7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 7:117–121

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

(اس وقت) ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ تو بھی اپنا عصا (میدان میں) ڈال دے۔ (عصا کا ڈالنا تھا کہ) آن کی آن میں وہ ڈھونگ جو انہوں نے رچایا تھا اس نے نگلنا شروع کردیا۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

غرضیکہ سچائی ثابت ہوگئی اور جو کچھ (جادوگروں نے) کیا تھا (سب) ملیا میٹ ہوگیا۔

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

پس (فرعون اور اس کے ساتھی) مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے الٹے) ذلیل (و خوار) ہوگئے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

(اور) بول اٹھے کہا کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر

[45] یعنی یہ معجزہ دیکھ کر ان پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بےاختیار سجدے میں گرگئے۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے ان کی پیشانیاں پکڑ کر زمین پر لگا دیں۔
Ayahs 7:122–124

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے (غضب ناک ہو کر) کہا، مجھ سے اجازت لئے بغیر تم موسیٰ پر ایمان لے آئے ؟ ضرور یہ ایک سازش تھی جو تم نے (مل جل کر) اس شہر میں کی تاکہ یہاں کے لوگوں کو شہر سے نکال باہر کرو (اور اپنی حکومت جماؤ۔ اچھا، اپنے کئے کا نتیجہ) تمہیں ابھی معلوم ہوا جاتا ہے۔

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے (سیدھے) کٹواؤں گا پھر تم سب کو سولی دوں گا۔

[46] یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسرے طرف کا پاؤں، مثلاً داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کہ اس طرح سارا دھڑ بیکار ہوجاتا ہے۔
Ayahs 7:125–137

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا، (بہرحال) ہمیں لوٹنا تو اپنے رب کی طرف ہے۔

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

تُو جس بات پر ہم سے بیر رکھتا ہے وہ اس کے سوا کیا ہے کہ جب ہمارے رب کی نشانیاں ہمارے سامنے آئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ (اور اب ہماری بس یہی دعا ہے کہ) اے ہمارے رب، ہمارے اوپر صبر (کے مشکیزے) انڈیل دے۔ اور ہمیں (اپنی) فرمانبرداری کی حالت میں (دنیا سے) اٹھا۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور (فرعون سے) اس کی قوم کے سرداروں نے کہا، کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو (یوں ہی) چھوڑے رہیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلاتے پھریں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ بیٹھیں ؟ (فرعون نے) جواب دیا کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے (کہ ہماری باندیاں بن کر رہیں) ۔ ہم ان پر (ہر طرح سے) غالب ہیں۔

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

(یہ سن کر) موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کئے رہو، زمین اللہ ہی کی ہے، وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام (بخیر) انہی کے لئے ہے جو متقی ہیں۔

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

انہوں نے کہا، (موسیٰ ، ) تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے رہے ہیں اور (اب) تمہارے آنے کے بعد بھی (ستائے جا رہے ہیں) ۔ (موسیٰ نے) کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو ملک میں (اس کا) جانشین بنائے، پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعونیوں کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ وہ متنبہ ہوں۔

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

لیکن جب ان پر خوشحالی آتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارا حق ہے (کہ ہماری کوشش کا نتیجہ ہے) اور اگر انہیں بدحالی پیش آتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو (اپنے لئے) منحوس ٹھہراتے حالانکہ درحقیقت ان کی نحوست تو اللہ کے پاس تھی لیکن ان میں سے اکثر کو (یہ حقیقت) معلوم نہ تھی۔

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور انہوں نے (موسیٰ سے) کہا، تو ہمیں مسحور کرنے کے لئے (خواہ) کتنی ہی نشانیاں ہمارے سامنے لے آئے، ہم تیری بات ماننے والے نہیں۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ان پر طوفان (کا عذاب) بھیجا اور ٹڈی دل (چھوڑے، ) اور جوئیں اور مینڈک (پھیلائے، ) اور (پانی کو) لہو (بنا دیا) ۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ (دکھائیں) ۔ اس پر بھی وہ اکڑے ہی رہے اور وہ (بڑے ہی) مجرم لوگ تھے۔

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر کوئی عذاب نازل ہوتا (تو) کہتے، موسیٰ تیرے رب نے تجھ سے (نبوت کا) جو عہد کیا ہے اس کی بنا پر ہمارے لئے دعا کر۔ اگر تو نے ہم پر سے (اس) عذاب کو ہٹا دیا تو ہم ضرور تجھ پر ایمان لے ائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

لیکن جب ہم ایک خاص وقت تک کے لئے جس کو (بہرحال) انہیں پہنچنا تھا، ان پر سے عذاب ہٹا لیتے تو فوراً بد عہدی کرنے لگتے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ان سے (ان کی سرکشی کا) انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا۔ اس لئے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروا رہے۔

