو ہضم کر جائیں۔ تمہیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا تھا کہ دشمنان اسلام کہیں نوچ کھسوٹ کر نہ لے جائیں۔ مگر خدا نے تم کو مدینہ میں ٹھکانہ دیا، انصار و مہاجرین میں عدیم النظیر رشتہ مواخات قائم کردیا۔ پھر معرکہ بدر میں کیسی کھلی ہوئی غیبی امداد پہنچائی۔ کفار کی جڑ کاٹ دی، تم کو فتح الگ دی، مال غنیمت اور فدیہ اساریٰ الگ دیا، غرض حلال طیب ستھری چیزیں اور انواع و اقسام کی نعمتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اس کے شکر گزار بندے بنے رہو۔
Ayah 8:276 خدا و رسول کی خیانت یہ ہے کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے۔ زبان سے اپنے کو مسلمان کہیں اور کام کفار کے کریں یا جس کام پر خدا و رسول نے مامور کیا ہو اس میں دغل فصَل کیا جائے۔ یا مال غنیمت میں چوری کی جائے۔ ونحو ذالک۔ بہرحال ان تمام امانتوں میں جو خدا اور رسول یا بندوں کی طرف سے تمہارے سپرد کی جائیں، خیانت سے بچو۔ اس میں ہر قسم کے حقوق العباد آگئے۔ روایات میں ہے کہ یہود " بنی قریظہ " نے جب حضور ﷺ سے صلح کی درخواست کی اور یہ کہ ان کے ساتھ وہ ہی معاملہ کیا جائے جو بنی النضیر کے ساتھ ہوا ہے۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ " نہیں، میں تم کو اتنا حق دیتا ہوں کہ سعد بن معاذ کو حکم بنا لو، جو فیصلہ وہ تمہاری نسبت کردیں وہ منظور ہونا چاہیے انہوں نے حضرت ابو لبابہ کو حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے یہاں بلایا اور دریافت کیا کہ تمہاری اس معاملہ میں کیا رائے ہے ؟ ہم سعد بن معاذ کی تحکیم منظور کریں یا نہ کریں۔ ابو لبابہ کے اموال اور اہل و عیال بنی قریظہ کے یہاں تھے، اس لیے وہ ان کی خیر خواہی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے حلقوم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا، یعنی اگر سعد بن معاذ کی تحکیم قبول کی تو ذبح ہوجاؤ گے۔ ابو لبابہ اشارہ تو کر گزرے مگر معًا متنبہ ہوا کہ میں نے خدا و رسول کی خیانت کی۔ واپس آ کر اپنے کو ایک ستون سے باندھ دیا اور عہد کیا کہ نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا حتی کہ موت آجائے یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے۔ سات آٹھ دن یونہی بندھے رہے۔ فاقہ سے غشی طاری ہوگئی۔ آخر بشارت پہنچی کہ حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کی۔ کہا خدا کی قسم میں اپنے کو نہ کھولوں گا جب تک خود نبی کریم ﷺ اپنے دست مبارک سے میری رسی نہ کھولیں۔ آپ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے اپنے قیدی کو آزاد کیا۔ الیٰ آخر القصہ ابن عبدالبر کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کی بناء پر پیش آیا تھا واللہ اعلم۔
Ayah 8:287 آدمی اکثر مال و اولاد کی خاطر خدا کی اور بندوں کی چوری کرتا ہے۔ اس لیے متنبہ فرمایا کہ امانتداری کی جو قیمت خدا کے یہاں ہے، وہ یہاں کے مال و اولاد وغیرہ سب چیزوں سے بڑھ کر ہے۔
