8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 8:1–7

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) لوگ تم سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (تو ان سے) کہہ دو کہ یہ غنیمتیں اللہ اور (اس کے) رسول کی ہیں پس (ان کی وجہ سے آپس میں جھگڑا نہ کرو اور) اللہ (کے غضب) سے ڈرو اور اپنا باہمی معاملہ ٹھیک رکھو اور اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو بس وہی ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب انہیں آیات الٰہی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان کو اور بھی زیادہ کردیتی ہیں اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں،

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس (بڑے) درجے ہیں ' مغفرت ہے اور عزت کی روزی (بھی) ۔

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' تم مال غنیمت کے معاملے کو بھی ویسا ہی سمجھو) جیسا کہ (جنگ بدر کا معاملہ جس کے لئے) تمہارا رب (کمال) حکمت کے ساتھ تمہیں تمہارے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں کے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

(اور) وہ حق بات (کے بارے) میں تم سے جھگڑ رہے تھے حالانکہ (معاملہ) واضح ہوچکا تھا۔ (ان کا حال یہ تھا کہ) گویا انہیں (زبردستی) موت کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور وہ (اپنی موت اپنی آنکھوں سے) دیکھ رہے ہیں۔

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

(مسلمانو ' وہ وقت یاد کرو) جب اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک (گروہ) تمہارے ہاتھ آجائے گا اور تم (یہ) چاہ رہے تھے کہ کمزور گروہ تمہارے ہاتھ آئے، مگر اللہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے

[1] اصل میں لفظ '' انفال '' استعمال ہوا ہے جو جمع ہے نفل کی۔ نفل کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی ہے وہ نفل ہے۔ اس طرح کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو جتنا حق سے زیادہ دیا اسے نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے ان اموال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ جنگ بدر کے بعد جب مسلمانوں کو پہلی بار بحیثیت جماعت کے شکست کھائے ہوئے کفار کا مال میدان جنگ میں ہاتھ آیا تو تقسیم غنیمت کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ ہر شخص اپنے آپ کو زیادہ مستحق سمجھتا تھا۔ یہاں اموال غینمت کو انفال قرار دے کر مسلمانوں کو یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کا فضل و انعام ہے اور سارے کا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ پس رسول جس کو جتنا دے دے اسے چاہئے کہ خوش دلی سے قبول کرے۔ اس میں تردید آگئی اس خیال کی کہ مال غنیمت کے اصل حق دار لشکر اسلامی کے سپاہی ہیں۔ ان سے تو وعدہ جنت اور اس کی نعمتوں کا ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں قتال ہرگز اس نیت سے نہ کریں کہ وہ مال غنیمت کے مالک ہوں گے۔
Ayahs 8:8–11

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھائے خواہ مجرموں کو ناگوار ہی (کیوں نہ) لگے۔

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

(اور وہ وقت بھی یاد کرو) جب تم نے اپنے رب سے فریاد کی تھی تو اس نے تمہاری فریاد سن لی تھی (اور فرمایا تھا) کہ ہم ایک ہزار پے در پے فرشتوں سے تمہاری مدد کریں گے

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اللہ نے یہ بات اس لئے بتائی کہ (تمہیں) خوشخبری ہو اور تمہارے دلوں کو اس سے اطمینان ہوجائے ' ورنہ مدد تو (ہرحال میں) اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ یقینا اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

(اور وہ وقت بھی یاد کرو) جب اس نے اپنی طرف سے تمہاری تسکین (خاطر) کے لئے تم پر غنودگی طاری کردی تھی اور آسمان سے تم پر پانی برسا دیا تھا تاکہ اس کے ذریعے تم کو پاک کرے اور تم سے شیطان (کے وسوسوں) کی گندگی دور کرے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس کے باعث تمہارے قدم جما دے۔

[2] ہجرت کے دوسرے سال جب مشرکین مکہ مدینے پر حملے کی نیت سے روانہ ہوئے تو اس زمانے میں ان کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ آ رہا تھا اور مدینے کے قرب و جوار سے ہو کر گزرنے والا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے وحی الٰہی سے مطلع ہو کر فرمایا کہ ایک گروہ مکہ سے آ رہا ہے اور دوسرا قافلہ ہے۔ ان دو میں سے کسی ایک سے ضرور جنگ ہوگی۔ چونکہ قافلے کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے اس لئے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اس سے مقابلہ ہو اور مکہ والی فوج سے نہ لڑیں کیونکہ خود بڑی ہی بےسروسامانی کی حالت میں تھے۔ مگر رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کے ان خیالات کی پروا نہ کی اور حملہ آوروں کے مقابلے کا فیصلہ کرلیا۔ اگرچہ مسلمانوں نے آپ کا فیصلہ مان لیا تھا لیکن ان میں سے ایک گروہ دل میں سخت ہراساں تھا اور اسے ایسا نظر آتا تھا کہ گویا موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ یہاں اسی واقعے کا ذکر ہے۔
Ayahs 8:12–16

