4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 4:79–82

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اصل حقیقت تو یہ ہے کہ) جو کچھ فائدہ تمہیں پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو نقصان تمہیں پہنچے وہ خود تمہاری طرف سے ہے اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور (تمہاری رسالت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے (فی الحقیقت) اللہ کی اطاعت کی اور جس نے روگردانی کی تو (اے پیغمبر، تم سے اس کی کچھ باز پرس نہیں کیونکہ) ہم نے تمہیں لوگوں پر پاسبان (بنا کر) تو نہیں بھیجا ہے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ لوگ (تمہارے سامنے تو) کہتے ہیں کہ (ہمارا کام) اطاعت (کرنا) ہے لیکن جب تمہارے پاس سے (اٹھ کر) باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو (بیٹھ بیٹھ کر) تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے اور اللہ (کا فرشتہ) ان کے راتوں کے مشوروں کو لکھتا جاتا ہے۔ پس (جب ان لوگوں کا حال یہ ہے تو چاہئے کہ) تم ان کی کچھ پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور (کارسازی کے لئے تو) اللہ کی کارسازی کافی ہے۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

پھر کیا یہ لوگ قرآن (کے مطالب) میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ (کہ کہیں سر موفرق نہیں، ) اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی (اور) کے پاس سے (آیا) ہوتا تو ضرور اس میں بہت سے اختلاف پاتے۔

[65] یعنی خود تمہاری بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔
Ayahs 4:83–91

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے پاس امن کی یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ (فوراً ) اسے (لوگوں میں) پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ (اسے پھیلانے کی بجائے) اس کے بارے میں رسول یا اپنے اولوالامر کی طرف رجوع کرتے تو ان میں سے جو لوگ صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت (شامل حال) نہ ہوتی تو (معدودے) چند کے سوا تم (سب کے سب) شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے۔

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم اللہ کی راہ میں (دشمنوں سے) لڑو، تم پر اپنی ذات کے سوا کسی کی ذمہ داری نہیں۔ البتہ مومنوں کو (جنگ کی) ترغیب دو ، عجب نہیں کہ اللہ کافروں کے دباؤ کو روک دے۔ اللہ کا زور (سب سے) زیادہ قوی اور اس کی سزا (سب سے) زیادہ سخت ہے۔

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص اچھی (بات کی) سفارش کرے گا (آخرت میں) اس (نیک کام کے اجر میں) سے اس کو بھی حصہ ملے گا اور جو بری (بات کی) سفارش کرے گا اس (کے وبال) میں وہ بھی شریک ہوگا اور اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

(مسلمانو، ) جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم (اس کے جواب میں) اس سے بہتر (طور پر) سلام کرو یا (کم از کم جو کچھ کہا گیا ہے) اس کو لوٹا دو ۔ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ (وہ ذات پاک ہے کہ اس) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ضرور قیامت کے دن تم سب کو (اپنے حضور) جمع کرے گا، اس میں (ذرا بھی) شک نہیں، (یہ خود اللہ کا قول ہے) اور اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی (ہوسکتی) ہے

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

(مسلمانو، ) پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے ہو حالانکہ اللہ نے ان کے کرتوتوں کے باعث انہیں الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ جس کو اللہ نے گمراہ کردیا اس کو راہ راست پر لے آؤ ؟ (یاد رکھو، ) جس کو اللہ گمراہ کر دے پھر تم اس کے لئے کوئی راہ نہیں نکال سکتے۔

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

یہ (منافق) تو (دل سے) چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ خود کفر کر رہے ہیں تم بھی کفر کرنے لگو تاکہ (وہ اور) تم (سب) یکساں ہوجاؤ۔ پس ان میں سے (کسی کو اپنا) دوست نہ بنانا جب تک یہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ پھر اگر (ہجرت سے) منہ موڑیں تو جہاں پاؤ ان کو پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے (کسی کو اپنا) دوست اور مددگار نہ بنانا۔

