5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے عہد پورے کرو۔ تمہارے لئے مویشی جانور حلال کردیئے گئے ہیں بجز ان کے جو (آگے چل کر) تم کو بتائے جائیں گے۔ لیکن جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کرنا حلال نہ سمجھ لینا۔ بیشک اللہ جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

[1] یعنی احکام الٰہی کی اطاعت کا جو عہد کرچکے ہو اسے پورا کرو۔ اس میں قول وقرار اور کسی معاملے میں گواہی کی ذمہ داری سے لے کر اس عہد و میثاق تک جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے سب آگیا۔ [2] احرام وہ لباس ہے جو بےسلا ہوتا ہے اور حج وعمرہ کے لئے پہنا جاتا ہے اس لباس میں صرف ایک تہبند ہوتا ہے اور ایک چادر جو اوپر سے اوڑھی جاتی ہے اسے احرام اس لئے کہتے ہیں کہ اسے باندھنے کے بعد آدمی پر بہت سی وہ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں جو عام حالات میں حلال ہیں، مثلاً حجامت، خوشبو کا استعمال، ہر قسم کی زینت و آرائش اور قضاء شہوت وغیرہ۔ انہی پابندیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ کسی جانور کو ہلاک نہ کیا جائے، نہ شکار کیا جائے اور نہ کسی کو شکار کا پتہ بتایا جائے۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے شعائر کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینوں کی، نہ قربانی والے جانوروں کی، نہ ان جانوروں کی جن (کو اللہ کی نذر کے لئے علامت کے طور پر ان) کے گلوں میں پٹے باندھ دیئے گئے ہوں اور نہ ان (لوگوں) کی بےحرمتی کرو جو اپنے رب کے فضل اور (اس کی) خوشنودی کی تلاش میں بیت الحرام (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں۔ اور جب تم احرام کھول چکو تو شکار کرسکتے ہو۔ (اور دیکھو، ) کسی قوم کی دشمنی جس نے تم کو مسجد حرام (میں جانے) سے روکا ہے تم کو اس بات پر نہ ابھارے کہ زیادتی کرنے لگو۔ (تمہارا دستور العمل تو یہ ہونا چاہئے کہ) نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں تعاون نہ کرو اور اللہ (کے غضب) سے ڈرو کیونکہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔

[3] ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا کسی طرز فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا شعار کہلائے گی کیونکہ وہ اس کے لئے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ یہاں اللہ کے شعائر سے مراد وہ چیزیں ہیں جو اس کی عظمت و معبودیت کے لئے خاص علامات اور نشانات قرار دی گئی ہیں۔ ان میں کعبہ، صفاء، مروہ، مساجد وغیرہ شامل ہیں۔ [4] قرآن مال و دولت کو اللہ کے فضل سے تعبیر دیتا ہے۔ اس لئے یہاں مقصود کاروبار، تجارت اور اس کا فائدہ ہے۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تم پر حرام کئے گئے ہیں مردار (جانور) ، خون، سور کا گوشت، اور وہ (جانور) جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، (نیز) وہ جو گلا گھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر یا کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے (پھاڑ) کھایا ہو مگر ہاں وہ (حرام نہیں) جسے تم (اس کے مرنے سے پہلے) ذبح کرلو۔ اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ اور یہ (بھی منع ہے) کہ پانسوں کے ذریعے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ آج کافر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس ان سے نہ ڈرو بلکہ ہم سے ڈرو۔ آج کے دن ہم نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی۔ اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین پسند فرمایا۔ البتہ جو کوئی بھوک (کی شدت) سے بےقرار ہو (اور) گناہ پر مائل نہ ہو (اور وہ بہ مجبوری کوئی حرام چیز کھالے) تو بیشک اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[5] آستانے سے مراد وہ مقامات ہیں جن کو لوگ متبرک سمجھ کر اللہ کے سوا دوسروں کی نذر و نیاز چڑھاتے ہیں خواہ وہاں کوئی پتھر یا لکڑی کی مورت ہو یا نہ ہو۔ [6] یعنی تمہارا دین ایک مستقل نظام بن چکا ہے اور خود اپنی حاکمانہ طاقت کے ساتھ نافذ و قائم ہے اور کفار اب مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ اسے مٹا سکیں گے۔ [7] دین کو کامل کردینے سے مراد اس کو ایک ایسا نظام حیات بنادینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لئے کسی حال میں بھی اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ [8] اصل الفاظ ہیں آیت (وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ ۝) 5 ۔ المآئدہ :3) یعنی ہم نے اپنی نعمت تم پر پوری کردی۔ اتمام نعمت یہ ہے کہ اسلام جیسا مکمل اور ابدی قانون اور خاتم الانبیاء جیسا نبی تم کو مرحمت فرمایا۔ مزید برآں اطاعت و استقامت کی توفیق بخشی اور روحانی غذاؤں اور دنیاوی نعمتوں کا دستر خوان تمہارے لئے بچھا دیا اور حفاظت قرآن، غلبہ اسلام اور اصلاح عالم کے سامان مہیا فرما دیئے۔ [9] یعنی قیامت تک تمہارا دین یہی رہے گا اس کو منسوخ کر کے دوسرا دین تجویز نہ کیا جائے گا۔ یہ آیت حجتہ الوداع کے موقع پر 10 ھ میں نازل ہوئی تھی اور اس کے نزول کے تقریباً تین ماہ بعد رسول اللہ ﷺ رحلت فرما گئے۔ [01] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 173 صفحہ 50 اور متعلقہ حاشیہ 108 صفحہ 106۔
Ayahs 5:4–5

