Ayah 8:1اے پیغمبر اسلام لوگ آپ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کیا ہے ؟
1: الْاَنْفَالِ 1ؕ ، نفل کی جمع ہے جس کے متعنی زائد ، فضل اور انعام کے ہیں جیسا کہ نگلی عبادت یعنی نماز ، روزہ اور صدقہ و خیرات کو بھی کہا جاتا ہے جو فرض واجب نہ ہو اس کو نفل محض اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کے ذمہ لازم نہیں ہوتا۔ کرنے والے کی خوشی ہے چاہے کرے تو اجر پائے اور چاہے نہ کرے اس جگہ نفل سے مراد وہ مال ہے جو کفار سے لڑائی کے بعد حاصل ہوتا ہے اور اس کو غنیمت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ اس سوال کی ضرورت کیا پیش آئی ؟
مکہ میں جب بنی اعظم و آخر ﷺ کی دعوت کا ظہور ہوا تو قدرتی طور پر دو گروہ پیدا ہوگئے۔ ایک ان لوگوں کا تھا جنہوں نے یہ دعوت قبول کی ، دوسرا تمام قوم اور اس کے درداروں کا جو اس کے مخالف تھے۔ دونوں میں بنا انزاع کیا تھی ؟ پیروان دعوت کہتے تھے کہ انہیں حق ہے جس بات کو وہ درست سمجھیں ، اختیار کریں لیکن مخالف کہتے تھے کہ انہیں یہ حق حاصل نہیں یعنی وہ انسان کے اعتقاد و ضمیر کی آزادی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ بزور شمشیر مسلمانوں کو ان کے عقائد سے پھیر دیں
پیغمبر اسلام نے تیرہ برس تک ہر طرح کے مظالم برداشت کئے آخر جب مکہ میں زندہ رہنا دشوار ہوگیا تو اللہ نے دمینے چلے آنے کا حکمدیا اور آپ مدینہ چلے آئے لیکن قریش مکہ نے اس جگہ بھی چین سے بیٹنے نہ دیا ، پے در پے حملے شروع کردیا۔ اب پیغمبر اسلام کے سامنے تین راہیں تھیں۔
1 : جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس سے دست بردار ہوجائیں۔ 2 : اس پر قائم رہیں مگر مسلمانوں کو قتل ہوتے دیکھتے رہیں اور ان کو ہاتھ ہلانے کی اجزت نہ دیں۔ 3 : ظلم و تشدد کا مردانہ وار مقابلہ کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے تیسرا راستہ اختیار کیا اور یہی راہ حق بھی تھی اور نتیجہ وہی نکلا جو ہمیشہ سے نکلتا آرہا تھا یعنی حق فتح مند ہوا اور ظالموں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔ قرآن کریم نے جس لڑائی کو جائز رکھا اس کی حقیقت بس یہی ہے۔ اس جگہ چونکہ لڑائی کی حالت پیش آگئی تھی اس لئے اس کے ضروری احکام بھی بتادئیے گئے۔
عربوں کے ہام رواج تھا کہ جو قبیلہ کسی دوسرے قبیلہ پر حملہ کرتا تو ان کو تی تیغ کرلے ان کے مال پر قبضہ لیتا اور جو شخص جو کو قتل کرتا اس مقتول کا سارا ساز و سامان وہ حاصل کرلیتا۔ اسلام سے قبل چونکہ مار دھاڑ تھی جس کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں تھا اسلام نے ایک نظریہ پیش کیا اور جو کچھ پیش کیا اس کے حق اور سچ ہونے کے دلائل پیش کئا لیکن دلائل تو وہیں کام دیتے ہیں جہاں عقل و فکر سے کام لینا روا سمجھا جائے۔ اسلام میں جب جہاد فرض کیا گیا تو اس کے لئے اصول و ضوابط بھی بتائے گئے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد سب سے پہلا معرکہ غزوہ بدر کا پیش آیا اور اللہ تعالیٰ 313 نہتوں سے 950 ہاتھیوں کو شکست سے دو وچار کرادیا اور ان کو وہ ہزیمت اٹھانا پڑی کہ جس کی داستانیں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ کفار مکہ کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی قیدی بنا لئے گئے اور باقی لوگ کرنا ہی سر و سامان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ سارا مال و دولت اور جنگی سامان اکھٹا کرلیا گیا لیکن اب اس کی تقسیم کا کیا کیا جائے یہ قدرتی سوال پیدا ہوتا تھا اور یہی پیدا ہوا اور اللہ نے اس کا جواب اس سورة الانفال کے شرور میں سنا دیا اور یہی وہ سورت ہے جس میں غزوہ بدر کی زیادہ تفصیل ہوئی اور اس معرکہ کا حال بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا اور شروع ہی میں بتا دیا مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے اور رسول اللہ ﷺ جس طرح چاہیں گے اللہ کے حکم سے اس کو تقسیم کریں گے یہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے اور اس کے لئے ضابطہ بیان کرنے کا حق اللہ اور اس کے رسول کو ہے۔ اتنی بات تو اس قت وتا دی اور بعد میں اس کا تعین بای فرما دیا کہ اس کے تقسیم کرنے کا طریقہ کیا ہوگا چناچہ آگے چل کر اس کی پوری تفصیل بیان ہوگی۔ اس وقت یاد رکھنے کی بات صرف یہی ہے کہ وہ طریقہ جو پہلے تمہارے ہاں معروف ہے وہ سرا غلط اور زیادتی ہے کہ اس سے حق اور ناحق واضح نہیں ہوتا بلکہ اکثر و بیشتر طاقت و کمزور کو خواہ مخواہ قتل کر کے اس کے سامان کا مالک بن بیٹھتا ہے جو سراسر ظلم و زیادتی ہے۔
وہ روایات جو ابن مردویہ نے کلبی کی وساطت سے روایت ابو صالح اور عطاء نے ابن عجامان کی وساطت سے بروایت عمکرمہ حضرت ابن عباس ؓ کے بیان کے موافق حدیث کے الفاظ اس طرح بیان کئے ہیں کہ جو (جو شخص کسی دشمن کو قتل کرے گا اس سے چھینا ہوا مال یعنی اسلحہ اور لباس اس کا ہوگا) اس بات کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف صحیح نہیں ہے ہاں ! صحابہ کرام ؓ کے ذہن میں رواج کے مطابق یقیناً یہ بات ہوگی جیسا کہ اس واقعہ کی تفصیل غزوہ بدر کے شریک حضرت عبادہ ؓ کی زیادتی مسند احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں اس طرح منقول ہے کہ (یہ آیت تو ہمارے یعنی اصحاب بدر کے بارہ میں نازل ہوئی ہے جس کا واقعہ یہ تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے بارہ میں ہمارے درمیان کچھ اختلاف پیدا ہوگیا تھا جس نے ہمارے اخلاق پر برا اثر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ اموال غنیمت کو ہمارے ہاتھوں سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے سپرد کردیا اور آپ ﷺ نے سب حاضرین بدر میں اس کو مساوی طور پر تقسیم فرمادیا۔ )
اس اختلاف کی صورت جو پیش آئی اور جس طرح یہ اختلاف رونما ہوا اس کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ (ہم سب غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور دونوں فریقوں میں یعنی مسلمانوں اور کفار میں گھمسان کی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی تو اب ہمارے لشکر کے تین حصے ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے بھاگتے دشمن کا تعاقب کیا تاکہ وہ پھر واپس نہ آسکے۔ کچھ لوگ دشمنوں کے چھوڑے ہوئے اموال یعنی غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے اور کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی گرد جمع رہے کہ کسی طرف سے چھپا ہوا دشمن آپ ﷺ پر حملہ نہ کردے۔ جب جنگ ختم ہوگئی اور رات کو ہر شخص اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ مال تو ہم نے جمع کیا ہے اس لئے اس میں ہمارے سوا کسی کا حصہ نہیں اور جو لوگ دشمن کے تعاقب میں گئے تھے انہوں نے کہا کہ تم لوگ ہم سے زیادہ اس کے حق دار نہیں ہو اور جو لوگ نبی کریم ﷺ کی حفاظت کے لیے آپ ﷺ کے گرد جمع رہے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تو ہم بھی تمہارے ساتھ مال جمع کرنے میں تمہارے ساتھ شریک ہوتے لیکن رسول اللہ ﷺ کی حفاظت جو جہاد کا سب سے اہم کام تھا اس میں مشغول رہے اور اس لئے ہم اس کے مستحق ہیں۔ ہماری گفتگو رسول اللہ ﷺ تک بھی پہنچ گئی یعنی کسی نے سوال کے طور پر پوچھ لی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے واضح کردیا کہ یہ مال اللہ کا ہے اس کا کوئی مالک و حق دار نہیں بجز اس کے جس کو رسول اللہ ﷺ عطا فرمائیں۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس مال کو شرکاء بدر میں مساوی طور پر تقسیم فرما دیا اور سب لوگ آپ ﷺ کے فیصلہ پر راضی ہوگئے اور وہ صورت جو اس سے پہلے آپس میں پیش آئی تھی اس پر سب کے سب نادم ہوئے۔
