Ayah 8:11 ۔ (کہ یہ ملک کس کی ہیں اور انہیں تقسیم کس طرح کیا جائے) تقسیم مال غنیمت کے قدیم دستور کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ جب معرکہ بدر کے بعد مسلمانوں کو پہلی بار بہ حیثیت ایک جماعت کے شکست کھائے ہوئے کافروں سے مال ہاتھ آیا تو قدرۃ یہ سوال پیدا ہوا کہ (State property) حکومت کی آمدنی ملک کس کی ہے اور اسے سرکاری خزانہ میں داخل کس ترتیب سے کیا جائے ؟ (آیت) ” الانفال “۔ جمع ہے نفل (بہ حرکت فاء) کی اور نفل (بہ سکون فاء) کے معنی زاید یا اس چیز کے ہیں جو واجب کے علاوہ ہو۔ النفل اے الزیادۃ علی الواجب (راغب) نفل (بہ حرکت فاء) سے مراد (اصطلاح شریعت میں) وہ مال ہوتا ہے جو جنگ کے بعد دشمن سے حاصل ہو اور اس کا اطلاق مال غنیمت قبل تقسیم پر ہوتا ہے۔ النفل اے الزیادۃ علی الواجب (راغب) نفل (بہ حرکت فاء) سے مراد (اصطلاح شریعت میں) وہ مال ہوتا ہے جو جنگ کے بعد دشمن سے حاصل ہو اور اس کا اطلاق مال غنیمت قبل تقسیم پر ہوتا۔ النفل مایحصل اللانسان قبل القسمۃ من جملۃ الغنیمۃ (راغب) لیکن عموما اسے مطلق غنیمت کا مرادف مانا گیا ہے۔ قال ابن عباس ومجاہد والضحاک وقتادۃ وعکرمۃ وعطاء الانفال الغنائم (جصاص) سمیت الغنائم انفالا لان المسلمین فضلوابھا علی سائر الامم (کبیر) اے الاموال الماخوذۃ من الکفار قھرا (کبیر) یہ سوال کرنے والے ظاہر ہے کہ حضرات صحابہ میں سے تھے، انہی میں آپس میں یہ سوال اٹھا تھا کہ مال غنیمت مہاجرین، انصاروغیرہ میں سے حق کس کا ہے اور تقسیم کی بنیاد کیا ہونی چاہیے۔ ولا شک انھم کانوا قواما لھم تعلق بالغنائم والانفال وھم اقوام من الصحابۃ (کبیر) ولقد وقع اختلاف بین المسلمین فی غنائم بدر فی قسم تھا فسألوا رسول اللہ ﷺ کیف نقسم ولمن الحکم فی قسم تھا (مدارک)
2 ۔ (اور وہی دونوں مالک ومختار ہیں۔ کہ جس طرح بھی چاہیں ان کی تقسیم کا حکم جاری کریں، اس میں ترید آگئی اس خیال کی کہ مال غنیمت اصلی حق غازیوں اور مجاہدوں، اور لشکر اسلامی کے سپاہیوں کا ہے۔ ان سے وعدہ تو اجر آخرت کا ہے ان کا صلہ موعود تو صرف جنت اور وہاں کی نعمتیں ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں قتال ہرگز ہرگز اس نیت سے نہ کریں کہ مال غنیمت کے وہ مالک و متصرف ہوں گے، دنیا میں ظہور اسلام سے قبل بھی بڑی بڑی متمدن ومہذب، پر قوت و شوکت سلطنتیں موجود تھیں، عظیم الشان جنگیں بھی آپس میں ہوچکی تھیں۔ اور ہوتی رہتیں تھیں، مصر، ہند، ایران یونان، روما سب میں بڑے بڑے سیاسی ومعاشی مفکرین پیدا ہوچکے تھے، جنہوں نے غنائم جنگ سے متعلق بھی مختلف نظریے رواج دے رکھے تھے، قرآن مجید نے آکر دنیا میں پہلی بار ان سارے نظریات کو چیلنج دیا اور بتلایا کہ مال غنیمت نہ تو بادشاہ کی ملک ہے نہ فوج کے افسروں اور سپاہیوں کی، اور نہ ملک وقوم کی، بلکہ اصلا وحقیقۃ صرف اللہ ہی کی ملک ہے ، ! سپاہیوں اور مجاہدوں میں اخلاص کامل پیدا کرنے کی کوئی صورت اس سے بڑھ کر نہیں للہ سوال کا جواب کتنا بلیغ وحکیمانہ ملا کہ وہی اس کا بھی مالک ہے جو جان ومال ہر چیز کا مالک ہے۔ گویا ارشاد یہ ہوا کہ جس طرح ربوبیت اس ذات پاک کی صفت خاصہ ہے، مالکیت بھی تمامتر اسی کا وصف مخصوص ہے۔ ہر جان کا مالک بھی وہی، ہر مال کا مالک بھی وہی، اسلامی نظام حکومت میں قانون اسی کا، اقتدار اعلی اسی کا، زمین اسی کی، اور ٹھیک اسی طرح دشمن سے حاصل کیا ہوا مال بھی اسی کا۔ اسی کو اختیار ہے کہ تقسیم کا حکم جس طرح چاہیے دے، یا جو کچھ چاہے کرے۔ (آیت) ” والرسول “۔ کہ رسول اللہ ﷺ ہی کی معرفت اس حکم الہی کا اعلان اور بیان ہوگا کہ وہی اس دنیا میں اس مالک ومختاری کی مرضی واقتدار کے نمایندہ ہیں۔ ومعنی الجمع بین ذکر اللہ والرسول ان حکمھا مختص باللہ ورسولہ یامر اللہ بقسم تھا علی ما تقتضیہ حکمتہ ویمتثل الرسول امر اللہ فیھا ولیس الامر فی قسم تھا مفوضا الی رأی احد (مدارک)
3 ۔ (کہ یہ اطاعت ہی ایمان کا معیار ہے) یہاں ادھر توجہ دلادی کہ طالب آخرت کے رہو نہ کہ دنیا کی حرص میں مبتلا ہو کر اپنی رائے وتجویز سے غنیمت تقسیم کرنے لگو۔ (آیت) ” فاتقوا اللہ “۔ میں سارے حقوق اللہ کی نگہداشت آگئی۔ (آیت) ” اصلحو ذات بینکم “۔ اپنے آپس کے سابقہ کو ایسا سنبھالو، سنوارو کہ باہمی رشک ومسابقت کا نام ونشان نہ رہے اور بندوں کے حقوق پوری طرح ادا کرو گویا تقوی واصلاح کی جامعیت کا حکم آیت میں آگیا،
Ayah 8:24 ۔ (عظمت الہی کے استحضار سے) اور یہی حاصل ہے تقوی کا، خوف خدا و خشیت کی تاکید اگلے صحیفوں میں بھی ہے۔ توریت میں ایک مقام پر ہے ” خداوند کہتا ہے کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے ہو ؟ کیا تم میرے حضور میں نہیں تھرتھراتے ؟ (یرمیاہ، 5:2) اور انجیل میں ہے، جو سرتا سر رحمت و شفقت ہی کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔” اے خداوند کون تجھ سے نہ ڈرے گا ؟ اور کون تیرے نام کی بڑائی نہ کرے گا ؟ کیوں کہ صرف تو ہی قدوس ہے “ (مکاشفہ 15:4)
5 ۔ (قوت اور تازگی کے لحاظ سے) یہ بیان مومنین کا ملین کی صفائے باطنی کا ہوا۔