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھ دی تھی۔ اس طرح (اے پیغمبر، ) تیرے رب کا وعدہ خیر بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی بنا پر پورا ہو کر رہا اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم نے بنایا تھا اور جو اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کی تھیں ان (سب) کو ہم نے درہم برہم کردیا۔

[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔ [48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور (جب) ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار اتارا تو ان کا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو بتوں (کی پرستش) میں لگے ہوئے تھے (ان کو دیکھ کر) کہنے لگے کہ اے موسیٰ ، ہمارے لئے بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ (موسیٰ نے) جواب دیا، تم (بڑے ہی) جاہل لوگ ہو۔

[49] بنی اسرائیل اگرچہ مسلمان تھے لیکن مصر میں صدیوں تک بت پرست قوم کے درمیان رہنے کے باعث ان میں بھی بت پرستی کے جراثیم سرایت کرچکے تھے۔
Ayahs 7:139–142

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس (طریقے) پر چل رہے ہیں وہ تو تباہ ہونے والا ہے اور جو کچھ کررہے ہیں وہ بھی (سراسر) باطل ہے۔

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

(پھر موسیٰ نے) کہا، کیا (تم چاہتے ہو کہ) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لئے تلاش کروں ؟ حالانکہ اسی نے تم کو دنیا جہان (کے لوگوں) پر فضیلت دی ہے۔

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (اللہ فرماتا ہے کہ وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی تھی۔ وہ تمہیں سخت عذاب میں ڈالے ہوئے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سے بڑی (ہی سخت) آزمائش تھی۔

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور (دیکھو) ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور (پھر) دس (راتوں کے اضافے) کے ساتھ اسے پورا کردیا۔ اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ میعاد چالیس راتوں کی پوری ہوگئی۔ موسیٰ نے (جاتے وقت) اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم (میرے پیچھے) میری قوم میں میری نیابت کرنا اور اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کی روش پر نہ چلنے لگنا۔

[50] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41 صفحہ 98۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہوا اور اس کا رب اس سے ہمکلام ہوا تو (فرط اشتیاق میں موسیٰ نے) عرض کیا '' میرے رب، تو مجھے (اپنا جمال) دکھا کہ میں تجھے ایک نظر دیکھ لوں ''۔ فرمایا، '' تو ہمیں ہرگز نہ دیکھ سکے گا، مگر ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ۔ (ہم اس پر اپنی تجلی کی ایک جھلک ڈالے دیتے ہیں) اگر یہ (تاب لے آیا اور) اپنی جگہ برقرار رہا تو البتہ تو ہمیں دیکھ سکے گا ''۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گرپڑا۔ پھر جب اسے افاقہ ہوا تو بول اٹھا، '' پاک ہے تیری ذات، میں (اپنی جسارت پر) تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلے ایمان لانے والا میں ہوں ''۔

[51] یعنی ذاتی تجربے کے بعد تیرے اس ارشاد پر ایمان لایا ہوں کہ '' تو ہمیں ہرگز نہ دیکھ سکے گا ''۔
Ayahs 7:144–145

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا، '' اے موسیٰ ہم نے تجھے اپنی پیغمبری اور ہم کلامی سے تمام لوگوں پر امتیاز بخشا۔ پس جو کچھ ہم تجھے دیں اسے لے اور شکر بجا لا ''۔

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

(اس کے بعد) ہم نے موسیٰ کے لئے ہر طرح کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل تختیوں پر لکھ دی (اور اس سے کہا، ) '' انہیں (خوب) مضبوطی سے پکڑ اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کی بہتر باتوں پر کاربند ہوجائے۔ '' عنقریب ہم تمہیں نافرمان لوگوں کے گھر دکھائیں گے۔

[52] یعنی مسائل و احکام دین کے متعلق ضروری تفصیل۔ [53] بہتر باتیں یعنی جو کرنے کے احکام ہیں۔ ان کے خلاف بری باتیں ہیں جن کے نہ کرنے کا حکم ہے۔ [54] یعنی تم اپنے دشمنوں کے ملک میں داخل ہوگے اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو گے۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

ہم ان لوگوں کو اپنی نشانیوں سے پھیر دیں گے جو زمین میں ناحق اکڑتے (پھرتے) ہیں۔ اگر وہ ساری نشانیاں دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہ لائیں۔ اگر ہدایت کا راستہ دیکھ لیں (تو) اس پر نہ چلیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ پائیں (تو) اس پر چل پڑیں۔ یہ (کجروی) اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروائی کرتے رہے۔

