6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 6:115–119

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

تمہارے رب کا (یہ) کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اکثر لوگ تو (روئے) زمین پر ایسے ہیں کہ اگر تم ان کا کہا مانو تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر محض گمان کی اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا رب ہی خوب واقف ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی راہ پائے ہوؤں کو بھی خوب جانتا ہے۔

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

پس (گمراہوں کے وہم و گمان کی پیروی نہ کرو اور) جس (جانور) پر (ذبح کرتے ہوئے) اللہ کا نام لیا گیا ہو اس میں سے (بلا تامل) کھاؤ اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تمہارے لئے آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے (جانور) میں سے نہ کھاؤ جس پر (ذبح کرتے ہوئے) اللہ کا نام لیا گیا ہے حالانکہ جو کچھ اللہ نے تم پر حرام کیا ہے وہ اس نے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے مگر وہ چیز کہ (حرام تو ہے لیکن) تم اس (کے کھانے) پر مجبور ہوجاؤ۔ اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بغیر علم کے محض اپنی خواہشات کی بنا پر (لوگوں کو) بہکاتے رہتے ہیں۔ (تو اے پیغمبر، یقین رکھو) تمہارا رب ان حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

[44] ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 173 صفحہ 50
Ayahs 6:120–121

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

(لوگو، ) ظاہری گناہ کو بھی چھوڑو اور پوشیدہ گناہ کو بھی۔ جو لوگ گناہ کماتے ہیں (وہ انسان کی نگاہ سے کتنا ہی پوشیدہ رہ کر گناہ کریں) انہیں اپنی کمائی کا بدلہ جلد مل جائے گا۔

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس (جانور) پر (ذبح ہوتے ہوئے) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس میں سے نہ کھاؤ۔ بلاشبہ یہ نافرمانی ہے (اگر تم اس سے کھاؤ) ، اور شیاطین تو اپنے دوستوں کے دلوں میں (شکوک و اعتراضات) القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے کج بحثی کریں۔ اور اگر تم نے ان کا کہا مان لیا تو یقینا تم (بھی) مشرک ہوجاؤ گے۔

[45] ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 108 صفحہ 106 [46] عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ علمائے یہود جہلائے عرب کو نبی ﷺ پر اعتراض کرنے کے لیے گھڑ گھڑ کر سوالات سنایا کرتے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں شبہات ڈالیں اور انہیں حق سے لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کریں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے جسے اللہ مارے وہ تو حرام ہے اور جسے ہم ماریں وہ حلال ہوجائے۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

کیا ایک شخص جو (پہلے) مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کردیا اور اس کو روشنی عطا کی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے، اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ تاریکیوں میں (گھرا ہوا) ہے اور ان سے نکلنے والا نہیں ؟ اسی طرح تو کافروں کے لئے ان کے اعمال خوشنما بنا دیئے گئے ہیں

[47] اس آیت میں ایمان و کفر کی مثال بیان کی گئی ہے۔ ایمان زندگی ہے اور علم و بصیرت کی روشنی۔ کفر موت ہے اور وہم و گمان کی تاریکی۔
Ayahs 6:123–125

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بدکردار آدمیوں کے سردار پیدا کردیئے ہیں تاکہ وہاں مکر و فریب (کا جال) پھیلائیں اور (فی الحقیقت) وہ مکرو فریب نہیں کرتے مگر اپنے ہی ساتھ لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہ چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے (حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی رسالت کا اہل ہے۔ جو لوگ (انکار حق کے) جرم کے مرتکب ہوئے عنقریب ان کو اللہ کے پاس (پہنچ کر) ذلت نصیب ہوگی اور عذاب سخت (بھی) ان مکاریوں کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے ہیں۔

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

پس (حقیقت تو یہ ہے کہ) جس کو اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ (قبول) اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جس شخص کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینے کو اس طرح تنگ (اور) بھنچا ہوا کردیتا ہے گویا وہ بلندی پر چڑھ رہا ہو۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

