7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 7:1–2

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔ صاد۔

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر، یہ) کتاب تم پر (اس لئے) نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے سے تم (لوگوں کو انکار و بد عملی کے نتائج سے) ڈراؤ اور ایمان والوں کو نصیحت ہو۔ پس اس (کتاب) کی وجہ سے (کسی طرح کی) تمہارے دل میں تنگی (پیدا) نہ ہو۔

[1] یعنی یہ خیال کر کے اپنا دل نہ کڑھاؤ کہ بہت سے لوگ انکار و تکذیب کے بھی مرتکب ہوں گے۔
Ayahs 7:3–11

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(لوگو، ) جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس کی پیروی کرو اور اللہ کے سوا (اپنے ٹھہرائے ہوئے) سرپرستوں کی پیروی نہ کرو (مگر) تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے (انکار و بدعملی کی پاداش میں) ہلاک کردیا۔ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت ٹوٹ پڑا یا دوپہر کے وقت آپہنچا جب کہ وہ آرام میں تھے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پھر جب ہمارا عذاب آیا تو ان کی (زبان پر) اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ بلاشبہ ہم ہی ظالم (و خطاکار) تھے۔

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

تو (دیکھو، قیامت کے دن) ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے تھے (کہ وہ پیغمبروں کی نصیحت پر کاربند ہوئے تھے یا نہیں) اور پیغمبروں سے بھی ہم ضرور پوچھیں گے (کہ انہوں نے فرض رسالت ادا کیا تھا یا نہیں) ۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر یقینا (ان کے اعمال کی سرگزشت) ہم انہیں اپنے علم سے سنا دیں گے، آخر ہم (ان کے عمل کے وقت) غائب تو نہ تھے۔

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس دن (اعمال کا) تولنا برحق ہے۔ پھر جن (کی نیکیوں) کے پلے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے والے ہوں گے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جن کے پلے ہلکے ہوں گے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کیا کیونکہ وہ ہماری آیتوں سے ناانصافی کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہم نے تمہیں زمین میں (قدرت و اختیار کے ساتھ) بسایا اور اس میں تمہارے لئے سامان زندگی (فراہم) کیا، (مگر) تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور (دیکھو، یہ ہماری کارفرمائی ہے کہ) ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا۔

[2] یعنی تمہارے باپ آدم کو۔ [3] یعنی تمہارے باپ آدم کی صورت بنائی۔ [4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 28 صفحہ 96۔
Ayahs 7:12–16

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

(ہم نے ابلیس سے) پوچھا، '' تجھے کس بات نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ ہم نے تجھے حکم دیا تھا ؟ '' بولا، '' (اس بات نے کہ) میں اس سے بہتر ہوں (کیونکہ) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ''۔

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا، '' یہاں سے اتر جا، تجھے حق نہیں کہ یہاں (رہ کر) بڑائی کرے۔ سو نکل (یہاں سے دور ہوجا) بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے ''۔

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

بولا، '' مجھے اس دن تک کی مہلت دے جب (سب) لوگ (مرنے کے بعد) اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ''۔

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا، '' (منظور، ) تجھے مہلت دی گئی ''۔

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

بولا، '' جس طرح تو نے مجھے گمراہ کردیا ہے میں بھی تیری سیدھی راہ سے (بھٹکانے کے لئے) لوگوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔

[5] جس طرح اللہ ہر شے کا آخری سبب اور بیماری، بدکاری اور زہر کا خالق ہے ابلیس کی گمراہی کا بھی آخری سبب وہی ہے۔ ابلیس نے یہاں یہی معنی لئے ہیں اور اپنی گمراہی کا ذمہ دار اللہ کو ٹھہرایا ہے جو حقیقت و صداقت کے صریحاً خلاف ہے۔
Ayahs 7:17–21

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر میں ان کے سامنے سے، پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے (غرضیکہ ہر طرف سے، ) آؤں گا (اور ان کو بہکا کر رہوں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ''۔

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

فرمایا، نکل جا یہاں سے، (تُو) ذلیل (اور) راندہ (درگاہ ہے) ، ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا (تو وہ تیرا ساتھی ہوگا اور) ہم تم سب سے جہنم بھر کر رہیں گے۔

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم، تم اور تمہاری بیوی (دونوں) جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے تمہارا جی چاہے کھاؤ (پیو) مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ تم ظالموں میں (شمار) ہوگے ''۔

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر (ایسا ہوا کہ) شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ان سے چھپائی گئی تھی انہیں کھول دکھائے۔ اس نے کہا، '' تمہارے رب نے اس درخت سے جو تمہیں روکا ہے تو صرف اس لئے کہ کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تم دونوں فرشتے بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں ہوجاؤ ''۔

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور اس نے ان سے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ میں حقیقت میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔

[6] یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ برائی کی کھلی دعوت کو کم ہی قبول کرتا ہے، اس لئے شیطان کو آدم کے سامنے خیرخواہ کے بھیس میں آنا پڑا۔
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

