7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 7:156–157

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

(اے اللہ ، ) اس دنیا اور آخرت (دونوں) کی بہتری ہمارے نام لکھ دے، ہم نے تیری طرف رجوع کرلیا ''۔ ارشاد ہوا، '' عذاب تو ہم جسے چاہتے ہیں دیتے ہیں مگر ہماری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ اسے ہم ان لوگوں کے لئے لکھ دیں گے جو پرہیزگاری اختیار کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

(اور) جو (ہمارے پیغمبر، ) نبی اُمّی (محمد ﷺ کی پیروی کریں گے جس (کے ظہور کی خبر) کو وہ تورات و انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دے گا، برائی سے روکے گا اور ان کے لئے پاک چیزیں حلال کرے گا اور ناپاک چیزیں حرام ٹھہرائے گا اور وہ بوجھ ان پر سے اتارے گا جو ان پر (لدے ہوئے) ہوں گے اور ان پھندوں سے نکالے گا جن میں وہ گرفتار ہوں گے ''۔ پس جو لوگ اس (پیغمبر) پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور مدد کریں اور اس نور (ہدایت) کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے (تو) وہی فلاح پانے والے ہیں۔

[58] یعنی مذہبی احکام کی بےجا سختیاں، ناقابل فہم عقیدوں کا بوجھ، توہمات کا انبار اور عالموں اور فقیہوں کی تقلید کی بیڑیاں جن سے پیغمبر اسلام نے نجات دلائی۔ [59] یعنی قرآن مجید۔
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم لوگوں سے) کہو کہ لوگو، میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر جو (خود بھی) اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور پیروی کرو اس کی تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

[60] یعنی اس کی کتابوں پر۔
Ayahs 7:159–160

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ (ایسا بھی) تھا جو حق کے مطابق (دوسروں کو) ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق (ان کے معاملات میں) انصاف کرتا تھا۔

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قوم) کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے (مستقل) گروہ بنا دیئے۔ اور جب موسیٰ سے اس کی قوم نے (پینے کے لئے) پانی مانگا تو ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا (فلاں) چٹان پر مارو۔ (عصا کا مارنا تھا کہ) اس (چٹان) سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی پینے کی جگہ معلوم کرلی۔ اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کردیا اور (ان کی غذا کے لئے) من وسلویٰ اتارا (اور کہا، ) کھاؤ پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔ مگر انہوں نے (نافرمانی کر کے) ظلم ہم پر نہیں کیا بلکہ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔

[61] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 44 صفحہ 99۔
Ayahs 7:161–162

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا گیا کہ یہ بستی (جو تمہارے سامنے) ہے اس میں جا کر سکونت اختیار کرو اور اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ (پیو) اور کہتے جانا '' حِطَّۃٌ'' اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا (تو) ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے (اور) نیکو کاروں کو (اس سے بھی) زیادہ عطا فرمائیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر جو بات ان سے کہی گئی تھی اسے ظالموں نے بدل کر کچھ اور کردیا تو ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔

[62] یہ مضمون سورة بقرہ کی آیات 59-58 صفحہ 20 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ذرا) ان سے اس بستی کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی، جہاں سبت کے دن لوگ (احکام الٰہی سے) تجاوز کرتے تھے۔ سبت کے دن ان کی (مطلوبہ) مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی ان کے سامنے آتی تھیں مگر جس دن سبت نہ مناتے، نہ آتیں۔ اس طرح ہم انہیں آزمائش میں ڈال رہے تھے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کررہے تھے۔

[63] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 51 صفحہ 99۔
Ayahs 7:164–165

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے (ان لوگوں سے جو سبت کے دن شکار کرنے سے منع کرتے تھے) کہا کہ تم ایسے لوگوں کو (بےفائدہ) کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے (تو) انہوں نے کہا کہ (ہم یہ سب کچھ) تمہارے رب کے حضور معذرت پیش کرنے کے لئے (کرتے ہیں) اور (اس لئے بھی کہ) شاید یہ لوگ (اس نافرمانی سے) باز آجائیں۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب ان (نافرمان) لوگوں نے وہ نصیحتیں جو ان کو کی گئی تھیں بھلا دیں تو ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے۔ اور جو لوگ ظلم کررہے تھے ان کو ہم نے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے رہے تھے۔