اس سورة مبارک میں غزوہ بدر کے واقعات تفصیل سے بتائے گئے ہیں اس لئے اس کا ذکر کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ بدر کو اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا ؟ بدر دراصل ایک کنوئیں کا نام تھا جو اس کے سردار بدر بن حارث یا بدر بن کلدہ نے کھدوایا تھا لیکن بعد میں یہ ساری وادی کو بدر کے نام سے پکارا گیا۔ یہ وادی مدینہ منورہ سے تقریباً اسی میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ آج کل وہاں ایک اچھا خاصہ قصبہ آباد ہے۔ اس قصبہ کی پہلی جامع مسجد بھی اس جگہ تعمیر ہوئی ہے جہاں غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک جھونپڑی بنائی گئی تھی اور اس کے گرد دور دور تک نخلستان ہیں۔ یہ وادی بیضوی شکل کی ہے جو اندازاً پانچ میل لمبی اور چار میل چوڑی ہے اس کے اردگرد کئی پہاڑیاں ہیں ان میں سے ایک کا نام العدوۃ الدنیا اور دوسری کا نام العدوۃ القصویٰ ہے۔ سمندر وہاں سے 12 ، 13 میل کے فاصلہ پر ہے۔
نبی کریم ﷺ کو مخبروں نے خبردی کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ جس میں ایک ہزار اونٹ اور تقریباً ایک لاکھ درہم کا سامان ہے اور یہ قافلہ شام کی طرف سے آرہا ہے اور دوسری اطلاع یہ تھی کہ قریش کا لشکر جو 950 بہادروں پر مشتمل ہے جس میں سات سو اونٹ ، ایک سو گھوڑے ہیں ان کی حفاظت یا مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب یہ دونوں قسم کی خبریں مدینہ میں پھیل گئیں تو اس وقت یہ فیصلہ سب سے پہلے کرنا تھا کہ مدینہ والوں کو کس طرف پیش قدمی کرنی چاہئے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھنا چاہئے تاکہ مال پر قبضہ کرلیا جائے جس سے کفار کی مالی حالت کمزور ہوگی اور کچھ کا خیال تھا کہ اس لشکر کی طرف نکلنا چاہئے جو مدینہ پر چڑھائی کی خا پر آرہا ہے تاکہ اس کو روک دیا جائے اور مدینہ کی طرف پیش قدمی نہ کرسکے۔ نبی کریم ﷺ کی رائے بھی یہی تھی اور اللہ تعالیٰ کو بیا یہی رائے پسند تھی لہٰذا اللہ نے بھی اس کو پسند کیا اور اس کی طرف نکلنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے عمرو بن ام مکروم ؓ کو مدینہ طیبہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا اور خود اس قافلہ کو ساتھ لے کر 12ؕ رمضان المبارک 2 ہجری کو 313 صحابہ ؓ کے ہمارہ مدینہ سے نکلے ان صحابہ کرام ؓ میں 74 مہاجرین تھے اور باقی سب انصار کے لوگ تھے اس جبش میں چار علم تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا علم علی ؓ کے پاس تھا۔ مہاجرین کا علم مصعب بن تکمیر کے پاس ، خزرج کا علم حباب بن منذر کے پاس اور اوس کا علم سعد بن معاذ ؓ کے پاس تھا۔ اس سارے لشکر میں دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے۔ مسلمانوں کی طرف سے سب سے پہلے میدان میں نکلنے والے صبع ؓ تھے اور اس جنگ میں 14 صحابہ کرام ؓ نے شہادت پائی جن میں چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔ قریش کے لوگوں میں سے ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدممی قید کر لئے گئے۔ یہ تصادم 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو ہوا تھا اور 22 یا 23 رمضان المبارک کو یہ لشکر مدینہ واپس پہنچ گیا تھا۔
اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور باہمی معاملہ درست رکھو :
2: مال غنیمت کو اللہ کا مال اور اس کے رسول کا قرار دینے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو نصیحت جارہی ہے کہ جب تمہارا مطمع نظر مال نہیں بلکہ جہادگی سبیل اللہ ہے تو پھر مال دیکھ کر تمہارا دل کیوں للچائے اور کیوں یہ خواہش پیدا ہو کہ مجھے یہ مل جاتا تو بہتر ہوتا۔ مال اور اولاد کی محبت فطری ہے اور اسلام فطری چیزوں میں کبھی رکاوٹ کا باعث نہیں ہوا بلکہ فطری چیزوں کو پورا کرنے کی تلقین کرتا ہے لیکن اندھا دھند نہیں بلکہ ان کے لئے مخصوص پر یقے بتاتا ہے تاکہ انسانیت اور حیوانیت کا فرق واضح رہے ایسا نہ ہو کہ انسان فقط حیوان ہو کر رہ جائے اور اپنی انسانیت کو ضائع کر دے۔ غنیمت کا مال جب اللہ اور اس کا رسول اک قرار پایا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے لوگ اس سے محروم رہیں گے بلکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ یہ مال کسی ایک انسان کا ملکیت نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف شروع کردے بلکہ وہ اللہ کے حکم سے اس کا یا رسول کا کوئی نائب یعنی مقرر کردہ آدمی باقاعدگی کے ساتھ مسلمانوں میں قتسیم کرے گا اور جس کو جو کچھ ملا سمجھ لے کہ اس مال میں اس کا اتنا ہی حصہ تھا۔ جیسا کہ مسند احمد کی روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ غزوہ بدر میں میرے بھائی عمیر شہید ہوگئے میں نے ان کے مقابل مشرکین میں سے سعید بن العاص کو قتل کردیا اور اس کی تلوار اپنے قبضہ میں کرلی جس کو بعد میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا لیکن میں چاہتا تھا کہ یہ تلوار مجھے مل جائے میں نے اس کا اظہار بھی کیا مگر نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو مال غنیمت میں جمع کردو۔ میں نے بادل نخواستہ مال غنیمت میں اس کو جمع کرا دیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آپ ﷺ پر سورة الانفال کی یہ آیت نازل ہئی۔ جب مال تقسیم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے طلب کیا اور وہ طلوار مجھے عنایت فرمادی اور اس طرح سارا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا۔
اس طرح یہ بات واضح ہوگئی کہ مال غنیمت جو لڑائی میں ہاتھ آئے وہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے ، کا مطلب کیا ہے ؟ یہی کہ یہ بات نہیں کہ جو جس کے ہاتھ لگ گیا وہ اس کا ہوگیا بلکہ سب کچھ اپنے سپہ سالار کے سامنے پیش کیا جائے اور پھر وہ اسے جماعت میں تقسیم کردے گا۔ امن کی حالت ہو یا لڑائی کی ہو مسلمانوں کو باہم دگرصلح و صفائی کے ساتھ رہنا چاہئے اور وہ اسی طرح ممکن ہے کہ کوئی شخص صرف اپنی ہی غرض کو سامنے نہ رکھے بلکہ اجتماعی اغراض کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے قائد اور رہنما کی پوری پوری اطاعت و فرمانبرداری کرے۔ بلاشبہ مال غنیمت کا یہ اجمالی حکم تھا اور تفصیلی حکم اس کے بعد نازل ہوا اور اس میں یہ طے پا گیا کہ پانچواں حصہ مال غنیمت کا بیت المال میں چلا جائے گا اور چار حصے غازیوں میں تقسیم ہوں گے اور بیت المال میں جانے والا مال بھی دوسرے ضرورت مند اور حاجت مندوں میں تقسیم ہوگا اور اس سے ملک کا حکمران اور انتظام و انسرام کرنے والا بھی اپنی جائز ضرورتوں کو پورا کرے گا۔ ہاں ! خیال کرے کہ جن لوگوں نے اس سے پہلے حکم کو دوسرے حکم سے منسوخ مانا ہے انہوں نے غور نہیں کیا اس میں منسوخی کی کوئی بات نہیں بلکہ اجمال و تفصیل کی بات ہے۔ جس طرح آگے چل کر اس طرح کے ایک مال کو جو دشمن سے حاصل ہو لیکن دشمن لڑے بغیر چھوڑ کر بھاگ جائے تو اس کو مال فئے کے نام سے یاد کیا گیا ہے جس کا ذکر سورة الحشر میں آیا ہے وہ پورے کا پورا رسول اللہ ﷺ کا زیر تصرف ہے اور آپ ﷺ اپنی صوابدید سے جس کو جتنا چاہیں عطافرمائیں اور اس کے لئے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اس کا کوئی خاص حصہ ضرور مجاہدین میں صرف کیا جائے جیسا کہ مال غنیمت کے لئے لازم ہے۔
