4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 4:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگو، اپنے رب (کی نافرمانی کے نتائج) سے ڈرو جس نے تم (سب) کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بھی پیدا کیا۔ اور ان دو سے بہت سے مرد و عورت (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ پس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے (اپنے حقوق) مانگتے ہو اور قرابت داری کے معاملے میں بھی (اللہ سے ڈرو) ۔ بیشک اللہ تمہارے اوپر نگراں ہے۔

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کے مال ان کے حوالے کردو اور (ان کی) اچھی چیزیں (اپنی) ناکارہ چیزوں سے نہ بدل ڈالو اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر خوردبرد نہ کرو (کیونکہ) یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے۔

[1] یعنی آدم سے۔ [2] یعنی حوا۔
Ayahs 4:3–4

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم (لڑکیوں) کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو (انہیں اپنے نکاح میں نہ لاؤ بلکہ) جو عورتیں تمہیں پسند ہیں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے، خواہ تین تین سے خواہ چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (ان کے درمیان) عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا ان عورتوں کو (زوجیت میں لاؤ) جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں۔ بےانصافی سے بچنے کے لئے یہ مصلحت کے زیادہ قریب ہے۔

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کیا کرو (یہ ان کا حق ہے) پھر اگر وہ (اپنی) خوشی سے (مہر کا) کچھ حصہ چھوڑ دیں تو تم اسے بےکھٹکے استعمال کرسکتے ہو۔

[3] یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرنے کی صورت یہ تھی کہ یتیم لڑکی کسی کی سرپرستی میں ہوئی اور وہ یہ دیکھ کر کہ کوئی اس کی طرف سے مہر وغیرہ کا مطالبہ کرنے والا اور اس کی حمایت پر کھڑا ہونے والا نہیں ہے اور اس کے حقوق مار لینے آسان ہیں اس کے ساتھ نکاح کرلیتا اور اس کی جائیداد اپنی جائیداد میں شامل کرلیتا یا دوسرے طریقوں سے ادائے حقوق میں بےالتفاتی برتتا۔ اس پر فرمایا کہ اگر تم انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح ہی مت کرو۔ دوسری عورتوں میں سے انتخاب کرسکتے ہو۔ ایک وقت میں ایک سے لے کر چار تک کی گنجائش ہے۔ [4] یہاں تعداد ازواج کے جواز کو عدل کی شرط سے مشروط کیا گیا ہے۔ عدل سے مراد یہاں ادائے حقوق میں عدل و مساوات ہے جو انسان کے اختیار میں ہے۔ مثلاً کوئی بیوی کھانے کپڑے کے بغیر نہ رہے، باقی جہاں تک محبت طبعی اور تعلق قلب کا سوال ہے اس میں مساوات قدرت بشری سے باہر ہے اور اس باب میں شریعت نے کوئی گرفت نہیں رکھی ہے۔ [5] لونڈیاں مراد ہیں یعنی وہ عورتیں جو جنگ میں گرفتار ہو کر آئی ہوں اور حکومت کی طرف سے لوگوں میں تقسیم کردی گئی ہوں۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) مال (و متاع) جسے اللہ نے تمہارے لئے قیام (معیشت کا ذریعہ) بنایا ہے ان (یتیموں) کے حوالے نہ کرو جو کم عقل ہوں، ہاں اس میں سے انہیں کھلاتے پہناتے رہو اور ان سے معقول بات کہو۔

[6] یعنی یہ مال تمہارا ہے اور تم ہوشیار ہوجاؤ گے تو تمہارے سپرد کردیا جائے گا۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں، پھر اگر ان میں صلاحیت پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور ایسا نہ کرنا کہ ان کے بڑے ہونے کے اندیشے سے فضول خرچی کر کے جلدی جلدی ان کا مال کھا (پی) ڈالو۔ (یتیم کا سرپرست) جو خوش حال ہو اسے چاہیے کہ (یتیم کا مال اپنے تصرف میں لانے سے) پرہیز کرے اور جو حاجت مند ہو وہ معروف طریقے سے کھائے (تو مضائقہ نہیں) ۔ پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ کرلو اور (یہ نہ بھولو کہ) حساب کے لئے اللہ کافی ہے۔

