6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 6:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا۔ پھر بھی جو کافر ہیں (دوسروں کو) اپنے رب کا ہمسر ٹھہرا رہے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

(لوگو، ) وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے زندگی کی) ایک میعاد ٹھہرا دی اور ایک (دوسری) میعاد (بھی ہے جس کا وقت کسی کو معلوم نہیں مگر) اس کے نزدیک متعین ہے، پھر بھی تم (اس حقیقت پر غور نہیں کرتے اور اس میں) شک کرتے ہو۔

[1] یعنی تمہاری اصل آدم (علیہ السلام) ہیں جن کی نسل سے تم پیدا ہوئے۔ [2] یعنی قیامت کے دن جب انسان از سرنو زندہ کئے جائیں گے اور حساب و کتاب کے لئے اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے۔
Ayahs 6:3–8

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

وہی اللہ آسمانوں میں ہے اور زمین میں (بھی) ، وہ تمہاری چھپی اور کھلی (ہر طرح کی) باتوں کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ (اچھی یا بری) کمائی تم کرتے ہو وہ (بھی) اس کو معلوم ہے۔

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

(لوگوں کا حال یہ ہے کہ) جو نشانی بھی ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس آتی ہے وہ اس سے روگردانی ہی کیا کرتے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے (کلام) حق کو بھی جھٹلا دیا جب وہ ان کے پاس آیا۔ (اچھا) تو یہ لوگ جس چیز کا مذاق اڑاتے رہے ہیں اس کی حقیقت انہیں عنقریب معلوم ہوجائے گی۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر مارا جنہیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا، ان پر ہم نے موسلا دھار مینہ برسایا اور ان کے نیچے سے نہریں رواں کردیں، پھر ہم نے ان کے گناہوں کے باعث ان کو ہلاک کر مارا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو نکال کھڑا کیا۔

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر ہم کاغذ پر (لکھی لکھائی) کتاب (بھی) تم پر نازل کرتے اور یہ لوگ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو (بھی) لیتے پھر بھی جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کر رکھا ہے (وہ کبھی نہ مانتے اور) کہتے کہ یہ صریح جادو گری ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوا (جو اس کی پیغمبری کی تصدیق کرتا) ؟ اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو (کبھی کا) فیصلہ ہوگیا ہوتا، پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی۔

[3] یعنی فرشتے کا نزول دنیا میں اس طرح کہ کافر تک کو نظر آجائے۔ دستور الٰہی میں نزول عذاب کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر مہلت کا امکان کہاں ؟ مہلت اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا اور حقیقت ظاہر ہوگئی، اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا، اس لئے کہ دنیا کی زندگی امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس چیز کا ہے کہ حقیقت کو دیکھے بغیر، غور و فکر سے انسان اس کا ادراک کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ مدت امتحان اسی وقت تک ہے جب تک غیب غیب ہے۔ جیسے ہی غیب ظاہر ہوگیا تو اس کے ساتھ مدت امتحان بھی ختم ہوگئی۔
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی ہی (کی شکل میں) بناتے اور جو شبے (یہ لوگ اب) کر رہے ہیں وہی شبے ہم (اس وقت بھی) ان (کے دلوں) پر (طاری) کردیتے۔

[4] یعنی اگر فرشتہ شکل انسان میں ظاہر ہوتا تو اس کے مامور من اللہ ہونے میں تم کو وہی اشتباہ ہوتا جو محمد ﷺ کے مامور من اللہ ہونے میں اب ہو رہا ہے۔
Ayahs 6:10–12

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ واقعہ ہے کہ تم سے پہلے بھی پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا، تو جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا ان کو اس (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

ان (لوگوں) سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر (گزری ہوئی قوموں کے آثارپر) نظر ڈالو اور دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ (پھر ان کے جواب کا منتظر رہنا ضروری نہیں، تم آپ ہی) کہہ دو کہ یہ (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے۔ اس نے رحم (و کرم کا شیوہ) اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ وہ قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں تم لوگوں کو ضرور جمع کر کے رہے گا (مگر اے پیغمبر، تم کتنا ہی سمجھاؤ) جو لوگ (اپنے ہاتھوں) اپنا نقصان کر رہے ہیں وہ کبھی ایمان نہ لائیں گے۔

[5] آپ ہی سوال پوچھنے اور آپ ہی جواب دینے کا مطلب ہے کہ تمہارے سوال کا اور کچھ جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ منکرین بھی چاروناچار یہی کہیں گے۔ [6] اس لئے وہ نافرمانوں کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ انہیں توبہ وانابت کا موقع دیتا ہے۔
Ayahs 6:13–19