فرمایا (اللہ سے ڈرو اور اپنا باہمی معاملہ درست رکھو) اس میں اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جو اس غزوہ بدر میں اموال غنیمت کی تقسیم کے متعلق صحابہ کرام ؓ کو پیش آیا۔ کیونکہ اس غزوہ سے پہلے کوئی باقاعدہ جنگ نہ ہوئی تھی اور نہ ہی ان اموال کی تقسیم کا ابھی کوئی ضابطہ اس آیت کے ذریعے طے کردیا اب ان کے دلوں کی اصلاح اور باہمی تعلقات کی خوشگواری کی تدبیر بتالائی گئی ہے جس کا مرکزی نقطہ تقویٰ اور خوف الٰہی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب تقویٰ اور خوف الٰہی اور خوف آخرت غالب ہوتا ہے تو بڑے بڑے جھگڑے فوراً ختم ہوجاتے ہیں اور باہمی مناخرت کے پہاڑ گرد بن کر اڑ جاتے ہیں اور اہل تقویٰ کا حال تو یہ ہے کہ ان کے پاس جو صحیح معنوں میں متقی ہیں جنگ و جدل اور جھگڑے کے لئے کوئی طاقت ہی نہیں ہوتا کیونکہ ان کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف اور یاد میں مصروف رہتا ہے اس لئے ایسے کاموں کے لئے ان کو قطعاً فرصت ہی نہیں ملتی۔
مومن کا مطلب اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہے :
3: آیت زیر نظر کے آخر میں پھر ایک بار تاکید کی جا رہی ہے کہ : مؤمن کا مطلب ہی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہے۔ ہر مواحد کسی بحث و تامل کے بغیر اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں اپنے خالق کے احکام پر بلاچون و چرا عمل کرنا چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ وہ تو غیر مرئی ہے اور انسانی ادارک سے ماوراء ہے۔ چناچہ اس کی مرضی یا حکم کس طرح معلوم کیا جائے ؟ سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ خود اپنے احکام ہم پر واضح نہ کر دے انسان کے لیے خود ان احکام سے آگاہی حاصل کرنا ممن نہیں۔ عملی طور پر تمام مذاہب کا بھی اس امر پر اتفاق ہے کہ دوسرے تمام حیوانات 4 کے لیے ان کی جبلت کافی ہے مگر حیوان ناطق (انسان) محض جبلت کی راہنمائی قبول نہیں کرسکتا کیونکہ وہ مشینی انداز میں عمل نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی عقل و دانش کی روشنی میں استدلال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف امور پر مختلف انسانوں کا ردعمل جدا جدا ہوتا ہے۔ انسان قوت استدلال سے مالامال ہونے کے باعث اس بات پر اتفاق کرتا ہے جس کا وہ قائل ہوجائے خواہ وہ ازخود قائل ہو یا کوئی دوسرا انسان اسے دلیل سے قائل کرے۔ وہ اگر انتہائی سنگین تعصب کا شکار نہ ہو تو وہ استدلال کے بعد اپنے فیصلے بھی بدل لیتا ہے۔ دوستوں پر اعتماد کی بدولت وہ اپنے خیر اندیش رفقاء کی رائے کو اولیت دیتا ہے۔ بچہ ابتداء میں ماں کی ہر بات پر عمل کرتا ہے ، پھر وہ والس کے احکام کو اولیت دیتا ہے اور بوجوہ اس کی اطاعت کا مرکز تبدیل ہوجاتا ہے۔ باپ کے بعد وہ اپنے استاد ، استاد کے بعد حکمران اور روحانی پیشوا کے احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ اس کے بعد اس رویہ کے پس منظر میں ٹٹسزا و جزاثث کا تصور ہی کارفرما ہوتا ہے۔ روحانی راہنما اس کی روح کو تقدس سے ہمکنار کرتا ہے اور اس ضمن میں سب سے بڑا محرک اللہ تعالیٰ کا خوف ہے جو حیات بعد ممات پر قادر ہے اور بندے کو دوبارہ زندی دے کر نافرمانی کی سزا دے سکتا ہے اور سب سے بڑا روحانی راہنما خود اللہ کا رسول ہی ہو سکتا ہے۔
قرآن کریم کے مطابق نبی و رسول اپنے وقت کا سب سے متقی شخص اور اللہ کا سب سے زیادہ فرمانبردار بندہ ہوتات ہے اسے نزول وحی یا القا کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا پیغام وصول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ان پیغامات کو یکجا کر کے ایک قانونی ضابطہ کی شکل دے دی جاتی ہے اور جو اس ضابطہ کو قبول کرتے ہیں وہی صحیح معنوں میں مؤمن کہلاتے ہیں اور زیر نظر آیت میں اسلام کو قبول کرنے الوں سے اسی چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جب تم مؤمن کہلاتے ہو تو تم پر رسول اللہ ﷺ کی پیروی لازم آتی ہے لہٰذا کوئی کام ایسا مت کرو جو اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کے خلاف ہو۔ گویا ایمان کا تقاضا ہے اطاعت اور اطاعت نتیجہ ہے تقویٰ کا اور جب یہ چیزیں لوگوں کو حاصل ہوجائیں تو ان کے پاس کے جھگڑے خودبخود ختم ہوجائیں گے اور دشمنی کی جگہ الفت و محبت پیدا ہوجائے گی۔ اس لیے ہر مال میں تقویٰ اور اطاعت مؤمنین کا نصب العین ہونا چاہیے کہ اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔
Ayah 8:2مؤمن کی مخصوص صفات کی مزید وضاحت کہ اس کے دل میں خوف خدا ہوتا ہے :
4: اس آیت میں مؤمن کی مخصوص صفات کا بیان ہے جو ہر مؤمن میں لازم ہیں تاکہ ہر مؤمن اپنی ظاہری اور باطنی کیفیت اور صفات کا جائزہ لیتا رہے اگر اس میں یہ صفات موجود ہیں تو اس کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے اس کو مؤمن کی صفات خاص سے نواز ہے اور اگر ان میں سے کوئی صفت اس میں موجود نہ ہو یا ہو لیکن ضعیف و کمزور ہو تو اس کو حاصل کرنے یا قوی کرنے کا موقع مل جائے کیونکہ جب تک زندگی کی رمق موجود ہے اس وقت تک اس کو یہ موقع فراہم ہے۔
اس سلسلہ میں پہلی مخصوص صفت یہ ارشاد فرمائی کہ جب اس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کا دل سہم جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت اس کے دل میں رچی اور بھری ہوئی ہے جس کا ایک تقاضا ہیبت اور خوف ہے۔ قرآن کریم کی ایک اور آیت میں اس کا ذکر کر کے اہل محبت کو بشارت دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ : ٹٹان کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں۔ ثث (الحج 22 : 35) اور ایک جگہ اللہ کے ذکر کی یہ خصوصیت بیان کی گئی کہ اس سے دل مطمئن ہو جات ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں جس خوف وہیبت کا ذکر ہے وہ دل کے سکون و اطمینان کے خلاف نہیں ، اس لیے کہ وہ ہیبت ہے جو بڑوں کی جلالت شان کے سبب دل میں پیدا ہوتی ہے جیسے کسی کے دل میں کوئی گناہ کی بات آئی اور ساتھ ہی فوراً اللہ تعالیٰ کی یاد آئی تو وہ اللہ کے عذاب سے ڈر گیا اور اس طرح اس گناہ سے باز آگیا اس میں خوف سے مراد خوف عذاب ہی ہوگا۔
مؤمن کی دوسری صفت اس کے ایمان میں ترقی و اضافہ ہے :