غرضیکہ (اس طرح کی باتیں بنا بنا کر بالآخر) وہ انہیں فریب میں لے آیا۔ پھر جوں ہی انہوں نے درخت (کا پھل) چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور (جب انہیں برہنگی دیکھ کر شرم محسوس ہوئی تو) جنت کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے تب ان کے رب نے ان کو پکارا '' کیا ہم نے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا تھا اور (کیا) ہم نے تم سے نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟ ''

[7] نافرمانی کا صدور ہوتے ہی وہ آسائشیں ان سے چھین لی گئیں جو انہیں مہیا کی گئی تھیں اور اس کا اولین ظہور بہشتی لباس اتر جانے کی صورت میں ہوا۔ بھوک، پیاس اور مسکن سے محرومی کی نوبت تو بعد کو آنی تھی۔ [8] اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری چیز ہے جو اول روز سے انسان میں موجود تھا۔ یہ جذبہ فحاشی و بدکاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ چناچہ شیطان نے پہلی چال یہ چلی کہ انسان کے اس جذبہ شرم و حیا پر ضرب لگائے اور برہنگی کے راستے اس پر فحاشی و بدکاری کا دروازہ کھولے۔
Ayah 7:23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں بول اٹھے، '' اے ہمارے رب، ہم نے اپنی جانوں پر (بڑا) ظلم کیا اور اگر تو نے معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقینا ہم خسارہ پانے والوں میں ہوجائیں گے ''۔

[9] یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان کی اصل خوبی جو اسے شیطان سے بہتر بناتی ہے یہ ہے کہ جب اس سے کوئی قصور ہوجائے تو وہ نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگے بخلاف اس کے شیطان کو جس چیز نے ذلیل و خوار کیا وہ یہ تھی کہ وہ قصور کر کے اللہ کے مقابلے میں اکڑ گیا اور بغاوت پر اتر آیا۔
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا، '' تم (سب یہاں سے) اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ (اب) تمہارے لئے ایک خاص مدت تک زمین میں ٹھکانا اور سامان (زیست) ہے ''

[10] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ کے حواشی 30 اور 31 صفحہ 97۔
Ayahs 7:25–26

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

(اور) فرمایا، '' تم زمین ہی میں جیو گے، اسی میں مرو گے اور پھر اسی میں سے (قیامت کے دن) نکالے جاؤگے ''

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس نازل کیا ہے جو تمہاری ستر پوشی کرے اور (موجب) زینت (بھی ہو) اور تقویٰ کا لباس (اس سے بھی) بہتر ہے۔ یہ اللہ (کے فضل و رحمت) کی نشانیوں میں سے (ایک نشانی) ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

[11] یعنی اس پر لباس کا الہام کیا تاکہ اللہ کی پیدا کی ہوئی اشیاء سے کام لے کر اپنے لباس فراہم کرے۔ [21] تقویٰ کا لباس ایمان، حیا، نیک خصلتیں اور نیک عمل ہیں اور یہ بیشک ظاہری لباس سے افضل و بہتر ہیں۔
Ayahs 7:27–28

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم، (کہیں) شیطان تمہیں اس طرح بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) جنت سے نکلوایا تھا اور ان کے لباس اتروا دیئے تھے تاکہ ان کے ستر انہیں دکھا دے۔ وہ اور اس کا گروہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ (یاد رکھو، ) ہم شیاطین کو ان لوگوں کا رفیق بنا دیتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

یہ (مشرکین) جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی (طریقے) پر پایا ہے اور اللہ نے ہمیں ایسا ہی (کرنے کا) حکم دیا ہے۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ اللہ فحش بات کا حکم نہیں دیا کرتا۔ کیا اللہ کے نام پر تم وہ بات کہتے ہو جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی علم نہیں ؟

[13] زمانہ جاہلیت میں مرد و عورت ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کیا کرتے اور اس کو مذہبی اور نیک کام سمجھتے تھے۔ اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 7:29–31

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ میرے رب نے تو انصاف (کی راہ اختیار کرنے) کا حکم دیا ہے اور (فرمایا ہے کہ) ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور خاص اس پر اعتقاد کرتے ہوئے اسی کو پکارو۔ جس طرح اس نے شروع میں تمہیں پیدا کیا تھا اسی طرح (قیامت کے دن تم) دوبارہ پیدا ہوگے۔

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

(اسی نے) ایک گروہ کو ہدایت دی اور ایک گروہ پر (اس کے انکار و بدعملی سے) گمراہی ثابت ہوگئی۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا رفیق بنا لیا اور وہ (یہ) سمجھتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم، ہر نماز کے وقت (لباس سے) اپنے تئیں آراستہ کرلیا کرو، اور کھاؤ پیو اور بےجا خرچ نہ کرو۔ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

