7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 7:81–83

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت رانی کے لئے مردوں پر مائل ہوتے ہو۔ یقینا تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

مگر قوم لوط کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ (آپس میں) لگے کہنے کہ نکالو ان لوگوں کو اپنی بستی سے، بڑے پاک باز بنتے ہیں یہ۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

آخرکار ہم نے لوط کو اور اس کے گھر والوں کو، سوائے اس کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی، بچا کر نکال لیا

[37] لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی اور غالباً اس قوم سے تھی۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر تصریح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تو یہ بھی ہدایت کی کہ بیوی کو ساتھ نہ لے جانا۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور اس قوم پر ایک (سخت) مینہ برسا دیا، سو دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔

[38] مینہ سے مراد پتھروں کی بارش ہے جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور (اسی طرح ہم نے) مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ اس نے (ان سے) کہا کہ اے (برادران) قوم، اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اب تو تمہارے پاس ایک کھلی دلیل بھی تمہارے رب کی طرف سے آگئی ہے۔ پس ناپ تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو (خریدو فروخت میں) ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو اگر تم (واقعی) مومن ہو تو (یقین کرو کہ) اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے۔

[39] مدین اصل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک فرزند کا نام تھا پھر اس کا اطلاق قبیلے پر ہونے لگا جو ان کی نسل سے وجود میں آیا۔ جس علاقے میں یہ آباد تھا اس کا نام بھی مدین مشہور ہوگیا۔ یہ علاقہ بحر احمر کے ساحل عرب پر واقع تھا۔ [40] یہ کھلی دلیل کیا تھی قرآن میں اس کی صراحت نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک انبیاء کی تعلیم بجائے خود دلیل اور حجت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی معجزہ بھی ہو۔
Ayahs 7:86–102

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور (دعوت حق کی اشاعت روکنے کے لئے نیکی کے) ہر راستے پر (اس غرض سے) نہ جا بیٹھو کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو۔ اور (اللہ کا وہ احسان) یاد کرو کہ تم (تعداد میں) کم تھے پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کردیا، اور (آنکھیں کھول کر) دیکھو کہ (دنیا میں) مفسدوں کا کیسا انجام ہوچکا ہے۔

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور (اگر ایسا ہوا ہے کہ) تم میں سے ایک گروہ اس (تعلیم) پر ایمان لایا ہے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں اور دوسرا گروہ ایمان نہیں لایا تو صبر سے (دیکھتے) رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

(اس پر) قوم کے سرداروں نے جنہیں (اپنی دنیوی طاقت کا) گھمنڈ تھا کہا، شعیب، (دو باتوں میں سے ایک بات ہو کر رہے گی، یا تو) تمہیں اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں (ان سب کو) ہم اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے یا تم لوگوں کو ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا۔ (شعیب نے) کہا، کیا ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہوں تو بھی (اسے جبراً مان لیں) ؟

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

(پھر تو) ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر ہم تمہارے دین میں لوٹ آئیں جبکہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے۔ اور (اب تو) ہمارے لئے ممکن نہیں کہ اس میں لوٹ آئیں الاّیہ کہ ہمارا رب اللہ ہی ایسا چاہے۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے۔ اللہ (ہی) پر ہم نے بھروسہ کیا ہے۔ اے ہمارے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

شعیب کی قوم کے سرداروں نے جو (شعیب کی رسالت کے) منکر تھے (لوگوں سے) کہا کہ اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو یقینا نقصان اٹھاؤ گے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر (ایسا ہوا کہ) ان لوگوں کو زلزلے نے آپکڑا اور جب ان پر صبح ہوئی تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ (مرے) پڑے تھے۔

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا (وہ ایسے مٹے کہ) گویا ان (گھروں) میں کبھی بسے ہی نہ تھے، جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا (آخرکار) وہی برباد ہو کر رہے۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

اور شعیب ان کو چھوڑ کر کہتا ہوا چلا گیا کہ اے میری قوم (والو، ) میں نے تو اپنے رب کا پیغام تمہیں پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیرخواہی کرتا رہا۔ (مگر جب تم نے جان بوجھ کر ہلاکت کی راہ پسند کی) تو میں (قبول حق سے) انکار کرنے والی قوم (کی تباہی) پر کیسے افسوس کروں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے جس بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا (اور بستی والوں نے اس کا کہا نہ مانا تو) ہم نے اس کے باشندوں کو سختی اور مصیبت میں مبتلا کیا تاکہ (سرکشی سے باز آئیں اور ہمارے حضور) گڑگڑائیں۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ مصیبت و راحت تو ہمارے آباؤ و اجداد کو بھی پیش آتی رہی تھیں (یہ تو زمانے کے اتفاقات ہیں) تو (اس کج فہمی کی پاداش میں) ہم نے انہیں اچانک (اپنے عذاب میں) پکڑ لیا اور وہ (اس کا) گمان (بھی) نہیں رکھتے تھے۔