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

البتہ (وہ منافقین اس حکم میں داخل نہیں) جو ایسی قوم سے جا ملے ہوں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے، یا تمہارے ساتھ لڑنے سے یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے دلبرداشتہ ہو کر تمہارے پاس آئیں۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے لڑتے۔ پس اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہارے ساتھ سلامت روی رکھیں تو اللہ نے ایسے لوگوں پر تمہارے لئے (دست درازی کرنے کی) کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

(ان کے علاوہ) کچھ اور لوگ تم ایسے بھی پاؤ گے جو تم سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی، (مگر حال یہ ہے کہ) جب کبھی کوئی ان کو فساد کی طرف لوٹا کرلے جائے تو یہ اوندھے منہ اس میں جا گریں۔ سو ایسے لوگ اگر تم سے کنارہ کش نہ رہیں اور تمہارے ساتھ سلامت روی نہ رکھیں اور (لڑائی سے) ہاتھ نہ روکیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف (جنگ کی) ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے۔

[57] اولوالامر کی تشریح اس سورت کے حاشیہ 48 صفحہ 230 میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) مومن کو سزا وار نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کر ڈالے مگر یہ کہ غلطی سے (ایسا ہوجائے) ۔ اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کر ڈالے تو ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے۔ الاّ یہ کہ (وارثان مقتول خود ہی خوں بہا) معاف کردیں۔ اور اگر مقتول اس قوم میں سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور وہ (خود) مسلمان ہو تو بس ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہو جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ (صلح) ہے تو مقتول کے وارثوں کو خون بہا دینا ہوگا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا (بھی) ۔ اور جس کسی کو (مسلمان غلام آزاد کرنے کا) مقدور نہ ہو تو وہ لگاتار دو مہینے روزے رکھے کہ (اس گناہ پر) توبہ کا یہ طریقہ اللہ کی طرف سے (ٹھہرایا ہوا) ہے۔ اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے۔

[58] دیت کی مقدار سو اونٹ یا دو سو گائیں یا دو ہزار بکریاں سنت سے ثابت ہے۔ اگر قاتل دوسری شکل میں خوں بہا ادا کرنا چاہے تو اس کی مقدار انہی چیزوں کی بازاری قیمت کے لحاظ سے متعین کی جائے گی۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

(مسلمانو، ) جب تم اللہ کی راہ میں (جنگ کے لئے) باہر نکلو تو (دوست و دشمن کی) تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص (اظہار اسلام کے لئے) تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو تو مومن نہیں۔ کیا تم دنیا کے سروسامان کے طلب گار ہو ؟ (اگر یہی بات ہے) تو اللہ کے ہاں (تمہارے لئے) بہت سی (جائز) غنیمتیں (موجود) ہیں۔ تمہاری حالت بھی تو پہلے ایسی ہی تھی۔ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (کہ تمام باتیں اسلامی زندگی کی حاصل ہوگئیں) ۔ پس (لڑنے سے پہلے) تحقیق کرلیا کرو کیونکہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

[59] یعنی محض جان بچانے کے لئے اظہار اسلام کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس شخص کا قتل صرف اس کے اظہار اسلام سے حرام ہوجاتا ہے، اس کے باطن کی تفتیش تمہارے ذمے نہیں۔ [60] یعنی اگر مال غنیمت کی طمع تمہیں ایک مدعی اسلام کے قتل میں جلد بازی اور بےاحتیاطی کی طرف لا رہی ہے تو یاد رکھو کہ مال غنیمت کا سرچشمہ بھی اللہ ہی کے پاس ہے اور وہ اس پر قادر ہے کہ وہ تمہیں اس کی بڑی سے بڑی مقدار قانون شریعت کے اتباع ہی سے عنایت فرمائے۔ [61] یعنی تمہارے اوپر بھی تو یہ دور گزر چکا ہے کہ تمہارے پاس اسلام کا ثبوت بجز زبانی دعوے کے اور کیا تھا۔ تمہارے اخلاص قلب اور حسن اعمال کی شہادت تو بہت بعد کو پیش ہوئی۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