[64] اس بیان سے معلوم ہوا کہ صرف وہی گروہ عذاب سے بچایا گیا جس نے نافرمانی والے گروہ کو باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور اس طرح اللہ کے حضور اپنی برأت پیش کرنے کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ رہے وہ لوگ جو خلاف ورزی کو خاموشی سے بیٹھے دیکھ رہے تھے اور منع کرنے والوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے ظالموں میں شامل کیا اور نافرمان گروہ کے ساتھ وہ بھی مبتلائے عذاب ہوئے، کیونکہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہ ہے (جیسا کہ قرآن اور احادیث سے واضح ہے) کہ جس بستی میں علانیہ احکام الٰہی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی فرد محض اس بنا پر مواخذہ سے بچ نہیں سکتا کہ وہ بذات خود خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوا، بلکہ اسے اللہ کے سامنے اپنی صفائی کا ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حد استطاعت تک اصلاح کی کوشش کرتا رہا۔
Ayahs 7:166–168

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب (یہ سزا بھی انہیں عبرت نہ دلا سکی اور) وہ اس کام میں حد سے بڑھ گئے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے کہا ہوجاؤ بندر ذلیل !

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، یہود کو وہ وقت بھی یاد دلاؤ) جب کہ تمہارے رب نے (اس بات کا) اعلان کردیا تھا کہ (اگر بنی اسرائیل شرارت و بدعملی سے باز نہ آئے تو) وہ قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو (بڑا) برا عذاب دیں گے۔ بلاشبہ تمہارا رب سزا بھی جلد دیتا ہے اور بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا بھی ہے۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں گروہ گروہ کر کے زمین پر پراگندہ کردیا۔ ان میں سے بعض نیک تھے اور بعض اور طرح کے (یعنی بد، ) اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے تاکہ وہ (اپنے رب کی طرف) رجوع کریں۔

[65] یعنی بنی اسرائیل کو۔
Ayahs 7:169–172

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف (ان کے) جانشین ہوئے جو کتاب (الٰہی) کے وارث تو بنے (مگر) اس دنیائے فانی کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری تو ضرور مغفرت ہوجائے گی۔ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال (پھر) آجائے تو اسے (بھی بےتامل) لے لیں۔ کیا ان سے کتاب (الٰہی) میں اس کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ حق کے سوا کوئی بات اللہ کے نام منسوب نہ کریں گے ؟ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اسے انہوں نے پڑھ (بھی) لیا ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ) جو متقی ہیں ان کے لئے آخرت کا گھر (اس دنیا سے کہیں) بہتر ہے۔ کیا تم اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے ؟

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور (بنی اسرائیل میں سے) جو لوگ کتاب (الٰہی) کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کر رکھی ہے (ان کے لئے کوئی کھٹکا نہیں، ) ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، یہود کو وہ وقت بھی یاد دلاؤ) جب ہم نے ان (کے بڑوں) پر پہاڑ کو اس طرح معلق کردیا تھا کہ گویا وہ سائبان ہے اور وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر گرا چاہتا ہے۔ (اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ) جو (کتاب) ہم نے تمہیں دی ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رہو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان لوگوں کو وہ وقت بھی یاد دلاؤ) جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسلوں کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا (اور ان سے پوچھا تھا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں ہم (اس بات کے) گواہ ہیں۔ (یہ ہم نے اس لئے کیا کہ) قیامت کے دن کہیں تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس بات سے بیخبر تھے

