8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsانوار البیان

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔

(8:1) الانفال۔ مال غنیمت نفل کی جمع جس کے معنی زیادتی کے ہیں۔ اسی لئے زائد نماز کو نافلہ کہتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : امن اللیل فتھجد بہ بانل لک (17:79) اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوکر تہجد کی نماز پڑھا کر یہ تمہارے لئے نفل ہے۔ اسی اعتبار سے اولاد کی اولاد کو نافلہ کہتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ووھنبا لہ اسحاق و یعقوب نافلۃ (21:72) اور ہم نے اس کو (حضرت ابراہیم کو) اسحاق عطا کی اور مزید برآں یعقوب بھی۔ پھر عطیہ اور بخشش کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ کیونکہ بخشش بھی بغیر استحقاق ایک شی مزید ہے۔ بعض کے نزدیک نفل اور غنیمت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ان میں صرف اعتباری فرق ہے وہ مال جو فتح کے بعد چھینا ہوا ہوتا ہے اسے مال غنیمت کہا جاتا ہے اور اس لحاظ سے فتح کا لازمی نتیجہ مال حاصل ہونا نہیں بلکہ محض ایک عطاء غیر لازم ہے لہذا مال مستزاد یا نفل کہلاتا ہے۔ بعض کے نزدیک ان میں نسبت عموم و خصوص مطلق ہے یعنی غنیمت عام ہے اور ہر اس مال کو غنیمت کہتے ہیں جو لوٹ سے حاصل ہو خواہ مشقت سے یا بغیر مشقت کے۔ فتح سے قبل حاصل ہو یا بعد میں۔ استحقاق سے حاصل ہو یا بلا استحقاق۔ اور نفل خاص کر اس مال کو کہتے ہیں جو مال غنیمت سے قبل از تقسیم حاصل ہوا ہو۔ بعض کے نزدیک نفل وہ مال ہے جو بغیر جنگ کے مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائے۔ اور اسے فئے بھی کہتے ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ جو سامان وغیرہ مال غنیمت کی تقسیم کے بعد بانٹا جاتا ہے اسے نفل کہتے ہیں۔ عام استعمال میں ہر دو نفل اور غنیمت ایک ہی معنی میں لئے جاتے ہیں۔ یسئلونک عن الانفال۔ ای یسئلونک عن قسمۃ الغنائم۔ مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اصلحوا ذات بینکم۔ اپنے باہمی احوال کی اصلاح کرو۔
Ayahs 8:2–4

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہ ہے مہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لئے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے) درجے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

(8:2) وجلت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وجل مصدر (باب سمع) ڈرجاتے ہیں (ان کے بل) موجل نشیبی گڑھا۔ خوف کی جگہ تلیت ماضٰ مجہول ۔ واحد مؤنث غائب۔ تلاوت کیجاتی ہیں۔ پڑھی جاتی ہیں (آیات اسکی) ۔ زادتھم۔ تو وہ زیادہ کردیتی ہیں ان کو ۔ وہ بڑھا دیتی ہیں ان کو۔ ایمانا بحیثیت ایمان کے یعنی ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں۔ ان کا ایمان اور قوی ہوجاتا ہے۔
Ayah 8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اس طرح نکلنا چاہئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

(8:5) کما جیسے۔ ان آیات کا صحیح مطلب سمجھنے کے لئے مختصراً ان کا پس منظر بیان کرنا ضروری ہے۔ شعبان المعظم سنہ 2 ھ میں مدینہ کے شمال جانب ابو سفیان کی قیادت میں ایک تاجرتی وفد شام سے مکہ کی جانب لوٹ رہا تھا۔ ان کی گزرگاہ مسلمانان مدینہ کی زد میں تھی۔ ابو سفیان نے حفظ ما تقدم کے طور پر امداد کے لئے مکہ کو اپنا آدمی دوڑایا۔ جس نے حالات کو نہایت مبالغہ کے ساتھ مکہ والوں کے سامنے بیان کی۔ اس پر مکہ سے ابوجہل کی سرکردگی میں ایک لشکر جرار جملہ سامان حرب سے لیس ہوکر جنوب سے مدینہ کی جانب چڑھ نکلا۔ جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ان وک معلوم ہوا کہ قافلہ مسلمانوں کی زد سے بچ کر نکل گیا ہے اس پر ابو جہل کے کئی آدمیوں نے رائے دی کہ اب جب کہ مقصد پورا ہوگیا ہے ہمیں لوٹ جانا چاہیے لیکن ابو جہل اور اس کے لشکر کی اکثریت اس پر رضا مند نہ ہوئی ان کا ارادہ تھا کہ مسلمانوں کی اس مختصر جمعیت کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے جس سے نہ صرف ان کا مذہب بلکہ ان کی یہ تجارتی شاہراہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں سے محفوظ ہوجائے گی۔ لہٰذا انہوں نے آگے بڑھنے کا عزم کیا۔ ادھر مسلمانوں کو جب ایک طرف سے قافلہ کی آمد اور دوسری طرف کفار کے لشکر کی ہلغار کا علم ہوا تو ان کے سامنے دو راستے تھے شمال میں قافلہ پر حملہ کرکے مال حاصل کریں۔ یا جنوب میں کفار کے لشکر کا مقابلہ کرکے دین حق کی سربلندی قائم کریں۔ باہمی مشاورت کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مؤخر الذکر راستہ اختیار کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ چند ایک مسلمان اس فیصلہ پر اتنے خوش نہ تھے ان کے خیال میں وہ سیدھے موت کے منہ میں جا رہے تھے کیونکہ لشکر کفار کے جم غفیر اور مسلمانوں کی تعداد حقیر میں کوئی مناسبت ہی نہ تھی۔ پھر ادھر ہر شخص کیل کانٹے سے لیس اور ادھر مسلمانوں میں اکثر نہتے تھے۔ لیکن انجام کار حالات نے ثابت کردیا کہ سرور دو عالم ﷺ کا انتخاب بالکل برحق تھا۔ اور آخر کار حق ہی کی ستح ہوئی اور نتیجہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کے لئے خوشگوار نکلا۔ (یہ غزوۂ بدر رمضان سنہ 2 ھ کا واقعہ ہے) اب ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ایک فریق بدر کے میدان میں علی الرغم اور بمجبوری نکلا تھا اب مال غنیمت کی تقسیم پر بھی بعض ناخوش ہیں کیونکہ زمانہ جاہلیت میں جو مال جس کے ہاتھ آجاتا وہی اس کا مالک بن بیٹھتا تھا۔ اب خداوند تعالیٰ کا حکم آگیا کہ سارے کا سارا مال غنیمت اللہ اور اللہ کے رسول کی ملکیت ہے جس طرح چاہیں تقسیم کریں۔ لیکن ان کو علم نہیں کہ گو بظاہر یہ طریقہ تقسیم ان پر شاق ہے لیکن اس کے دوررس نتائج نہ صرف اسلام بلکہ ان کے اپنے حق میں بغائیت خوشگوار ہوں گے۔ اخرجک ربک من بیتک بالحق۔ (جس طرح) تیرے رب کا تجھے اپنے گھر سے (کفار کے مقابلہ میں) نکالنا حق بجانب تھا۔ (اسی طرح خداوند تعالیٰ کا یہ فرمان کہ الانفال للہ و للرسول حق بجانب ہے) وان۔ میں واؤ حالیہ ہے حالانکہ یقیناً (مومنوں کا ایک گروہ ناخوش تھا)
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے۔ گویا موت کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔

(8:6) یجادلونک فی الحق بعد ماتبین۔ اس (تصادم) کو حق بجانب سمجھتے ہوئے بھی وہ آپ سے چوں و چرا کر رہے تھے (حق ظاہر ہوجانے کے بعد بھی وہ آپ سے مجادلہ کر رہے تھے) کانما یساقون الی الموت وہم ینظرون۔ (وہ یوں محسوس کر رہے تھے) گویا وہ موت کو سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی اس کے منہ میں (علی الرغم) ہانکے جارہے تھے۔ (اس آیۃ پر انفال کے حکم اور کفار کے خلاف قتال کے حکم کا موازنہ ختم ہوا۔ ازاں بعد جنگ بدر کے واقعات کی تفصیل ہے) ۔
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابو سفیان اور ابو جہل کے) دو گرہوں میں ایک گردہ تمہارا مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بےہتھیار) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور جو کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔

(8:7) واذ۔ جب۔ اس سے قبل اذکر محذوف ہے (یاد کرو) یعنی اذکراذ ۔۔ یاد کرو جب۔ یعدکم۔ وعد یعد (ضرب) وہ وعدہ کرتا ہے۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی استعمال ہوا ہے۔ جب اس نے تم سے (دو گروہوں میں سے ایک کا) وعدہ کیا تھا۔ احدی الطائفتین۔ دو گروہوں میں سے ایک ۔ یعد کا مفعول ثانی ہے۔ انھا لکم۔ کہ وہ تمہارے لئے ہے۔ احدی الطائفتین کا بدل ہے۔ یہاں طائفتان (دو گروہ) سے مراد۔ ایک تو وہ قافلہ جو شام سے سامان تجارت لئے جا رہا تھا ۔ اور دوسرا وہ مسلح لشکر جو ابو سفیان کی قیادت میں مدینہ کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ تھا کہ ان دونوں میں سے ایک پر تمہیں غلبہ دیا جائے گا (جسے تم منتخب کرو گے) تودون۔ تم چاہتے ہو۔ ود سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ باب سمع۔ مودۃ مصدر ودود صیغہ مبالغہ۔ بہت چاہنے والا۔ بہت کرنے والا۔ ثواب دینے والا۔ السوکۃ۔ کانٹا۔ مجازاً ہتھیار اور سختی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ غیر ذات الشوکۃ۔ جو قافلہ بغیر ہتھیاروں کے تھا۔ (یہاں مراد تجارتی قافلہ جو شام سے آیا تھا) ۔ یحق۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان احقاق مصدر۔ سچ کو سچ کر دکھائے حق کو قائم کر دے۔ حق کو ثابت کر دے۔ (باب افعال) ۔ بکلمتہ۔ بایاتہ اور بامرہ اپنی نشانیوں سے (یعنی عین لڑائی کے دوران فرشتوں کا مومنوں کی امداد کے لئے نزول اور کفار کے دلوں میں رعب کا چھا جانا۔ یا اپنے ارشاد و حکم کے ذریعہ سے۔ کہ لڑنے کا حکم دے کر باوجود کمی اسلحہ و قلت تعداد کے بانجام مسلمانوں کو فتح عطا کرنا ۔ یقطع۔ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان قطع مصدر۔ تاکہ کاٹ دے۔ تاکہ ہلاک کر دے ۔ (باب فتح) دابر۔ جڑ۔ بیج ۔ بنیاد۔ پچھاڑی۔ پیچھا۔ وبور سے جس کے معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اسم فاعل واحد مذکر۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا کہ) (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے۔

