Ayahs 8:1–31 نفل کا معنیٰ و مفہوم اور اس کا حکم ؟ : " انفال "، " نفل " کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ زیادہ کے آتے ہیں۔ نفل نماز کو بھی نفل اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ فرض سے زائد ہوتی ہے۔ اور مال غنیمت کو " نفل " اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ اصل مقصود سے ایک زائد چیز ہوتی ہے جو مجاہد کو اللہ پاک کی طرف سے عطیہ و انعام کے طور پر ملتی ہے کہ جہاد سے مجاہد کا اصل مقصود تو آخرت کا اجر وثواب اور رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے نہ کہ دنیوی مفاد اور دنیا کا فانی مال و متاع۔ (محاسن التاویل للقاسمی ) ۔ غزوئہ بدر کے موقع پر مال غنیمت کے بارے میں جب اختلاف پیدا ہوا، نوجوانوں نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ جہاد ہم نے کیا، تو بڑوں نے کہا کہ اگر ہم تمہاری پشت پناہی نہ کرتے تو تم نہ لڑسکتے تھے نہ جیت سکتے تھے۔ اس لئے مال غنیمت ہمارا حق ہے۔ تو اس موقع پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور اس بارے میں مستقل قانون اتار دیا گیا۔ (روح، قرطبی، محاسن اور مدارک وغیرہ) ۔ اور تقسیم انفال کے اس قانون کے بیان سے پہلے شروع میں اہل ایمان کو یہ تنبیہ فرمائی گئی کہ مال غنیمت کے بارے میں تم لوگ کہاں اور کیسے دعویدار بنتے ہو ؟ یہ تو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے۔ تمہارا کام تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری ہے اور بس۔ اور اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ سو تم لوگ اپنے اندر سچے اہل ایمان کی صفات پیدا کرو جو یہ اور یہ ہیں۔ اور جو سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
2 غنیمتیں اصل میں اللہ ہی کا حق ہے : کہ وہی سب کا خالق بھی ہے اور مالک و متصرف بھی۔ اور اسی وحدہ لاشریک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ جو چاہے حکم واِرشاد فرمائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ کا حکم اس کے رسول کے ذریعے ہی معلوم ہوسکتا ہے۔ لہذا جو حکم اللہ کے رسول دیں ہر موقع پر اور خاص کر تقسیم غنائم کے اس موقع پر، اس کو تم لوگ دل وجان سے اپناؤ کہ اسی میں تمہاری بہتری اور بھلائی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی۔ اور یہی تقاضا ہے ایمان کا اور یہی شان ہے مخلص اہل ایمان کی۔ سو یہ جامع اور اصولی جواب ہے ان تمام سوالات کا جو اس بارے پیدا ہوئے تھے کہ غنیمتیں سب کی سب در اصل ملکیت ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی۔ اور قرآن حکیم میں یہ تعبیر ہے اجتماعی ملکیت کی۔ سو اس اصولی جواب سے اموال غنیمت سے متعلق اس جاہلی دستور کا خاتمہ کردیا گیا جو اس سے پہلے رائج تھا اور جس کی بناء پر ہی تقسیم غنیمت سے متعلق وہ سوالات پیدا ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اموال غنیمت میں تقسیم کی بنیاد یہ نہیں کہ کس نے کیا کیا اور جہاد میں کس کی شرکت اور خدمت کس نوعیت کی تھی۔ بلکہ ان کی اصل نوعیت یہ ہے کہ یہ سب اموال اصل میں اللہ ہی کے ہیں جو کفار کے ناجائز قبضے سے چھن کر واپس اہل ایمان کے پاس اور اللہ کے خزانے میں آئے ہیں۔ اب ان کے بارے میں حکم وہی ہوگا جو اللہ دے اور اس کا رسول بتائے اور اللہ کا حکم اس بارے میں یہ ہے کہ ان اموال میں سب مجاہدین کا حق ہے اور اس میں دوسرے مسلمانوں کا بھی حصہ ہوگا۔ اس اصولی جواب کے بعد کلام کا رخ ان خامیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کی طرف مڑ گیا جو اس موقع پر رونما ہوئی تھیں۔
3 تقویٰ اصل و اساس ہے صلاح و اصلاح کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہمیشہ ڈرتے اور بچتے رہا کرو اللہ کی ناراضگی اور اس کی پکڑ سے۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری اور اللہ سے ڈرنا اور اس کی گرفت و پکڑ سے بچنے کی فکر و کوشش کرنا اولین اساس اور اصل بنیاد ہے صلاح و اصلاح اور دارین کی فوز و فلاح کی ۔ اللہ نصیب فرمائے اور اس کے درجہ کمال سے مشرف و فیضیاب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو اس میں اموال غنیمت کے بارے میں جھگڑا کرنے والے ان حضرات کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم لوگ اس بارے جھگڑنے کی بجائے اپنی اصلاح پر توجہ مرکوز کرو۔ اور تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت کو اپناؤ۔ سو تقویٰ اور اصلاح ذات البین اجتماعی شیرازہ بندی کی اساس و بنیاد ہے۔ لہٰذا تم لوگ اموال غنیمت کی تقسیم سے متعلق ان احکام کو دل و جان سے قبول کرو جو تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ملیں کہ اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
4 آپس کے تعلقات کو صحیح رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم آپس کے تعلقات و معاملات کو صحیح رکھو تاکہ تمہارے درمیان آپس میں الفت و محبت کا دور دورہ ہو اور تم لوگ فرقت و اختلاف سے محفوظ رہو کہ اسی میں تمہاری قوت بھی ہے اور عزت بھی۔ جبکہ تفرقہ و اختلاف میں تمہاری کمزوری ہے۔ اس لیے تفرقہ و اختلاف سے بچ کر تم لوگ اتحاد و اتفاق کی راہ کو اپناؤ اور اسباب فتنہ و فساد سے بچنے کی فکر و کوشش کرو۔ پس تمہارے اندر تمہارے دینی بھائیوں کے بارے میں رشک و رقابت اور حسد کا کوئی جذبہ نہ ابھرنے پائے کہ فلاں اور فلاں کو اس مال میں کیوں شریک بنادیا گیا۔ تم سب آپس میں بھائی ہو اور تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان کے باہمی تعلقات اخوت اور رحم و محبت کی بنیاد پر قائم ہونے چاہئیں۔ سو اصلاح ذات البین یعنی آپس کے تعلقات کی درستگی اور بہتری کی اسلامی تعلیمات میں بڑی اہمیت ہے۔ یہاں تک کہ آپس کے فساد و بگاڑ کو " حالقہ " یعنی " مونڈ کر رکھ دینے والی آفت " قرار دیا گیا ہے اور پھر لسان نبوت سے تصریح فرمائی گئی کہ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سر کے بالوں کو مونڈنے والی ہے بلکہ یہ متاع دین کو مونڈ کر رکھ دینے والی آفت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا ۔ " ولا اقول انہا تخلق الشعر ولکنہا تحلق الدین " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنے پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