6 ۔ یہ بیان ہورہا ہے مومنین کی عملی حالت کا، توکل پر حاشیہ پارہ 4 سورة آل عمران میں آیت ” فاذا عزمت فتوکل علی اللہ “۔ کے تحت میں گزر چکا۔
Ayah 8:37 ۔ یعنی حقوق اللہ میں شعبہ بدنی اور شعبہ مالی دونوں کی ادائی کا پورا پورا اہتمام رکھتے ہیں، محققین نے کہا ہے اعمال باطنی میں توکل اور اعمال ظاہری میں صلوۃ وزکوۃ کے تصریحی ذکر سے اشارہ اس طرف ہے کہ باطنی اور ظاہری زندگی میں یہی اعمال سب سے اہم اور قابل اہتمام ہیں۔ خص من الصفات الباطنۃ التوکل بالذکر علی التعیین ومن الاعمال الظاھرۃ الصلوۃ والزکوۃ علی التعیین تنبیھا علی ان اشرف الاحوال الباطنۃ التوکل و اشرف الاعمال الظاھرۃ الصلوۃ والزکوۃ (کبیر) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اوصاف سالکین کی جامع ہے۔ یعنی اس میں حال بھی ہے وجل کے لفظ سے اور عقاید بھی ہیں ایمان کے واسطہ سے، اور عمل باطنی بھی توکل کے ذریعہ سے اور عمل ظاہری بھی صلوۃ وانفاق کے واسطوں سے، اور آیت کامل اس پر نص ہے کہ ایمان کامل ان سب اوصاف کو جمع کرتا ہے۔ ، اور صوفیہ چونکہ ان سب اوصاف کے جامع ہوتے ہیں، ان کا ایمان بھی کامل ہوتا ہے۔
Ayah 8:48 ۔ یعنی جیسا کامل ان کا ایمان ہے ویسے ہی جزاء بھی انہی ہر اعتبار سے کامل ہی ملے گی ،
Ayah 8:59 ۔ یعنی مال غنیمت کا یہ خدائی طرز تقسیم گو بعض طبائع کو اپنے خلاف مرضی ہونے کی بنا پر ناگوار گزرے لیکن حقیقۃ یہ حکم ایسا ہی پر مصلحت ہے جیسا وہ واقعہ جس کا ذکر اب شروع ہورہا ہے۔ کما اس لفظ کی ترکیب قرآن مجید کی مشکل ترین ترکیبات نحوی میں سے ہے اضطرب المفسرون فی قولہ کما الخ (بحر) چناچہ صاحب بحر نے 15 مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔ ان میں ایک دلنشین قول زجاج لغوی کا ہے۔ الانفال ثابتۃ للہ کما اخرجک ربک (محر) زمخشری جیسے امام ادب نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور تقدیر کلام یوں رکھی ہے۔ الانفال استقرت للہ والرسول وثبتت مع کر اھیتھم تباتا مثل ثبات اخراج ربک ایاک من بیتک وھم کارھون (کشاف) صاحب بحر نے لکھا ہے کہ میں اسی غوروفکر میں ایک روز سوگیا تو میں نے خواب میں بھی اسی ترکیب سے متعلق دیکھا، اس خواب کے نتیجہ کے طور پر انہوں نے کما کے معنی میں محض تشبیہ ہی کو نہیں لیا بلکہ تعلیل کو بھی شامل کیا ہے۔ الکاف لیست لمحض التشبیہ بل فیھا معنی التعلیل (بحر) لیکن امام رازی (رح) نے جو تقدیر کلام اختیار اور پسند کی ہے وہ اس سے بہتر ہے۔ کان التقدیر انھم رضوا بھذا الحکم فی الانفال وان کانوا کارھین لہ کما اخرجک ربک من بیتک بالحق الی القتال وان کانوا کارھین لہ (کبیر)
10 ۔ (معرکہ بدر کے لئے) رسول اللہ ﷺ کو مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کیے ہوئے یعنی وطن کو چھوڑ کر بہ حکم الہی جلاوطن ہوئے دوسرا سال ہوچکا تھا مگر مکہ کے مشرکوں کی ایذا رسانیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری تھا کہ اتنے میں خبر ملی کہ ان موذی دشمنوں کا قافلہ پچاس ہزار اشرفیوں کے مال تجارت سے لداپھندا ایک مشہور مکی لیڈر ابوسفیان کی قیادت و رہنمائی میں شام سے مکہ کو واپس ہورہا ہے اور مدینہ کے قریب سے ہو کر گزرے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے رفیق اور صحابی برسوں سے ان کے مظالم کے ہدف بنے ہوئے تھے۔ قدرۃ خیال گزرا کہ موقع اچھا ہے، دشمن کی اس شہ رگ کو کاٹ دینا چاہیے (مکہ کوئی زراعتی ملک تو تھا نہیں باشندوں کی آمدنی کا دارومدار اسی تجارتی قافلہ پر تھا) آپ ﷺ تین سو تیرہ رفیقوں کے ہمراہ روازنہ ہوگئے، نہ یہ کوئی باضابطہ فوج تھی اور نہ فوجی سامان وسلاح سے آراتہ اس وقت آپ ﷺ نے اپنی مثال تنظیمی قابلیت کی بنا پر اتنے ہی لوگوں کو فوجی دستوں کی صورت میں مرتب کرلیا تھا۔ ساتھ میں کل ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے، ادھر یہ ہورہا تھا، ادھر یہ خبر قافلے والوں کو بھی لگ گئی، انہوں نے فورا اپنے آدمی فوجی کمک کیلئے مکہ کو دوڑائے اور خود بالابالا راستہ کترا کر سمندر کے کنارہ کنارہ نکل آئے جمہوریہ مکہ کا رئیس ابوجہل اپنی ماتحتی میں چھوٹے چھوٹے روساء اور عام مسلح سپاہی 950 کی تعداد میں لے کر جوش و خروش کے ساتھ مدینہ والوں پر جھپٹا، اور بدر کی منزل پر آکر دم لیا، جو مدینہ سے صرف 20 میل کے فاصلہ پر اور اس کے جنوب ومغرب میں واقع ہے۔ یہ واقعہ رمضان 2 ھ مارچ 624 ء کا ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ پر وحی آئی کہ قافلہ یا لشکر دونوں میں سے ایک پر آپ کی فتح یقینی ہے۔ لیکن صحابہ تو بہرحال صاحب وحی نہیں تھے۔ انہوں نے تو یہ دیکھا کہ اب مقابلہ آپڑا ہے تجارتی قافلہ سے یا فوج کے سامان رسد سے نہیں، بلکہ خود لشکر جرار سے اور لشکر بھی کیسا، اپنے سے تعداد اور سامان دونوں میں کئی گنا زاید ! قدرۃ ایک گروہ کو اب تذبذب، تامل، تردد پیدا ہوا، رسول اللہ ﷺ کو اس کم ہمتی پر تأسف ہوا لیکن خود صحابہ ہی کے گروہ میں سے، مہاجرین میں، ابوبکر وعمر ؓ اور انصار میں سعد بن معاذ ؓ رئیس اوس نے جوش اطاعت سے لبریز تقریریں کیں، جب آپ بدر کی طرف روانہ ہوئے، آیت بالا میں انہیں واقعات کی طرف اشارات ہیں۔ معرکہ کے آئینی اور قانونی پہلو پر زمانہ حال کے ایک ماہر فن قانون بین الممالک (انٹرنیشنل لا) کے خیالات سننے کے قابل ہیں۔ :” ایک طرف تو قریش کا مسلمانوں پر مظالم توڑ کر انہیں جلاوطنی پر مجبور کرنا، جلاوطنی پر ان کی جائدادوں کا ضبط کرلینا، اور ان کے نئے مسکن (حبشہ اور پھر مدینہ) میں وہاں کے حکمرانوں اور بااثر لوگوں کو ان تارکین وطن کو پناہ نہ دینے کی ترغیب دینا، دوسری طرف ان ناانصافیوں کا بدلہ لینے کے لیے مدینہ کے مسلمانوں کا قریش پر معاشی دباؤ ڈالنا اور بزور قریشی قافلوں کی آمد ورفت کو اپنے زیر اثر علاقہ میں روک دینا، یہی بدر کی لڑائی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ قریشی قافلوں کو لوٹ لینا ڈاکہ اس وقت سمجھا جائے جب یہ بےقصور ہوں اور لوٹنے والے، حکومت نہیں بلکہ خانگی افراد ہوں، ورنہ دو سلطنتوں میں کشیدگی پر نہ صرف جان بلکہ مال وآبرو کے خلاف بھی ہر فریق دوسرے فریق کو نقصان پہنچانے کا پورا حق رکھتا ہے “۔ (ڈاکٹر حمید اللہ کی ’ عہد نبوی کے میدان جنگ “ صفحہ 17) (آیت) ” بالحق۔ یعنی مقصد صحیح و صالح و پر حکمت کے ساتھ، یوں ہی اور بلاوجہ نہیں۔ اے اخراجا متلبسا بالحکمۃ والصواب (کبیر) (آیت) من بیتک “۔ یعنی شہر مدینہ سے جو اب آپ ﷺ کا وطن اختیاری تھا۔ یرید بیتہ بالمدینۃ او المدینۃ نفسھا لانھا موضع ھجرتہ وسکناہ (کبیر)
1 1 ۔ کہاں 3 13 اور وہ بھی بےسروسامان، کہاں 950 اور پھر ہر طرح مسلح وباساز و سامان۔ خوف واندیشہ بالکل قدرتی تھا اور یہ طبعی کیفیت مورد عتاب نہیں، یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی متقی و صالح شخص سانپ کا یا شیر کا اچانک سامنا ہوجانے پر ڈر جائے پھر فریقا سے یہ امر بھی صاف ہوگیا کہ یہ خوف وتردد بھی سب کو نہ تھا۔ وھذا فیما لایدخل تحت القدرۃ والاختیار فلا یرد انہ لا یلیق بمنصب الصحابۃ (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نفع کبھی بہ صورت ضرر ہوتا ہے، اور عارفین کو اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔
Ayah 8:612 ۔ یہ تفصیل بیان ہوئی اسی کراہت طبعی لکارھون کی (ملاحظہ ہوں اوپر کے دونوں حاشیے) ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے الفاظ میں مدینہ سے چلتے وقت مسلمانوں کو یقین نہ تھا کہ آیا وہ قافلہ سے ملیں گے یا امدادی دستہ سے مڈبھیڑ ہوگی، دونوں امکانات تھے چونکہ قریشی قافلہ ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل اور پانچ لاکھ درہم کا اسباب لارہا تھا، اس لیے مدینہ والوں کو یقین تھا کہ اس کی مدد اور حفاظت کے لیے قریش اپنے تمام حلیفوں کی مدد سے ہزاروں آدمیوں کے ساتھ مقابلہ اور کشمکش کریں گے۔ مدینہ سے زیادہ دور مکہ کی سمت جانا بہتوں کے لیے موت کا منہ میں جانا معلوم ہوتا تھا۔ (کتاب مذکور) ۔ صفحہ 17 ۔ 18 ۔ (آیت) ” یجادلونک “۔ جدال محاورۂ قرآنی میں ہمیشہ موقع ذم پر نہیں آتا، بلکہ اس کے معنی کہیں صرف زور دے کر کہنے کے آتے ہیں۔ اور اس لفظ کا استعمال کہیں پیغمبران معصوم کے حق میں آیا ہے۔ مثلا حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے لیے (آیت) ” یجادلنا فی قوم لوط۔۔۔ فی الحق “۔ یعنی لشکر مکہ سے قتال کے بارے میں درآنحالیکہ وہ صرف قافلہ پر حملہ کے خیال سے کر آئے تھے والحق الذی جادلوا فیہ رسول اللہ ﷺ تلقی النفیر (کبیر) (آیت) ” بعد ماتبین “۔ یعنی بعد اس کے کہ اس عمل کا خیر ہونا انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے معلوم ہوچکا تھا۔ اے بعد ماتبین لھم انک لا تامر بشیء الا باذن اللہ (قرطبی)
Ayah 8:713 ۔ یعنی وہ مغلوب ہوجائے گی اور تم اس پر غالب آجاؤگے۔ (آیت) ” واذ یعدکم اللہ “۔ یہ وعدۂ الہی رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے تھا۔ (آیت) ” احدی الطآئفتین “۔ دو جماعتوں (یعنی قافلہ ولشکر) میں سے ایک یعنی لشکر۔
14 ۔ مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ جنگ بدر ایک فیصلہ کن جنگ تھی، جمہوریہ مکہ کی قسمت کا پانسہ اسی نے ہمیشہ کے لیے پلٹ دیا۔ اور نئے دین کی جڑ جما دی۔ (ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے) مسلمانوں کی خواہش طبعی طور پر یہی تھی کہ سابقہ صرف تجارتی قافلہ سے پڑے، جس پر انہیں فتح بلاحرب و قتال کے حاصل ہوجائے۔ (آیت) ” غیر ذات الشوکۃ “۔ یعنی وہی تجارتی قافلہ۔ شوکۃ کے لفظی معنی چبھنے والے کانٹے کے ہیں۔ مجازا قوت، شدت اور اسلحہ سے مراد ہوتی ہے۔ مایدق ویصلب راسہ من النبات ویعبر بالشوک والشکۃ من السلاح والشدۃ (راغب) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کبھی ضرر بہ صورت نفع ہوتا ہے اور عارفین کو ہر وقت اس کا مشاہدہ اپنے حالات ومعاملات میں ہوتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ان یحق الحق “۔ یعنی حق کا حق ہونا عیانا ومشاہدۃ ظاہر کردے۔ (آیت) ” بکلمتہ “۔ کلمات سے مراد احکام شرعی بھی ہوسکتے ہیں۔ مثلا رسول اللہ ﷺ کا بدر کی طرف روانہ ہونا، لشکر سے مقابلہ کے لئے حکم فرمانا وغیرہ اور احکام تکوینی بھی مثلا روساء مکہ کا اتنی تیاریاں کرکے آنا، اور پھر بھی مغلوب ومقہور ہونا وغیرہ،