(8:9) تستغیثون۔ تم فریاد کرتے ہو۔ تم فریاد چاہتے ہو۔ استغاثۃ (استفعال) سے کسی کو مدد کے لئے پکارنا۔ فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ (28:15) تو جو شخص ان کی قوم سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلہ میں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمنوں میں سے تھا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی۔ غیث مدد مانگنا اور پانی مانگنا بھی ہوسکتا ہے۔ غیث بمعنی بارش ۔ جیسے کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ (57:10) جیسے بارش کہ اس سے کھیتی اگتی اور کسانوں کو بھلی لگتی ہے۔ استجاب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ (استفعال) سے مصدر جس کے معنی قبول کرنے اور ماننے کے ہیں۔ صیغہ واحد مذکر غائب ماضی معروف۔ ممدکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ممد اسم فاعل واحد مذکر امداد (افعال) مصدر۔ مدد دینے والا۔ مردفین ۔ الردف۔ تابع۔ یعنی ہر وہ چیز جو دوسرے کے پیچھے ہو۔ لگاتار۔ پے در پے۔ ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل اس سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

(8:10) وما جعلہ۔ میں ما نافیہ ہے اور ہ ضمیر قول کریم انی ممدکم کی طرف راجع ہے ای امداد من اللہ۔ بعض کے نزدیک اس کا مرجع نزول المئکۃ ہے جو امداد کی عملی صورت ہے۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔

(8:11) یغشیکم۔ مضارع واحد مذکر غائب تغشیۃ بروزن تفعلۃ (باب تفعیل) سے مصدر ہے۔ جیسے تصدیۃ۔ تالیاں بجانا۔ (8:35) اور تصلیۃ (56:94) نماز پڑھنا۔ یا ایندھن کا آگ میں جلنا۔ یہاں باب تفعیل سے متعدی بدو مفعول آیا ہے مفعول اول کم اور مفعول ثانی النعاس اس نے غنودگی سے تم کو ڈھانپ دیا۔ وہ غنودگی سے تم کو ڈھانک رہا تھا۔ النعاس۔ اسم معرفہ۔ اونگھ (تھانوی) خفیف سی نیند (راغب) ۔ امنۃ۔ مفعول لہ۔ امن و چین سے۔ یا مصدر ہے۔ منہ۔ ای من اللہ۔ امنۃ کی صفت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئی تھی۔ بہ میں ضمیر ہ کا مرجع ماء ہے۔ رجز۔ عقوبت۔ بلائ، عذاب۔ کپکپا اور لرزا دینے والا عذاب۔ پلیدی۔ وسوسہ شیطانی۔ شیطان کا مومنین کو پیاس سے ڈرانا۔ لیربط۔ تاکہ مضبوط کرے (تمہارے دلوں کو) ربط مصدر (باب ضرب) مضارع منصوب بوجہ لام تعلیل محد۔ بہ۔ ای بالماء یا ہ ضمیر ربط کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور اس کا پور پور مار (کر توڑ) دو ۔

(8:12) انی معکم۔ یوحی کا مفعول ہے۔ اور کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ ملائکہ کیلئے ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر المؤمنین کیلئے ہے۔ فثبتوا۔ تم ثابت قدم رکھو۔ تم استوار کرو۔ تم قائم رکھو۔ امر جمع مذکر حاضر۔ (خطاب ملائکہ سے ہے) سالقی۔ القاء سے۔ مضارع واحد متکلم۔ میں ڈال دوں گا۔ فوق الاعناق۔ گردنوں پر۔ گردنوں کے اوپر کے حصوں پر۔ بنان۔ بنانۃ کی جمع ہے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے پوردے اور بدن کے جوڑوں کو بھی بنان کہتے ہیں۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ : قیل المراد ببنان ھھنا اطواف الاصابع من الیدین و الرجلین۔ وقال الحضاک البنان کل مفصل یعنی بنان سے یہاں مراد ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے پور دے ہیں اور حضرت ضحاک کہتے ہیں۔ تمام جوڑوں کو بنان کہتے ہیں یہاں فوق الاعناق سر ہوتا ہے جو سب سے اہم حصہ جسم ہے۔ اور بنان انگلیوں کے پوردے ۔ سب سے چھوٹے حصہ جسم ہیں۔ ان دونوں کو بیان کرکے تمام حصص جسم کو مراد لیا ہے یعنی جسم کے کسی حصہ کو نہ چھوڑو۔ (مارو۔ مارو۔ خوب مارو۔ کسی حصہ جسم کو نہ چھوڑو) ۔ اوپر انی معکم کے تحت بیان ہوا کہ کم کی ضمیر جمع مذکر حاضر المؤمنین کی طرف راجع ہے امام رازی لکھتے ہیں کہ انی معکم کے متعلق دو قول ہیں :۔ (اول) یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو وحی کی کہ وہ ان کے ساتھ ہے۔ یعنی فرشتوں کے ساتھ ہے کہ اس نے ان کو مسلمین کی مدد کے لئے بھیجا تھا۔ (دوم) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو وحی کی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ہے پس تم (یعنی فرشتے) ان کی (مسلمانوں کی) مدد کرنا اور ان کو ثابت قدم رکھو۔ یہی سب سے بہتر ہے کیونکہ اس کلام سے (یعنی انی معکم سے) مقصود خوف و ردع کا ازالہ کرنا تھا اور کفار سے خوف و خطر مسلمانوں کو تھا نہ کہ فرشتوں کو۔ اسی طرح ناضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان میں بھی حکم مومنوں سے ہے کیونکہ ملائکہ ومحاربہ کے لئے نازل نہیں ہویت تھے۔ بلکہ یہ کام مومن مجاہدین کے ہاتھوں ہونا تھا۔ ملائکہ مؤمنین کی امدار اور تثبیت الاقدام کے لئے بھیجے گئے تھے۔ یعنی جملہ موجبات فتح وظفر عطا ہوچکے ۔ یعنی النعاس۔ الماء من السمائ۔ تطہیر الاجسام و الارواح۔ اذھاب رجز الشیطان ۔ ربط القلوب۔ تثبیت الاقدام۔ معیت خداوندی۔ القاء الرعب فی قلوب الکافرین۔ تو حکم ہوا کہ ناضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان۔ تو اب ہمت کرو اور کافروں کی گردنیں اڑا دو اور کاٹ کاٹ کر رکھ دو ۔
Ayah 8:13

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔ تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔

(8:13) ذلک۔ یعنی یہ کافروں کا قتل اور ان کو قیدی بنانا وغیرہ۔ بانہم۔ ای بسبب۔ شاقوا۔ انہوں نے مخالفت کی۔ شاقۃ اور شقاق سے ماضی جمع مذکر غائب ۔ شاق کے معنی ہیں ضد۔ مخالفت مقابلہ۔ اپنے دوست کی شق کو چھوڑ کر دوسری شق میں ہونا۔ شق طرف کو کہتے ہیں ۔ یعنی اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف کو چھوڑ کر مخالف طرف اختیار کرلی۔ ذلک مبتدا ہے اور بانہم شاقوا اللہ ورسولہ اس کی خبر ہے۔ من تشاقق۔ مضارع مجزوم مکسور بالوصل۔ واحد مذکر غائب۔ باب مفاعلہ۔ جو مخالفت کرتا ہے۔
Ayah 8:14

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لئے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار ہے)

(8:14) ذلک۔ کافروں سے خطاب ہے۔ اے کافرو ! یہ سزا ہے تمہاری۔ فذوقوہ۔ پس چکھو اسے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ اس سزا کی طرف راجع ہے جس طرف ذلک میں اشارہ ہے۔ یعنی یہ موجودہ سزا تو اب چکھو۔ وان للکافرین عذاب النار۔ واؤ عاطفہ بھی ہوسکتی ہے اور واؤ بمعنی جمع بھی۔ یعنی یہ عذاب عاجلہ تو اب چکھو۔ اور اس کے ساتھ عذاب آجلہ آخرت میں ملے گا۔ جو جہنم کا عذاب ہے۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔

(8:15) زحفا۔ زحف یرحف (فتح) کا مصدر ہے زحفا حال ہے من الذین کفروا کا۔ یعنی درآں حالیکہ کفار کثیر التعداد ہوں۔ زمخشری لکھتے ہیں ۔ زحف وہ انبوہ درانبوہ لشکر ہے جو اپنی کثرت کی بناء پر ایسا معلوم ہونے لگے کہ گویا گھسٹ رہا ہے یہ زحف الصبی سے ہے جس کا استعمال بچہ کے سرین کے بل ذرا ذرا گھسٹنے کیلئے آتا ہے مصدری اسم ہوکر مستعمل ہے۔ اس کی جمع زحوف ہے۔ فلاتولوہم الادبار۔ تو ان کی طرف اپنی پیٹھیں مت پھیرو۔ ازبار جمع دبر کی ہے۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لئے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

(8:16) متحرفا۔ اسم فاعل منصوب ۔ مفرد۔ تحرف مصدر۔ (باب تفعل) مڑنے والا۔ پھرنے والا۔ دشمن کو فریب دینے کے لئے پیٹھ پھیرنے والا۔ تاکہ پلٹ کر حملہ کرے یا لوٹ کر مسلمانوں کی صف میں آکر مل جاوے تاکہ مدد حاصل کرسکے۔ پینترا بدلنے والا۔ اصل مادہ حرف ہے۔ متحیزا۔ اسم فاعل منصوب مفرد مذکر۔ تحیز مصدر باب تفعیل۔ مڑ کر سمٹ کر اپنی جماعت کی طرف آنے والا تاکہ ساتھیوں کی مدد لے کر دوبارہ حملہ کرسکے۔ اصل مادہ حوزا جوف داری ہے۔ متحیز۔ پیچیدہ۔ چوڑیدار سانپ کو بھی کہتے ہیں کیونکہ ہو سمٹا ہوا مڑا ہوا ہوتا ہے۔ احوز ثوبہ (افعال) اس نے اپنے کپڑوں کو سمیٹ لیا۔ جمع کرلیا۔ بائ۔ اس نے کمایا۔ وہ پھرا ۔ وہ لوٹا۔ (باب نصر) بواء سے جس کے معنی ٹھکانہ درست کرنے اور جگہ ہموار کرنے کے ہیں۔ مجازاً کمانے اور لوٹنے۔ اقرار کرنے کے بھی آتے ہیں۔ ماوہ۔ ماوی مضاف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ مضاف الیہ اس کا ٹھکانہ ۔ اس کی جگہ اوی یاوی (ضرب) سے مصدر اور اسم ظرف۔ قرآن میں جہاں ماوی بصورت اضافت استعمال ہوا ہے وہاں اسم ظرف کے معنی میں آیا ہے۔ اور جہاں بغیر اضافت کے استعمال ہوا ہے وہاں مصدری معنی مراد ہیں مثلاً عندھا جنۃ الماوی (53:15) میں ماوی مصدر۔ مضاف الیہ ہے۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان۔ نیز مصدر۔ صار یصیر (ضرب) سے۔ صیر مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹکھانہ۔ قرار گاہ۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمد ﷺ جس وقت تم نے (کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزما لے۔ بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

(8:17) رمیت۔ تو نے پھینکا۔ رمی یرمی (ضرب) سے ماضی واحد مذکر حاضر۔ ناقص یائی۔ لیبلی۔ لام تعلیل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ابلی یبلی (باب افعال) ابلاء مصدر ۔ بلو وبلی مادہ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا پرانا اور بوسیدہ ہونے کے ہیں۔ اسی سے بلاہ السفر۔ ای ابلاہ کا محاورہ ہے۔ یعنی سفر نے اسے لاغر کردیا۔ اور بلوتہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا۔ اور اسی آزمائش کے معنی میں اس کا اکثر استعمال ہوتا ہے۔ ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع (2:155) اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک سے تمہاری آزمائش کریں گے۔ یا ان ھذا لھو البلؤ المبین (37:106) بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔ تکلیف کو بھی بلاء کہا گیا ہے کیونکہ تکلیف بھی ایک طرف کی آزمائش ہی ہے۔ جیسے ولنبونکم حتی نعلم المجاھدین منکم ونعلم الصابرین (47:31) ہم تم کو ضرور آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تم میں سے مجاہدین اور ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کریں (یعنی جہاد کی تکلیف میں مبتلا کرکے) ۔ اللہ تعالیٰ کبھی بندوں کا تنگی کے ذریعہ امتحان لیتے ہیں کہ ان کے صبر کو جانچیں اور کبھی خوش حالی سے آزماتے ہیں کہ اس کے بندے شکر گزار بنتے ہیں یا نہیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ کما حقہ صبر کرنا آسان ہے بہ نسبت کما حقہ شکر کرنے کے۔ کیونکہ آرام و آسائش میں انسان زیادہ نفسانی خواہشات میں محو ہوجاتا ہے اور اپنے منعم کو اور اس کا شکر بجالانے کو بھول جاتا ہے۔ اسی بناء پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں من وسع علیہ دنیاہ فلم یعلم انہ قدمکربہ فھو مخذوع عن عقلہ۔ جس پر دنیا فراخ کی گئی اور اسے یہ معلوم نہ ہوا کہ آزمائش کی گرفت میں ہے تو وہ فریب خوردہ اور عقل و فکر سے محروم ہے۔ اور حضرت عمر ؓ کا قول ہے بلینا بالضراء فصبرنا وبلینا بالسراء فلم نصر۔ تکلیف سے ہمیں آزمایا گیا تو ہم نے صبر کیا اور فراخ حالی سے ہمیں آزمایا گیا تو صابر نہ نکلے۔ ان ہی معانی کی روشنی میں بعض نے لیبلی المؤمنین منہ بلاء حسنا کا ترجمہ کیا ہے۔ تو یہ اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے۔ (تفہیم القرآن) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی جانب سے ایک باوقار آزمائش سے آزمائے۔ (عبد اللہ یوسف علی) لیکن جمہور مفسرین نے بلاء کا معنی احسان۔ عطاء اور نعمت لیا ہے۔ اور یبلی کا مطلب عطا کرنا یا نعمت سے نوازنا۔ الخازن لکھتے ہیں :۔ نقد اجمع المفسرون علی ان البلاء ھنا بمعنی النعمۃ مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہاں بلاء سے مراد نعمت ہے۔ صاحب کشاف رقمطراز ہیں :۔ ولیبلی المؤمنین منہ بلاء حسنا۔ ای لعطیہم عطاء جمیلا۔ تاکہ مؤمنین کو عطاء جمیل سے نوازے۔ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ ولینعم علیہم نومۃ عظیمۃ بالنصور الغنیمۃ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح اور مال غنیمت کی نعمت عظیم عطا فرمائے۔ صاحب منتہی الادب نے منجملہ دیگر معانی کے ابلاہ بلاء کا معنی نعمت داد اورا کیا ہے۔ یعنی کفار کا مؤمنوں کے مؤمنوں کے ہاتھوں قتل اور رسول اللہ ﷺ کے وست مبارک سے الرمی کا معجزہ اس واسطے عمل میں لایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو فتح اور مال غنیمت کی نعمتوں سے نوازے۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ (ہے) کہ کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

(8:18) ذلک۔ یہی ۔ کم ضمیر جمع مخاطب۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ (اشارہ ہے بلاحسن کی طرف) معطوف علیہ۔ و۔ عطف کے لئے ہے ۔ اور (جہاں تک کافروں کا تعلق ہے ان کے ساتھ معاملہ یہ ہے) ۔ ان اللہ موھن کید الکافرین معطوف ہے ذلک پر۔ موھن۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ مضاف ۔ وھن مادہ۔ کمزور کرنے والا۔ کید الکافرین۔ مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر موھن کے مضاف الیہ۔ کافروں کی چال۔ کافروں کا مکرو فریب۔ اس کی جمع کیا د ہے۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(کافرو) اگر تم (محمد ﷺ پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر (تمہیں عذاب) کریں گے۔ اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے۔

(8:19) فستفتحوا۔ تم فتح چاہتے ہو۔ تم فیصلہ چاہتے ہو۔ (باب استفعال) استفتاح سے جمع مذکر حاضر۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا ہے۔ اصل میں تستفتحون تھا۔ فتح الحاکم بین الناس۔ حاکم نے لوگوں کے درمیان فیصلہ دیا۔ الفتاح صیغہ مبالغہ۔ قاضی۔ فیصلہ کرنے والا۔ یہاں خطاب کافروں سے ہے انہوں نے انصاف مانگا تھا کہ جب کفار مکہ سے روازنہ ہوئے تھے تو غلاف کعبہ کو پکڑ کر انہوں نے دعا مانگی تھی اللہم ان کان محمد علی الحق نانصرہ وان کنا عمل الحق فانصرنا (اے اللہ اگر محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) حق پر ہیں تو ان کو فتح دے اور اگر ہم حق پر ہیں تو ہمیں فتح دے۔ سو ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر تم فیصلہ کے طلب گار تھے فقد جائکم الفتح تو لو فیصلہ تمہارے پاس آپہنچا۔ ان تنتھوا۔ اگر تم باز آجاؤ۔ انتھاء (افتعال) مصدر سے مضارع ۔ جمع مذکر حاضر۔ ان شرطیہ کی رو سے نون اعرابی گرگیا۔ ان تعردوا۔ اگر تم پھر کرو گے (شرارت) عود سے مضارع جممع مذکر حاضر۔ نون اعرابی بوجہ ان شرطیہ ساقط ہوگیا۔ نعد۔ مضارع جمع متکلم ۔ عود مصدر (باب نصر) ہم بھی دوبارہ کریں گے۔ (یعنی ہم بھی پھر تمہیں سزا دیں گے) ۔ تغنی۔ وہ کام آئے گی۔ وہ کفایت کرے گی۔ اغناء سے مضارع واحد مؤنث غائب ۔ فئتکم۔ تمہارا گروہ۔ تمہاری جمعیت۔
Ayahs 8:20–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم خدا) سن لیا مگز (حقیقت میں) نہیں سنتے۔

(8:20) لاتولوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ مت پھرو۔ تولی سے بمعنی منہ پھیرنا۔ اصل میں تتولوا تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی۔ عنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر حاضر۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ بموجب ارشاد باری تعالیٰ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (4:80) جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی پس اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ گویا رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ یا یہ ضمیر اللہ اور اس کے رسول دونوں کی طرف راجع ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (9:62) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ مستحق ہے کہ وہ اسے راضی کریں۔ یا یہ ضمیر امر بالطاعتہ کی طرف راجع ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اس کے حکم سے سرتابی نہ کرو۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

(8:22) شرالدواب۔ الدواب۔ دابۃ کی جمع ہے۔ جانور ۔ چار پائے۔ پاؤں دھرنے والے۔ رینگنے والے جانور۔ تمام جانوروں میں سے سب سے بدتر۔ شر اصل میں اشر تھا۔ کثرت استعمال سے ہمزہ ساقط ہوگیا۔ اسی طرح خیر بھی اصل میں اخیر تھا۔ الضم الیکم۔ بہرے اور گونگے۔ ان لوگوں کو جو سنتے ہیں مگر کان نہیں دھرتے تصدیق حق نہیں کرتے۔ ان کو زمرۂ حیوانات میں شامل کیا۔ پھر ان کو سب سے بدتر زمرہ میں رکھ دیا کہ حیوان میں بھی اور اس پر مستزاد یہ کہ بہرے اور گونگے ہیں کہ سمجھتے ہی کچھ نہیں۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

(8:23) لاسمعہم۔ وہ ان کو ضرور سنا دیتا۔ اسماع (افعال) سے بمعنی سنا دینا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب لام برائے تاکید۔ وہم تعرضون۔ واؤ حالیہ۔ اور ہم معرضون حال ہے۔ درآنحالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوں گے۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ جبکہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسکے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔

(8:24) استجیبوا۔ تم حکم مانو۔ تم قبول کرو۔ استجابۃ (استفعال) سے امر جمع مذکر حاضر ۔ دعاکم۔ دعا ماضی واحد مذکر غائب یہاں بھی ضمیر واحد آئی ہے جس طرح 8:20 میں عنہ میں آئی ہے۔ لما یحییکم۔ ای الی شیء الذی یحیکم۔ ایسے امر کی طرف جو تمہارے مردہ دلوں کو اور روحوں کو حیات نو بخشتی ہے۔ یحول۔ حول سے باب نصر مضارع واحد مذکر غائب۔ اللہ آڑ بن جاتا ہے۔ اللہ حائل ہوجاتا ہے۔ قلبہ۔ ای اھوانہ۔ اس کے ارادے۔ اس کی خواہشات۔ یعنی اس کے دلی ارادوں اور خواہشات کی تکمیل اس کے اپنے بس کی بات نہیں بلکہ یہ خداوند تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

(8:25) خاصۃ۔ خاص کر ۔ چن کر۔ خص سے جس کے معنی مخصوص کرنے کے ہیں۔ یہ یا تو الذین ظلموا منکم کو مخصوص کرنے کے لئے ہے یعنی ڑدو اس فتنہ سے جس کی شامت اعمال مخصوص طور پر ان ہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے ظلم کا ارتکاب کیا ہو۔ (بلکہ دوسرے بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں) مراد اس سے اجتماعی فتنے ہیں مثلاً امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غافل ہوجانا۔ ترک جہاد۔ میدان جہاد سے فرار وغیرہ۔
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخانماں نہ کریں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو۔