5 تقویٰ و پرہیزگاری تقاضائے ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور آپس کے معاملات کی اصلاح کرو اگر واقعی تم ایماندار ہو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ و پرہیزگاری آپس کی الفت واصلاح اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری سچے ایمان و عقیدہ کی علامت اور اس کا تقاضا ہیں۔ اور اگر یہ ایسے نہیں اور تقویٰ و پرہیزگاری سے تہی دامن ہیں تو پھر محض زبانی کلامی ایمان کے دعوے کرنے سے بات نہیں بن سکتی اور اس سے اصل مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ پس جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ یہ نہیں کہ جو بات اپنی خواہشات اور اپنے مفادات کے مطابق ہوئی اس کو تو مان لیا اور جو ان کے خلاف ہوئی اس پر چیں بجبیں ہوگئے اور طرح طرح کی باتیں بنانے لگ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ ایمان کی اس حقیقت کو اچھی طرح جان لیں۔ اور جنہوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا ان کا دعوائے ایمان بےحقیقت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس ہمیشہ آپس کی اصلاح اور تقویٰ و پرہیزگاری کے حصول کی کوشش کرتے رہنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 8:48 سچے ایمان والوں کیلئے عظیم الشان انعامات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے مومنوں کے لئے ان کے رب کے یہاں بڑے درجے بھی ہیں اور عظیم الشان بخشش اور عزت کی روزی بھی۔ ایسے بڑے درجے، اتنی عظیم الشان مغفرت و بخشش اور ایسی عزت کی روزی اور رزق کریم کہ اس کا تصور کرنا بھی اس دنیا میں کسی کے لئے ممکن نہیں کہ یہ سب کچھ کرم و عنایت اور انعام و احسان اس وہاب مطلق کی طرف سے ہوگا جس کے نہ کرم کی کوئی انتہاء ہے اور نہ اس کے فضل و عنایت کی کوئی حد و نہایت ۔ شَرِّفْنَا بِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحَمِیْن وَیَآ اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کیلئے شہ کلید ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے یہ درجے اور مرتبے اور عزت کی یہ روزی ہر مدعی ایمان کے لئے نہیں بلکہ یہ رحمت و عنایت ان ہی خوش نصیبوں کو ملے گی جو جو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنی طرف سے پوری کوشش کے باوجود جو کمی اور کوتاہی ان کے اندر رہ جائے گی اس کو وہ معاف فرما دے گا ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 8:5–69 اِطاعت خدا و رسول ہی ذریعہ فوز و فلاح : سو انسان کی بہتری و بھلائی اطاعت خدا و رسول ہی میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کو یہ امر سخت ناگوار گزر رہا تھا اپنی بےسروسامانی اور شکتہ حالی کی بناء پر جو کہ ایک طبعی امر ہے کہ ایسی صورت حال میں اس طرح کی کراہت و ناگواری لوازم بشریہ میں سے ہے جس سے کوئی پاک و مبرا نہیں ہوسکتا۔ خواہ وہ کتنی ہی بڑی شان اور اونچے مرتبے والاکیوں نہ ہو ۔ اِلّا ماشاء اللہ ۔ بہرکیف جیسے اس وقت تمہاری ناگواری کا نتیجہ تمہارے لیے عظیم الشان کامیابی اور سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنا تھا، اسی طرح اب " انفال " کے بارے میں یہ حکم خداوندی اگرچہ وقتی طور پر تم کو ناگوار گزرے گا لیکن اس میں تمہاری بھلائی اور بہتری ہے۔ سو انسان سمجھے یا نہ سمجھے، اس کی بہتری اور بھلائی بہرحال اطاعت خدا و رسول ہی میں ہے۔ اور { فَرِیْقًا مِّنَ المُوْمِنِیْنَ } سے مراد وہ کمزور لوگ ہیں جو جہاد میں جانے سے اور کفار کے مقابلے سے ڈر اور کترا رہے ہیں۔ اور " فریق " کے لفظ سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ان لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی بلکہ یہ ایک مختصر سا گروہ تھا۔ سو جس طرح اس موقع پر اپنی طبعی ناگواری کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری سے تمہیں ایسی بڑی کامیابی نصیب ہوئی ہے ایسے ہی اب تمہارے لئے بہتری کی راہ یہی ہے کہ تم لوگ غنیمتوں کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو دل و جان سے قبول کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 8:7–810 جہاد فی سبیل اللہ کے ایک اہم مقصد کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا ایک اہم اور بنیادی مقصد کفر اور اہل کفر کے اشرار کی بیخ کنی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ جڑ کاٹ دے ایسے کافروں کی۔ جو کہ حق کی راہ روکتے اور اللہ کے پیغمبر اور ایسے مومنین کاملین کے مقابلے میں صف آرا ہو رہے تھے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ غزوئہ بدر میں کفار قریش کے ستر سردار تہ تیغ ہوئے جن میں اس امت کا فرعون یعنی ابوجہل بھی شامل تھا۔ اور ستر ہی قید و بند میں پکڑے اور جکڑے گئے۔ اور اس طرح ان کا غرور ہمیشہ کیلئے خاک میں مل گیا اور ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ اور بالآخر وہ سب فی النار والسقر ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ والحمد للّٰہ جَلَّ و عَلا ۔ سو اللہ اور اس کے رسول کی راہ روکنے والوں کا انجام بہرحال بہت برا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ واضح فرمایا گیا کہ تم لوگ اگرچہ اپنے صنعف اور کمزوری کی بناء پر یہ چاہتے اور اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ تجارتی قافلہ تمہارے ہاتھ لگ جائے اور تمہیں جنگ وجدال اور قتل و قتال کی صعوبتیں نہ برداشت کرنی پڑیں لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ حق و باطل کا معرکہ قائم ہو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ حق کا حق ہونا واضح کردے اور تاکہ وہ ایسے کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے جس سے یہ شجرئہ خبیثہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔
Ayah 8:911 حاجت روا و فریاد رس سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب تم سب لوگ فریاد کر رہے تھے اپنے رب کے حضور کہ فریاد رس اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو دیکھئے حضرت امام الانبیاء ۔ ﷺ ۔ اور آپ ﷺ کے قدسی صفت صحابہ کرام کی جماعت، سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے حضور فریاد کرتے اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ اور اپنی سب حاجتیں اور ضرورتیں اسی وحدہ لاشریک کے حضور پیش کرتے ہیں۔ اور جب امام الانبیاء ۔ علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام ۔ بھی حاجت روا و فریاد رس اور مشکل کشا نہیں بلکہ وہ بھی دوسروں کی طرح اللہ ہی کے محتاج ہیں تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو اس کا اہل ہو ؟ اور اس کو حاجت روا اور مشکل کشا مانا جاسکے ؟ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر غلط کار اور کتنے گمراہ ہیں وہ لوگ جو اس کے باوجود طرح طرح کی عاجز اور بےبس مخلوق کو حاجت روا و مشکل کشا جان کو ان کو پوجتے پکارتے اور ان کے آگے جھکتے اور طرح طرح سے ذلیل ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سختیوں اور مشکلوں کے اس ہولناک وقت میں لشکر اسلامی کا ایک ایک فرد سراپا عجز و نیاز اور یکسر دعاء و فریاد بنا ہوا تھا۔ خود سرکارِ دو عالم ﷺ نے اس موقع پر جو دعاء فرمائی اور جس انداز میں فرمائی وہ عبدیتِ کا ملہ کا بےمثال نمونہ تھا۔ یہاں تک کہ حضرت صدیق اکبر ۔ ؓ ۔ نے آپ سے عرض کیا کہ اللہ کے نبی بس کریں۔ آپ نے بہت زاری کرلی ۔ (علیہ السلام) -
Ayahs 8:10–1112 مدد سب اللہ ہی کی طرف سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مدد سب کی سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور وہ وحدہ لاشریک ظاہری اسباب کا محتاج نہیں کہ وہ ضرورت و احتیاج کے ہر شائبے سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے اسباب و وسائل تو بیشک اختیار کیے جائیں اور ضرور کیے جائیں، مگر بھروسہ اسباب پر نہیں، بلکہ مسبب الاسباب پر رکھا جائے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مدد جب بھی آتی ہے یا آئے گی، اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف سے آئے گی۔ اور وہ عزیز اور بڑا ہی زبردست ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ حکیم بھی ہے۔ اس لیے وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق ہی کرتا ہے۔ پس اگر کبھی کوئی افتاد پیش آجائے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہی کا کوئی پہلو مضمر و کار فرما ہوگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بندے کی نظر بہرحال اسی وحدہ لا شریک اور اس کی نصرت و امداد پر رہنی چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 8:12–1316 معیت رب کی خوشخبری سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہارا رب فرشتوں کی طرف وحی فرما رہا تھا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ یعنی اپنی نصرت و امداد کے لحاظ سے اور اپنی تایید و عنایت کے اعتبار سے۔ اور جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو پھر تمہیں کسی کی کیا پروا ہوسکتی ہے ؟ ۔ اللّٰھُمْ فکُنْ لَنَا ومَعَنَا بفَضْلِکَ وَ بِرَحْمَتِکَ فِیْ کُلِّ مَوْطِنٍ مّنَ الْمَوَاطِنِ وَ بکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحوال ۔ یَا ذَا الجُوْدِ وَالْکَرِمِ وَ یا ذَا الْجلَالِ وَاْلاِکرام ۔ بہرکیف یہ پہلا حکم تھا جو حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدَہٗ ۔ کی طرف سے فرشتوں کی اس فوج کو دیا گیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پس تم ثابت قدم رکھو ایمان والوں کو۔ اس ارشاد سے ایک بات تو یہ نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت کے بغیر فرشتے بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ اور دوسری یہ کہ فرشتوں کا کام بھی بہرحال یہ نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں سے کہہ دیں کہ تم الگ ہو کر بیٹھ جاؤ تمہاری جگہ ہم لڑیں گے، بلکہ ان کا فرض منصبی مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنا تھا۔ لڑائی بہرحال مسلمانوں ہی نے لڑنا تھی کہ یہ انہی کی ذمہ داری تھی۔
17 ایمان والوں کے لئے قدرت کی طرف سے ثابت قدمی کا انتظام : سو رب تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پس تم ثابت قدم رکھو ایمان والوں کو اے فرشتو ! ان کے ساتھ ہو کر، ان کی تعداد کو بڑھا کر، ان کے حوصلے بلند کرکے اور ان کے دشمنوں کے خلاف شریک جہاد و قتال ہو کر۔ سو سچے ایمان و یقین کی بدولت اللہ پاک کی نصرت و امداد کے ایسے ہی مظاہر سامنے آتے ہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس طرح ان مومنین صادقین کے لئے قدرت کی طرف سے فرشتوں کے ذریعے ثابت قدمی کا انتظام فرمایا۔ سو اصل چیز مسلمان کی اپنی کوشش، صدق و اخلاص اور ثابت قدمی ہے۔ راہ حق و صواب میں کہ اسی کے نتیجے میں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوازشات و عنایات سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
18 رُعب خداوندی اہل ایمان کیلئے ایک غیبی امداد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں ابھی رعب ڈالے دیتا ہوں کافروں کے دلوں میں جس سے دشمنوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے اور ان میں اہل حق کے خلاف لڑنے کی ہمت و سکت نہیں رہے گی۔ سو یہ ایک غیبی امداد تھی جس سے حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدْہٗ ۔ نے اپنے ان بندوں کو بطور خاص مشرف و سرفراز فرمایا تھا۔ سو رعب خداوندی قدرت کی ایک غیبی امداد ہے جس سے اللہ پاک اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس مومن صادق جب راہ حق میں ثابت قدمی دکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی ایسی ہی عنایات سے نوازتا ہے۔ واضح رہے کہ میدان جنگ میں فوج کی اصل قوت اس کا حوصلہ ہی ہوتا ہے۔ وہ جب بحال ہو تو سپاہی بےتیغ بھی لڑتا ہے۔ اور اگر حوصلہ ٹوٹ جائے تو اسلحے کے بڑے بڑے انبار بھی کچھ کام نہیں آسکتے بلکہ وہ الٹا دشمن کے ہاتھ لگ کر خود انہی کی تباہی کا باعث بنتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