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جو کچھ رات (کی تاریکی) اور دن (کے اجالے) میں (روئے زمین پر) بستا ہے وہ (سب) اسی ( اللہ) کا ہے۔ وہ بڑا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو، کیا (تم چاہتے ہو کہ) میں اللہ کو چھوڑ کر جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جو روزی دیتا ہے اور (کسی سے) روزی لیتا نہیں ہے، کسی (اور) کو کار ساز بنا لوں ؟ (اے پیغمبر، ) تم کہہ دو کہ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں (اللہ کا) فرمانبردار (بندہ) بنوں اور (مجھے تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تم بہرحال مشرکوں میں (شامل) نہ ہونا۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم کہو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو اس بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جس (کے سر پر) سے عذاب ٹل گیا تو اس پر اللہ نے (بڑا ہی) رحم کیا اور یہی صریح کامیابی ہے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

(اے انسان، ) اگر اللہ تجھے دکھ پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کا ٹالنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہی حکمت والا (اور) باخبر ہے۔

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟ (یہ تو کیا جواب دیں گے تم آپ ہی ان سے) کہہ دو کہ اللہ کی، کہ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور یہ قرآن میری طرف اس لئے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے اس کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤں۔ (اب کہو تمہارا کہنا کیا ہے ؟ ) کیا تم واقعی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں ؟ تو (اے پیغمبر، ) تم کہو (اگر تمہاری گواہی یہی ہے تو سن رکھو کہ) میں تو (اس بات کی) گواہی نہیں دیتا۔ تم کہہ دو ، (میری گواہی یہ ہے کہ) معبود تو بس وہی ایک ہے اور جو شرک تم کرتے ہو میں اس سے قطعی بیزار ہوں۔

[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔ [8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔ [9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ (ہمارے) اس (پیغمبر) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ (مگر) جو (اپنے ہاتھوں) اپنا نقصان کر رہے ہیں وہ کبھی ایمان نہ لائیں گے۔

[10] یعنی یہود و نصاریٰ ۔ [11] اس لئے کہ ان کی آسمانی کتابوں میں اس پیغمبر کی پیشین گوئی موجود ہے۔
Ayahs 6:21–28

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے اور اس کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر جو لوگ شرک کرتے تھے ان سے پوچھیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریک جن (کے معبود ہونے) کا تم دعویٰ کرتے تھے ؟

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

تو وہ اس کے سوا کوئی شرارت نہ کرسکیں گے کہ (ازراہ کذب) کہیں کہ اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ہم مشرک نہ تھے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو کس طرح یہ اپنے اوپر آپ جھوٹ بولنے لگیں گے اور جو کچھ افترا پردازیاں کیا کرتے تھے وہ (سب) ان سے گم ہوجائیں گی۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، بعض) ان میں سے ایسے بھی ہیں جو تمہاری (باتوں کی) طرف کان لگاتے ہیں اور (یہ واقعہ ہے کہ) ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) ۔ اور اگر یہ (دنیا جہان کی) ساری نشانیاں بھی دیکھ لیں (جب بھی) ان پر ایمان نہ لائیں۔ حد یہ ہے کہ جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تم سے (خواہ مخواہ) جھگڑتے ہیں۔ (یہ) کافر (قرآن سن کر) بول اٹھتے ہیں کہ یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ پچھلوں کی داستانیں ہیں۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ لوگ قرآن (کے سننے) سے دوسروں کو منع کرتے ہیں اور (خود بھی) اس سے دور بھاگتے ہیں اور یہ (ایسی حرکتوں سے کسی اور کو نہیں) اپنے ہی آپ کو تباہ کر رہے ہیں اور (غضب یہ ہے کہ) اس کا شعور نہیں رکھتے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کاش تم ان کو اس وقت دیکھو جب یہ دوزخ پر (لا) کھڑے کئے جائیں گے اور (اس کو دیکھ کر) کہیں گے کہ کاش ہم پھر (دنیا میں) واپس بھیج دیئے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہوں۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

ہاں، اب وہ چیز ان پر ظاہر ہو کر رہی جسے اس سے پہلے وہ چھپاتے تھے۔ اور اگر (دنیا میں) واپس بھیج دیئے جائیں تو پھر بھی وہی کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور یقینا یہ جھوٹے ہیں۔

[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔ [13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ اختیار کرلیتا ہے پھر جہاں چند روز گزرے اور مصیبت ٹل گئی تو کچھ بھی یاد نہیں رہتا کہ کیا عہد و پیمان کئے تھے۔
Ayahs 6:29–35

