Ayah 8:1یسئلونک عن الانفال قل الانفال اللہ والرسول فاتقوا اللہ واصلحوا ذات بینکم واطعیوا اللہ ورسولہ ان کنتم مؤمنین آپ ﷺ سے یہ لوگ مال غنیمت کا حکم دریافت کرتے ہیں ‘ آپ کہہ دیجئے کہ یہ اموال غنیمت تو اللہ کی اور اللہ کے رسول ﷺ کی ہیں۔ پس اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو اور باہمی تعلقات درست رکھو اور اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو۔
انفال ‘ نفل کی جمع ہے۔ نفل کا معنی ہے : مال غنیمت (مفت کا مال) مال غنیمت کو نفل (مال زائد) کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ محض خداداد ہوتا ہے جو اللہ اپنی مہربانی سے عطا کرتا ہے (نہ تجارت و زراعت و صنعت کے ذریعہ سے حاصل کردہ ہوتا ہے ‘ نہ میراث و ہبہ کے ذریعہ سے حاصل شدہ) مطلب یہ ہے کہ مسلمان آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ مال غنیمت کس کا ہے ‘ کون اس کا مستحق ہے ؟ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ مال غنیمت کی ملکیت تو اللہ کی ہے اور تصرف کرنے کا حق رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق اس کو تقسیم کرتے ہیں۔ آئمۂ حدیث نے مندرجۂ بالا آیت کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے مال غنیمت کا اختیار لوگوں کے ہاتھوں سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا اور رسول اللہ ﷺ نے سب مسلمانوں کو برابر تقسیم کردیا۔ اللہ سے ڈرنے ‘ اللہ کی اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرنے اور باہمی تعلقات کو درست رکھنے کا یہی مفہوم ہے۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ یعنی باہمی اختلاف اور پھوٹ پیدا کرنے سے پرہیز کرو ‘ اس معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَٓہٗ اور مال غنیمت وغیرہ کے متعلق جو تم کو حکم دیا جاتا ہے ‘ اس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ کلام سابق چونکہ جزاء کے مفہوم پر دلالت کر رہا ہے ‘ اسلئے جزاء کے مزید ذکر کی ضرورت نہیں ‘ فقط شرط کا ذکر کافی ہے۔ یعنی تم کامل الایمان ہو تو جیسا حکم دیا جا رہا ہے ‘ ویسا کرو۔ کمال ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ احکام کی اطاعت کی جائے ‘ نافرمانی سے پرہیز رکھا جائے۔ انصاف ہو ‘ یا احسان ‘ یا اپنے حق سے دست برداری کسی صورت سے ہو ‘ آپس کے تعلقات کو بگڑنے نہ دیا جائے۔ بیضاوی نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وعدہ فرما لیا تھا کہ جس کو مال غنیمت حاصل ہوگا ‘ رسول اللہ ﷺ اسی کو وہ مال عطا فرما دیں گے۔ یہ فرمان سن کر جوان تو میدان کی طرف بڑھ گئے ‘ ستر آدمیوں کو قتل کردیا اور ستر کو قید کر لائے اور جو مال غنیمت لے کر آئے تھے ‘ اس کے طلب گار ہوئے مگر مال تھوڑا تھا۔ وہ بوڑھے مشائخ اور سردار جو جھنڈوں کے پاس سے نہیں ہٹے تھے ‘ وہیں اپنی جگہ جمے رہے تھے ‘ ان کو کچھ مل نہ سکتا تھا ‘ اس پر ان حضرات نے جوانوں سے کہا : ہم جھنڈوں کے پاس تمہارے لئے پشت پناہ رہے ‘ تم میدان سے سمٹ کر ہماری طرف ہی آسکتے تھے (اسلئے ہم کو بھی حصہ دو ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے سب کو برابر برابر تقسیم کردیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اسی سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ امام سپاہیوں سے جو وعدہ کرلے ‘ اس کو پورا کرنا لازم نہیں (بلکہ آئندہ مصلحت کے موافق جیسا چاہے کرسکتا ہے) امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔
ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد ‘ عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیان نقل کیا ہے کہ بدر کی لڑائی ہوئی تو میرا بھائی عمیر شہید ہوگیا اور میں نے سعید بن عاص کو قتل کر کے اس کی تلوار جس کو ذوالکتیفہ کہا جاتا تھا ‘ لے لی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مشرکوں کی طرف سے اللہ نے آج میرا دل ٹھنڈا کردیا اور یہ تلوار مجھے مال غنیمت میں عطا فرما دی اور میں وہی ہوں جس کو آپ جانتے ہیں (یعنی میری شجاعت اور ایمان کی پختگی سے آپ واقف ہیں ‘ اسلئے اس تلوار کا مستحق ہوں) فرمایا : یہ تلوار نہ تیری ہے نہ میری ‘ اس کو رکھ دے۔ میں نے رکھ دی اور دل میں کہا : شاید رسول اللہ ﷺ یہ تلوار ایسے آدمی کو دے دیں گے جس کے کارنامے میری طرح نہ ہوں گے۔ اس خیال سے میں کچھ جھجکا مگر حضور ﷺ نے فرمایا : جا کر اس کو مال غنیمت میں رکھ دے۔ مجھے یہ سن کر رنج ہوا۔ جو صدمہ مجھے اپنے بھائی کے شہید ہونے اور دشمن سے چھینے ہوئے مال کو مال غنیمت میں داخل کئے جانے کا تھا ‘ اس کو اللہ ہی جانتا تھا۔ مجبوراً جب میں لوٹ کر تلوار کو مال غنیمت میں ڈالنے لگا تو میرے نفس نے پھر مجھے برا کہا جس کی وجہ سے میں پھر لوٹ کر گیا اور عرض کیا : یہ مجھے ہی عنایت فرما دیجئے۔ حضور ﷺ یہ سن کر مجھ پر چیخ پڑے اور میں ہٹ آیا۔ تھوڑا سا ہی ہٹا تھا کہ سورت الانفال نازل ہوئی ‘ اس کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جا کر اپنی تلوار لے لے۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ فوراً رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تو نے مجھ سے (وہ تلوار) مانگی تھی مگر اس وقت وہ میری نہ تھی۔ اب وہ میری ہوگئی ‘ لہٰذا اب وہ تیرے لئے ہے۔
بخاری نے تاریخ میں لکھا ہے کہ سعد بن جبیر کی روایت ہے : حضرت سعد اور ایک انصاری شخص مال غنیمت چھیننے کیلئے نکلے۔ دونوں کو ایک تلوار پڑی ملی ‘ دونوں تلوار پر ٹوٹ پڑے۔ حضرت سعد نے کہا : یہ میری ہے ‘ اور انصاری نے کہا : میری ہے ‘ میں نہیں دوں گا۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو دونوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر قصہ عرض کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : سعد ! وہ نہ تیری ہے ‘ نہ انصاری کی۔ اس پر آیت یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَال الخ نازل ہوئی ‘ پھر یہ آیت دوسری آیت یعنی واعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمْسَہٗ وَلِلرَّسُوْل وَلِذِی الْقُرْبی سے منسوخ کردی گئی۔
ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ انفال یعنی مال غنیمت کا خالص اختیار رسول اللہ ﷺ کو تھا ‘ مال غنیمت میں کسی کا کچھ نہ تھا۔ مسلم مجاہدین کو جو کچھ ہاتھ آتا ‘ وہ لا کر پیش کردیتے۔ اگر ایک سوئی یا دھاگہ بھی روک لیتے تو وہ چوری ہوتی۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ مال غنیمت میں سے کچھ ہم کو عنایت فرما دیجئے ‘ اس پر نازل ہوا : یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ... اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ تک۔ یعنی اللہ فرماتا ہے کہ مال غنیمت میرا ہے ‘ میں نے اپنے رسول کے اختیار میں دے دیا ہے ‘ تمہارا اس میں کچھ نہیں ہے۔ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور آپس کے تعلقات میں بگاڑ نہ پیدا ہونے دو ۔ اس کے بعد نازل فرمایا : وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ ..... فِی سَبِیْلِ اللّٰہ تک۔ پھر پانچواں حصہ تو رسول اللہ ﷺ کا ‘ قرابت داروں کا ‘ مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کا مقرر کردیا اور پانچ حصوں میں سے چار حصے (4/5) دوسرے لوگوں کیلئے مقرر کر دئیے (یعنی مجاہدین کیلئے) پیدل کا اکہرا حصہ اور سوار کا تہرا حصہ ‘ یعنی دو حصے گھوڑے کے اور ایک حصہ سوار کا۔
محمد بن یوسف صالحی نے سبیل الرشاد میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت کو برابر برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تو حضرت سعد بن معاذ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ اس سوا رکو جو قوم کی حفاظت کرتا ہے ‘ اتنا ہی دے رہے ہیں جتنا ایک کمزور آدمی کو (جو اپنی بھی حفاظت نہیں کرسکتا ‘ دوسروں کو تو کیا بچائے گا) فرمایا : تیری ماں تجھے روئے ! کیا (تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ) تم کو فتح کمزوروں کی (برکات اور دعاؤں) کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے منادی نے ندا لگا دی : جس نے کسی (کافر جنگی) کو قتل کیا ہو ‘ اس سے چھینا ہوا مال قتل کرنے والے کا ہے اور جس نے کسی کو قید کیا ہو تو وہ قیدی اسی کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ قاتل کو مقتول (کافر) سے چھینا ہوا مال عنایت فرما دیتے تھے۔
سعید بن منصور ‘ امام احمد ‘ ابن المنذر ‘ ابن حبان اور حاکم نے سنن میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے بیان کیا : مسلمانوں کا کافروں سے مقابلہ ہوا ‘ اللہ نے دشمن کو شکست دے دی۔ مسلمانوں کے ایک گروہ نے بھاگنے والوں کا تعاقب کیا ‘ کسی کو قید اور کسی کو قتل کرنے لگے۔ دوسرا گروہ میدان جنگ میں جا گھسا اور مال غنیمت جمع کرنے لگا اور تیسرا گروہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے احاطہ میں لئے رہا کہیں دشمن دھوکہ سے آپ کو کوئی دکھ نہ پہنچا دے۔ جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا ‘ انہوں نے کہا : مال ہم نے جمع کیا ہے ‘ اسلئے (ہمارے سوا) کسی اور کا اس میں حصہ نہیں ہے۔ جو لوگ دشمن کے تعاقب میں گئے تھے ‘ انہوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حقدار نہیں ہو ‘ ہم نے دشمن کو نکالا اور شکست دی۔ رسول اللہ ﷺ کے محافظ دستہ نے کہا : تم میں سے کوئی بھی ہم سے زیادہ مستحق نہیں ہے ‘ ہم رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھیرے میں لئے رہے اور حفاظت کرتے رہے کہیں دشمن غفلت میں کوئی دکھ حضور ﷺ کو نہ پہنچا دے ‘ ہم اسی حفاظت میں لگے رہے۔ اس پر آیات یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَال کا نزول ہوا۔
Ayah 8:2انما المؤمنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایمانًا وعلی ربھم یتوکلون : (کیونکہ) ایمان والے تو بس ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کا کلام ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو اللہ کے کلام سے ان کے ایمان میں مزید پختگی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھی بھروسہ رکھتے ہیں۔
اِنَّمَا الْمؤُمِنُوْنَیعنی کامل الایمان وہی لوگ ہیں۔ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ یعنی اللہ کی عظمت و جلال اور ہیبت و عزت سے ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا : ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو کسی گناہ کا ارادہ کرتے ہیں مگر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو ‘ ایسا نہ کرو تو اللہ کے عذاب کے خوف سے وہ اس گناہ سے باز رہتے ہیں۔ اس صورت میں ذُکِرَ اللّٰہُ میں اللہ سے پہلے مضاف محذوف ہوگا ‘ یعنی اللہ کے عذاب کی وعید کا ذکر ان سے کیا جاتا ہے۔
وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتُھُمْ اِیْمَانًا اور جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو چونکہ تلاوت قرآن کے وقت برکات کا نزول ہوتا ہے اور ایمان بخش دلائل پیہم سامنے آتے ہیں جن کی وجہ سے یقین راسخ ہو کر اطمینان قلبی بڑھ جاتا ہے ‘ اسلئے ایمان میں مزید استحکام پیدا ہوجاتا ہے۔
وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اور وہ اپنے تمام کام اللہ ہی کے سپرد کردیتے ہیں ‘ نہ اللہ کے سوا کسی سے امید رکھتے ہیں نہ خوف۔
Ayah 8:3الذین یقیمون الصلوۃ ومما رزقنھم ینفقون : اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے ‘ اس میں سے کچھ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ یعنی نمازوں کو ان کے پورے حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور اس طرح سیدھا کرتے ہیں جس طرح تیر سیدھے کئے جاتے ہیں (یعنی اقامۃ الصلٰوۃ تقویم القداح کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ تقویم القداح آگ پر سینک کر تیر کو سیدھا کرنا۔ اقامۃ الصلٰوۃ نماز کو سیدھا کرنا۔ مراد ہے پورے حقوق اندرونی و بیرونی کے ساتھ ادا کرنا) ینفقون یعنی اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ اولٰٓءِکَمذکورۂ بالا مؤمن جو تمام مکارم و محاسن کے حامل ہیں ‘ ان کے دلوں میں اخلاص ‘ اللہ کا خوف اور اللہ پر بھروسہ ہے اور اللہ کی یاد سے طبیعت کو اطمینان و سکون ہے اور نماز و خیرات کے فرائض اعضاء بدنی سے ادا کرتے ہیں اور مال کا ایثار کرتے ہیں ‘
Ayah 8:4اولئک ھم المؤمنون حقا لھم درجت عند ربھم و مغفرت ورزق کریم : بس سچے ایمان والے یہی ہیں۔ ان کیلئے ان کے رب کے ہاں بڑے درجے ہیں اور ان کیلئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔
ان صفات کے مؤمن ہی ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاپ کے سچے مؤمن ہیں۔ حقًّایا ایمانًا محذوف کی صفت ہے یعنی پکا ایمان ‘ یا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے جو فعل کی تاکید کر رہا ہے یعنی ان کا ایمان پکا ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔
حسن بصری سے ایک شخص نے دریافت کیا : آپ مؤمن ہیں ؟ فرمایا : اگر تیرا سوال یہ ہے کہ میرا ایمان اللہ پر ‘ اللہ کے ملائکہ اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور جنت و دوزخ پر اور حشر و حساب آخرت پر ہے یا نہیں تو میں یقیناً مؤمن ہوں (ان چیزوں پر ایمان رکھتا ہوں) اور اگر تو دریافت کرتا ہے کہ میں آیت اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ الخ کا مصداق ہوں یا نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ میں ایسے لوگوں میں سے ہوں یا نہیں۔
حسن بصری کی مراد یہ ہے کہ نفس ایمان تو الحمد اللہ موجود ہے مگر ایمان کا تکمیلی درجہ اخلاص سے دل کا زنگ دور کرنے سے نفس کو (خطرات ‘ وساوس اور گناہوں سے) پاک کرنے سے اور اعضائے جسم سے ادائے طاعات اور ترک معاصی کرنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ مجھے معلوم نہیں کہ میں اس تکمیلی درجہ پر فائز ہوں یا نہیں۔
علماء سلف میں ایک اختلافی مسئلہ ہے کہ اَنَا مُؤمِنٌ اِنْشَآء اللّٰہُ میں انشاء اللہ مؤمن ہوں کہنا جائز ہے یا نہیں۔ چونکہ اِنْ حرف شرط شک کیلئے آتا ہے ‘ اسلئے علماء بعض کہتے ہیں کہ ایمان کو حرف شرط کے ساتھ معلق کرنا درست نہیں۔ ایمان قطعی ہونا چاہئے ‘ ایمان میں شک ایمان کو زائل کردیتا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اعتبار انجام کا ہے ‘ معلوم نہیں کہ خاتمہ کے وقت ایمان ہو یا نہ ہو ‘ اسلئے اِنْ حرف شرط جو ماضی کو مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے ‘ اس جگہ استعمال کرنا صحیح ہے۔ حضرت مؤلف نے فرمایا : میرے نزدیک حسن بصری کا یہ قول (یعنی یہ کہنا کہ میں مؤمنوں میں سے ہوں یا نہیں) اَنَا مُؤمِنٌ اِنْشَآء اللّٰہُ کے ذیل میں نہیں آتا (کیونکہ حسن بصری کی مراد یہ ہے کہ میں مؤمن تو ہوں لیکن کامل الایمان اور کامل صالح الاعمال ہونے کا مجھے علم نہیں۔ معلوم نہیں کہ مؤمنین ‘ کاملین ‘ صالحین میں اللہ کے ہاں میرا شمار ہے یا نہیں) ۔
علقمہ کا بیان ہے : ایک سفر میں ہماری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی۔ ہم نے پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : نَحْنَ الْمُؤْمِنُوْنَ حقًّاہم یقیناً پکے مؤمن ہیں۔ ہم لاجواب ہوگئے ‘ سمجھ میں نہ آیا کہ ان سے کیا کہیں۔ جب حضرت عبد اللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضری کا موقعہ ملا اور ہم نے یہ واقعہ حضرت سے عرض کیا تو آپ نے پوچھا : تم نے کیا جواب دیا ؟ ہم نے عرض کیا : ہم کچھ جواب نہ دے سکے۔ فرمایا : تم نے ان سے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ کیا تم یقینی جنتی ہو ‘ مؤمنین حق تو یقینی جنتی ہوتے ہیں۔
ثوری کا قول ہے : جو شخص دعویٰ کرتا ہو کہ میں مؤمن ہوں قطعاً ‘ یا یہ کہے کہ میں اللہ کی نظر میں مؤمن ہوں ‘ پھر اپنے جنتی ہونے کی شہادت نہ دے تو اس کا ایمان آدھی آیت پر ہوگا۔ جو لوگ اَنَا مُؤمِنٌ اِنْشَآء اللّٰہُ کہنے کو جائز قرار دیتے ہیں ‘ وہ سفیان ثوری کے اسی قول سے دلیل اخذ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انشا اللہ کہنے سے مراد یہ ہے کہ حسن خاتمہ کا یقین نہیں اور خاتمہ بخیر ہونا ہی موجب جنت ہے ‘ ان کا یہ مطلب نہیں کہ بالفعل ایمان میں ہم کو شک ہے کیونکہ ایمان نام ہے پختہ قطعی ناقابل شک اعتقاد کا۔ ایمان میں شک ہو ہی نہیں سکتا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اَنَا مُؤمِنٌ اِنْشَآء اللّٰہُ کہنا ہی مکروہ ہے کیونکہ اس سے ایمان میں شک ہونے کا وہم پیدا ہوتا ہے بلکہ اَنَا مُؤمِنٌکے بعد اِنْشَآء اللّٰہُ کہنے کی بجائے حقًّا کہنا صحیح ہے۔ اَنَا مُؤمِنٌ حَقًّا کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اپنا خاتمہ بخیر اور بر ایمان ہونے کا قطعی یقین ہے ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ اس وقت میں قطعی مؤمن ہوں ‘ میرا ایمان شک و شبہ سے پاک ہے۔ گویا اوّل الذکر قول میں اور امام صاحب کے قول میں صرف لفظی نزاع ہے ‘ معنوی اختلاف نہیں۔ زیادہ احتیاط امام صاحب کے قول میں ہے (کہ ایسا لفظ بھی استعمال کرنا مکروہ ہے جس سے عدم ایمان کا وہم پیدا ہوتا ہو) ۔
امام ابوحنیفہ نے قتادہ سے پوچھا : آپ اپنے ایمان کو انشاء اللہ سے مشروط کیوں کرتے ہیں ؟ قتادہ نے جواب دیا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کی تقلید میں ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : وَالَّذِیْٓ اَطُمْعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِیْءَتِیْ یَوْمِ الدِّیْنِ (یعنی مجھے طمع ہے کہ قیامت کے دن اللہ میرے قصور کو معاف کر دے۔ اس میں لفظ طمع آیا ہے کہ جو عدم یقین پر دلالت کر رہا ہے) امام ابوحنیفہ نے فرمایا : آپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کی تقلید کیوں نہیں کی کہ جب اللہ نے ان سے فرمایا : اَوْلَمْ تُؤمِنْ کیا تو ایمان نہیں لایا ؟ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا : بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَءِنَّ قَلْبِیْ (یعنی ایمان کیوں نہیں لایا ‘ مگر میں قلبی اطمینان کیلئے مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں) ابراہیم تیمی کا مقولہ ہے کہ تم اَنَا مُؤمِنٌ حَقًّا کہو ‘ اگر تمہارا یہ قول سچا ہے تو اس کا ثواب ملے گا اور اگر یہ بات غلط ہے (اور واقع میں تم مؤمن نہیں ہو ‘ دل سے کافر ہو اور ایمان ظاہر کر رہے ہو) تو تمہارا کفر اس قول سے زیادہ شدید اور موجب عذاب ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : جو منافق نہیں ہے ‘ وہ قطعاً مؤمن ہے۔ لَھُمْ دَرَجٰتٌ ان کیلئے درجات ہیں ‘ یعنی عزت ‘ بزرگی اور مرتبہ کی بلندی ہے۔ عِنْدَرَبِّھِمْ اللہ کے ہاں۔ اسی کی طرح دوسری آیت ہے (جس میں پیغمبروں کے مراتب کا ذکر ہے) تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ۔ عطاء نے کہا : لھم درجات سے یہ مراد ہے کہ جنت کے اندر ان کے درجات ہوں گے جن پر اعمال کی وجہ سے فائز ہوں گے (جتنا اور جس مرتبہ کا عمل ہوگا ‘ ویسا ہی درجہ ملے گا) حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر سو درجات ہیں ‘ ہر درجہ کا دوسرے درجہ سے فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان زمین کے درمیان ہے۔ فردوس کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ اسی سے جنت کی چاروں نہریں نکلتی ہیں ‘ اس سے اوپر عرش ہوگا۔ دعاء کرتے وقت تم اللہ سے فردوس مانگا کرو۔ رواہ الترمذی
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ربیع بن انس نے فرمایا : ستر درجے ہیں ‘ ہر درجہ کی دوسرے درجہ سے مسافت اتنی ہے جتنی مسافت اس دوڑ کے میدان کی ہوتی ہے جس میں مشاق سوار گھوڑا ستر برس تک دوڑاتا چلا جائے۔