19 معرکہ بدر میں دشمنوں کی بےبسی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم کَس کَس کر اور کاری ضربیں لگاؤ کافروں کی گردنوں پر اور کاٹ ڈالو ان کے پور پور اور جوڑ جوڑ کو تاکہ اس طرح کمر ٹوٹ جائے کفر کی۔ وجود باقی نہ رہے فتنے کا اور راستہ صاف ہوجائے حق اور اہل حق کا۔ اور سایہ فگن ہوجائے دین حق اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ سب پر۔ اور تاکہ سنور جائے دنیا و آخرت سب کی نور ایمان و یقین سے سرفراز ہوکر۔ سو کافروں پر کاری ضربیں لگانے اور ان کے کفر کو توڑنے کا فائدہ سب ہی کو نصیب ہوگا کہ اس سے کفر کی ظلمتیں چھٹیں گی اور ایمان و یقین کی روشنی پھیلے گی، جس سے سب کا بھلا اور فائدہ ہوگا۔ سو اسلامی جہاد معالج اور ڈاکٹر کے اس نشتر کی طرح ہے جس سے فاسد مواد کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور پورے جسم و جان کو امن و سکون ملتا ہے۔ اور یہ ارشاد در اصل تعبیر ہے دشمن کی مرعوبیت کے نتیجے کی۔ یعنی جب ان کا زور ٹوٹ جائے تو تم ان کو بھیڑ بکریوں بلکہ گا جر مولی کی طرح کاٹو۔ اور کس کس کر ضربیں لگاؤ ان کی گردنوں پر۔ اور ان کے ایک ایک پور پر۔ سو یہ تصویر ہے اس بےبسی کی جو مرعوبیت کے نتیجے میں دشمن پر طاری ہوتی ہے کہ اس کے بعد ان کے اندر تمہارے مقابلے کی ہمت اور سکت نہیں رہے گی۔
Ayah 8:1420 کافروں کیلئے اصل عذاب دوزخ کا عذاب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک کافروں کے لیے مقدر دوزخ کا عذاب ہے اور دنیا کا یہ عذاب جو ان کو یہاں مل رہا ہے یہ تو گویا کہ ایک معمولی قسط ہے جو نقد ان کو مل رہی ہے تاکہ یہ لوگ اپنی سرکشی میں آگے بڑھ کر مزید فساد نہ پھیلا سکیں۔ ورنہ اصل عذاب تو ان کو آخرت ہی میں ملے گا۔ اور آخرت کا وہ عذاب بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ سب اس لئے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا جو کہ نہایت ہی سنگین جرم ہے۔ کیونکہ انسانی فطرت کے اندر خدا اور خدا کے رسول سے لڑنے کے لئے کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ لڑائی کا جواز وہاں ہوتا ہے جہاں کسی حق کی حفاظت مدِّ نظر ہو اور اسی صورت میں لڑائی کے لئے جذبہ پیدا ہوتا اور حوصلہ ابھرتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے مقابلے میں کسی کے کسی حق کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کی جہالت کے لئے اٹھتے ہیں وہ چاہے طوفان کی طرح اٹھیں پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے حوصلے کی بنیاد کسی حق پر نہیں ہوتی۔ سو کفر وانکار محرومیوں کی محرومی اور دارین کی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 8:1521 معرکے میں پیٹھ دکھانا جرم عظیم ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہاری کافروں کے کسی لشکر سے مڈبھیڑ ہوجائے تو تم ان کو پیٹھ نہیں دکھانا اور میدان چھوڑ کر بھاگنا نہیں کہ یہ ایک سنگین جرم اور بڑا سخت گناہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اس سے بعض اوقات جیتی ہوئی بازی ہر جاتی ہے۔ اور فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔ اسی لیے " فرار من الزحف " یعنی میدان کارزار سے بھاگنے کو سبع موبقات یعنی ان سات بڑے گناہوں میں سے قرار دیا گیا ہے جو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالنے والے ہیں، جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ کی صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم ﷺ سے مروی ہے۔ بہرکیف اس سے اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی کہ میدان جنگ میں پیٹھ دے کر بھاگنا نہیں۔ اور یہ ارشاد در اصل انہی تائیدات پر مبنی ہے جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے کہ جن کی پشت پر خدا کی نصرت و امداد ہو اور جن کی مدد کے لئے اللہ کے فرشتے یوں کھڑے ہوں ان کے لئے حرام ہے کہ وہ دشمن کو پیٹھ دکھائیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:1622 میدان کارزار سے پیٹھ دینے کی دو جائز صورتوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میدان جنگ میں پیٹھ دینا جائز نہیں بجز اس کے کہ کوئی جنگ ہی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا وہ اپنی فوج کے کسی دستے سے ملنا چاہتا ہو۔ ایسوں پر کوئی الزام اور مواخذہ نہیں کہ یہ دراصل بھاگنا نہیں بلکہ جنگ ہی کا ایک تقاضا اور اس کا ایک حصہ ہے کہ پینترے بدلنا جنگ کے ان اہم تقاضوں میں سے ہے جس کے مطابق مجاہد میدان جہاد میں کام لیتا ہے اور اپنی جنگی حکمت عملی کی بناء پر اپنا مورچہ بدلتا اور اپنے وار کا رخ تبدیل کرتا ہے۔ بہرکیف اگر کوئی سپاہی کسی جنگی تدبیر کی بناء پر اپنے مورچے سے ہٹ کر کسی اور مورچے کا رخ کرتا ہے یا وہ جنگی حکمت عملی کی بناء پر کسی اور فوجی دستے میں شامل ہونے کی غرض سے اپنا مورچہ چھوڑتا ہے وہ اس وعید میں نہیں آتا وہ اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کا تعلق فرار من الزحف سے نہیں بلکہ جنگی حکمت عملی سے ہے۔ ممنوع و حرام وہ پیٹھ دینا ہے جو کہ فرار کی نوعیت کا ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ دو صورتیں میدان جنگ سے پھرنے یا ہٹنے کی جائز صورتیں ہیں۔
Ayahs 8:17–1823 عنایت خداوندی کے ایک نتیجے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس درحقیقت ان دشمنان حق کو تم لوگوں نے نہیں قتل کیا تھا (اے ایمان والو) بلکہ ان کو اصل میں اللہ ہی نے قتل کیا تھا۔ یعنی دشمنوں کی شکست اور ان کے قتل و خونریزی کا یہ کام تمہارے بس کی چیز نہیں تھا بلکہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے تھا۔ سو ان دشمنوں کو تم نے نہیں اللہ ہی نے قتل کیا تھا۔ اور اس کا یہ قتل تمہارے ذریعے ظاہر ہوا جو درحقیقت تمہارے لئے اس وحدہ لاشریک قادرمطلق کی طرف سے ایک بڑا اعزاز ہے، جس پر تمہیں دل و جان سے اس کا شکر گزار ہونا چاہیئے، نہ کہ مال غنیمت وغیرہ کا دعویدار بننا۔ سو فتح و شکست کا اصل دارومدار اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد پر ہے جس کو اس کی نصرت و امداد حاصل ہوگی وہی کامیاب و کامران ہوگا اور اس کی نصرت و امداد جس کیخلاف جائے گی وہی ناکام و نامراد ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس مومن صادق کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھے تاکہ اس کی نصرت و امداد اس کو حاصل رہے کہ اس کے بعد اس کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْد وعلی ما یحب ویرید ۔ سو بندئہ مومن جب اپنے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص میں سچا ہوتا ہے تو وہ اللہ پاک کی خاص عنایات اور اس کی نوازشوں کا مظہر بن جاتا ہے۔ جیسا کہ شاعر مشرق نے کہا اور خوب کہا کہ ۔ ہاتھ ہے اللہ کا بندئہ مومن کا ہاتھ ۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ انہ ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سمیع قریب مجیب وعلی ما یشاء قدیر وہو عند ظن عبدہ بہ جل جلالہ وعم نوالہ -