Ayah 8:291 یعنی اگر خدا سے ڈر کر راہ تقویٰ اختیار کرو گے تو خدا تم میں اور تمہارے مخالفوں میں فیصلہ کر دے گا۔ دنیا میں بھی، کہ تم کو عزت دے گا اور ان کو ذلیل یا ہلاک کرے گا جیسے بدر میں کیا اور آخرت میں بھی، کہ تم نعیم دائم میں رہو گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) 36 ۔ یس :59) (هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَالْاَوَّلِيْنَ ) 77 ۔ المرسلات :38) دوسری بات یہ ہے کہ تقویٰ کی برکت سے حق تعالیٰ تمہارے دل میں ایک نور ڈال دے گا جس سے تم ذوقاً و وجداناً حق و باطل اور نیک و بد کا فیصلہ کرسکو گے۔ اس کے علاوہ ایک بات حضرت شاہ صاحب نے لکھی ہے کہ " شاید فتح بدر میں مسلمانوں کے دل میں آیا ہو کہ یہ فتح اتفاقی ہے حضرت ﷺ سے مخفی کافروں پر احسان کریں کہ ہمارے گھر بار اور اہل و عیال کو مکہ میں نہ ستاویں، سو پہلی آیت میں خیانت کو منع فرمایا اور دوسری آیت میں تسلی دی کہ آگے فیصلہ ہوجائے گا، تمہارے گھر بار کافروں میں گرفتار نہ رہیں گے۔
Ayah 8:302 ہجرت سے پیشتر کفار مکہ نے دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا، کہ محمد ﷺ کے متعلق کیا کیا جائے۔ انہوں نے ساری قوم کو پریشان کر رکھا ہے اور باہر کے کچھ لوگ ان کے دام میں پھنستے جاتے ہیں کہیں رفتہ رفتہ بڑی طاقت اکٹھی نہ کرلیں جس کا مقابلہ دشوار ہو۔ اس وقت رائیں مختلف تھیں، کوئی کہتا تھا، قید کیا جائے اور خوب زخمی کیے جائیں، کسی کی رائے تھی کہ انہیں وطن سے نکال دیا جائے تاکہ ہمیں ہر وقت کے خرخشہ سے نجات ملے۔ اخیر میں ابو جہل کی رائے پر فیصلہ ہوا کہ تمام قبائل عرب میں سے ایک ایک جوان منتخب ہو اور وہ سب مل کر آن واحد میں ان پر تلوار کا ہاتھ چھوڑیں، تاکہ بنی ہاشم سارے عرب سے لڑائی نہ کرسکیں اور دیت دینی پڑے تو تمام قبائل پر تقسیم ہوجائے۔ یہاں تو وہ اشقیاء یہ تدبیریں گانٹھ رہے تھے، اُدھر ان کے توڑ میں خدا کی بہترین اور لطیف تدبیر تھی، حضور ﷺ کو فرشتہ نے اطلاع کی آپ ﷺ اپنے بستر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو لٹا کر اسی مجمع کی آنکھوں میں جو آپ ﷺ کے قتل کے لیے جمع ہوا تھا خاک جھونکتے ہوئے باہر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کا اور حضرت علی کا بال بیکا نہ ہوا اور دشمن خائب و خاسر رہے۔ پھر جنہوں نے آپ کے قتل کا مشورہ دیا تھا بدر میں وہ ہی قتل کیے گئے۔ اس سے بتلا دیا کہ جب خدا ساتھی ہو تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا اور جس طرح اس نے اپنے پیغمبر کو بچا لیا، تمہارے گھر بار اور اہل و عیال کی بھی جو مکہ میں ہیں حفاظت کرسکتا ہے، دشمن اگر قوی است نگہبان قوی تراست۔
Ayah 8:313 نضر بن الحارث کہا کرتا تھا کہ ہم چاہیں تو قرآن جیسا کلام بنا لائیں اس میں قصے کہانیوں کے سوا کیا رکھا ہے۔ مگر قرآن تو سب جھگڑوں کا فیصلہ اسی بات پر رکھتا تھا۔ پھر چاہا کیوں نہیں ؟ کسی نے کہا تھا کہ میرا گھوڑا اگر چلے تو ایک دن میں لندن پہنچے، مگر چلتا نہیں۔ بہرحال پچھلی قوموں کے احوال سن کر کہا کرتے تھے کہ سب قصے کہانیاں ہیں۔ اب بدر میں دیکھ لیا کہ محض افسانے نہ تھے، وعدہ عذاب تم پر بھی آیا جیسا پہلوں پر آیا تھا۔