5: مؤمن کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور ایمان بڑھنے کا مطلب جس پر سارے مکاتب فکر متفق ہیں یہ ہے کہ ایمان کی قوت و کیفیت اور نور ایمان کی ترقی ہوجاتی ہے اور یہ بات تجربہ اور مشاہدہ کی ہے کہ کوئی شخلا ہے آزما کر دیکھ لے کہ اعمال صالح سے ایمان میں قوت پیدا ہوتی ہے اور ایسا شرح صدر پیدا ہوجاتا ہے کہ اعمال صالح اس کی عادت طبعی بن جاتی ہے جس کے چھوڑنے سے اس کو دکھ اور تکلیف ہوتی ہے اور اس طرح گناہ سے اس کو طبعی نفرت پیدا ہوجاتی ہے کہ اس کے قریب بھی نہیں جاتا۔ اس چزا کو حدیث میں حلاوت ایمان کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ مومن کامل کی صفت یہ بھی ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جائیں تو اس کے ایمان میں جلا و ترقی ہو اور اعمال صالح کی طرف رغبت بڑھے اور اگر یہ بات حاصل نہ ہو تو وہ انسان ایمان کا کمزور اور یقیناً دل کا بیمار تصور ہوگا اور یہ بات ایمان کے منافی ہے۔ اس لئے صحیح معنوں میں مومن وہی ہے جس کا ایمان ترقی پذیر ہو اور اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا رہے اور وہی کہے جو کر کے دکھھائے اور وہی کرے جو زبان سے کہے اور اس کہنے اور کرنے میں ذرا بھی تضاد و فرق نہ ہو۔ قرآن کریم نے اس بات کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ (وہ عاجزانہ روش اختیار کرتے ہیں) (الحج 22 : 43) اور اس میں جو عربی زبان کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ مخبتین اور اس کا مفہوم اردو زبان میں کسی ایک لفظ سے ادا نہیں ہو سکتا کو بن کہ اس میں تین مف ہوں شامل ہیں ۔ 1 : استبار و غرور نمفسی چھوڑ کر اللہ کے مقابلے میں عجز اختیار کرنا۔ 2 : اس کی بندگی اور غلامی پر پوری طرح مطمئن ہوجانا۔ 3 : اس کے فیصلوں پر تہ دل سے راضی ہوجانا اور یہ تینوں باتیں اس سے سرزد ہوتی ہیں جس کا دل اللہ کی آیات سن کر کانپ جاتا ہے۔
یہ آیت اس باب میں بھی قاطع ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک ایمان کی ہر حالت یکسان نہیں وہ گھٹتا بھی ہے اور بڑھتا بھی ہے۔ نفس تصدیق کے لحاظ سے سب برابر ہیں کیفیت و یقین میں تضاد ہے۔ (م + خ + ب + ت + ی + ن)
مومن کی تیسری صفت اللہ پر بھروسہ کرنا ہے :
6: زیر نظر آیت میں ایمان والوں کی تیسری صفت یہ ارشاد فرمائی کہ وہ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ تتوکل کیا ہے ؟ توکل کے معنی سمجھنے کے لئے قرآن کریم پر غور کرنا چائے۔ توکل قرآن کریم کی اصطلاح کا اہم لفظ ہے اس لئے اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چائے۔ عام لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کام کے لئے جدو جہد اور کوشش نہ کی جائے بلکہ چپ چاپ ہاتھ پاؤں توڑے حجرہ یا خانقاہ میں بیٹھ رہا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ اللہ کو جو کچھ کرنا ہے وہ خود کر دے گا یعنی تقدیر میں جو کچھ ہے وہ ہو کر رہے گا ، اسباب اور تدبیر کی کوئی ضرورت نہیں لیکن یہ سراسر وہم ہے اور مذہبی اپاہجوں کا دل خوش کن فلسفہ ہے جس کو اسلام سے ذرہ بھر بھی تعلق نہیں۔
توکل کے لفظی معنی بھروسہ کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں اللہ پر بھروسہ کرنے کو کہتے ہیں لیکن کسی بات میں بھروسہ کرنا ، کسی کام کے کرنے میں یا نہ کرنے میں ؟ جھوٹے صوفیوں نے ترک عمل ، اسباب و تدبیر سے بےپروائی اور خود کان نہ کر کے دوسروں کے سہارے جینے کا کام توکل رکھا ہے حالانکہ توکل نام ہے کسی کام کو پورے ارادہ و عزم اور تدبیر و کوشش کے ساتھ انجام دینے اور یقین رکھنے کا کہ اگر اس کام میں بھلائی ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں ضرور ہی ہم کو کامیاب فرمائے گا۔ اگر تدبیر اور کوشش و جدو جہد کے ترک ہی کا نام توکل ہوتا تو دنیا میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو مبعوث نہ کرتا اور ان کو اپنی تبلغ رسالت کے لئے جدو جہد اور سعی کی تاکید فرماتا اور نہ اس راہ میں جان و مال کی قربانی کا حکم دیتا اور نہ بدر و احد خندق و حنین میں سواروں ، تیر اندازوں ، ذرہ پوشوں اور تیغ آزماؤں کی ضرورت پڑتی اور نہ رسول کا ایک ایک قبلہ کے پاس جا کر حق کی دعوت کا پیغام سنانے کی حاجت ہوتی۔
توکل مسلمانوں کی کامیابی کا اہم راز ہے ، حکم ہوتا ہے کہ جب لڑائی یا کوئی اور مشکل کام پیش آئے تو سب سے پہلے اس کے متعلق لوگوں سے مشورہ لے لو ، مشورہ کے بعد جب رائے ایک نقطہ پر ٹھہر جائے تو اس کے انجام دینے کا عزم کرلو اور اس عزم کے بعد کام کو پوری مستعدی اور تندہی کے ساتھ کرنا شروع کردو اور اللہ پر توکل اور بھروسہ رکھو کہ وہ تمہارے کام کا حسب خواہ نتیجہ پیدا کرے گا ، اگر ایسا نتیجہ نہ نکلے تو اس کو اللہ کی حکمت و مصلحت اور مشیت سمجھو اور اس سے مایوسی اور بددل نہ ہو اور جب نتیجہ خاطر خواہ نکلے و یہ غرور نہ ہو کہ یہ تمہاری تدبیر اور جدوجہد کا نتیجہ اور اثر ہے بلکہ یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و کرم اور اس نے تم کو کامیاب اور بامراد کیا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
(ان سے مشورہ کرلیا کرو پھر جب ایسا ہو کہ تم نے کسی بات کا عزم کرلیا تو چاہئے کہ اللہ پر بھروسہ کرو یقیناً اللہ انہی لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس پر بھروسہ کرنے والے ہیں)
مسلمانو ! اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی نہیں جو تم پر غالب آسکے لیکن اگر وہی تمہیں چھوڑ بیٹھے تو بتلاؤ کون ہے جو اس کے چھوڑ دینے کے بعد تمہارا مددگار ہوسکتا ہے ؟ یقین جانو تو صرف اللہ ہی کی ذات ہے پس جو مومن ہیں وہ اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (آل عمران 3 : 160 ، 161)
تفصیل کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر آل عمران کی آیت 160 کا مطالعہ کریں۔
ان آیات نے توکل کی پوری اہمیت اور حقیقت ظاہر کردی کہ توکل بےدست و پائی اور ترک عمل کا نام نہیں بلکہ پورے عزم و ارادہ اور مستعدی سے کام کو انجام دینے کے ساتھ اثر اور نتیجہ کو اللہ کے بھروسہ پر چھوڑ دینے کا نام ہے اور اس یقین کا نام ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اللہ مددگار ہے تو کوئی ہم کو ناکام نہیں کرسکتا اور اگر وہی نہ چاہے تو کسی کی کوشش اور مددکار آمدن نہیں ہوسکتی اس لئے ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے کام میں اللہ پر بھروسہ رکھے۔ قرآن کریم میں اس کی بڑی وضاحت کی گئی ہے جو اپنے اپنے موقع پر بیان کی جارہی ہے اور بیان کی جاتی رہے گی۔ اس نظریہ کو سمجھ لینے سے (اللہ پر بھروسہ کرنے) کا مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے۔
Ayah 8:3مومن کی چوتھی صفت جو اس جگہ بیان ہوئی وہ نماز کا قیام ہے :
7: اس جگہ جو مومن کی صفات گنائی گئی ہیں ان میں سے چوتھی صفت قیام صلوۃ ہے اور اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہاں نماز پڑھنا ہی فقط مراد نہیں بلکہ اقامت نماز کا بیان ہے اور اقامت کے لفظی معنی سیدھا کھڑا کرنے کے ہیں اور اس س سے مراد یہ ہے کہ نماز سے وہ نتجہس حاصل ہوجائے جو اس عبارت کے ادا کرنے کا اصل مقصود ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ :
اَقِمِ الصَّلٰوةَ 1ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ 1ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ 1ؕ (العنکبوت 29 : 45) نماز قائم کرو یقیناً نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے زیادہ بڑی چیز ہے۔
یہ نماز کے بہت سے اوصاف میں سے ایک اہم وصگ ہے جس کی قرآن کریم میں بار بار تاکید کی گئی ہے اور خصوصاً اس موقع و محل کی مناسبت سے اس جگہ نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے۔ مکہ کے اس ماحول میں جن شدید مزاحمتوں سے مسلمانوں کو سابقہ درپیش تھا ان کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں مادی طاقت سے بڑھ کر اخلاقی طاقت درکار تھی اسی اخلاقی طاقت کی پیدائش اور اس کی نشونما کے لئے پہلے دو تدبیروں کی نشاندہی کی گئی ایک تلاوت قرآن کریم دوسرے قامت صلوۃ۔ ازیں بعد یہ بتایا جا رہا ہے کہ اقامت صلوۃ وہ ذریعہ ہے جس سے تم لوگ ان برائیوں سے پاک ہو سکتے ہو جن میں اسلام قبول کرنے سے پہلے تم خود مبتلا تھے اور جن میں تمہارے گرد و پیش اہل عرب کی اور عرب سے باہر کی جاہل سوسائٹی اس وقت مبتلا تھی۔ غور کیا جائے تو یہ بات باسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس موقعہ پر نماز کے اس خاص فائدے کا ذکر کیوں کیا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا اپنے اندر صرف اتنا ہی فائدہ نہیں رکھا کہ یہ بجائے خود ان لوگوں کے لئے دنیا و آخڑت میں نافع ہے جن کو یہ پاکیزگی حاصل ہو بلکہ اس کا لازمی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے ان کو ان سب لوگوں پر برتری حاصل ہوجاتی ہے جو طرح طرح کی اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہوں اور جاہلیت کے اس ناپاک نظام کو جو ان برائیوں کی پرورش کرتا ہے۔ برقرار رکھنے کے لئے ان پاکیزہ انسانوں کے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوں۔ فحشاء اور منکر کا اطلاق جن برائیوں پر ہوتا ہے انہیں انسان کی فطرت برا جانتی ہے اور ہمیشہ سے ہر قوم اور ہر معاشرے کے لوگ خواہ وہ عملاً کیسے ہی بگڑے ہوئے ہوں اور اصولاً ان کو برا ہی سمجھتے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت عرب کا معاشرہ بھی اس عام کلئے سے مستثنیٰ نہ تھا۔ اس معاشرے کے لوگ بھی اخلاق کی معروف خوبیوں اور برائیوں سے واقف تھے۔ بدی کے مقابلے میں نیکی کی قدر پہچانتے تھے اور شاید ہی ان کے اندر کوئی ایسا شخص ہو جو برائی کی بھلائی سمجھتا ہو یا بھلائی کو بری نگاہ سے دیکھتا ہو۔ اس حالت میں اس بگڑے ہوئے معاشرہ کے اندر کسی ایسی تحریک کا اٹھنا جس سے وابستہ ہوتے ہی خود اس معاشرے کے افراد اخلاقی طور پر بدل جائیں اور اپنی سیرت و کردار میں اپنے ہم عصروں سے نمایاں طور پر بلند ہوجائیں ، لامحالہ اپنا اثر کئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ ممکن نہ تھا کہ عرب کے عام لوگ برائیوں کو مٹانے والی اور نیک اور پاکیزہ انسان بنانے والی اس تحریک کا اخلاقی وزن محسوس نہ کرتے اور اس کے مقابلے میں محض جاہل تعصّبات کے کھوکھلے نعروں کی بنا پر ان لوگوں کا ساتھ دیتے چلے جاتے جو خود اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھے اور جاہلیت کے اس نظام کو قائم رکھنے کے لئے لڑا رہے تھے جو ان برائیوں کو صوبوں سے پرورش کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس موقع پر مسلمانوں کو مادی وسائل اور طاقتیں فراہم کرنے کے بجائے نماز قائم کرنے کی تلقین کی تاکہ یہ مٹھی بھر انسان اخلاق کی وہ طاقت اپنے اندر پیدا کرلیں جو لوگوں کے دل جیت لے اور تیر و تفنگ کے بغیر دشمنوں کو شکست دے دے۔
صلوۃ کی یہ خوبی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا وصف لازم ہے یعنی یہ کہ وہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے اور دوسرا اس کا وصف مطلوب ہے یعنی یہ کہ اس کے ادا کرنے والا واقعی فحشاء اور منکر سے رک جائے۔ جہاں تک روکنے کا تعلق ہے نماز لازماً یہ کام کرتی ہے جو شخص بھی نماز کی نوعیت پر ذرا سا غور کرے گا وہ تسلیم کرے گا کہ انسان کو برائیوں سے روکنے کے لیئے جتنے بریک بھی لگانا ناممکن ہیں ان میں سب سے زیادہ کارگر بریک نماز ہی ہوسکتی ہے۔ آخر اس سے بڑھ کر موثر مانع اور کیا ہوسکتا ہے کہ آدمی کو ہر روز دن میں پانچ وقت اللہ کی یاد کے لئے بلایا جائے اور اس کے ذہن میں یہ بات تازہ کی جائے کہ تو اس دنیا میں آزاد و خود مختار نہیں ہے بلکہ ایک اللہ کا بندہ ہے اور تیرا اللہ وہ ہے جو تیرے کھلے اور چھپے تمام اعمال سے حتیٰ کہ تیرے دل کے ارادوں ور نیتوں تک سے واقف ہے اور ایک وقت ضرور ایسا آتا ہے جب تجھے اس اللہ کے سامنے پیش ہو کہ اپنے اعمال کی جواب دہی کرتا ہے۔ پھر صرف اس یاد دہانی پر بھی اکتفا نہ کی جائے بلکہ آدمی کو عملاً ہر نماز کے وقت اس بات کی مشق کرائی جائے کہ وہ چھپ کر بھی اپنے اللہ کے کسی حکم کے خلاف ورزی نہ کرے۔
غور کرو کہ نماز کے لئے اٹھنے کے وقت سے لے کر نماز وختم کرنے تک مسلسل آدمی کو وہ کام کرنے پڑتے ہیں جن میں اس کے سوا اور اللہ کے سوا کوئی تیسری ہستی یہ جاننے والی نہیں ہے کہ اس شخص نے اللہ کے قانون کی پابندی کی ہے یا اسے توڑ دیا ہے۔ مثلاً اگر آدمی کا وضو ساقط ہوچکا ہے اور وہ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوجائے تو اس کے اور اللہ کے سوا آخر کسے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ وضو سے نہیں ہے۔ اگر آدمی نماز کی نیت ہی نہ کرے اور بظاہر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرتے ہوئے اذکار نماز پڑھنے کی بجائے خاموشی کے ساتھ غزلیں پڑھتا رہے تو اس کے اور اللہ کے سوا کسی پر یہ راز فاش ہوسکتا ہے کہ اس نے دراصل نماز نہیں پڑھی۔ اس کے باوجود جب آدمی جسم اور لباس کی طہارت سے لے کر نماز کے ارکان اور اذکار تک قانون خداوندی کی تمام شرائط کے مطابق ہر روز پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نماز کے ذریعہ سے روزانہ کئی کئی بار اس کے ضمیر میں زندگی پیدا کی جاری ہے اس میں ذمہ داری کا احساس بیدار کیا جارہا ہے اسے فرض شناس انسان بنایا جارہا ہے اور اس کو عملاً اس بات کی مشق کرائی جا رہی ہے کہ وج خود اپنے جذبہ اطاعت کے ذریعہ اثر خفیہ اور اعلانیہ ہر حال میں اس قانون کو پابندی کرے جس پر وہ ایمان لایا ہے خواہ خارج میں اس سے پابندی کرانے والی کوئی طاقت موجود ہو یا نہ ہو اور خواہ دنیا کے لوگوں کو اس کے عمل کا حال معلوم ہو یا نہ ہو۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ نماز صرف یہی نہیں کہ آدمی کو فحشاء و منکر سے روکتی ہے بلکہ در حقیقت دنیا میں کوئی دوسرا طریق تربیت ایسا نہیں ہے جو انسان کو برائیوں سے روکنے کے معاملہ میں اس درجہ موثر ہو۔
