8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsسراج البیان

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

مال غنیمت (ف 2) کی بابت تجھ سے پوچھتے ہیں تو کہ مال غنیمت اللہ کا اور رسول کا ہے ، سو تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو ، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگر مومن ہو ۔

(ف 2) مدنی ہے بدر میں غنائم کے سلسلہ میں تنازع پیدا ہو تو یہ نازل ہوئی ، اس میں حصص کی تفصیل ہے ، نوجوان یہ کہتے تھے کہ ہم غنیمت کے زیادہ حقدار ہیں شیوخ کو یہ فضیلت تسلیم نہ تھی اللہ تعالیٰ نے اس عقدہ میں فرمایا اصل میں یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے قبضہ وملک میں ہے ، وہ جیسا چاہیں ، تقسیم کردیں تمہیں اعتراض نہیں کرنا چاہئے ۔ حضور ﷺ نے خمس نکال لینے کے بعد نوجوانوں اور بوڑھوں میں مال برابر تقسیم کردیا ۔ حل لغات : انصتوا ، مصدر انصات کچھ سننے کے لئے خاموش ہوجانا ۔ انفال : جمع نفل ، بمعنی مال غنیمت ۔
Ayah 8:2

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

وہی ہیں ایماندار کہ جب اللہ کا نام آئے ، ان کے دل ڈر جائیں ، اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں ، ان کا ایمان بڑھے ، اور وہ (ف 1) ۔ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مومن کو غیر مشروط طور پر مطیع ہونا چاہئے اس کا دل ایسا اثر پذیر ہوتا ہے کہ خدا کا نام سن کر کانپ جاتا ہے ، قرآن کی آیات کو سنتا ہے تو دل میں ایمان کا سمندر موجزن ہوجاتا ہے ، اس کی بصیرت اور معارف دینیہ میں معتدبہ اضافہ ہوتا رہتا ہے ، وہ متوکل ہے ہر بات میں اللہ پر اسے بھروسا ہے ۔
Ayahs 8:3–4

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

جو نماز پڑھتے ، اور ہمارا دیا ہوا خرچ کرتے ہیں (ف 2) ۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

وہی سچے مومن ہیں ، ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے ہیں ، اور مغفرت اور عزت کا رزق ۔

(ف 2) درحقیقت مومن وہ ہے جو صلوۃ وزکوۃ کے نظام پر عمل پیرا ہے ، اس کے لئے روحانی درجات ہیں ، یہی مغفرت الہی کا حصہ دار ہے اور یہی وہ ہے جس کی روزی پاک اور طیب ہے ۔ مگر صلوۃ وزکوۃ کا مفہوم محض مرسومہ اذکار وادعیہ کا ادا کرنا نہیں ، نہ سال کے بعد ایک متعین رقم ادا کرنا ہے ، بلکہ اس کے ساتھ روح ومغز کا حصول ضروری ہے ، نماز پڑھے ، اور نمازی کی عادات وخصائل کا حامل بنے ، زکوۃ دے اور قومی وملی ضروریات سے آگاہ رہے ۔
Ayahs 8:5–9

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

جیسے کہ تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے رب نے سچائی کے ساتھ تیرے گھر سے نکالا ، اور مسلمانوں کی ایک جماعت راضی نہ تھی (ف 1) ۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

حق بات میں اس کے واضح ہونے کے بعد تیرے ساتھ جھگڑتے تھے ، گویا وہ لوگ موت کی طرف ہانکے جاتے تھے ، اور انہیں موت سامنے نظر آتی تھی ۔

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور جب اللہ تمہیں دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ دیتا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی ، اور تم چاہتے تھے کہ وہ جماعت تمہیں ملے جس میں کانٹا نہ لگے ، اور اللہ کا ارادہ تھا ، کہ حق کو اپنے کلاموں سے سچا کرے ، اور کفار کی جڑ کاٹ ڈالے ،