(8:26) مستضعفون۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ (باب استفعال) استضعاف سے ناتواں اور کمزور سمجھے گئے۔ عاجز پائے جانے والے لوگ ۔ یعنی تمہیں حقیر اور ناتواں خیال کیا جاتا تھا۔ یتخطفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر۔ تخطف (تفعل) مصدر۔ کہ تم کو اچک لیں۔ تم کو جھپٹ لیں۔ خطف یخطب (ضرب) و اختطف یختطف اختطاف (افتعال) کسی چیز کو سرعت سے اچک لینا۔ یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں کی بصارت کو اچک لے۔ ویتخطف الناس من حولہم (29:67) اور لوگ ان کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں۔ اولکم۔ اس نے تم کو ٹھکانہ دیا۔ اس نے جگہ دی۔ ایواء سے ماضی واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حضر۔ اوی۔ مادہ۔ ایدکم۔ تم کو قوت دی۔ تمہاری مدد کی۔ تائید (تفعیل) سے جس کے معنی مدد کرنے اور قوت دینے کے ہیں۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو۔

(8:27) لاتخونوا۔ تم جنابت نہ کرو۔ خیانۃ سے (باب نصر) تخونوا امنتکم۔ تخونوا۔ مضارع مجزوم ہے اور لاتخونوا پر عطف ہے تقدیر کلام یوں ہے ولا تخونوا امنتکم۔ اور یہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو۔ وانتم تعلمون۔ اور تم اس خیانت کے قبیح اور مذموم ہونے کو جانتے ہو۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے۔ اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں) کا بڑا ثواب ہے۔

(8:28) فتنۃ۔ آزمائش۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ اور اس کے مشتقات مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دے گا (یعنی تم کو ممتاز کر دے گا) اور تمہارے گناہ مٹا دیگا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑے فضل والا ہے۔

(8:29) یجعل لکم۔ یجعل مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ پیدا کرے گا تمہارے لئے۔ مہیا کریگا تمہیں۔ فرقانا۔ فرقان کے لفظی معنی فرق کرنے والی چیز کے ہیں۔ مفسرین نے اس جگہ متعدد معانی لئے ہیں :۔ (1) نورو توفیق۔ جو حق و باطل کو الگ الگ کرتا ہے۔ (2) فتح۔ جو حق کو باطل سے اور کفر کو اسلام سے۔ یقین کو شبہات سے نتیجۃ الگ الگ کردیتی ہے۔ (3) وہ چیز جو تمہارے تمام ڈر دور کر دے گی۔ ما یفرق بینکم وبین ما تخافون جو تمہارے اور جس سے تم ڈرتے ہو اس کے درمیان فرق کردے۔ (4) ایسے معجزات کہ جن سے تمہیں دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوگا۔ اور تمہاری شہرت ہوگی۔ یکفر۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ دور کردیگا۔ زائل کر دیگا۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کردیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (ادھر) خدا چال چل رہا تھا اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

(8:30) لیثبتوک۔ لام تعلیل کے لئے۔ یثبتوا۔ اثبات (افعال) سے مضارع جمع مذکر غائب تاکہ تم قید کرلیں ۔ گرفتار کرلیں۔ باندھ لیں۔ یمکر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ خفیہ تدبیریں کر رہے تھے۔ یا کر رہا تھا (ملاحظہ ہو 7:99)
Ayahs 8:31–32

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں۔ اور یہ ہے ہی کیا ؟ صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جن انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج۔

(8:31) اساطیر۔ کہانیاں ۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ اسطورۃ کی جمع۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جن تک تم ان میں تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔

(8:33) وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیہم۔ وما کان اللہ لیعدذبھم وھم یستغفرون۔ اور جب تک تو (اے محمد ﷺ ) ان (مشرکین مکہ) میں موجود تھا۔ تو یہ اللہ ان کو عذاب دینے کا نہ ہوا۔ اور نہ ہی وہ ان کو عذاب دینے والا ہوا جب تک وہ استغفار کرسکتے تھے یعنی ان میں یہ صلاحیت موجود تھی۔ وھم یستغفرون کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ کہ جب مشرکین بیت اللہ کا طواف کرتے تو یہ پڑھتے تھے۔ لبیک اللہم لبیک لا شریک لک لبیک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک غفرانک۔ اسی طلب غفران کی وجہ سے وہ عذاب سے مامون رہے ۔ لیکن یہ صورت حال تو فتح مکہ تک بدستور رہی اور اس کی موجودگی میں ہی فتح مکہ کی صورت میں وہ معتوب ہوگئے۔ بعض نے کہا ہے کہ دن کو وہ یہ کہتے ان کان ھذا ھو الحق من عنداک فامطر علینا حجارۃ من السمائ۔ لیکن رات کو اپنی ندامت کا اظہار کرتے اور دعا کرتے غفرانک اللہم لہٰذا ان پر عذاب نہ آیا۔ لیکن اس میں بھی وہی مذکور و بالا اعتراض ہوسکتا ہے اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل فہم وہی ترجمہ ہے جو اوپر کیا گیا ہے یہ ترجمہ عبد اللہ یوسف علی نے کیا ہے اور تفہیم القرآن میں بھی اس مفہوم کو اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے :۔ وفیہم من سبق لہ من العنایۃ انہ یؤمن ویستغفر ۔ مثل ابی سفیان بن حرب۔ صفوان بن امیۃ۔ عکرمۃ بن ابی جھل وسہیل بن عمرو۔ (اور مشرکین میں بعض ایسے تھے کہ جن پر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی عنایت کر رکھی تھی کہ وہ ایمان لے آئیں گے اور اپنی سابقہ غلط روی کی معافی مانگ لیں گے) ۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (اب) انکے لئے کونسی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں ؟ اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(8:34) ومالہم۔ اور کیا عذر ہے ان کے لئے ۔ کیا وجہ ۔ کیا امر مانع رہ گیا ہے ان کے لئے۔ یصدون۔ صد یصد (نصر) سے مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ باز رکھتے ہیں۔ وہ روکتے ہیں ۔ اولیاء ہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب المسجد الحرام کی طرف راجع ہے۔ اولیاء اس کے متولی۔ اس کی ولایت کے مستحق۔ مضاف ۔ ہ مضاف الیہ۔ اولیاء جمع ہے اس کا واحد ولی ہے۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سٹیاں اور تالیاں بجانے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو۔