وَمَغْفِرَۃٌ اور گناہوں کی بخشش ہے۔ وَرِزْقٌکَرِیْمٌ اور اچھا رزق ہے۔ اللہ نے جنت کے اندر وہ نعمتیں ان کیلئے رکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نہ دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا ‘ نہ کسی کے دل میں اس کا تصور آیا اور یہ نعمتیں لازوال ہوں گی ‘ کبھی منقطع نہ ہوں گی۔
Ayah 8:5كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ : جیسا آپ کے رب نے آپ کے گھر (اور بستی) سے مصلحت کے ساتھ (بدر کی طرف) آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی۔
کَمَا اَخْرَجَکَ- کَمََایا مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا : مال انفال کا اللہ اور رسول ﷺ کے اختیار میں ہونا اور رسول اللہ ﷺ کا سب کو برابر تقسیم کرنا اور جہادی جنگی جوانوں پر اس تقسیم کا گراں گذرنا ایسا ہی ہے جیسے تم کو جب اللہ نے مدینہ سے نکالا تھا اور تم بدر کی طرف روانہ ہوئے تھے اور بعض لوگوں کو بدر کی جنگ کیلئے جانا گراں گذرا تھا ‘ یا فعل محذوف کے مصدر کی صفت ہے ‘ یعنی لوگوں کی ناگواری کے باوجود مال غنیمت کا اختیار اللہ اور رسول ﷺ کے ہاتھ میں ہونا اسی طرح ثابت ہے جیسے بدر کو جہاد کیلئے جانے کی بعض لوگوں کی طرف سے ناگواری کے باوجود اللہ تعالیٰ تم کو مدینہ سے (بدر کی طرف) لے گیا تھا (مطلب یہ کہ بدر کو جنگ کیلئے جانا بعض لوگوں کو اپنی بےبضاعتی اور نہتے ہونے کی وجہ سے جس طرح ناگوار تھا مگر اللہ کے فرمان کے مطابق تم مدینہ سے چل دئیے اور نتیجہ فتح کی صورت میں نکلا ‘ اسی طرح اب مال غنیمت کی تقسیم کا اختیار اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہونا اور سب کو برابر برابر تقسیم ہونا تم کو گراں گذرتا ہے مگر نتیجہ اس کا بھی اچھا نکلے گا) کذا قال المرد مِنْم بَیْتوکَ سے مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ نے تم کو تمہارے اس گھر سے جو مدینہ میں ہے ‘ باہر نکالا ‘ یا بیت سے مراد ہی مدینہ ہے کیونکہ مدینہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت گاہ تھا اور ہجرت کے بعد آپ کا مسکن تھا۔ مدینہ کو آپ کے ساتھ وہی خصوصیت تھی جو کسی گھر کو اپنے مالک کے ساتھ ہوتی ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اصل کلام اس طرح تھا : لوگ خواہ گوارا نہ کریں مگر آپ مال غنیمت کے سلسلہ میں وہی رفتار اختیار کریں جس کا حکم اللہ نے دیا ہے جیسے لوگوں کی ناگواری کے باوجود اللہ کے حکم کے مطابق آپ (جہاد کیلئے) مدینہ سے نکلے تھے۔
غزوۂ بدر
ابن عقبہ اور ابن عابد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش کا ایک قافلہ جس میں ہزار اونٹوں پر بڑا قیمتی تجارتی سامان لدا ہوا ہے ‘ ابوسفیان بن حرب کی نگرانی میں شام سے آ رہا ہے اور کوئی قریشی مرد یا عورت ایسا نہیں بچا ہے جس کے پاس ایک مثقال بھی ہو اور اس نے اس تجارت میں حصہ نہ لیا ہو۔ کہا جاتا ہے کہ اس قافلہ میں پچاس ہزار دینار ہیں اور ستر آدمی ساتھ ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ‘ حضرت عبد اللہ بن زبیر ‘ محمد بن اسحاق اور سدی کا بیان ہے کہ ابو سفیان چالیس سواروں کے ساتھ شام سے واپس آ رہا تھا۔ یہ چالیس سوار قریش کے بڑے لوگ تھے جن میں عمرو بن عاص اور مخرمہ بن نوفل زہری بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو باہر نکل چلنے کی دعوت دی اور فرمایا : قریش کا یہ قافلہ ہے جس میں قریش کا بہت مال ہے۔ چلو نکل چلیں ‘ شاید اللہ تم کو ان کا مال غنیمت عطا فرما دے۔ لوگوں نے دعوت قبول کی۔ کچھ لوگ ہلکے (یعنی بغیر ساز و سامان اور اسلحہ کے) تھے اور کچھ بھاری (ساز و سامان اور اسلحہ کے ساتھ) بہت سے لوگ ساتھ نہیں بھی گئے مگر ان کو قابل ملامت نہیں قرار دیا گیا کیونکہ ان کو خیال بھی نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو کوئی لڑائی پیش آئے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی کچھ زیادہ پرواہ نہیں کی اور فرمایا : جس کے پاس سواری موجود ہو ‘ وہ ہماررے ساتھ سوار ہو کر چلے۔ کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی کہ ہماری سواریاں بالائی مدینہ میں ہیں ‘ ہم جا کرلے آئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ‘ صرف وہ شخص جائیں جن کی سواریاں اس وقت موجود ہوں۔ مدینہ سے روانہ ہونے سے دس روز پہلے رسول اللہ ﷺ نے طلحہ بن عبیدا اللہ اور سعید بن زید کو شام کے راستہ کی طرف قافلہ کی ٹوہ لگانے کیلئے بھیج دیا تھا۔ یہ دونوں حضرات سرزمین خوار میں پہنچ کر کشد بن مالک جہنی کے پاس مقیم ہوئے۔ کشد نے دونوں کو اپنی ذمہ داری میں اپنے پاس چھپا کر رکھا لیا۔ جب قافلہ گزر گیا تو دونوں حضرات کشد کے گھر سے باہر آگئے اور کشد ان کو مقام ذوالمروہ تک پہنچا گیا۔ دونوں بزرگ جب رسول اللہ ﷺ کو قافلہ کی اطلاع دینے پہنچے تو حضور ﷺ مدینہ سے نکل رہے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کا قبضہ ینبوع پر ہوگیا تو آپ ﷺ نے کشد کو ینبوع جاگیر میں کاٹ دیا تھا۔ کشد نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں تو بوڑھا ہوں (آج مرا کل دوسرا دن) میرے بھتیجے کے نام یہ جاگیر کر دیجئے۔ حضور ﷺ نے کشد کے بھتیجے کے نام ینبوع کی جاگیر کردی ‘ پھر اس سے عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ نے خرید لی (رواہ عمر بن شیبۃ) ادھر بنی خدام کے ایک آدمی نے مقام زرقاء میں پہنچ کر ابو سفیان کو اطلاع دے دی کہ رسول اللہ ﷺ قافلہ کی واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ابو سفیان ساتھیوں کو لے کر ڈرتے ڈرتے تاک گھات کیلئے نکلا۔ حجاز کے قریب پہنچا تو تجسس احوال کرنے لگا۔ جو سوار ملتا ‘ اس سے خبر دریافت کرتا۔ آخر ایک سوار سے اس کو اطلاع ملی کہ رسول اللہ ﷺ قافلہ کیلئے نکل چکے ہیں۔ ابو سفیان کو اندیشہ پیدا ہوگیا اور اس نے ضمضم بن عمرو غفاری کو بیس دینار مزدوری دے کر مکہ کو بھیجا اور اس سے کہہ دیا کہ مکہ میں پہنچنے کے وقت اونٹ کے کان کاٹ کر کجاوہ الٹا باندھ لینا اور آگے پیچھے سے اپنا کرتہ پھاڑ لینا (فریاد کرنا) اور قریش سے جا کر کہنا کہ اپنے مال کی حفاظت کیلئے باہر آجائیں اور ان کو یہ بھی بتادینا کہ محمد اپنے ساتھیوں سمیت قافلہ کو لوٹنے کے درپے ہیں۔ ضمضم فوراً مکہ کو چل دیا اور جیسا ابو سفیان نے حکم دیا تھا ‘ ویسا ہی کیا۔
عاتکہ بنت عبدالمطلب کا خواب