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچا کرے ، اور جھوٹ کو جھوٹ اور اگرچہ مجرم پسند نہ کریں ۔

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم نے اپنے رب سے فریاد کی سو اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی کہ میں ایک ہزار فرشتے لگاتار بھیج کر تمہاری مدد کروں گا ۔

غزوہ بدر : (ف 1) 2 ھ؁ میں مسلمانوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ مکہ والوں کی شرارتوں کا قطعی سدباب کردیا جائے یہ تقریبا 300 میل کی دوری کے باوجود مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے اکثر دھمکیاں دیتے ، کہ ہم یثرب پہنچ کر تمہیں مزہ چکھائین گے ربیع الاول 2 ھ؁ میں ایک شخص کو زبن جابر الفہری مدینہ پہنچا اور اونٹ لوٹ کرلے گیا ، حضور ﷺ نے فیصلہ کرلیا ، کہ مدینے سے باہر نکل کر فیصلہ کن جنگ ہوجائے ، تاکہ کفر کو آیندہ ایمان کے خلاف جرات نہ رہے ۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے مشورہ کیا ، سب نے رضا مندی کا اظہار کیا یہ ایک جماعت ایسی تھی ، جسے باہر نکل کر کامیابی کا بھروسہ نہ تھا وہ کہتے تھے ہم اچھی طرح تیار نہیں ہیں ، پہلے سے علم ہوتا تو تیاری کرلیتے مگر حضور ﷺ کا فیصلہ قطعی تھا اللہ تعالیٰ یہ چاہتے تھے کہ احقاق حق ہوجائے ، اور کفر کے سارے ارمان نکل جائیں ، ” احدی الطآئفتین “۔ سے غرض یہ ہے کہ ایک قافلہ ابو سفیان کا جا رہا تھا جس کے تعاقب میں مسلمان نکلے ، مگر کفار مکہ کا لشکر جرار مقابلے کے لئے آرہا تھا ، اللہ یہ چاہتے تھے کہ تمہاری مڈبھیڑ لشکر سے ہو ، تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ایمان میں کتنی قوت ہے اور تم چاہتے تھے کہ قافلہ ہاتھ آجائے ، تاکہ آسمانی سے مال غنیمت کے حقدار بن جائیں ، اس لئے وہی ہوا جو خدا کا منشاء تھا ۔ حل لغات : یساقون : مصدر سوق ، ہنکانا ۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور یہ وعدہ مدد جو اللہ نے کیا صرف خوشخبری تھی ، اور تاکہ اس کے وسیلہ سے تمہارے دل تسکین پائیں ، اور فتح تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوا کرتی ہے اللہ غالب حکمت والا ہے ۔ (ف 1) ۔

فرشتوں کی تائید : (ف 1) حضور ﷺ جب بدر میں تین سو تیرہ قدوسی لے کر پہنچے ہیں ، تو کفار ایک ہزار کی تعداد میں تھے ، مسلمان نہایت بےسروسامانی میں تھے ساری فوج میں دو گھوڑے اور سات اونٹ ، غور کرو ، اتنی سی قوت کے ساتھ کفر کے خلاف صف آرائی کا خیال ہے ۔ حضور ﷺ نے دعا کی کہ اللہ اگر یہ مخلصین کی چھوٹی سی جماعت کٹ گئی ، تو پھر تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک کون پھیلائے گا ، اللہ تعالیٰ نے دعا کو خلعت قبولیت بخشا اور مسلمانوں کی تائید کے لئے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے ۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ فرشتوں کا نزول تمہاری تسکین کے لئے ہے ورنہ اللہ کے پاس اور بھی نصرت واعانت کے بیشمار روحانی وسائل ہیں ۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے تم پر اونگھ ڈالی ، جو اس کی طرف سے پیغام امن تھی ، اور آسمان سے مینہ برسایا ‘ تاکہ اس پانی سے تمہیں پاک کرے ‘ اور شیطانی نجاست تم سے دفع کرے ، اور تمہارے دلوں پر محکم گرہ لگائے ، اور تمہارے قدم ثابت کرے (ف 2) ۔

(ف 2) عین میدان جنگ میں نیند یہ اللہ کی خاص نعمت تھی ، اس سے مسلمان تازہ دم ہوگئے نیز کفار کے لئے یہ امر نہایت مرعوب کن ہے کہ مسلمان مصاف جنگ میں بےخطر ہو کر سوجاتے ہیں ۔ یہ درحقیقت مسلمانوں کی طمانیت قلب کا بہترین نمونہ ہے ۔ پانی کا برس جانا بھی خاص عنایت تھی طبیتیں شگفتہ ہوگئیں ، ضروریات کو پورا کرلیا گیا ، اور دل میں کسی طرح کا میل باقی نہ رہا ۔
Ayahs 8:12–15

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم دیا (کہ تم مدد کر چلو) میں بھی تمہارے ساتھ ہوں ، تم مسلمانوں کو مضبوط کرو ، میں کافروں کے دل میں خوف ڈالوں گا ، پس تم گردنوں پر (تلواریں) مارو ، اور ان کے پور پور کاٹ ڈالو (ف 1) ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول سے مخالفت کریگا تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ تو تم چکھ لو ، اور جان رکھو کافروں کے لئے آگ کا عذاب (آگے بھی) ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

مومنو ! جب تم میدان جنگ میں کافروں کے مقابل ہو ، تو ان کو ہرگز پشت نہ دو ۔

(ف 1) فرشتے اللہ کا حکم پاکر کفر کو مرعوب کرتے رہے ، اور اس کا اثر آج تک مسلمان محسوس کرتا ہے ، وہ ہزار کمزور ہے کفر کے خلاف پوری طرح جانباز ہے گو وہ تمام قوموں سے پیچھے ہے ، گر رعب اب تک قائم ہے ، کفر وطاغوت کی تمام فوجیں مسلمان سے خائف ہیں ، کیونکہ یہی تنہا استعمار کے لئے خطرہ ہے ، حل لغات : مردفین : مردف کی جمع ہے ، یعنی فرشتے ، ردیف دار آتے ہیں گے ، لیربط علی قلوبکم ، ربط علی قلبہ محاورہ ہے مراد حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو کوئی اس دن ان کو پشت دے گا ، سوائے اس کے جو ہنر کرنا ہے لڑائی کا یا اپنی فوج میں جا ملتا ہے ، وہ اللہ کا غضب لے پھرے گا ، اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا ، اور وہ بری جگہ ہے (ف 1) ۔

(ف 1) اسلام صلح وآشتی کا مذہب ہے ، مگر جب کفر وطاغوت کا مقابلہ آپڑے ، اس وقت کسی رواداری اور بزدلی کو جائز قرار نہیں دیتا ، میدان جہاد سے فرار بدترین گناہ ہے اسلام بہادروں کا مذہب ہے ، البتہ پینترا بدلنا اور طرح دنیا اس سے مستثنے ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ میدان جہاد میں صرف بہادری اور شہامت کا خطاب نہیں ہونا چاہئے بلکہ عقلمندی اور دانائی کا اداء بھی ضروری ہے ۔
Ayahs 8:17–18

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

پس تم نے انہیں نہیں مارا ، لیکن اللہ نے مارا ، اور تونے مٹھی خاک نہیں پھینکی تھی ، جب پھینکی تھی ، مگر اللہ نے پھینکی تھی ، اور وہ مومنین پر اپنی طرف سے خوب احسان کیا چاہتا تھا اور اللہ سننا جانتا ہے (ف 2) ۔

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ تو ہوچکا اور جان رکھو کہ اللہ کافروں کی تدبیر کو سست کرے گا ۔