[7] یعنی اس حد تک لے کہ ہر غیر جانب دار معقول آدمی اس کو مناسب خیال کرے۔ نیز چوری چھپے نہ لے بلکہ علانیہ لے اور اس کا حساب رکھے۔
Ayahs 4:7–10

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

ماں باپ اور رشتہ داروں کے ترکے میں خواہ تھوڑا ہو یا بہت، لڑکوں کا حصہ ہے اور (اسی طرح) ماں باپ اور رشتہ داروں کے ترکے میں لڑکیوں کا حصہ ہے (اور یہ) حصہ (ہمارا) ٹھہرایا ہوا ہے۔

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جب (ایسا ہو کہ ترکے کی) تقسیم کے وقت (دور کے) رشتہ دار اور (خاندان کے) یتیم اور مساکین آموجود ہوں تو انہیں بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے دستور کے مطابق بات کرو۔

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور لوگوں کو (اس بات سے) ڈرنا چاہئے کہ (کسی حقدار کے حق میں ناانصافی کی جائے، ) اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جاتے تو انہیں ان کی طرف سے کیسا کچھ اندیشہ ہوتا۔ پس چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور درست بات کہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ یتیموں کا مال ناانصافی سے خوردبرد کرلیتے ہیں تو (درحقیقت) وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھر رہے ہیں اور عنقریب دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔

[8] اسلام سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور جو بیٹے نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مرد میراث کے حق دار سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا۔ ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو خواہ وہ نابالغ ہوں یا بالغ ماں باپ وغیرہ کے ترکے میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا خواہ میراث تھوڑی ہو یا بہت، منقولہ ہو یا غیر منقولہ، نیز اس آیت کی رو سے میت کی زندگی میں کوئی حق میراث پیدا نہیں ہوتا۔ یہ آیت تمہید ہے قانون وراثت کی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ پھر اگر (میّت کے وارث) دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو ترکے میں ان کا حصہ دو تہائی اور اگر ایک ہی لڑکی (وارث ہو) تو اس کو آدھا اور میّت کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ بشرطیکہ میّت کی اولاد ہو اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے وارث (صرف) اس کے والدین ہوں تو اس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ (مگر یہ حصے) میت کی وصیت (کی تعمیل) اور ادائے قرض کے بعد (دیئے جائیں (اور دیکھو، ) تمہارے باپ دادا بھی ہیں اور تمہاری اولاد بھی ہے۔ تم نہیں جانتے کہ نفع رسانی کے اعتبار سے کون سا رشتہ تم سے زیادہ نزدیک ہے (اور کس کا حق زیادہ ہونا چاہئے اور کس کا کم، اللہ کی حکمت ہی اس کا فیصلہ کرسکتی تھی، پس) اللہ نے حصے ٹھہرا دیئے ہیں اور بلاشبہ اللہ (اپنے بندوں کی مصلحتوں کا) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[9] عورت کی جسمانی ساخت اور عضویاتی فرائض نے اسے اس قابل ہی نہیں رکھا کہ تربیت اولاد کے ساتھ اس پر فکر معاش کی ذمہ داریاں بھی ڈال دی جائیں۔ اس لئے شریعت نے اس کا ذمہ دار مرد کو ٹھہرایا ہے اور گھر اور خاندان کا خرچ چلانا اس کے سر پر رکھا ہے اس لئے انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ ترکے میں اسے حصہ بھی بڑا ملے۔ پھر شادی شدہ عورت دہرے حصے کی حق دار ہے، ایک باپ کے ترکے میں سے اور دوسرا شوہر کے ترکے میں سے۔ [10] یہی حکم دو لڑکیوں کا بھی ہے۔ [11] باقی باپ کا۔ [12] باقی سب باپ کا۔ یہ واضح رہے کہ میت کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کا ترکے میں کوئی حصہ نہیں پہنچتا۔ [13] یعنی جس قدر وارثوں کے حصے گزر چکے یہ سب میت کی وصیت اور اس کے قرض کی ادائیگی کے بعد وارثوں کو دیئے جائیں گے۔ میت کا مال اول تو اس کے کفن دفن پر لگا یا جائے پھر جو اس سے بچے وہ اس کے قرض میں دیا جائے۔ پھر جو باقی رہے اس کو وصیت میں ایک تہائی تک صرف کیا جائے اس کے بعد جو رہے وہ وارثوں میں تقسیم کیا جائے۔ وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں کیونکہ اس کے بارے تو خود اللہ کی وصیت موجود ہے۔
Ayahs 4:12–13