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' یہ وہ وقت تھا) جب تمہارے رب نے فرشتوں پر وحی کی تھی کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں لہذا تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو۔ ہم ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتے ہیں۔ پس (مسلمانو، ) تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو (یاد رکھو ' ) اللہ سزادینے میں (بھی) سخت ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

(کافرو ' ) یہ ہے (سزا) تمہارے لئے تو اس کا مزا چکھو اور (جان لو کہ تم) کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب (بھی) ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' جب تم میدان جنگ میں کفار سے دوبدو مقابل ہو تو انہیں پیٹھ نہ دکھاؤ (اور سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرو ' )

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو کوئی ایسے موقع پر پیٹھ دکھلائے گا مگر (ہاں) جو شخص جنگی چال کے طور پر یا (اپنے) کسی گروہ سے جا ملنے کے لئے ایسا کرے (تو مضائقہ نہیں) باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آگیا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ (کیا ہی) بری جگہ ہے۔

[3] آیت 9 سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے وہ احسانات یاد دلائے ہیں جو اس نے جنگ بدر میں ان پر کئے تھے۔ مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ تم خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ اس فتح میں تمہاری اپنی کاوشوں کا کتنا حصہ تھا اور اللہ کی عنایات کا کتنا حصہ۔ اس لئے یہ فیصلہ کرنا کہ مال غنیمت کس طرح تقسیم ہو تمہارا نہیں اللہ کا کام ہے۔
Ayahs 8:17–18

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) پس (حقیقت یہ ہے کہ) کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ نے قتل کیا۔ اور (اے پیغمبر، ) تم نے مٹھی بھر خاک نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی تاکہ ایمان والوں کی اپنی طرف سے اچھی آزمائش کرے۔ یقینا اللہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ تھا ' اور اللہ کافروں کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔

[4] یہ آیت اس مضمون کو صاف کر رہی ہے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کفار کے قتل کو اپنے زور وقوت کی طرف نسبت نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ کی مدد سے ہے۔ [5] جنگ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو رسول اکرم ﷺ نے مٹھی بھر خاک کفار کی طرف پھینکی۔ اللہ کی قدرت سے ہر کافر کی آنکھ میں یہ خاک پہنچی۔ اس کے بعد مسلمان حملہ آور ہوئے اور کفار کو شکست ہوئی یہاں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 8:19–23

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(اے اہل مکہ ' ) اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو فیصلہ تمہارے سامنے آموجود ہوا۔ اور اگر تم (لڑائی سے) باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور تمہارا جتھا خواہ کتنا ہی زیادہ ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور (جان لو کہ) اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور (حکم) سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سنتے (سناتے خاک) نہیں۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

یقینا اللہ کے نزدیک بدترین خلائق (یہ کافر) ہیں ' بہرے (اور) گونگے ' جو کچھ نہیں سمجھتے۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سنوا دیتا اور اگر (اب) وہ انہیں سنوا دے (جب کہ ان میں قبولیت حق کی استعداد نہیں) تو وہ ضرور اس سے روگردانی کریں گے اور وہ اس سے پھرے ہوئے ہیں۔

[6] روایتوں میں آتا ہے کہ جب مشرکین کا لشکر معرکہ بدر کے لئے مکہ سے روانہ ہو رہا تھا تو قریش کے سردار ابو جہل نے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ اے اللہ کامیابی اس لشکر کو عطا ہو جو حق پر ہو۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جب رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اور (یہ بھی جان لو کہ) تم (سب آخرکار) اس کے حضور جمع کئے جاؤ گے

[7] اللہ کا آدمی اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہونا دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یوں کہ مومن کے قلب میں اطاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا۔ دوسرے یوں کہ کافر کے قلب میں مخالفت کی نحوست سے ایمان و اطاعت کو نہیں آنے دیتا۔
Ayahs 8:25–26

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور ڈرو اس عذاب سے جو (اگر نازل ہوا تو) تم میں سے صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گا جو ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں (بلکہ سب ان کی زد میں آجائیں گے) اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں سخت ہے۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

(مسلمانو ' وہ وقت) یاد کرو جب تم سرزمین (مکہ) میں تھوڑے تھے اور کمزور سمجھے جاتے تھے ' (اور) تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں۔ پھر اللہ نے تمہیں (مدینے میں) ٹھکانا دیا اور اپنی مدد سے تمہیں قوت بخشی اور تمہیں رزق کا پاکیزہ سامان (مہیا کر) دیا تاکہ تم شکر کرو۔