[66] اس آیت کی تفسیر میں جلیل القدر صحابی اور امام القرآ ابی بن کعب فرماتے ہیں : '' اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں ترتیب دے کر انہیں انسانی صورت اور گویائی عطا کی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھہراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو یہ عہد و میثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا، اس پر سب انسانوں نے کہا کہ ہم گواہ ہوئے، آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے اور نہ معبود، اس آیت میں وہ غرض بیان کی گئی ہے جس کے لئے ازل میں پوری نسل آدم سے اقرار لیا گیا تھا اور وہ یہ ہے کہ انسانوں میں جو لوگ اللہ سے بغاوت اختیار کریں وہ اپنے اس جرم کے پوری طرح ذمہ دار قرار پائیں اور انہیں اپنی صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے اور نہ وہ سابق نسلوں پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ازلی میثاق فی الواقع عمل میں آیا بھی تھا تو کیا اس کی یاد ہمارے شعور اور حافظہ میں محفوظ ہے ؟ اگر نہیں تو پھر اس کو ہمارے خلاف حجت کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس میثاق کا نقش انسان کے شعور اور حافظہ میں رہنے دیا جاتا تو انسان کا دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا جانا سرے سے فضول ہوتا کیونکہ اس کے بعد تو اس آزمائش و امتحان کے کوئی معنی باقی نہ رہ جاتے لہذا اس نقش کو شعور و حافظہ میں تو تازہ نہیں رکھا گیا لیکن وہ تحت الشعور میں یقینا محفوظ ہے۔ اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے تحت الشعوری اور وجدانی علوم کا حال ہے۔ تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاملات کے تمام شعبوں میں انسان سے آج تک جو کچھ بھی ظہور میں آیا ہے وہ سب درحقیقت انسان کے اندر بالقوۃ (Potential) موجود تھا۔ خارجی محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر کچھ کیا ہے تو صرف اتنا کہ جو کچھ بالقوۃ تھا اسے بالفعل کردیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی چیز بھی جو انسان کے اندر بالقوۃ موجود نہ ہو تعلیم و تربیت، ماحولی تاثیر اور داخلی تحریک سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح یہ سب موثرات اگر اپنا تمام زور بھی صرف کردیں تو ان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ ان میں سے جو انسان کے اندر بالقوۃ موجود ہیں کسی چیز کو قطعی طور پر محو کردیں وہ زیادہ سے زیادہ صرف یہ کرسکتے ہیں کہ اسے اصل فطرت سے منحرف کردیں لیکن وہ چیز تمام تحریفات کے باوجود موجود رہے گی۔ ظہور میں آنے کے لئے زور لگاتی رہے گی اور خارجی اپیل کا جواب دینے کے لئے مستعد رہے گی۔ یہ معاملہ تمام تحت الشعوری اور وجدانی علوم کے ساتھ عام ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ ٹھیک ٹھیک یہی کیفیت اس وجدانی علم کی بھی ہے جو ہمیں کائنات میں اپنی حقیقی حیثیت اور خالق کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں حاصل ہے اس کے موجود ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کے ہر دور میں ابھرتا رہا ہے اور کبھی دنیا کی کوئی طاقت اسے محو کردینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس کو ابھرنے اور ظہور میں آنے اور عملی صورت اختیار کرنے کے لئے ایک خارجی اپیل کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے، چناچہ انبیاء (علیہم السلام) یہی خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ اسی لئے قرآن میں ان کو مذکر (یاد دلانے والے) اور ان کے کام کو تذکیر (یاد دہانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء انسان کے اندر کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتے بلکہ اسی چیز کو ابھارتے اور تازہ کرتے ہیں جو اس کے اندر پہلے سے موجود تھی نفس انسانی کی طرف سے اس تذکیر کا جواب بصورت لبیک ملنا، اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ اندرفی الواقع کوئی علم چھپا ہوا تھا جو اپنے پکارنے والے کی آواز پہچان کر جواب دینے کے لئے ابھر آیا۔
Ayahs 7:173–175

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا پہلے ہی سے کرتے آئے تھے اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے (اور جیسا بڑوں کو کرتے دیکھا ہم بھی ویسا ہی کرنے لگے) تو (اے اللہ ، ) کیا ان غلط راہ (نکالنے) والوں کے فعل پر تو ہمیں ہلاک کر دے گا ؟

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

(دیکھو) ہم اس طرح نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سناؤ جسے ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں۔ پھر (ایسا ہوا کہ) وہ ان (کی پابندی) سے نکل بھاگا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا (اور اس کو بہکایا) پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔

[67] یعنی اپنے احکام کا علم عطا کیا تھا۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو اس کا مرتبہ ان نشانیوں کے ذریعے بلند کردیتے، مگر وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال اس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تو زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تو بھی زبان لٹکائے رہے۔ ایسی ہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ پس (اے پیغمبر، ) یہ حکایتیں (ان) لوگوں کو سناؤ تاکہ یہ (غورو) فکر کریں۔

[68] مفسرین نے اختلاف کیا ہے کہ اس آیت کا مصداق کون شخص ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت ہر اس شخص پر صادق آتی ہے جو دین حق کی نعمت پا چکنے کے بعد اس کا تارک ہوگیا ہو اور دنیوی لذتوں میں کھپ کر رہ گیا۔
Ayahs 7:177–178

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

بڑی ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور (اس جھٹلانے سے) وہ اپنے اوپر ہی ظلم کرتے رہے۔

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جسے اللہ ہدایت دے تو وہی راہ (راست) پر ہے اور جسے گمراہ کردے تو ایسے ہی لوگ خسارے میں ہیں۔

[69] جہاں کہیں بھی قرآن میں اس طرح کا مضمون آیا ہے (اور ایسے مقامات بہت ہیں) ۔ ان میں اللہ نے ہدایت و ضلالت کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کیونکہ طبعی قوانین کی طرح اخلاقی قوانین بھی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ ان سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں اسے اللہ براہ راست اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ 55۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے بہت سے جن و انس جہنم ہی کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل تو ہیں (مگر) ان سے سوچتے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں (مگر) ان سے دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں (مگر) ان سے سنتے نہیں۔ (غرض) وہ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہوئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو (دین سے بالکل) غافل ہیں۔

[70] یہ جو فرمایا کہ ہم نے بہت سے جن و انس جہنم کے لئے پیدا کیے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو ان کی ماؤں کے پیٹ سے جہنم کے لیے پیدا کیا، ماؤں کے پیٹ سے تو اللہ تعالیٰ نے دل، دماغ، سمع و بصر کی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن اس کے لئے ضابطہ یہ بنادیا کہ جو ان صلاحیتوں سے صحیح فائدہ نہ اٹھائیں گے اللہ ان کو جہنم میں جھونک دے گا۔ [71] کیونکہ چوپائے ہدایت کے پابند ہی نہیں اور یہ پابند ہونے پر بھی اس قدر بےپرواہ ہیں حالانکہ عقل و حواس رکھتے ہیں۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہیں اچھے نام، پس تم ان ہی (ناموں) سے اسے پکارو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں تو انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دو ۔ وہ جلد اپنے کئے کا بدلہ پائیں گے۔

[72] اچھے ناموں سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت و تقدس، خوبی و جمال کی صفات ہیں جنہیں قرآن نے جا بجا بیان کیا ہے اور شمار کی گئیں تو ننانوے نکلیں۔ اس کائنات میں جو کچھ ہے انہی صفات کا ظہور ہے۔ [73] اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی کے دو پہلو ہیں، ایک یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ میں موجود نہ ہوں یا اس کے مرتبے سے فرو تر ہوں انہیں اس کی جانب منسوب کیا جائے، جیسے مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور نصاریٰ کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہنا۔ دوسرا پہلو یہ کہ جو صفات اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں ان میں دوسرے کو شریک کیا جائے۔ جیسے مشکل کشا، فریاد رس، دست گیر، ان داتا، شہنشاہ وغیرہ۔
Ayahs 7:181–184

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوق میں ایسا گروہ بھی ہے جو حق بات کی ہدایت کرتا ہے اور اسی کے مطابق انصاف بھی کرتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں آہستہ آہستہ (عذاب کی طرف) اس طرح لے جائیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

ہم انہیں مہلت دیتے رہتے ہیں (کیونکہ) ہمارا داؤ بیشک بڑا پکا (داؤ) ہے۔

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق کو ذرا بھی جنون (کا اثر) نہیں ؟ وہ تو بس (انکار و بدعملی کے نتائج سے) کھلم کھلا ڈرانے والا ہے۔