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے پوچھتے ہیں کہ (کھانے کی) کون سی چیز ان کے لئے حلال کی گئی ہے۔ کہو کہ ساری پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں۔ اور شکاری جانور تم نے شکار کے لئے سدھائے ہوں (اور شکار کا طریقہ) جیسا تم کو اللہ نے سکھایا ہے (یعنی اللہ کی دی ہوئی عقل و ذہانت سے تم نے نکال لیا ہے) ویسا ہی تم نے ان کو سکھا دیا ہو تو (یہ شکاری جانور) جو (شکار) پکڑ کر رکھیں تو تم اسے (بےکھٹکے) کھا سکتے ہو، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو اور اللہ سے ڈرتے رہو (اور یاد رکھو کہ) اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

(مسلمانو، ) آج تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کردی گئیں اور جو اہل کتاب ہیں ان کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ نیز (تمہارے لئے) پارسا مسلمان عورتیں اور ان لوگوں کی پارسا عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے (حلال ہیں) بشرطیکہ ان کے مہران کے حوالے کردو اور مقصود قید (نکاح) میں لانا ہو نہ کہ کھلم کھلا بدکاری کرنے یا چوری چھپے آشنائیاں کرنے کا۔ اور (یاد رکھو، ) جس نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا کیا (دھرا سب) اکارت گیا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

[11] جن کی حرمت قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے۔ [12] یعنی شکاری جانور کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہو، اس کے بعد اگر شکار زندہ ملے تو پھر اللہ کا نام لے کر اسے ذبح کرلینا چاہئے۔ اگر زندہ نہ ملے تو اس کے بغیر ہی وہ حلال ہوگا کیونکہ شکاری جانور چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا جا چکا تھا۔ تیر کا شکار بھی اسی حکم میں داخل ہے۔
Ayahs 5:6–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور اپنے سروں کا مسح کرلیا کرو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں (بھی دھو لیا کرو) اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو (نہا کر) پاک (صاف) ہوجاؤ۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی جائے ضرورت سے (ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو اور پانی میسر نہ ہو تو (وضو کی جگہ) پاک مٹی سے تیمم یعنی اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی ڈالے بلکہ وہ (تو یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک (صاف) رکھے اور تم پر اپنی نعمت (ہدایت) پوری کردے تاکہ تم شکر گزار ہو۔

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اس کو یاد رکھو اور اس کے اس عہد کو بھی جو اس نے تم سے لیا ہے جب تم نے (دعوت ایمان قبول کرتے ہوئے) کہا تھا کہ (اے اللہ) ہم نے (تیرا فرمان) سنا اور مان لیا۔ پس اللہ (کی نافرمانی کے نتائج) سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ دلوں (تک) کی باتیں جانتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم ہونے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس بات پر نہ ابھارے کہ تم (اس کے ساتھ) انصاف نہ کرو۔ (نہیں، ہر حال میں) انصاف کرو کہ (شیوہ) انصاف پرہیزگاری سے قریب تر ہے اور اللہ (کی نافرمانی کے نتائج) سے ڈرتے رہو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے (پوری طرح) باخبر ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے (تو) اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ (آخرت میں) ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

لیکن جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا (تو) ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں۔

[13] منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی اور کان کیونکہ سر کا حصہ ہیں اس لئے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئے تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔ [14] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ نمبر 35 صفحہ 238
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے اوپر اللہ کا وہ احسان یاد کرو جب ایک گروہ نے تم پر دست درازی کرنے کا ارادہ کرلیا تھا تو اللہ نے (اپنے فضل و کرم سے) ان کے ہاتھ تم پر (اٹھنے) سے روک دیئے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔

[15] یہودیوں کے ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خاص خاص صحابہ کو دعوت طعام دی تھی اور خفیہ طور پر سازش کی تھی کہ اچانک آپ پر ٹوٹ پڑیں گے اور کام تمام کردیں گے اور اس طرح اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا۔ لیکن وقت پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کو یہودیوں کے ناپاک ارادوں سے مطلع کردیا اور آپ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ یہاں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 5:12–13

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل سے (بھی) عہد (اطاعت) لیا تھا اور ان میں بارہ سردار مقرر کردیئے تھے۔ اور اللہ نے (ان سے یہ بھی) فرمایا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اگر تم نے نماز قائم رکھی، زکوٰۃ دیتے رہے، ہمارے پیغمبروں پر ایمان لاتے رہے اور ان کی مدد کرتے رہے اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہے۔ تو ہم ضرور بالضرور تمہاری برائیاں تم سے دور کردیں گے اور تم کو (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھر تم میں سے جس کسی نے اس کے بعد (بھی) کفر (کا راستہ اختیار) کیا تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پس ان لوگوں کے عہد (اطاعت) توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ (اب ان کا حال یہ ہے کہ) وہ (اللہ کی کتاب میں) الفاظ کا الٹ پھیر کرتے ہیں (اور بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں) اور جو کچھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اس کا (بڑا) حصہ بھلا بیٹھے ہیں۔ اور (اے پیغمبر، ) ان میں سے چند لوگوں کے سوا سب کی (کسی نہ کسی) خیانت کی اطلاع تم کو (آئے دن) ہوتی ہی رہتی ہے، پس تم (ان کی خیانتوں سے) درگزر کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرو۔ بلاشبہ اللہ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔

[16] یعنی اللہ کی راہ میں نیک کاموں میں اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ خرچ کرتے رہے۔ یہ اللہ کی شان کریمی ہے کہ بندہ اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے حالانکہ مال اللہ ہی کا دیا ہوا ہے۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں ہم نے ان سے (بھی اسی طرح) عہد لیا تھا۔ پھر (ایسا ہوا کہ) جو کچھ انکو نصیحت کی گئی تھی اس کا (بڑا) حصہ وہ بھلا بیٹھے، پس ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت تک کے لئے ڈال دیا۔ اور اللہ (قیامت کے دن) انہیں ضرور بتادے گا کہ وہ (دنیا میں) کیا کرتے رہے ہیں۔

[17] عیسائیوں نے بھی ایمان و عمل کا عہد فراموش کردیا اور راہ راست سے بھٹک گئے۔ وہ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر فرقہ دوسرے فرقے کی دشمنی میں سرگرم ہوگیا۔ چناچہ عیسائیوں میں صدیوں تک مذہبی فرقہ آرائی قائم رہی اور جس فرقے کی بن پڑی اس نے دوسرے فرقے کو خاک و خون میں ملایا۔ اب سیاسی اور اقتصادی فرقہ آرائی ہے اور باہمی بغض و عداوت میں یہ فرقہ آرائی پچھلی فرقہ آرائی سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ عیسائیوں کی فرقہ آرائیوں سے عبرت حاصل کرتے اور فرقہ آرائی کی گمراہی سے اپنی نگہداشت کرتے لیکن افسوس کہ مسلمان بھی اس گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔
Ayahs 5:15–20

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے اور کتاب (الٰہی) کی (وہ) باتیں جو تم چھپاتے رہے ہو ان میں سے بہت سی باتوں کو تمہارے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرجاتا ہے۔ اللہ کی طرف سے تمہارے پاس نور آچکا ہے اور ایک ایسی واضح کتاب (آ چکی) ہے

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے ان کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لاتا ہے اور (کامیابی وسعادت کی) سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ پھر کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ مریم کے بیٹے مسیح کو اور اس کی ماں کو اور (روئے) زمین پر جتنے انسان ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب پر حکومت اللہ ہی کی ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں، (اے پیغمبر، ان سے) پوچھو کہ (اگر ایسا ہی ہے تو) پھر وہ تمہارے گناہوں پر تم کو (وقتاً فوقتاً ) سزا کیوں دیا کرتا ہے ؟ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) تم (محض) بشر ہو اس کی مخلوقات میں سے۔ وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب پر حکومت اللہ ہی کی ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب، ہمارا (یہ) رسول (جو احکام الٰہی) تمہیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے رسولوں کا ظہور مدتوں بند رہنے کے بعد تمہارے پاس آیا ہے (اور ہم نے اسے اس غرض سے بھیجا ہے) کہ تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس نہ تو کوئی بشارت دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، سو (دیکھو، اب) تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم ( کے لوگو، ) اللہ کا اپنے اوپر وہ احسان یاد کرو جب اس نے تمہارے اندر نبی پیدا کئے، تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا جہان میں کسی (قوم) کو بھی نہیں دیا گیا تھا۔