[8] یعنی صرف وہی لوگ مبتلائے عذاب نہ ہوں گے جنہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا بلکہ وہ لوگ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے جنہوں نے گناہ کرنے والوں کو گناہ کرنے سے منع نہیں کیا۔ اسلام اپنے پیروؤں کو صرف صالح ہی نہیں بلکہ اپنی وسعت اور بساط کے مطابق مصلح بھی دیکھنا چاہتا ہے۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' اللہ اور اس کے رسول کی (امانت میں) خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم اس بات کو خوب جانتے ہو۔

[9] یہاں خیانت سے مقصود وہ تمام خیانتیں ہیں جو اسلام کے احکام کی تعلیم و تبلیغ اور امت کے مصالح و مقاصد میں کی جائیں لیکن خصوصیت کے ساتھ جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ بعض مہاجرین نے اپنے اہل و عیال کو جو مکہ میں تھے خطوط لکھے تھے جن میں کچھ اشارہ جنگ کی نسبت بھی آگیا تھا۔
Ayahs 8:28–40

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد (تمہارے لئے سامان) آزمائش ہیں۔ اور (یہ بھی نہ بھولو کہ) بڑا اجر اللہ ہی کے پاس ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ' اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہارے لئے (حق و باطل میں امتیاز کرنے والی) کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ تو بڑا فضل والا ہے۔

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' وہ وقت یاد کرو) جب کافر تمہارے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے تاکہ تمہیں قید کریں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کردیں وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیریں کر رہا تھا اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ (ہاں) ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اسی طرح کی باتیں کہہ لیں۔ یہ کچھ نہیں مگر اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ' وہ وقت بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا تھا کہ اے اللہ ' اگر یہ (کلام) واقعی تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے یا (کوئی اور) دردناک عذاب ہم پر لے آ۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ ایسا کرنے والا نہ تھا کہ تم ان کے درمیان (موجود) ہو اور وہ (تمہارے رہتے ہوئے) ان کو عذاب دے۔ اور اللہ ایسا بھی کرنے والا نہیں کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان پر عذاب نازل کرے۔

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور اب (کہ ہجرت کرنے پر انہوں نے تمہیں مجبور کردیا) ان کا کیا استحقاق رہا کہ وہ تو مسجد حرام سے (مسلمانوں کو) روکیں اور اللہ ان کو عذاب نہ دے حالانکہ وہ اس (مسجد) کے (جائز) متولی نہیں۔ اس کے (جائز) متولی تو متقی لوگ ہی ہوسکتے ہیں لیکن ان (کافروں) میں سے اکثر کو (یہ حقیقت) معلوم نہیں۔

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور (خود) ان کی نماز خانہ کعبہ میں کیا ہے سوائے سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے۔ پس (اے کافرو ' ) جیسے کچھ کفر تم کرتے رہے ہو اب (اس کی پاداش میں) عذاب (کامزا) چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں۔ سو یہ لوگ (آئندہ بھی اسی طرح) خرچ کرتے رہیں گے لیکن پھر (وقت آئے گا کہ) یہی مال ان کے حق میں (موجب) حسرت ہوگا ' پھر وہ مغلوب ہوں گے اور (پھر قیامت کے دن) کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے،

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

( یہ اس لئے ہوگا) تاکہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے جدا کر دے اور ناپاک (لوگوں) کو ایک دوسرے پر رکھ کر ان سب کا (ایک) ڈھیر بنائے ' پھر اس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے۔ یہی لوگ خسارے میں ہیں۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر ' ) جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے ان سے کہہ دو کہ اگر وہ (اب بھی اپنی شرارتوں سے) باز آجائیں تو جو کچھ پہلے ہوچکا ہے وہ (سب) انہیں معاف کردیا جائے گا لیکن اگر وہ (اپنی پچھلی روش کا) اعادہ کریں گے تو پچھلی قوموں کے ساتھ (جو کچھ) گزر چکا ہے (وہ سب کو معلوم ہے)

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

(مسلمانو ' ) کافروں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (و فساد) باقی نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ ہی کے لئے ہوجائے۔ پھر اگر یہ باز آجائیں تو جو کچھ یہ کریں گے اللہ اس کا دیکھنے والا ہے۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ سرتابی کریں تو جان رکھو اللہ تمہارا حامی اور وہ (کیا ہی) اچھا حامی ہے اور (کیا ہی) اچھا مددگار !

[10] مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے۔ اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پورے کرتا ہے تو اس آزمائش میں کامیاب ہے ' بصورت دیگر ناکام۔