Ayah 8:324 اس آیت میں مشرکین مکہ کے انتہائی جہل اور شقاوت وعناد کا اظہار ہے یعنی وہ کہتے تھے کہ خداوندا اگر واقعی یہ ہی دین حق ہے جس کی ہم اتنی دیر اور اس قدر شدومد سے تکذیب کر رہے ہیں تو پھر دیر کیوں ہے ؟ گزشتہ اقوام کی طرح ہم پر بھی پتھروں کا مینہ کیوں نہیں برسا دیا جاتا۔ یا اسی طرح کے کسی دوسرے عذاب میں مبتلا کر کے ہمارا استیصال کیوں نہیں کردیا جاتا ؟ کہتے ہیں کہ یہ دعاء ابو جہل نے مکہ سے نکلتے وقت کعبہ کے سامنے کی۔ آخر جو کچھ مانگا تھا اس کا ایک نمونہ بدر میں دیکھ لیا۔ وہ خود مع 29 سرداروں کے کمزور اور بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا گیا۔ ستر سردار اسیری کی ذلت میں گرفتار ہوئے۔ اس طرح خدا نے ان کی جڑ کاٹ دی۔ بیشک قوم لوط کی طرح ان پر آسمان سے پتھر نہیں برسے لیکن ایک مٹھی سنگریزے جو خدا تعالیٰ نے محمد ﷺ کے ہاتھ سے پھینکے تھے وہ آسمانی سنگباری کا چھوٹا سا نمونہ تھا۔ (فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى) 8 ۔ الانفال :17)
Ayah 8:335 سنت اللہ یہ ہے کہ جب کسی قوم پر تکذیب انبیاء کی وجہ سے عذاب نازل کرتے ہیں تو اپنے پیغمبر کو ان سے علیحدہ کرلیتے ہیں خدا نے جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے علیحدہ کرلیا تب مکہ والے بدر کے عذاب میں پکڑے گئے۔
6 نزول عذاب سے دو چیزیں مانع ہیں ایک ان کے درمیان پیغمبر کا موجود رہنا۔ دوسرے استغفار۔ یعنی مکہ میں حضرت ﷺ کے قدم سے عذاب تک اٹک رہا تھا۔ اب ان پر عذاب آیا۔ اسی طرح جب تک گنہگار نادم رہے اور توبہ کرتا رہے تو پکڑا نہیں جاتا اگرچہ بڑے سے بڑا گناہ ہو۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ گنہگاروں کی پناہ دو چیزیں ہیں۔ ایک میرا وجود، اور دوسرے استغفار، کذا فی الموضح (تنبیہ) وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبُہُمْ کے جو معنی مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے کئے، بعض مفسرین کے موافق ہیں، لیکن اکثر کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین جس قسم کا خارق عادت عذاب طلب کر رہے تھے جو قوم کی قوم کا دفعۃً استیصال کر دے ان پر ایسا عذاب بھیجنے سے دو چیزیں مانع ہیں ایک حضور ﷺ کا وجود باوجود کہ اس کی برکت سے اس امت پر خواہ " امت دعوت " ہی کیوں نہ ہو ایسا خارق عادت مستاصل عذاب نہیں آتا۔ یوں کسی وقت افراد و آحاد پر آجائے وہ اس کے منافی نہیں۔ دوسرے استغفار کرنے والوں کی موجودگی خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم جیسا کہ منقول ہے کہ مشرکین مکہ بھی تلبیہ و طواف وغیرہ میں " غفرانک، غفرانک " کہا کرتے تھے۔ باقی غیر خارق معمولی عذاب (مثلاً قحط یا وباء یا قتل کثیر وغیرہ) اس کا نزول پیغمبر یا بعض مستغفرین کی موجودگی میں بھی ممکن ہے آخر جب وہ لوگ شرارتیں کریں گے تو خدا کی طرف سے تنبیہ کیوں نہ کی جائے گی۔ آگے اسی کو بیان فرمایا ہے۔