ابن اسحاق نے بروایت عروہ اور بیہقی نے بروایت ابن شہاب اور ابن اسحاق اور حاکم اور بیہقی نے بالاتفاق عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے اور موسیٰ بن عقبہ کا بھی یہی بیان ہے کہ ضمضم کے پہنچنے سے تین رات پہلے عاتکہ بنت عبدالمطلب نے ایک خواب دیکھا ‘ صبح کو اس خواب سے ان کو بڑی فکر ہوگئی۔ انہوں نے اپنے بھائی عباس بن عبدالمطلب کو بلوایا اور کہا : بھائی ! میں نے ایک خوفناک خواب دیکھا ہے ‘ قریش پر کوئی مصیبت اور آفت آنے والی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عباس نے خواب پوچھا تو عاتکہ نے کہا : میں اس شرط پر تم سے بیان کرسکتی ہوں کہ تم کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا کیونکہ لوگ اگر اس کو سن لیں گے تو ہم کو دکھ پہنچائیں گے اور ناگوار باتیں سنائیں گے۔ حضرت عباس نے ظاہر نہ کرنے کا وعدہ کرلیا۔ عاتکہ نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اونٹ پر سوار آیا اور وادی کے اوپر پہنچ کر بہت زیادہ چیخ کر تین مرتبہ کہا : اے غدارو ! اپنی قتل گاہوں کی طرف تین دن کے اندر نکلو۔ لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے۔ وہاں سے وہ مسجد میں آیا ‘ لوگ پیچھے پیچھے آئے اور مسجد میں پہنچ کر اس کا اونٹ سیدھا کھڑا ہوگیا اور کعبہ کے اوپر پہنچ کر اس نے تین چیخیں ماریں اور کہا : اے غدارو ! تین دن کے اندر اپنی قتل گاہوں کی طرف نکلو۔ پھر (وہاں سے چل دیا اور) کوہ ابو قبیس پر پہنچ کر اس نے وہی کہا کہ اے غدارو ! اپنی قتل گاہوں کی طرف تین دن کے اندر نکلو۔ اس کے بعد اس نے ایک بہت بڑا پتھر اکھاڑ کر نیچے کو لڑکھایا ‘ پتھر لڑکھتا ہوا آیا جس کی گڑگڑاہٹ شدید تھی۔ نیچے پہنچ کر پارہ پارہ ہوگیا اور آپ کی قوم کے ہر گھر میں اس کا ٹکڑا (اڑ کر) جا پہنچا۔ آپ کی قوم کا کوئی گھر اور کوئی کوٹھڑی ایسی نہیں بچی کہ اس میں پتھر کا ٹکڑا نہ پہنچا ہو۔ حضرت عباس نے کہا : وا اللہ ! یہ خواب ہی ہے (تخیل نہیں ہے) اس کو پوشیدہ رکھنا اگر قریش کو اس کی اطلاع پہنچ گئی تو وہ ہم کو دکھ دیں گے۔ اس کے بعد حضرت عباس ‘ عاتکہ کے پاس سے چلے آئے اور ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدالشمس سے ملاقات کی اور چونکہ ولید ‘ حضرت عباس کا دوست تھا ‘ اسلئے حضرت عباس نے اس سے اس خواب کا ذکر کردیا لیکن چھپائے رکھنے کی تاکید کردی۔ ولید نے اپنے باپ عتبہ سے اس کا ذکر کردیا اور عتبہ نے اس کا چرچا کردیا۔ اس طرح بات مکہ میں پھیل گئی اور قریش آپس میں اس کا چرچا کرنے لگے۔
حضرت عباس کا بیان ہے : صبح کو میں کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ابوجہل بن ہشام قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا وہاں عاتکہ کے خواب کا تذکرہ کر رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگا : ابو الفضل ! طواف سے فارغ ہو کر ہماری طرف آجانا۔ میں فارغ ہو کر وہاں پہنچ کر ان لوگوں کے پاس بیٹھ گیا۔ ابوجہل بولا : اے اولاد عبدالمطلب ! یہ نبیہ تم میں کب سے پیدا ہوگئی ؟ میں نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : عاتکہ کا خواب۔ میں نے کہا : عاتکہ کا خواب کیا ہے ؟ ابوجہل بولا : اے اولاد عبدالمطلب ! تم کو اسی پر بس نہیں ہوا کہ تمہارے مرد نبی بن گئے ‘ اب تمہاری عورتیں بھی نبیہ ہونے لگیں۔ ابن عقبہ کی روایت میں ابوجہل کے یہ الفاظ آئے ہیں : اے بنی ہاشم ! تم فقط اپنے مردوں کے جھوٹ بولنے سے خوش نہ تھے کہ اب تم عورتوں کی دروغ بافی بھی پیش کرنے لگے۔ ہم اور تمہارے اسلاف ریس کے دو گھوڑوں کی طرح تھے (مقابلہ پر دوڑ رہے تھے) جو کوشش کرنے والا تھا ‘ آگے نکل رہا تھا۔ جب دونوں فریق ایک جیسے رہے تو اب تم نے کہا : ہم میں ایک نبی ہے اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اب تم کہنے لگے ہم میں سے ایک نبیہ بھی ہے۔ قریش کے اندر کوئی گھرانا مجھے ایسا معلوم نہیں ‘ نہ مرد نہ عورت کہ تم سے زیادہ جھوٹا ہو۔ ابوجہل نے اس طرح حضرت عباس کو سخت دکھ پہنچایا اور بولا : عاتکہ کہتی ہے کہ میں نے خواب میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ تین دن کے اندر نکلو۔ ہم بھی تین دن کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر عاتکہ کا قول صحیح ہے تو ایسا ہوجائے گا اور اگر تین دن گذر گئے اور ایسی کوئی بات نہ ہوئی تو ہم لکھ کر لگا دیں گے کہ تمہارا خاندان عرب میں سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے۔ حضرت عباس کا بیان ہے کہ اس کو جواب دینے کیلئے میرے پاس بہت کچھ تھا مگر میں نے کچھ نہیں کہا اور عاتکہ کے خواب دیکھنے کا انکار کردیا۔ ابن عقبہ کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت عباس نے ابوجہل کو یہ جواب دیا تھا : کیا اب تو باز رہے گا (یا نہیں) جھوٹ تیرے اور تیرے خاندان والوں کے اندر ہے۔ حاضرین نے کہا : ابوالفضل ! تم تو جاہل اور ایسے بیوقوف و احمق نہ تھے۔
ابن عابد کی روایت بھی اسی طرح ہے ‘ بلکہ اس میں ایک گالی کا ذکر مزید آیا ہے۔ حضرت عباس کو اس خبر کے افشا کرنے سے بڑا دکھ پہنچا۔ حضرت عباس کا بیان ہے : شام ہوئی تو خاندان عبدالمطلب کی کوئی عورت ایسی نہ بچی جس نے مجھ سے آکر یہ نہ کہا ہو کہ آپ نے خود موقع دیا کہ اس خبیث فاسق نے پہلے آپ کے مردوں کی بوٹیاں نوچیں ‘ پھر آپ لوگوں کی عورتوں پر بھی نکتہ چینی کی۔ تم سنتے رہے ‘ تمہارے پاس اس کی بات سے بڑھ کر کوئی چیز جواب دینے کیلئے ہی نہیں تھی۔ میں نے کہا : خدا کی قسم ! مجھ سے یہ حرکت ہوگئی۔ جو الفاظ میں نے اس سے سنے ‘ اس سے بڑھ کر میری طرف سے اس کیلئے کچھ نہیں تھا لیکن اب میں اس کے درپے رہوں گا ‘ اگر دوبارہ اس نے کچھ کیا تو میں تمہاری طرف سے اس سے بھگتنے کیلئے کافی ہوں۔ اس کے بعد میں مسجد میں آیا اور اس کو وہاں دیکھا اور خدا کی قسم ! قصداً اس کی طرف جانے لگا تاکہ جو کچھ وہ کہہ چکا ہے ‘ دوبارہ کہے اور میں اس سے لپٹ جاؤں۔ ابوجہل تھا بڑا چالاک ‘ چست ‘ قوی ‘ تیز زبان ‘ تیزنظر (مجھے دیکھ کر) فوراً دوڑتا ہوا مسجد کے دروازہ سے نکل گیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا : اس پر اللہ کی لعنت ‘ یہ حرکت اس نے اس ڈر سے کی کہ میں بھی اس کو گالیاں دوں گا۔ بات واقع میں یہ ہوئی کہ مجھے تو سنائی نہ دی مگر اس نے ضمضم بن عمرو کی آواز سن لی ‘ ضمضم اپنے اونٹ پر کھڑا وادی کے اندر چیخ رہا تھا۔ اس نے اونٹ کے کان کاٹ دئیے تھے ‘ کجاوہ کا رخ الٹ کر رکھ دیا تھا ‘ اپنا کرتہ چاک کردیا تھا اور کہہ رہا تھا : اے گروہ قریش ! اے خاندان لوی بن غالب ! اپنے لدے ہوئے اونٹوں کی خبر لو۔ تمہارے مال ابوسفیان کے ساتھ ہیں ‘ محمد اور ان کے ساتھی ان کو لوٹنے کے درپے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تم ان کو پا نہیں سکتے ‘ دہائی ہے دہائی۔ خدا کی قسم ! میرا خیال ہے کہ تم ان کو نہ پہنچ پاؤ گے۔ یہ سن کر قریش خوف زدہ ہوگئے اور عاتکہ کے خواب سے ڈر گئے۔