Ayah 8:815 ۔ یہاں بھی وہی احقاق حق اور ابطال باطل کا عیانا ومشاہدۃ واقع ہونا مراد ہے۔ اور (آیت) ” یحق الحق “۔ میں تکرار معنوی اس لیے نہیں ہے کہ ایک جگہ وہ خود مقصود ہے اور دوسری جگہ ایک مقصود قطع دابر کا واسطہ ہے۔
Ayah 8:916 ۔ (اپنی قلت تعداد اور بےسروسامانی اور دشمن کی کثرت تعداد سازوسامان پر نظر کرکے)
17 ۔ یہی مضمون سورة آل عمران پارۂ چہارم میں آیا ہے اور حاشیے وہاں گزر چکے۔ (آیت) ” مردفین “۔ سے مراد شاید یہ ہو کہ جس طرح آج میدان جنگ میں باقاعدہ فوجوں کے جنگی دستے ترتیب کے ساتھ ایک کے بعد ایک آتے رہتے ہیں اسی جنگی نظام وترتیب کے ساتھ فرشتوں کے دستوں کا نزول ہوتا رہا۔ المردف المتقدم الذی اردف غیرہ (راغب) اے متتابعین تاتی فرقۃ بعد فرقۃ وذالک اھیب فی العیون (قرطبی) (آیت) ” فاستجاب لکم “۔ یہ وعدہ امداد الہی پیغمبر کے ذریعہ سے ہوا۔
Ayah 8:1018 ۔ چناچہ وہ بالکل براہ راست بلاکسی واسطہ کے بھی امداد پر قادر ہے لیکن وہ رعایت اسباب بھی رکھتا ہے اور اس لیے مدد واسطوں اور ذریعوں سے پہنچاتا ہے۔ (آیت) ” وما جعلہ “۔ ضمیر اسی وعدۂ امداد بذریعہ ملائکہ کی جانب ہے۔ (آیت) ” الا بشری “۔ یعنی توقع فتح و غلبہ سے دل خوش ہوجائے، (آیت) ” ولتطمئن بہ قلوبکم “۔ اس میں اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ طبعا تسلی اسباب ظاہری سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” وما النصر الا من عند اللہ “۔ یعنی کہیں وسائط وذرائع پر زیادہ نظر کرکے انہیں میں نہ الجھ جانا، حقیقت حال یہ ہے کہ امداد ساری کی ساسی اللہ ہی کی طرف سے ہے نبہ علی ان النصر من عندہ عزوجل لامن الملئکۃ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اس پر دال ہے کہ باوجود اسباب کے غیر مؤثر ہونے اور مسببات کے منجانب اللہ ہونے کے بعد پھر بھی اسباب میں حکمتیں ہوتی ہیں۔
Ayah 8:1119 ۔ بدر میں مشرکین پہلے جاپہنچے تھے، اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک خشک ریگستان میں اترے جہاں پانی نہ ہونے سے پیاس کی بھی شدت اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز (اور تیمم کا حکم اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا) ادھر ریگستان میں چلنا پھرنا مصیبت کہ اس میں پاؤں دھنسے جاتے تھے۔ ان اسباب سے قلب سخت پریشان ہوا، اوپر سے شیطان نے وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ اگر تم اللہ کے نزدیک مقبول ومنصور ہوتے تو اس پر یشانی میں کیوں پھنستے۔ حالانکہ یہ وسوسہ محض بےبنیاد تھا مگر پریشانی بڑھانے کے لیے کافی تھا۔ حق تعالیٰ نے اول باران رحمت نازل فرمایا جس سے پانی کی افراط ہوگئی، پیا بھی وضو، غسل بھی کیا، اور اس سے ریتا جم گیا، اور دھسن جاتی رہی، برخلاف اس کے کفار نرم زمین میں تھے وہاں کیچڑ ہوگئی جس سے چلنے پھرنے میں تکلف ہونے لگا۔ غرض سب وساوس وتشویشات دفع ہوگئے۔ اس کے بعد ان پر اونگھ کا غلبہ ہوا۔ جس سے پوری راحت ہوگئی اور سب بےچینی جاتی رہی۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” امنۃ منہ “۔ یعنی یہ غنودگی کا طاری ہونا بھی بلاسبب نہ تھا، ایک خاص حکمت ومصلحت کا نتیجہ تھا، منہ میں ضمیر حق تعالیٰ کی جانب ہے۔ الھاء فی منہ للہ (قرطبی) (آیت) ” لیطھرکم بہ “۔ یعنی وضو، غسل، وغیرہ کی سب ضرورتیں پوری ہوجائیں۔ (آیت) ” رجز الشیطن “۔ وہ شیطانی وسوسہ مومنین کے دل میں یہ تھا کہ معلوم ہوتا ہے ہم مخذول، غیر مقبول ہیں۔ جب ہی تو پانی سے محروم ہیں۔ قوت ارادی میں ضعف وسوسۂ شیطانی ہی پیدا کرتا ہے اس کا ازالہ مقدم ہے۔ (آیت) ” لیربط علی قلوبکم “۔ خطرناک موقعوں پر شجاعت وثابت قدمی اسی قوت یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ (آیت) ” لیثبت بہ “۔ میں ضمیر پانی کی طرف ہے۔ الضمیر فی بہ عائد علی الماء (قرطبی)
Ayah 8:1220 ۔ یعنی اپنے تصرفات ملکی سے ان کی ہمت بڑھائے رکھو۔ (آیت) ” الی الملئکۃ “۔ یعنی انہی فرشتوں کی جانب جو امداد مومنین کے لئے نازل ہوئے تھے (آیت) ” انی معکم “۔ یعنی تم حسب ارشاد اپنا کام کیے جاؤ اثر پیدا کرنا ہمارا کام ہے اور اصل شے یہی معیت الہی ہے۔
21 ۔ یہ سب بیان اور تفصیل ہے (آیت) ” ثبتوا “۔ کی (آیت) ” سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “۔ یہ بیان ہے (آیت) ” انی معکم “ کا۔ فوق الاعناق “۔ میں فوق، علی، کے معنی میں لیا گیا ہے۔ فوق بمعنی علی (معالم) بنان کہتے ہیں انگلیوں اور ان کے پوروں کو۔ البنان الاصابع (راغب) البنان الاصابع یرید الاطراف (کشاف) (آیت) ” واضربوامنھم کل بنان “۔ جنگ ظاہر ہے کہ دست بہ دست تھی، نیزوں، اور تلواروں سے، ایسی جنگ کے لیے (بلکہ کہنا چاہیے کہ ہر جنگ کے لیے) اس سے بڑھ کر حکیمانہ ہدایت اور کیا ہوسکتی ہے کہ دشمن کے سپاہیوں کی انگلیوں پروار کرو اور ان کی جان لیے بغیر انہیں لڑائی کے ناقابل بنادو۔ خصہ لاجل انھم بھا تقاتل وتدافع (راغب) (آیت) ” فاضربوا فوق الاعناق “۔ یعنی گردن کے اوپر کے حصہ پر وار کرو، تاکہ حریف فورا مرجائے خواہ مخواہ اور بلاضرورت مدت تک تڑپتا۔ اور موت وزندگی کے درمیان جھولتا نہ رہے۔ والمعنی فاضربوا المقاتل والشوی لان الضرب اما واقع علی مقتل او علی غیر مقتل فامرھم بان یجمعوا علیھم النوعین معا (کشاف)