[74] رفیق سے مراد محمد ﷺ ہیں کہ آپ کا بچپن، جوانی اور بڑھاپے کا بیشتر حصہ اہل مکہ کے درمیان گزرا، جو آپ کی نبوت سے پہلے آپ کو سلیم الطبع اور صحیح الدماغ انسان سمجھتے تھے۔ لیکن نبوت کے بعد جب آپ نے رسالت کے فرائض انجام دینا شروع کئے تو یکایک یہ لوگ آپ کو مجنون کہنے لگے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں نے عاقبت اندیشی اور دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور آپ کی طرف جنون کی نسبت کردی ؟ کیا مجنون ایسے ہوتے ہیں ؟
Ayahs 7:185–189

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کے انتظام اور اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز پر نظر نہیں کی اور نہ اس بات پر (غور کیا) کہ ہوسکتا ہے کہ ان کی اجل قریب آ لگی ہو ؟ (اگر سوچنے سمجھنے کی یہ ساری باتیں انہیں ہوشیار نہیں کرسکتیں) تو (پھر) اس کے بعد کون سی بات ہے جسے سن کر یہ ایمان لائیں گے ؟

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

(حقیقت یہ ہے کہ) جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لئے پھر کوئی اور راہ دکھانے والا نہیں۔ اور اللہ (کے قانون) نے انہیں چھوڑ رکھا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ تم کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ بس وہی اس کو وقت (مقرر) پر ظاہر کردے گا۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر اچانک آجائے گا۔ یہ لوگ تم سے (قیامت کے بارے میں) اس طرح (اصرار کے ساتھ) دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے۔ تم کہہ دو کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ میرا اپنا ذاتی نفع و نقصان بھی میرے اختیار میں نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو بہت سے فائدے (اپنے لئے) حاصل کرلیتا اور مجھے (کسی طرح کا) گزند نہ پہنچتا۔ میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان لائیں۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

(لوگو، ) وہ ( اللہ) ہی ہے جس نے تمہیں تن واحد سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو عورت کو ایک ہلکا سا حمل رہ گیا۔ پھر وہ اسے لئے لئے چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ (حمل کی وجہ سے) بوجھل ہوگئی تو دونوں (میاں بیوی) نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ (اے اللہ ، ) اگر تو نے ہمیں ایک صحیح وسالم (بچہ) دیا تو ہم تیرے شکرگزار ہوں گے۔

[75] یعنی آدم سے۔ [76] مرد کا ڈھانپ لینا کنایہ ہے جماع کرنے سے۔
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

مگر جب اللہ نے انہیں صحیح وسالم (بچہ) دے دیا تو اس کی بخشش میں (دوسری ہستیوں کو) شریک ٹھہرانے لگے۔ سو (یاد رکھو، ) اللہ (کی ذات) بہت بلند ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو (یہ) لوگ کرتے ہیں۔

[77] مشرکین عرب صحیح وسالم اولاد کے پیدا ہونے کے لئے تو اللہ ہی سے دعائیں مانگتے تھے لیکن جب صحیح و تندرست بچہ پیدا ہوجاتا تو اللہ کی اس بخشش کے شکریئے میں دوسری ہستیوں کو شریک کرتے تھے۔ لیکن آج کل کے مسلمانوں کی حالت اس سے بھی بدتر ہے۔ یہ تو اولاد کے لئے بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد نذریں بھی انہی کے آستانوں پر چڑھاتے ہیں۔
Ayahs 7:191–194

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا یہ لوگ (اللہ کے ساتھ) ایسوں کو شریک کرتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے اور خود (کسی کے) پیدا کئے ہوئے ہیں ؟

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور (جو) نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں راہ راست کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارے پیچھے نہ آسکیں (تو دوسروں کو کیا راہ دکھائیں گے) ۔ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو (دونوں باتیں) تمہارے لئے برابر ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(نادانو، ) تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔ (پس) اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو (کہ ان میں ماورائے بشریت طاقتیں ہیں) تو (اپنی حاجت روائی کے لئے) ان کو پکارو اور وہ تمہاری پکار کا جواب دیں۔

[78] عرب جن بتوں کو پوجتے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق فرشتوں، جنوں اور گزرے ہوئے صالحین انسانوں کے بت تھے، اس وجہ سے فرمایا کہ وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