[14] نماز کے لئے صرف اتنا کافی نہیں کہ آدمی اپنا ستر چھپائے بلکہ ضروری ہے کہ حسب استطاعت اپنا پورا لباس پہنے جس میں ستر پوشی بھی ہو اور زینت بھی۔ [15] یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز نہ کرے، خواہ یہ تجاوز حلال کو حرام کرلینے کی شکل میں ہو یا حرام کو حلال کرلینے کی شکل میں۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ان لوگوں سے پوچھو کہ اللہ نے جو زینت (کے سازوسامان) اور کھانے (پینے) کی ستھری چیزیں پیدا کی ہیں ان کو کس نے حرام کیا ؟ کہو، یہ (نعمتیں) دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں (اور) قیامت کے دن تو خالص (انہی کے لئے ہوں گی) ۔ اس طرح ہم ان لوگوں کے لئے (اپنے) احکام کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں۔

[16] یعنی حقیقت کے اعتبار سے تو اللہ کی پیدا کردہ تمام چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان ہی کے لئے ہیں کیونکہ وہی اللہ کی وفادار رعایا ہیں لیکن دنیا کا موجودہ نظام کیونکہ آزمائش اور مہلت کے اصول پر قائم کیا گیا ہے اس لئے یہاں اکثر اللہ کی نعمتیں نمک حراموں پر بھی تقسیم ہوتی رہتی ہیں اور بسا اوقات نمک حلالوں سے بڑھ کر انہیں نعمتوں سے نواز دیا جاتا ہے۔ البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نمک حلالوں کے لئے مخصوص ہوں گی۔
Ayahs 7:33–35

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میرے رب نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے وہ ہیں فحش باتیں، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، اور گناہ کو اور ناحق (کسی پر) زیادتی کرنے کو اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ جس کی اس نے (کوئی) سند نازل نہیں کی۔ اور یہ کہ اللہ کے نام پر ایسی بات کہو جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی علم نہیں۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

ہر امت (کے مٹنے) کا ایک وقت (مقرر) ہے۔ پھر جب اس کا وقت آ پہنچتا ہے تو وہ (اس سے) نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتی ہے اور نہ (ایک گھڑی) آگے۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم، اگر تم ہی سے ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آئیں (اور) ہماری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں (تو ان کا کہا مان لینا) ۔ پھر جو شخص (ان کے کہنے کے مطابق) تقویٰ اختیار کرے اور (اپنی حالت کی) اصلاح کرے تو (قیامت کے دن) ان لوگوں پر نہ تو (کسی طرح کا) خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

[17] یہ خطاب انسان سے اس وقت ہوا تھا جب وہ عالم ارواح ہی میں تھا۔
Ayahs 7:36–37

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرکشی کی، وہی دوزخی ہوں گے (اور) وہ دوزخ میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پھر (بتلاؤ) اس سے بڑھ کر ظالم (اور) کون ہے جو جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ایسے لوگوں کو (تقدیر کے) لکھے ہوئے میں سے ان کا حصہ (رزق وغیرہ تو) پہنچے گا (لیکن) بالآخر جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کی روحیں قبض کرنے کے لئے ان کے سامنے آموجود ہوں گے تو (ان سے) پوچھیں گے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے کہ وہ ہم سے گم ہوگئے۔ اور (اس طرح) وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ واقعی منکر (حق) تھے۔

[18] یعنی کوئی کام نہ آیا۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

(اس پر) اللہ فرمائے گا '' (جاؤ) انسانوں اور جنوں کے گروہ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے ساتھ (مل کر) تم (بھی) دوزخ میں جا داخل ہو۔ (چنانچہ) جب ایک گروہ دوزخ میں داخل ہوگا تو اپنے جیسے (پیش رو) گروہ پر لعنت کرے گا یہاں تک کہ جب سب کے سب دوزخ میں جمع ہوجائیں گے تو اس وقت ان کے پچھلے اگلوں کی نسبت کہیں گے، اے ہمارے رب، یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو انہیں دوزخ کا دوگنا عذاب دے۔ (اس پر) ارشاد ہوگا کہ ہر فرد کے لئے دوگنا عذاب ہے لیکن تمہیں علم نہیں۔

[19] یعنی اگلوں کو دوگنا عذاب اس لئے کہ آپ خود بدی کی اور دوسروں کو بدی کی ترغیب دی۔ اور پچھلوں کو دوگنا عذاب اس لئے کہ خود بدی کی اور اگلوں کے حال سے متنبہ نہ ہوئے، یا اس لئے کہ جیسے اگلوں نے ان کے لئے برا نمونہ قائم کیا انہوں نے اپنے بعد آنے والوں کے لئے ویسا ہی نمونہ چھوڑا۔
Ayahs 7:39–40

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

(یہ سن کر) اگلے پچھلوں سے کہیں گے کہ پھر تمہیں (عذاب کی کمی میں) ہم پر کوئی فضیلت نہ ہوئی۔ تو (اب) اپنی کمائی کے بدلے میں عذاب (کا مزا) چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں سرکشی کی تو (یاد رکھو، ) ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں سے (ہو کر نہ) گزر جائے۔ اور ہم مجرموں کو (ان کے جرموں کا) ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

[20] مطلب یہ ہے کہ وہ خیر و برکت کے نزول سے محروم رہیں گے۔ [21] اور یہ محال ہے لہذا کفار کا جنت میں جانا بھی محال ہے۔