دونوں ہدایتیں فن حرب کے لحاظ سے بہترین اور اعلی طریق حرب وضرب کی جامع ہیں۔
Ayah 8:1322 ۔ (خواہ یہ سزا آخرت میں ہو یا دنیا میں، یا دونوں جگہ) (آیت) ” شآقواللہ “۔ سے مراد شاقوا اولیاء اللہ بھی لی گئی، ای اولیاء ہ (قرطبی)
Ayah 8:1423 ۔ (کہ اصلی عذاب تو وہی ہے اور دنیوی سزا سے اس کا ٹل جانا لازم نہیں آتا)
Ayah 8:1524 ۔ جہاد سے بھاگنا حرام ہے، عام حکم یہی ہے، بہ طور استثناء اجازت خاص خاص صورتوں میں ہے انکی تفصل کچھ تو یہیں قرآن مجید میں آرہی ہے اور کچھ فقہ کی کتابوں میں ملے گی، (آیت) ” اذا لقیتم الذین کفروا زحفا “۔ یعنی کافروں سے مڈبھیڑ ہو حالت جہاد میں۔ زحفا زحف کے لفظی معنی چھوٹے بچے کا گھسل گھسل کر چلنا ہے مجازا اس کا اطلاق لشکر پر بھی ہونے لگا کہ اسے بھی ہجوم کے باعث رک رک ہی کر چلنا ہوتا ہے۔ کالعسکر اذا کثر فیعثر انبعاثہ (راغب) الزحف الدنوقلیلا قلیلا ثم سمی کل ماش فی الحرب الی اخر زاحفا (قرطبی)
Ayah 8:1625 ۔ سپا ہوں کو اپنی جگہ چھوڑنے اور میدان جنگ سے ہٹنے کی اگر ذرا گنجائش رکھ دی جائے تو نظام عسکری تو فورا ہی تشریف لے جائے، اس لیے دنیا کے کسی بھی حربی قانون میں اس کی ذرا بھی اجازت نہیں بلکہ بزدلی ایک ناقابل عفو جرم ہے۔ اور پھر لشکر اسلام کا تو ہر سپاہی خدا کا سپاہی ہوتا ہے۔ وہ اپنی جان بیچ کر اور اس کے عوض میں وعدۂ جنت لیکر تو قدم ہی میدان میں رکھتا ہے۔ اسکے لیے تو بزدلی کی اتنی بھی گنجائش نہیں نکل سکتی جتنی کسی دنیوی لشکر میں ممکن ہے۔ الفرار کبیرۃ موبقۃ بظاہر القران واجماع الاکثر من الائمۃ (قرطبی) قال ابن القاسم لاتجوز شھادۃ من فر الزحف ولا یجوز لھم الفرار وان فراما مھم (قرطبی) (آیت) ” یومئذ “۔ جہاد کے دن یعنی جہاد کے موقع پر۔ (آیت) ” الا متحرفا لقتال “۔ اس استثناء کے اندر جنگی مصلحت کی وہ تمام صورتیں آجاتی ہیں۔ جن کا مقصد حریف کو غافل کرکے اس پر اکبارگی ٹوٹ پڑنا ہوتا ہے۔ (آیت) ” متحیزا الی فءۃ “۔ مثلا سپاہی اپنے لشکر سے جدا ہو کر اکیلا پڑگیا، اور اب بھاگنے سے اس کا مقصود اپنی جماعت سے مل کر اور سازو سامان حاصل کرکے پھر سے حملہ کرنا ہے۔ (آیت) ” ماوہ جھنم “۔ محققین نے یہاں پر یاد دلادیا ہے کہ اس دخول جہنم سے خلود جہنم لازم نہیں آتا۔ وھذا لایدل علی الخلود (قرطبی)
Ayah 8:1726 ۔ (تاثیر حقیقی کے مرتبہ میں۔ کہ مؤثر حقیقی صرف اس کی قدرت ہے) سپہ داراعظم رسول اللہ ﷺ نے حالت جہاد میں ایک مٹھی بھر کنکریاں یا مٹھی اٹھا کر مشرکوں کے لشکر کی طرف پھینکیں، ریزے ان کی آنکھوں میں جاکر گھس گئے اور انہیں شکست ہوئی، حدیث میں روایت غزوۂ بدر وغزوۂ حنین دونوں کے سلسلہ میں آئی ہے۔ سیاق قرآن صاف غزوۂ بدر کے سلسلہ میں ہے۔ (آیت) ” فلم تقتلوھم “۔سے غرض یہ ہے کہ جب تم تائید غیبی کے ایسے ایسے عجائب وخوارق وخود مشاہدہ کرچکے ہو تو اب یہ بھی سمجھ لو۔ آیت اس مضمون کو صاف کررہی ہے کہ فاعل حقیقی ومؤثر اصلی صرف حق تعالیٰ ہے گوعالم اسباب میں وہ کام آلات ووسائط ہی سے لیتا رہتا ہے۔ فنزلت الایۃ اعلاما بان اللہ تعالیٰ ھو الممیت والمقدر لجمیع الاشیاء وان العبد انما یشارک بتکسبہ وقصدہ (قرطبی) اے لیس بحولکم وقوتکم قتلتم اعداء کم مع کثرۃ عددھم وقلۃ عددکم ای بل ھو الذی اظفرکم علیہم (ابن کثیر) (آیت) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “۔ یعنی یہ آپ ﷺ کے یا کسی مخلوق کے بھی بس میں نہ تھا کہ خاک کے وہ ذرے ہر ہر کافر کی آنکھ تک پہنچا دیں رمی کا یہ معجزانہ عمل تمام تر قدرت الہی کا کرشمہ تھا۔ عنی بذالک ان اللہ بلغ بذالک التراب وجوھھم وعیونھم اؔ ذلم یکن فی وسع احد من المخلوقین ان یبلغ ذالک التراب عیونھم من الموضع الذی کان فیہ النبی ﷺ (جصاص) وما رمیت یا محمد رمیا توصلہ الی اعینھم ولم تقدر علیہ اذ رمیت اے اذ رمیت بصورۃ الرمی ولکن اللہ رمی اے اتی بما ھو غایۃ الرمی فاوصلھا الی اعینھم جمیعا حتی انھزموا (بیضاوی)
27 ۔ اس پر بندوں کے الفاظ واقوال بھی اور احوال و اعمال بھی سب یکساں روشن ہیں۔ (آیت) ” ولیبلی ال مومنین منہ بلآء حسنا “۔ مومنین کی اس آزمائیش سے مقصد یہ کہ انہیں ان کے قصد سے اختیار کئے ہوئے اعمال پر خوب اجر وصلہ دے۔
Ayah 8:1828 ۔ یعنی یہ ایک مصلحت تو پوری ہوچکی۔
29 ۔ (اور وہ بھی کمزور اور بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں جس سے اس کی قدرت و حکمت اور زیادہ واضح ہو کر رہے۔
Ayah 8:1930 ۔ (اور جو فریق حق پر تھا اسے غلبہ حاصل ہوگیا) خطاب مشرکین مکہ سے ہے روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لیے مکہ سے روانہ ہورہا تھا تو قریش ابوجہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا کی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کر عطا کر جو حق پر ہو۔ کان المشرکون حین خرجوا من مکۃ الی بدر اخذوا باستار الکعبۃ فاستنصروا اللہ وقالوا اللھم انصرا علی الجندین واکرم الفئتین وخیر القبیلتین (ابن کثیر عن السدی) وقیل قالہ ابوجھل وقت القتال (قرطبی)