[48] قرآن کا اسلوب بیان یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قوانین کے مطابق جو نتائج پیدا ہوتے ہیں وہ انہیں براہ راست اللہ کی طرف نسبت دیتا ہے کیونکہ قوانین اللہ ہی کے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ رہا اللہ کا کسی شخص کے بارے میں چاہنا تو اس سے مراد اللہ کا اپنے علم ِ کامل کی بنیاد پر مومن اور کافر دونوں کو ان کے پسند کئے ہوئے راستہ پر چلنے کی سہولت دینا ہے۔
Ayahs 6:126–136

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ (اسلام کی راہ) تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے (اور) جو لوگ غور و فکر کرتے ہیں ان کے لئے ہم نے (راہ حق کی) نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کردی ہیں۔

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور (دنیا میں) جو (نیک) عمل کرتے رہے اس کے صلے میں وہ ان کا سرپرست ہوگا۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور وہ دن (یاد کرنے کے قابل ہے) جب اللہ ان سب کو (اپنے حضور) جمع کرے گا (اور فرمائے گا) ، '' اے گروہ جن تم نے انسانوں میں سے بڑی تعداد (اپنی وسوسہ اندازیوں سے اپنے) ساتھ لے لی ''۔ اور انسانوں میں سے (جو لوگ دنیا میں) ان کے رفیق (تھے وہ) کہیں گے کہ '' اے ہمارے رب، (دنیا میں) ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور اب ہم اس وقت پر آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کردیا تھا '' (اس پر) اللہ فرمائے گا، '' (اچھا، اب) تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے، اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہوگے ''۔ ہاں اگر اللہ کو (نکالنا) منظور ہو (تو دوسری بات ہے) ۔ (اے پیغمبر، ) بلاشبہ تمہارا رب حکمت والا (اور سب کچھ) جاننے والا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

(دیکھو، ) اسی طرح ہم (آخرت میں) ظالموں کو ان کی کمائی کے سبب (جو وہ دنیا میں کرتے تھے) ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے۔

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

(نیز ہم اس دن پوچھیں گے کہ) اے گروہ جن و انس، کیا تمہارے پاس (خود) تم میں سے (ایسے) رسول نہیں آئے تھے جو ہماری آیتیں تمہیں سناتے اور اس روز (قیامت) کے پیش آنے سے تمہیں ڈراتے تھے ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں (کہ بلاشبہ آئے تھے اور انہوں نے ہمیں سب کچھ بتایا تھا مگر ہم نے نہ مانا) ۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) دنیا کی (چند روزہ) زندگی نے انہیں دھوکے میں رکھا اور (آج) انہوں نے (خود) اپنے خلاف گواہی دی کہ بلاشبہ وہ کافر تھے۔

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ (پیغمبروں کا ظہور) اس لئے ہوا کہ تمہارا رب ظلم سے بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں جب کہ وہاں کے باشندے (راہ حق سے) بیخبر ہوں۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

(لوگو، قانون الٰہی کی رو سے) تمام (انسانوں) کے درجے ان کے اعمال کے مطابق ہیں اور جو کچھ (لوگ دنیا میں) کررہے ہیں تمہارا رب اس سے غافل نہیں ہے۔

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

تمہارا رب بےنیاز (اور) صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ چاہے (تو) تم لوگوں کو (دنیا سے) اٹھا لے اور تمہارے بعد جس (قوم) کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جس طرح اس نے ایک دوسری قوم کی نسل سے تم کو پیدا کیا ہے۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

(لوگو، ) جس ( روز قیامت) کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقینا آنے والا ہے اور تم (اللہ کو اس بات پر) مجبور نہیں کرسکتے (کہ قیامت کو واقع نہ ہونے دے) ۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم کہہ دو کہ اے میری قوم (کے لوگو، اگر تم جہل و انکار سے باز نہیں آتے تو میرا اور تمہارا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے، ) تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ میں بھی (اپنی جگہ) کام کر رہا ہوں پھر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے لئے ہے آخرت کا گھر۔ یقینا ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ کافر) اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور (اس کے پیدا کئے ہوئے) مویشیوں میں اللہ کے لئے ایک حصہ ٹھہراتے ہیں پھر اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) اللہ کے لئے ہے اور یہ (حصہ) ہمارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کے لئے۔ پھر جو کچھ ان کے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کے لئے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا لیکن جو کچھ اللہ کے لئے ہے وہ ان کے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Ayahs 6:137–141

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح بہت سے مشرکین کو ان کے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں نے ان کی اولاد کے قتل کو خوشنما کر دکھایا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں ڈالیں اور ان کے دین کو ان پر مشتبہ کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ (وحشیانہ) فعل نہ کرتے۔ پس (اے پیغمبر، ) تم ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو (اللہ پر) چھوڑ دو ، (وہ ان سے سمجھ لے گا) ۔

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور (یہ لوگ یہ بھی) کہتے ہیں کہ فلاں فلاں جانور اور فلاں فلاں کھیت ممنوع ہیں، انہیں اس آدمی کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا جسے ہم اپنے خیال کے مطابق کھلانا چاہیں، اور (اسی طرح) کچھ جانور ہیں کہ (ان کے خیال میں) ان کی پیٹھ (پر سوار ہونا یا سامان لادنا) حرام ہے، اور کچھ جانور ایسے ہیں کہ (ذبح کرتے ہوئے) ان پر یہ اللہ کا نام نہیں لیتے۔ یہ (سب کچھ) اللہ پر ان کی افترا پردازیاں ہیں۔ عنقریب اللہ ان کو ان افترا پردازیوں کا بدلہ دے گا۔

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ ان جانوروں کے پیٹ میں (سے) جو (بچہ نکلے اور اس میں جان) ہو وہ صرف ہمارے مردوں کے (کھانے کے) لئے ہے اور ہماری عورتوں پر (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر مرا ہوا ہو تو پھر (اس کے کھانے پر مرد و عورت) سب شریک ہیں۔ عنقریب اللہ انہیں ان کی بکواس کا بدلہ دے گا۔ بلاشبہ وہ حکمت والا (اور سب کچھ) جاننے والا ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

یقینا خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے حماقت سے بن سمجھے اپنی اولاد کو قتل کیا اور جو کچھ اللہ نے ان کے لئے رزق پیدا کیا تھا اسے اللہ پر افترا پردازی کر کے اپنے اوپر حرام کرلیا۔ بلاشبہ یہ لوگ (راہ راست سے) بھٹک گئے اور ہدایت پانے والے نہ بنے۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) وہ اللہ ہی ہے جس نے (طرح طرح کے) باغ پیدا کئے (بعض تو ٹٹیوں پر) چڑھائے ہوئے (جیسے انگور کی بیلیں) اور (بعض) بغیر چڑھائے ہوئے (جیسے عام طور پر درخت ہوتے ہیں) ، اور کھجور کے درخت اور کھیتیاں جن کے پھل مختلف (قسموں کے) ہوتے ہیں، نیز زیتون اور انار (کے درخت جن کے پھل بعض تو صورت، شکل اور مزے میں) ایک دوسرے سے ملتے ہوئے اور (بعض) ایک دوسرے سے مختلف۔ (لوگو، ) یہ سب چیزیں جب پھلیں ان کے پھل (شوق سے) کھاؤ اور ان کے کاٹنے (اور توڑنے) کے دن اللہ کا حق ادا کرو اور اسراف مت کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

[50] یعنی جب فصل کاٹی جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرو۔
Ayahs 6:142–149

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور (دیکھو، اس اللہ نے تمہارے لئے) مویشیوں میں سے (بعض بلند قامت) بوجھ اٹھانے والے (پیدا کئے) اور (بعض) زمین سے لگے ہوئے (جو لادے نہیں جاتے، جیسے بھیڑ، بکری) ۔ جو کچھ اللہ نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے (بلا تامل) کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ بلاشبہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(اللہ نے یہ مویشی) آٹھ قسم (کے پیدا کئے ہیں) ، بھیڑ (کی قسم) میں سے (نر و مادہ) دو اور بکری (کی قسم) میں سے (نر و مادہ) دو ۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ اللہ نے ان دونوں (قسموں) کے نر حرام کئے ہیں یا مادائیں یا وہ بچے جو ان دونوں (قسموں) کی مادائیں اپنے رحم میں لئے ہوئے ہوں ؟ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو مجھ کو (اس کی) سند بتاؤ۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور (اسی طرح) اونٹ (کی قسم) میں سے (نر و مادہ) دو اور گائے (کی قسم) میں سے (نر و مادہ) دو ۔ (اے پیغمبر، ان سے) پوچھو کہ اللہ نے ان دونوں (قِسموں) کے نر حرام کئے ہیں یا مادائیں یا وہ بچے جو ان دونوں (قِسموں) کی مادائیں اپنے رحم میں لئے ہوئے ہوں ؟ پھر تم (جو بغیر کسی سند کے اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کہہ دیتے ہو تو) کیا اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں اس بارے میں حکم دیا تھا ؟ پھر (بتلاؤ، ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اللہ پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے۔ یقینا اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر اس کا کھانا حرام ہو الاّیہ کہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون، یا سور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا (اس جانور کا کھانا موجب) معصیت ہو جس پر غیر اللہ کا نام (ذبح کرتے ہوئے) لیا گیا ہو (تو بلاشبہ وہ بھی حرام ہے) ۔ پھر جو شخص (بھوک سے) لاچار ہو (اور) نافرمانی کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور نہ (حدِّ ضرورت سے) تجاوز کرنے والا ہو (اور وہ جان بچانے کے لئے ان حرام چیزوں میں سے کھالے) تو بلاشبہ تمہارا رب بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور جو لوگ یہودی ہوئے ان پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کردیا تھا اور گائے بکری کی چربی بھی حرام کردی تھی بجز اس (چربی) کے جو ان کی پیٹھ پر یا ان کی انتڑیوں پر لگی ہو یا ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی (کہ ان کا دائرہ رزق تنگ ہو) اور بلاشبہ ہم (اپنے بیان میں) سچے ہیں۔

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اگر ( اس پر بھی) یہ لوگ تمہیں جھٹلائیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تمہارا رب (بڑی) وسیع رحمت والا ہے (اس لئے مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے) مگر مجرموں سے اس کے عذاب کو (ہمیشہ کے لئے تو) ٹالا نہیں جاسکتا۔

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ مشرکین (تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ (دادا) شرک نہ کرتے اور نہ کسی (حلال) چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی (حق کو) جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ (بالآخر) ہمارے عذاب کا مزا چکھنا پڑا۔ (ان سے) پوچھو، کیا تمہارے پاس (اس بارے میں) کوئی دلیل ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے (دکھانے کے) لئے نکالو (اور پیش کرو۔ اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ نرے گمان پر چل رہے ہو اور محض قیاس آرائیاں کر رہے ہو۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ (تمہاری اس حجت کے مقابلے میں) پوری حجت تو اللہ ہی کی رہی، پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔

[15] مشرکین عرب کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ افعال اللہ کو پسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ استدلال اس غلط فہمی کی بنا پر تھا کہ اللہ کی مشیت اور اس کی رضا میں فرق نہیں کرتے تھے۔ مشیت الٰہی کی بنا پر انسان اپنے طریق عمل میں آزاد ہے، اچھی یا بری جو راہ چاہے اپنی پسند سے اختیار کرے لیکن رضائے الٰہی یہ ہے کہ انسان بدی کی راہ سے بچے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے نیکی اور بدی کی راہیں بتلا دیں اور اعمال نیک و بد کے نتائج سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد بھی جن لوگوں نے دیدہ و دانستہ بری راہ اختیار کی وہ مجرم قرار پائے اور اللہ کی حجت ان پر تمام ہوئی۔
Ayahs 6:150–151

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو (کہ اگر تم اپنے خود ساختہ قاعدوں سے حلال کو حرام ٹھہراتے ہو تو) اپنے گواہوں کو لا حاضر کرو جو اس بات کی گواہی دیں کہ (یہ چیزیں جن کو تم حرام بتاتے ہو) اللہ ہی نے ان کو حرام کیا ہے۔ پھر اگر (بالفرض) ان کے (جھوٹے) گواہ (ان کے موافق) گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ ہو کر ان کی سی نہ کہنا اور نہ ان لوگوں کی نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور (روز) آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ آؤ میں تمہیں (کلام الٰہی میں سے) پڑھ کر سناؤں جو کچھ تمہارے رب نے تم پر حرام کردیا ہے، وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک (کرتے رہو) ، اور مفلسی (کی وجہ) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو (کیونکہ) ہم (ہی) تم کو (بھی) رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی (دیں گے) اور بےحیائی کی باتوں کے پاس بھی نہ پھٹکنا (خواہ) وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ، اور نہ کسی جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے مگر حق (شرعی) کی بنا پر۔ یہ ہیں وہ باتیں جن کا حکم اللہ نے تمہیں دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔

[52] یعنی نہ اللہ کی ذات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراؤ، نہ اس کی صفات میں، نہ اس کے اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ ذات میں شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یعنی الوہیت میں کسی کو حصہ دار یا ہمسر قرار دیا جائے۔ مثلاً نصاریٰ کا عقیدہ تثلیث یعنی تین الہٰوں کو ماننا یا مشرکین عرب کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینا اور دوسرے مشرکین کا اپنے دیوتاؤں و دیویوں اور اپنے شاہی خاندان کے افراد کو اللہ کی ذات میں حصہ قرار دینا۔ صفات میں شرک کا مفہوم یہ ہے کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور جس مفہوم میں وہ اللہ کے لئے مستعمل ہیں ان کو یا ان میں سے کسی صفت کو دوسرے کے لئے قرار دینا۔ مثلاً کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ اس پر غیب کی ساری حقیقتیں روشن ہیں یا وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے یا وہ تمام نقائص اور کمزوریوں سے پاک اور بالکل بےخطا ہے۔ اختیارات میں شرک یہ ہے کہ اِلٰہ ہونے کی حیثیت سے جو اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہیں ان کو یا ان میں سے کسی کو اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کے لئے تسلیم کیا جائے۔ مثلاً فوق الفطری طریقے سے نفع وضرر پہنچانا، حاجت روائی و دستگیری کرنا، حفاظت و نگہبانی کرنا، دعائیں سننا اور قسمتوں کو بنانا یا بگاڑنا، حلال و حرام و جائز و ناجائز کی حدود مقرر کرنا اور انسانی زندگی کے لئے قانون و شرع تجویز کرنا۔ حقوق میں شرک یہ ہے کہ اِلٰہ ہونے کی حیثیت سے بندوں پر اللہ کے جو مخصوص حقوق ہیں وہ یا ان میں سے کوئی ایک حق اللہ کے سوا کسی اور کے لئے تسلیم کیا جائے۔ مثلاً رکوع و سجود، دست بستہ قیام، سلامی و آستانہ بوسی، شکر نعمت یا اعتراف برتری کے لئے نذر و نیاز اور قربانی، قضائے حاجات اور رفع مشکلات کے لئے مَنّت، مسائل و مشکلات میں مدد کے لئے پکارا جانا یہ سب اللہ کے مخصوص حقوق ہیں۔ یہ بھی اللہ کا حق ہے کہ اس کی غیر مشروط اطاعت کی جائے اور اس کی ہدایت کو صحیح اور غلط کا معیار مانا جائے اور کسی ایسی اطاعت کا حلقہ اپنی گردن میں نہ ڈالا جائے جو اللہ کی اطاعت سے آزاد ایک مستقل اطاعت ہو اور جس کے حکم کے لئے اللہ کے حکم کی سند نہ ہو لہذا جو شخص اللہ تعالیٰ کے ان حقوق میں سے کوئی ایک حق بھی دوسرے کو دیتا ہے تو وہ دراصل اسے اللہ کا مد مقابل اور ہمسر ٹھہراتا ہے۔ اسی طرح جو شخص یا جو ادارہ ان حقوق میں سے کسی حق کا مطالبہ انسانوں سے کرتا ہو وہ بھی دراصل اللہ کا مدِّمقابل اور ہمسر بنتا ہے خواہ زبان سے اِلٰہ ہونے کا دعویٰ کرے یا نہ کرے۔ [53] دختر کشی کے علاوہ قتل اولاد کی ملعون رسم بھی عرب میں رائج تھی اور دور جاہلیت میں مفلسی کی وجہ سے عرب بعض اوقات اپنی اولاد کو مار ڈالتے تھے کہ خود ہی کھانے کو نہیں اولاد کو کہاں سے کھلائیں۔ اسی لئے فرمایا کہ رزق دینے والا تو اللہ ہے تم کو بھی اور تمہاری اولاد کو بھی۔ سورة بنی اسرائیل آیت 13 میں '' من املاق '' کی بجائے '' خشیتہ املاق '' فرمایا ہے یعنی مفلسی کے ڈر سے اولاد کو مار ڈالتے تھے۔ یہ ان کا ذکر ہے جو فی الحال مفلس نہیں مگر ڈرتے ہیں کہ جب عیال زیادہ ہوں گے تو کہاں سے کھلائیں گے۔ کیونکہ پہلے طبقے کو عیال سے پہلے اپنی روٹی کی فکر ستا رہی تھی اور دوسرے کو زیادہ عیال کی فکر نے پریشان کر رکھا تھا شاید اسی لئے یہاں من املاق کے ساتھ (ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور انہیں بھی) اور سورة بنی اسرائیل کی آیت میں خشیتہ املاق کے ساتھ (ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی) ارشاد فرمایا۔ آج جاہلیت فرنگ کے زیر سایہ قتل اولاد کی جو تحریک '' خاندانی منصوبہ بندی '' کے نام سے جاری ہے، اس کا محرک بھی یہی خوف افلاس ہے۔ [54] اصل میں لفظ '' فواحش '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی بہت وسیع ہیں۔ تنہا زنا کاری نہیں، بدکاری، بےحیائی اور فحاشی کی تمام صورتیں اس کے اندر آگئیں۔ [55] یہ نہیں فرمایا کہ بےحیائی کے کام نہ کرنا بلکہ یہ کہ بےحیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جانا یعنی ان محرکات سے بھی اجتناب لازم ہے جو زنا کاری اور فحاشی کی طرف مائل کرتے ہیں، مثلاً عورتوں کا بےپردہ اور بن سنور کر اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا، عریاں تصاویر دیکھنا وغیرہ۔ [56] یعنی وہ امور جن سے مسلمان کا قتل مباح ہوتا ہو اور وہ یہ ہیں : قصاص، شادی شدہ کا زنا کرنا اور مرتد ہونا۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور (اسی طرح) یتیم کے مال کے نزدیک (بھی) نہ جاؤ مگر ایسے طور پر کہ (اس کے حق میں) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی (کی عمر) کو پہنچ جائے۔ اور انصاف کے ساتھ ناپ تول پورا کرو، ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ اور جب کبھی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ (معاملہ) قرابت داری ہی کا (کیوں نہ) ہو۔ اور اللہ سے (جو) عہد (کر چکے ہو اس کو) پورا کرو۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ نصیحت پکڑو۔

[57] اس وقت اس کی جائیداد اس کے حوالے کی جائے گی۔ [58] اللہ کا عہد پورا کرنے سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان اپنے اللہ سے کرے (الفاتحہ : 4، البقرہ : 285) اور وہ بھی جو اللہ کا نام لے کر بندوں سے کرے اور وہ بھی جو انسان اور اللہ، اور انسان اور انسان کے درمیان اسی وقت آپ سے آپ بندھ جاتا ہے جس وقت ایک شخص اللہ کی زمین میں پیدا ہوتا ہے۔ پہلے دونوں عہد شعوری و ارادی ہیں لیکن یہ تیسرا عہد ایک فطری عہد ہے۔ کسی شخص کا اللہ کے بخشے ہوئے وجود سے، اس کی عطا کی ہوئی جسمانی و نفسانی قوتوں سے، اس کی پیدا کی ہوئی زمین اور رزق سے فائدہ اٹھانا اور ان مواقع زندگی سے متمتع ہونا جو قوانین قدرت کی بدولت فراہم ہوتے ہیں، خود بخود فطرتاً اللہ کے کچھ حقوق اس پر عائد کردیتا ہے۔ یہ صرف اللہ ہی کا حق ہے کہ بندے اس کی حاکمیت تسلیم کریں، اس کے حکم کو منبع قانون مانیں، ہدایت و رہنمائی کے لئے اس کی طرف رجوع کریں، اس کی عبادت کریں، اسی کو مدد کے لئے پکاریں، اسی پر بھروسہ کریں اور اس کے اوامرو نواہی پر پابندی سے عمل کریں۔ نیز اس عہد میں عہد الست بھی آگیا۔ ملاحظہ ہو سورة الاعراف آیت 172 صفحہ 372