اب رہا یہ سوال کہ آدمی نماز کی پابندی اختیار کرنے کے بعد عملاً بھی برائیوں سے رکتا ہے یا نہیں ؟ تو اس کا انحصار خود اس آدمی پر ہے جو اصلاح نفسی کی یہ تربیت لے رہا ہو۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی نیت رکھتا ہو اور اس کی کوشش کرے تو نماز کے اصلاحی اثرات اس پر مرتب ہوں گے ورنہ ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی تدبیر اصلاح بھی اس شخص پر کارگر نہیں ہوسکتی جو اس کا اثر قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہ ہو یا جان بوجھ کر اس کی تاثیر کو دفع کرتا رہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے غذا کی لازمی خاصیت بدن بننے دے اگر کوئی شخص ہر کھانے کے بعد فوراً ہی قے کر کے ساری غذا باہر نکالتا جائے تو اس طرح کا کھانا اس لیئے کچھ بھی نافع نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ایسے شخص کی نظیر سامنے لا کر آپ یہ کہہ سکتے کہ غذا موجب تغزیہ بدن نہیں ہے کیونکہ فلاں شخل کھانمے کے باوجود سوکھتا چلا جا رہا ہے اس طرح بد عمل نمازی کی مثال پیش کر کے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نماز برائیوں سے روکنے والی نہیں ہے کیونکہ فلاں شخل نماز پڑھنے کے باوجود بدعمل ہے۔ ایسے نمازی کے متعلق تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ در حقیقت نماز نہیں پڑھتا جیسے کھانا کھا کر قے کردینے والے کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ در حقیقت کھانا نہیں کھاتا۔ یہی بات نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائی ہے چناچہ عمران بن حصین کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : من لم تنھم صلوتہ عن الفحشاء والمنکر فلا صلوٰۃ لہ (جسے اس کی نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نہیں ہے۔ ) (ابن ابی حاتم) اور اس طرح ابن عبش ؓ نے نبی کریم ﷺ کا ایہ ارشاد نقل کیا ہے کہ من لم تنھم صلوتہ عن الفحشاء والمنکر لم یزددبھا من اللہ الا بعدا۔ جس کی نماز نے اسے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نے اللہ سے اور زیادہ دور کردیا۔ (ابن ابی حاتم ، طبرانی) ( اور یہی مضمون حسن بصری (رح) نے بھی نبی کریم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ابن جریر) اور ابن مسعود ؓ نے نبی کریم ﷺ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ لا صلوٰۃ لمن لم یطع الصلوٰۃ وطاعۃ الصلوٰۃ ان تنھی عن الفحشاء والمنکر۔ اس شخص کی کوئی نماز نہیں ہے جس نے نماز کی اطاعت نہ کی اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحشاء و منکر سے رک جائے۔ (ابن جریر ، ابن ابی حاتم) اور اس مضمون کے متعدد اقوال عبداللہ بن مسعود ؓ ، عبداللہ بن عباس ؓ ، حسن بصری (رح) ، قتادہ (رح) اور اعمش (رح) وغیرہ سے منقول ہیں اور امام جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص معلوم کرنا چاہے کہ اس کی نماز قبول ہوتی ہے یا نہیں تو اسے دیکھنا چاہئے کہ اس کی نماز نے اسے فحشاء و منکر سے کہاں تک بازرکھا ہے اگر نماز کے سبب سے وہ برائیوں سے رک گیا ہے تو یقیناً اس کی نماز قبول ہے اور اگر نہیں روکا تو یقیناً اس کی نماز قبول نہیں ہوئی۔ (روح المعانی) اور بلاشبہ اس کی کسوٹی پر آج نمازی اپنی نماز کو پیش کر کے دیکھ لیں تو بات ان پر پوری طرح روشن ہوجائے گی۔ کاش کہ آج کے پیش امام بھی اس اصول پر اپنی نماز کو رکھ ریکھیں کہ ان کا اپنا کیا حال ہے ؟
مومن کی پانچویں صفت اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے :
8: مومن کی پانچویں صفت جو اس جگہ بیان کی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے اور اس جگہ یہ حکم عام ہے یعنی تمام صدقات و خیرات میں خواہ وہ زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر ہو جو لازم و ضروری ہے جو فرائض میں داخل ہے اور خواہ نفلی صدقات تبرعات ہوں اور اسی طرح دوستوں اور بزرگوں کی مالی خدمت بھی ہے اور یہ بات قابل ازیں بھی عرض کی جا چکی ہے کہ اللہ نے کبھی حرام و ناپاک عمل کو اپنا رزق نہیں فرمایا ہے اس لئے اس جگہ بھی مطلب یہی ہے کہ جو پاک رزق ہم نے ان کو بخشا ہے اور جو حلال کمائیاں ان کو عطا کی ہیں ان میں سے وہ خرچ کرتے ہیں پھر خرچ سے مراد بھی ہر طرح کا خرچ نہیں ہے بلکہ اپنی اولاد ، اپنے اہل و عیال کی جائز ضروریات پوری کرنا ، رشرہ داروں ، ہمسائیوں اور حاجت مند لوگوں کی مدد کرنا ، رفاہ عامہ کے کاموں میں حصہ لینا اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے مال ایثار کرنا سب اس سے مراد ہیں۔ بےجا خرچ اور عیش و عشرت کرنا اور اس طرح ریا کارانہ خرچ وہ چیز نہیں ہے جسے قرآن کریم انفاق قرار دیتا ہے بلکہ یہ اس کی اصطلاح میں اسراف و تبذیر ہے اس طرح کنجوسی اور تنگ دلی کے ساتھ جو خرچ کیا جائے کہ آدمی اپنے اہل و عیال کو بھی تنگ رکھے اور خود بھی اپنی حیثیت کے مطابق اپنی ضرورتیں پوری نہ کرے اور خلق خدا کی مدد بھی اپنی استطاعت کے مطابق کرنے سے جی چرائے تو اس صورت میں اگرچہ آدمی خرچ تو کچھ نہ کچھ کرتا ہی ہے مگر قرآن کریم کی زبان میں اس خرچ کا نام بھی انفاق نہیں ہے بلکہ وہ اس کو بخل اور شح نفس سے موسوم کرتا ہے۔
Ayah 8:4جن لوگوں میں یہ صفات پائی جائیں وہی سچے مومن ہیں :
9: مرد مومن کی یہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ (ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں) یعنی جن کا ظاہر و باطن یکسان اور زبان اور دل متفق ہیں ورنہ جن میں یہ صفات نہیں وہ اگرچہ کلمہ شہادت اپنی زبانوں سے ادا کرتے ہوں لیکن ان کے دلوں میں نہ توحید کا رنگ ہے نہ اطاعت رسول اللہ ﷺ کا اور ان کا اعمال خود ان کے اقوال کی تردید کرتے ہیں اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے جب وہ حقیقت حاصل نہ ہو تو حق حاصل نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ حسن بصری (رح) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ آپ مومن ہیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر تیرا سوال یہ ہے کہ میرا ایمان اللہ پر ، اس کے ملائکہ پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں اور جنت و دوزخ اور حسر و نشر پر ہے یا نہیں ؟ تو میں یقیناً مومن ہوں کیونکہ ان سب چیزوں پر ایمان رکھتا ہوں اور اگر تیرے دریافت کرنے کا مطلب اس آیت زیر نظر یعنی انما المومنون الخ کے متعلق ہے کہ میں اس کا مصداق ہوں یا نہیں ؟ تو مجھے بالکل معلوم نہیں کہ میں ایسے لوگوں میں ہوں یا نہیں ؟ تو مجھے بالکل معلوم نہیں کہ میں ایسے لوگوں میں ہوں یا نہیں ؟ اس کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔ کوئی انسان بھی خود اپنے اس طرح کے ایمان کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی کسی دوسرے کو اس معاملہ میں کچھ کہنے کا حق ہے۔