(8:35) مکائ۔ منہ سے سیٹی بجانا۔ اور انگلیوں سے چٹکی بجانا۔ مکایمکو (نصر) مکاء کے معنی پرند کے سیٹی بجانے کے ہیں۔ (مشرکین و کفار کی نماز بےروح ہونے کے اعتبار سے پرندوں کی سیٹی کے بمنزلہ ہے) ۔ مکاء مکو۔ دونوں مصدر ہیں۔ مکو مادہ تصدیۃ۔ صدی یصدی تصدیۃ (تفعیل) بیدیہ۔ دونوں ہاتھوں سے تالی بجانا۔ الصدی صدائے باز گشت کو کہتے ہیں۔ مشرکین کی نماز کو مکاء و تصدیہ اس کے بےروح ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے جیسا کہ بحوالہ بالا راغب (رح) نے تحریر کیا ہے۔ یا جیسا کہ امام قرطبی (رح) نے لکھا ہے :۔ کانت قریش تطوف بالبیت عراۃ یصفقون ویصفرون فنکا ذلک عبارۃ فی ظنہم۔ قریش ننگے ہوکر طواف کعبہ کیا کرتے تھے اور تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور ان کے خیال میں یہ عبادت تھی۔ حضرت ابن عباد سے بھی ایسی ہی روایت ہے کہ کفار طواف کعبہ بالکل ننگے ہوکر کیا کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجانا ان کی نماز تھی۔ فذوقوا العذاب۔ پس چکھو عذاب۔ العذاب سے مراد جنگ بدر میں ان کی ہزیمت اور ان کا قتل اور اسیر ہونا مراد ہے۔
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اپنا، مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لئے (موجب) افسوس ہوگا۔ اور وہ مغلوب ہوجائیں گے اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

(8:36) فسینفقونھا۔ س مستقبل کے لئے آیا ہے۔ ینفقون۔ انفاق سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال کی طرف راجع ہے ۔ یہ آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کریں گے۔ ثم تکون۔ ای ثم تکون عاقبۃ انفاقھا۔ پھر ان کا یہ مال خرچ کرنا اس کے لئے باعث حسرت (وندامت) بن جائے گا۔ جھنم۔ اگر مجرور ہے لیکن م بالفتح آیا ہے بوجہ غیر منصرف ہونے کے ۔ غیر منصرف بوجہ عجمہ اور تانیث کے ہے۔ یحشرون۔ یساقون۔ ہانک کر لیجائے جائیں گے۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔

(8:37) فیرکمہ۔ رکوم۔ مصدر سے مضارع واحد مذکر غائب۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ باب نصر۔ ہ ضمیر الخبیث کی طرف راجع ہے۔ الخبیث یہاں اسم جنس ہے ۔ یعنی خبیثون کا گروہ۔ خبیث لوگ۔ فیجعلہ۔ پھر ڈال دے اس جنس خبیث کو۔ اولئک۔ الفریق الخبیث۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائیگا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا۔

(8:38) یغفر۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ معاف کردیا جائے گا۔ یعودوا۔ جمع مذکر غائب مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ عود مصدر۔ باب نصر۔ اگر وہ لوٹے۔ اگر انہوں نے دوبارہ لڑائی کی۔ اگر انہوں نے پہلی کرتوتیں دہرائیں۔ فقد مضت ستۃ الاولین۔ تو پہلے (نافرمانوں) کے ساتھ ہمارا طریقہ عمل گزر چکا ہے یعنی ماضی میں جب بھی نبیوں کی امتوں نے ان کی نافرمانی کی تو جو سلوک ہم نے ان کے ساتھ کیا تھا وہ تاریخ میں موجود ہے اور یہ جانتے ہی ہیں۔ مکافات عمل کا وہی قانون ان پر بھی لاگو کیا جائے گا۔
Ayahs 8:39–40

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے۔ اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔

(8:39) فتنۃ۔ ای فساد فی الارض (مظہری) شرک (بیضاوی) ۔ الذین۔ دین الاسلام (الخازن۔ مدارک التنزیل، بیضاوی، الکشاف، الدین بمعنی القھع، الخلیۃ، الاستعلائ، والسلطان۔ یعنی غلبہ۔ بالادستی۔ قوت و اقتدار (مظہری) مولکم۔ ناصرکم ومعینکم۔ تمہارا حامی و مددگار۔