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے رہنے والے (جن کی سرگزشتیں بیان کی گئی ہیں) ایمان لے آئے ہوتے اور پرہیزگاری (کی راہ) اختیار کرتے تو ہم آسمان و زمین کی برکتوں (کے دروازوں) کو ان پر کھول دیتے لیکن انہوں نے (ہمارے پیغمبروں کو) جھٹلایا تو ہم نے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں انہیں (اپنے عذاب میں) پکڑ لیا۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) پھر کیا (تمہاری ان) بستیوں کے رہنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات نازل ہو اور وہ سوئے پڑے ہوں ؟

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا (تمہاری ان) بستیوں کے رہنے والے اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن دہاڑے آ نازل ہو اور وہ کھیل کود میں مشغول ہوں ؟

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا (یہ لوگ) اللہ کی خفیہ تدبیروں سے بےخوف ہوگئے ہیں تو (یاد رکھو، ) اللہ کی خفیہ تدبیروں سے وہی بےخوف ہوتے ہیں جو تباہ ہونے والے ہوں۔

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو (سابق) اہل زمین کے بعد (اب) زمین کے وارث ہیں (اس بات سے) ہدایت نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو (پہلوں کی طرح) ان کے گناہوں کے بدلے ان کو (بھی) مصیبت میں مبتلا کردیں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں پھر یہ (کوئی بات) سنیں ہی نہیں۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ چند بستیاں ہیں جن کے حالات ہم تمہیں سنا رہے ہیں (تاکہ تمہاری قوم ان سے سبق حاصل کرے) ۔ ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے لیکن جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لانے والے نہ تھے۔ (دیکھو، ) اللہ اس طرح منکرین (حق) کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

ہم نے ان میں سے اکثر (و بیشتر) میں (مطلقاً ) عہد (کا پاس) نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا۔

[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ناانصافی کی تو دیکھو مفسدوں کا کیسا انجام ہوا۔

[42] فرعون کے معنی ہیں سورج دیوتا کی اولاد۔ یہ قدیم شاہان مصر کا عام لقب تھا جیسے جرمنی کے بادشاہ کا لقب قیصر اور روس کے تاجدار کا لقب زار تھا۔ مورخین کا خیال ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم عصر ایک فرعون نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے دو فرعون تھے۔ ایک وہ جس کے زمانے میں آپ پیدا ہوئے اور دوسرا وہ جس کے پاس پیغمبر کی حیثیت سے گئے۔
Ayahs 7:104–105

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

موسیٰ نے (فرعون سے) کہا کہ اے فرعون، میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں۔

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرا فرض منصبی ہے کہ سچ کے سوا اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں۔ میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی کھلی نشانی لے کر آیا ہوں، لہذا (اے فرعون، ) تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔

[43] بنی اسرائیل یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں کنعان سے جا کر مصر میں آباد ہوئے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ مصریوں نے انہیں غلام بنا لیا تھا۔ موسیٰ دو چیزوں کی دعوت لے کر فرعون کے پاس بھیجے گئے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اسلام قبول کرے اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو غلامی سے رہا کردے تاکہ وہ مصر سے نکل کر اپنے وطن چلے جائیں۔ قرآن میں ان دو باتوں کا ذکر کہیں یکجا کیا گیا ہے اور کہیں موقع و محل کے لحاظ سے صرف ایک ہی کا ذکر ہے۔
Ayahs 7:106–116

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ اگر (واقعی) تو کوئی نشانی لایا ہے اور (اپنے دعوے میں) سچا ہے تو اسے پیش کر۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

اس پر (موسیٰ نے) اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا تو یکایک وہ (سچ مچ کا) اژدھا بن گیا۔

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ (بغل سے باہر) نکالا تو وہ دیکھنے والوں کی نظر میں چمک رہا تھا۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

(یہ دیکھ کر) فرعون کی قوم کے سردار (آپس میں) کہنے لگے کہ بلاشبہ یہ (موسیٰ ) بڑا ماہر جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

(اور) چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے (اور خود مالک بن بیٹھے، ) تو (اب) تم (لوگ) کیا صلاح دیتے ہو ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

(آخرکار) ان سب نے (فرعون سے) کہا کہ موسیٰ اور اس کے بھائی (کے معاملے) کو ملتوی رکھئے اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

تاکہ تمام ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے حضور لے آئیں۔

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے (اور) کہنے لگے کہ اگر ہم (موسیٰ پر) غالب آگئے تو ہمیں اس (خدمت) کا صلہ تو ضرور ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

(فرعون نے) جواب دیا، ہاں (ضرور ملے گا) اور تم (ہمارے) مقربوں میں (بھی داخل) ہوجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

(اس پر جادوگروں نے موسیٰ سے) کہا، موسیٰ تم (پہلے) ڈالتے ہو یا ہم ڈالیں ؟

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا، تم ہی (پہلے) ڈالو۔ پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو زمین پر) ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان کو دہشت زدہ کردیا اور وہ بہت بڑا جادو بنا لائے تھے۔

[44] جس سے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ نظر آنے لگیں۔