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور جو (ترکہ) تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اگر ان کے اولاد نہیں ہے تو ان کے ترکے میں تمہارا آدھا، اور اگر ان کے اولاد ہے تو ان کے ترکے میں تمہارا چوتھائی (مگر) ان کی وصیت (کی تعمیل) اور (ادائے) قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اور تمہارے اولاد نہ ہو تو بیویوں کا حصہ چوتھائی اور اگر تمہارے اولاد ہو تو تمہارے ترکے میں سے بیویوں کا آٹھواں، (اور یہ حصے بھی) تمہاری وصیت (کی تعمیل) اور (ادائے) قرض کے بعد (دیئے جائیں) ۔ اور اگر کوئی مرد یا عورت ترکہ چھوڑ جائے اور وہ کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں (برابر کے) سب شریک۔ (یہ حصے بھی) میت کی وصیت (کی تعمیل) اور (ادائے) قرض کے بعد (دیئے جائیں) بشرطیکہ (وصیت اور قرض حقداروں کے لئے) ضرر رساں نہ ہو۔ (ترکے کی تقسیم کے بارے میں یہ) اللہ کا حکم ہے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) بردباد ہے۔

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ اللہ کی (ٹھہرائی ہوئی) حد بندیاں ہیں، پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا (تو) اللہ اس کو (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے

[41] ایک بیوی ہو یا اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو چوتھائی یا آٹھواں حصہ ان میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ [15] کلالہ اس کو کہتے ہیں جو بےاولاد اور جس کے والدین بھی نہ ہوں۔ [16] وارثان کلالہ کی تین صورتیں ہیں : (1) عینی یعنی سگے بھائی بہن، (2) اخیافی یعنی جو بھائی بہن میت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں، (3) علاّتی یعنی سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے میت کے ساتھ رشتہ رکھتے ہوں۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ اس آیت میں حکم صرف اخیافی بھائی بہنوں کے لئے ہے۔ رہی دوسری صورتیں تو ان کا حکم سورت کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے۔ [17] نہ عملاً نہ ارادۃً ۔ عملاً کی مثال یہ کہ وصیت ایک تہائی سے زائد کردی جائے جو خلاف شریعت ہے۔ ارادۃً یہ کہ وصیت رکھے تو ایک تہائی کے اندر ہی لیکن نیت مقصود یہ ہو کہ وارث کا حصہ کٹ جائے۔ ایسی وصیت کا نفاذ قانونی طور پر تو ہوجائے گا لیکن وصیت کرنے والا عند اللہ گنہگار ٹھہرے گا۔ [18] یعنی وہ بندوں کے مصالح کو خوب جانتا ہے اور ان کی نافرمانیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا۔
Ayahs 4:14–15

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی (ٹھہرائی ہوئی) حد بندیوں سے باہر نکل جائے گا (تو) اللہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا اور وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں تو اپنے آدمیوں میں سے چار کی گواہی اس پر لو، پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا اللہ ان کے لئے کوئی دوسری راہ نکالے۔

[19] یہ ایک بڑی خوفناک آیت ہے جس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون وراثت تبدیل کریں لیکن اس سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے اللہ کے قانون کو بدلا اور اس کی حدوں کو توڑا، کہیں عورتوں کو میراث سے مستقل طور پر محروم کیا گیا، کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ اب بعض مسلمان ریاستیں اہل مغرب کی تقلید میں '' وفات ٹیکس '' (Death Tax) رائج کر رہی ہیں۔
Ayahs 4:16–17

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو تم میں سے بدکاری کے مرتکب ہوں تو ان دونوں کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو ۔ بلاشبہ اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا (اور) رحمت والا ہے۔

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

البتہ (یاد رہے کہ) اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لئے ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھتے ہیں پھر فوراً توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ بھی ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اللہ بڑا علم و حکمت والا ہے۔