24 معرکہ بدر میں ایک مشت خاک کی تاثیر کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا کہ معرکہ بدر میں رسول اللہ کے ہاتھ سے پھینکی جانے والی مٹی کی تاثیر دراصل قدرت ہی کی عنایت کا نتیجہ تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ مٹی حقیقت میں آپ نے نہیں پھینکی تھی اے پیغمبر بلکہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی نے پھینکی تھی اپنی قدرت و عنایت سے۔ یعنی اس کی یہ تاثیر دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و عنیات کا نتیجہ وثمرہ تھا۔ غزوئہ بدر کے موقع پر۔ کہ وہ ظاہراً اگرچہ آپ ہی کے دست مبارک سے پھینکی گئی تھی، مگر اس کی یہ تاثیر کہ وہ سب دشمنوں کی آنکھوں میں پڑجائے محض قدرت خدا وندی کا ایک نمونہ و مظہر تھا، ورنہ یہ چیز آپ کے حیطہ بس و اختیار میں نہیں تھی۔ سو اس سے اہل بدعت کے مختار کل کے شرکیہ عقیدے کی قطعی نفی ہوجاتی ہے کہ اختیار کلی اللہ پاک ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے۔ وہی جب اور جیسے چاہے کرتا ہے۔ سب اسی کے محتاج ہیں۔ سب کا خالق ومالک وہی وحدہ لا شریک ہے۔ روایات کے مطابق میدان بدر میں جب طرفین کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور " شَاھَتِ الْوُجُوْہُ " " بگڑجائیں یہ چہرے " کہہ کر اس کو کفار کی طرف پھینک دیا۔ اور اللہ پاک کی قدرت و عنایت سے وہ مٹی سب کفار کی آنکھوں میں پڑگئی۔ اور عربی زبان کا یہ جملہ لعنت اور پھٹکار کے معنیٰ میں آتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ سے اے پیغمبر مٹھی بھر پھینکی جانے والی اس مٹی کی یہ تاثیر کہ وہ طوفان بن جائے اور تمام کفار کی آنکھوں میں پڑجائے یہ آپ ﷺ کے ہاتھ کا کارنامہ نہیں تھا، بلکہ یہ در اصل دست غیب کی قدرت کا کرشمہ تھا جو اس طرح ظاہر ہوا۔ کہ سب کچھ اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
25 ایمان والوں کیلئے بڑا ہی عمدہ اجر وثواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ نوازے ایمان والوں کو ایک بڑے ہی عمدہ اجر سے بیشک اللہ بڑا ہی سننے والا سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اور اس نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ تاکہ وہ نوازے ایمان والوں کو ایک بڑے ہی عمدہ اجر سے کہ فتح و نصرت کا تاج انہیں نصیب ہو، جہاد کے اجر وثواب سے وہ بہرہ ور و ہمکنار ہوں، سچی عزت و ناموری کے ساتھ ساتھ مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ آئے اور ان کے دشمن ان کے سامنے ذلیل و خوار ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اور سب سے بڑا اور عمدہ اجر ان کو آخرت کے اس جہاں میں ملے گا جو کہ ابدی اور حقیقی جہاں ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنی ایسی خاص عنایات سے نوازا تاکہ وہ اپنی نصرت کی شانیں دکھائے اور تاکہ مسلمانوں کے جوہر اچھی طرح نمایاں کرے ۔ فالحمد للہ جل وعلا ۔ سو ایمان و یقین اور صدق و اخلاص دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے ۔ اور ہمیشہ اس سے بہرہ ور اور سرشار رکھے ۔ آمین وانہ ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سمیع قریب مجیب وعلی ما یشاء قدیر۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 8:1926 حق وباطل کے درمیان فیصلے کا ظہور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے تھے اے منکرو تو بیشک وہ آچکا۔ جیسا کہ تم نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ پکڑ کر دعا کی تھی کہ ہم میں سے جو باطل پر ہے وہ تباہ و برباد ہوجائے۔ تو وہ فیصلہ اب تمہارے سامنے آچکا۔ لہذا اب تم لوگ حق کو قبول کرلو۔ سو اس ارشاد میں کفار قریش کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ بولو اب تمہارا کیا خیال ہے ؟ اور اب تم کیا کہتے ہو ؟ تم اپنی عددی کثرت اور اپنے سامان حرب و ضرب کی بناء پر پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنی فتح و کامرانی کے گھمنڈ میں تم بڑی بڑی ڈینگیں مار رہے تھے۔ اور اس جنگ کو تم نے اپنے طور پر حق و باطل کا معیار اور میزان ٹھہرا رکھا تھا۔ اور تمہارا کہنا تھا کہ جو اس جنگ میں جیتا وہی حق پر سمجھا جائے گا۔ سو تمہارے اپنے مقرر کردہ معیار و میزان کے مطابق معاملہ اب واضح ہوگیا ہے۔ فیصلہ تمہارے سامنے آگیا ہے۔ تو اب بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ سو اب تم لوگوں کو حق کے آگے صدق دل سے جھک جانا چاہیے کہ یہی تمہارے قول وقرار کا نتیجہ اور اس کا تقاضا ہے اور اسی میں تمہارا بھلا ہے۔
27 حق کو اپنانے میں خود اپنانے والا کا بھلا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اب اگر تم لوگ باز آجاؤ اپنے کفر وباطل سے تو اس میں خود تمہاری بہتری اور حق کو اپنانے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ کہ اس طرح تم لوگ دنیا میں ذلت و خواری اور آخرت میں وہاں کے دائمی عذاب سے بچ جاؤ گے۔ سو حق کو اپنانے میں سراسر خود تمہارا ہی بھلا ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں تمہارا اپنا ہی نقصان۔ سو اس ارشاد میں ان منکروں کو نصیحت ہے کہ تم لوگ اس سے سبق لو اور اپنی سابقہ روش سے باز آجاؤ اور راہ حق و صواب کو اپناؤ تاکہ تمہارا بھلا ہو، اس عارضی اور فانی دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی، ورنہ تم حق کا کچھ نہیں بگاڑو گے بلکہ اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا اب تم لوگ اپنے بارے میں خود سوچ لو اور اپنے معاملے سے متعلق غور وفکر کرلو۔