حضرت عباس کا بیان ہے : اس آواز نے ابوجہل کیلئے میری طرف متوجہ ہونے کا موقع نہیں چھوڑا اور میں اس کی طرف سے رک گیا۔ اس پر عاتکہ نے یہ شعر کہے : کیا خواب سچا نہ تھا ‘ اس کی تصدیق لے کر تو تمہارے پاس ایک بھاگا ہوا شکست خوردہ آدمی آگیا۔ میں نے جھوٹ نہیں کہا ‘ تو نے مجھے جھوٹا کہا۔ جو خود جھوٹا ہے ‘ وہ میری اس سچی بات کو جھوٹا کہتا ہے۔
لوگوں نے جلد جلد تیاری کی اور کہا : محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ ابن حضرمی کے قافلہ کی طرح ہوگا ‘ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ خدا کی قسم ! ان کو کچھ اور ہی نتیجہ معلوم ہوگا۔ غرض لوگ یا تو خود جانے کیلئے نکل کھڑے ہوئے ‘ یا اپنی جگہ کسی کو بھیج دیا اور دو یا تین دن میں تیاری کرلی۔ جو طاقتور تھے ‘ انہوں نے کمزوروں کی مدد کی۔ اگر کسی کا مسلمان ہوجانا قریش کو معلوم تھا ‘ یا محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دوست ہونے کا کسی پر شبہ تھا ‘ یا خاندان بنی ہاشم کا کوئی فرد تھا ‘ ایسے سب لوگوں کو انہوں نے ساتھ لیا۔ چناچہ عباس بن عبدالمطلب ‘ نوفل بن حارث ‘ طالب بن ابی طالب ‘ عقیل بن ابی طالب اور ان کے ساتھ دوسرے لوگ روانہ ہوگئے۔ ابولہب صرف ایسا شخص تھا جو نہ خود گیا ‘ نہ اپنی جگہ کسی کو بھیجا ورنہ ہر قریشی کو یا خود جانا پڑا یا اپنی جگہ دوسرے کو بھیجنا پڑا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابولہب نے بھی اپنی جگہ عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیجا تھا۔ حضرت عاص آخر میں مسلمان ہوگئے تھے۔ حضرت عاص پر ابولہب کا چار ہزار درہم کا سودی قرض تھا ‘ اس رقم کو مزدوری میں منہا کرنے کی شرط پر ابولہب نے اپنی جگہ اس کو بھیج دیا اور اسکے مصارف کی کفالت کی۔ ابولہب کے نہ جانے کی وجہ صرف عاتکہ کا خواب تھا ‘ وہ کہتا تھا : عاتکہ کے خواب نے ہاتھ باندھ دئیے۔ امیہ بن خلف ‘ عتبہ بن شیبہ ‘ زمعہ بن اسود ‘ عمیر بن وہب اور حکیم بن حزام وغیرہ نے ہبل بت کے پاس جا کر تیروں سے فال نکالی ‘ فال میں ممانعت کا تیر نکلا جس کی وجہ سے ان لوگوں نے نہ جانے کا پختہ ارادہ کرلیا مگر ابوجہل نے مجبور کر کے ان کی رائے بدل دی۔ امیہ بن خلف بہت بھاری بدن کا موٹا بوڑھا آدمی تھا ‘ جب اس نے نہ جانے کا ارادہ کرلیا تو عتبہ بن ابی معیط کے پاس گیا ‘ عتبہ اپنی قوم کے حلقہ میں مسجد کے اندر بیٹھا ہوا تھا۔ انگیٹھی سب کے سامنے سلگ رہی تھی ‘ انگیٹھی لا کر امیہ کے سامنے رکھ دی گئی ‘ پھر عتبہ نے امیہ سے کہا : ابوعلی ! تم تو عورت ہو (بھاری بھرکم بدن ہے جس کی وجہ سے جنگ میں شریک نہیں ہوسکتے) امیہ نے کہا : اللہ تیرا برا کرے ‘ تو نے بری بات کہی۔ اس کے بعد یہ بھی تیاری کر کے لوگوں کے ساتھ روانہ ہوگیا۔
ابن اسحاق وغیرہ نے لکھا ہے : جب لوگ تیاری کرچکے اور روانگی کا ارادہ کرلیا اور جو اچھی بری سواریاں تھیں ‘ ان پر سوار ہوگئے اور گانے والی باندیوں کو اور ان کے تنبلوں کو بھی ساتھ لے لیا تو اس وقت سوچا کہ ہمارے اور بنی بکر بن عبدمناۃ بن کنانہ کے درمیان تو خوں ریز جنگ ہے ‘ طرفین ہے ‘ باہم قصاص کے مطالبات ہیں۔ اندیشہ ہے کہ اگر ہم گئے تو ہمارے پیچھے (ہمارے گھروں پر) وہ حملہ نہ کردیں۔ قریب تھا کہ یہ خیال کر کے وہ جانا ملتوی کردیں مگر ابلیس مردود سراقہ بن مالک کنانی کی شکل میں ان کے سامنے آگیا۔ سراقہ ‘ بنی کنانہ کے سرداروں میں سے تھا اور کہنے لگا : میں تمہارا ذمہ دار ہوں ‘ بنی کنانہ کی طرف سے تمہارے پیچھے کوئی ناگوار حرکت سرزد نہ ہوگی۔ اس ضمانت کے بعد نو سو پچاس سپاہیوں کی جماعت روانگی کیلئے نکل کھڑی ہوئی۔ بعض روایات میں ہزار کی تعداد آئی ہے۔ اس کے ساتھ دو سو گھوڑے اور چھ سو زرہیں تھیں۔ قریش کا ہر خاندان روانہ ہوگیا ‘ صرف بنی عدی کے خاندان میں سے کوئی شخص شریک نہیں ہوا اور کوئی نہیں گیا۔
ابن عقبہ اور ابن عابد کا بیان ہے کہ ابلیس بھی مشرکوں کے ساتھ نکلا اور وعدہ دلاتا رہا کہ تمہارے پیچھے بنی کنانہ بھی تمہاری مدد کیلئے آنے والے ہیں اور میں ضامن ہوں کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ تمام لوگ روانہ ہو کر مقام مرالظہران میں فروکش ہوئے۔ ابوجہل نے دس اونٹ ذبح کئے اور لشکرگاہ میں کوئی ڈیرہ خیمہ ایسا نہ بچا کہ وہاں تک اونٹوں کا خون نہ پہنچا ہو۔ ضمضم بن عمرو کو دکھائی دیا کہ وادی مکہ میں اوپر سے نیچے تک خون ہی خون بہہ رہا ہے۔ عسیف میں پہنچ کر امیہ بن خلف نے نو اونٹ ذبح کئے۔ قدید میں پہنچے تو سہیل بن عمرو نے دس اونٹ ذبح کئے ‘ سہیل آخر میں مسلمان ہوگئے تھے۔ قدید سے روانہ ہو کر سمندر کی جانب مختلف چشموں پر ان کا قیام ہوا اور عقبہ بن ابی معیط نے دس اونٹ ذبح کئے ‘ پھر صبح کو ابواء میں پہنچے تو حجاج کے دونوں بیٹوں بنیہ اور منیہ نے دس ‘ دس اونٹ ذبح کئے۔ اس کے بعد لوگوں نے اپنا اپنا کھانا خود کھانا شروع کیا (اور مہمانی کا کھانا ختم کردیا گیا) جحفہ میں عشاء کو پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈال دیا۔ بیہقی نے ابن شہاب اور ابن عقبہ اور عروہ بن زبیر کی روایت سے لکھا ہے کہ جب سب لوگ جحفہ میں فروکش ہوئے تو ان کے ساتھ بنی مطلب بن مناۃ کے خاندان کا ایک شخص بھی تھا جس کا نام جہیم بن صلت بن مخزمہ تھا ‘ یہ شخص آخر میں حنین کی جنگ کے وقت مسلمان ہوگیا تھا۔ یہ شخص کچھ نیم خوابی کی حالت میں سر رکھے ہوئے تھا ‘ یعنی کچھ کچھ غافل تھا کہ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا : کیا تم نے اس سوار کو دیکھا جو ابھی ابھی میرے پاس کھڑا تھا۔ لوگوں نے کہا : تو پاگل ہے ‘ کوئی بھی نہ تھا۔ جہیم نے کہا : ابھی ایک سوار کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا : ابوجہل اور عتبہ بن ربیعہ اور شبیہ اور زمعہ اور ابو البختری اور امیہ بن خلف مارے گئے۔ جہیم نے کچھ اور سرداران قریش کے بھی نام لئے تھے جو بدر میں مارے گئے۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کے سینہ پر تلوار ماری اور زخمی کر کے لشکر میں چھوڑ دیا اور لشکرگاہ میں کوئی ڈیرہ ایسا نہیں بچا کہ اس اونٹ کا خون وہاں نہ پہنچا ہو۔ جہیم کے ساتھ بولے : تو شیطان کا بازیچہ بن گیا۔ یہ بات ابوجہل تک بھی پہنچا دی گئی ‘ ابوجہل بولا : پہلے تو بنی ہاشم کے جھوٹ سے تمہارا واسطہ پڑا تھا ‘ اب بنی مطلب کے جھوٹ میں بھی مبتلا ہوگئے۔
