8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

زمانہ ٴنزول

یہ سورة سن ٢ ہجری میں جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی ہے اور اس میں اسلام و کفر کی اس پہلی جنگ پر مفصل تبصرہ کیا گیا ہے۔ جہاں تک سورة کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے، غالباً یہ ایک ہی تقریر ہے جو بیک وقت نازل فرمائی گئی ہوگی، مگر ممکن ہے کہ اس کی بعض آیات جنگ بدر ہی سے پیدا شدہ مسائل کے متعلق بعد میں اتری ہوں اور پھر ان کو سلسلہ تقریر میں مناسب جگہوں پر درج کر کے ایک مسلسل تقریر بنادیا گیا ہو۔ بہر حال کلام میں کہیں کوئی ایسا جوڑ نظر نہیں آتا جس سے یہ گمان کیا جاسکے کہ یہ الگ الگ دو تین خطبوں کا مجموعہ ہے۔

تاریخی پس منظر

قبل اس کے کہ اس سورة پر تبصرہ کیا جائے، جنگ بدر اور اس سے تعلق رکھنے والے حالات پر ایک تاریخی نگاہ ڈال لینی چاہیے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت ابتدائی دس بارہ سال میں، جبکہ آپ مکہ معظمہ میں مقیم تھے، اس حیثیت سے اپنی پختگی و استواری ثابت کرچکی تھی کہ ایک طرف اس کی پشت پر ایک بلند سیرت، عالی ظرف اور دانشمند علمبردار موجود تھا جو اپنی شخصیت کا پورا سرمایہ اس کام میں لگا چکا تھا اور اس کے طرز عمل سے یہ حقیقت پوری طرح نمایاں ہوچکی تھی کہ وہ اس دعوت کو انتہائی کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے اٹل ارادہ رکھتا ہے اور اس مقصد کی راہ میں ہر خطرے کو انگیز کرنے اور ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف اس دعوت میں خود ایسی کشش تھی کہ وہ دلوں اور دماغوں میں سرایت کرتی چلی جارہی تھی اور جہالت و جاہلیت اور تعصبات کے حصار اس کی راہ روکنے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے۔ اسی وجہ سے عرب کے پرانے نظام جاہلی کی حمایت کرنے والے عناصر، جو ابتداءً اس کو استخفاف کی نظر سے دیکھتے تھے، مکی دور کے آخری زمانہ میں اسے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھنے لگے تھے اور اپنا پورا زور اسے کچل دینے میں صرف کردینا چاہتے تھے۔ لیکن اس وقت تک چند حیثیات سے اس دعوت میں بہت کچھ کسر باقی تھی : اوّلاً ، یہ بات ابھی پوری طرح ثابت نہیں ہوئی تھی کہ اس کو ایسے پیرو وں کی ایک کافی تعداد بہم پہنچ گئی ہے جو صرف اس کے ماننے والے ہی نہیں ہیں، بلکہ اس کے اصولوں کا سچا عشق بھی رکھتے ہیں، اس کو غالب و نافذ کرنے کی سعی میں اپنی ساری قوتیں اور اپنا تمام سرمایہ زندگی کھپا دینے کے لیے تیار ہیں، اور اس کی خاطر اپنی ہر چیز قربان کردینے کے لیے، دنیا بھر سے لڑ جانے کے لیے، حتیٰ کہ اپنے عزیز ترین رشتوں کو بھی کاٹ پھینکنے کے لیے آمادہ ہیں۔ اگرچہ مکہ میں پیروان اسلام نے قریش کے ظلم و ستم برداشت کر کے اپنی صداقت ایمانی اور اسلام کے ساتھ اپنے تعلق کی مضبوطی کا اچھا خاصا ثبوت دے دیا تھا، مگر ابھی یہ ثابت ہونے کے لیے بہت سی آزمائشیں باقی تھیں کہ دعوت اسلامی کو جانفروش پیرو وں کا وہ گروہ میسر آگیا ہے جو اپنے نصب العین کے مقابلہ میں کسی چیز کو بھی عزیز تر نہیں رکھتا۔ ثانیاً ، اس دعوت کی آواز اگرچہ سارے ملک میں پھیل گئی تھی، لیکن اس کے اثرات منتشر تھے، اس کی فراہم کردہ قوت سارے ملک میں پر اگندہ تھی، اس کو وہ اجتماعی طاقت بہم نہ پہنچی تھی جو پرانے جمے ہوئے نظام جاہلیت سے فیصلہ کن مقابلہ کرنے کے لیے ضروری تھی۔ ثالثاً ، اس دعوت نے زمین میں کسی جگہ بھی جڑ نہیں پکڑی تھی بلکہ ابھی تک وہ صرف ہوا میں سرایت کر رہی تھی۔ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں تھا جہاں وہ قدم جما کر اپنے موقف کو مضبوط کرتی اور پھر آگے بڑھنے کی سعی کرتی، اس وقت تک جو مسلمان جہاں بھی تھا اس کی حیثیت نظام کفر شرک میں بالکل ایسی تھی جیسے خالی معدے میں کُنِین، کہ معدہ ہر وقت اسے اگل دینے کے لیے زور لگا رہا ہو اور قرار پکڑنے کے لیے اس کو جگہ ہی نہ ملتی ہو۔ رابعاً ، اس وقت تک اس دعوت کو عملی زندگی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر چلانے کا موقع نہیں ملا تھا۔ نہ یہ اپنا تمدن قائم کرسکی تھی، نہ اس نے اپنا نظام معیشت و معاشرت اور نظام سیاست مرتب کیا تھا اور نہ دوسری طاقتوں سے اس کے معاملات صلح و جنگ پیش آئے تھے۔ اس لیے نہ تو ان اخلاقی اصولوں کا مظاہرہ ہوسکا تھا جن پر یہ دعوت زندگی کے پورے نظام کو قائم کرنا اور چلانا چاہتی تھی، اور نہ یہی بات آزمائش کی کسوٹی پر اچھی طرح نمایاں ہوئی تھی کہ اس دعوت کا پیغمبر اور اس کے پیرو وں کا گروہ جس چیز کی طرف دنیا کو دعوت دے رہا ہے اس پر عمل کرنے میں وہ خود کس حد تک راستباز ہے۔ بعد کے واقعات نے وہ مواقع پیدا کردیے جن سے یہ چاروں کمیاں پوری ہوگئیں۔ مکی دور کے آخری تین چار سالوں سے یثرب میں آفتاب اسلام کی شعاعیں مسلسل پہنچ رہی تھیں اور وہاں کے لوگ متعدد وجوہ سے عرب کے دوسرے قبیلوں کی بہ نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ اس روشنی کو قبول کرنے جا رہے تھے۔ آخر کار نبوت کے بارھویں سال حج کے موقع پر ٧٥ نفوس کا ایک وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رات کی تاریکی میں ملا اور اس نے نہ صرف یہ کہ اسلام قبول کیا بلکہ آپ کو اور آپ کے پیروؤں کو اپنے شہر میں جگہ دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ یہ اسلام کی تاریخ میں ایک انقلابی موقع تھا جسے خدا نے اپنی عنایت سے فراہم کیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔ اہل یثرب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محض ایک پناہ گزیں کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدا کے نائب اور اپنے امام و فرمانروا کی حیثیت سے بلا رہے تھے۔ اور اسلام کے پیروؤں کو ان کا بلاوا اس لیے نہ تھا کہ وہ ایک اجنبی سر زمین میں محض مہاجر ہونے کی حیثیت سے جگہ پالیں، بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں جو مسلمان منتشر ہیں وہ یثرب میں جمع ہو کر اور یثربی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک منظم معاشرہ بنالیں۔ اس طرح یثرب نے در اصل اپنے آپ کو ” مدینةالاسلام “ کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے قبول کر کے عرب میں پہلا دار الاسلام بنا لیا۔ اس پیش کش کے معنی جو کچھ تھے اس سے اہل مدینہ ناواقف نہ تھے۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹا سا قصبہ اپنے آپ کو پورے ملک کی تلواروں اور معاشی و تمدنی بائیکاٹ کے مقابلہ میں پیش کر رہا تھا۔ چناچہ بیعت عَقَبہ کے موقع پر رات کی اس مجلس میں اسلام کے ان اولین مددگاروں (انصار) نے اس نتیجہ کو خوب اچھی طرح جان بوجھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا۔ عین اس وقت جبکہ بیعت ہو رہی تھی، یثربی وفد کے ایک نوجوان رکن اسعد بن زرارہ (رض) نے، جو پورے وفد میں سب سے کم سن شخص تھے اٹھ کر کہا :۔ رویدًایا اھل یثرب ! اِنا لم نضرب الیہ اکباد الا بل الا و نحن نعلم انہ رسول اللہ، و ان اخراجہ الیوم مناوأة للعرب کافة، وقتل خیارکم، وتضکم السیوف۔ فاما انتم قوم تصبرون علیٰ ذٰلک فخذوہ و اجرہ علی اللہ، واما انتم قوم تخافون من انفسکم خیفة فذروہ فبینو ا ذٰلک فھوا عذرلکم عند اللہ۔ ” ٹھہرو اے اہل یثرب ہم لوگ جو ان کے پاس آئے ہیں تو یہ سمجھتے ہوئے آئے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور آج انہیں یہاں سے نکال کرلے جانا تمام عرب سے دشمنی مول لینا ہے۔ اس کے نتیجہ میں تمہارے نونہال قتل ہوں گے اور تلواریں تم پر برسیں گی۔ لہٰذا اگر تمہیں اپنی جانیں عزیز ہیں تو پھر چھوڑ دو اور صاف صاف عذر کردو کیونکہ اس وقت عذر کردینا خدا کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہوسکتا ہے۔ “ اسی بات کو وفد کے ایک دوسرے شخص عباس بن عبادہ بن نضلہ نے دوہرایا : اتعلمون علام تبایعون ھٰذا الرجل ؟ (قالو انعم، قال) انکم تبایعونہ علی حزب الاحمر و الاسود من الناس۔ فان کنتم ترون انکم اذا نھکت اموالکم مصیبة واشرافکم قتلا المتموہ فمن الاٰن فدعوہ، فھو واللہ ان فعلتم خزی الدنیا والاٰخرة و ان کنتم ترون انکم وافون لہ بنا دعو تم وہ الیہ علی نھکة الاموال وقتل الاشراف فخذوہ، فھو واللہ خیر الدنیا و الاٰخرة۔ ” جانتے ہو اس شخص سے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو ؟ (آوازیں، ہاں جانتے ہیں) تم اس کے ہاتھ پر بیعت کر کے دنیا بھر سے لڑائی مول لے رہے ہو۔ پس اگر تمہارا خیال یہ ہو کہ جب تمہارے مال تباہی کے اور تمہارے اشراف ہلاکت کے خطرے میں پڑجائیں تو تم اسے دشمنوں کے حوالے کردو گے تو بہتر ہے کہ آج ہی سے اسے چھوڑ دو کیونکہ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی رسوائی ہے۔ اور اگر تمہارا ارادہ یہ ہے کہ جو بلاوا تم اس شخص کو دے رہے ہو اس کو اپنے اموال کی تباہی اور اپنے اشراف کی ہلاکت کے باوجود تباہ ہوگے تو بیشک اس کا ہاتھ تھام لو کہ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ “ اس پر تمام وفد نے بالا تفاق کہا فانا ناخذہ علیٰ مصیبة الاموال وقتل الاشراف۔ ” ہم اسے لے کر اپنے اموال کو تباہی اور اپنے اشراف کو ہلاکت کے خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہیں “۔ تب وہ مشہور بیعت واقع ہوئی جسے تاریخ میں بیعت عَقَبہ ثانیہ کہتے ہیں۔ دوسری طرف اہل مکہ کے لیے یہ معاملہ جو معنی رکھتا تھا۔ وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔ دراصل اس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو، جن کی زبردست شخصیت اور غیر معمولی قابلیتوں سے قریش کے لوگ واقف ہوچکے تھے، ایک ٹھکانا میسر آرہا تھا۔ اور ان کی قیادت و رہنمائی میں پیروان اسلام، جن کی عزیمت و استقامت اور فدائیت کو بھی قریش ایک حد تک آزما چکے تھے، ایک منظم جتھے کی صورت میں مجتمع ہوئے جاتے تھے۔ یہ پرانے نظام کے لیے موت کا پیغام تھا۔ نیز مدینہ جیسے مقام پر مسلمانوں کی اس طاقت کے مجتمع ہونے سے قریش کو مزید خطرہ یہ تھا کہ یمن سے شام کی طرف جو تجارتی شاہراہ ساحل بحر احمر کے کنارے کنارے جاتی تھی، جس کے محفوظ رہنے پر قریش اور دوسرے بڑے بڑے مشرک قبائل کی معاشی زندگی کا انحصار تھا، وہ مسلمانوں کی زد میں آجاتی تھی اور اس شہ رگ پر ہاتھ ڈال کر مسلمان نظام جاہلی کی زندگی دشوار کرسکتے تھے۔ صرف اہل مکہ کی وہ تجارت جو اس شاہراہ کے بل پر چل رہی تھی ڈھائی لاکھ اشرفی سالانہ تک پہنچتی تھی۔ طائف اور دوسرے مقامات کی تجارت اس کے ماسوا تھی۔ قریش ان نتائج کو خوب سمجھتے تھے۔ جس رات بیعت عقبہ واقع ہوئی اسی رات اس معالہ کی بھنک اہل مکہ کے کانوں میں پڑی اور پڑتے ہی کھلبلی مچ گئی۔ پہلے تو انھوں نے اہل مدینہ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توڑنے کی کوشش کی۔ پھر جب مسلمان ایک ایک دو دو کر کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے اور قریش کو یقین ہوگیا کہ اب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وہاں منتقل ہوجائیں گے تو وہ اس خطرے کو روکنے کے لیے آخری چارہ کار اختیار کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ ہجرت نبوی سے چند ہی روز پہلے قریش کی مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں بڑی ردّ وکد کے بعد آخر کار یہ طے پا گیا کہ بنی ہاشم کے سوا تمام خانوادہ ہائے قریش کا ایک ایک آدمی چھانٹا جائے اور یہ سب لوگ مل کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کریں تاکہ بنی ہاشم کے لیے تمام خاندانوں سے تنہا لڑنا مشکل ہوجائے اور وہ انتقام کے بجائے خون بہا قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ لیکن خدا کے فضل اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعتماد علی اللہ اور حسن تدبیر سے ان کی یہ چال ناکام ہوگئی اور حضور بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔ اس طرح جب قریش کو ہجرت کے روکنے میں ناکامی ہوئی تو انھوں نے مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابی کو (جسے ہجرت سے پہلے اہل مدینہ اپنا بادشاہ بنانے کی تیاری کرچکے تھے اور جس کی تمناؤں پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ پہنچ جانے اور اوس و خزرَج کی اکثریت کے مسلمان ہوجانے سے پانی پھر چکا تھا) خط لکھا کہ ” تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے، ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ یا تو تم خود اس سے لڑو یا اسے نکال دو ، ورنہ ہم سب تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے “۔ عبداللہ بن ابی اس پر کچھ آمادہ شر ہوا، مگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بر وقت اس کے شر کی روک تھام کردی۔ پھر سعد بن معاذ رئیس مدینہ عمرے کے لیے مکہ گئے۔ وہاں عین حرم کے دروازے پر ابوجہل نے ان کو ٹوک کر کہا الا اراک تطوف بمکة اٰمنًا وقداویتم الصباة وزعمتم انکم تنصرونھم وتعینونھم ؟ لو لا انک مع ابی صفوان ما رجعت الیٰ اھلک سالمًا (تم تو ہمارے دین کے مرتدوں کو پناہ دو اور ان کی امداد و اعانت کا دم بھرو اور ہم تمہیں اطمینان سے مکہ میں طواف کرنے دیں ؟ اگر تم اُمَیّہ بن خَلَف کے مہمان نہ ہوتے تو زندہ یہاں سے نہیں جاسکتے تھے) ۔ سعد نے جواب میں کہا واللہ لئن منعتنی ھٰذا الا منعک ما ھوا شد علیک منہ، طریقک علی المدینة (بخدا اگر تم نے مجھے اس چیز سے روکا تو میں تمہیں اس چیز سے روک دوں گا جو تمہارے لیے اس سے شدید تر ہے، یعنی مدینہ پر سے تمہاری رہ گذر) ۔ یہ گویا اہل مکہ کی طرف سے اس بات کا اعلان تھا کہ زیارت بیت اللہ کی راہ مسلمانوں پر بند ہے، اور اس کا جواب اہل مدینہ کی طرف سے یہ تھا کہ شامی تجارت کا راستہ مخالفین اسلام کے لیے پرخطر ہے۔ اور فی الواقع اس وقت مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی تدبیر بھی نہ تھی کہ اس تجارتی شاہرہ پر اپنی گرفت مضبوط کریں تاکہ قریش اور وہ دوسرے قبائل جن کا مفاد اس راستہ سے وابستہ تھا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اپنی معاندانہ و مزاحمانہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور ہوجائیں۔ چناچہ مدینہ پہنچتے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو خیز اسلامی سوسائٹی کے ابتدائی نظم و نسق اور اطراف مدینہ کی یہودی آبادیوں کے ساتھ معاملہ طے کرنے کے بعد سب سے پہلے جس چیز پر توجہ منعطف فرمائی وہ اسی شاہراہ کا مسئلہ تھا۔ اس مسئلے میں حضور نے دو اہم تدبیریں اختیار کیں۔ ایک یہ کہ مدینہ اور ساحل بحر احمر کے درمیان اس شاہراہ سے متصل جو قبائل آباد تھے ان کے ساتھ گفت و شنید شروع کی تاکہ وہ حلیفانہ اتحاد یا کم از کم ناطرفداری کے معاہدے کرلیں۔ چناچہ اس میں آپ کو پوری کامیابی ہوئی۔ سب سے پہلے جُہَینَہ سے، جو ساحل کے قریب پہاڑی علاقہ یننع اور ذوالعشَیرہ سے متصل تھا وفاعی معاونت (Defensivealliance) کی قرار داد ہوئی۔ پھر سن ٢ ہجری کے وسط میں بنی مدلج بھی اس قرارداد میں شریک ہوگئے کیونکہ وہ بنی ضمرہ کے ہمسائے اور حلیف تھے۔ مزید برآں تبلیغ اسلام نے ان قبائل میں اسلام کے حامیوں اور پیرو وں کا بھی ایک اچھا خاصا عنصر پیدا کردیا۔ دوسری تدبیر آپ نے یہ اختیار کی کہ قریش کے قافلوں کو دھمکی دینے کے یے اس شاہراہ پر پیہم چھوٹے چھوٹے دستے بھیجنے شروع کیے اور بعض دستوں کے ساتھ آپ خود بھی تشریف لے گئے۔ پہلے سال اس طرح کے چار دستے گئے جو مغازی کی کتابوں میں سَرِیّہَ حمزہ، سریہ عبیدہ بن حارث، سریہ سعد بن ابی وقاص اور غزوہ البواء کے نام سے موسوم ہیں۔*1* اور دوسرے سال کے ابتدائی مہینوں میں دو میزید تاختیں اسی جانب کی گئیں جن کو اہل مغازی غزوہ بواط اور غزوہ ذوالعشیرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان تمام مہموں کی دو خصوصیتیں قابل لحاظ ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں سے کسی میں نہ تو کشت و خون ہوا اور نہ کوئی قافلہ لوٹا گیا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان تاختوں کا اصل مقصود قریش کو ہوا کا رخ بتانا تھا۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے کسی تاخت میں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کا کوئی آدمی نہیں لیا بلکہ تمام دستے خالص مکی مہاجریں سے ہی مرتب فرماتے رہے کہ تاکہ حتٰی الامکان یہ کشمکش قریش کے اپنے ہی گھر والوں تک محدود رہے اور دوسرے قبیلوں کے اس میں الجھنے سے آگ پھیل نہ جائے۔ ادھر سے اہل مکہ بھی مدینہ کی طرف غارت گرد سے بھیجتے رہے، چناچہ انہی میں سے ایک دستے نے کرز بن جابر الفہری کی قیادت میں عین مدینہ کے قیرب ڈاکہ مارا اور اہل مدینہ کے مویشی لوٹ لیے۔ قریش کی کوشش اس سلسلہ میں یہ رہی کہ دوسرے قبیلوں کو بھی اس کشمکش میں الجھا دیں، نیز یہ کہ انہوں نے بات کو محض دھمکی تک محدود نہ رکھا بلکہ لوٹ مار تک نوبت پہنچا دی۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ شعبان سن ٢ ہجری (فروری یا مارچ ٦٢٣ ء) میں قریش کا ایک بہت بڑا قافلہ، جس کے ساتھ تقریباً ٥٠ ہزاراشرفی کا مال تھا اور تیس چالیس سے زیادہ محافظ نہ تھے، شام سے مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس علاقہ میں پہنچا جو مدینہ کی زد میں تھا۔ چونکہ مال زیادہ تھا، محافظ کم تھے، اور سابق حالات کی بنا پو خطرہ قوی تھا کہ کہیں مسلمانوں کا کوئی طاقتور دستہ اس پر چھاپہ نہ مار دے، اس لیے سردار قافلہ ابو سفیان نے اس پُر خطر علاقہ میں پہنچتے ہی ایک آدمی کو مکہ کی طرف دوڑا دیا تاکہ وہاں سے مدد لے آئے۔ اس شخص نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے مطابق اپنے اونٹ کے کام کاٹے، اس کی ناک چیر دی، کجادے کو الٹ کر رکھ دیا اور اپنا قمیص آگے پیچھے سے پھاڑ کر شور مچانا شروع کردیا کہ : یا معشر قریش ! اللطیمہ الطیمہ، اموالکم مع ابع سفیان قد عرض لھا محمد فی اصحابہ، لا اریٰ ان تدرکوھا، الغوث، الغوث، (قریش والو ! اپنے قافلہ تجارت کی خبر لو، تمہارے مال جو ابوسفیان کے ساتھ ہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے آدمی لے کر ان کے در پے ہوگیا ہے، مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پا سکو گے، دوڑو دوڑو مدد کے لیے) ۔ اس پر سارے مکہ میں ہیجان بر پا ہوگیا۔ قریش کے تمام بڑے بڑے سردار جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ تقریباً ایک ہزار مردان جنگی جن میں سے ٦٠٠ زرہ پوش تھے اور جن میں ١٠٠ سواروں کا رسالہ بھی شامل تھا، پوری شان و شوکت کے ساتھ لڑنے کے لیے چلے۔ ان کے پیش نظرصرف یہی کام نہ تھا کہ اپنے قافلے کو بچا لائیں بلکہ وہ اس ارادے سے نکلے تھے کہ اس آئے دن کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں، اور مدینہ میں یہ مخالف طاقت جو ابھی نئی نئی مجتمع ہوئی شروع ہوئی ہے اسے کچل ڈالیں، اور اس نواح کے قبائل کو اس حد تک مرعوب کردیں کہ آئندہ کے لیے یہ تجارتی راستہ بالکل محفوظ ہوجائے۔ اب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے، جو حالات سے ہمیشہ باخبر رہتے تھے، محسوس فرمایا کہ فیصلہ کی گھڑی آپہنچی ہے اور یہ ٹھیک وہ وقت ہے جبکہ ایک جسورانہ اقدام اگر نہ کر ڈالا گیا تو تحریک اسلامی ہمیشہ کے لیے بےجان ہوجائے گی، بلکہ بعید نہیں کہ اس تحریک کے لیے سر اٹھانے کا پھر کوئی موقع ہی باقی نہ رہے نئے دارالہجرت میں آئے ابھی پورے دو سال بھی نہیں ہوئے ہیں۔ مہاجرین بےسروسامان، انصار ابھی ناآزمودہ، یہودی قبائل برسر مخالفت، خود مدینہ میں منافقین و مشرکین کا ایک اچھا خاصا طاقتور عنصر موجود، اور گردوپیش کے تمام قبائل قریش سے مرعوب بھی اور مذہباً ان کے ہمدرد بھی، ایسے حالات میں اگر قریش مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں تو ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کا خاتمہ ہوجائے۔ لیکن اگر وہ حملہ نہ کریں اور صرف اپنے زور سے قافلے کو بچا کر ہی نکال لے جائیں اور مسلمان دبکے بیٹھے رہیں تب بھی یک لخت مسلمانوں کی ایسی ہوا اکھڑے گی کہ عرب کا بچہ بچہ ان پر دلیر ہوجائے گا اور ان کے لیے ملک بھر میں پھر کوئی جائے پناہ باقی نہ رہے گی۔ آس پاس کے سارے قبائل قریش کے اشاروں پر کام کرنا شروع کردیں گے۔ مدینہ کے یہودی اور منافقین و مشرکین علی الاعلان سر اٹھائیں گے اور دارالہجرت میں جینا مشکل کردیں گے۔ مسلمانوں کا کوئی رعب واثر نہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے کسی کو ان کی جان، مال اور آبرو پر ہاتھ ڈالنے میں تامل ہو۔ اس بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عزم فرمالیا کہ جو طاقت بھی اس وقت میسر ہے اسے لے کر نکلیں اور میدان میں فیصلہ کریں کہ جینے کا بل بوتا کس میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔ اس فیصلہ کن اقدام کا ارادہ کر کے آپ نے انصار و مہاجری کو جمع کیا اور ان کے سامنے ساری پوزیشن صاف صاف رکھ دی کہ ایک طرف شمال میں تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف جنوب سے قریش کا لشکر چلا آرہا ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک تمہیں مل جائے گا، بتاؤ تم کس کے مقابلہ پر چلنا چاہتے ہو ؟ جواب میں ایک بڑے گروہ کی طرف سے اس خواہش کا اظہار ہوا کہ قافلے پر حملہ کیا جائے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش نظر کچھ اور تھا اس لیے آپ نے اپنا سوال دہرایا۔ اس پر مہاجرین میں سے مقداد بن عمرو نے اٹھ کر کہا یا رسول اللہ ! امض لما امرک اللہ، فانا معک حیثما احببت، لا نقول لک کما قال بنوا سرائیل لموسٰی اذھب انت وربک فقاتلا انا ھٰھُنا قاعدون، وٰلِکن اذھب انت وربک فقاتلا انا معکما مقاتلون مادامت عین منا تطرف۔ ” یا رسول اللہ، جدھر آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے اسی طرف چلیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں جس طرف بھی آپ جائیں۔ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا دونوں لڑیں، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں ہم کہتے ہیں چلیے آپ اور آپ کا خدا، دونوں لڑیں اور ہم آپ کے ساتھ جانیں لڑائیں گے جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے۔ “ مگر لڑائی کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا، کیونکہ ابھی تک فوجی اقدامات میں ان سے کوئی مدد نہیں لی گئی تھی اور ان کے لیے یہ آزمائش کا پہلا موقع تھا کہ اسلام کی حمایت کا جو عہد انہوں نے اول روز کیا تھا اسے وہ کہاں تک نباہنے کے لیے تیار ہیں۔ اس لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے براہ راست ان کو مخاطب کیے بغیر پھر اپنا سوال دہرایا۔ اس پر سعد بن معاذ اٹھے اور انہوں نے عرض کیا شاید حضور کا روئے سخن ہماری طرف ہے ؟ فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا لقداٰمنا بک وصدقناک و شھدنا ان ماجئت بہ ھو الحق و اعطیناک عھودنا و مواثیقنا علی السّمع و الطاعة۔ فامض یا رسول اللہ لما اردت۔ فوالذی بعثک بالحق لو استعرضت بنا ھٰذا البحر فخضتَہ لخضناہ معک وما تخلف منا رجل واحد۔ ومانکرہان تلقی بنا عدونا غدًا انا لنصبر عندالحرب صُدُقٌ عند اللقآء ولعل اللہ یریک منا مانقر بہ عینک فسر بنا علیٰ برکة اللہ۔” ہم آپ پر ایمان لائے ہیں، آپ کی تصدیق کرچکے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے اور آپ سے سمع وطاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں۔ پس اے اللہ کے رسول، جو کچھ آپ نے ارادہ فرما لیا ہے اسے کر گزریے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ ہمیں لے کر سامنے سمندر پر جا پہنچیں اور اس میں اتر جائیں تو ہم آپ کے ساتھ کردیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا بھڑیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے، مقابلہ میں سچی جاں نثاری دکھائیں گے اور بعید نہیں کہ اللہ آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھوادے جسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہمیں لے چلیں۔ “ ان تقریروں کے بعد فیصلہ ہوگیا کہ قافلہ کے بجائے لشکر قریش ہی کے مقابلہ پر چلنا چاہیے۔ لیکن یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ جو لوگ اس تنگ وقت میں لڑائی کے لیے اٹھے تھے ان کی تعداد ٣ سو سے کچھ زاہد تھی (٨٦ مہاجرم، ٦١ قبیلہ اوس کے اور ١٧٠ قبیلہ خزرج کے) جن میں صرف دو تین کے پاس گھوڑے تھے اور باقی آدمیوں کے لیے ١٧٠ اونٹوں سے زیادہ نہ تھے جن پر تین تین چار چار اشخاص باری باری سے سوار ہوتے تھے۔ سامان جنگ بھی بالکل ناکافی تھا۔ صرف ٦٠ آدمیوں کے پاس زرہیں تھیں۔ اسی لیے چند سر فروش فدائیوں کے سوا اکثر آدمی جو اس خطر ناک مہم میں شریک تھے دلوں میں سہم رہے تھے اور انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جانتے بوجھتے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ مصلحت پرست لوگ جو اگرچہ دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے مگر ایسے ایمان کے قائل نہ تھے جس میں جان و مال کا زیاں ہو، اس مہم کو دیوانگی سے تعبیر کر رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دینی جذبے نے ان لوگوں کو پاگل بنادیا ہے۔ مگر نبی اور مومنین صادقین سمجھ چکے تھے کہ یہ وقت جان کی بازی لگانے ہی کا ہے اس لیے اللہ کے بھروسے پر وہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے سیدھی جنوب مغرب کی راہ لی جدھر سے قریش کا لشکر آرہا تھا۔ حالانکہ اگر ابتدا میں قافلے کو لوٹنا مقصود ہوتا تو شمال مغرب کی راہ لی جاتی۔ *2* ١٧ رمضان کو بدر کے مقام پر فریقین کا مقابلہ ہوا۔ جس وقت دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ تین کافروں کے مقابلے میں ایک مسلمان ہے اور وہ بھی پوری طرح مسلح نہیں ہے، تو خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے اور انتہائی خضوع وتضرع کے ساتھ عرض کرنا شروع کیا اللھم ھٰذہ قریش قد اتت بخیلائھا تحاول ان تکذب رسولک، اللھم فنصرک الذی وعدتنی، اللھم ان تھلک ھٰذہ العصابة الیوم لا تعبد ” خدایا، یہ ہیں قریش، اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کریں، خداوند ! بس اب آجائے تیری وہ مدد جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، اے خدا اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہوگی۔ “ اس معرکہ کار زار میں سب سے زیادہ سخت امتحان مہاجرین مکہ کا تھا جن کے اپنے بھائی بند سامنے صف آرا تھے۔ کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کا چچا، کسی کا ماموں، کسی کا بھائی اس کی تلوار کی زد میں آ رہا تھا اور اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کاٹنے پڑ رہے تھے۔ اس کڑی آزمائش سے صرف وہی لوگ گزر سکتے تھے جنہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ حق سے رشتہ جوڑا ہوا ور باطل کے ساتھ سارے رشتے قطع کر ڈالنے پر تل گئے ہوں۔ اور انصار کا امتحان بھی کچھ کم سخت نہ تھا۔ اب تک تو انہوں نے عرب کے طاقتور ترین قبیلے، قریش اور اس کے حلیف قبائل کی دشمنی صرف اسی حد تک مول لی تھی کہ ان کے علی الرغم مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دے دی تھی۔ لیکن اب تو وہ اسلام کی حمایت میں ان کے خلاف لڑنے بھی جا رہے تھے جس کے معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹی سی بستی جس کی آبادی چند ہزار نفوس سے زیادہ نہیں ہے، سارے ملک عرب سے لڑائی مول لے رہی ہے۔ یہ جسارتے صرف وہی لوگ کرسکتے تھے جو کسی صداقت پر ایسا ایمان لے آئے ہوں کہ اس کی خاطر اپنے ذاتی مفاد کی انہیں ذرہ برابر پرواہ نہ رہی ہو۔ آخر کار ان لوگوں کی صداقت ایمانی خدا کی طرف سے نصرت کا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور قریش اپنے سارے غرور طاقت کے باوجود ان بےسرو سامان فدائیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے، ٧٠ قید ہوئے اور ان کا سروسامان غنیمت میں مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار جو ان کے گلہائے سرِسَبَد اور اسلام کی مخالفت تحریک کے روح رواں تھے اس معرکہ میں ختم ہوگئے اور اس فیصلہ کن فتح عرب میں اسلام کو ایک قابل لحاظ طاقت بنادیا۔ جیسا کہ ایک مغربی محقق نے لکھا ہے ” بدر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب اور ریاست تھا، مگر بدر کے بعد وہ مذہب ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا “۔

مباحث

یہ ہے وہ عظیم الشان معرکہ جس پر قرآن کی اس سورة میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ مگر اس تبصرے کا انداز تمام ان تبصروں سے مخطلف ہے جو دنیوی بادشاہ اپنی فوج کی فتحیابی کے بعد کیا کرتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے ان خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو اخلاق حیثیت سے ابھی مسلمانوں میں باقی تھیں تاکہ آئندہ اپنی مزید تکمیل کے لیے سعی کریں۔ پھر ان کو بتایا گیا ہے کہ اس فتح میں تائید الہٰی کا کتنا بڑا حصہ تھا تاکہ وہ اپنی جرأت و شہامت پر نہ پھولیں بلکہ خدا پر توکل اور خدا کے رسول کی اطاعت کا سبق لیں۔ پھر اس اخلاقی مقصد کو واضح کیا گیا ہے جس کے لیے مسلمانوں کو یہ معرکہ حق و باطل برپا کرنا ہے اور ان اخلاقی صفات کی توضیح کی گئی ہے جن سے اس معرکہ میں انہیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر مشرکین اور منافقین اور یہود اور ان لوگوں کو جو جنگ میں قید ہو کر آئے تھے، نہایت سبق آموز انداز میں خطاب کیا گیا ہے۔ پھر ان اموال کے متعلق، جو جنگ میں ہاتھ آئے تھے، مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ انہیں اپنا مال نہ سمجھیں بلکہ خدا کا مال سمجھیں، جو کچھ اللہ اس میں سے ان کا حصہ مقرر کرے اسے شکر یہ کے ساتھ قبول کرلیں اور جو حصہ اللہ اپنے کام اور اپنے غریب بندوں کے امداد کے لیے مقرر کرے اس کو برضا ورغبت گوارا کرلیں۔ پھر قانون جنگ و صلح کے متعلق وہ اخلاقی ہدایات دی گئی ہیں جن کی توضیح اس مرحلے میں دعوت اسلامی کے داخل ہوجانے کے بعد ضروری تھی تاکہ مسلمان اپنی صلح و جنگ میں جاہلیت کے طریقوں سے بچیں اور اور دنیا پر ان کی اخلاقی برتری قائم ہو اور دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اسلام اوّل روز سے اخلاق پر عملی زندگی کی بنیاد رکھنے کی جو دعوت دے رہا ہے اس کی تعبیر واقعی عملی زندگی میں کیا ہے۔ پھر اسلامی ریاست کے دستوری قانون کی بعض دفعات بیان کی گئی ہیں جن سے دارلسلام کے مسلمان با شندوں کی آئینی حیثیت ان مسلمانوں سے الگ کردی گئی ہے جو دارالا سلام کے حدود سے باہر رہتے ہوں۔

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

تم سے اَنفال کے متعلق پُوچھتے ہیں؟ کہو”یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسُول ؐ کے ہیں، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اُس کے رسُول ؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔1“

سورة الْاَنْفَال 1 یہ اس تبصرہ جنگ کی عجیب تمہید ہے۔ بدر میں جو مال غنیمت لشکر قریش سے لوٹا گیا تھا اس کی تقسیم پر مسلمانوں کے درمیان نزاغ برپا ہوگئی۔ چونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان لوگوں کو پہلی مرتبہ پرچم اسلام کے نیچے لڑنے کا اتفاق ہوا تھا اس لیے ان کو معلوم نہ تھا کہ اس مسلک میں جنگ اور اس سے پیدا شدہ مسائل کے متعلق کیا ضابطہ ہے۔ کچھ ابتدائی ہدایات سورة بقرہ اور سورة محمد میں دی جا چکی تھیں۔ لیکن ”تہذیب جنگ“ کی بنیاد ابھی رکھنی باقی تھی۔ بہت سے تمدنی معاملات کی طرح مسلمان ابھی تک جنگ کے معاملہ میں بھی اکثر پرانی جاہلیت ہی کے تصورات لیے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے بدر کی لڑائی میں کفار کی شکست کے بعد جن لوگوں نے جو جو کچھ مال غنیمت لوٹا تھا وہ عرب کے پرانے طریقہ کے مطابق اپنے آپ کو اس کا مالک سمجھ بیٹھے تھے۔ لیکن ایک دوسرا فریق جس نے غنیمت کی طرف رخ کرنے کے بجائے کفار کا تعاقب کیا تھا، اس بات کا مدعی ہوا کہ اس مال میں ہمارا برابر کا حصہ ہے کیونکہ اگر ہم دشمن کا پیچھا کرکے اسے دور تک بھگا نہ دیتے اور تمہاری طرح غنیمت پر ٹوٹ پڑتے تو ممکن تھا کہ دشمن پھر پلٹ کر حملہ کردیتا اور فتح شکست سے بدل جاتی۔ ایک تیسرے فریق نے بھی، جو رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کر رہا تھا، اپنے دعاوی پیش کیے۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ سب سے بڑھ کر قیمتی خدمت تو اس جنگ میں ہم نے انجام دی ہے۔ اگر ہم رسول اللہ کے گرد اپنی جانوں کا حصار بنائے ہوئے نہ رہتے اور آپ کو کوئی گزند پہنچ جاتا تو فتح ہی کب نصیب ہو سکتی تھی کہ کوئی مال غنیمت ہاتھ آتا اور اس کی تقسیم کا سوال اٹھتا۔ مگر مال عملاً جس فریق کے قبضہ میں تھا اس کی ملکیت گویا کسی ثبوت کی محتاج نہ تھی اور وہ دلیل کا یہ حق ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ ایک امر واقعی کے اس زور سے بدل جائے۔ آخر کار اس نزاع نے تلخی کی صورت اختیار کرنی شروع کردی اور زبانوں سے دلوں تک بدمزگی پھیلنے لگی۔ یہ تھا وہ نفسیاتی موقع جسے اللہ تعالیٰ نے سورة انفال نازل کرنے کے لیے منتخب فرمایا اور جنگ پر اپنے تبصرے کی ابتدا اسی مسئلے سے کی۔ پھر پہلا ہی فقرہ جو ارشاد ہوا اسی میں سوال کا جواب موجود تھا فرمایا ”تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں“ ؟ یہ ان اموال کو ”غنائم“ کے بجائے ”انفال“ کے لفظ سے تعبیر کرنا بجائے خود مسئلے کا فیصلہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ انفال جمع ہے نفل کی۔ عربی زبان میں نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو واجب سے یا حق سے زائد ہو۔ جب یہ تابع کی طرف سے ہو تو اس سے مراد وہ رضا کارانہ خدمت ہوتی ہے جو ایک بندہ اپنے آقا کے لیے فرض سے بڑھ کر تَطُوَّعًا بجا لاتا ہے۔ اور جب یہ متبوع کی طرف سے ہو تو اس سے مرادہ وہ عطیہ و انعام ہوتا ہے جو آقا اپنے بندے کو اس کے حق سے زائد دیتا ہے۔ پس ارشاد کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ساری ردّ و کد، یہ نزاع، یہ پوچھ گچھ کیا خدا کے بخشے ہوئے، انعامات کے بارے میں ہو رہی ہے ؟ اگر یہ بات ہے تو تم لوگ ان کے مالک و مختار کہاں بنے جا رہے ہو کہ خواد ان کی تقسیم کا فیصلہ کرو۔ مال جس کا بخشا ہوا ہے۔ وہی فیصلہ کرے گا کہ کیسے دیا جائے اور کسے نہیں، اور جس کو بھی دیا جائے اسے کتنا دیا جائے۔ یہ جنگ کے سلسلہ میں ایک بہت بڑی اخلاقی اصلاح تھی۔ مسلمان کی جنگ دنیا کے مادی فائدے بٹورنے کیلے نہیں ہے بلکہ دنیا کے اخلاقی وتمدنی بگاڑ کو اس اصول حق کے مطابق درست کرنے کے لیے ہے، جسے مجبوراً اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جبکہ مزاحم قوتیں دعوت و تبلیغ کے ذریعہ سے اصلاح کو ناممکن بنادیں۔ پس مصلحین کی نظر اپنے مقصد پر ہونی چاہیے نہ کہ ان فوائد پر جو مقصد کے لیے سعی کرتے ہوئے بطور انعام خدا کی عنایت سے حاصل ہوں۔ ان فوائد سے اگر ابتدا ہی میں ان کی نظر نہ ہٹا دی جائے تو بہت جلدی، اخلاقی انحطاط رونما ہو کر یہی فوائد مقصود قرار پاجائیں۔ پھر یہ جنگ کے سلسلہ میں ایک بہت بڑی انتظامی اصلاح بھی تھی۔ قدیم زمانہ میں طریقہ یہ تھا کہ جو مال جس کے ہاتھ لگتا وہی اس کا مالک قرار پاتا۔ یا پھر بادشاہ یا سپہ سالار تمام غنائم پر قابض ہوجاتا۔ پہلی صورت میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ فتح یاب فوجوں کے درمیان اموال غنیمت پر سخت تنافُس برپا ہوجاتا اور بسا اوقات ان کی خانہ جنگی فتح کو شکست میں تبدیل کردیتی۔ دوسری صورت میں سپاہیوں کو چوری کا عارضہ لگ جاتا تھا اور وہ غنائم کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ قرآن مجید نے انفال کو اللہ اور رسول کا مال قرار دے کر پہلے تو یہ قاعدہ مقرر کردیا کہ تمام مال غنیمت لا کر بےکم وکاست امام کے سامنے رکھ دیا جائے اور ایک سوئی تک چھپا کر نہ رکھی جائے۔ پھر آگے چل کر اس مال کی تقسیم کا قانون بنادیا کہ پانچواں حصہ خدا کے کام اور اس کے غریب بندوں کی مدد کے لیے بیت المال میں رکھ لیا جائے اور باقی چار حصے اس پوری فوج میں تقسیم کردیے جائیں جو لڑائی میں شریک ہوئی ہو۔ اس طرح وہ دونوں خرابیاں دور ہوگئیں جو جاہلیت کے طریقہ میں تھیں۔ اس مقام پر ایک لطیف نکتہ اور بھی ذہن میں رہنا چاہیے، یہاں انفال کے قصے کو صرف اتنی بات کہہ کر ختم کردیا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ تقسیم کے مسئلے کو یہاں نہیں چھیڑا گیا تاکہ پہلے تسلیم و اطاعت مکمل ہوجائے۔ پھر چند رکوع کے بعد بتایا گیا کہ ان اموال کو تقسیم کس طرح کیا جائے۔ اسی لیے یہاں انہیں ”انفال“ کہا گیا ہے اور رکوع 5 میں جب تقسیم کا حکم بیان کرنے کی نوبت آئی تو انہی اموال کو ”غنائم“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا۔
Ayahs 8:2–3

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کرلرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے2، اور وہ اپنے ربّ پر اعتماد رکھتے ہیں

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں

سورة الْاَنْفَال 2 یعنی ہر ایسے موقع پر جب کہ کوئی حکم الہٰی آدمی کے سامنے آئے اور وہ اس کی تصدیق کر کے سر اطاعت جھکا دے، آدمی کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر اس موقع پر جب کہ کوئی چیز آدمی کی مرضی کے خلاف، اس کی محبتوں اور دوستیوں کے خلاف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت میں ملے اور آدمی اس کو مان کر فرمان خدا و رسول کو بدلنے کے بجائے اپنے آپ کو بدل ڈالے اور اس کی قبولیت میں تکلیف انگیز کرلے تو اس سے آدمی کے ایمان کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا کرنے میں آدمی دریغ کرے تو اس کے ایمان کی جان نکلنی شروع ہوجاتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان کوئی ساکن و جامد چیز نہیں ہے، اور تصدیق و عدم تصدیق کا بس ایک ہی ایک مرتبہ نہیں ہے کہ اگر آدمی نے نہ مانا تو وہ بس ایک ہی نہ ماننا رہا، اور اگر اس نے مان لیا تو وہ بھی بس ایک ہی مان لینا ہوا۔ نہیں بلکہ تصدیق اور انکار دونوں میں انحطاط اور نشوونما کی صلاحیت ہے۔ ہر انکار کی کیفیت گھٹ بھی سکتی ہے اور بڑھ بھی سکتی ہے۔ اور اس طرح ہر اقرار و تصدیق میں ارتقاء بھی ہوسکتا ہے اور تنزل بھی۔ البتہ فقہی احکام کے اعتبار سے نظام تمدن میں حقوق اور حیثیات کا تعین جب کیا جائے گا تو تصدیق اور عدم تصدیق دونوں کے بس ایک ہی مرتبے کا اعتبار کیا جائے گا۔ اسلامی سوسائٹی میں تمام ماننے والوں کے آئینی حقوق و واجبات یکساں ہوں گے خواہ ان کے درمیان ماننے کے مراتب میں کتنا ہی تفاوت ہو۔ اور سب نہ ماننے والے ایک ہی مرتبے میں ذمی یا حربی یا معاہد و مسالم قرار دیے جائیں گے خواہ ان میں کفر کے اعتبار سے مراتب کا کتنا ہی فرق ہو۔
Ayahs 8:4–5

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

ایسےہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے ربّ کے پاس بڑے درجے ہیں۔ قصوروں سے درگزر ہے3 اور بہترین رزق ہے

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا

سورة الْاَنْفَال 3 قصور بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر اہل ایمان سے بھی سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں، اور جب تک انسان انسان ہے یہ محال ہے کہ اس کا نامہ اعمال سراسر معیاری کارناموں ہی پر مشتمل ہو اور لغزش، کو تاہی، خامی سے بالکل خالی رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے یہ بھی ایک بڑی رحمت ہے کہ جب انسان بندگی کی لازمی شرائط پوری کردیتا ہے تو اللہ اس کی کوتاہیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور اس کی خدمات جس صلے کی مستحق ہوتی ہیں اس سے کچھ زیادہ صلہ اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔ ورنہ اگر قاعدہ یہ مقرر کیا جاتا کہ ہر قصور کی سزا اور ہر خدمت کی جزا الگ الگ دی جائے تو کوئی بڑے سے بڑا صالح بھی سزا سے نہ بچ سکتا۔
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ اس حق کےمعاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے دراں حالے کہ وہ صاف صاف نمایا ہو چکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھے موت کی طرف ہانکے جارہے ہیں۔4

سورة الْاَنْفَال 4 یعنی جس طرح اس وقت یہ لوگ خطرے کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے تھے، حالانکہ حق کا مطالبہ اس وقت یہی تھا کہ خطرے کے منہ میں چلے جائیں، اسی طرح آج انہیں مال غنیمت ہاتھ سے چھوڑنا ناگوار ہو رہا ہے، حالانکہ حق کا مطالبہ یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑیں اور حکم کا انتظار کریں۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اللہ کی اطاعت کرو گے اور اپنے نفس کی خواہش کے بجائے رسول کا کہا مانو گے تو ویسا ہی اچھا نتیجہ دیکھو گے جیسا ابھی جنگ بدر کے موقع پر دیکھ چکے ہو کہ تمہیں لشکر قریش کے مقابلہ پر جانا سخت ناگوار تھا اور اسے تم ہلاکت کا پیغام سمجھ رہے تھے لیکن جب تم نے حکم خدا و رسول کی تعمیل کی تو یہی خطرناک کام تمہارے لیے زندگی کا پیغام ثابت ہوا۔ قرآن کا یہ ارشاد ضمناً ان روایات کی بھی تردید کر رہا ہے جو جنگ بدر کے سلسلے میں عموماً کتب سیرت و مغازی میں نقل کی جاتی ہیں، یعنی یہ کہ ابتداءً نبی ﷺ اور مومنین قافلے کو لوٹنے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تھے۔ پھر چند منزل آگے جا کر جب معلوم ہوا کہ قریش کا لشکر قافلہ کی حفاظت کے لیے آرہا ہے تب یہ مشورہ کیا گیا کہ قافلے پر حملہ کیا جائے یا لشکر کا مقابلہ ؟ اس بیان کے برعکس قرآن یہ بتارہا ہے کہ جس وقت نبی ﷺ اپنے گھر سے نکلے تھے اسی وقت یہ امر حق آپ کے پیش نظر تھا کہ قریش کے لشکر سے فیصلہ کن مقابلہ کیا جائے۔ اور یہ مشاورت بھی اسی وقت ہوئی تھی کہ قافلے اور لشکر میں کس کو حملہ کے لیے منتخب کیا جائے۔ اور باوجودیکہ مومنین پر یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ لشکر ہی سے نمٹنا ضروری ہے، پھر بھی ان میں سے ایک گروہ اس سے بچنے کے لیے حجت کرتا رہا۔ اور بالآخر جب آخری رائے یہ قرار پا گئی کہ لشکر ہی کی طرف چلنا چاہیے تو یہ گروہ مدینہ سے یہ خیال کرتا ہوا چلا کہ ہم سیدھے موت کے منہ میں ہانکے جا رہے ہیں۔
Ayah 8:7