28 جیسا کرنا ویسا بھرنا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو اسی اصول پر منکرین و معاندین کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جیسا کہ تم لوگ کرو کے ویسا ہی بھرو گے۔ سو ارشاد فرمایا اگر تمہارے لچھن پھر بھی وہی رہے جو پہلے تھے اور تم اپنی شرانگیزیوں سے باز نہ آئے تو پھر ہم بھی وہی کریں گے جس کے تم لوگ اپنے کرتوتوں کے سبب مستحق ہو، کیونکہ عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ " جو کرے وہ بھرے "۔ سو اگر تم ہوش کے ناخن لو تو تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم حق اور اہل حق کی عداوت و دشمنی سے باز آجاؤ اور اپنی اصلاح کرلو۔ ورنہ اپنے ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجاؤ کہ پھر ہم تمہارے ساتھ وہی کچھ کریں گے جو اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ اور تمہیں اسی ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑے گا جس سے تم پہلے ہوچکے ہو ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وَ عَلَا -
29 اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکتا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس اہم اور بنیادی حقیقت سے آگاہی کے طور پر ان لوگوں کو بتایا گیا کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے اور اللہ کی گرفت و پکڑ میں آگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس وقت تمہاری جماعت تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکے گی خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ تمہارا گھمنڈ اور غرور ہے کہ حق کے مقابلے میں کوئی بھی جماعت یا جتھا کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکتا۔ سو ایسے کسی گھمنڈ میں مبتلا ہونا خود اپنے ہی آپ کو فریب میں مبتلا کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جب ہماری طرف سے عذاب کا کوڑا تم پر بر سے گا تو اس وقت تمہاری جماعت تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکے گی خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ پس تم لوگوں کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ تم اپنی اس غلط روش کی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ اس کا موقع تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم کو ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
30 اللہ ساتھ ہے ایمان والوں کے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یقین جان لو کہ اللہ ساتھ ہے ایمان والوں کے۔ یعنی ان کے ساتھ ہے اپنی نصرت و امداد وامدا کے اعتبار سے۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور ساتھ اس کی تائیدو نصرت حاصل ہو اس کو کون مغلوب کرسکتا ہے { اِنْ یَنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلا غالِبَ لَکُمْ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ بَعْدِہٖ } الاٰیۃ (اٰلِ عمران : 160) ۔ معلوم ہوا کہ صدق ایمان اور قوت یقین شاہ کلید ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ پس مومن کی اصل قوت اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے ہے۔ جو اس کو اپنے ایمان وتقویٰ کی بناء پر حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی ہمیشہ یہی کوشش ہونی چاہئے کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ اس کا تعلق درست رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 8:2031 اطاعت خدا و رسول کا حکم وارشاد : سو اس میں ایمان والوں کو خطاب کر کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم اطاعت اور فرمانبرداری کرو اللہ اور اس کے رسول کی کہ یہ تمہارے عقیدئہ و ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اسی میں تمہارا بھلا ہے دنیا و آخرت میں تاکہ صدق دل سے اطاعت و فرمانبرداری کرکے تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہو سکو کہ اطاعت خدا و رسول سے تمہیں اس دنیا میں حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " سے سرفرازی نصیب ہوگی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی و بہرہ مندی۔ پس تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری اس طرح کرو جس طرح کہ یہ تمہارے ایمان کا تقاضا ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُ وَ یُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید -
32 اطاعت خدا و رسول سے روگردانی کی ممانعت : سو اس سے اہل ایمان کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کی ممانعت فرما دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم اطاعت خدا و رسول سے روگردانی مت کرو جبکہ تم لوگ خود سنتے ہو کہ ایسی سرتابی و روگردانی خود تمہاری ہی ہلاکت و تباہی اور محرومی کا باعث ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس سے تم لوگ دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی سے محروم ہوجاؤ گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور سنتے بوجھتے { وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ } اِعراض و روگردانی کے جرم کا ارتکاب کرنا چونکہ اور بھی برا اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے اس لیے اس کی تصریح فرما دی گئی ہے۔ سو { وَاَنْتُمْ تَسْمْعُوْنَ } کے کلمات کریمہ اس فعل کی شناعت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ رسول کی موجودگی میں اور ان کے کلمات کریمہ کو سننے کے باوجود اس طرح کی لاپرواہی برتنا اور اعراض و روگردانی سے کام لینا اور بھی برا ہے۔ بھلا جو دن کی روشنی میں اپنی آنکھیں بند کر کے کھڈے میں گرے اس سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے اور اس کے لئے آخر کیا عذر ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری سے اعراض و روگردانی کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 8:2133 اہل ایمان کو ایک خاص اور اہم تنبیہ : سو ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجاتا جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر وہ سنتے نہیں۔ سو تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو محض ظاہری کانوں سے سنتے ہیں مگر ان کا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے۔ سو محض سر کے کانوں سے سننے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ دل کے کانوں سے نہ سنا جائے۔ سو یہ حال ہے ان منافقوں کا جو اوپر اوپر سے تو مانتے ہیں مگر دل سے نہیں مانتے۔ حالانکہ اصل مطلوب وہی ہے۔ یعنی دل و جان سے ماننا۔ ان محض زبانی کلامی دعو وں کا کوئی اعتبار نہیں۔ پس تم اے سچے ایماندار و، ایسے منافق اور محروم لوگوں کی طرح نہ ہوجانا کہ یہ راہ محرومی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ کھلے اور ہٹ دھرم کافر جو کہنے کو تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا لیکن کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے لئے فرمایا گیا { وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا } الآیۃ (النسائ : 46) اور دوسرے وہ منافق جن کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا { وَمِنْہُمْ مَنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ حَتّٰی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا } ۔ (محمد : 16) ۔ سو یہ دونوں قسم کے لوگ سنتے ہیں مگر ان کا سننا نہ سننے کے برابر ہے۔ ( المنار، المراغی وغیرہ) ۔ اور زمخشری کہتے ہیں کہ جب تم لوگ قرآن اور پیغمبر پر ایمان لانے کے باوجود بعض معاملات میں پیغمبر کی اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو تمہاری تصدیق نہ ہونے کے برابر ہوگی اور تمہارا سننا نہ سننے کے برابر۔ کیونکہ ایمان و تصدیق کا تقاضا سمع وطاعت اور فرمانبرداری پر ہوتا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ پس جو لوگ سمع وطاعت اور فرمانبرداری کے تقاضے پورے نہیں کرتے ان کا ایمان محض زبانی کلامی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:2234 منکرین حق بدترین جانور ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنی عقلوں سے صحیح طور پر کام نہ لینے والے منکرین حق اللہ کے نزدیک بدترین جانور ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد میں جوہر عقل سے صحیح طور پر کام لینے اور حق کو اپنانے کی ترغیب وتحریض ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ گونگے بہرے لوگ ہیں جو اپنی عقلوں سے صحیح کام نہیں لیتے۔ اور اس طرح ان لوگوں نے جوہر عقل کی اس عظیم الشان نعمت کو ضائع کردیا جس سے قدرت نے محض اپنی رحمت و عنایت سے ان کو نوازا تھا۔ اور جس کے ذریعے اس نے ان کو باقی تمام مخلوقات پر فوقیت اور فضیلت بخشی تھی اور ان کو اشرف المخلوقات کے شرف سے سرفراز فرمایا تھا۔ سو ان کو چاہیئے تھا کہ یہ عقل کے اس جوہر عظیم اور نعمت بےمثال سے صحیح کام لیتے اور کائنات کی اس کھلی کتاب میں غور و فکر کرتے۔ اور اس میں جا بجا پھیلی بکھری، عظیم الشان نشانیوں اور دلائل قدرت کو دیکھ کر اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرفراز و سرشار ہوتے اور خود اپنے مقصد وجود کو پہنچاننے کی کوشش کرتے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور آگے کیا ہونے والا ہے۔ کیا کرنا چاہیئے تھا اور کیا کر رہے ہیں ؟ ہمارا خالق ومالک کون ہے اور وہ ہم سے کیا کہتا اور کیا چاہتا ہے ؟ اور اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر جوہر عقل کی اس عظیم الشان نعمت سے یہ لوگ اس طرح سوچتے اور غور و فکر کرتے تو سیدھی راہ اور دائمی سعادت سے سرفراز ہوجاتے۔ مگر انہوں اس کے برعکس عقل کے اس جوہر بےمثال کو خواہشات نفس اور شہوات بطن و فرج کے تابع کردیا۔ اور اس طرح یہ لوگ { خَیْرُ الْبَرِیَّۃ } کے منصہ شرف سے گر کر { شَرُّالْبَرِیّہ } کے قعر مذلت میں پہنچ گئے۔ اور یہ وہ خسارہ و نقصان ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ و نقصان سرے سے ہو ہی نہیں سکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد ربانی میں جوہر عقل سے صحیح طور پر کام لینے کی ترغیب وتحریض ہے تاکہ اس طرح انسان دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور ہوسکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ تعالیٰ غوائل نفس اور مہالک شیطان سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 8:2335 طلب صادق ذریعہ سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ طلب صادق اولین اساس ہے عنایات خداوندی سے سرفرازی کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ ان لوگوں میں کوئی بھلائی دیکھتا حق کی طلب اور اس کی قبولیت کے ضمن میں تو وہ ان کو ضرور سنا دیتا۔ یعنی اگر ان کے اندر اس طرح کی کوئی بھلائی موجود ہوتی تو اللہ پاک ان کو اپنی عنایات سے ضرور نوازتا۔ کیونکہ یہاں پر علم کنایہ ہے وجود سے۔ یعنی اگر ان لوگوں کے اندر ایسی کوئی چیز ہوتی تو وہ اللہ کے علم میں ضرور ہوتی۔ کیونکہ موجودات میں سے کوئی بھی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی۔ مگر ان کے اندر اس طرح کی کوئی چیز ہے اس لیے یہ محروم کے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو طلب صادق اولین اساس و بنیاد ہے عنایات خداوندی سے سرفرازی کی۔ اور جب ان لوگوں کے اندر قبول حق کی صلاحیت اور طلب صادق کا یہ جوہر موجود نہیں تو یہ اللہ کی عنایت اور توفیق بخشی سے سرفراز نہیں ہوسکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
36 طلب صادق سے محرومی، ہر خیر سے محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ ان کو یونہی یعنی بغیر ظلب صادق کے سنا دیتا تو یہ یقینا اس سے پھرجاتے منہ موڑ کر۔ سو اگر اللہ ان کو اسی حالت میں سنا دیتا جبکہ نہ ان کے پاس قبول حق کی طلب ہے اور نہ اس کی قابلیت و استعداد۔ کیونکہ جس زمین میں بیج کو قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو وہ تخم کو اگل دیتی ہے۔ سو طلب صادق اور صحیح استعداد سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ اور اس سے انسان کا باطن اس بنجر اور بیکار زمین کی طرح ہوجاتا ہے جو کسی کام کی نہیں رہتی۔ اور اس میں حق و صداقت اور خیر و صلاح کی کوئی اہلیت اور صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ سو ہدایت و ضلالت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قانون و دستور یہ ہے کہ اس نے ہر انسان کے اندر خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز کی صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔ پس جو لوگ قدرت کی بخشی ہوئی اس صلاحیت کو زندہ رکھتے ہیں اور اس سے کام لیتے ہیں ان کو مزید ہدایت ملتی ہے۔ اور وہ درجہ بدرجہ اپنے علم و عمل میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ خدا کی بخشی ہوئی اس فطری صلاحیت کو ضائع کر بیٹھتے ہیں ان کو مزید ہدایت ملنا تو درکنار قانونِ الٰہی کے مطابق ان کی وہ فطری ہدایت بھی سلب ہوجاتی ہے۔ حضرت حق نے اسی حقیقت کو یہاں پر اس نہایت بلیغ پیرائے میں اس طرح بیان فرمایا ہے اور وجہ اس کی ظاہر و باہر ہے جو غلام ایک پیسے میں چور ثابت ہو، اس کا مالک اس کو ایک لاکھ کی امانت کیسے سونپ سکتا ہے ؟ سو انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کی صحت و خرابی کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 8:2437{ مَایُحْیِِیْکُمْ }[ حیات آفریں چیز ] سے مراد ؟ : یعنی قرآن ِ حکیم کی طرف جو کہ امین وضامن ہے حیات حقیقی اور زندگی جاودانی کا۔ نیز جبکہ وہ بلائے تمہیں جہاد فی سبیل اللہ کی طرف کہ وہ بھی حیات حقیقی کا ضامن و پاسدار ہے کہ اس سے قوائے شرو فساد کا قلع قمع ہوتا ہے اور اہل ایمان کو اس سے اس دنیا میں بھی حیات طیبہ یعنی " پاکیزہ زندگی " نصیب ہوتی ہے اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی سدا بہار کامیابی حاصل ہوتی ہے جو کہ اصل اور حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اور بعض حضرات اہل علم کے نزدیک { مَا یُحْیِیْکُمْ } سے جملہ احکام دین مراد ہیں کہ ان کی پیروی میں بھی انسان کے لئے حقیقی کامیابی اور پاکیزہ زندگی کا راز مضمر ہے۔ مگر واضح رہے کہ ان اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ بلکہ سب ہی مراد ہیں۔ اور کلمہ " ما " کا عموم در اصل ان سب ہی معانی و مطالب کو عام اور شامل ہے۔ (روح، قرطبی، محاسن، صفوۃ، جامع اور مدارک وغیرہ) ۔ سو دین حنیف اور اس کی تعلیمات مقدسہ ایسی حیات آفریں اور روح پرور تعلیمات ہیں جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وبیدہ ازمۃ الہدایۃ والعنایۃ -
38 اللہ تعالیٰ کے ایک قانون قدرت کا ذکر وبیان : یعنی یہ کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے انسان اور اسکے دل کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے حائل ہونے اور آڑ بننے سے مراد اس کے قانون فطرت کا حائل ہوجانا ہے کہ دل تو سب کے اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ پس تم لوگ ہمیشہ اپنے دلوں کا تعلق اپنے اس مالک سے صحیح رکھو اور کسب خیر و برکت کی اس عظیم الشان فرصت سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھاؤ جو حیات دنیا کی صورت میں آج تم لوگوں کو میسر ہے قبل اس سے کہ یہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ سو جو دل صدق و اخلاص سے معمور ومنور ہو کر طلب صادق کے ساتھ اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کریں گے وہ ان کو اپنے کرم اور اپنی عنایت سے نور حق اور نعمت ایمان و یقین سے نوازے گا۔ اور ایسا نوازے گا کہ وہ ان کے دلوں کے لئے حائل اور آڑ بن کر ان کو کفر و نفاق وغیرہ کی ظلمتوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے گا۔ اور اس کے برعکس جو لوگ اپنے کفر و باطل پر اڑے رہیں گے ان کے دلوں کے لئے وہ ایسا حائل اور آڑ بن جائے گا کہ ایسے لوگ اپنے خبث باطن اور سوئِ اختیار کی بناء پر ایمان و یقین کے نور اور اس کی لذت و حلاوت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے جو کہ سب سے بڑا خسارہ اور نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس وحدہ لاشریک سے اپنے دلوں کا تعلق ہمیشہ صحیح رکھو ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ و یُرِیَدُ ۔ وَہُوَا لْہَادِیْ الِی سَوائِ السَّبِیْل ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اس سے اس عظیم الشان قانون قدرت کو ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔
39 حشر کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بھی یاد رکھو کہ تم سب کو بہرحال اللہ پاک ہی کے حضور حاضر ہونا ہے اکٹھے ہوکر۔ اور وہاں پہنچ کر ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ اور ہر کسی کو اپنے تمام کرتوتوں کا بھگتان بھگتنا ہوگا۔ سو اچھا برا جو بھی بدلہ تم لوگوں کو وہاں ملے گا وہ بہرحال تمہاری اپنے ہی زندگی بھر کی کمائی کا بدلہ ہوگا۔ اب ہر کوئی دیکھ لے اور اپنا محاسبہ خود کرلے کہ اس نے آگے کے لئے کیا کمایا بنایا ہے۔ اور اس کے مطابق وہ وہاں پر کس صلے اور بدلے کا مسحتق ہوسکتا ہے { اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } سو اس یوم عظیم کو اور اس کے تقاضوں کو فراموش کردینا بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے اور عقل و نقل سب کا تقاضا ہے کہ اس یوم عظیم اور اس کے تقاضوں اور وہاں کی جوابدہی کو ہمیشہ یاد رکھ کر اس کے لئے تیاری کی جائے کہ اس کا موقع حیات دنیا کی اسی فرصت محدود میں ہی ہے اور بس ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید ۔ وَھُوَ الْہَادِیْ اِلَی سَوائِ السَّبِیْل ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت کو اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 8:2540 اللہ کے عذاب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقین جانو کہ اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ اتنا بڑا کہ اس جیسا عذاب دوسرا کوئی دے ہی نہیں سکتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد } ۔ الفجر :25-26) پس تم لوگ ہمیشہ اس سے بچنے کی فکر کرو۔ اور یہ عذاب عام ہے کہ دنیوی ہو یا اخروی۔ افراد کو ہو یا جماعتوں اور گروہوں کو۔ بہرکیف وہ کبھی بھی آسکتا ہے اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے عقل اور ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرے قبل اس سے کہ فرصت حیات اسکے ہاتھ سے نکل جائے کہ اس کے بعد پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ ۔ سو بڑے ہی ہولناک خسارے میں پڑے ہیں وہ لوگ جو اس یوم عظیم اور عذاب شدید کو بھولے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -