4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 4:159–162

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو مرتے وقت مسیح پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہی دے گا۔

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

الغرض یہودیوں کے اس ظلم کی وجہ سے ہم نے (کئی ایک) اچھی چیزیں ان پر حرام کردیں جو (پہلے) حلال تھیں اور اس وجہ سے بھی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہت روکنے لگے تھے

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ اس سے روک دیئے گئے تھے اور (نیز) لوگوں کا مال ناجائز طریقہ پر کھانے کی وجہ سے ان میں جو لوگ (اس طرح احکام حق کے) منکر ہوگئے، ہم نے ان کے لئے (آخرت میں) دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن (اے پیغمبر، ) ان میں جو لوگ (کتاب اللہ کے) علم میں پختہ ہیں اور ایمان والے ہیں کہ ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان پر (بھی) جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں اور نماز قائم کرنے والے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں تو ایسے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے۔

[101] مطلب یہ ہے کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لاتے ہیں مگر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایمان لانا مفید نہیں ہوسکتا۔ [102] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بتلائیں گے کہ فلاں فلاں نے میری تصدیق کی تھی اور فلاں فلاں نے میری تکذیب۔
Ayahs 4:163–164

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یقینا ہم نے تمہاری طرف (اسی طرح) وحی بھیجی ہے جس طرح ہم نے نوح اور (دوسرے) پیغمبروں کی طرف جو ان کے بعد ہوئے وحی بھیجی تھی اور (جس طرح) ہم نے ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب اور اولاد یعقوب، عیسیٰ ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی، اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور ہم نے ان پیغمبروں پر (بھی وحی بھیجی) جن کا حال ہم (قرآن میں) پہلے تم سے بیان کرچکے ہیں اور ان پیغمبروں پر (بھی) جن کا حال ہم نے تم سے بیان نہیں کیا، اور (ہم نے تو) موسیٰ سے باتیں (بھی) کیں۔

[103] وحی کے لغوی معنی ہیں '' اشارہ صریح '' اور '' اشارہ مخفی '' یعنی ایسا اشارہ جو سرعت کے ساتھ اس طرح کہا جائے کہ بس اشارہ کرنے والا جانے یا وہ شخص جسے اشارہ کیا گیا ہے۔ باقی کسی اور شخص کو اس کا پتہ نہ چلنے پائے۔ اس لفظ کو اصلاحاً خاص اس ہدایت کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو بجلی کی کوند کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کسی بندے کے دل میں ڈالی جائے۔
Ayahs 4:165–170

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(یہ سب) پیغمبر ( نیک عملی کے نتائج کی) خوشخبری دینے والے اور ( بدعملی کے نتائج سے) ڈرانے والے (تھے) تاکہ پیغمبروں کے (آنے کے) بعد لوگوں کو اللہ کے سامنے (کوئی) عذر نہ رہے، اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

(اے پیغمبر، اگر لوگ تمہاری سچائی سے انکار کرتے ہیں تو کریں) لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے (کمال) علم سے نازل کیا اور فرشتے بھی (اس کی) گواہی دیتے ہیں اور گواہی تو اللہ ہی کی کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا تو بلاشبہ وہ راہ (راست) سے بڑی دور بھٹک گئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

(نیز) جو لوگ کافر ہوئے اور (لوگوں پر) ظلم (و ستم بھی) کرتے رہے تو اللہ انہیں (کبھی) نہ بخشے گا اور نہ ان کو کوئی راہ دکھائے گا

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

بجز جہنم کی راہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کے نزدیک یہ (ایک) آسان (سی بات) ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو، (یہ) رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے (دین) حق لے کر آگیا ہے پس ایمان لاؤ کہ تمہارے لئے (اس میں) بہتری ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو (جان لو کہ) اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور (یاد رکھو، ) اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[104] یعنی پیغمبروں کے آجانے کے بعد اب کسی کو قیامت میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہا کہ ہمیں راہ حق کی طرف کسی نے دعوت نہ دی تھی۔
Ayahs 4:171–175

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب، اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں (کوئی بات) حق کے سوا نہ کہو۔ مریم کا بیٹا عیسیٰ مسیح (اس کے سوا کچھ نہیں کہ) اللہ کا ایک رسول ہے اور اس کا ایک کلمہ جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور ایک روح تھی (جو) اس کی جانب سے (بھیجی گئی تھی) ۔ پس اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور (یہ) نہ کہو کہ ( اللہ) تین ہیں۔ (ایسی بات کہنے سے) باز آجاؤ (کہ یہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ تو بس ایک ہی معبود ہے وہ اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور (کارسازی کے لئے) اللہ کی کارسازی کافی ہے۔

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح نے ہرگز اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ (اللہ کے) مقرب فرشتے (اس کو عار سمجھتے ہیں) ۔ اور جو کوئی اللہ کی بندگی کو عار سمجھے اور تکبر کرے تو وہ وقت دور نہیں کہ اللہ سب کو اپنے حضور جمع کرے گا۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک کام (بھی) کئے ہوں گے تو وہ ان کو ان (کی نیکیوں) کا پورا پورا اجر دے گا اور اپنے فضل سے (اس میں) زیادتی فرمائے گا۔ لیکن جن لوگوں نے (اللہ کی بندگی کو) عار سمجھا تھا اور تکبر کیا تھا تو اللہ ان کو دردناک عذاب دے گا اور وہ اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف واضح نور (ہدایت) بھیج دیا ہے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کا سہارا پکڑ لیا تو وہ بھی ضرور انہیں اپنی رحمت اور فضل (و کرم کے دامن) میں لے لے گا اور ان کو اپنے حضور تک پہنچنے کا سیدھا راستہ (بھی) دکھا دے گا۔

[105] یعنی حقیقت و اعتدال سے تجاوز نہ کرو۔ یہاں خطاب عیسائیوں سے ہے جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت و تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ انہیں اللہ کا بیٹا بنادیا اور ایک اِلٰہ کی جگہ تین اِلٰہ بنا لئے یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔ [106] یعنی اللہ تعالیٰ نے '' کُن '' فرمایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ اور بغیر نطفے کے محض حکم الٰہی سے پیدا ہوگئے۔ [107] یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ اولاد کے جھگڑے بکھیڑے سے بری ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اولاد اس لئے ہوتی ہے کہ باپ کی مددگار اور اس کے مال و متاع کی حق دار ہو۔ اللہ کے ہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔ وہ اکیلا کار ساز ہے، اس کو مددگار کی ضرورت نہیں۔ وہ تنہا زمین و آسمان کا مالک ہے۔ اس کی ملکیت کا کوئی حق دار نہیں۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

اگر کوئی ایسا شخص مرجائے جس کے اولاد نہ ہو اور اس کے ایک بہن ہو تو بہن کو اس کے ترکے کا نصف (ملے گا اور اگر بہن مرجائے) اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس (کے سارے مال) کا وارث یہ (بھائی) ہوگا۔ پھر اگر بہنیں دو ہوں (یا زیادہ) تو ان کو اس کے ترکے میں دو تہائی (ملے گا) اور اگر (وارث) کئی بھائی بہن ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ تمہارے لئے یہ احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

[108] کلالہ کی تشریح اس سورت کے حاشیہ 15 صفحہ 22 6 میں گزر چکی ہے۔ [109] کلالہ کی میراث کا حکم جو اس سورت کی آیت 12 صفحہ 176 میں مذکور ہے تین صورتوں میں سے صرف ایک صورت کے لئے تھا (ملاحظہ ہو حاشیہ 16 صفحہ 226) یہاں احکام بقیہ دو صورتوں کے بارے میں ہیں۔