[20] ان دو آیتوں میں زنا کے متعلق ابتدائی احکام ہیں۔ پہلی آیت صرف زانیہ عورت کے بارے میں ہے اور دوسری زانیہ عورت اور زانیہ مرد دونوں کے بارے میں۔ بعد میں سورة نور کی وہ آیت نازل فرمائی جس میں مرد و عورت دونوں کے لئے ایک ہی سزا کا حکم ہے لیکن بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ ان آیات میں اور سورة نور میں ایک ہی جرم کی سزا نہیں بیان کی گئی بلکہ دو مختلف جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں جس بدچلنی کا ذکر کیا ہے اس سے مقصود وہ بدچلنی ہے جو دو عورتیں اور دو مرد آپس میں کریں جب کہ سورة نور میں زنا کا ذکر ہے پس دونوں احکام اپنی اپنی جگہ باقی ہیں۔
Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں کی توبہ (توبہ) نہیں جو (عمر بھر) برے کام کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے جب کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہوئی تو لگا کہنے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اور (اسی طرح) ان لوگوں کی توبہ بھی (توبہ) نہیں جو کافر ہی مرگئے۔ ایسے تمام لوگوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

[21] یعنی جب کوئی شخص کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجائے اور دوسری زندگی میں داخل ہو کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے جو وہ دنیا میں سمجھتا رہا تو اس وقت معافی مانگنے کا کوئی موقع نہیں۔
Ayahs 4:19–23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لئے جائز نہیں کہ عورتوں کو (میت کی) میراث سمجھ کر زبردستی ان پر قبضہ کرلو اور نہ انہیں اس غرض سے قید رکھو کہ تم نے جو کچھ انہیں (شوہر کے ترکے میں سے) دیا ہے اس کا کچھ حصہ وصول کرلو الایہ کہ ان سے کھلی ہوئی بدکاری سرزد ہوئی ہو۔ اور (دیکھو، ) بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کیا کرو اور اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو (بےضبط اور بےقابو نہ ہوجاؤ) ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز ناپسند ہو اور اس میں اللہ نے تمہارے لئے بہت کچھ بہتری رکھ دی ہو۔

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تمہارا ارادہ ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنے کا ہو تو گو پہلی بیوی کو تم نے ڈھیر سا مال دے دیا ہو تاہم اس میں سے کچھ بھی (واپس) نہ لینا۔ کیا تم بہتان لگا کر اور صریح گناہ کے مرتکب ہو کر (اپنا دیا ہوا) اس سے واپس لو گے ؟

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو اور وہ تم سے (نکاح کے وقت مہر و نفقہ کا) پکا قول لے چکی ہیں ؟

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جن عورتوں کے ساتھ تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے نکاح نہ کرنا، مگر جو ہوچکا (سو ہوچکا) ۔ یہ بڑی ہی بےحیائی (کی بات) ہے اور مکروہ و مردود شیوہ ہے اور بہت برا چلن۔

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھائی کی بیٹیاں اور بہنوں کی بیٹیاں، تمہاری (رضاعی) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساسیں (یہ سب) تم پر حرام ہیں اور جن بیویوں کے ساتھ تم نے صحبت کی ہے ان کی (پچھلی) اولاد جو تمہاری پرورش میں رہی ہیں (تم پر حرام ہیں) ، لیکن اگر ان بیویوں سے صحبت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور جو تمہارے حقیقی بیٹے ہوں ان کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) اور دو بہنوں کا ایک ساتھ (نکاح میں) رکھنا بھی (تم پر حرام ہے) مگر جو ہوچکا (سو ہوچکا) ، بیشک اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[22] یعنی شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میراث سمجھ کر اس کے والی وارث نہ بن بیٹھیں۔ شوہر کے مرنے کے بعد عورت آزاد ہے کہ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرے۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں (بھی حرام ہیں) جو (دوسروں کی) قید (نکاح) میں ہوں بجز ان کے جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں۔ یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لئے (قانون) ٹھہرا دیا گیا ہے۔ ان عورتوں کے علاوہ (جن کا ذکر اوپر گزر چکا تمام عورتیں) تمہارے لئے حلال ہیں بشرطیکہ شہوت رانی کے لئے نہیں بلکہ قید (نکاح) میں لانے کی غرض سے اپنے مال کے بدلے (نکاح کرنا) چاہو۔ پھر جن عورتوں سے تم نے لطف (صحبت) اٹھایا ہو تو ان سے جو مہر ٹھہرا تھا ان کے حوالے کردو اور اگر مہر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضا مندی سے کوئی بات ٹھہر جائے تو تم پر گناہ نہیں۔ بیشک اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[23] یعنی ایسی بیاہی ہوئی عورتیں حرام نہیں ہیں جو جنگ میں پکڑی ہوئی آئیں باوجود اس کے کہ ان کے شوہر زندہ دارالحرب میں موجود ہیں کیونکہ دارالحرب سے دارالسلام آنے کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔
Ayahs 4:25–28

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور تم میں سے جو کوئی اس کا مقدور نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے تو ان عورتوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئی ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمہارے ایمان (کا حال) خوب جانتا ہے۔ (آدم زاد ہونے کے اعتبار سے) تم ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ پس ان کے مالکوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کرلو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ان کے حوالے کردو تاکہ وہ قید نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں۔ پھر جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کوئی بےحیائی کا کام کریں تو ان پر اس سزا کی نصف سزا ہے جو آزاد عورتوں کے لئے ہے۔ یہ (حکم) تم میں سے اس کے لئے ہے جس کو بدکاری کا اندیشہ ہو اور اگر تم صبر کرو (اور بہتر وقت و حالت کا انتظار کرسکو) تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے، اور اللہ (انسانی کمزوریوں کو) درگزر کرنے والا اور (اپنے تمام احکام میں) رحمت رکھنے والا ہے۔

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ (انبیاء و صلحاء) جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے طریقے تم سے کھول کھول کر بیان کردے اور تم کو انہی کے طریقے پر چلائے اور تم پر توجہ فرمائے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر توجہ فرمائے اور جو لوگ نفسانی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے) ہٹ کر دور جا پڑو۔

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر سے (بوجھ) ہلکا کرے کیونکہ انسان (طبیعت کا) کمزور پیدا کیا گیا ہے (اور سخت احکام کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا) ۔

[42] لہذا لونڈی سے نکاح کرنا اپنے لئے عار نہ سمجھو۔ [25] اس رکوع میں لفظ محصنٰت دو مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، ایک شادی شدہ عورتیں جن کو شوہر کی حفاظت حاصل ہو، دوسرے آزاد عورتیں جن کو خاندان کی حفاظت حاصل ہو اگرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں۔ آیت 25 میں محصنٰت کا لفظ لونڈی کے مقابل غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کے مضمون سے صاف ظاہر ہے۔ بخلاف اس کے لونڈیوں کے لئے محصنت کا لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوا ہے اور صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہوجائیں آیت (فَاِذَآ اُحْصِنَّ 25؀ ) 4 ۔ النسآء :25) تب ان کے لئے زنا کی سزا اس سزا کی نصف ہے جو محصنٰت (غیر شادی شدہ عورتوں) کے لئے ہے۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایک دوسرے کے مال ناحق خورد برد نہ کیا کرو، ہاں اگر کوئی تجارت باہمی رضامندی سے ہو (اور اس میں کچھ ہاتھ لگ جائے تو وہ ناروا نہیں) ۔ اور (دیکھو، ) اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو۔ بیشک اللہ تمہارے حق میں ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور (یاد رکھو، ) جو کوئی ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو ہم اس کو (قیامت کے دن) ضرور (دوزخ کی) آگ میں جھونکیں گے۔ اور یہ اللہ کے نزدیک (ایک) آسان (سی بات) ہے۔

[26] اس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھا کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کو قتل یا خود کشی نہ کرو۔
Ayahs 4:31–32

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

(اور دیکھو، ) جن (کاموں کے کرنے) سے تم کو منع کیا جاتا ہے اگر ان میں سے کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو (تمہارے حساب سے) ختم کردیں گے اور تم کو عزت کے مقام میں داخل کریں گے۔

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں جو کچھ دے رکھا ہے اس کی تمنا نہ کرو (کہ کاش ہمیں یہ ملا ہوتا) ۔ مردوں نے جو کچھ کمایا ہے (اس کے مطابق) ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے (اس کے مطابق) ان کا حصہ ہے۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل (کی دعا) مانگتے رہو۔ بیشک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