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا۔5 تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ 6مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے

سورة الْاَنْفَال 5 یعنی تجارتی قافلہ یا لشکر قریش۔ سورة الْاَنْفَال 6 یعنی قافلہ جس کے ساتھ صرف تیس چالیس محافظ تھے۔
Ayahs 8:8–10

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطِل باطِل ہو کر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔7

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں، ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، یقیناً اللہ زبردست اور دانا ہے

سورة الْاَنْفَال 7 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت فی الواقع صورت حال کیا رونما ہوگئی تھی۔ جیسا کہ ہم نے سورة کے دیباچہ میں بیان کیا ہے، لشکر قریش کے نکل آنے سے دراصل سوال یہ پیدا ہوگیا تھا کہ دعوت اسلامی اور نظام جاہلیت دونوں میں سے کس کو عرب میں زندہ رہنا ہے۔ اگر مسلمان اس وقت مردانہ وار مقابلہ کے لیے نہ نکلتے تو اسلام کے لیے زندگی کا کوئی موقع باقی نہ رہتا۔ بخلاف اس کے مسلمانوں کے نکلنے اور پہلے ہی بھرپور وار میں قریش کی طاقت پر کاری چوٹ لگا دینے سے وہ حالات پیدا ہوئے جن کی بدولت اسلام کو قدم جمانے کا موقع مل گیا اور پھر اس کے مقابلہ میں نظام جاہلیت پیہم شکست کھاتا ہی چلا گیا۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا،8 اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دُور کرے اور تمہاری ہمّت بندھائے اور اس کے ذریعہ سے تمہارے قدم جمادے۔9

سورة الْاَنْفَال 8 یہی تجربہ مسلمانوں کو احد کی جنگ میں پیش آیا جیسا کہ سورة آل عمران آیت 154 میں گزر چکا ہے۔ اور دونوں مواقع پر وجہ وہی ایک تھی کہ جو موقع شدت خوف اور گھبراہٹ کا تھا اس وقت اللہ نے مسلمانوں کے دلوں کو ایسے اطمینان سے بھر دیا کہ ان پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ سورة الْاَنْفَال 9 یہ اس رات کا واقعہ ہے جس کی صبح کو بدر کی لڑائی پیش آئی۔ اس بارش کے تین فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو پانی کا کافی مقدار مل گئی اور انہوں نے فوراً حوض بنا بنا کر بارش کا پانی روک لیا۔ دوسرے یہ کہ مسلمان چونکہ وادی کے بالائی حصے پر تھے اس لیے بارش کی وجہ سے ریت جم گئی اور زمین اتنی مضبوط ہوگئی کہ قدم اچھی طرح جم سکیں اور نقل و حرکت بآسانی ہو سکے۔ تیسرے یہ کہ لشکر کفار نشیب کی جانب تھا اس لیے وہاں اس بارش کی بدولت کیچڑ ہوگئی اور پاؤں دھنسنے لگے۔ شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست سے مراد وہ ہراس اور گھبراہٹ کی کیفیت تھی جس میں مسلمان ابتداءً مبتلا تھے۔
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

اور وہ وقت جبکہ تمہارا ربّ فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ ”میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رُعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاوٴ۔“10

سورة الْاَنْفَال 10 جو اصولی باتیں ہم کو قرآن کے ذریعہ سے معلوم ہیں ان کی بنا پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرشتوں سے قتال میں یہ کام نہیں لیا گیا ہوگا یہ وہ خود حرب و ضرب کا کام کریں، بلکہ شاید اس کی صورت یہ ہوگی کہ کفار پر جو ضرب مسلمان لگائیں وہ فرشتوں کی مدد سے ٹھیک بیٹھے اور کاری لگے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
Ayah 8:13

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ؐ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔۔۔۔11

سورة الْاَنْفَال 11 یہاں تک کہ جنگ بدر کے جن واقعات کو ایک ایک کرکے یاد دلایا گیا ہے اس سے مقصود دراصل لفظ ”انفال“ کی معنویت واضح کرنا ہے۔ ابتدا میں ارشاد ہوا تھا کہ اس مال غنیمت کو اپنی جانفشانی کا ثمرہ سمجھ کر اس کے مالک و مختار کہاں بنے جاتے ہو، یہ تو دراصل عطیہ الہٰی ہے اور معطی خود ہی اپنے مال کا مختار ہے۔ اب اس کے ثبوت میں یہ واقعات گنائے گئے ہیں کہ اس فتح میں خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ تمہاری اپنی جانفشانی اور جرأت وجسارت کا کتنا حصہ تھا اور اللہ کی عنایت کا کتنا حصہ۔
Ayahs 8:14–15

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ12 ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزہ چکھو، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو

سورة الْاَنْفَال 12 خطاب کا رخ یکایک کفار کی طرف پھر گیا ہے جن کے مستحق سزا ہونے کا ذکر اوپر کے فقرے میں ہوا تھا۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیرے۔۔۔۔ اِلّا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔۔۔۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا، اُس کا ٹھکانا جہنّم ہو گا، اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے۔13

سورة الْاَنْفَال 13 دشمن کے شدید دباؤ پر مرتب پسیائی (Orderly retreat) ناجائز نہیں ہے جبکہ اس کا مقصود اپنے عقبی مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصہ سے جا ملنا ہو۔ البتہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ بھگدڑ (Rout) ہے جو کسی جنگی مقصد کے لیے نہیں بلکہ محض بزدلی و شکست خوردگی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس لیے ہوا کرتی ہے کہ بھگوڑے آدمی کو اپنے مقصد کی بہ نسبت جان زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ چناچہ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی۔ ایک شرک، دوسرے والدین کی حق تلفی، تیسرے میدان قتال فی سبیل اللہ سے فرار۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ نے سات بڑے گناہوں کا ذکر کیا ہے جو انسان کے لیے تباہ کن اور اس کے انجام اخروی کے لیے غارتگر ہیں۔ ان میں سے ایک یہ گناہ بھی ہے کہ آدمی کفر و اسلام کی جنگ میں کفار کے آگے پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ اس فعل کو اتنا بڑا گناہ قرار دینے کی وجہ سے صرف یہی نہیں ہے کہ یہ ایک بزدلانہ فعل ہے، بلکہ اس کی وہ یہ ہے کہ ایک شخص کا بھگوڑا پن بسا اوقات ایک پوری پلٹن کو، اور ایک پلٹن کا بھگوڑا پن ایک پوری فوج کو بدحواس کرکے بھگا دیتا ہے۔ اور پھر جب ایک دفعہ کسی فوج میں بھگدڑ پڑجائے تو کہا نہیں جاسکتا کہ تباہی کس حد پر جا کر ٹھیرے گی۔ اس طرح کی بھگدڑ صرف فوج ہی کے لیے تباہ کن نہیں ہے بلکہ اس ملک کے لیے بھی تباہ کن ہے جس کی فوج ایسی شکست کھائے۔
Ayahs 8:17–18

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تُو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا14 ( اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقیناً اللہ سُننے اور جاننے والا ہے

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے

سورة الْاَنْفَال 14 معرکہ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے اور عام زد و خورد کا موقع آگیا تو حضور ﷺ نے مٹھی بھر ریت ہاتھ میں لے کر شاھت الوُجُوہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھینکی اور اس کے ساتھ ہی آپ کے اشارے سے مسلمان یکبارگی کفار پر حملہ آور ہوئے۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 8:19–20

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(ان کافروں سے کہہ دو)”اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔15 اب باز آجاوٴ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اُسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی، اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔“

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، اللہ اور اُس کے رسُول کی اطاعت کرو اور حکم سُننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو

سورة الْاَنْفَال 15 مکہ سے روانہ ہوتے وقت مشرکین نے کعبہ کے پردے پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ خدایا دونوں گروہوں میں سے جو بہتر ہے اس کو فتح عطا کر۔ اور ابوجہل نے خاص طور پر کہا تھا کہ خدایا ہم میں سے جو برسر حق ہو اسے فتح دے اور جو برسر ظلم ہو اسے رسوا کردے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منہ مانگی دعائیں حرف بحرف پوری کردیں اور فیصلہ کر کے بتادیا کہ دونوں میں سے کون اچھا اور برسر حق ہے۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاوٴ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سُنا حالانکہ وہ نہیں سُنتے۔16

سورة الْاَنْفَال 16 یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جو ماننے اور قبول کرنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ اشارہ ان منافقین کی طرف ہے جو ایمان کا اقرار تو کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گُونگے لوگ ہیں17 جو عقل سے کام نہیں لیتے

سورة الْاَنْفَال 17 یعنی جو حق سنتے ہیں نہ حق بولتے ہیں۔ جن کے کان اور جن کے منہ حق کے لیے بہرے گونگے ہیں۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور اُنہیں سُننے کی توفیق دیتا ( لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ اُن کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔18