[18] یعنی تورات و انجیل۔ [19] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تورات و انجیل کے مضامین جنہیں تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو وہ وحی الٰہی سے معلوم کر کے ظاہر کردیتا ہے اور یہ بجائے خود اس کے پیغمبر ہونے کی ایک شہادت ہے۔ [20] یعنی وہ امور جن کے اظہار سے مجرموں کی فضیحت و رسوائی کے سوا کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں۔ یہ عفو و حلم بجائے خود اس کے پیغمبرانہ اخلاق کی شہادت ہے۔ [21] مراد ہدایت ہے۔ [22] یعنی قرآن مجید۔
Ayahs 5:21–27

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے (برادران) قوم، اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔ اور (دشمن کے مقابلے میں) پیٹھ نہ پھیرنا ورنہ بالکل خسارے میں پڑجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ بولے، اے موسیٰ ، اس (سرزمین) میں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں، ہم تو وہاں ہرگز قدم نہ رکھیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل گئے تو پھر ہم ضرور داخل ہوجائیں گے۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

(اس پر) دو شخص جو (اللہ سے) ڈرنے والوں میں سے تھے اور جن کو اللہ نے (ایمان و یقین کی) نعمت عطا فرمائی تھی بول اٹھے کہ تم ان پر چڑھائی کر کے (شہر کے) دروازے تک تو چلو، سو جس وقت تم دروازے میں گھس گئے تو بلاشبہ تم ہی غالب رہوگے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے، اے موسیٰ ، ہم ہرگز وہاں کبھی بھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں۔ پس تم اور تمہارا رب (دونوں) جاؤ اور (ان لوگوں سے) لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

(اس پر) موسیٰ نے دعا کی کہ اے میرے رب، میں اپنی جان کے سوا اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر اختیار نہیں رکھتا پس تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

ارشاد ہوا، اچھا، تو وہ سر زمین ان پر چالیس سال تک کے لئے حرام کردی گئی ہے، یہ زمین میں بھٹکتے پھریں گے، سو تم ان (نافرمان لوگوں کی حالت) پر ذرا بھی ترس نہ کھانا۔

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ان لوگوں کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کا قصہ ٹھیک ٹھیک سنا دو ۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ (اس پر) وہ (دوسرا) بولا کہ میں ضرور تجھے قتل کر کے رہوں گا (پہلے نے) جواب دیا کہ اللہ تو صرف متقیوں کی (قربانی) قبول کرتا ہے۔

[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔
Ayahs 5:28–30

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے دست درازی کرے گا تب بھی میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہرگز دست درازی کرنے والا نہیں کیونکہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں تو یہ چاہتا ہوں کہ (زیادتی ہو تو تیری ہی طرف سے ہو اور) تو میرا اور اپنا (دونوں کا) گناہ سمیٹے اور دوزخیوں میں (جا) شامل ہو کہ ظلم کرنے والوں کے لئے یہی بدلہ ہے۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا تو اس نے اسے مار ڈالا اور نقصان اٹھانے والوں میں (شامل) ہوگیا۔

[24] یعنی یہ جاننے کے بعد بھی کہ تو میرے قتل کا ارادہ کر رہا ہے میں یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں کافر کے ساتھ میدان جنگ میں مقابلے کی بات نہیں بلکہ معاملہ دو بھائیوں کے درمیان ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کو قتل کی دھمکی دے رہا ہے اس صورت میں صحیح مومنانہ رویہ یہی ہے کہ آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا بھائی اس کے قتل کے درپے ہے اس کے قتل کے لئے پہل نہ کرے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنا بچاؤ بھی نہ کرے۔ ہابیل نے پہل کرنے کی نفی کی ہے، بچاؤ کی نفی نہیں کی۔ اپنی جان و مال کی مدافعت کرنا اللہ کے خوف کے منافی بات نہیں ہے۔
Ayahs 5:31–32

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ نے ایک کو ّا بھیجا جو زمین کو کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔ (یہ دیکھ کر) وہ بول اٹھا '' افسوس مجھ پر، کہ میں اس سے بھی گیا گزرا ہوگیا کہ اس کو ّے ہی کے برابر ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش (زمین کھود کر) چھپا دیتا !'' غرضیکہ وہ (اپنے کئے پر بہت ہی) پشیمان ہوا۔

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس بنا پر ہم نے بنی اسرائیل کے لئے (یہ حکم) لکھ دیا تھا کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر کسی جان کے بدلے یا (بغیر) زمین میں فساد کے تو گویا اس نے تمام انسانوں کا خون کیا اور جس نے کسی کی زندگی بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی دے دی۔ مگر (ان کا یہ حال ہے کہ) ہمارے رسول (یکے بعد دیگرے) ان کے پاس روشن دلیلوں کے ساتھ آتے رہے (اور ظلم و خون ریزی سے روکتے رہے) لیکن اس پر بھی ان میں سے اکثر لوگ (ایسے نکلے) جو ملک میں زیادتیاں کرنے والے تھے۔

[25] یہود اپنے کو اللہ کا بیٹا اور اس کا چہیتا سمجھتے تھے (آیت 18) اور اس پر فخر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گھمنڈ کو توڑنے کے لئے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ دونوں بھائی آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہونے کی وجہ سے برابر تھے مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہی مقبول ہوا جو متقی رہا۔ دوسرے نے ظلم کا ارتکاب کیا تو وہ مردود ہوگیا اور آدم (علیہ السلام) کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا۔
Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ان کی سزا تو بس یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں، یا ان کے ہاتھ اور پیر مخالف جانب سے کاٹے جائیں، یا وہ جلاوطن کردیئے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

[26] اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کا مطلب اس صالح نظام کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلامی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ ایسے نظام کو خراب کرنے کی کوشش کرنا، خواہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور رہزنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس نظام کو ختم کرنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کرنا ہو دراصل اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے۔ [27] یہاں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں اور امام وقت یا قاضی کو اختیار ہے کہ اپنے اجتہاد سے جرم کی نوعیت کے مطابق سزا نافذ کرے۔
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر (مسلمانو، ) جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پا جاؤ تو جان لو کہ اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[28] یعنی گرفتار کرلو۔ [29] یعنی توبہ کرنے والوں سے مذکورہ حدود توبہ کے بعد ساقط ہوجائیں گی بشرطیکہ وہ اپنے طرز عمل سے اپنی نیک چلنی اور امن پسندی ثابت کردیں۔ البتہ وارثوں اور مدعیوں کو اب بھی اختیار ہے کہ خواہ معاف کردیں، خواہ مال پر صلح کرلیں، خواہ ان کے بدلے میں خون کا مطالبہ کریں۔
Ayahs 5:35–37

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ (کی نافرمانی کے نتائج) سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا (وہ کبھی پاداش عمل سے بچنے والے نہیں) اگر ان کے قبضہ میں وہ (تمام مال و متاع) ہو جو زمین میں (موجود) ہے اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور بھی (پا لیں اور چاہیں کہ) قیامت کے عذاب کے بدلے میں فدیہ میں دے دیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ (کتنا ہی) چاہیں گے کہ (دوزخ کی) آگ سے نکل جائیں لیکن اس سے نکلنے نہ پائیں گے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔

[30] اصل میں لفظ '' وسیلہ '' استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی قرب کے ہیں۔ اہل لغت اور تابعین سے یہی معنی مروی ہیں اور قرب کا بہترین ذریعہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل ہے۔
Ayah 5:38

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

(مسلمانو، ) چوری کرنے والا اور چوری کرنے والی دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔ یہ ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت انگیز سزا، اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[31] دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ۔ پہلی چوری پر داہنا ہاتھ پہنچے سے کاٹا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (ڈھال کی قیمت اس زمانے میں دس درہم تھی) ۔ پھر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی چوری پر آپ نے ہاتھ کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ مثلاً پھل، ترکاری اور کھانے پینے کی چیزیں۔
Ayahs 5:39–40

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جس کسی نے اپنے ظلم کے بعد توبہ اور (اپنی) اصلاح کرلی تو اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ بیشک اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

(لوگو، اللہ کی رحمت و بخشش پر تعجب نہ کرو) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے ؟ وہ جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے بخش دے (کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں، ) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[32] توبہ سے ہاتھ کاٹنے کی سزا ساقط نہیں ہوسکتی کیونکہ ہاتھ کاٹنا تو انتظام معیشت کے لئے ہے نہ کہ نفس کی پاکی کے لئے جو صرف توبہ ہی سے حاصل ہوتی ہے۔