31 ۔ اس لیے فتح و غلبہ اصلا حق انہی کا ہے گو کسی عارض کی وجہ سے کسی وقت اس کا ظہور نہ ہو) (آیت) ” وان تنتھوا “۔ یعنی اتنے نمایاں وضوح حق کے بعد اگر اب بھی اسلام و رسول اسلام ﷺ کی مخالفت سے باز آجاؤ۔ (آیت) ” خیرلکم “۔ یہ بہتری تمہارے حق میں دنیوی اور اخروی دونوں اعتبار سے ہوگی۔ (آیت) ” ان تعودوا “۔ یعنی اسی طرح مخالفت ومعاندت پر مصر رہوگے۔ (آیت) ” نعد یعنی ہم بھی اسی طرح تمہارا زور توڑتے رہیں گے۔
Ayah 8:2032 ۔ (اعتقاد کے ساتھ) مسلمانوں کا کلام الہی کا سننا ہمیشہ اعتقاد ہی کے ساتھ ہوگا اور یہاں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے، آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جیسے عقیدت سے سن رہے ہو، ویسے ہی عمل بھی کرو، (آیت) ” واطیعوا اللہ ورسولہ “۔ ساری دنیوی کامرانیوں اور اخروی کامیابیوں کی بنیاد یہی اطاعت ہے۔ (آیت) ” ولا تولوا عنہ “۔ ” اس سے “ یعنی اس اطاعت سے۔ ضمیر حکم کی جانب ہے۔ الضمیر للجھاد او للامر الذی دل علیہ الطاعۃ (بیضاوی) (آیت) ” وھم لایسمعون “۔ سے فقہاء ومفسرین نے یہ استنباط کیا ہے کہ مومن کی عملی زندگی پر ایمان کا اثر ہونا چاہیے اور اگر کوئی اثر نہیں ملتا تو محض قول بیکار ہی ہے۔ دلت الایۃ علی ان قول المومن سمعت واطعت لافائدۃ فیہ مالکم یظھر اثر ذالک علیہ بامتثال فعلہ (قرطبی)
Ayah 8:2133 ۔ (مراد کفار ومنافقین ہیں) مسلمانوں کو ہدایت ہورہی ہے کہ ترک اطاعت میں تم کافروں اور منافقوں کی طرح نہ ہوجانا۔
Ayah 8:2234 ۔ ( آیت سن کر عمل نہ کرنا بھی مشابہ ان لوگوں کے عمل کے ہے جو بہرے اور گونگے ہیں۔ (آیت) ” شرالدوآب “۔ کفارومنافقین کے ذکر کے بعد یہ لفظ ان کی تحقیر و اہانت کے لیے ہے۔ عنی بہ الاشرار الذین ھم فی الجھل بمنزلۃ الدواب (راغب)
Ayah 8:2335 ۔ یعنی اگر کافروں اور منافقوں میں کوئی خوبی طلب حق کے سلسلہ میں موجود ہوتی تو اللہ انہیں اعتقاد کے ساتھ سننے کی توفیق بھی دے دیتا۔ (آیت) ” ولو اسمعھم “۔ یعنی انہیں اس بےپروائی کی حالت میں سنوادے، جیسا کہ ظاہری کانوں سے وہ اب بھی سن ہی رہے ہیں۔ (آیت) ” ولوعلم اللہ فیھم خیرا “۔ اللہ کا علم تو ہمیشہ مطابق واقع ہی ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ کے علم میں کسی شے کے نہ آنے کے معنی ہی اس شے کی نفی کے ہیں۔ (آیت) ” وھم معرضون “۔ یہ ٹکڑا ان کی بےتوجہی کو اور نمایاں کرنے کے لیے ہے۔
Ayah 8:2436 ۔ یعنی احکام شریعت کی طرف، یہاں صاف صاف بتاد یا کہ حیات ابدی اور زندگی جاودانی بخشنے والی چیز یہی نظام دین ہے، خصوصیت کے ساتھ مراد جہاد ہے۔ (آیت) ” للرسول “ یہ بات لحاظ رکھنے والی ہے کہ قرآن مجید میں ایسے تمام موقعوں پر رسول اللہ ﷺ کا ذکر بجائے اسم ذات کے ہمیشہ رسول یا الرسول ہی سے آتا ہے۔ یہ آپ کی حیثیت رسالت کو نمایاں کرنے کے لیے ہے کہ آپ کا بلانا بھی فرستادہ الہی کی حیثیت سے اللہ ہی کا بلانا ہوتا ہے۔ (آیت) ” استجیبوا ‘ یہاں اجیبوا کے معنی میں ہے۔
37 ۔ (اور سب کا سابقہ بالآخر اسی سے پڑتا ہے) (آیت) ” یحول بین المرء و قبلہ “۔ اللہ کا انسان اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جانا دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یوں کہ مومن کے قلب میں طاعت کی برکت سے کفر ومعصیت کو نہیں آنے دیتا۔ دوسرے یوں کہ کافر کے قلب میں مخالفت کی نحوست سے ایمان وطاعت کو آنے نہیں دیتا۔
Ayah 8:2538 ۔ (بلکہ ان گنہگاروں کے علاوہ ان لوگوں پر بھی اس کا وبال پڑے گا۔ جنہوں نے باوجود کسی حد تک قدرت رکھنے کے ان گناہوں کو روکنے کی کوشش نہ کی، اور خود بھی اس طرح جرم مداہنت کے مرتکب ہوئے یا شریک جرم رہے) اسلام امت کو جس بلند معیار پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے افراد کا زمرۂ صالحین میں ہونا کافی نہیں، بلکہ ہر فرد بشر کا بہ قدر اپنی وسعت و بساط کے مصلح ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے جرم ومجرم سے مداہنت اسلام کے اندر خود ایک جرم ہے۔” جس طرح اپنی اصلاح کے متعلق طاعت واجب ہے، اسی طرح یہ بھی طاعت واجبہ میں داخل ہے کہ بہ قدر وسع دوسروں کی اصلاح میں بہ طریق امر بالمعروف ونہی عن المنکر بالید یا باللسان یا ترک اختلاط یا نفرت بالقلب جو کہ آخری درجہ ہے۔ کوشش کرو ورنہ در صورت مداہنت ان منکروں کا وبال جیسا مرتکبین منکرات پر واقع ہوگا۔ ایسا ہی کسی درجہ میں مداہنت کرنے والوں پر بھی واقع ہوگا۔ “ (تھانوی (رح)
Ayah 8:2639 ۔ (اور اطاعت و اطاعت میں خوب مستعد ہوجاؤ) (آیت) ” اذانتم قلیل “۔ مسلمانوں کو ان کی مکی زندگی قبل ہجرت کی یاد دلائی جارہی ہے۔ (آیت) ” مستضعفون فی الارض “۔ یعنی تعداد میں کم ہونے کے علاوہ مکہ میں بہ لحاظ قوت بھی کمزور ہی شمار کیے جاتے تھے۔ (آیت) ” ان یتخطفکم الناس “۔ الناس سے مراد مخالفین واعداء ہیں۔ (آیت) ” اوکم “۔ یعنی مدینہ میں اطمینان سے جگہ دی۔ (آیت) ” ایدکم بنصرہ “۔ یعنی تمہاری تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ بےسروسامانی بھی نہ رہی۔ (آیت) ” ورزقکم من الطیبت “۔ یعنی تمہیں ہر طرح کی خوش حالی عنایت کی۔