سورة الْاَنْفَال 18 یعنی جب ان لوگوں کے اندر خود حق پرستی اور حق کے لیے کام کرنے کا جذبہ نہیں ہے تو انہیں اگر تعمیل حکم میں جنگ کے لیے نکل آنے کی توفیق دے بھی دی جاتی تو یہ خطرے کا موقع دیکھتے ہی بےتکلف بھاگ نکلتے اور ان کی معیت تمہارے لیے مفید ثابت ہونے کے بجائے الٹی مضر ثابت ہوتی۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، اللہ اور اُس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول ؐ تمہیں اُس چیز کی طرف بُلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اُسی کی طرف تم سمیٹے جاوٴ گے۔ 19

سورة الْاَنْفَال 19 نفاق کی روش سے انسان کو بچانے کے لیے اگر کوئی سب سے زیادہ موثر تدبیر ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ وہ عقیدے انسان کے ذہن نشین ہوجائیں۔ ایک یہ کہ معاملہ اس خدا کے ساتھ ہے جو دلوں کے حال تک جانتا ہے اور ایسا رازدان ہے کہ آدمی اپنے دل میں جو نیتیں، جو خواہشیں، جو اغراض و مقاصد اور جو خیالات چھپا کر رکھتا ہے وہ بھی اس پر عیاں ہیں۔ دوسرے یہ کہ جانا بہرحال خدا کے سامنے ہے۔ اس سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ یہ وہ عقیدے ہیں کہ جتنے زیادہ پختہ ہوں گے اتنا ہی انسان نفاق سے دور رہے گا۔ اسی لیے منافقت کے خلاف وعظ و نصیحت کے سلسلہ میں قرآن ان دو عقیدوں کا ذکر بار بار کرتا ہے۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پرصرف اُنہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔20 اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

سورة الْاَنْفَال 20 س سے مراد وہ اجتماعی فتنے ہیں جو وبائے عام کی طرح ایسی شامت لاتے ہیں جس میں صرف گناہ کرنے والے ہی گرفتار نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جو گناہ گار سوسائٹی میں رہنا گوارا کرتے رہے ہوں۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ جب تک کسی شہر میں گندگیاں کہیں کہیں انفرادی طور پر چند مقامات پر رہتی ہیں۔ ان کا اثر محدود رہتا ہے اور ان سے وہ مخصوص افراد ہی متاثر ہوتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے جسم اور اپنے گھر کو گندگی سے آلودہ کر رکھا ہو۔ لیکن جب وہاں گندگی عام ہوجاتی ہے اور کوئی گروہ بھی سارے شہر میں ایسا نہیں ہوتا جو اس خرابی کو روکنے اور صفائی کا انتظام کرنے کی سعی کرے تو پھر ہوا اور زمین اور پانی ہر چیز میں سمیت پھیل جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو وبا آتی ہے اس کی لپیٹ میں گندگی پھیلانے والے اور گندہ رہنے والے گندہ ماحول میں زندگی بسر کرنے والے سب ہی آجاتے ہیں۔ اسی طرح اخلاقی نجاستوں کا حال بھی ہے کہ اگر وہ انفرادی طور پر بعض افراد میں موجود رہیں اور صالح سوسائٹی کے رعب سے دبی رہیں تو اسن کے نقصانات محدود رہتے ہیں۔ لیکن جب سوسائٹی کا اجتماعی ضمیر کمزور ہوجاتا ہے، جب اخلاقی برائیوں کو دبا کر رکھنے کی طاقت اس میں نہیں رہتی، جب اس کے درمیان برے اور بےحیا اور بد اخلاق لوگ اپنے نفس کی گندگیوں کو اعلانیہ اچھا لنے اور پھیلانے لگتے ہیں، اور جب اچھے لوگ بےعملی (Passiveattitude) اختیار کرکے اپنی انفرادی اچھائی پر قانع اور اجتماعی برائیوں پر ساکت و صامت ہوجاتے ہیں، تو مجموعی طور پر پوری سوسائٹی کی شامت آجاتی ہے اور وہ فتنہ عام برپا ہوتا ہے جس میں چنے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ رسول جس اصلاح و ہدایت کے کام کے لیے اٹھا ہے اور تمہیں جس خدمت میں ہاتھ بٹناے کے لیے بلا رہا ہے اسی میں درحقیقت شخصی و اجتماعی دونوں حیثیتوں سے تمہارے لیے زندگی ہے۔ اگر اس میں سچے دل سے مخلصانہ حصہ نہ لو گے اور ان برائیوں کو جا سوسائٹی میں پھیلی ہوئی ہیں برداشت کرتے رہو گے تو وہ فتنہ عام برپا ہوگا جس کی آفت سب کو لپیٹ میں لے لے گی خواہ بہت سے افراد تمہارے درمیان ایسے موجود ہوں جو عملاً برائی کرنے اور برائی پھیلانے کے ذمہ دار نہ ہوں، بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھلائی ہی لیے ہوئے ہوں۔ یہ وہی بات ہے جس کو سورة اعراف آیات 163۔ 166 میں اصحاب السّبت کی تاریخی مثال پیش کرتے ہوئے بیان کیا جاچکا ہے اور یہی وہ نقطہ نظر ہے جسے اسلام کی اصلاحی جنگ کا بنیادی نظریہ کہا جاسکتا ہے۔
Ayahs 8:26–27

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جبکہ تم تھوڑے تھے، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مِٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا ، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، جانتے بُوجھتے اللہ اور اُس کے رسول ؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں22 غداری کے مرتکب نہ ہو

سورة الْاَنْفَال 21 یہاں شکر گزاری کا لفظ غور کے قابل ہے۔ اوپر کے سلسلہ تقریر کو نظر میں رکھا جائے تو صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ اس موقع پر شکر گزاری کا مفہوم صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ لوگ اللہ کے اس احسان کو مانیں کہ اس نے اس کمزوری کی حالت سے انہیں نکالا اور مکہ کی پرخطر زندگی سے بچا کر امن کی جگہ لے آیا جہاں طیبات رزق میسر ہو رہے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ بات بھی اسی شکر گزاری کے مفہوم میں داخل ہے کہ مسلمان اس خدا کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں جس نے یہ احسانات ان پر کیے ہیں، اور رسول کے مشن میں اخلاص و جاں نثاری کے ساتھ کام کریں، اور اس کام میں جو خطرات و مہالک اور مصائب پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ اسی خدا کے بھروسے پر کرتے چلے جائیں جس نے اس سے پہلے ان کو خطرات سے بعافیت نکالا ہے، اور یقین رکھیں کہ جب وہ خدا کا کام اخلاص کے ساتھ کریں گے تو خدا ضرور ان کا وکیل و کفیل ہوگا۔ پس شکر گزاری محض اعترافی نوعیت ہی کی مطلوب نہیں ہے بلکہ عملی نوعیت کی بھی مطلوب ہے۔ احسان کا اعتراف کرنے کے باوجود محسن کی رضا جوئی کے لیے سعی نہ کرنا اور اس کی خدمت میں مخلص نہ ہونا اور اس کے بارے میں یہ شک رکھنا کہ نہ معلوم آئندہ بھی وہ احسان کریگا یا نہیں، ہرگز شکر گزاری نہیں ہے بلکہ الٹی ناشکری ہے۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں23 اور اللہ کےپاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے

سورة الْاَنْفَال 22 ”اپنی امانتوں“ سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیں جو کسی پر اعتبار (Trust) کر کے اس کے سپرد کی جائیں، خواہ وہ عہد وفا کی ذمہ داریاں ہوں، یا اجتماعی معاہدات کی، یا جماعت کے رازوں کی، یا شخصی و جماعتی اموال کی، یا کسی ایسے عہدہ و منصب کی جو کسی شخص پر بھروسہ کرتے ہوئے جماعت اس کے حوالے کرے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 88)۔ سورة الْاَنْفَال 23 انسان کے اخلاص ایمانی میں جو چیز بالعموم خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت، غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد، جن کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ جاتے ہو، دراصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لیے سامان آزمائش ہیں۔ جسے تم بیٹا یا بیٹی کہتے ہو حقیقت کی زبان میں وہ در اصل امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اور جسے تم جائیداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پرچہ امتحان ہے۔ یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لیے کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ تم کہاں تک حقوق اور حدود کا لحاظ کرتے ہو، کہاں تک اپنے نفس کو جو ان دنیوی چیزوں کی محبت میں اسیر ہوتا ہے، اسی طرح قابو میں رکھتے ہو کہ پوری طرح بندہ حق بھی بنے رہو اور ان چیزوں کے حقوق اس حد تک ادا بھی کرتے رہو جس حد تک حضرت حق نے خود ان کا استحقاق مقرر کیا ہے۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا 24اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دور کرے گا، اور تمہارے قصور معاف کرے گا۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے

سورة الْاَنْفَال 24 کسوٹی اس چیز کو کہتے ہیں جو کھرے اور کھوٹے کے امتیاز کو نمایاں کرتی ہے۔ یہی مفہوم ”فرقان“ کا بھی ہے اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس لفظ سے کیا ہے۔ ارشاد الہٰی کا منشا یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو تمہاری دلی خواہش یہ ہو کہ تم سے کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہونے پائے جو رضائے الہٰی کے خلاف ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اندر وہ قوت تمیز پیدا کردے گا جس سے قدم قدم پر تمہیں خود یہ معلوم ہوتا رہے گا کہ کونسا رویہ صحیح ہے اور کونسا غلط، کس رویہ میں خدا کی رضا ہے اور کس میں اس کی ناراضی۔ زندگی کے ہر موڑ، ہر دورا ہے، ہر نشیب اور ہر فراز پر تمہاری اندرونی بصیرت تمہیں بتانے لگے گی کہ کدھر قدم اٹھانا چاہیے اور کدھر نہ اٹھانا چاہیے، کونسی راہ حق ہے اور خدا کی طرف جاتی ہے اور کونسی راہ باطل ہے اور شیطان سے ملاتی ہے۔
Ayahs 8:30–31

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرینِ حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔25 وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہترین چال چلنے والا ہے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ“ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں "

سورة الْاَنْفَال 25 یہ اس موقع کا ذکر ہے جبکہ قریش کا یہ اندیشہ یقین کی حد کو پہنچ چکا تھا کہ اب محمد ﷺ بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ اس وقت وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ شخص مکہ سے نکل گیا تو پھر خطرہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائے گا۔ چناچہ انہوں نے آپ کے معاملہ میں ایک آخری فیصلہ کرنے کے لیے دارالنَّدوہ میں تمام رؤسائے قوم کا ایک اجتماع کیا اور اس امر پر باہم مشاورت کی کہ اس خطرے کا سدّ باب کس طرح کیا جائے۔ ایک فریق کی رائے یہ تھی کہ اس شخص کو بیڑیاں پہنا کر ایک جگہ قید کردیا جائے اور جیتے جی رہا نہ کیا جائے۔ لیکن اس رائے کو قبول نہ کیا گیا کیونکہ کہنے والوں نے کہا کہ اگر ہم نے اسے قید کردیا تو اس کے جو ساتھی قید خانے سے باہر ہونگے وہ برابر اپنا کام کرتے رہیں گے اور جب ذرا بھی قوت پکڑ لیں گے تو اسے چھڑانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے میں بھی دریغ نہ کریں گے۔ دوسرے فریق کی رائے یہ تھی کہ اسے اپنے ہاں سے نکال دو۔ پھر جب یہ ہمارے درمیان نہ رہے تو ہمیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے، بہر حال اس کے وجود سے ہمارے نظام زندگی میں خلل پڑنا تو بند ہوجائے گا۔ لیکن اسے بھی یہ کہہ کر رد کردیا گیا کہ شخص جادو بیان آدمی ہے، دلوں کو موہنے میں اسے بلا کا کمال حاصل ہے، اگر یہ یہاں سے نکل گیا تو نہ معلوم عرب کے کن کن قبیلوں کو اپنا پیرو بنالے گا اور پھر کتنی قوت حاصل کرکے قلب عرب کو اپنے اقتدار میں لانے کے لیے تم پر حملہ آور ہوگا۔ آخر کار ابوجہل نے یہ رائے پیش کی کہ ہم اپنے تمام قبیلوں میں سے ایک ایک عالی نسبت تیز دست جوان منتخب کریں اور یہ سب مل کر یک بارگی محمد ﷺ پر ٹوٹ پڑیں اور اسے قتل کر ڈالیں۔ اس طرح محمد ﷺ کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائے گا اور بنو عبد مناف کے لیے ناممکن ہوجائے گا کہ سب سے لڑ سکیں اس لیے مجبوراً خون بہا پر فیصلہ کرنے کے لیے راضی ہوجائیں گے۔ اس رائے کو سب نے پسند کیا، قتل کے لیے آدمی بھی نامزد ہوگئے اور قتل کا وقت بھی مقرر کردیا گیا، حتیٰ کہ جو رات اس کام کے لیے تجویز کی گئی تھی اس میں ٹھیک وقت پر قاتلوں کا گروہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچ بھی گیا، لیکن ان کا ہاتھ پڑنے سے پہلے نبی ﷺ ان کی آنکھوں میں خاک جھونک کر نکل گئے اور ان کی بنی بنائی تدبیر عین وقت پر ناکام ہو کر رہ گئی۔
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور وہ بات بھی یا د ہے جو اُنہوں نے کہی تھی کہ ”خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔“26

سورة الْاَنْفَال 26 یہ بات وہ دعا کے طور پر نہیں کہتے تھے بلکہ چیلنج کے انداز میں کہتے تھے۔ یعنی ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر واقعی یہ حق ہوتا اور خدا کی طرف سے ہوتا تو اس کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم پر آسمان سے پتھر برستے اور عذاب الیم ہمارے اوپر ٹوٹ پڑتا۔ مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نہ حق ہے نہ منجانب اللہ ہے۔
Ayahs 8:33–34

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تُو ان کے درمیان موجود تھا۔ اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ اُن کو عذاب دیدے۔27

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

لیکن اب کیوں نہ وہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس مسجد کے جائز متولی نہیں ہیں اس کے جائز متولی تو صرف اہلِ تقویٰ ہی ہو سکتے ہیں مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے

سورة الْاَنْفَال 27 یہ ان کے اس سوال کا جواب ہے جو ان کی اوپر والی ظاہری دعا میں متضمن تھا۔ اس جواب میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں کیوں عذاب نہیں بھیجا۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ جب تک نبی کسی بستی میں موجود ہو اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہو اس وقت تک بستی کے لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے اور عذاب بھیج کر قبل از وقت ان سے اصلاح پذیری کا موقع سلب نہیں کرلیا جاتا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک بستی میں سے ایسے لوگ پے در پے نکلتے چلے آرہے ہوں جو اپنی سابقہ غفلت اور غلط روی پر متنبہ ہو کر اللہ سے معافی کی درخواست کرتے ہوں اور آئندہ کے لیے اپنے رویہ کی اصلاح کرلیتے ہوں، اس وقت تک کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ اس بستی کو تباہ کر کے رکھ دے۔ البتہ عذاب کا اصلی وقت وہ ہوتا ہے جب نبی اس بستی پر حجّت پوری کرنے کے بعد مایوس ہو کر وہاں سے نکل جائے یا نکال دی جائے یا قتل کر ڈالا جائے، اور وہ بستی اپنے طرز عمل سے ثابت کر دے کہ وہ کسی صالح عنصر کو اپنے درمیان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
Ayahs 8:35–36

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز کیا ہوتی ہے ، بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں28، پس اب لو، اِس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکارِ حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔29

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے

سورة الْاَنْفَال 28 یہ اشارہ اس غلط فہمی کی تردید میں ہے جو لوگوں کے دلوں میں چھپی ہوئی تھی اور جس سے عام طور پر اہل عرب دھوکا کھا رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قریش چونکہ بیت اللہ کے مجاور اور متولی ہیں اور وہاں عبادت بجا لاتے ہیں اس لیے ان پر اللہ کا فضل ہے۔ اس کے رد میں فرمایا کہ محض میراث میں مجاورت اور تولیت پالینے سے کوئی شخص یا گروہ کسی عبادت گاہ کا جائز مجاور ومتولی نہیں ہوسکتا۔ جائز مجاور و متولی تو صرف خدا ترس اور پرہیزگار لوگ ہی ہو سکتے ہیں۔ اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ایک جماعت کو، جو خالص خدا کی عبادت کرنے والی ہے، اس عبادت گاہ میں آنے سے روکتے ہیں جو خا لص خدا کی عبادت ہی کے لیے وقف کی گئی تھی۔ اس طرح یہ متولی اور خادم بن کر رہنے کے بجائے اس عبادت گاہ کے مالک بن بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو اس بات کا مختار سمجھنے لگے ہیں کہ جس یہ ناراض ہوں اسے عبادت گاہ میں نہ آنے دیں۔ یہ حرکت ان کے ناخدا ترس اور ناپرہیز گار ہونے کے صریح دلیل ہے۔ رہی ان کی عبادت جو وہ بیت اللہ میں کرتے ہیں تو اس کے اندر نہ خضوع و خشوع ہے، نہ تو جہ الی اللہ ہے، نہ ذکر الہٰی ہے، بس ایک بےمعنی شور و غل اور لہو و لعب ہے جس کا نام انہوں نے عبادت رکھ چھوڑا ہے۔ ایسی نام و نہاد خدمت بیت اللہ اور ایسی جھوٹی عبادت پر آخر یہ فضل الہٰی کے مستحق کیسے ہوگئے اور یہ چیز انہیں عذاب الہٰی سے کیونکر محفوظ رکھ سکتی ہے ؟ سورة الْاَنْفَال 29 وہ سمجھتے تھے کہ عذاب الہٰی صرف آسمان سے پھتروں کی شکل میں یا کسی اور طرح قوائے فطرت کے ہیجان ہی کی شکل میں آیا کرتا ہے۔ مگر یہاں انہیں بتایا گیا ہے کہ جنگ بدر میں ان کی فیصلہ کن شکست، جس کی وجہ سے اسلام کے لیے زندگی کا اور قدیم نظام جاہلیت کے لیے موت کا فیصلہ ہوا ہے، دراصل ان کے حق میں اللہ کا عذاب ہی ہے۔
Ayahs 8:37–38

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے، یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں۔30

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

اے نبیؐ، ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ہے اس سے درگزر کر لیا جائے گا، لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب کو معلوم ہے

سورة الْاَنْفَال 30 اس سے بڑھ کر دیوالیہ پن اور کیا ہوسکتا ہے کہ انسان جس راہ میں اپنا تمام وقت، تمام محنت، تمام قابلیت، اور پورا سرمایہ زندگی کھپا دے اس کی انتہا پر پہنچ کر اسے معلوم ہو کہ وہ اسے سیدھی تباہی کی طرف لے آئی ہے اور اس راہ میں جو کچھ اس نے کھپایا ہے اس پر کوئی سود یا منافع پانے کے بجائے اسے الٹا جرمانہ بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 8:39–40

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہےاور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔31 پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو اُن کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی و مدد گار ہے

سورة الْاَنْفَال 31 یہاں پھر مسلمانوں کی جنگ کے اسے ایک مقصد کا اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے سورة بقر آیت 193 میں بیان کیا گیا تھا۔ اس مقصد کا سلبی جزء یہ ہے کہ فتنہ باقی رہ رہے، اور ایجابی جزء یہ ہے کہ دین بالکل اللہ کے لیے ہوجائے بس یہی ایک اخلاقی مقصد ایسا ہے جس کے لیے لڑنا اہل ایمان کے لیے جائز بلکہ فرض ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے مقصد کی لڑائی جائز نہیں ہے اور نہ اہل ایمان کو زیبا ہے کہ اس میں کسی طرح حصہ لیں۔ (تشریح کے یے ملاحظہ ہو سورة بقرہ، حواشی 204 و 205)