Ayah 8:347 یعنی عذاب کا نہ آنا ان دو سبب سے ہے جو اوپر مذکور ہوئے، ورنہ تمہاری شرارتیں اور ظلم و شقاوت تو ایسی چیزیں ہیں کہ فوراً عذاب آجانا چاہیے۔ اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ موحدین کو حرم شریف میں آنے یا عبادت کرنے سے طرح طرح کے حیلے تراش کر روکا جائے بلکہ ان کے وطن (مکہ معظمہ) سے نکال کر ہمیشہ کے لیے کوشش کی جائے کہ یہ خدا کے پاکباز اور عبادت گزار بندے یہاں نہ آنے پائیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ظلم کے جواز کے لیے یہ سند پیش کی جاتی ہے کہ ہم حرم شریف کے متولی با اختیار ہیں جس کو چاہیں آنے دیں جسے چاہیں روک دیں، یہ ہمارا حق ہے۔ حالانکہ اول تو یہ حق متولی کو بھی نہیں کہ مسجد میں لوگوں کو نماز و عبادت سے روکے۔ دوسرے حق تولیت ان کو پہنچتا بھی نہیں۔ حرم شریف کے متولی صرف متقی اور پرہیزگار بندے ہوسکتے ہیں مشرک اور بدمعاش اس کے حقدار نہیں ہوسکتے۔ لیکن ان میں اکثر اپنی جہالت سے یوں سمجھ رہے ہیں کہ ہم اولاد ابراہیم ہیں اور فلاں قبیلہ سے ہیں تولیت کعبہ ہمارا موروثی حق ہے جس کے لیے کوئی خاص شرط و قید نہیں۔ سو بتلا دیا کہ اولاد ابراہیم میں جو پرہیزگار ہو اسی کا حق ہے۔ ایسے بےانصافوں کا حق نہیں کہ جس سے وہ آپ ناخوش ہوئے نہ آنے دیا۔
Ayah 8:351 یعنی حقیقی نمازیوں کو مسجد سے روکتے ہیں اور خود ان کی نماز کیا ہے ؟ کعبہ کا برہنہ ہو کر طواف کرنا اور ذکر اللہ کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجانا مسلمانوں کی عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ہوتا تھا یا از راہ استہزاء تمسخر ایسا کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 8:362 بدر میں بارہ سرداروں نے ایک ایک دن اپنے ذمہ لیا تھا کہ ہر روز ایک شخص لشکر کو کھانا کھلائے گا۔ چناچہ دس اونٹ روزانہ کسی ایک کی طرف سے ذبح کیے جاتے تھے۔ پھر جب شکست ہوگئی تو ہزیمت خوردہ مجمع نے مکہ پہنچ کر ابو سفیان وغیرہ سے کہا کہ جو مال تجارتی قافلہ لایا ہے، وہ سب محمد ﷺ سے انتقام لینے میں صرف کیا جائے چناچہ سب اس پر راضی ہوگئے۔ اسی طرح کے خرچ کرنے کا یہاں ذکر ہے۔
3 جب دنیا میں مغلوب و مقہور اور آخرت میں معذب ہوں گے، تب افسوس و حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے کہ مال بھی گیا اور کامیابی بھی نہ ہوئی۔ چناچہ اول بدر میں احد وغیرہ میں سب مالی اور جسمی طاقتیں خرچ کر دیکھیں کچھ نہ کرسکے آخر ہلاک یا رسوا ہوئے یا نادم ہو کر کفر سے توبہ کی۔
Ayah 8:374 موضح القرآن میں ہے کہ آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اسلام کو غالب کرے گا اس درمیان میں کافر اپنا جان و مال کا زور خرچ کرلیں گے۔ تاکہ نیک و بد جدا ہوجاوے۔ یعنی جن کی قسمت میں اسلام لکھا ہے وہ سب مسلمان ہو چکیں اور جن کو کفر پر مرنا ہے وہی اکٹھے دوزخ میں جائیں۔