مسلمانوں میں سے بلا عذر (گھر) بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ نے جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہ اعتبار درجے کے فضیلت دی ہے اور (یوں تو) بھلائی کا وعدہ اللہ نے سب (ہی) سے کر رکھا ہے اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو (گھر) بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے اعتبار سے برتری دے رکھی ہے۔

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

(یعنی) اللہ کی طرف سے (بہت سے) درجے اور مغفرت و رحمت اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[62] خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ بیمار و معذور لوگوں کو تو جہاد کا حکم نہیں، باقی سب مسلمانوں میں جہاد کرنے والوں کے بڑے درجے ہیں جو جہاد نہ کرنے والوں کے نہیں، اگرچہ جنتی وہ بھی ہیں جو جہاد نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں یعنی اگر مسلمانوں کی کافی تعداد بقدر ضرورت جہاد کرتی رہے تو جہاد نہ کرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں لیکن اگر نفیرعام ہو تو جہاد فرض عین ہوجاتا ہے اس صورت میں جو مسلمان جہاد میں شریک نہیں ہوتے وہ گنہگار ہیں۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جو لوگ (دشمنوں کے ساتھ رہ کر) اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے جب فرشتوں نے ان کی روح قبض کی تو پوچھا کہ تم کس حال میں تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ملک میں بےبس تھے۔ فرشتوں نے کہا کہ (اگر تم بےبس تھے تو) کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں (کسی طرف کو) ہجرت کر کے چلے جاتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

البتہ جو مرد، عورتیں اور بچے (واقعی) ایسے کمزور ہوں کہ نہ کوئی تدبیر ہی کرسکتے ہوں اور نہ (ہجرت کی) کوئی راہ پاتے ہوں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

تو بعید نہیں کہ اللہ ایسے لوگوں کو معاف کردے اور اللہ بڑا معاف فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

(اور دیکھو، ) جو کوئی اللہ کی راہ میں (اپنا گھر بار چھوڑ کر) ہجرت کرے گا تو (اللہ کی) زمین میں بہت سی اقامت گاہیں اور (ہر طرح کی) کشادگی پائے گا اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر (راستے ہی میں) اسے موت آجائے تو اللہ کے ذمے اس کا اجر واجب ہوگیا اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[63] یعنی دین کے اعتبار سے تمہارا کیا حال تھا۔ [64] یعنی احکام دین پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہ تھا۔ [65] جاننا چاہئے کہ ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایسے مقام کو جہاں اس کے لئے اپنے دین پر قائم رہنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہو، چھوڑ کر ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں وہ اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرسکتا ہو اور اگر دارالسلام موجود ہو، اس کی طرف ہجرت کی راہ ہموار ہو، کوئی سخت مجبوری نہ ہو تو ایسے مقام سے ہجرت کر کے دارالسلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں۔ (ملاحظہ ہو سورة عنکبوت حواشی 27-26۔ [66] جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے عاجز آ کر پیغمبر اسلام نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو قدرتی طور پر ملک عرب دو حصوں میں بٹ گیا۔ دارالہجرت اور دارالحرب۔ دارالہجرت مدینہ تھا جہاں مسلمان ہجرت کر کے جمع ہوگئے تھے۔ دارالحرب ملک کا وہ حصہ تھا جو دشمنوں کے قبضے میں تھا اور اس کا صدر مقام مکہ تھا۔ دارالحرب میں جو مسلمان تھے وہ اعتقاد و عمل کی آزادی سے محروم تھے اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ مکہ سے ہجرت کر جائیں۔ اگر باوجود استطاعت نہیں کریں گے تو اپنی کوتاہی عمل کے لئے جواب دہ ہوں گے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بلا کسی مجبوری و معذوری کے ہجرت نہ کی اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر کفار کے درمیان رہنا پسند کیا اور عذاب دوزخ کے مستحق ہوئے۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کے لئے نکلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اگر نماز میں قصر کرو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

[67] قصر سے مراد نماز میں کمی کرنا ہے یعنی چار رکعت کی جگہ دو رکعت۔ جہاں تک سنتوں کا تعلق ہے تو نبی ﷺ کے عمل سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ سفر میں فجر کی سنتوں اور عشاء کے وتر کا التزام فرماتے تھے مگر باقی اوقات میں صرف فرض نماز پڑھتے تھے۔ [68] بعض لوگوں نے اس فقرے کا یہ مطلب لیا ہے کہ قصر صرف حالت جنگ کے لئے ہے، امن کی حالت میں نہیں۔ لیکن یہ بات تقریباً تواتر سے ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے دونوں حالت میں قصر فرمایا ہے اور صحابہ کرام کا بھی اس پر عمل رہا۔
Ayahs 4:102–103

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب تم مسلمانوں میں موجود ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو مسلمانوں کی ایک جماعت (مقتدی بن کر) تمہارے ساتھ کھڑی ہوجائے اور وہ لوگ اپنے ہتھیار لئے رہیں، پھر جب سجدہ کر چکیں تو پیچھے ہٹ جائیں اور دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی ہے آجائے اور تمہارے ساتھ نماز پڑھ لے اور وہ لوگ پوری طرح ہوشیار رہیں اور اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ کافروں کی (تو) یہ تمنا ہے کہ تم (ذرا بھی) اپنے ہتھیاروں اور سامان (جنگ) سے غافل ہوجاؤ تو یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑیں۔ ہاں اگر تم کو بارش کی وجہ سے کچھ تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں مگر پوری طرح ہوشیار رہو۔ (یقین رکھو کہ) اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز پوری کر چکو تو کھڑے بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے رہو۔ پھر جب تم دشمن کی طرف سے مطمئن ہوجاؤ تو (معمول کے مطابق) نماز قائم کرو کیونکہ نماز پابندی وقت کے ساتھ مومنوں پر فرض ہے۔

[69] یہ ہے حالت جنگ میں نماز پڑھنے کا طریقہ۔ اگر جنگ کی حالت ایسی ہو کہ نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر قضا کرنی چاہئے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے غزوہ خندق میں کیا تھا۔
Ayahs 4:104–105

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اس گروہ کے تعاقب میں ہمت نہ ہارو۔ اگر (لڑائی میں) تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو جیسے تم کو تکلیف پہنچتی ہے ان کو بھی تکلیف پہنچتی ہے اور (تمہاری ان پر یہ فوقیت ہے کہ) تم اللہ سے (اجر کی) ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ جو (راہ راست) اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اور خیانت کرنے والوں کی طرف داری میں نہ جھگڑو

[70] یعنی دشمنوں کا گروہ۔
Ayah 4:106

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ سے (بھول چوک کی) معافی چاہو۔ بیشک اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[71] ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مسلمان نے جو دل میں منافق تھا اور جس کا نام اطمعہ یا بشیر تھا چوری کر کے مال مسروقہ ایک یہودی کے ہاں رکھ دیا تھا۔ یہودی اپنے آپ کو بےقصور بتلا رہا تھا۔ اطمعہ کے گھرانے کے لوگ اطمعہ کی حمایت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہودی کافر ہے اور اس کی بات نہیں ماننی چاہئے۔ قریب تھا کہ نبی ﷺ مقدمے کی ظاہری روداد سے متاثر ہو کر اس یہودی کے خلاف فیصلہ فرما دیتے کہ یہ آیات نازل ہوئیں اور معاملے کی ساری حقیقت کھول دی گئی۔
Ayahs 4:107–108

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں (تو اے پیغمبر، ) تم ان کی طرف سے نہ جھگڑو۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہوں۔

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

(ایسے لوگ) انسانوں سے تو (اپنی خیانت) چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے۔ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتوں کو (چھپ کر) ان باتوں کے مشورے کرتے ہیں جن سے وہ راضی نہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) اللہ کے احاطہ علم میں ہے۔

[72] مراد منافقین ہیں جن کا ذکر پچھلی آیت میں '' خائنین '' کے لفظ سے ہوا ہے اس لئے کہ ان کی خیانت سے اللہ اور رسول کا کچھ نہیں بگڑتا۔ بگڑتا تو انہی کا ہے لیکن ان کو نظر نہیں آتا۔
Ayahs 4:109–112

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تم نے دنیا کی زندگی میں تو ان (مجرموں) کی طرف سے جھگڑا کرلیا لیکن (بتلاؤ) قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ کے ساتھ کون جھگڑے گا یا کون ان کا وکیل بنے گا ؟

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور (یاد رکھو، ) جو شخص کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ کو بڑا مغفرت والا (اور) بڑا رحمت والا پائے گا۔

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کوئی (بدعملی کرکے) برائی کماتا ہے تو وہ اپنی جان کے لئے کماتا ہے (اس کا وبال اسی کے سر ہے) ۔ اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو کوئی کسی خطا یا گناہ کا مرتکب ہو پھر وہ اپنے قصور کو کسی بےگناہ پر تھوپ دے تو (درحقیقت) اس نے بہتان اور صریح گناہ (کا بوجھ اپنی گردن پر) لاد لیا۔

[73] اس آیت میں خطاب اس گروہ سے ہے جو اطمعہ کی حمایت میں جتھا بندی کر کے فریق ثانی سے جھگڑتے تھے۔
Ayahs 4:113–114

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ تم کو غلط فہمی میں ڈالنے کا تہیہ کر ہی چکا تھا حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں کر رہے ہیں اور (اپنی چالاکیوں سے) تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو ایسی باتیں سکھا دی ہیں جو تم کو معلوم نہ تھیں اور تم پر اس کا بڑا ہی فضل ہے۔

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ ہاں جو کوئی (پوشیدہ طور پر) خیرات یا (کسی اور) نیک کام کے لئے یا لوگوں میں صلح صفائی کی ترغیب دے (تو یہ البتہ بھلائی ہے، ) اور جو کوئی اللہ کی خوشنودی کی طلب میں ایسے کام کرے گا تو (قیامت کے دن) ہم اس کو اجر عظیم عطا کریں گے۔

[74] یعنی یہ لوگ اگر اصل مجرم کی حمایت کر کے آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کردیتے اور اپنے حق میں غلط فیصلہ حاصل کرلیتے تو وہ خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرلیتے کہ حق ان کے ساتھ ہوگیا حالانکہ حاکم عدالت کا کسی غلط فہمی کی بنا پر فیصلہ کردینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔
Ayahs 4:115–116

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو شخص (اللہ کے) رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ راہ ہدایت اس پر واضح ہوگئی اور مومنوں کی راہ کے سوا (دوسری راہ) اختیار کرے تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور (آخرکار) اسے دوزخ میں جھونکیں گے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

اللہ (یہ بات) کبھی معاف کرنے والا نہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک گردانا جائے۔ ہاں اس کے سوا (جتنے گناہ ہیں) وہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے اللہ کے ساتھ (کسی کو) شریک گردانا وہ (راہ راست سے) بڑی دور بھٹک گیا۔

[75] جب نبی ﷺ نے مذکورہ بالا مقدمے میں یہودی کو بری کردیا اور اطمعہ کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ منافق کھلم کھلا مخالفت پر آمادہ ہوگیا اور مسلمانوں سے الگ ہو کر مشرکین سے جا ملا۔ اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 4:117–118

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ (مشرک) اللہ کو چھوڑ کر پکارتے بھی ہیں تو بس دیویوں کو اور (دراصل) وہ اس شیطان سرکش کو پکارتے ہیں۔

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس نے (اللہ سے) کہا تھا کہ '' میں تیرے بندوں سے (نذر و نیاز کا) ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا

[76] کیونکہ مشرکین شیطان کے کہے میں آ کر دیویوں کو پکارتے ہیں لہذا دیویوں کو پکارنا عین شیطان کو پکارنا ہے۔