[55] قرآن کا یہ عام اسلوب بیان ہے کہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قوانین سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں انہیں براہ راست اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ مثلاً اللہ کا ایک قانون یہ ہے کہ جو لوگ سمجھ بوجھ سے کام لینے کی جگہ اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں اور اس پر اڑے رہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی عقلیں ماری جاتی ہیں اور سمجھ الٹی ہوجاتی ہے۔ قرآن اس حالت کو یوں تعبیر کرے گا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی پس وہ سمجھتے نہیں۔ یعنی یہ صورت حال اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قانون کا قدرتی نتیجہ ہے۔ یہاں جو فرمایا کہ جو لوگ اکڑتے ہیں ہم ان کو اپنی نشانیوں سے پھیر دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر سرکشی کرے تو اللہ کا قانون یہی ہے کہ وہ دلیلوں اور نشانیوں سے متاثر ہونے کی استعداد کھو دیتا ہے۔
Ayahs 7:147–150

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ان کے سارے اعمال اکارت گئے۔ ان لوگوں کو ان کے کرتوتوں کا اس کے سوا کیا بدلہ دیا جاسکتا ہے (کہ جیسا کریں ویسا بھریں) ۔

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور (پھر ایسا ہوا کہ) موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم (کے لوگوں) نے اپنے زیور (گلا کر اس) کا ایک بچھڑا بنا کھڑا کیا جس میں سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی (اور لگے اس کو پوجنے) ۔ کیا (ان احمقوں نے) اتنی (موٹی سی) بات بھی نہ سمجھی کہ وہ نہ تو ان سے بات کرتا ہے نہ (کسی معاملے میں) ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ (بہرکیف) وہ اسے (پرستش کے لئے) لے بیٹھے اور وہ ظالم تھے۔

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ پچھتائے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو بیشک ہم برباد ہوجائیں گے۔

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم میں لوٹا تو اس نے (آتے ہی) کہا ('' افسوس تم پر ! ) بڑی ہی نامعقول حرکت کی تم لوگوں نے میرے بعد ! اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی (اور انتظار نہ کیا ''؟ ) اور اس نے جلدی میں تختیاں ایک طرف رکھیں اور (جوش میں آکر) اپنے بھائی (ہارون) کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ (اس پر ہارون نے) کہا، '' اے میرے ماں جائے، (قوم کے) لوگوں نے مجھے بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالتے۔ سو مجھ پر (سختی کر کے) دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے شامل نہ کر ''۔

[56] موسیٰ (علیہ السلام) ابھی کوہ طور پر ہی تھے کہ آپ کو بذریعہ وحی الٰہی قوم کی گمراہی کا حال معلوم ہوگیا تھا جیسا کہ سورة طہٰ آیت 85 صفحہ 728 میں بصراحت مذکور ہے۔
Ayahs 7:151–155

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

(یہ سن کر موسیٰ نے) دعا کی کہ '' اے میرے رب، میرا قصور معاف فرما (کہ میں جوش میں آگیا) اور میرے بھائی کا بھی (کہ گمراہوں کو سختی کے ساتھ نہ روک سکا) اور ہمیں اپنی رحمت (کے سائے) میں داخل فرما، تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے ''۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) '' جو لوگ بچھڑے کو (پرستش کے لئے) لے بیٹھے عنقریب ان پر ان کے رب کا غضب نازل ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (اس کے علاوہ، ) اور ہم افترا پردازوں کو (ان کے کرتوتوں کا) اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

جن لوگوں نے گناہ کے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کی اور ایمان لے آئے تو بلاشبہ تمہارا رب اس (توبہ و ایمان کے بعد ان کے گناہ) سے درگزر کرنے والا (اور ان پر) رحم فرمانے والا ہے ''۔

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو اس نے تختیاں اٹھا لیں۔ ان کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور (اس کے بعد) موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمی ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت (پر حاضر ہونے) کے لئے منتخب کئے۔ پھر جب زلزلے نے ان کو پکڑا تو (موسیٰ نے) عرض کیا، '' اے میرے رب، اگر تو چاہتا تو ان سب کو اور مجھ کو (اب سے) پہلے ہی ہلاک کر ڈالتا (مگر تو نے اپنے فضل و رحمت سے ہمیں مہلت دی) پھر کیا تو اس (قصور) پر ہم سب کو ہلاک کر دے گا جو ہم میں سے (چند) احمقوں نے کیا تھا ؟ یہ تو بس تیری طرف سے ایک آزمائش تھی جس کے ذریعے سے تو جسے چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے ہدایت دے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے۔ پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

[57] اس واقعے کا خلاصہ سورة بقرہ آیت 56 میں گزر چکا ہے۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تمہاری باتیں ہم اس وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ سے سن لیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ستر آدمیوں کو جو سردار تھے منتخب کر کے کوہ طور پر لے گئے اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا تو کہنے لگے کہ جب تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے بےحجاب نہ دیکھ لیں ہم کو یقین نہیں آسکتا۔ اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی اور وہ سب مرگئے یا مردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