زیر نظر آیت میں سچے مومن کی صفات و علامات بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ : ٹٹ ان کے لئے ان کے پروردگار کے یہاں مرتبے ہیں اور بخشش ہے اور بڑی خوبی اور عزت کی روزی بھی ہے۔ ثث گویا اس میں سچے مومن کے لیے تین چیزوں کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ 1 : ایک درجات عالیہ۔ 2 : دوسرے مغفرت اور 3 : تیسرے عمدہ رزق اور اس سے پہلی آیت میں سچے مومن کی تین قسم کی صفات بیان کی جا چکی ہیں ایک وہ جن کا تعلق قلب اور باطن کے ساتھ ہے جیسے ایمان ، خوف خدا اور توکل علی اللہ۔ دوسرے وہ جن کا تعلق جسمانی اعمال سے ہے جیسے نماز وغیرہ اور تیسرے وہ جن کا تعلق انسان کے مال سے ہے جیسے راہ الٰہی میں خرچ کرنا اور پھر ان تینوں قسم کے بالمقابل تین انعامات کا ذکر آیا ہے۔ درجات عالیہ قلبی اور باطنی صفات کے مقابلہ میں اور مغفرت ان اعمال کے مقابلہ میں جو انسان کے ظاہر بدن سے متعلق ہیں جیسے نماز ، روزہ وغیرہ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ نماز گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور رزق کریم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بالمقابل آیا ہے کہ جو کچھ خرچ کیا ہے اس سے بہت بہتر اور بہت زیادہ خرچ کرنے والے کو آخرت ملے گا۔ یہاں مفسرین نے ایک بحث چھیڑی ہے کہ یہ کہنا صحیح ہے کہ انا مؤمن انشاء اللہ ٹٹ میں انشاء اللہ مومن ہوں پھر اس فرضی سوال پر بڑی بحث کی گئی ہے لیکن ہم اس کو عمداً رترک کر رہے ہیں تفصیل درکار ہو تو ٹٹمظہریثث کا مطالعہ کرو۔
Ayah 8:5کما اخرجل ربک کے لفظ کما پر بحث :
10: سورة الانفال کی آیت پانچ جو کَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ سے شروع ہورہی ہے اس کے لفظکَمَاۤ پر بحث کی گئی ہے اور مفسرین نے اس کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ کَمَاۤ ایک لفظ ہے جو تشبیہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور غور طلب بات اس جگہ یہ ہے کہ یہاں تشبیہ کسی چیز کی کس چیز سے ہے ؟ اس کی مختلف توجیہات بیان کی گئی ہیں اور خصوصاً امام تفسیر ابو حیان (رح) نے اس طرح کے پندرہ اقوال نقل کئے ہیں اور تقریباً اکثر مفسرین نے بحث کی ہے اور کسی نے کسی اور کسی نے کسی کو ترجیح دی ہے اور پھر تین احتمالات کو زیادہ پسند کیا گیا ہے۔
1 : یہ کہ گزشتہ آیات میں سچے مومنین کے لئے آخرت میں درجات عالیہ اور مغفرت اور باعزت روزی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان آیات میں اس وعدہ کے یقینی ہونے کا ذکر اس طرح کیا گیا کہ آخرت کا وعدہ اگرچہ ابھی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ نصرت و فتح غزوہ بدر میں آنکھوں کے سامنے آچکا ہے اس سے عبرت پکڑو اور یقین کرو کہ جس طرح یہ وعدہ دنیا میں پورا ہوچکا ہے اسی طرح آخرت کا وعدہ بھی ضرور پورا ہوگا۔ (تفسیر قرطبی)
2 : اس تشبیہ سے مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ جس طرح غزوہ بدر کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت صحابہ کرام ؓ کا آپس میں کچھ اختلاف رائے ہوگیا تھا پھر حکم خداوندی کے تحت سب نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کی اور اس کی برکات اور اچھے نتائج کا ظہور سامنے آگیا اور اس طرح جہاد کے شروع میں کچھ لوگوں کی طرف سے ناپسندیدگی کا اظہار ہوا پھر حکم ربانی کے ماتحت سب نے اطاعت کی اور اس کے مفید نتائج اور اعلیٰ ثمرات کا مشاہدہ ہوگیا۔ (بحر محیط)
3 : اس جگہ لفظ ٹٹنصرکثث محذوف ہے اور کماکا لفظ تشبیہ کے لئے نہیں بیان سبب کے لئے استعمال ہوا ہے اور معنی یہ ہیں کہ غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے جو خاص نصرت اور مدد آپ ﷺ کی فرمائی ہے اس کا سبب یہ تھا کہ اس جہاد میں آپ ﷺ نے جو کچھ کیا کسی اپنی خواہش اور رائے سے نہیں کیا بلکہ خالص امر ربی اور حکم خداوندی کے تابع کیا ۔ اس کے حکم پر آپ اپنے گھر سے نکلے اور اطاعت حق کا یہی نتیجہ ہونا چاہئے اور یہی ہوا اور یہی ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کی امداد و نصرت اس کے ساتھ ہوجاتی ہے اور آءت کے اس جملہ میں یہ تینوں معنی مستعمل اور صحیح ہیں ۔ ازیں بعد اس پر نظر ڈالئے کہ قرآن کریم نے اس جہاد کے لئے رسول کریم ﷺ کا خود نکلنا ذکر نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نکالا اور اسی لفظ نے سارے مورخین اور سیرت نگاروں کے اس نظریہ کو غلط ثابت کردیا کہ آپ ﷺ مدینہ سے اس تجارتی قافلہ کو روکنے کے لئے نکلے تھے جو قریش مکہ کا قافلہ تجارت ابو سفیان کی معیت میں شام سے بہت سا تجارتی مال خرید کر لارہا تھا۔ فرمایا : بالکل غلط بات ہے بلکہ آپ ﷺ کا مدینہ سے نکلنا صرف اس لشکر کو روکنا تھا جو مکہ سے مدینہ پر چڑھائی کرنے کی غرض سے نکلا تھا۔ ہاں ! مکہ والوں کو اپنے دل میں یقیناً یہ خطرہ ہوگا کہ ہمارا قافلہ تجارت راستہ میں روک نہ لیا جائے اور اس خروج میں ان کی یہ ضرورت بھی موجود ہے کیونکہ جس کے دل میں چور ہوتا ہے وہ دوسروں کو بھی چور سمجھ سکتا ہے اور اس سے ہمارے سیرت نگاروں اور مغازی پر لکھنے والوں نے یہ نظریہ لے لیا ہے ورنہ قرآن کریم کی آیت زیر بحث اس بات پر ناطق ہے کہ آپ ﷺ کا مدینہ سے نکلنا بطور وفاع تھا نہ کہ تجارتی قافلہ کو لوٹنا۔ جن لوگوں نے غزوہ بدر کے واقعات تحریر کئے ہیں اور اس کی تفصیل میں اس طرح کی بات لکھ دی ہے انہوں نے نہایت بےاحتیاطی سے کام لار ہے اور قرآن کریم کے الفاظ کی پیروی کرنے کی بجائے مکہ والوں کی افواہوں پر کان دھرا ہے۔ ان کی اس رائے سے ایک سچا مسلمان جو ذرا بھی عقل و فکر اور قرآن کریم پر غور کرے گا کبھی اتفاق نہیں کرسکتا۔ ہاں ! بلاشبہ اس وقت جب آپ ﷺ مدینہ سے نکلے تھے کچھ مسلمان آپ ﷺ کے اس نکلنے پر راضی نہ تھے اگرچہ اس کی وجہ حالات کا تقاضا تھا اور پھر واقعات بدر نے ثابت کردیا کہ ان کی رائے بھی درست نہ تھی جن کا ارادہ اس وقت مدینہ سے نکلنے کا نہ تھا اور یہ بھی کہ بعد میں عرصہ تک ان کو اس بات کا افسوس رہا کہ انہوں نے اس وقت ایسی رائے کیوں قائم کی۔
غزوہ بدر کی طرف نکلنے کو کچھ مسلمان پسند نہیں کرتے تھے :
11: غزوہ بدر سے چند ماہ پہلے علاقہ کے حالات معلوم کرنے والے صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں مکہ کی ایک معروف شخصیت رجب 3 ہجری میں ماری گئی اور یہ معروف شخصیت عمرو بن الخصرمی کی تھی۔ جس مہم میں یہ مارا گیا اس مہم کو مغاذی میں عبداللہ بن بحش کی مہم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس قتل نے مکہ والوں کے حلات پر جلتی پر تیل کا معاملہ کیا اور ان کا غصہ اس قدر بھڑکا کہ وہ مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا چاہتے تھے۔ بلاشبہ یہ وہی وقت تھا جب ابو سفیان شام سے بہت سا مال خرید کر لا رہا تھا اور اس کے اس تجارتی قافلہ میں کروڑوں کا سامان موجود تھا۔ مکہ والوں کو اس بات کا خطرہ بھی تھا کہ کہیں ان کے اس تجارتی قافلہ پر ہاتھ صاف نہ کردیئے جائیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے وہم و گمان میں بھی ایسی بات نہ تھی بلکہ مدینہ میں جب یہ خبریں گرم ہوئیں کہ قریش ایک جمعیت ظیم لے کر مدینہ کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اس وقت آپ ﷺ نے مدافعانہ طور پر مدینہ سے نکل کر دفاع کرنا پسند کیا اور اس طرح معرکہ بدر پیش آیا۔
