6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 6:153–156

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور (اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ) یہی راہ ہماری (ٹھہرائی ہوئی) سیدھی راہ ہے سو اسی پر چلو اور (دوسری) راہوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کی راہ سے بھٹکا کر تتر بتر کردیں گی۔ (غرضیکہ) یہ (سب باتیں ہیں) جن کا حکم اللہ نے تم کو دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر دیکھو، ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) عطا فرمائی تھی کہ جو نیکو کار ہیں ان پر (ہماری) نعمت پوری ہو اور ہر (ضروری) بات کی تفصیل (اس کے ذریعے سے ہوجائے) اور (لوگوں کے لئے باعث) ہدایت و رحمت ہو تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور (اسی طرح اب) یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے، ایک (خیرو) برکت والی کتاب، پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ (کی روش اختیار) کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (اور برکت وسعادت کی راہ تم پر کھل جائے) ۔

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

(اور یہ کتاب اس لئے بھی نازل کی) کہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو بس دو ہی گروہوں پر کتاب اتاری گئی تھی اور ہم تو اس کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر ہی رہے۔

[59] یعنی یہود و نصاریٰ پر۔
Ayahs 6:157–158

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری گئی ہوتی تو ہم ضرور ان لوگوں سے (جن پر کتاب نازل ہوئی تھی) زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ سو (دیکھو، ) تمہارے پاس (بھی) تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔ پھر (بتلاؤ، ) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے۔ (یاد رکھو، ) جو لوگ ہماری آیتوں سے منہ موڑتے ہیں ہم انہیں ان کی روگردانی کی پاداش میں بدترین عذاب دیں گے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں، یا تمہارا رب (خود) آئے، یا تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ (تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوں گی (پھر) کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لا چکا ہو یا اپنے ایمان (کی حالت) میں اس نے نیکی نہ کمائی ہو۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ (اگر تم اس بات کے منتظر ہو تو اچھا) انتظار کرتے رہو ہم (مسلمان) بھی (فیصلہ حق و باطل کا) انتظار کرتے ہیں۔

[60] یعنی قیامت کے آثار مثلاً آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا۔ [61] یعنی آثار قیامت ظاہر ہونے کے بعد تو ایمان بالغیب نہ رہے گا بلکہ شہود کے حکم میں داخل ہوجائے گا، تو ایمان اختیاری اب باقی کہاں رہا۔ بلکہ یہ ایمان اضطراری ہوگیا جو حقیقی ایمان نہیں۔ [62] یعنی ایمان گو پہلے سے رکھتا ہو، لیکن اس کی برکت سے ذرا بھی نفع نہ حاصل کیا ہو بلکہ سرتا سر نادانیوں اور خباثتوں میں مبتلا رہا اور توبہ کر کے نیکی کا کوئی عمل شروع کرنا چاہے تو آثار قیامت ظاہر ہوجانے کے بعد توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور (الگ الگ) گروہ بن گئے، تمہیں ان سے کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے حوالے ہے، (وہ ان کا حساب لے لے گا، ) پھر وہی ان کو بتائے گا جو کچھ (دنیا میں) وہ کرتے رہے۔

[63] مطلب یہ ہے کہ دین ہمیشہ سے ہی یہ رہا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یوم آخرت پر ایمان لایا جائے اور جو ہدایات اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجیں ان پر عمل کیا جائے۔ لیکن بعد میں لوگوں نے دین میں نئی نئی باتیں ملائیں۔ اس طرح بیشمار مذاہب اور فرقے بنتے چلے گئے۔ افسوس آج کل کے مسلمان بھی اس آیت کا مصداق بنے ہوئے ہیں۔
Ayahs 6:160–164

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

(یاد رکھو، ) جو کوئی (اللہ کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گنا (اجر) ہے، اور جو کوئی بدی لے کر آئے گا اس کو بس اس کے برابر ملے گا اور لوگوں پر (کسی طرح کا) ظلم نہیں کیا جائے گا۔

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ مجھ کو تو میرے رب نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، ایک دین مستحکم (یعنی) ابراہیم یکسو کا طریقہ ( کہ بس ایک اللہ کے لئے ہوجانا) اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھا۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ میری نماز، میری (ساری) عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا (سب) اللہ رب العالمین کے لئے ہے

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو، کیا (تم یہ چاہتے ہو کہ) میں اللہ کے سوا کوئی (اور) رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ اور ہر آدمی (اپنے عمل سے) جو کچھ کماتا ہے وہ اسی کے ذمے ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (ہر شخص خود ہی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے) ۔ پھر تم (سب) کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے (اور جب اس کے سامنے حاضر ہوگے) تو وہ بتلا دے گا جن (جن باتوں) میں تم (دنیا میں) اختلاف کرتے تھے۔

[64] یعنی کوئی شخص بھی کسی کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر نہ لے گا۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی ( اللہ) ہے جس نے زمین میں تم کو (اپنا) خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں بلندی دی تاکہ جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ (اے پیغمبر، ) بلاشبہ تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور وہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[65] یعنی شکل و صورت میں، حسن و جمال میں، رزق و مال میں، علم و عمل میں، قوت و کمال میں۔ [66] مثلاً غنی حالت غنا میں رہ کر کہاں تک شکر کرتا ہے اور فقیر حالت فقر میں کس حد تک صبر کا ثبوت دیتا ہے۔ [67] اس آزمائش میں جو نالائق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس کے حق میں سریع العقاب (سزا دینے میں تیز) اور جس سے قدرے کوتاہی رہ گئی اس کے حق میں غفور اور جو پورا اترا اس کے لئے رحیم ہے۔