5 یعنی دنیاوی و اخروی دونوں قسم کا نقصان اور خسارہ اٹھایا۔
Ayah 8:386 یعنی اگر اب بھی کفر و طغیان اور عداوت اسلام سے باز آجائیں اور پیغمبر ﷺ کی حلقہ بگوشی اختیار کرلیں تو پہلے حالت کفر میں جو گناہ کرچکے، وہ سب معاف کردیئے جائیں گے۔ اَلْاِسْلَامُ یَہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہ ' (حقوق العباد معاف نہ ہوں گے، ان کا مسئلہ علیٰحدہ ہے)
7 یعنی جس طرح اگلے لوگ پیغمبروں کی تکذیب و عداوت سے تباہ ہوئے، ان پر بھی تباہی آئے گی یا یہ مطلب ہے کہ جیسے بدر میں ان کے بھائی بندوں کو سزا دی گئی انہیں بھی سزا دی جائے گی۔
Ayah 8:398 یعنی کافروں کا زور نہ رہے کہ ایمان سے روک سکیں یا مذہب حق کو موت کی دھمکی دے سکیں۔ جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی کفار کو غلبہ ہوا، مسلمانوں کا ایمان اور مذہب خطرہ میں پڑگیا۔ اسپین کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ کس طرح قوت اور موقع ہاتھ آنے پر مسلمانوں کو تباہ کیا گیا یا مرتد بنایا گیا۔ بہرحال جہاد و قتال کا اولین مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام مامون و مطمئن ہو کر خدا کی عبادت کرسکیں اور دولت ایمان و توحید کفار کے ہاتھوں سے محفوظ ہو ( چناچہ فتنہ کی یہ ہی تفسیر ابن عمر وغیرہ صحابہ ؓ سے کتب حدیث میں منقول ہے)
9 یہ " جہاد " کا آخری مقصد ہے کہ کفر کی شوکت نہ رہے۔ حکم اکیلے خدا کا چلے۔ دین حق سب ادیان پر غالب آجائے۔ ( لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ) 9 ۔ التوبہ :33) خواہ دوسرے باطل ادیان کی موجودگی میں جیسے خلفائے راشدین وغیرہم کے عہد میں ہوا، یا سب باطل مذاہب کو ختم کر کے، جیسے نزول مسیح کے وقت ہوگا۔ بہرحال یہ آیت اس کی واضح دلیل ہے کہ جہاد و قتال خواہ ہجومی ہو یا دفاعی، مسلمانوں کے حق میں اس وقت تک برابر مشروع ہے جب تک یہ دونوں مقصد حاصل نہ ہوجائیں۔ اسی لیے حدیث میں آگیا۔ اَلْجِہَادُ مَاضٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃ (جہاد کے احکام و شرائط وغیرہ کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جائے)
10 یعنی جو ظاہر میں اپنی شرارت اور کفر سے باز آجائیں، ان سے قتال نہیں۔ ان کے دلوں کا حال اور مستقبل کی کیفیات کو خدا کے سپرد کیا جائے گا۔ جیسا کام وہ کریں گے خدا کی آنکھ سے غائب ہو کر نہیں کرسکتے۔ مسلمان صرف ظاہر حال کے موافق عمل کرنے کے مکلف ہیں وفی الحدیث اُمِرْتُ اَنَاقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْہَا عَصَمُوْا مِنِّی دِمَآءَ ہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ۔
Ayah 8:4011 یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ خدا کی مدد اور حمایت پر بھروسہ کر کے جہاد کریں۔ کفار کی کثرت اور ساز و سامان سے مرعوب نہ ہوں۔ جیسے " جنگ بدر " میں دیکھ چکے کہ خدا نے مسلمانوں کی کیا خوب امداد و حمایت کی۔