Ayah 8:2740 ۔ (کہ اعمال میں کوتاہیوں کے نتائج بد اور مضرتیں کیا کیا ہیں) (آیت) ” لا تخونوا اللہ والرسول “۔ اللہ اور رسول کے جو حقوق عاید ہوتے ہیں انہی کو پوری طرح ادا نہ کرنا بھی ان میں خیانت کرنا ہے۔ (آیت) ” وتخونوا امنتکم “۔ اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے اعمال سے جو منافع مرتب ہوتے ہیں انہی کو یہاں امانتوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayah 8:2841 ۔ (جس کے آگے ساری دنیوی لذتیں فانی، مصلحتیں ہیچ ہیں) (آیت) ” فتنۃ “۔ یعنی یہ مال واولاد کی محبت ہی ایسی چیز ہے جس سے امتحان ہوتا رہتا ہے۔ کہ کون ان کی محبت میں حد سے گزر کر اللہ اور رسول کے احکام کو بھلا دیتا ہے۔
Ayah 8:2942 ۔ (اور اس بڑے داتا کی ساری بخششیں اور نعمتیں تمہارے وہم و گمان میں بھی کب آسکتی ہیں) (آیت) ” ان تتقوا اللہ “۔ اور اس تقوی و خشیت الہی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ طاعت و اطاعت میں لگے رہو گے۔ (آیت) ” فرقانا “۔ فرقان کی تشریح اہل تفسیر نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق کی ہے۔ لیکن بہتر ہوگا کہ لفظ ان سب مفہوموں کا جامع سمجھا جائے اور ہدایت اور نور قلب جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہوجائے اور غلبہ علی الاعداء اور نجات آخرت جس سے حق و باطل میں عملی فیصلہ ہوجائے سب کو شامل رہے۔
Ayah 8:3043 ۔ (جس کی تدبیر کے آگے ساری دنیا کے منصوبے اور تدبیریں ہیچ محض ہیں) (آیت) ” اذ یمکربک “۔ مکہ کے رئیسوں سرداروں نے باہم جمع ہو کر آپ ﷺ کو قید، جلاوطنی، قتل، سب تدبیروں پر غور کیا، اور اخیر رائے قتل ہی کی قرار پائی۔ آپ ﷺ کو وحی سے معلوم ہوگیا، آپ ﷺ خاموشی سے نقل مکان کر، غارثور میں پوشیدہ ہوگئے اور بہ فراغ خاطر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ آیت میں انہی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ مکر پر حاشیے سورة آل عمران آیت ” مکروا ومکر اللہ، واللہ خیر المکرین “۔ پر گزر چکے۔ (آیت) ” لیثبتوک “۔ اثبات یہاں قید یا حبس کے معنی میں لیا گیا ہے۔ الاثبات ھو الحبس (ابن جریرعن السدی) اے لیسجنوک (ابن جریر، عن عطاء، وعبداللہ بن کثیر) ومعنی لیثبتوک لیحبسوک (قرطبی)
Ayah 8:3144 ۔ (اور کلام حق ہرگز نہیں) یہ کہنے والا کون تھا ؟ اہل تاریخ وسیر کا بیان ہے کہ یہ کہنے والانضر بن حارث تھا، اپنے زمانہ کا بڑا جہاندیدہ اور ” روشن خیال “ ایران جیسے مہذب ومتمدن ملک کی سیر کئے ہوئے، جیسے آج کا ” ولایت پلٹ “ ہندوستانی ! قد قیل ان قائل لذالک ھو النضربن الحارث کما قد قص علی ذالک سعید بن جبیر والسدی وابن جریج وغیرھم فانہ لعنہ اللہ کان قد ذھب الی بلاد فارس و تعلم من اخبار ملوکھم رستم واسفند یار (ابن کثیر) ھذا سے اشارہ دونوں جگہ قرآن مجید کی طرف ہے۔ (آیت) ” قالوا قد سمعنا۔۔۔ “۔ بولے کہ بس ہم نے سن لیا اور حال معلوم ہوگیا۔
Ayah 8:3245 ۔ (یعنی اس طرح کا کوئی خارق عادت) صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ اس قول کا قائل ابوجہل بن ہشام تھا، اور طبرانی وغیرہ دوسری روایتوں میں نام نضر بن الحارث کا آتا ہے لیکن بہرحال ایک کا نام دوسرے کے منافی نہیں اور جیسا کہ محدث حافظ ابن حجر نے فیصلہ کیا ہے ممکن ہے دونوں نے ہی کہا ہو، لیکن ترجیح ابوجہل والی روایت کو ہے۔ ولانھا فی ذالک مافی الصحیح لاحتمال ان یکون قالاہ ولکن نسبتہ الی ابی جھل اولی (فتح الباری) یہ بھی بہ آسانی ممکن ہے کہ کہنے والا کوئی ایک ہو، اور اس کے ہم زبان اور بہت سے اہل قریش ہوگئے ہوں۔ قال الجمھور قائل ذالک کفار قریش (بحر) وان کان ھذا القول نسب الی جماعۃ فلعلہ بدأورضی الباقون فنسبت الیھم (فتح الباری) ھذا یعنی وہ کلام جسے محمد ﷺ بہ طور خدائی کلام کے پیش کررہے ہیں۔
Ayah 8:3346 ۔ (گو وہ استغفار ایمان صحیح کی عدم موجودگی کی بنا پر آخرت میں نجات کیلئے کافی نہ ہو) یہاں یہ بتلایا کہ جس طرح کا خارق عادت عذاب یہ لوگ طلب کررہے ہیں، اس کی راہ میں دو ، دو مانع موجود ہیں۔ ( 1) ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان زندہ و سلامت موجود ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ باوجود ان کے کفر وشرک ومعصیت شعاری کے، اللہ سے تعلق استغفار ان کا کسی درجہ میں باقی وقائم ہے چناچہ طواف کے وقت یہ اس وقت بھی غفرانک، غفرانک کہتے جاتے ہیں۔
Ayah 8:3447 ۔ (اور عبادت الہی تو ان مومنین عابدین کا ایسا حق ہے کہ اس سے روکنے کا اختیار متولیوں کو بھی نہیں) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ عذاب خارق عادت کے لئے تو موانع موجود ہیں لیکن نفس عذاب سے مانع تو کوئی بھی نہیں بلکہ اس کا تو عین مقتضاء موجود ہے۔ (آیت) ” یصدون عن المسجد الحرام “۔ یعنی حرم شریف کے اندر داخلہ سے اس میں نماز پڑھنے سے، اس کے اندر طواف کرنے سے یہ ظالم لوگ مسلمانوں کو اور رسول اسلام ﷺ کو برابر روک رہے ہیں۔ (آیت) ” وما کانوا اولیآء ہ “۔ قریش کا ایک زعم باطل یہ بھی تھا کہ چونکہ ہمارے باپ دادا خانہ کعبہ کے متولی رہ چکے ہیں۔ ہم میں اس کی تولیت آج تک چلی آرہی ہے یہاں اسی عقیدہ کی تردید ہے۔ (آیت) ” اولیآؤہ “۔ میں ضمیر (آیت) ” المسجد الحرام “ کی طرف ہے۔