یہ بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو یہ خبر معلوم ہوئی کہ قریش بڑی تیاری کر کے مکہ سے نکلے ہیں تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے مخاطب ہو کر استمزاج کیا۔ مہاجرین نے نہایت جوش کے ساتھ آمادگی ظاہر کی لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ انصار کی مرضی دریافت کرنا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر سعد ؓ اٹھے جو انصار کے سرداروں میں سے تھے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے ؟ ہم وہ لوگ نہیں ہیں کہ جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ حکم دیں تو ہم آگ اور سمندر میں کود پڑیں۔ ہاں ! ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو شرکت سے ہچکچاتے تھے جیسا کہ زیر نظر آیت میں ارشاد الٰہی ہے کہ (مومنوں کا ایک گروہ اس بات پر ناخوش تھا) اور ان کی یہ ناخوشی محض وسائل کی کمی کے باعث تھی اور پھر حالات نے یہ ثابت کردیا کہ ان کی رائے درست نہ تھی اگرچہ وہ اپنی رائے کے خلاف بھی غزوہ بدر میں موجود تھے اور انہوں نے آپ ﷺ کے حکم کے خلاف ورزی بالکل نہیں کی تھی۔
Ayah 8:6بادل نخواستہ میدان کار زار کی طرف سے نکلنے والوں کی حالت کا بیان :
12: اہل سنہ کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام ؓ کے سوا کوئی شخص اس نیا میں بلوغت کے بعد معصوم نہیں رہتا خواہ وہ کتنا ہی صالح اور نیک کیوں نہ ہو ؟ اس لئے کہ قصور بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر اہل ایمان سے بھی سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں اور یہی بات اس زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے۔ دراصل انسانی کمزوریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کبھی اس کی رائے کے خلاف عمل کیا جائے تو وہ کسی حد تک بددل سا رہتا ہے اور حصوصاً جب رائے بھی خلوص اور نیت کے ساتھ دی گئی ہو۔ یہی حالت اس وقت پیش آئی کہ جب آپ ﷺ نے رائے معلوم کی تو بعض لوگوں کی رائے مدینہ سے باہر نکل کر دفاع کرنے کی نہ تھی بلکہ مدینہ میں ہی رہ کر دفاع کی وہ رائے دے چکے تھے اور جب ان کی رائے قبول نہ کی گئی تو وہ کبیدہ خاطر ہوئے اگرچہ وہ شریک کار بھی تھے اور انہوں نے اطاعت سے بھی روگردانی نہیں کی تھی پھر ان کو نہایت سخت ڈانٹ پلائی گئی قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرو کہ اس سے زیادہ سخت کچھ کہا ہی نہ جاسکتا تھا جو ان کو کہا گیا ٹٹ کہ باہر نکل کر مقابل ہونے سے وہ اس درجہ ناخوش تھے گویا انہیں زبردستی موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے اور اپنی موت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ثث حقیقت یہ ہے کہ انسان انسان ہی ہے کہ اس لئے یہ محال ہے کہ اس کا نامہ اعمال سراسر معیاری کارناموں ہی پر مشتمل ہو اور لغزش و کوتاہی اور خامی سے بالکل خالی رہے۔ یہی صورت حال اس جگہ پیش آئی اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس لغش کو معاف فرما دیا تاہم ان کو نہایت سخت قسم کی ڈانٹ بھی پلائی تاکہ آئندہ ان سے اس طرح کی حرکت سرزد نہ ہو اور اس کا یہی نتیجہ رہا کہ آئندہ کبھی انہوں نے اس طرح کی حرکت نہ کی بلکہ اس سے پہلی حرکت پر بھی ساری زندگی افسوس کرتے رہے۔ اس لئے کہ ان کی ناراضی کے الفاظ آج تک موجود ہیں اور رہتی دنیا تک وہ درس عبرت دیتے رہیں گے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر قاعدہ یہ مقرر کیا جاتا کہ یہ قصور کی سزا اور ہر خدمت کی جزا الگ الگ کردی جائے تو کوئی بڑے سے بڑا صالح بھی سزا سے نہ بچ سکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل و کرم ہوا کہ دونوں طرح کی حالت کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کئے جانے کے اعلان فرمایا اور ہر لغزش کے ساتھ اس لغزش پر ندامت کا اصول مقرر کردیا اور ہر غلطی کے ساتھ اعتراف غلطی سے اس کو لکیر پھروا دینے کا اصول جاری کیا اور یہ اس غفو و رحیم اللہ کی اپنے بندوں کے ساتھ ایک شفقت ہے جس نے انسان کے لئے اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو محفو کرا لینے اور مٹا دینے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ جس سے انسان کسی وقت بھی کام لے سکتا ہے۔
Ayah 8:7دو جماعتوں میں سے ایک کو تمہارے ہاتھ ینے کا وعدہ الٰہی :
13: نبی اعظم و آخر ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کو جب یہ اطلاع ملی کہ قریشیوں کا ایک اعظم لشکر اپنے تتجارتی قافلہ کی حفاظت کے لیے نکل چکا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے عزائم مدینہ پر چڑھائی کرنے کے ہیں تو اس طرح گویا قریش کی دو جماعتیں پیش نظر تھیں ایک وہ جماعت جو تجارتی قافلہ کی تھی جس کو قرآن کریم نے غَیْرَ سے تعبیر کیا ہے اور دوسری قریش مکہ کے لشکر عظیم کی جماعت جس کو قرآن کریم نے نفیر کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ گویا عام مسلمانوں کی آزمائش بھی تھی کہ ان کا ذہن اور ان کی توجہ کس جماعت کی طرف مبذول ہوتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ انسان آسانی چاہتا ہے اور سارے انسانوں کی نظر ایک جیسی عمیق نہیں ہوتی۔ اس لئے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ہمارے ہاتھ تجارتی قافلہ پڑے اور ہم ان سے سارا مال و دولت حاصل کرلیں جس سے مکہ والوں کی طاقت بھی کمزور ہو اور ان کے مقابلہ میں ہماری طاقت بڑھ جائے اور بعض صحابہ کرام ؓ کی رائے اور خود نبی اعظم و آخر ﷺ کی رائے وہی تھی جو مشیت ایزدی میں بھی طے تھی کہ ان کا آمنا سامنا قریش مکہ کے لشکر جرار سے ہو اور یہ لوگ میدان کار زار میں وہ کامیابی حاصل کریں جو رہتی دنیا تک سنہری حروف سے لکھی جاتی رہے اور ان کا نام چوروں اور لٹیروں کی فہرست میں نہ آئے۔
تمہارے ہاتھ میں وہ جماعت دے دی گئی جس سے تمہارا نام زندہ وجاوید ہوا :
14: بلاشبہ تجارتی قافلہ پر قبضہ پر قبضہ آسان اور بےخطر تھا اور مسلح افواج پر مشکل اور خطرات سے پر اس لئے بعض صحابہ کرام ؓ کی تمنا اور خواہش یہ تھی کہ وہ تجارتی قافلہ ہو اس لئے ان کو مخاطب کر کے بیان فرمایا جا رہا ہے کہ تم کو تو یہی پسند تھا کہ غیر مسلح تجارتی قافلہ پر تمہارا قبضہ ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ کا رادہ یہ تھا کہ اسلام کا اصل مقصد حاصل ہو اور حق کا حق ہونا واضح ہوجائے اور کافروں کی جڑ کٹ جائے اور ظاہر ہے کہ ہر کام اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ مسلح فوج سے مقابلہ اور اس پر مسلمانوں کا قبضہ اور غلبہ ہوجاتا۔ چناچہ یہی کچھ ہوا جو مسلمانوں میں حق میں خیر اور بھلائی تھا اور میدان کار زار میں چند نہتوں کے ہاتھوں بہت سے ہتھوں والوں کو شکست دی اور قریش مکہ کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی قید کر لئے گئے اور بھاگ کر جانے والے کافی ساز و سامان بھی چھوڑ گئے جو مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور اس طرح دونوں چیزیں مسلمانوں کو مل گئیں کہ وہ مجاہد بن کر میدان کار زار میں اترے اور وہاں سے غازی بن کر نکلے اور جو غرض مال و متاع کی تھی وہ بھی بلاشبہ پوری ہوئی اور کافی حد تک وہاں سے مال ان کے قبضہ میں آیا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