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس ہماری اس دنیا کی زندگی ہے اور ہم (مرنے کے بعد) زندہ اٹھائے جانے والے نہیں۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کاش تم ان کو (اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ (ان سے) پوچھے گا کہ کیا یہ (تمہارا جی اٹھنا) حقیقت نہیں ؟ یہ کہیں گے، بےشک، قسم اپنے رب کی (یہ حقیقت ہے) ۔ (اس پر اللہ) فرمائے گا کہ تم جو (دنیا میں اس زندگی سے) انکار کرتے رہے تو اب اس کی پاداش میں عذاب (کا مزا) چکھو۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ خسارے میں پڑگئے جنہوں نے (مرنے کے بعد) اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا، یہاں تک کہ جب وہ (مقررہ) گھڑی اچانک ان (کے سر) پر آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ افسوس ہماری کوتاہی پر جو اس کے بارے میں ہم سے ہوئی۔ اور (ان کا حال یہ ہوگا کہ) وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے۔ دیکھو، کیا ہی برا بوجھ ہے جسے یہ لادے (لادے پھر رہے) ہوں گے۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور (یہ) دنیا کی زندگی تو کچھ بھی نہیں بجز کھیل اور تماشے کے اور جو پرہیزگار ہیں ان کے لئے یقینا آخرت کا گھر کہیں بہتر ہے۔ (افسوس تم پر ! ) کیا تم لوگ (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ہم خوب جانتے ہیں کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں وہ تم کو آزردہ کرتی ہیں (پس تم صبر کرو) کیونکہ یہ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ (یہ) ظالم (دراصل) اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) یہ واقعہ ہے کہ تم سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے تھے سو انہوں نے تکذیب اور ایذا دہی پر صبر کیا یہاں تک کہ ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی۔ (یہ اللہ کا مقررہ قانون ہے) اور کوئی نہیں جو اس کی (ٹھہرائی ہوئی) باتوں کو بدل دینے والا ہو۔ اور پیغمبروں کے حالات تو تم کو پہنچ ہی چکے ہیں

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور (اس پر بھی) اگر ان لوگوں کی روگردانی تم پر گراں گزرتی ہے تو اگر تمہارے بس میں ہے تو زمین کے اندر (کوئی) سرنگ تلاش کرو یا آسمان میں (کوئی) سیڑھی (لگاؤ) اور (ان تدبیروں سے کوئی فرمائشی) معجزہ ان کے لئے لے آؤ (مگر پھر بھی یہ انکار ہی کریں گے) ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا لہذا نادان نہ بنو۔

[14] نبی ﷺ کی بڑی خواہش تھی کہ تمام کفار اسلام لے آئیں۔ جو لوگ اسلام سے محروم رہتے ان کی محرومی آپ پر بہت شاق گزرتی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ روش اختلاف باقی رہے ورنہ اللہ چاہتا تو سب کو مومن پیدا کردیتا پھر رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لہذا ایسی روشن حقیقت سے بیخبر رہنا نادانی ہے۔
Ayahs 6:36–37

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

(دعوت حق) تو بس وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو (دل لگا کر) سنتے ہیں اور (یہ کافر تو گویا) مردے (ہیں) ، انہیں تو اللہ (قبروں ہی سے) اٹھائے گا پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اس (مدعی رسالت) پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ (اے پیغمبر، ) تم کہہ دو کہ اللہ نشانی اتارنے پر (بھی) قادر ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ (حقیقت حال کو) نہیں جانتے۔

[15] نشانی سے مراد معجزہ ہے۔ [16] یعنی معجزہ نہ دکھانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دکھانے سے عاجز ہے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے جسے یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے جو راہ پسند کی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اپنی عقل و ادراک کو استعمال کریں، آفاق وانفس کے دلائل پر غور کریں، پیغمبر کی باتیں سنیں، سوچیں اور سمجھیں اور اپنے اختیارات و ارادے سے ایمان کی راہ اختیار کریں۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) زمین میں (چلنے والا) کوئی جانور اور (ہوا میں) پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں جو تمہاری ہی طرح کی مخلوق نہ ہو، ہم نے ان (کی تقدیر) کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر یہ (سب) اپنے رب کے حضور جمع کئے جائیں گے۔

[17] یعنی ہر مخلوق کے لئے جو کچھ ہونا چاہئے تھا وہ سب اس کے لئے مقدر کردیا، کسی مخلوق کے لئے بھی فروگذاشت نہیں ہوئی۔ اگر اللہ کی بیشمار نشانیوں میں سے جو آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں صرف اسی ایک نشانی پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبر اللہ کی توحید اور اس کی صفات کا جو تصور پیش کر رہا ہے وہ عین حق ہے۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں (ان کی مثال ایسی ہے جیسے) اندھیرے میں گونگے اور بہرے (ہوتے) ہیں۔ اللہ جسے چاہے بھٹکا دے اور جسے چاہے راہ راست پر لگا دے۔

[18] گونگا بہرا اندھیرے میں ہو تو اس کے روبرو ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ باہر سے کوئی آدمی راستہ بتائے تو وہ بہرا ہے سن نہیں سکتا اور اگر خود کسی سے راستہ پوچھنا چاہے تو گونگا ہے اس لئے پوچھ نہیں سکتا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی اسے جبراً اٹھا کر روشنی میں لے آئے، تو ہدایت ایسی چیز نہیں جو جبراً کسی پر ٹھونس دی جائے۔ [19] اللہ کا بھٹکانا یہ ہے کہ ایک متعصب اور جہالت پسند شخص کو اللہ کی نشانیوں کے مطالعہ کی توفیق نہ بخشی جائے اور اگر وہ ان نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرے تو وہ اس کو حق سے دور لے جائیں۔ بخلاف اس کے اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طالب حق کو اللہ کی نشانیوں کے ذریعے حق کی معرفت حاصل ہو۔