48 ۔ (کہ منصب تولیت کے سرے سے نااہل ہیں) (آیت) ” ان اولیاؤ ہ الا المتقون “۔ اور تقوی کی پہلی شرط ایمان واسلام ہے۔
Ayah 8:3549 ۔ (چنانچہ اس وعید کے مطابق عذاب غیر خارق عادت غزوات نبوی کی شکل میں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں پر نازل ہو کر رہو (آیت) ” وما کان۔۔۔ تصدیۃ “۔ یہاں مشرکوں کی عبادت کی تحلیل کرکے بتایا ہے کہ بجز اس کے کہ منہ سے سیٹیاں بجائیں اور ہاتھ سے تالیاں، اور ان کی عبادت تھی ہی کیا ؟ خوب غور کرکے دیکھ لیاجائے کہ آج بھی عبادت کے جو غیر اسلامی اور جاہلی طریقے چلے ہوئے ہیں ان کا جزء اعظم یہی باجا گاجا، تالیاں اور سیٹیاں ہیں یا نہیں ؟ فقہاء ومفسرین نے لکھا ہے کہ ان میں ان جاہل صوفیہ کے لیے بھی وعید ہے جو وجدوحال لاکراچھلتے کودتے، تالیاں بجاتے اور ناچتے ہیں۔ اور اسے کوئی کمال روحانی سمجھتے ہیں، یہ صاف تشیبہ اعمال مشرکین کے ساتھ ہے۔ فی رد علی الجھال من الصوفیۃ الذین یرقصون ویصفقون واذالک کلہ منکر یتنزہ عن مثلہ العقلاء ویتشبہ فاعلہ بالمشرکین فیماکانوا یعفلونہ عند البیت (قرطبی) (آیت) ” ینفقون اموالھم “۔ اعمال اور اعمال مخالفت کی تین ہی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ قولی، بدنی اور مالی، قولی اور بدنی مخالفت اوپر بیان ہوچکی۔ اب بیان یہ ہورہا ہے کہ ان معاندین کے مالی وسائل بھی مخالفت اسلام کے لئے وقف ہیں۔ (آیت) ” عن سبیل ثم یغلبو ن “۔ یہ حسرت اس وقت دہری ہوگی۔ ایک حسرت تو اپنے مال و دولت کے ضائع جانے پر دوسری حسرت خود اپنی مغلوبیت پر۔
Ayah 8:3650 ۔ یہ سزائے آخرت دنیوی سزا و حسرت کے علاوہ ہے۔
Ayah 8:3751 ۔ یہ معاندین کا انجام پوری وضاحت سے بتادیا ہے۔ (آیت) ” فیرکمہ “۔ میںتفسیری ہے۔ (آیت) ” لیمیز اللہ الخبیث من الطیب “۔ خبیث سے مراد کافر اور طیب سے مراد مومن ہے۔ ای المومن من الکافر (قرطبی)
Ayah 8:3852 ۔ (اور اب پچھلے گناہوں پر باز پرس نہ ہوگی) اس مقام کی شرح حدیث میں ان الفاظ سے آئی ہے۔ ان الاسلام یھدم ماکان قبلہ فقہاء نے کہا ہے کہ مؤاخذہ حقوق عباد (مثلا قرضہ، قصاص وغیرہ) کافر حربی سے تو ساقط ہوجائیں گے۔ اس لیے کہ وہ حالت کفر میں ہماری شریعت کا معاملات میں پابند نہ تھا لیکن کافر ذمی پر اسلام لانے کے بعد بھی باقی رہیں گے اس لیے کہ وہ ذمہ دار تھا۔ باقی حقوق اللہ سے متعلق دونوں کے سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔ قال ابو حنفیۃ ماکان للہ مسقط وما کان للادمی لایسقط قال ابن العربی وھو قول علمائنا لان اللہ تعالیٰ مستغن عن حقہ والادمی مفتقرالیہ (قرطبی) عام فی الحقوق التی للہ تعالیٰ (قرطبی) (آیت) ” ان ینتھوا “۔ بازآجانے سے مرادکفر آجانا ہے۔ یرید عن الکفر (قرطبی) ان ینتھوا عن الکفر وعداوۃ الرسول ودخلوا الاسلام (کبیر) (آیت) ” ما قد سلف “۔ کے عموم سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ زندیق کی بھی توبہ قبول ہوجائے گی وہ اس لیے کہ زندقہ بھی بہرحال کفر کی ای نوع ہے۔ فان قولہ یغفرلھم ما قد سلف یتناول جمیع انواع الکفر (کبیر)
53 ۔ یعنی انبیاء کے منکرین ومعاندین کے ساتھ جو خدائی تعزیر دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں عذاب کی پیش آتی رہی ہے وہی انجام ان جدید منکرین اور معاندین کا بھی رکھا ہوا ہے۔ عبارۃ تجمع الوعید والتھدید والتمثیل بمن ھلک من الامم فی سالف الدھر بعذاب اللہ (قرطبی) اے عادۃ اللہ الجاریۃ فی الذین تحزبوا علی الانبیاء من نصر المومنین علیھم وخذلانھم وتدمیرھم (روح)
Ayah 8:3954 ۔ (اور یہ موقوف ہے قبول اسلام پر) ای یضمحل عنھم کل دین باطل ویبقی فیھم دین الاسلام وحدہ (مدارک) ای تضمحل الادیان الباطلۃ کلھا اما بھلاک اھلھا جمیعا اوبرجوعھم عنھا خشیۃ القتل (روح) اس پر حاشیے اسی مضمون کی آیت پر پارۂ دوم میں گزرچکے۔ قاتلوھم “۔ ضمیر۔ ھم، مشرکین عرب کی جانب ہے۔ (آیت) ’ حتی لا تکون فتنۃ “۔ یعنی شرک باقی نہ رہ جائے الی ان لایوجدفیھم شرک قط (مدارک) اے کفر (قرطبی) قال ابن عباس والحسن حتی لایکون شرک (جصاص) یہ تفسیر فقہ حنفی کے مطابق ہے بعض ائمہ نے فتنۃ سے مراد فساد وحرب لی ہے۔ (آیت) ” ویکون الدین کلہ للہ “۔ فقہاء نے آیت کے عموم سے جملہ اصناف کفار کے ساتھ قتال واجب ٹھیرایا ہے بجز انکے جن سے استثناء کی دلیل کتاب وسنت سے مل جائے، یدل علی وجوب قتل سائر اصناف اھل الکفر الا ما خصہ الدلیل من الکتاب والسنۃ (جصاص)
55 ۔ اور وہی احتساب کے لئے کافی ہے، بندوں کو بہت زیادہ ٹٹول اور کرید کی حاجت نہیں) (آیت) ” فان انتھو “۔ یہ باز آجانا کس چیز سے ہے ؟ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مراد کفر سے باز آجانا اور اسلام قبول کرلینا ہے۔ اے عن الکفر واسلموا (مدارک) بعض دوسرے ائمہ نے قتال سے باز آجانا مراد لیا ہے۔ (مفصل حاشیے پارۂ دوم میں گزر چکے)
Ayah 8:4056 ۔ سو تم مقابلہ میں ان سے ہٹنے کا خیال ہی نہ کرو، اور اللہ ہی کی رفاقت ونصرت پر بھروسہ رکھو) (آیت) ” وان تولوا “۔ اس روگردانی سے فقہاء حنفیہ کے نزدیک اسلام سے روگردانی مرا د ہے، دوسرے ائمہ کے نزدیک ذمیت سے روگردانی مقصود ہوگی۔