وما رمیت : (ف 2) مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں نے میدان جہاد میں محض اپنے فرض کو ادا کیا ہے ، ورنہ کامیابی اور نصرت تو تمہاری کوششوں کی رہین منت نہیں ، تم نے بلاشبہ ان سے جنگ کی اور بہادری کا اظہار کیا ، اور اگر اللہ کفر کو ہزیمت نہ دینا چاہتا ، تو تم فتح پر قادر نہ ہو سکتے ۔ اسی طرح حضور ﷺ کے متعلق فرمایا ، آپ نے جو مٹی کی مٹھی شاھت الوجوہ کہہ کر پھینکی اور مخالفین کی آنکھیں چندھیا گئیں ، یہ بھی محض اللہ کا فضل تھا ، غرض یہ ہے کہ بڑی سے بڑی کامیابی بھی اللہ کے فضل سے بےنیاز نہیں ۔ حل لغات : متحرفا : حرف کے معنی پہلو یا کنارے کے ہیں ، تحرف سے مراد ایک طرف ہوجانا ہے ۔ بیواؤ کے لئے متحیزا : ” حبز کے معنی جگہ کے ہیں یعنی دوسری جگہ منتقل ہونے والا ۔
Ayahs 8:19–21

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو فیصلہ تم کو پہنچ چکا ، اب اگر تم باز آؤ ، تمہارے لئے بہتر ہے ، اور جو تم مڑ کے آؤ گے ، ہم بھی مڑ کے آئیں گے ، اور تمہاری جمعیت کچھ تمہیں مفید نہ ہوگی ، اگرچہ بہت ہو ، اور اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے (ف 1) ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

مومنو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو ، اور اس سے منہ نہ موڑو ، حالانکہ تم سنتے ہو ۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان کی مانند نہ ہو ، جو کہتے ہیں ، کہ ہم نے سنا ، اور وہ نہیں سنتے ،

(ف 1) مکہ والے جب گھروں سے جنگ کے لئے نکلے تو یہ کہتے ہوئے نکلے اللہ ہم میں سے جو ہدایت پر ہے اس کی نصرت فرمائیو ، اب بدر کی فتح نے یقین دلا دیا کہ مسلمان حق پر تھے ، کیونکہ باوجود قلت تعداد کے اور بےسروسامانی کے یہ حرت انگیز کامیابی بجز صداقت وتائید ربانی کے کیوں کر مسکن ہے ۔ فرمایا شرارتوں سے اب بھی رک جاؤ تمہیں کثرت تعداد پر مغرور نہ ہونا چاہئے اللہ کی نصرتیں حق وصداقت کے ساتھ ہیں ، کثرت کے ساتھ نہیں ۔
Ayahs 8:22–23

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

خدا کے نزدیک سب جانداروں میں بدتر بہرے اور گونگے ہیں ، جو نہیں سمجھتے (ف 1) ۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں بھلائی جانتا تو انہیں سنواتا اور اب اگر انہیں سنوائے تو وہ منہ موڑ کے الٹے بھاگیں ،

(ف 1) غرض یہ ہے کہ بدترین مخلوق کی توضیح کی جائے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان اس لئے دیئے ہیں کہ وہ حق وصداقت کی آواز سنے زبان اس لئے عطا کی ہے ، تاکہ سچائی کا اعلان کرے ، مگر جب وہ صداقت کی جانب سے کان بند کرلے اور اس کے لب حق کی حمایت میں نہ ہلیں ، تو پرھ اس میں اور حیوانات میں کیا فرق ہے ، یہ تو ان سے بھی بدتر ٹھہرا ، وہ اپنے وظائف نوعی کو ادا کرتے ہیں مگر یہ عقل وخرد سے کام نہیں لیتا ۔ ان آیات میں خطاب منافقین کے گروہ سے ہے کہ کمبخت بالکل متاثر نہیں ہوتے ، اور برابر کفر وشرک کے مرض میں مبتلا رہتے ہیں ۔
Ayahs 8:24–25

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی مانو ، جب وہ تمہیں اس کام کے لئے بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے ۔ اور جانو کہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان خدا حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تم اس کی طرف جاؤ گے (ف 2) ۔

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور تم اس فتنہ سے ڈرتے رہو ، جو تم میں سے بالخصوص ظالموں ہی کو نہیں پکڑے گا (بلکہ عام ہے) اور جان لو ، کہ اللہ کا عذاب سخت ہے ،

حیات آفرین پیغمبر : (ف 2) مسلمان کو اطاعت مطلقہ کی دعوت ہے مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر دعوت رسول پر لبیک کہے کیونکہ اس کا پیغام حیات آفرین ہے اس کی ہر ادا زندگی ہے اور زندگی کا مرقع ہے ، جب تک مسلمان اپنے پیغمبر کے اسوہ پر عمل پیرا رہے ، زندہ رہے اور جب سے بدعات ورسوم کی پیروی اختیار کی ہے زندگی کے تمام آثار مفقود ہیں ۔ (آیت) ” ان اللہ یحول بین المر ، وقلبہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے قریب ہیں اور ہر شخص کے قلب میں اس کی قدرتوں کا انعکاس ہے اب جیسا تمہارے قلب کا شیشہ ہے خدا ویسا ہی قلب میں نظر آئے گا ، اگر تم منکر ہو ، تو تمہارے اور ہدایت و پرہیز گاری کے درمیان وہ حائل ہے ، اگر پاکباز ہو تو کفر کے خلاف تمہارے دل میں نفرت پیدا کر دے گا ، یعنی نیک انسان کے لئے نیکی کی توفیق ہے اور برے کے لئے برائی کا میدان وسیع ہے ۔ (آیت) ” واتقوا فتنۃ “۔ الخ ۔ سے مراد یہ ہے کہ بعض دفعہ تبلیغ و اشاعت میں تساہل کی وجہ سے دونوں فریق مبتلا ، فتنہ ہوجاتے ہیں ، تم اس سے بچو ، اور منکرات کے خلاف جہاد میں ، کوشاں رہو تاکہ تغافل کی باداش میں تمہیں بھی گرفتار نہ ہونا پڑے ۔
Ayahs 8:26–28

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اے مہاجرین) یاد کرو ، جب تم زمین کمزور اور تھوڑے تھے ، ڈرتے تھے ، کہ تمہیں لوگ اچک لیں گے ، سو اس نے تمہیں (مدینہ میں) جگہ دی ، اور اپنی فتح (بدر) سے تم کو قوت پہنچائی ، اور ستھری چیزیں روزی دیں ، شاید کہ تم شکر کرو (ف 1) ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

مومنو ! اللہ اور رسول سے ، اور آپس کی امانتوں میں خیانت نہ کرو ، اور تم جانتے ہو ۔

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جانو ، کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں ، اور اللہ تعالیٰ ، کے پاس بڑا ثواب ہے ۔

(ف 1) یعنی اللہ کا شکریۃ ادا کرتے رہو ، تم قلیل وکمزور تھے تمہیں طاقت وقوت بخشی تم اطمینان و فراغت سے محروم تھے ، اللہ نے جگہ دی ، اور اطمینان بخشا ۔ حل لغات : استجیبوا : قبول کرو ، اور مان لو ، یحول : حائل ہوجاتا ہے ، فتنۃ : عذاب ودیوانگی یعنی اولاد کی محبت میں بسا اوقات انسان ایثار وقربانی سے محروم رہتا ہے ۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مومنو ! اگر سے ڈرتے رہو گے ، تو وہ تمہارے لئے (مخالفین کی نسبت) فیصلہ کر دے گا ، اور تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تمہیں بخشے گا ، اور اللہ بڑے (ہی) فضل والا ہے (ف 1) ۔

مومن کا امتیاز : (ف 1) مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے وعدہ ہے کہ اگر اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو اور وہ سچے دل سے اسلام کے احکام کا احترام کرتا ہو ، تو دنیا میں اس کی زندگی خاص امتیاز سے بسر ہوگی وہ فرقان ، یعنی سلوک خاص کا مستحق ہوگا ، اس میں اور کفر و سلوک خاص کا مستحق ہوگا ، اس میں اور کفر وطاغوت میں تبائن ہوگا ، اس کے خلود و برتری کا مقابلہ نہ ہو سکے گا ، اور وہ شان سے جلال آلہی کا اظہار کرے گا ،
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور جب کفار (مکہ) تیری نسبت مکر کرتے تھے ، کہ تجھے قید ، باقتل ، یا جلاوطن کریں ، اور وہ تدبیر کرتے تھے ، اور اللہ بھی تدبیر کرتا تھا ، اور اللہ اچھا تدبیر کرنے والا ہے (ف 2) ۔

(ف 2) احسانات الہی کا ذکر ہے یعنی ایک وقت وہ تھا کہ حضور ﷺ کے متعلق مشورے کر رہے تھے کچھ کہتے تھے ، اس کو قید کرلو ، کچھ چاہتے تھے زندگی ہی سے محروم ہوجائے اور ایک طبقہ وہ تھا جو مکہ سے نکال دینے پر مصر تھا ان کی تمام تدبیریں ناکام رہیں اور اللہ نے حضور ﷺ کو مدینہ پہنچا دیا ، جہاں سینکڑوں جان نثار پیدا ہوگئے ، اور بالآخر یہ تجویزیں سوچنے والے بدر میں ذلیل ہوئے ۔ حل لغات : لیثبتوک : اثبات کے معنی روک لینے کے ہیں یعنی قید کر رکھنا ۔
Ayahs 8:31–32

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ہماری آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی تھیں ، کہتے تھے ، ہم سن چکے ، اگر ہم چاہیں تو ایسی باتیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف اگلوں کی کہانیاں (ف 1) ۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کر جب انہوں نے کہا تھا کہ اے خدا اگر یہ قرآن تیری طرف سے حق ہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسا دے ، یا ہم پر دکھ کا عذاب نازل کر ۔

(ف 1) یعنی یہ لوگ قرآن کی عظمت حقیقی سے آگاہ نہ ہوسکے ، قرآن کو جب سنتے ، تو کہتے قصے کہانیاں ہیں ، ہم بھی اس طرح کے قصے بیان کرسکتے ہیں ۔ مگر یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ قبول کریں ، یا قرآن کے مقاصد اصلیہ تک ان کی رسائی ہو ۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ ہرگز انہیں عذاب نہ کرتا جب تک تو ان میں تھا ، اور اللہ ان کو عذاب نہ کرتا ، جب تک کہ وہ استغفار کرتے (ف 2) ۔

(ف 2) حضور ﷺ کی رحمۃ اللعالمینی کا تذکرہ ہے یعنی گو یہ لوگ عذاب طلب کرتے ہیں ، مگر جب تک آپ کو وجود گرامی ان میں رہے گا ، اللہ تعالیٰ عذاب نہیں بھیج سکتے ، حضور ﷺ کا احترام عذاب سے مانع ہے ، اور پھر دوسری وجہ یہ تھی کہ عذاب طلبی میں وہ صادق بھی نہ تھے ، دل میں خائف تھے کہ کہیں واقعی عذاب نہ آجائے ، اس لئے چھپ چھپ کر استغفار کرتے ۔ جب حضور ﷺ نے مکہ کو چھور دیا اور مدینہ میں رہنے لگے تو اس وقت بدر کی صورت میں قریش کی یہ طلب بھی پوری ہوگئی یعنی عذاب ؤیا ، اور ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور کیونکر اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا جبکہ وہ مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں اور وہ اس مکان کے والی نہیں ، اس کے والی صرف ممتقی ہیں ، لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے (ف 1) ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ وہ کس برتے پر عذاب طلب کرتے ہیں ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ مسجد حرام سے مسلمانوں کو روکنا بہت بڑا جرم ہے یعنی جہاں تک ان کے جرائم کا تعلق ہے وہ قطعا سزاوار تعزیر ہیں ۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور وہ ان کی نماز خانہ کعبہ میں صرف سیٹی اور تالیاں بجانا تھی سو اب اپنے کفر کے بدلے میں عذاب چکھو (ف 2) ۔

(ف 2) حضور ﷺ جب صحن کعبہ میں نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مکہ والے احترام بیت اللہ کو بالائے طاق رکھ کر تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ، تاکہ نماز کو آپ دلجمعی اور سکون کے ساتھ نہ ادا کرسکیں ۔ فرمایا اگر ان کی یہی عبادت ہے اور یہی جذبہ احترام ہے تو آج بدر کے دن اس گستاخی کا مزہ چکھیں ۔
Ayahs 8:36–38

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

کافر اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو خدا کی راہ سے روکیں ، خرچ تو کریں گے ، پھر وہ خرچ ان پر (باعث) حسرت ہوگا ، آخر مغلوب ہوں گے ، اور کافر دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے (ف 3) ۔

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ ناپاک اور پاک میں فرق کرے ، اور ناپاک (یعنی کفار) کو ایک کو ایک پر رکھ کے سب کو ڈھیر لگائے پھر اس ڈھیر کو دوزخ میں ڈالے یہی لوگ زبان کار ہیں ۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

کافروں سے کہہ دے اگر باز آئیں ، تو جو کچھ ہوچکا ہے ، معاف ہوجائے گا اور جو (لڑنے کو) پھر آئیں ، تو اگلوں کی عادت واقع ہوچکی ہے ۔

(ف 3) یعنی مکہ والے پوری قوت کے ساتھ اسلام کے خلاف صف آراء ہوں ، انجام کار انہیں شکست ہوگئی ، کیونکہ فتح و کامرانی کے لئے روپیہ کی ضرورت نہیں ، دولت ایمان کی احتیاج ہے ، مدرسے شکست کھا کر ان لوگوں نے آئندہ کے لئے تیاریاں کیں ، امراء نے مالی امداد دی قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ یہ مال و دولت جو اسلام کی مخالفت میں جمع کیا جا رہا ہے ان کے لئے بالآخر حسرت وندامت کا باعث ہوگا ۔ حل لغات : مکآئ : پرندے کی آواز ، سیٹی بجانا ۔ تصدیۃ : صدی سے ہے یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا یعنی تالی بجانا ۔
Ayahs 8:39–40

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور تم (اے مسلمانو) انہیں یہاں تک قتل کرو کہ فساد نہ رہے اور تمام دین خدا کا ہوجائے ، پھر اگر وہ باز آئیں ، تو خدا ان کے کام دیکھتا ہے (ف 1) ۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ (اسلام سے) منہ موڑیں ، تو جانو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے اور وہ اچھا حمایتی ہے اور اچھا مددگار ۔

جہاد کی غرض اقصی : (ف 1) اسلام جنگ وجدال کو بالطبع ناپسندیدہ ٹھہراتا ہے ، اس کے نزدیک صلح وآشتی سے بہتر کوئی چیز نہیں ، البتہ جب کفر ” فتنہ “ کا باعث ہوجائے ، یعنی مسلمانوں کی آزادی چھن جائے ، ایمان وجہ ابتلاء بن جائے محض مسلمان ہونا مصیبت قرار پائے اس وقت جہاد فرض ہوجاتا ہے اسلام جہاں صلح ومن کا خواہاں ہے وہاں کفر سے دب کر رہنا بھی پسند نہیں کرتا اور کون نہیں جانتا کہ صلح دامن کے لئے بھی بعض دفعہ خون بہانا پڑتا ہے ، اسلامی جہاد کی غرض وغایت یہ ہے کہ دین میں آزادی ہو ، اللہ تعالیٰ کے دین میں اور کوئی قوت حائل نہ ہو ، ہر مسلمان پوری آزادی سے اسلامی احکام کو ادا کرسکے ،