دوسری جانب رسول اللہ ﷺ نے اپنی جگہ نماز کیلئے ابن اُمّ مکتوم کو قائم کیا اور مدینہ سے روانہ ہوگئے ‘ پھر مقام روحاء سے ابولبابہ کو واپس کردیا اور مدینہ پر اپنا نائب ان کو بنا دیا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ 12؍رمضان المبارک کو ہفتہ کے دن مدینہ سے روانہ ہوئے تھے۔ ابن ہشام نے 8؍رمضان بیان کیا ہے۔ مدینہ سے ایک میل نکل کر چاہ ابوعتبہ پر پہنچ کر لشکر قائم کیا اور جو لوگ کم عمر تھے ‘ ان کو واپس کردیا۔ واپس ہونے والوں میں عبد اللہ بن عمر ‘ اسامہ بن زید ‘ رافع بن خدیج ‘ براء بن عازب ‘ اسید بن حضیر ‘ زید بن ارقم ‘ زید بن ثابت اور عمیر بن ابی وقاص تھے۔ عمیر رونے لگے ‘ آخر حضور ﷺ نے ان کو شریک رہنے کی اجازت دے دی اور بدر کی لڑائی میں سولہ سال کی عمر میں آپ شہید ہوگئے۔ حضور ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ چاہ سقیا کا پانی پئیں اور خود بھی اس کنویں کا پانی پیا اور سقیا کے گھروں کے پاس نماز پڑھی اور سقیا سے روانگی کے وقت قیس بن ابی صعصعہ کو مسلمانوں کی گنتی کرنے کا حکم دیا۔ قیس نے سب لوگوں کو ابوعتبہ کے کنویں کے پاس کھڑا کر کے گنتی کی اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کردیا کہ یہ سب 313 ہیں۔ حضور ﷺ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا : طالوت کے ساتھیوں کی بھی یہی شمار تھی۔ اس روز حضور ﷺ نے مدینہ کیلئے دعا کی اور عرض کیا : اے اللہ ! ابراہیم تیرا بندہ ‘ تیرا خلیل اور تیرا نبی تھا ‘ اس نے مکہ والوں کیلئے دعا کی تھی۔ میں محمد بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ‘ میں مدینہ والوں کیلئے تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے صاع (چار سیر کا ایک ناپ) اور ان کے مد (ایک سیر کے برابر ناپ) اور ان کے پھلوں میں برکت عطا فرما (یعنی ان کی کھیتی باڑی اور باغوں کی پیداوار میں برکت عطا کر) اے اللہ ! تو مدینہ کی محبت ہم کو عطا کر اور مدینہ کے آب و ہوا کی خرابی (بخار ‘ ملیریا وغیرہ) کو خم میں منتقل کر دے۔ جس طرح تیرے خلیل ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا ‘ میں بھی مدینہ کی دونوں سوختہ ‘ پتھریلی زمینوں کے درمیانی علاقہ کو حرم قرار دیتا ہوں (مدینہ کے دونوں جانب پتھریلی ‘ گرم تپتی ہوئی زمین ہے ‘ مدینہ دونوں کے درمیان واقع ہے) حبیب بن اساف اگرچہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر مال غنیمت کے لالچ میں اپنے قبیلہ خزرج کی مدد کیلئے چلے آئے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ہمارے ساتھ وہی جائے جو مسلمان ہو ‘ کوئی غیرمسلم نہ جائے۔ یہ سن کر حضرت حبیب مسلمان ہوگئے اور کسوٹی پر بہت اچھے اترے ‘ آپ نے اچھے کارنامے انجام دئیے۔ سقیا کی آبادی سے اتوار کی رات کو روانہ ہوئے اور روانگی کے وقت دعا کی : اے اللہ ! یہ برہنہ پا ہیں ‘ ان کو سواری عطا کر۔ یہ برہنہ بدن ہیں ‘ ان کو لباس عنایت کر۔ یہ بھوکے ‘ ہیں ان کو پیٹ بھر کھانا مرحمت کر۔ یہ نادار ہیں ‘ ان کو اپنی مہربانی سے مالدار بنا دے۔ کل ستر اونٹ ساتھ تھے ‘ باری باری سے لوگ انہی پر سوار ہوتے رہے۔ امام احمد اور ابن سعد نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے : ہم بدر کے زمانہ میں تین آدمی ایک ایک اونٹ پر تھے۔ ابو لبابہ اور حضرت علی ‘ رسول اللہ ﷺ کے ہم سواری تھے ‘ دونوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ سوار ہوجائیں ‘ ہم پیدل چلیں گے۔ فرمایا : تم پیدل چلنے پر مجھ سے زیادہ قوت نہیں رکھتے اور میں ثواب کا امیدوار تم سے کم نہیں ہوں۔ صاحب البدایہ والعیون کا بیان ہے کہ ابولبابہ کے ہم رکاب ہونے کا واقعہ اس وقت کا تھا جب روحاء سے مدینہ کو ان کو واپس نہیں بھیجا گیا تھا ‘ روحاء سے روانگی کے بعد تو رسول اللہ ﷺ کے ہم سواری حضرت علی اور حضرت زید تھے۔ اس لشکر کے پاس صرف دو گھوڑے تھے ‘ ایک گھوڑا مقداد بن اسود کا اور ایک گھوڑا زبیر بن عوام کا۔ ابن سعد کی روایت میں آیا ہے کہ تین گھوڑے ساتھ تھے ‘ تیسرا گھوڑا مرثد بن ابی مرثد غنوی کا تھا۔ مقام تربان میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرمایا ہرن کو دیکھو۔ سعد نے تیر چلہ پر چڑھایا اور رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے کھڑے ہو کر اپنی ٹھوڑی حضرت سعد کے مونڈھے اور کان کے درمیان رکھی اور فرمایا : تیر چلا۔ اے اللہ ! اس کے تیر کو نشانہ پر صحیح بٹھا دے۔ چناچہ تیر ہرن کے سینہ پر لگ گیا۔ حضور ﷺ مسکرا دئیے۔ حضرت سعد دوڑتے ہوئے گئے اور ہرن کو پکڑ لیا۔ کچھ جان باقی تھی ‘ حضرت سعد ذبح کر کے اس کو اٹھا کرلے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ساتھیوں کو بانٹ دینے کا حکم دیا ‘ چناچہ وہ گوشت سب کو تقسیم کردیا گیا۔ پھر چلتے چلتے مقام ذوسنجسج پر جا کر اترے ‘ یہ مقام بھی روحاء کے درمیان ہی واقع تھا ‘ پھر یہاں سے کوچ کر کے موڑ پر پہنچ کر مکہ کا راستہ بائیں کو چھوڑ دیا اور دائیں ہاتھ کو نازیہ پر بدر کے ارادہ سے چل دئیے۔ نازیہ کے کنارے کنارے چل کر وادی زحفان کو طے کیا۔ وادی زحفان ‘ نازیہ اور مقام السفراء کے درمیان تھی ‘ پھر مضیق السفراء پر پہنچے اور وہاں سے نشیب میں چل دئیے۔ جب صفراء کے قریب پہنچے تو ابوسفیان کی خبر معلوم کرنے کیلئے بسیس بن عمر جہنی کو اور عدی بن زغباء کو بدر کی طرف روانہ کیا۔ بسیس ‘ بنی ساعدہ کے معاہد تھے اور عدی ‘ بنی نجار کے حلیف تھے۔
جب رسول اللہ ﷺ صفراء سے بائیں ہاتھ کو چل کر وادی ذفران کے دائیں جانب چلتے رہے اور وادی کے اندر کچھ حصہ طے کر کے پڑاؤ ڈالا تو اطلاع ملی کہ قریش اپنے قافلہ کی حفاظت کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے مشورہ لیا (کہ اب کیا کیا جائے ؟ ) مہاجرین نے بطور مشورہ کچھ اچھا کلام کیا۔ اوّل حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر اچھا بولے ‘ پھر حضرت عمر نے بھی کھڑے ہو کر اچھی گفتگو کی ‘ پھر حضرت مقداد بن اسود کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ نے آپ کو جو حکم دیا ہے ‘ آپ اس پر چلئے ‘ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم ! ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو حضرت موسیٰ کی قوم نے حضرت موسیٰ سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑیں ‘ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (آگے نہیں بڑھیں گے) آپ اور آپ کا رب چل کر لڑیں۔ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں ‘ آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہو کر دشمنوں سے لڑیں گے۔ قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو حقانیت کے ساتھ بھیجا ہے ! اگر آپ ہم کو برک الغماد کو لے جائیں تو آپ کی ہمراہی میں ہم وہاں بھی تلواروں سے اس وقت تک لڑیں گے جب تک وہاں پہنچ نہ جائیں۔ یہ سن کر آپ کا چہرۂ مبارک شگفتہ ہوگیا۔ پھر حضرت مقداد کے حق میں کچھ کلمات خیر فرمائے اور دعا کی۔ اس کے بعد تیسری بار لوگوں سے مشورہ لیا۔ اب انصار سمجھے کہ روئے خطاب ہماری طرف ہے کیونکہ انہی کی تعداد زیادہ تھی ‘ اس پر حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور کا خطاب ہم سے ہے۔ فرمایا : ہاں۔ حضرت سعد نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ پر ایمان لا چکے ‘ آپ کو سچا مان چکے۔ ہم نے اقرار کرلیا کہ جو کچھ آپ لائے ہیں ‘ وہ حق ہے۔ ہم نے آپ سے مضبوط وعدہ کرلیا اور عہد و پیمان دے دیا کہ جو کچھ آپ حکم دیں گے ‘ ہم سنیں گے اور بجا لائیں گے۔ اب جو کچھ آپ چاہیں ‘ وہ کریں۔ یا رسول اللہ ﷺ ! شاید آپ کو یہ اندیشہ ہو کہ انصار صرف اپنی بستیوں میں ہی آپ کی مدد کریں گے (باہر نکل کر نہیں کریں گے) تو میں انصار کی طرف سے عرض کرتا ہوں اور جواب دیتا ہوں کہ آپ جہاں چاہیں ‘ سفر کریں ‘ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جس سے جوڑ کرنا چاہیں ‘ جوڑ کریں اور جس سے توڑنا چاہیں ‘ تعلق توڑیں۔ ہمارے مالوں میں سے جتنا چاہیں ‘ لے لیں اور جتنا چاہیں ‘ ہم کو دے دیں۔ آپ جو مال ہمارے پاس چھوڑ دیں گے ‘ وہ ہماری نظر میں لئے ہوئے مال سے زیادہ محبوب نہ ہوگا۔ آپ جو حکم دینا چاہیں دیں ‘ ہم آپ کے حکم پر چلیں گے۔ خدا کی قسم ! اگر آپ ہم کو لے کر برک غمدان یا برک الغماد پہنچنا چاہیں گے تو ہم آپ کے ساتھ چلیں گے اور اگر سمندر ہمارے سامنے ہوگا تو آپ کے ساتھ اس میں بھی گھس جائیں گے اور ہم میں سے کوئی شخص پیچھے نہیں رہے گا۔ اگر کل دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو ہم کو ناگوار نہ ہوگا۔ ہم لڑائی میں تجربہ کار ہیں ‘ امید ہے کہ ہماری (جنگی) کارگذاریوں سے اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رکھے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ایک کام کیلئے نکلے ہوں اور اللہ دوسری بات پیدا کر دے۔ پس اللہ کا نام لے کر ہم کو لے کر چلئے ‘ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے رہیں گے اور حضرت موسیٰ کی قوم کی طرح نہ ہوں گے جنہوں نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جائیں اور جا کر لڑیں ‘ ہم تو یہاں سے آگے بڑھنے والے نہیں ‘ بلکہ آپ اور آپ کا رب چلیں اور دشمن سے لڑیں ‘ ہم آپ کے ساتھ ہیں ‘ ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ حضرت سعد کی یہ تقریر سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ چمکنے لگا اور فرمایا : اللہ کے نام پر چلو اور خوش ہو ‘ اللہ نے مجھ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں اس وقت بھی گویا ان لوگوں کی قتل گاہوں کو دیکھ رہا ہوں (کہ ان میں سے کون کس جگہ مارا جائے گا) ۔ بعض مسلمانوں کو دشمن سے مڈبھیڑ پسند نہ تھی۔
وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَاور بلاشبہ مسلمانوں کا ایک گروہ ناپسند کرتا تھا۔ بیضاوی نے لکھا ہے : واؤ حالیہ ہے اور پورا جملہ اَخْرَجَکَ کے کاف سے حال ہے ‘ یعنی جس حالت میں کہ مسلمانوں کے ایک فریق کو ناپسند تھا کہ اللہ نے تم کو مدینہ سے نکالا۔
Ayah 8:6يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ : (اور) وہ اس مصلحت کے کام میں بعد اس کے کہ اس کا ظہور ہوگیا تھا (اپنے بچاؤ کیلئے) آپ سے (بطور مشورہ) اس طرح جھگڑا کر رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لئے جاتا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں۔
میں کہتا ہوں : واؤ کا استیناف کیلئے اور کلام کا استینافیہ ہونا ظاہر ہے (واؤ حالیہ نہیں ہے) کیونکہ ذوالحال اور حال کا زمانہ ایک ہونا چاہئے (حالانکہ مسلمانوں کو مدینہ سے نکلنا ناگوار اور ناپسند نہیں تھا) بلکہ بنی نضیر کے ساتھ جب لڑائی پڑگئی تو اس وقت مسلمانوں کو مدینہ سے نکلنا ناپسند ہوا تھا (پہلی جنگ میں بکثرت زخمی اور شہید ہوگئے اور سب تھک کر چور چور ہوگئے تھے) قافلہ کی جستجو میں مدینہ سے نکلنے کی تو ان کو رغبت تھی کہ بغیر لڑے مال ہاتھ لگ جائے گا۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابو ایوب انصاری کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت ابو ایوب نے فرمایا : جب ہم ایک دو دن چلتے رہے (اور قافلہ کا پتہ نہ چلا) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں سے (یعنی قریش سے) جنگ کرنے کے متعلق آپ لوگوں کی کیا رائے ہے (آگے بڑھ کر قریش سے جنگ کریں یا واپس مدینہ کو لوٹ جائیں) ان لوگوں کو تمہارے نکلنے کی اطلاع پہنچ گئی۔ ہم نے عرض کیا : بخدا ! ہم میں ان لوگوں سے لڑنے کی جان نہیں ہے ‘ ہمارا ارادہ تو قافلہ کا ہے۔ حضور ﷺ نے پھر فرمایا : تم لوگوں کی رائے جنگ کے متعلق کیا ہے ؟ ہم نے وہی پہلا جواب دے دیا۔
یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَاتَبَیَّنَیعنی آپ جہاد کو ترجیح دے رہے تھے اور حق بات ظاہر کر رہے تھے اور وہ قافلہ پر جا پڑنے کو پسند کر رہے تھے اور جھگڑا کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم کو ان سے مقابلہ کی طاقت نہیں ‘ ہمارا ارادہ تو قافلہ کا ہے اور یہ جھگڑا اس کے باوجود تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو فتحیاب ہونے کی اطلاع دے دی تھی کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ روحاء میں تھے تو حضرت جبرئیل نے نازل ہو کر اطلاع دے دی تھی کہ اللہ نے تم لوگوں سے دونوں گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے ‘ یا قافلہ یا قریش (پر فتح) ۔
کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اس جملہ کا تعلق کارھوْنَ سے ہے ‘ یعنی ان کو جنگ و جہاد کی طرف جانا ایسا ناگوار تھا جیسے اس شخص کو موت کی طرف لے جایا جانا ناگوار ہوتا ہے جس کی آنکھوں کے سامنے موت کے اسباب گھوم رہے ہوں (اور وہ سمجھ رہا ہو کہ اس طرف جانے میں میری موت یقینی ہے) اس ناپسندیدگی کی وجہ یہ تھی کہ تعداد کم تھی اور تیاری مفقود تھی۔ حضرت ابن زید نے کہا کہ یجادلون کی ضمیر مشرکوں کی طرف راجع ہے۔ مشرک ‘ حق کے معاملہ میں آپ سے جھگڑا کرتے ہیں۔ حق کی طرف آنا ان کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے موت کی طرف کھینچ کرلے جایا جانا۔