[27] ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نصح صریح نے حرام قرار دیا ہو یا اس کے لئے اللہ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو، یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو۔ اس نوعیت کے گناہوں کے سوا جتنے افعال شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں وہ گناہ صغیرہ ہیں۔ البتہ گناہ صغیرہ اس حالت میں کبیرہ ہوجاتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تکبر کے جذبے سے کیا جائے اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتنا کے لائق نہ سمجھے جسے اس نے ایک برائی قرار دیا ہے۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور قریبی رشتے دار چھوڑ مریں اور جن لوگوں سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دے دو ۔ یقینا اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔

[28] عرب میں دستور تھا کہ دو شخص باہم قول وقرار کر کے ایک دوسرے کے اس طرح دوست و مددگار ہوجاتے کہ اگر ایک پر دیت لازم آئے تو دوسرا ادا کرے اور ایک کی وفات پر دوسرا اس کا وارث ہو۔ شروع شروع میں شریعت نے اسی دستور کو تھوڑی سی ترمیم کے بعد قائم رکھا۔ چناچہ ہجرت کے بعد انصار اور مہاجرین میں جن کے اقربا مسلمان نہیں ہوئے تھے مواخاۃ قائم کردی اور ایک ایک انصار کو ایک ایک مہاجر کا بھائی بنادیا اور وہی بعد میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے۔ جب ان کے اقربا مسلمان ہوئے تب یہ آیت اتری کہ میراث ہے قرابت داری پر اور قول کے بھائیوں سے زندگی میں سلوک کردو یا مرتے وقت کچھ وصیت کردو۔
Ayahs 4:34–40

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال (عورتوں پر) خرچ کرتے ہیں۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور (شوہروں کے پیٹھ پیچھے) اللہ کی حفاظت (و نگرانی) میں (ان کے حقوق و مفاد کی) نگہداشت کرتی ہیں۔ اور جن بیویوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو (پہلی دفعہ) انہیں سمجھاؤ، پھر انہیں اپنی خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو ۔ اور (اس پر بھی نہ مانیں تو) ان کو مارو پیٹو، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ان پر (دست درازی کے لئے) راہ نہ ڈھونڈو۔ (یاد رکھو) بیشک اللہ سب کے اوپر اور (سب سے) بڑا ہے (پس اس سے ڈرتے رہو) ۔

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تمہیں میاں بیوی میں کھٹ پٹ کا اندیشہ ہو تو ایک پنچ مرد کے کنبے میں سے مقرر کرو اور ایک پنچ عورت کے کنبے میں سے۔ اگر دونوں پنچوں کی نیت اصلاح حال کی ہوگی تو اللہ میاں بیوی میں باہم موافقت کرا دے گا۔ بیشک اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) باخبر ہے۔

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ، قرابت داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، پڑوسیوں کے ساتھ خواہ قرابت والے ہوں خواہ اجنبی، نیز آس پاس کے بیٹھنے والوں اور مسافروں کے ساتھ اور جو (لونڈی غلام) تمہارے قبضے میں ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ (کیونکہ) اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اترائیں اور بڑائی مارتے پھریں،

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو لوگ بخل کریں (سو کریں) اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی ترغیب دیں اور اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اسے چھپائیں۔ ایسے کافروں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ بھی (اللہ کو ناپسند ہیں) جو مال خرچ کریں (تو) لوگوں کے دکھانے کو اور (درحقیقت) نہ اللہ پر ایمان رکھیں اور نہ روز آخرت پر۔ اور (سچ تو یہ ہے) شیطان جس کا ساتھی ہو تو وہ (بہت ہی) برا ساتھی ہے۔

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا کیا بگڑ جاتا اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دے رکھا تھا اس کو (خلوص نیت سے اس کی راہ میں) خرچ کرتے اور اللہ تو ان کے حال سے واقف (ہی) ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

اللہ (کسی پر) ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا، بلکہ کسی نے (ذرہ بھر بھی) نیکی کی ہو تو وہ اسے دوگنا کردے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

[29] قوام کے معنی ہیں محافظ، مدبر اور منتظم کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ مرد عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔ [30] یعنی مردوں کو عورتوں پر جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔ [31] مال سے مراد ہے مہر اور نان نفقہ [32] یعنی ان کے ساتھ ہم بستری موقوف کردو۔